Wednesday, March 18, 2015

Mar2015: Repatriation why not now

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مہاجرین واپسی اُور تالیاں
سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے پشاور سانحہ کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے یہ مطالبہ ’پرزور‘ اَنداز میں کیا گیا تھا کہ ’افغان مہاجرین کی وطن واپسی‘ بہرصورت ممکن بنائی جائے گی اور اگر وفاقی حکومت کسی ایسے معاہدے کے تحت افغان مہاجرین کو پاکستان میں رکھنے کے لئے پابند ہے بھی تو خیبرپختونخوا میں مہاجرین کی سرگرمیوں کو کم از کم خیمہ بستیوں تک محدود کیا جائے گا لیکن یہ دونوں کام صرف ترجیح ہی نہیں بلکہ اہمیت کے لحاظ سے بھی کم ہوتے چلے گئے۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے ٹھیک تین ماہ بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی سربراہی میں پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کی پاکستان میں افغان سفیر جانان موسیٰ زئی سے غیرمعمولی ملاقات ہوئی‘ جس میں سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اُور معروف سیاستدان شریک تھے۔ اجلاس میں اِس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و تجارتی‘ آمدورفت کے وسائل‘ اَفغانوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اُور دیگر امور کے حوالے معاملات طے کرنے کے لئے ’پاک اَفغان اَمن جرگہ‘ پھر سے فعال کیا جائے۔ اِجلاس میں اُن اَفغان مہاجرین کی رجسٹریشن کرنے کا عمل شروع کرنے پر بھی اِتفاق ہوا‘ جو پاکستان میں عرصہ دراز یا حال ہی میں مقیم ہوئے ہیں اور تاحال رجسٹرڈ نہیں ہوسکے۔ اِس اجلاس میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کے سربراہ مولانا لطف الرحمن (جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن)‘ سکندر شیرپاؤ (قومی وطن پارٹی)‘ شہرام تراکئی (پاکستان عوامی جمہوری اِتحاد)‘ عنایت اللہ خان‘ مشتاق غنی و دیگر منتخب نمائندے موجود تھے۔ اَفغان سفیر نے اِجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ افغان سیکورٹی فورسیز کا ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد جلد پشاور اور کوئٹہ کا دورہ کرے گا اُور دہشت گردی کے خلاف تعاون جیسے اَمور پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

ضرورت اِس امر کی تھی کہ افغان سفارتکار کو خیبرپختونخوا کے مسائل اور بالخصوص شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات پر بوجھ کے حوالے سے بریف کیا جاتا۔ جرائم کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وہ رپورٹیں افغان سفیر کے سامنے رکھی جاتیں جن کے مطابق منظم جرائم (بھتہ خوری‘ اغوأ برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگز) کے تانے بانے کس طرح افغانستان سے جاملتے ہیں۔ افغان موبائل فون کمپنیوں کے ٹاور ہمارے سرحدی علاقوں کے قریب و بلند مقامات پر نصب کرنے سے پاکستان کی سیکورٹی کے لئے پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر کیا جاتا۔ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کے بارے میں حقائق کا بیان ہوتا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں تھا۔ رجسٹرڈ افغان مہاجرین نے جعل سازی سے قومی شناختی کارڈز حاصل کر رکھے ہیں اور محض اپنے قیام کو جائز و طویل بنانے کے لئے اُنہوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کے پورے عمل کو مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے‘ کیا ایسے افراد سے رعائت کی جاسکتی ہے‘ جو مہاجرت کی حیثیت کا غلط استعمال کر رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ افغان مہاجرین کو خیمہ بستیوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا اور کیا کسی پاکستانی باشندے کو افغانستان میں اسی طرح قیام کے مواقع و سہولیات فراہم کی جاتیں ہیں جیسا پاکستان گذشتہ تین دہائیوں سے کررہا ہے؟ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے والے افغانستان کے علاقوں میں روپوش ہیں جن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد بھی شامل ہیں‘ ایسے تمام عسکریت پسندوں کے خلاف جب تک افغانستان کے سیکورٹی ادارے خاطرخواہ اقدامات نہیں کرتے اور اپنی سرزمین کے استعمال کے امکانات کم نہیں کرتے‘ دوطرفہ تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی اور نہ ہی اَفغان مہاجرین کے قیام کو طویل کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے داخلی مسائل اور بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا والی ضروریات کا پورا کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔

خیبرپختونخوا کے وسائل پر دباؤ اور خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت فیصلے کرنے کا یہی وقت ہے۔ کیا ہم یہ حقیقت فراموش کردیں کہ سانحۂ پشاور کردار افغانستان میں بیٹھے عسکریت پسندوں سے موبائل فون پر ہدایات لے رہے تھے اور وہ مرکزی کردار جنہوں نے ایک سو پچاس سے زائد معصوم طالبعلموں کو قتل کروایا‘ اُن سے سخت گیر معاملہ کئے بناء افغان حکومت کو اُس دباؤ سے رہائی دلائی جائے‘ جو بڑی تعداد میں مہاجرین کی واپسی کی وجہ سے اُنہیں درپیش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف اُنہیں افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجوایا جا رہا ہے‘ جن کے پاس رہائش کی قانونی دستاویزات موجود نہیں اور ایسے خاندانوں کو عارضی خیمہ بستیوں میں سہولیات کی فراہمی میں افغان حکومت بُری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔

 جلال آباد کے قریب بنائے گیا ایک کیمپ راتوں رات بھر چکا ہے‘ جہاں پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت بنیادی سہولیات تک میسر نہیں اور افغانستان کی صوبائی و مرکزی حکومتیں شدید دباؤ میں ہیں‘ جن کے پاس سوائے اِس کے کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ پاکستان میں مہاجرین کے قیام کو طول دیں اور مزید ایسے مہاجرین کو بیدخل نہ کیا جائے‘ جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں۔ سال دوہزار پندرہ کے پہلے چھ ہفتوں میں 33 ہزار ایسے افغان مہاجرین کو وطن بھیجا گیا‘ اُور یہ تعداد پورے سال 2014ء کے دوران وطن واپس لوٹنے والے مہاجرین کی تعداد سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کم و بیش 15 لاکھ اَفغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں‘ جن سے کئی گنا زیادہ تعداد مہاجرین کی شہری و دیہی علاقوں میں آباد ہے۔

عالمی ادارے بالخصوص انسانی حقوق کے علمبردار پاکستان پر الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ افغان مہاجرین سے زبردستی کی جا رہی ہے لیکن دفترخارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم خان واضح کر چکی ہیں کہ ’’پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت اور رضاکارانہ بنیادوں پر واپسی چاہتا ہے۔‘‘ پاکستان کا مؤقف دفترخارجہ کی زبانی بارہا دہرایا گیا ہے کہ ’غیررجسٹرڈ افغان مہاجرین میں ایسے افغان باشندے بھی شامل ہیں جو منظم جرائم اُور عسکریت پسندی جیسے جرائم میں ملوث ہیں‘ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور بھارت کے سازشی کردار پر مسلسل تشویش کے اظہارکا بھی افغان حکومت کی جانب سے خاطرخواہ جواب نہیں دیا گیا تو ’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی‘ اُور نہ ہی ایسا کرنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کا مفاد‘ بہرحال‘ برطور‘ بہرسطح اور بہرلحاظ بالاتر اُور فیصلہ سازوں کے پیش نظر ہوناچاہئے۔
Repatriation of Afghan Refugees once again seems delayed as KP Govt highups agree to registered the unregistered aliens

No comments:

Post a Comment