Friday, March 13, 2015

Mar2015: Afghan Refugees retun, impossible

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خام خیالی
خیبرپختونخوا کے مسائل اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور کے جملہ وسائل پر آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا احساس کرنے والوں کے لئے یہ بات اہمیت ہی نہیں رکھتی کہ ’افغان مہاجرین کی کسی بھی صورت وطن واپسی کس قدر ضروری ہے۔‘ وفاقی سطح پر اِس بارے ہوئے بارہ مارچ کے غوروخوض میں زمینی حقائق کو جواز بنا کر اِس بات کو بناء کہے ناقابل عمل قرار دے دیا گیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی مدت میں 31 دسمبر تک توسیع کافی نہیں۔ اگرچہ یہ نہیں کہا گیا کہ مہاجرین کے قیام میں مزید کتنی توسیع دی جارہی لیکن دی گئی حتمی تاریخ (ڈیڈ لائن) کو ’’حقیقت پسندانہ‘‘ بنانے جیسی اصطلاح کا استعمال فیصلہ سازوں کی دلی کیفیات کی عکاسی کرتا ہے‘ جنہیں اپنے ملک کے مفاد سے زیادہ بیرونی طاقتوں کی خوشنودی عزیز ہے‘ جو نہیں چاہتیں کہ تیس برس سے زائد افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ امریکہ بہادر کی تو اپنی یہ حالت ہے کہ ’ہوم لینڈ سیکورٹی‘ کے نام پر وہاں چڑیا تک پر نہیں مار سکتی لیکن پاکستان کے لئے سیکورٹی چیلنجز برقرار اور حالات کو جوں کا توں رکھنے کی حکمت غیرمنطقی اور دوغلے پن کی عکاسی کرتی ہے۔ عالمی برادری اگر افغان باشندوں کی مشکلات و مسائل پر اتنی ہی بے چینی محسوس کر رہی ہے تو اُنہیں اپنے ہاں یوں آزادانہ آمدورفت کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟

قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت اس سے پہلے سختی سے ڈیڈلائن میں کسی توسیع کی مخالفت کرتی رہی تھی مگر اچانک بلکہ بہت ہی اچانک اس کے رویے میں لچک اس وقت نظر آئی جب افغان حکومت اُور افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) سمیت پاکستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا‘ جس کے تحت اللفظ سے یہ خوفناک بات عیاں ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی شاید 31 دسمبر کے بعد بھی ممکن نہ ہوسکے! وزیراعظم نواز شریف نے افغان وزیر برائے مہاجرین سیّد حسین علیمی بلخی سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ’’دونوں ممالک یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر مہاجرین کی واپسی کا ایک حقیقت پسندانہ روڈ میپ تیار کریں گے۔‘‘ سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق افغانستان‘ پاکستان اور یواین ایچ سی آر نے ’’جامع لائحہ عمل‘‘ کی تیاری کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق تو کر لیا ہے لیکن حقیقت پسندی کا مطلب کیا ہوگا‘ اِس بارے میں وضاحت نہیں کی گئی! کیا یہ حقیقت پسندی نہیں کہ خیبرپختونخوا کی معیشت و معاشرت ہچکولے کھا رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم بھی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوگا‘ جب تک خیبرپختونخوا اُور ملحقہ قبائلی علاقہ جات میں بناء دستاویزات رکھنے والوں کا بستر گول نہیں کر لیا جاتا۔ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے اکتیس دسمبر کی ڈیڈلائن میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ یکطرفہ طور پر رواں برس جنوری میں کیا تھا اور یہ مانا جارہا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں حالیہ بہتری کے باعث اسلام آباد نے اپنا مؤقف ’غیرضروری طور پر نرم‘ کیا ہے۔ سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے روز ’آرمی پبلک سکول‘ پشاور پر حملے کے بعد صوبائی حکومت نے بھی واشگاف انداز میں کہا تھا کہ مہاجرین کی وطن واپسی ہرممکن طور سے ممکن بنائی جائے گی اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو اُنہیں کم از کم خیمہ بستیوں کی حد تک محدود کر دیا جائے گا۔‘‘ صوبائی اور وفاقی حکومت اپنے ہی بیانات کو عملی جامہ نہیں پہنا رہی۔ جن افغان مہاجرین نے جعل سازی سے پاکستان کی شہریت اور دیگر شناختی دستاویزات حاصل کر رکھی ہیں نہ تو اُن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز ہو سکا ہے اور نہ ہی نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفاتر سے اُن مفادپرستوں کی تطہیر ممکن ہو پائی ہے‘ جنہوں نے ذاتی مفاد کے لئے قومی سلامتی کی صورتحال کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے!

افغان مہاجرین کی تعداد کے لحاظ سے وفاقی حکومت کے مرتب کردہ اعدادوشمار کہ جن کی توثیق اقوام متحدہ بھی کرتا ہے خوفناک حد تک تشویشناک ہیں! تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سولہ لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین مقیم ہیں جبکہ غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد ایک تخمینے کے مطابق دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ پشاور پولیس کے ایک انتظامی اہلکار کے مطابق صرف پشاور اور اِس کے گردونواحی علاقوں میں بیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین آباد ہیں اور ایسے مہاجرین کا شمار بھی لاکھوں میں ہے جو جعلی دستاویزات رکھتے ہیں!‘‘

وفاقی سطح پر فیصلہ سازی پر صوبائی حکومت کو بھی تشویش ہے اور اس بارے میں ایک سیاسی شخصیت کے بقول ’’افغان مہاجرین سے متعلق نئی پالیسی کو اگست تک تشکیل دی جائے گی۔‘‘ انہوں نے سہ فریقی اجلاس کے اعلامیے کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’واپسی کا پروگرام زمینی حقائق اور افغانستان کی گنجائش کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ جس کی منظوری سہ فریقی کمیشن کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ تینوں فریقین نے اکتیس دسمبر کو ختم ہونے والی معیاد سے پہلے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کے اجازت ناموں کی تجدید (ری نیو) کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ عجب ہے کہ پاکستان اِس بات پر رضامند ہوگیا ہے کہ مہاجرین کے مستقبل کے حوالے سے بروقت فیصلے کیے جائیں گے تاکہ ’’رواں سال کے اختتام پر غیریقینی صورتحال (شرمندگی‘‘ سے بچا جاسکے۔ علاؤہ ازیں غیررجسٹر مہاجرین کو دستاویزات کے معاملے پر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان افغان حکام پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی اس کے لئے طریقہ کار مرتب کرے گی۔ کمیٹی کو دس لاکھ سے زائد غیر رجسٹر مہاجرین کو دستاویزات فراہم کرنے کے حوالے سے چار ماہ کا وقت دے دیا گیا ہے! افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے لچک کا مظاہرہ کرنے پر افغان حکومت شکرگزار دکھائی دیتی ہے۔

 افغان سفیر جنان موسیٰ زئی نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر پیغام (tweet) جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم پاکستان اور عوام کے شکر گزار ہیں جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں‘ تمام افغان مہاجرین کی رضاکارانہ‘ باعزت اور بتدریج واپسی افغان حکومت کی کلیدی ترجیح ہے۔‘‘ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بیس نکاتی قومی ایکشن میں بھی افغان مہاجرین اور غیررجسٹر افغانیوں کے دستاویزات کے مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اب لگتا یہ ہے کہ قومی ایکشن پلان میں ترمیم کرنا پڑے گی۔

 دنیا جہاں کی عالمی ذمہ داریاں پاکستان کے سر ڈالنے والوں کا مؤقف ہے کہ ’’مہاجرین کے تحفظ کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جاری رکھا جائے۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ باقی ماندہ افغان مہاجرین نے بھی پاکستان کی شناختی دستاویزات جلدازجلد حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کا آغاز کر دیا ہوگا اور عنقریب ہمارے ہاں کوئی افغان مہاجر باقی ہی نہیں رہے گا یعنی نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

No comments:

Post a Comment