Showing posts with label Refugees. Show all posts
Showing posts with label Refugees. Show all posts

Tuesday, January 2, 2018

Jan 2018: Yet another extension of Afghan Refugees, making issue more complex!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ادراک حال: بے حال!
پاکستان میں اَفغان مہاجرین کے ’قانونی قیام‘ میں توسیع کا فیصلہ اِس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے فیصلہ سازوں کو نہ تو وسائل پر بوجھ کی فکر ہے اُور نہ ہی اَمن و اَمان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ہی اُن کی ترجیحات کا حصہ ہے‘ بصورت دیگر خود قانون نافذ کرنے والے حکومتی اِداروں نے بارہا افغان مہاجرین کی آڑ میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی موجودگی کی اطلاعات دی ہیں۔ 

دہشت گردی میں صرف حملہ آور ہی ملوث نہیں ہوتے بلکہ اُن کے لئے مخبری‘ رابطہ کاری‘ قیام و طعام اور آمدورفت کی سہولیات فراہم کرنے والے درپردہ رہتے ہوئے کام کر رہے ہوتے ہیں‘ جو بظاہر ہتھ ریڑی لگائے ہوں گے یا کسی چائے خانہ یا چوراہے میں چھوٹا موٹا کاروبار یا مساجد و مدارس کی خدمت میں مصروف ہوں گے لیکن عین ممکن ہے کہ اِنہی بظاہر معمولی دکھائی دینے والوں کی دلی ہمدردیاں اور وابستگیاں دہشت گردوں یا منظم جرائم پیشہ عناصر سے ہوں‘ جن کے مختلف گروہ آج بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی اگر صلاحیت رکھتے ہیں تو اِس کے پیچھے یہی ’افرادی قوت (سہولت کار)‘ ہیں جنہوں نے بھیس بدل رکھا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے موبائل فون کنکشنوں کے اجرأ کے لئے ازسرنو تصدیق کا عمل مکمل نہ ہونے اور افغان فون کنکشنوں کی رومنگ (roaming) یا افغان سرحدی علاقوں میں دستیابی سے عمومی و خصوصی جرائم پیشہ عناصر فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ 

پاکستان حالت جنگ سے دوچار ہے اور اِن حالات میں داخلی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے ہنگامی حالت کا نفاذ ہونا چاہئے۔ دہشت گرد اور منظم جرائم پیشہ گروہ نہ صرف موبائل نیٹ ورکس بلکہ انٹرنیٹ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے منصوبہ بندی یا دہشت گرد کاروائیاں کرتے ہیں‘ جن کے ثبوت کئی دہشت گرد کاروائیوں سے ملے ہیں کہ حملہ آور افغانستان میں موجود اپنے مراکز سے ہدایات لیتے رہے لیکن اِس ساری حقیقت کے معلوم ہونے کے باوجود بھی موبائل فون اور انٹرنیٹ نیٹ ورکس سے استفادہ ہر گزرتے دن پہلے سے زیادہ آسان اور سستا کیا جا رہا ہے۔ موبائل فون کمپنیاں اپنے منافع کے لئے جس انداز سے قومی سلامتی کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں‘ اُس کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ایسے ملک میں ملے‘ جو اپنی سلامتی کے نہایت ہی پرخطر (حساس) دور سے گزر رہا ہو۔ بہتر تو یہی تھا کہ موبائل فون کنکشن پری پیڈ کی بجائے پوسٹ پیڈ کر دیئے جاتے اور فون کی سم ہر صارف کے گھر پر ارسال کی جاتی جبکہ اُس کا فون بل بھی گھر ہی کے پتے پر ارسال کیا جاتا لیکن کروڑوں کی تعداد میں غیرتصدیق شدہ اور فعال فون کنکشن ہماری قومی حکمت عملیوں میں موجودہ خامیوں کا نشاندہی کر رہے ہیں۔

وفاقی وزارت برائے فرنٹیئر ریجنز (سیفران) کے فیصلہ سازوں نے تجویز دی ہے کہ پاکستان میں قانونی طور پر مقیم ’چودہ لاکھ‘ افغان مہاجرین کے قیام میں ایک سال کی توسیع کر دی جائے۔ اِس سلسلے میں وزیراعظم کو سمری ارسال کر دی گئی ہے جس کی ممکنہ منظوری سے مہاجرین کو ’دسمبر دوہزار اٹھارہ‘ تک قیام کی اجازت (جواز) مل جائے گا۔ درحقیقت پاکستان حکومت ’افغان مہاجرین‘ کے معاملے پر خود کو جس قدر بے بس سمجھ رہی ہے حالات اتنے دگرگوں نہیں۔ مہاجرین کی واپسی میں مزید توسیع نہ کر کے افغانستان اور امریکہ پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے خلاف اَفغان سرزمین کے استعمال کو رُوکا جائے اُور پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں سے یا تو اَفغان حکومت خود معاملہ کرے یا پاکستان کو سرحد پار کاروائیوں کی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب امریکہ کے لئے پاکستانی قبائلی علاقوں میں اہداف کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کے واقعات تو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں لیکن افغانستان میں پاکستان دشمنوں کے خلاف ڈرون طیاروں کی کاروائیاں اُنگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہیں۔ 

پاکستان سے ’ڈومور کا تقاضا‘ کرنے والوں پر دباؤ بنایا جا سکتا ہے‘ جنہیں نہ تو پاکستان کی چار دہائیوں سے زائد عرصے پر پھیلی میزبانی اُور ایثار دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی افغان جنگ میں پاکستان کی قربانیاں ہی قابل ستائش (قابل شمار) نظر آتی ہیں! حقیقت یہ ہے کہ اَفغان حکومت اُور اَمریکہ کی قیادت میں جملہ ’غیرملکی اِمدادی اِدارے‘ چودہ لاکھ قانونی اُور قریب اِتنے ہی غیرقانونی مہاجرین کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور اُن کے ہاں مقامی نقل مکانی کرنے والے (آئی ڈی پیز) کا بحران ہی حل نہیں ہورہا۔

پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام میں اب تک 5 مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔ سال دوہزارنو میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’یو این ایچ سی آر‘ نے مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے میں معاونت فراہم کی تھی‘ جس سے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے لیکن شناختی کارڈز کی معیاد مکمل ہونے پر بھی مہاجرین کی وطن واپس یقینی نہیں ہوگی۔ ابتدأ میں اقوام متحدہ کی جانب سے ’رضاکارانہ واپسی‘ کرنے والے مہاجرین کو 200ڈالر امداد دی گئی جو سال دوہزار سولہ میں بڑھا کر 400ڈالر کر دی گئی لیکن رضاکارانہ وطن واپسی کا عمل تیز نہ ہو سکا اور دوہزارسترہ کے دوران بمشکل 48ہزار مہاجرین رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس گئے جبکہ دوہزار سولہ میں قریب چار لاکھ واپس گئے تھے۔ دوہزار سولہ کے مقابلے دوہزارسترہ میں افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل سست ہوا۔ اکتوبر دوہزارسترہ میں رضاکارانہ واپسی پروگرام افغانستان میں سردیوں کی وجہ سے معطل کردیا گیا اور اُمید ہے کہ اِسے حسب پروگرام مارچ دوہزار اٹھارہ میں دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ 

افغانستان میں امن و امان اور اقتصادی صورتحال کی وجہ سے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو دسمبردوہزاراٹھارہ کے بعد مزید دو مرتبہ توسیع دی جا سکتی ہے۔ افغان مہاجرین کا سب سے زیادہ بوجھ ’خیبرپختونخوا‘ کے وسائل پر ہے۔ اگست دوہزارسترہ سے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک گیر مہم شروع کر رکھی ہے‘ جو رواں ماہ (جنوری دوہزار اَٹھارہ) میں مکمل ہو جائے گی‘ اُور اِس دوران مجموعی طور پر ’6 لاکھ 70 ہزار‘ مہاجرین رجسٹر کئے گئے‘ جن میں سے 3 لاکھ 50 ہزار کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ 

وفاقی حکومت کے سامنے یہ معاملہ بھی زیرغور ہے کہ چھ ماہ سے اَفغان مہاجرین کے رجسٹریشن کے جاری عمل میں دو ماہ کی توسیع کر دی جائے۔ ظاہری امر ہے کہ مہاجرین کے قیام اور رجسٹریشن میں توسیع کا براہ راست اثر خیبرپختونخوا پر مرتب ہوگا‘ اور وفاقی حکومت کی ایسی کسی بھی فیصلہ سازی سے قبل صوبائی حکومت کی رائے (مشاورت) شامل ہونی چاہئے اور بالخصوص صوبائی وسائل میں بھی اضافہ کیا جائے‘ جو پہلے ہی ناقابل برداشت دباؤ میں ہے۔
۔

Friday, September 16, 2016

Sept2016: Challenges of Afghan Refugees Repatriation

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مہاجرین وطن واپسی: نیا باب!
افغان مہاجرین کی وطن ’واپسی کا مرحلہ وار عمل‘ زیادہ نازک اور فیصلہ سازی زیادہ احتیاط کی متقاضی ہے کیونکہ اِسلامی بھائی چارے‘ اِنسانی (بشری) حقوق اُور تہذیب و اَخلاقیات کے اپنے تقاضے بھی توجہ طلب ہیں۔ افغان تاریخ کا ایک اُور باب رقم ہو رہا ہے‘ جس میں پاکستانی قوم کے کردار‘ اجتماعی ’ایثار و قربانی‘ کے حوالے سے اگر کچھ ایسا لکھ دیا جاتا ہے جس سے چار دہائیوں پر پھیلی ’محنت‘ پر پانی پھر جائے تو ایسا کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ افغان مہاجرین کی اکثریت نہ تو جرائم پیشہ ہے اور نہ ہی عسکریت پسندی اور دہشت گردی پر یقین رکھتی ہے لیکن ایک قلیل تعداد میں بہروپیوں نے ہر کس و ناکس کو مشکوک و مشتبہ بنا دیا ہے اُور پاکستان کی داخلی سلامتی کے تقاضے یہ ہیں کہ ’رجسٹرڈ و غیررجسٹرڈ‘ مہمانوں کو باعزت رخصت کیا جائے اور ایسے مواقع (امکانات) پیدا کرنے پر زیادہ غوروخوض ہونا چاہئے جس سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کا عمل خوش اسلوبی سے انجام پائے۔


پاکستان کی پارلیمانی سیاسی جماعتوں افغان مہاجرین کے حوالے سے ’قومی حکمت عملی (پالیسی)‘ تشکیل دینے کے لئے ’اکیس ستمبر‘ کو نشست طلب کی گئی ہے‘ جس سے چاروں صوبوں‘ افغانستان کے نمائندے اُور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) سے تعلق رکھنے والے فریقین اُن کوششوں کو مربوط اور مؤثر بنانے پر بات چیت کریں گے تاکہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں جہاں کہیں ’کوآرڈیشن‘ (رابطوں) میں کمی بیشی ہے تو اُسے دور کرنے کے علاؤہ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ’کسی بھی صورت ’غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے ساتھ ظلم یا زیادتی نہ ہو۔‘ اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پیش پیش پولیس کا محکمہ کم مالی وسائل رکھنے والے ’افغان مہاجرین‘ کا استحصال کر رہے ہیں اور مہاجرین سے ہتک آمیز سلوک کے علاؤہ اُن سے رعائت کرنے کے لئے بھاری رشوت بھی طلب کی جاتی ہے۔ پاکستان کے دامن پر اِس قسم کا داغ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہئے اور یقیناً’آل پارٹیز کانفرنس‘ میں ایسی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے قانون کی آڑ میں قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


پوری دنیا جانتی ہے اور پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کرتی ہے کہ محدود وسائل و بحرانوں کے باوجود پاکستان برسوں سے افغان مہاجروں کی میزبانی اور اُنہیں ایک ایسے وقت میں پناہ دیئے ہوئے ہیں جبکہ حالات سازگار نہیں تھے لیکن اب چونکہ افغانستان میں عالمی امداد سے تعمیروترقی اور آبادکاری و بحالی کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے تو اپنے ملک سے دور رہنے والوں کو بھی اِن کاوشوں میں حصّہ لینے کا موقع ملنا چاہئے۔ یقیناًافغان مہاجرین کے متعلق اچانک سخت رویہ اختیار کرنا برسوں کی میزبانی کو خاک میں ملانے کا سبب ہوگا‘ جو دانش مندی نہیں ہوگی لیکن ہمارے فیصلہ ساز جو مہاجرین کے بارے ہر کسی سے بات کر رہے ہیں لیکن افغان مہاجرین کو اعتماد میں نہیں لے رہے کہ آخر کن حالات اور کن واقعات کے تناظر میں پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے کہ وہ افغانوں سمیت جملہ غیرملکیوں کو وطن واپس بھیجنا چاہتا ہے۔ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کی بیخ کنی لازم تاہم بے قصوروں کو ناکردہ خطاؤں کی سزا نہیں ملنی چاہئے۔ 

کل جماعتی قومی کانفرنس سے قبل ایسے تمام افغان مہاجرین کے انجام بارے بھی قوم کو بتایا جائے جنہوں نے جعلی شناختی دستاویزات حاصل کر رکھی تھیں۔ کیا سرمایہ دار اُور بااثر افغان مہاجرین چاہے وہ کسی بھی درجے کی قانون شکنی میں ملوث ہوئے ہوں یا اب بھی ہیں تو کیا اُن سے بھی برابری کی بنیاد پر سخت گیر معاملہ کیا جائے گا؟ افغان مہاجرین کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ اور ہنڈی کا کاروبار کرنے والوں کی شاطرانہ چالیں اور پاکستانی قوانین میں سقم بھی قومی سطح پر زیرغور آنے چاہیءں جن کا فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جس طرح جنگ کی تباہ کاریوں‘ دہشت گردی کے خوف و دہشت اور بدعنوان سیاسی قیادت کے باعث معاشی ابتر حالات کے باعث افغان ہجرت پر مجبور ہوئے‘ اگر اب افغانستان میں ویسے حالات نہیں رہے تو اُنہیں ضرور واپس جانا چاہئے۔ اِس سلسلے میں یکساں ذمہ داری امریکہ اُور افغانستان انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ افغانستان میں حالات معمول پر برقرار رکھنے کے لئے اپنی کوتاہیوں اور کوششوں کا جائزہ لیں۔ 

افغان مہاجرین کی واپسی بہرحال عزت و احترام اُور ایسے حالات میں ہونی چاہئے کہ یہ مہاجرین برضا و رغبت ’خوشی خوشی‘ واپسی پر آمادہ ہوں اور واپسی پر انہیں افغانستان میں تمام بنیادی سہولیات سمیت جان و مال کا تحفظ بھی میسر ہو۔ فیصلہ سازوں کے پیش نظر یہ زمینی حقائق بھی رہنے چاہئے کہ ماضی میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ’رضاکارانہ‘ طور پر واپس جانے کے بعد بھی پاکستان لوٹ آئی کیونکہ نہ تو افغان حکومت اور نہ عالمی براداری نے حسب وعدہ سہولیات فراہم کی تھیں۔ مہاجرین کی واپسی کا عمل ’مستقل‘ ہونا چاہئے جس کے لئے مستقل پالیسی اور قیام میں مزید توسیع نہ دینے کے لئے ’پاکستان کے مفاد پر مبنی نکتۂ نظر‘ سے سوچنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, September 5, 2015

Sep2015: Ruthless world

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بے رحم دنیا
ایک بچے کی لاش جسے بعدازاں ’ایلان عبداللہ کردی (Aylan Abdullah Kurdi)‘ کے نام سے شناخت کیا گیا‘ ترکی (Turkey) کی ساحلی پولیس اہلکار کے ہاتھوں پر جھول رہا تھا۔ یہ تصویر ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر ہوئی تو گویا پوری انسانیت ہی لرز اُٹھی! کاش طاقت کے نشے میں دُھت‘ مہذب کہلانے والے مغربی سربراہ اتنے سنگدل نہ ہوتے اور اپنے ہی مرتب کردہ عالمی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے اُن پناہ گزینوں کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دیتے‘ جو جنگی جنون سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث اپنی جانیں داؤ پر لگا کر بھاگ رہے ہیں! رواں سال کم از کم تین ہزار افراد خستہ اور گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں میں سوار ہو کر بحیرۂ روم (Mediterranean) نامی سمندر عبورکرنے کی کوششوں میں ہلاک ہوچکے ہیں‘ اِن میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں‘ جن میں پاکستانی و افغانی بھی شامل ہیں لیکن تین سالہ ’ایلان‘ کی موت نے تو گویا انقلاب برپا کردیا‘ جس کا نکتۂ آغاز سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ’ٹوئیٹر (twitter)‘ پر ’شیری عزیز‘ نامی صارف کا وہ پیغام تھا جس کے ہمراہ سمندر کنارے مردہ پڑے ’ایلان‘ کی تصویر بھی شامل تھی اُور لکھا تھا ’’(اے بچے) اللہ تمہارے درجات بلند کرے اور تم جیسے اُن بہت سے کم سنوں کا مددگار ہو‘ جو (مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ ملک) شام میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے ’شام کی آزادی‘ کا ہیش ٹیگ (#FreeSyria) بھی استعمال کیا‘ جس کے تحت ’ایلان‘ سمیت شام کی صورتحال کے بارے میں جاری بحث کا مطالعہ یا اِس میں حصہ لیا جاسکتا ہے۔

’ایلان‘ کا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے ہے‘ جسے کسی مسلم یا غیرمسلم ملک نے پناہ نہیں دی اور وہ سمندر کی لہروں پر کئی ہفتوں بھوک پیاس اور موسم کی شدت برداشت کرنے کے بعد ایک ایسی اذیت ناک موت کا شکار ہوا‘ جس کے بارے میں سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں! وہ غیرقانونی یا قانونی مہاجر نہیں تھا۔ اُس کے والدین خانہ جنگی کا شکار ملک سے بھاگ کر ایسی جگہ ’پناہ گزین‘ ہونے کے خواہشمند تھے‘ جہاں وہ ’ایلان‘ کی پرورش کر سکیں‘ اُسے ایک اچھا مستقبل دے سکیں! یقیناًایلان کا جنت میں شاندار استقبال ہوا ہوگا‘ اُسے چومنے اور پیار کرنے والوں کی قطاریں لگی ہوں گی تاکہ وہ اپنے والد اور والدہ کی کمی کو محسوس نہ کرے۔ کیا خود کو مسلمان کہنے والے سربراہان مملکت سے روز قیامت ایسے بے یارومددگار مسلمانوں کے بارے میں سوال نہیں ہوگا‘ جو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر یا ڈوب ڈوب کر ہلاک ہو رہے ہیں؟ کیا جواب ہے کہ سعودی عرب‘ کویت‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے عرب ممالک ’ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کرتے ہوئے‘ انصار کا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان (مسلم و غیرمسلم) دنیا کا ایسا واحد ملک ہے جس نے اپنے ہاں دنیا کے سب سے زیادہ ’پناہ گزینوں‘کو بطور مہاجر امان دے رکھی ہے!

ایلان کی موت پر مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ خاموش جبکہ مغربی دنیا کے رہنماؤں کا ضمیر جھنجوڑ جھنجوڑ کر جگانے کی کوشش کرنے والے صحافی یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ ’’بھلا قدرت اتنی سنگدل کیسے ہوسکتی ہے کہ اُس نے ایک پھول جیسے‘ کم عمر‘ عالمی سیاست سے بے خبر اور مذہبی عقائد کا شعور نہ رکھنے والا بچے کی موت ’کھارے پانی‘ میں ڈوب کر لکھ دی ہو؟ یاد رہے کہ شام میں بشارالاسد حکومت کی عسکری و دفاعی حمایت روس کے صدر ولادیمر پوٹن جبکہ حکومت مخالف باغیوں کو اسلحہ‘ تربیت اور مالی وسائل امریکہ کے صدر باراک اوبامہ کی خصوصی اجازت سے بذریعہ داعش فراہم کی جا رہی ہے اور اِن دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان درپردہ رسہ کشی نے شام کو میدان جنگ بنا رکھا ہے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کا دوسرے بڑے انسانی المیے نے جنم لیا ہے اور جس سے متاثر شام کے کم و بیش 3 کروڑ باشندوں کے لئے کسی دوسرے ملک پناہ لینے کے سوا کوئی دوسری صورت باقی نہیں رہی!

ایلان عالمی طاقتوں کے بدنما چہرے کا عکس ہے۔ انسانیت کا راگ الاپ کر دنیا کو جنگوں میں جھونکنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے مگر اس سے بڑا طمانچہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کے لئے ہے جن کی دولت کا اثر ان کے اپنے معدے تک رہتا ہے‘ ان کے ہاں دولت کی ریل پیل انسان کی روح تک سرایت نہیں کر پاتی‘ ان کی دولت سے قربانی کے چراغ روشن نہیں ہوتے بلکہ صرف مفادات کی آگ بھڑکتی ہے۔

تیل خریدنے اور تیل فروخت کرنے والوں کے درمیان انسانیت کچلی جارہی ہے۔
وہ ایلان نہیں بلکہ ترکی کے ساحل پر عرب حکمرانوں کی خباثت زمین بوس تھی! اِیلان اَبدی نیند سو گیا ہے (اناللہ وانا علیہ راجعون)۔ پانچ ستمبر کے روز اُسے اربوں سوگواروں کی دعاؤں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا‘ حکمرانوں کی جانب سے کچھ رسمی و روائتی مذمت‘ کچھ تعزیت‘ رُونا دھونا اور بس! اللہ تعالیٰ مسلم اُمہ کی قیادت کرنے والوں کو معاف کرے‘ جو ’ایلان‘ سمیت ’امن کی تلاش‘ کرنے والے لاکھوں اَفراد کے مصائب و مشکلات اُور ہلاکتوں کے لئے ذمہ دار ہیں! ’’منزلے نیست کہ آسودہ شود بیمارے۔۔۔اے خدا‘ سایۂ دیوار بہ بیمار کشاد!‘‘

Wednesday, March 18, 2015

Mar2015: Repatriation why not now

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مہاجرین واپسی اُور تالیاں
سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے پشاور سانحہ کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے یہ مطالبہ ’پرزور‘ اَنداز میں کیا گیا تھا کہ ’افغان مہاجرین کی وطن واپسی‘ بہرصورت ممکن بنائی جائے گی اور اگر وفاقی حکومت کسی ایسے معاہدے کے تحت افغان مہاجرین کو پاکستان میں رکھنے کے لئے پابند ہے بھی تو خیبرپختونخوا میں مہاجرین کی سرگرمیوں کو کم از کم خیمہ بستیوں تک محدود کیا جائے گا لیکن یہ دونوں کام صرف ترجیح ہی نہیں بلکہ اہمیت کے لحاظ سے بھی کم ہوتے چلے گئے۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے ٹھیک تین ماہ بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی سربراہی میں پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کی پاکستان میں افغان سفیر جانان موسیٰ زئی سے غیرمعمولی ملاقات ہوئی‘ جس میں سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اُور معروف سیاستدان شریک تھے۔ اجلاس میں اِس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و تجارتی‘ آمدورفت کے وسائل‘ اَفغانوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اُور دیگر امور کے حوالے معاملات طے کرنے کے لئے ’پاک اَفغان اَمن جرگہ‘ پھر سے فعال کیا جائے۔ اِجلاس میں اُن اَفغان مہاجرین کی رجسٹریشن کرنے کا عمل شروع کرنے پر بھی اِتفاق ہوا‘ جو پاکستان میں عرصہ دراز یا حال ہی میں مقیم ہوئے ہیں اور تاحال رجسٹرڈ نہیں ہوسکے۔ اِس اجلاس میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کے سربراہ مولانا لطف الرحمن (جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن)‘ سکندر شیرپاؤ (قومی وطن پارٹی)‘ شہرام تراکئی (پاکستان عوامی جمہوری اِتحاد)‘ عنایت اللہ خان‘ مشتاق غنی و دیگر منتخب نمائندے موجود تھے۔ اَفغان سفیر نے اِجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ افغان سیکورٹی فورسیز کا ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد جلد پشاور اور کوئٹہ کا دورہ کرے گا اُور دہشت گردی کے خلاف تعاون جیسے اَمور پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

ضرورت اِس امر کی تھی کہ افغان سفارتکار کو خیبرپختونخوا کے مسائل اور بالخصوص شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات پر بوجھ کے حوالے سے بریف کیا جاتا۔ جرائم کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وہ رپورٹیں افغان سفیر کے سامنے رکھی جاتیں جن کے مطابق منظم جرائم (بھتہ خوری‘ اغوأ برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگز) کے تانے بانے کس طرح افغانستان سے جاملتے ہیں۔ افغان موبائل فون کمپنیوں کے ٹاور ہمارے سرحدی علاقوں کے قریب و بلند مقامات پر نصب کرنے سے پاکستان کی سیکورٹی کے لئے پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر کیا جاتا۔ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کے بارے میں حقائق کا بیان ہوتا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں تھا۔ رجسٹرڈ افغان مہاجرین نے جعل سازی سے قومی شناختی کارڈز حاصل کر رکھے ہیں اور محض اپنے قیام کو جائز و طویل بنانے کے لئے اُنہوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کے پورے عمل کو مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے‘ کیا ایسے افراد سے رعائت کی جاسکتی ہے‘ جو مہاجرت کی حیثیت کا غلط استعمال کر رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ افغان مہاجرین کو خیمہ بستیوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا اور کیا کسی پاکستانی باشندے کو افغانستان میں اسی طرح قیام کے مواقع و سہولیات فراہم کی جاتیں ہیں جیسا پاکستان گذشتہ تین دہائیوں سے کررہا ہے؟ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے والے افغانستان کے علاقوں میں روپوش ہیں جن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد بھی شامل ہیں‘ ایسے تمام عسکریت پسندوں کے خلاف جب تک افغانستان کے سیکورٹی ادارے خاطرخواہ اقدامات نہیں کرتے اور اپنی سرزمین کے استعمال کے امکانات کم نہیں کرتے‘ دوطرفہ تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی اور نہ ہی اَفغان مہاجرین کے قیام کو طویل کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے داخلی مسائل اور بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا والی ضروریات کا پورا کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔

خیبرپختونخوا کے وسائل پر دباؤ اور خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت فیصلے کرنے کا یہی وقت ہے۔ کیا ہم یہ حقیقت فراموش کردیں کہ سانحۂ پشاور کردار افغانستان میں بیٹھے عسکریت پسندوں سے موبائل فون پر ہدایات لے رہے تھے اور وہ مرکزی کردار جنہوں نے ایک سو پچاس سے زائد معصوم طالبعلموں کو قتل کروایا‘ اُن سے سخت گیر معاملہ کئے بناء افغان حکومت کو اُس دباؤ سے رہائی دلائی جائے‘ جو بڑی تعداد میں مہاجرین کی واپسی کی وجہ سے اُنہیں درپیش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف اُنہیں افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجوایا جا رہا ہے‘ جن کے پاس رہائش کی قانونی دستاویزات موجود نہیں اور ایسے خاندانوں کو عارضی خیمہ بستیوں میں سہولیات کی فراہمی میں افغان حکومت بُری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔

 جلال آباد کے قریب بنائے گیا ایک کیمپ راتوں رات بھر چکا ہے‘ جہاں پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت بنیادی سہولیات تک میسر نہیں اور افغانستان کی صوبائی و مرکزی حکومتیں شدید دباؤ میں ہیں‘ جن کے پاس سوائے اِس کے کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ پاکستان میں مہاجرین کے قیام کو طول دیں اور مزید ایسے مہاجرین کو بیدخل نہ کیا جائے‘ جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں۔ سال دوہزار پندرہ کے پہلے چھ ہفتوں میں 33 ہزار ایسے افغان مہاجرین کو وطن بھیجا گیا‘ اُور یہ تعداد پورے سال 2014ء کے دوران وطن واپس لوٹنے والے مہاجرین کی تعداد سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کم و بیش 15 لاکھ اَفغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں‘ جن سے کئی گنا زیادہ تعداد مہاجرین کی شہری و دیہی علاقوں میں آباد ہے۔

عالمی ادارے بالخصوص انسانی حقوق کے علمبردار پاکستان پر الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ افغان مہاجرین سے زبردستی کی جا رہی ہے لیکن دفترخارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم خان واضح کر چکی ہیں کہ ’’پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت اور رضاکارانہ بنیادوں پر واپسی چاہتا ہے۔‘‘ پاکستان کا مؤقف دفترخارجہ کی زبانی بارہا دہرایا گیا ہے کہ ’غیررجسٹرڈ افغان مہاجرین میں ایسے افغان باشندے بھی شامل ہیں جو منظم جرائم اُور عسکریت پسندی جیسے جرائم میں ملوث ہیں‘ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور بھارت کے سازشی کردار پر مسلسل تشویش کے اظہارکا بھی افغان حکومت کی جانب سے خاطرخواہ جواب نہیں دیا گیا تو ’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی‘ اُور نہ ہی ایسا کرنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کا مفاد‘ بہرحال‘ برطور‘ بہرسطح اور بہرلحاظ بالاتر اُور فیصلہ سازوں کے پیش نظر ہوناچاہئے۔
Repatriation of Afghan Refugees once again seems delayed as KP Govt highups agree to registered the unregistered aliens

Friday, March 13, 2015

Mar2015: Afghan Refugees retun, impossible

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خام خیالی
خیبرپختونخوا کے مسائل اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور کے جملہ وسائل پر آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا احساس کرنے والوں کے لئے یہ بات اہمیت ہی نہیں رکھتی کہ ’افغان مہاجرین کی کسی بھی صورت وطن واپسی کس قدر ضروری ہے۔‘ وفاقی سطح پر اِس بارے ہوئے بارہ مارچ کے غوروخوض میں زمینی حقائق کو جواز بنا کر اِس بات کو بناء کہے ناقابل عمل قرار دے دیا گیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی مدت میں 31 دسمبر تک توسیع کافی نہیں۔ اگرچہ یہ نہیں کہا گیا کہ مہاجرین کے قیام میں مزید کتنی توسیع دی جارہی لیکن دی گئی حتمی تاریخ (ڈیڈ لائن) کو ’’حقیقت پسندانہ‘‘ بنانے جیسی اصطلاح کا استعمال فیصلہ سازوں کی دلی کیفیات کی عکاسی کرتا ہے‘ جنہیں اپنے ملک کے مفاد سے زیادہ بیرونی طاقتوں کی خوشنودی عزیز ہے‘ جو نہیں چاہتیں کہ تیس برس سے زائد افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ امریکہ بہادر کی تو اپنی یہ حالت ہے کہ ’ہوم لینڈ سیکورٹی‘ کے نام پر وہاں چڑیا تک پر نہیں مار سکتی لیکن پاکستان کے لئے سیکورٹی چیلنجز برقرار اور حالات کو جوں کا توں رکھنے کی حکمت غیرمنطقی اور دوغلے پن کی عکاسی کرتی ہے۔ عالمی برادری اگر افغان باشندوں کی مشکلات و مسائل پر اتنی ہی بے چینی محسوس کر رہی ہے تو اُنہیں اپنے ہاں یوں آزادانہ آمدورفت کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟

قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت اس سے پہلے سختی سے ڈیڈلائن میں کسی توسیع کی مخالفت کرتی رہی تھی مگر اچانک بلکہ بہت ہی اچانک اس کے رویے میں لچک اس وقت نظر آئی جب افغان حکومت اُور افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) سمیت پاکستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا‘ جس کے تحت اللفظ سے یہ خوفناک بات عیاں ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی شاید 31 دسمبر کے بعد بھی ممکن نہ ہوسکے! وزیراعظم نواز شریف نے افغان وزیر برائے مہاجرین سیّد حسین علیمی بلخی سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ’’دونوں ممالک یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر مہاجرین کی واپسی کا ایک حقیقت پسندانہ روڈ میپ تیار کریں گے۔‘‘ سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق افغانستان‘ پاکستان اور یواین ایچ سی آر نے ’’جامع لائحہ عمل‘‘ کی تیاری کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق تو کر لیا ہے لیکن حقیقت پسندی کا مطلب کیا ہوگا‘ اِس بارے میں وضاحت نہیں کی گئی! کیا یہ حقیقت پسندی نہیں کہ خیبرپختونخوا کی معیشت و معاشرت ہچکولے کھا رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم بھی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوگا‘ جب تک خیبرپختونخوا اُور ملحقہ قبائلی علاقہ جات میں بناء دستاویزات رکھنے والوں کا بستر گول نہیں کر لیا جاتا۔ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے اکتیس دسمبر کی ڈیڈلائن میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ یکطرفہ طور پر رواں برس جنوری میں کیا تھا اور یہ مانا جارہا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں حالیہ بہتری کے باعث اسلام آباد نے اپنا مؤقف ’غیرضروری طور پر نرم‘ کیا ہے۔ سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے روز ’آرمی پبلک سکول‘ پشاور پر حملے کے بعد صوبائی حکومت نے بھی واشگاف انداز میں کہا تھا کہ مہاجرین کی وطن واپسی ہرممکن طور سے ممکن بنائی جائے گی اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو اُنہیں کم از کم خیمہ بستیوں کی حد تک محدود کر دیا جائے گا۔‘‘ صوبائی اور وفاقی حکومت اپنے ہی بیانات کو عملی جامہ نہیں پہنا رہی۔ جن افغان مہاجرین نے جعل سازی سے پاکستان کی شہریت اور دیگر شناختی دستاویزات حاصل کر رکھی ہیں نہ تو اُن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز ہو سکا ہے اور نہ ہی نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفاتر سے اُن مفادپرستوں کی تطہیر ممکن ہو پائی ہے‘ جنہوں نے ذاتی مفاد کے لئے قومی سلامتی کی صورتحال کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے!

افغان مہاجرین کی تعداد کے لحاظ سے وفاقی حکومت کے مرتب کردہ اعدادوشمار کہ جن کی توثیق اقوام متحدہ بھی کرتا ہے خوفناک حد تک تشویشناک ہیں! تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سولہ لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین مقیم ہیں جبکہ غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد ایک تخمینے کے مطابق دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ پشاور پولیس کے ایک انتظامی اہلکار کے مطابق صرف پشاور اور اِس کے گردونواحی علاقوں میں بیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین آباد ہیں اور ایسے مہاجرین کا شمار بھی لاکھوں میں ہے جو جعلی دستاویزات رکھتے ہیں!‘‘

وفاقی سطح پر فیصلہ سازی پر صوبائی حکومت کو بھی تشویش ہے اور اس بارے میں ایک سیاسی شخصیت کے بقول ’’افغان مہاجرین سے متعلق نئی پالیسی کو اگست تک تشکیل دی جائے گی۔‘‘ انہوں نے سہ فریقی اجلاس کے اعلامیے کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’واپسی کا پروگرام زمینی حقائق اور افغانستان کی گنجائش کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ جس کی منظوری سہ فریقی کمیشن کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ تینوں فریقین نے اکتیس دسمبر کو ختم ہونے والی معیاد سے پہلے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کے اجازت ناموں کی تجدید (ری نیو) کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ عجب ہے کہ پاکستان اِس بات پر رضامند ہوگیا ہے کہ مہاجرین کے مستقبل کے حوالے سے بروقت فیصلے کیے جائیں گے تاکہ ’’رواں سال کے اختتام پر غیریقینی صورتحال (شرمندگی‘‘ سے بچا جاسکے۔ علاؤہ ازیں غیررجسٹر مہاجرین کو دستاویزات کے معاملے پر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان افغان حکام پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی اس کے لئے طریقہ کار مرتب کرے گی۔ کمیٹی کو دس لاکھ سے زائد غیر رجسٹر مہاجرین کو دستاویزات فراہم کرنے کے حوالے سے چار ماہ کا وقت دے دیا گیا ہے! افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے لچک کا مظاہرہ کرنے پر افغان حکومت شکرگزار دکھائی دیتی ہے۔

 افغان سفیر جنان موسیٰ زئی نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر پیغام (tweet) جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم پاکستان اور عوام کے شکر گزار ہیں جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں‘ تمام افغان مہاجرین کی رضاکارانہ‘ باعزت اور بتدریج واپسی افغان حکومت کی کلیدی ترجیح ہے۔‘‘ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بیس نکاتی قومی ایکشن میں بھی افغان مہاجرین اور غیررجسٹر افغانیوں کے دستاویزات کے مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اب لگتا یہ ہے کہ قومی ایکشن پلان میں ترمیم کرنا پڑے گی۔

 دنیا جہاں کی عالمی ذمہ داریاں پاکستان کے سر ڈالنے والوں کا مؤقف ہے کہ ’’مہاجرین کے تحفظ کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جاری رکھا جائے۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ باقی ماندہ افغان مہاجرین نے بھی پاکستان کی شناختی دستاویزات جلدازجلد حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کا آغاز کر دیا ہوگا اور عنقریب ہمارے ہاں کوئی افغان مہاجر باقی ہی نہیں رہے گا یعنی نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔