ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مسلسل‘ براہ راست‘ راہ راست
مسلسل‘ براہ راست‘ راہ راست
پاکستان تحریک اِنصاف کے سربراہ عمران خان نے ’خیبرپختونخوا (ایف ایم)
ریڈیو‘ کی نشریات سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے محکمۂ پولیس کی کارکردگی
بہتر بنانے کی کوششوں کے نتائج کو مثالی قرار دیتے ہوئے جس اطمینان کا
اظہار کیا ہے‘ اُس میں بہتری کے امکانات و گنجائش کی موجودگی سے انکار نہیں
کیا جاسکتا لیکن جس اصلاحات میں جس تیزرفتاری کا مظاہرہ کیا گیا ہے‘ اس کی
ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ براہ راست ٹیلی فون کالز‘ موبائل فون ایس ایم
ایس‘ فیس بک (facebook) اور ٹوئٹر (twitter) پیغامات کے ذریعے پوچھے گئے
سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک مرحلے پر عمران خان نے اشارتاً ’محکمۂ
اطلاعات خیبرپختونخوا‘ کو بھی زیادہ کلیدی و مؤثر کردار ادا کرنے کے لئے
حکمت عملی مرتب کرنے کا مشورہ دیا تاکہ اُن تمام کارہائے نمایاں کی
خاطرخواہ تشہیر کی جا سکے‘ جو تحریک انصاف حکومت نے مختصر عرصے میں سرانجام
دیئے ہیں۔ چودہ مارچ کی سہ پہر تین بجے سے چار بجکر کر بیس منٹ تک
’خیبرپختونخوا ایف ایم (92.2) ریڈیو اسٹیشن کے پشاور سٹوڈیو سے براہ راست
نشریات اُس شفاف طرز حکمرانی کا عملی اظہار تھا‘ جس کا وعدہ دوہزار تیرہ کے
عام انتخابات سے قبل تحریک انصاف نے کیا تھا کہ وہ ’برسراقتدار آ کر صاف و
شفاف طرز حکمرانی کو فروغ دے گی اُور حکمراں جماعت عوام کے سامنے جوابدہ
ہوگی۔‘‘ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کا نشریاتی پروگرام میں براہ راست
سوالات کے جواب دینا ایک ایسی روایت ہے‘ جس پر دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص
وفاقی حکومت کو بھی عمل کرنا چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف شروع دن سے
’ٹیکنالوجی فرینڈلی‘ ہے اُور یہی وجہ ہے کہ سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا
بھرپور استعمال کرنے والی یہ ملک کی پہلی اور سرفہرست سیاسی جماعت ہے‘ جس
کے کارکن و رہنما دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے انٹرنیٹ وسائل اور ہر موضوع
پر اظہار خیال کرنے میں بے انتہاء سخاوت و فراخدلی سے کام لیتے ہیں۔ عام
انتخابات سے قبل انٹرنیٹ ریڈیو و ٹیلی ویژن اسٹیشن بھی قائم کئے گئے تاہم
اِنہیں بعدازاں ترقی دے کر روائتی اسلوب و پیرائے میں نہیں ڈھالا جا سکا‘
جس کی شدت سے ضرورت خود عمران خان نے بھی محسوس کی۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’’اِس قسم کے آپریشن صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی کئے جائیں گے۔‘‘ براہ راست رابطہ کرنے والوں میں مختلف محکموں کے برطرف ملازمین بھی شامل تھے‘ جنہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ملازمتوں کے لئے اہل افراد کی حق تلفی نہیں ہوگی جبکہ ماضی کی طرح سفارش‘ رشوت یا اقرباپروری سے بھرتیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان کے ہمراہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور وزیراطلاعات مشتاق غنی بھی موجود تھے تاہم اُنہوں نے سوال و جواب کے سلسلے میں حصہ نہیں لیا۔ مشتاق غنی سرکاری محکموں سے جڑی توقعات پوری کرنے اور چیئرمین کی یقین دہانی کو عملی طور پر ممکن بنانے کے لئے یقیناًخاطرخواہ اقدامات کریں گے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ’ایف ایم خیبرپختونخوا‘ کی نشریات ملک گیر سطح پر براہ راست جبکہ انہیں آن لائن ویڈیو سٹریمنگ کے ذریعے بھی نشر کیا گیا یہی وجہ تھی کہ امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ و دیگر یورپی و عرب ممالک کے علاؤہ اندرون ملک کراچی(سندھ) اُور کوئٹہ (بلوچستان) سے بھی سوالات آئے جو اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ عمران خان کا شمار پاکستان کے اُن چند سرکردہ سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کے سیاسی نظریات سے اتفاق کرنے والے پورے ملک اور دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ براہ راست ریڈیو نشریات کے ذریعے خود کو حامیوں اور مخالفین کے سامنے پیش کرنا اُس یقین کا عملی اظہار ہے جو جمہوریت میں ’اِحتساب‘ اُور ’جوابدہ‘ جیسی صفات سے متعلق ہیں۔
عمران خان نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ ہر ماہ ’ایف ایم ریڈیو‘ کی براہ راست نشریات میں حصہ لیں گے‘ جس کا آئندہ دورانیہ زیادہ ہونے کی توقع ہے کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں کالرز کے لئے نہ تو ایک گھنٹہ کافی ہے اور نہ ہی ایک ٹیلی فون کال ہی کافی قرار دی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں سوالات کی ریکارڈنگ کا الگ سے اہتمام ہونا چاہئے تاکہ کسی مقررہ تاریخ سے ہفتوں قبل سوالات ریکارڈ کئے جا سکیں اور عمومی نوعیت کے سوالات کو تحریری شکل میں مرتب کرکے نہ صرف تحریک انصاف کی ویب سائٹ بلکہ فیس بک و دیگر سماجی رابطہ کاری کے وسائل کے ذریعے مفصل انداز میں بمعہ دستاویزات نشر کر دیا جائے۔ اِس طرح سوالات کی درجہ بندی اور متعلقہ محکموں کے حساب سے اُن کی ترتیب بھی بنتی چلی جائے گی لیکن سوالات ریکارڈ کرنے کے لئے تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ ’ٹول فری لائن‘ اُور ’ریکارڈنگ‘ کا اہتمام خود کرے تو یہ عمل زیادہ شفاف (بابرکت) انداز میں مکمل ہو سکے گا۔
براہ راست نشریات کے دوران وقفہ بھی لیا گیا‘ جو سمجھ سے بالاتر تھا کیونکہ چند منٹ کے وقفے میں نہ تو کوئی پیغام نشر کیا گیا اور نہ ہی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق کوئی ایسا اِِشتہار بنایا گیا‘ جس کے ذریعے اُن اقدامات کی تشہیر کی جاتی جس میں قانون سازی سے لیکر سرکاری محکموں کی کارکردگی اور اصلاحات جیسے اَمور کا اِحاطہ کیا گیا ہوتا۔ یقیناًکراچی سے پشاور‘ قبائلی علاقوں اور بیرون ملک کروڑوں سامعین نے ’ایم ایف خیبرپختونخوا‘ کی نشریات سے استفادہ کیا‘ جنہیں بہت سے سیاسی و غیرسیاسی پیغام پہنچائے جا سکتے تھے۔ اگرچہ سینیٹ انتخابات سے لیکر صوبائی حکومت کے ترقیاتی بجٹ‘ صحت و تعلیم اور شہری سہولیات تک کم و بیش سبھی چیدہ چیدہ موضوعات سے متعلق سوالات زیربحث آئے لیکن خواتین اِس عمل سے کیوں الگ رہیں۔ افراد باہم معذوری کے مسائل اور اُن سے متعلق صوبائی حکومتی کی ترجیحات بھی واضح ہونی چاہیں تھیں اور یہ نکات اُسی صورت اُٹھ سکتے تھے جبکہ ایک شرکاء کے ایک پینل کے ذریعے پروگرام کو زیادہ جامع بنایا جاتا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے ذریعے متعارف کرائی گئی قانون سازی اور زیرغور قوانین سے متعلق عمومی سطح پر شعور اُجاگر کرنے کے لئے ابھی انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ سامعین کے ’فیڈبیک (دلچسپی)‘ کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد یقیناًوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا‘ اُور وزیراطلاعات نہ صرف ’ایم ایف خیبرپختونخوا‘ کے وسائل کا بھرپور استعمال کریں گے‘ بلکہ تحریک اِنصاف کے پلیٹ فارم سے ’ایف ایم ریڈیو اسٹیشن‘ کے قیام کو پہلے مرحلے کی ترجیح میں شامل کیا جانا چاہئے۔ ویب ٹیلی ویژن اور بلاگز (blogs) سے ایک قدم آگے سیاسی جماعت کے مؤقف‘ ترجیحات اور کارکردگی پر مبنی روزنامے کی اشاعت کا بھی یہی ’موزوں وقت‘ ہے تاکہ اصلاحات و ترقی کا جو عمل خیبرپختونخوا میں شروع کیا گیا ہے‘ اُس کی کلی و مناسب تشہیر ممکن بنائی جاسکے تاکہ ’’جنگل میں مور ناچا‘ کس نے دیکھا‘‘ جیسی صورتحال نہ ہو‘ اُور آئندہ عام انتخابات سے قبل تحریک انصاف اپنی کارکردگی کے حوالے سے اُس رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر چکی ہو‘ جو سردست یہ اِس منفی تاثر پر مبنی ہے کہ ۔۔۔ ’’تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت کی ترجیحات اُور قول و فعل ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘ ایک نئے پاکستان کی تشکیل اور جمہوری نظام کے استحکام کی منزل تک سفر میں بات چیت اُور بحث و مباحثوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’’اِس قسم کے آپریشن صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی کئے جائیں گے۔‘‘ براہ راست رابطہ کرنے والوں میں مختلف محکموں کے برطرف ملازمین بھی شامل تھے‘ جنہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ملازمتوں کے لئے اہل افراد کی حق تلفی نہیں ہوگی جبکہ ماضی کی طرح سفارش‘ رشوت یا اقرباپروری سے بھرتیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان کے ہمراہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور وزیراطلاعات مشتاق غنی بھی موجود تھے تاہم اُنہوں نے سوال و جواب کے سلسلے میں حصہ نہیں لیا۔ مشتاق غنی سرکاری محکموں سے جڑی توقعات پوری کرنے اور چیئرمین کی یقین دہانی کو عملی طور پر ممکن بنانے کے لئے یقیناًخاطرخواہ اقدامات کریں گے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ’ایف ایم خیبرپختونخوا‘ کی نشریات ملک گیر سطح پر براہ راست جبکہ انہیں آن لائن ویڈیو سٹریمنگ کے ذریعے بھی نشر کیا گیا یہی وجہ تھی کہ امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ و دیگر یورپی و عرب ممالک کے علاؤہ اندرون ملک کراچی(سندھ) اُور کوئٹہ (بلوچستان) سے بھی سوالات آئے جو اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ عمران خان کا شمار پاکستان کے اُن چند سرکردہ سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کے سیاسی نظریات سے اتفاق کرنے والے پورے ملک اور دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ براہ راست ریڈیو نشریات کے ذریعے خود کو حامیوں اور مخالفین کے سامنے پیش کرنا اُس یقین کا عملی اظہار ہے جو جمہوریت میں ’اِحتساب‘ اُور ’جوابدہ‘ جیسی صفات سے متعلق ہیں۔
عمران خان نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ ہر ماہ ’ایف ایم ریڈیو‘ کی براہ راست نشریات میں حصہ لیں گے‘ جس کا آئندہ دورانیہ زیادہ ہونے کی توقع ہے کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں کالرز کے لئے نہ تو ایک گھنٹہ کافی ہے اور نہ ہی ایک ٹیلی فون کال ہی کافی قرار دی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں سوالات کی ریکارڈنگ کا الگ سے اہتمام ہونا چاہئے تاکہ کسی مقررہ تاریخ سے ہفتوں قبل سوالات ریکارڈ کئے جا سکیں اور عمومی نوعیت کے سوالات کو تحریری شکل میں مرتب کرکے نہ صرف تحریک انصاف کی ویب سائٹ بلکہ فیس بک و دیگر سماجی رابطہ کاری کے وسائل کے ذریعے مفصل انداز میں بمعہ دستاویزات نشر کر دیا جائے۔ اِس طرح سوالات کی درجہ بندی اور متعلقہ محکموں کے حساب سے اُن کی ترتیب بھی بنتی چلی جائے گی لیکن سوالات ریکارڈ کرنے کے لئے تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ ’ٹول فری لائن‘ اُور ’ریکارڈنگ‘ کا اہتمام خود کرے تو یہ عمل زیادہ شفاف (بابرکت) انداز میں مکمل ہو سکے گا۔
براہ راست نشریات کے دوران وقفہ بھی لیا گیا‘ جو سمجھ سے بالاتر تھا کیونکہ چند منٹ کے وقفے میں نہ تو کوئی پیغام نشر کیا گیا اور نہ ہی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق کوئی ایسا اِِشتہار بنایا گیا‘ جس کے ذریعے اُن اقدامات کی تشہیر کی جاتی جس میں قانون سازی سے لیکر سرکاری محکموں کی کارکردگی اور اصلاحات جیسے اَمور کا اِحاطہ کیا گیا ہوتا۔ یقیناًکراچی سے پشاور‘ قبائلی علاقوں اور بیرون ملک کروڑوں سامعین نے ’ایم ایف خیبرپختونخوا‘ کی نشریات سے استفادہ کیا‘ جنہیں بہت سے سیاسی و غیرسیاسی پیغام پہنچائے جا سکتے تھے۔ اگرچہ سینیٹ انتخابات سے لیکر صوبائی حکومت کے ترقیاتی بجٹ‘ صحت و تعلیم اور شہری سہولیات تک کم و بیش سبھی چیدہ چیدہ موضوعات سے متعلق سوالات زیربحث آئے لیکن خواتین اِس عمل سے کیوں الگ رہیں۔ افراد باہم معذوری کے مسائل اور اُن سے متعلق صوبائی حکومتی کی ترجیحات بھی واضح ہونی چاہیں تھیں اور یہ نکات اُسی صورت اُٹھ سکتے تھے جبکہ ایک شرکاء کے ایک پینل کے ذریعے پروگرام کو زیادہ جامع بنایا جاتا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے ذریعے متعارف کرائی گئی قانون سازی اور زیرغور قوانین سے متعلق عمومی سطح پر شعور اُجاگر کرنے کے لئے ابھی انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ سامعین کے ’فیڈبیک (دلچسپی)‘ کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد یقیناًوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا‘ اُور وزیراطلاعات نہ صرف ’ایم ایف خیبرپختونخوا‘ کے وسائل کا بھرپور استعمال کریں گے‘ بلکہ تحریک اِنصاف کے پلیٹ فارم سے ’ایف ایم ریڈیو اسٹیشن‘ کے قیام کو پہلے مرحلے کی ترجیح میں شامل کیا جانا چاہئے۔ ویب ٹیلی ویژن اور بلاگز (blogs) سے ایک قدم آگے سیاسی جماعت کے مؤقف‘ ترجیحات اور کارکردگی پر مبنی روزنامے کی اشاعت کا بھی یہی ’موزوں وقت‘ ہے تاکہ اصلاحات و ترقی کا جو عمل خیبرپختونخوا میں شروع کیا گیا ہے‘ اُس کی کلی و مناسب تشہیر ممکن بنائی جاسکے تاکہ ’’جنگل میں مور ناچا‘ کس نے دیکھا‘‘ جیسی صورتحال نہ ہو‘ اُور آئندہ عام انتخابات سے قبل تحریک انصاف اپنی کارکردگی کے حوالے سے اُس رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر چکی ہو‘ جو سردست یہ اِس منفی تاثر پر مبنی ہے کہ ۔۔۔ ’’تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت کی ترجیحات اُور قول و فعل ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘ ایک نئے پاکستان کی تشکیل اور جمہوری نظام کے استحکام کی منزل تک سفر میں بات چیت اُور بحث و مباحثوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔
![]() |
| Pakistan Tehreek e Insaf (PTI) Chairman Imran Khan address live on FM92.2 (Khyber Pukhtunkhwa) Radio but such continuous efforts need to be more organize and as permanent feature |

No comments:
Post a Comment