Saturday, March 14, 2015

Mar2015: Technology based Defence

ژرف نگاہ ۔۔۔شبیرحسین اِمام
جدید دفاعی تقاضے
پاکستان کی جانب سے دفاعی ضروریات کے لئے ٹیکنالوجی پر بھروسہ مستقبل کی اُن ضروریات کا بروقت ادراک ہے‘ جس میں روائتی گولہ بارود اور جنگی طیاروں پر انحصار کی بجائے خاص اہداف کو بناء پائلٹ ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فی الوقت امریکہ ’ڈرون طیاروں‘ کی ٹیکنالوجی و مہارت میں پیشرو جیسی حیثیت رکھتا ہے اور سال 2005ء سے مختلف محاذوں پر ’ڈرون طیارے‘ استعمال کر رہاہے۔ اِن طیاروں کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں‘ ایک طرح کے طیارے کسی دور دراز مقام سے بیٹھ کر کنٹرول کئے جاتے ہیں اور ہلکے یا بھاری ہتھیار لیجانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے جنگی ڈرون طیارے دیئے گئے اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے اُڑائے جاتے ہیں اور اُڑان بھرنے کے بعد خودکار نظام کے تحت مقررہ مقام پر واپس آ جاتے ہیں۔ کم روشنی‘ حتیٰ کے اندھیرے میں بھی چالیس ہزار فٹ سے زیادہ بلندی سے دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والے اِن ڈرون طیاروں میں انسانی جسم یا کسی مقام سے خارج ہونے والی کم ترین حرارت اور آواز کی شناخت و جانچ کا نظام نصب ہوتا ہے‘ جس کی بنیاد پر وہ ہدف کو نشانہ بنانے سے قبل تسلی کر لیتے ہیں۔ گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کا استعمال کرتے ہوئے اِن طیاروں کے سفر‘ سمت اور منزل کا تعین کرنے کا خلائی نظام امریکہ اور روس کا متعارف کردہ ہے اور یہی دو ممالک پوری دنیا میں جہاز رانی کے نظام پر بلاشرکت غیرے حکومت کر رہے ہیں۔ کسی بھی بحری و فضائیجہاز کا سفر‘ جنگی زمینی (بری) مہمات یا کسی بھی دوسرے مقصد کے لئے ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر بناء ’جی پی ایس رہنمائی‘ نامکمل سمجھا جاتا ہے۔

’گلوبل پوزیشننگ سسٹم‘ جسے عرف عام میں ’جی پی ایس‘ کہا جاتا ہے‘ تمام تر دفاعی ٹیکنالوجی کی تحقیق میں ریڑھ کی ہڈی جیسی کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اِس نظام کو خاص مقصد کے لئے اِس قدر عام کردیا گیا ہے کہ ہر سمارٹ فون اور موبائل فون ٹاور اِسی کے ذریعے کسی صارف یا موبائل فون نمبر کی تلاش کر لیتے ہیں‘ جس کی وجہ سے جرائم کی روک تھام میں بڑی مدد ملی ہے اور ایسے تمام افراد کو تلاش کرنا چٹکی بجاتے ہی کم ہے جو ’موبائل فون‘ کا استعمال کر رہا ہو‘ یا کر چکا ہو۔ ’جی پی ایس‘ منصوبہ 1973ء میں شروع ہوا‘ جس کے لئے امریکہ اور اسرائیل کے طالبعلموں کی مہارت‘ ڈیزائن اور مرکزی خیال کو اپنایا گیا۔ درحقیقت اِس منصوبے کی منظوری 1960ء کے اوائل میں دی جاچکی تھی اور اِس پورے منصوبے کے لئے مالی وسائل امریکہ کے محکمہ دفاع نے فراہم کئے۔ یہ نظام خلا میں معلق 24 سیاروں سے ملنے والے برقی سگنلز (اشاروں) کی مدد سے راستوں کا تعین کرتا ہے۔ 1995ء سے دفاعی و سول مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے ’جی پی ایس‘ کی دوسری اور تیسری ترقیاتی شکل بھی متعارف کرائی جاچکی ہے لیکن اب امریکہ ہی اِس شعبے میں حاکم نہیں رہا۔ روس کی جانب سے گلوناس (ریشین گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم) متعارف ہو چکا ہے جبکہ یورپی یونین (ممالک) کے دفاعی نظام کا حصہ گالیلو‘ بھارت کا ’انڈین ریجنل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم اور چین کا بائی ڈو (BeiDou-2) بھی جلد فعال ہو جائیں گے۔ تیرہ مارچ کے روز پاکستان نے اپنے پہلے ’ڈرون طیارہ‘ کا تجربہ کیا‘ جس کا نام ’براق‘ رکھا گیا ہے اور اِس طیارے کے ذریعے ایک ’برق‘ نامی لیزر گائیڈیڈ میزائل کا بھی استعمال کیا گیا جس نے مقررہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا لیکن ایسا نہیں کہ پاکستان نے جوہری صلاحیت کے بعد ایک اور سنگ میل مارچ دو ہزار پندرہ میں عبور کیا ہے بلکہ ہمارے ہاں ڈرون ٹیکنالوجی نئی صدی (سال دوہزار) کے آغاز پر بھی تیار کر لی گئی تھی لیکن اِس کے مسلسل تجربات ہوتے رہے اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی ڈرون ٹیکنالوجی کسی بھی طرح امریکہ‘ اسرائیل‘ روس‘ چین اور یورپی ممالک کے زیراستعمال طیاروں سے کم نہیں بلکہ اِن سبھی نظاموں کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ یاد رہے کہ 20 جنوری 1972ء میں شروع ہونے والا پاکستان کا جوہری پروگرام 28 مئی 1998ء میں چاغی ون اُور 30مئی 1998ء کو ’چاغی ٹو‘ کے نام سے دنیا کے سامنے آیا اور پاکستان دنیا کے پہلے ایسے اسلامی ملک ہونے کا اعزاز رکھتا ہے جس کے پاس مصدقہ جوہری صلاحیت موجود ہے‘ جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور پاکستان سال 2050ء تک 32 جوہری (نیوکلیئر) ’پاور پلانٹ‘ بنانا چاہتا ہے جبکہ فی الوقت جوہری بجلی گھروں سے 3.6 فیصد‘ خام تیل و دیگر ایندھن کے ذرئعے سے 62 فیصد‘ پانی سے 33 فیصد اور خام کوئلے سے صرف 0.3 فیصد بجلی کی پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔

’’براق‘‘ اور ’’برق‘‘ متعارف کرانے سے پاکستان کا دفاع مزید مستحکم ہوا ہے اُور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ملکی ساختہ ’ڈرون طیاروں‘ کے اِستعمال سے نہ صرف فوجی کارروائیوں کے اَخراجات میں کمی آئے گی بلکہ کم وقت میں اُن دورافتادہ قبائلی علاقوں میں بھی فوجی کاروائیاں ممکن ہوں گی‘ جہاں فی الوقت ضرب عضب اُور خیبرٹو کے سلسلے میں ’سپیشل سروسیز گروپ (کمانڈوز)‘ کے دستے بھیجنے پڑتے ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ اگلے محاذوں پر فوجج کے جانی نقصانات بھی ہو رہے ہیں کیونکہ تربیت یافتہ فوجی دستوں کو مقامی راستوں اور پرپیچ گھاٹیوں میں نصب بارودی سرنگوں کے بارے علم نہیں ہوتا۔

پاکستان کی ڈرون ٹیکنالوجی امریکہ کا انحصار رہنمائی کے اُس ’جی پی ایس‘ سے جوڑا گیا ہے‘ جس کی ملکیت رکھنے والا امریکہ نگرانی کے عمل میں شریک ہوگا اور ہماری ہر سرگرمی اُس کے علم میں رہے گی۔ ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہوئے پاکستان کا دفاع اُس وقت تک مضبوط اور ناقابل تسخیر نہیں بنایا جاسکتا جب تک ہمارا اپنا ’جی پی ایس‘ متعارف نہیں کرایا جاتا اور اگر ڈرون ٹیکنالوجی دنیا کے سامنے ظاہر کرنے سے قبل خلائی سیاروں کے حوالے سے تحقیق کی سرپرستی (دفاعی نکتۂ نظر) سے کی جاتی تو اِس کے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ پاکستان سے قبل جمہوری اسلامی ایران ڈرون طیارے کا تجربہ کر چکا ہے لیکن وہ امریکہ کے اُس ڈرون طیارے کی نقل تھی‘ جو دو ہزار گیارہ میں مار گرایا گیا تھا اور جب نومبر 2014ء میں ایران نے اپنے اِس نقل شدہ ڈیزائن و خصوصیات والے ڈرون طیارے کا تجربہ کیا تو امریکہ نے اُس RQ-170 ماڈل کے طیارے کو زیادہ دیر ہوا میں رہنے نہیں دیا!

کیا ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں کسی سے پیچھے ہیں؟ ’غلام اِسحاق خان اِنسٹی ٹیوٹ آف اِنجنیئرنگ سائنسیز اینڈ ٹیکنالوجی (صوابی‘ خیبرپختونخوا)‘ کے طلباء نے ایسا جدید ’ڈرون طیارہ‘ تجرباتی ماڈل کے طور پر بنایا ہے‘ جسے آئندہ ماہ امریکہ میں ہونے والے عالمی مقابلے میں پیش کیا جائے گا۔ رواں سال 10 سے 12 اپریل تک ہونے والے اِس مقابلے کا انعقاد امریکہ کی ریاست ایریزونا (Arizona) کے شہر ٹیکسن (Tucson) میں ہوگا‘ جس میں دنیا بھر سے طلباء و طالبات پر مشتمل (تحقیق کاروں کی) 84 ٹیمیں اپنے اپنے ڈیزائن کردہ و ساختہ ڈرون طیارے نمائش کے لئے پیش کریں۔

 پاکستان کے ایک واحد ادارے کی اِس عالمی مقابلے میں شرکت کسی اعزاز سے کم نہیں لیکن سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کئی ایک دیگر گرانقدر کارہائے نمایاں پیش کرنے والے ’غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ‘ کے طلباء و طالبات کی خاطرخواہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور نہ ہی ملکی سطح پر ایسے ذہین طلبہ کے اچھوتے خیالات‘ مہارت اور اساتذہ کی رہنمائی کو سراہا جاتا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال صرف دفاعی مقاصد ہی کے لئے نہیں بلکہ زرعی منصوبہ بندی و تحقیق‘ جنگلات کی نگہداشت‘ حفاظت وشجرکاری مہمات کو خاطرخواہ انداز میں کامیاب بنانے‘ نہری و آبپاشی کے نظام کی اصلاح‘ آبی ذخائر پر نظر رکھنے‘ شہری و دیہی علاقوں میں جرائم کنٹرول کرنے‘ حساس تنصیبات کی نگرانی و حفاظت‘ موسمیاتی تبدیلیوں و ماحولیات پر مرتب ہونے والے اثرات کے مطالعے و جائزے اُور عمومی ترقیاتی عمل کی منصوبہ بندی جیسے کلیدی شعبوں میں بھی کیا جاسکتا ہے۔

ضرورت ٹیکنالوجی کی اہمیت و ضرورت کو سمجھنے‘ اپنے ہاں پائی جانے والی ذہانت و تحقیق پر بھروسہ کرنے اور سب سے بڑھ کر اپنے وسائل سے مرحلہ وار سائنسی علوم کے عملی اطلاق پر توجہ دینے کی ہے۔ ہم اگر کسی سائنسی شعبے میں پیچھے ہیں تو اِس کی وجہ (خدانخواستہ) ذہانت یا علم و تحقیق کی کمی نہیں بلکہ ہمارے متعلقہ فیصلہ سازوں کی مرتب کردہ وہ سوچ ہے‘ جس میں فوری نتائج حاصل کرنے کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔’’زباں پہ مصلحت‘ دل ڈرنے والا۔۔۔بڑا آیا محبت کرنے والا!‘‘

No comments:

Post a Comment