iWar
غیر روائتی جنگ
غیر روائتی جنگ
پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ داخلی سطح پر اِسے ایک ایسے حملے کا سامنا ہے جو
غیرروائتی جنگی انداز سے کیا گیا ہے۔ کسی ملک کے بارے میں یہ تاثر عام کرنا
کہ وہاں کچھ بھی محفوظ نہیں اور اِس دلیل کو ثابت کرنے کے لئے قومی
تنصیبات‘ فوجی اُور غیرفوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی جنگ کے
طورطریقوں میں نیا اضافہ ہے۔ کوئی ملک اپنے خلاف ہونے والے اِس قسم کے
حملوں کو کس طرح زائل کرتا ہے اور اُن کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا حکمت عملی
اختیار کرتا ہے‘ آج کی تبدیل ہوتی دنیا میں دفاع کے تقاضے اور اسلوب بھی
بدل گئے ہیں۔ جن میں ذرائع ابلاغ کا کلیدی کردار ہے اور یہ کہنا بیجا نہ
ہوگا کہ ذرائع ابلاغ کا استعمال بھی ایک ایسے نئے ہتھیار کے طور پر کیا جا
رہا ہے‘ جس سے غیرروائتی جنگ کو مسلط رکھا جاسکے۔
پاکستان کے دشمن داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ ہیں اور ایسے بھی ہیں جو باضابطہ طور پر حکومت میں شامل نہیں اور یہ سبھی کردار ایسے نپے تلے حملے (اقدامات) کرتے ہیں جن سے پاکستان مخالف طاقتوں کے عزائم اور سازشیں کامیاب ہوں۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کا تقاضا یہ ہے کہ دانستہ طورپر ایسے اقدامات اور نپی تلی حکمت عملی اپنائی جائے‘ جس سے پاکستان دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں مل جائیں۔
پاکستان مخالف طاقتیں عام آدمی کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں جبکہ وہ مہلک ہتھیاروں اور بظاہر غیرمہلک طریقوں سے کام لیتے ہوئے عام آدمی کی سوچ‘ اُس کے دل و دماغ کو قابو کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتی ہیں جس کے لئے ٹیلی ویژن‘ اخبارات‘ انٹرنیٹ کے وسائل بشمول آن لائن بات چیت‘ چیٹ رومز‘ سماجی رابطہ کاری کے ذرائع‘ مائیکرو بلاگنگ (ٹوئٹر اُور فیس بک)‘ سوشل نیٹ ورکس‘ تصاویر کا تبادلہ‘ وال پوسٹنگز اور کراوڈ سورسنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ’کراوڈ سورسنگ (Crowd-sourcing) انٹرنیٹ کی ایک نئی اصطلاح ہے جس میں روائتی انداز سے دوسروں کی خدمات سے استفادہ کرنے کی بجائے کسی کام کے بارے میں نت نئے خیالات جمع کرنے یا بہت سے لوگوں کے کسی خاص شعبے کے بارے میں تاثرات معلوم کرنے بالخصوص آن لائن وسائل کا استعمال کرنے والوں کی رائے معلوم کی جاتی ہے۔ عام حالت میں یہ کام ملازمین رکھ کر اور دفاتر قائم کر کے کیا جاتا ہے لیکن انٹرنیٹ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے غیرروائتی طور پر بناء ملازمین رکھے تحقیق و تشہیر جیسے کام زیادہ تیزرفتاری اور غیرمحسوس مؤثر انداز سے ہونے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِن غیرروائتی طورطریقوں کا علاج بھی غیرروائتی انداز اختیار کرکے ہی ممکن ہے۔
اگر زیادہ واضح انداز میں بات کی جائے تو ہماری سرحدوں کے پار ایسے فوجی کمانڈرز ہیں‘ جو جنگ کے غیرروائتی طورطریقوں کا استعمال کررہے ہیں تاکہ پاکستان کو داخلی طورپر کمزور کرکے نقصان پہنچا سکیں۔ نئی جنگی حکمت عملی کے تحت جنگی امور کے ماہر افراد غیرمصدقہ اطلاعات کو حقیقت کے روپ میں ڈھال کر پیش کرنے کے حربے سے کام لیتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہمارے ذرائع ابلاغ و دیگر تشہیری وسائل کا استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کے دو رخ فوجی و غیرفوجی ہیں۔ غیرفوجی رخ میں عوام کی رائے پر اثرانداز ہوا جاتا ہے۔ پاکستان کی قیادت اور عوام کے لئے ضروری ہے کہ وہ سرحد پار ہونے والی سازشوں کو سمجھیں اور رائے عامہ کسی خاص زاویئے پر مرکوز کئے جانے کی سازشوں سے ہشیار رہیں۔ تکنیکی اعتبار سے بات کی جائے تو پاکستان کے بارے میں تاثر اِس کی داخلی و خارجی صورتحال کے بارے میں عمومی رائے اور دفاعی تقاضے ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ یہ دفاع کا یہ حصہ ہے کہ ہم پاکستان کی ساکھ کے بارے اُس تاثر کو زائل کرنے کے لئے حکمت عملی مرتب کریں جو شکوک و شبہات اور انتشار کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے۔
کوئی بھی بات سچ یا جھوٹ جیسے پہلو رکھتی ہے اور انہیں پھیلانے کے لئے جن طریقوں سے کام لیا جاتا ہے اُنہیں ’بلیک پراپگینڈہ‘ اور ’گرے پراپگینڈہ‘ کہا جاتا ہے۔ پہلے ذریعے میں معلومات اُس ذریعے کے حوالے سے دی جاتی ہیں جو خود براہ راست اس کی تخلیق یا یکجا کرنے کے لئے ذمہ دار نہیں ہوتا۔ دوسری قسم کی تشہیر میں معلومات اس کے تخلیق کار کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے تخلیق کی جاتی ہیں جن میں سننے یا پڑھنے والوں کی دلچسپی کو بھی شامل کرنا ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔
برطانوی فوج ایک خصوصی دستہ بنا رہی ہے جو انٹرنیٹ بشمول سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر ہونے والی منفی تشہیری مہم کا مقابلہ کرے گی۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ کا دور ہے‘ جس میں روائتی طریقوں اور مہلک ترین ہتھیاروں کے ساتھ ایسے غیرروائتی طریقوں سے بھی کام لیا جاتا ہے‘ جس سے حکومتیں کمزور ہوں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ اور کارکردگی متاثر ہو۔ اسرائیل فوج کے لئے ایسے 30 دستے کام کرتے ہیں جو ٹوئٹر‘ فیس بیک‘ یو ٹیوب اور انسٹاگرام کے ذریعے اپنا مؤقف پھیلاتے جبکہ اپنے خلاف ہونے والی غیرروائتی جنگ کے حملوں کو ناکام بناتے ہیں۔ یہ تیس دستے چھ مختلف زبانوں کے پلیٹ فارمز پر کام کرتے ہیں۔ کیا پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے اس جدید خطرے کو سمجھا ہے؟ کیا ہمارے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو پاکستان کی ساکھ یا اس کے بارے میں عمومی منفی تاثر ذہن نشین کرانے والے حربوں کا مقابلہ کرسکیں؟
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
پاکستان کے دشمن داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ ہیں اور ایسے بھی ہیں جو باضابطہ طور پر حکومت میں شامل نہیں اور یہ سبھی کردار ایسے نپے تلے حملے (اقدامات) کرتے ہیں جن سے پاکستان مخالف طاقتوں کے عزائم اور سازشیں کامیاب ہوں۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کا تقاضا یہ ہے کہ دانستہ طورپر ایسے اقدامات اور نپی تلی حکمت عملی اپنائی جائے‘ جس سے پاکستان دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں مل جائیں۔
پاکستان مخالف طاقتیں عام آدمی کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں جبکہ وہ مہلک ہتھیاروں اور بظاہر غیرمہلک طریقوں سے کام لیتے ہوئے عام آدمی کی سوچ‘ اُس کے دل و دماغ کو قابو کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتی ہیں جس کے لئے ٹیلی ویژن‘ اخبارات‘ انٹرنیٹ کے وسائل بشمول آن لائن بات چیت‘ چیٹ رومز‘ سماجی رابطہ کاری کے ذرائع‘ مائیکرو بلاگنگ (ٹوئٹر اُور فیس بک)‘ سوشل نیٹ ورکس‘ تصاویر کا تبادلہ‘ وال پوسٹنگز اور کراوڈ سورسنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ’کراوڈ سورسنگ (Crowd-sourcing) انٹرنیٹ کی ایک نئی اصطلاح ہے جس میں روائتی انداز سے دوسروں کی خدمات سے استفادہ کرنے کی بجائے کسی کام کے بارے میں نت نئے خیالات جمع کرنے یا بہت سے لوگوں کے کسی خاص شعبے کے بارے میں تاثرات معلوم کرنے بالخصوص آن لائن وسائل کا استعمال کرنے والوں کی رائے معلوم کی جاتی ہے۔ عام حالت میں یہ کام ملازمین رکھ کر اور دفاتر قائم کر کے کیا جاتا ہے لیکن انٹرنیٹ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے غیرروائتی طور پر بناء ملازمین رکھے تحقیق و تشہیر جیسے کام زیادہ تیزرفتاری اور غیرمحسوس مؤثر انداز سے ہونے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِن غیرروائتی طورطریقوں کا علاج بھی غیرروائتی انداز اختیار کرکے ہی ممکن ہے۔
اگر زیادہ واضح انداز میں بات کی جائے تو ہماری سرحدوں کے پار ایسے فوجی کمانڈرز ہیں‘ جو جنگ کے غیرروائتی طورطریقوں کا استعمال کررہے ہیں تاکہ پاکستان کو داخلی طورپر کمزور کرکے نقصان پہنچا سکیں۔ نئی جنگی حکمت عملی کے تحت جنگی امور کے ماہر افراد غیرمصدقہ اطلاعات کو حقیقت کے روپ میں ڈھال کر پیش کرنے کے حربے سے کام لیتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہمارے ذرائع ابلاغ و دیگر تشہیری وسائل کا استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کے دو رخ فوجی و غیرفوجی ہیں۔ غیرفوجی رخ میں عوام کی رائے پر اثرانداز ہوا جاتا ہے۔ پاکستان کی قیادت اور عوام کے لئے ضروری ہے کہ وہ سرحد پار ہونے والی سازشوں کو سمجھیں اور رائے عامہ کسی خاص زاویئے پر مرکوز کئے جانے کی سازشوں سے ہشیار رہیں۔ تکنیکی اعتبار سے بات کی جائے تو پاکستان کے بارے میں تاثر اِس کی داخلی و خارجی صورتحال کے بارے میں عمومی رائے اور دفاعی تقاضے ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ یہ دفاع کا یہ حصہ ہے کہ ہم پاکستان کی ساکھ کے بارے اُس تاثر کو زائل کرنے کے لئے حکمت عملی مرتب کریں جو شکوک و شبہات اور انتشار کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے۔
کوئی بھی بات سچ یا جھوٹ جیسے پہلو رکھتی ہے اور انہیں پھیلانے کے لئے جن طریقوں سے کام لیا جاتا ہے اُنہیں ’بلیک پراپگینڈہ‘ اور ’گرے پراپگینڈہ‘ کہا جاتا ہے۔ پہلے ذریعے میں معلومات اُس ذریعے کے حوالے سے دی جاتی ہیں جو خود براہ راست اس کی تخلیق یا یکجا کرنے کے لئے ذمہ دار نہیں ہوتا۔ دوسری قسم کی تشہیر میں معلومات اس کے تخلیق کار کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے تخلیق کی جاتی ہیں جن میں سننے یا پڑھنے والوں کی دلچسپی کو بھی شامل کرنا ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔
برطانوی فوج ایک خصوصی دستہ بنا رہی ہے جو انٹرنیٹ بشمول سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر ہونے والی منفی تشہیری مہم کا مقابلہ کرے گی۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ کا دور ہے‘ جس میں روائتی طریقوں اور مہلک ترین ہتھیاروں کے ساتھ ایسے غیرروائتی طریقوں سے بھی کام لیا جاتا ہے‘ جس سے حکومتیں کمزور ہوں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ اور کارکردگی متاثر ہو۔ اسرائیل فوج کے لئے ایسے 30 دستے کام کرتے ہیں جو ٹوئٹر‘ فیس بیک‘ یو ٹیوب اور انسٹاگرام کے ذریعے اپنا مؤقف پھیلاتے جبکہ اپنے خلاف ہونے والی غیرروائتی جنگ کے حملوں کو ناکام بناتے ہیں۔ یہ تیس دستے چھ مختلف زبانوں کے پلیٹ فارمز پر کام کرتے ہیں۔ کیا پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے اس جدید خطرے کو سمجھا ہے؟ کیا ہمارے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو پاکستان کی ساکھ یا اس کے بارے میں عمومی منفی تاثر ذہن نشین کرانے والے حربوں کا مقابلہ کرسکیں؟
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
iWar
ReplyDeleteDr Farrukh Saleem
Sunday, March 15, 2015
Pakistan is under attack - an unconventional attack to be certain. Perception warfare is the new battleground. Perception management and reflexive control are the new weapons of war. And the media is the new medium of this new war. Pakistan’s adversaries – both state and non-state – are bombarding specially designed, targeted and premeditated messages in order to induce Pakistanis to undertake ‘voluntary’ actions and decisions the very actions and decisions that are favourable to Pakistan’s enemies. It is all about making Pakistanis act according to a deliberate, calculated plan which is favourable to Pakistan’s adversaries.
Pakistan’s adversaries are active in explicitly military undertakings – albeit non-lethal ones – to influence and manipulate the ‘hearts and minds’ of Pakistan’s civilian population. The implementation platform of this new war is television, newspapers, internet forums (including online discussions and chat rooms), social blogs, microblogging (Twitter, Facebook), social networks, picture-sharing, wall postings and crowd sourcing.
To be sure, there are military commanders on the other side of our borders who are now exercising non-lethal choices to achieve their war objectives. Under this new doctrine, military commanders use disinformation as an element of combat power and target concisely defined audience by treating our televisions and our newspapers as their war theatres (this is like getting behind the enemy line and consuming the enemy from within).
The Pak-India conflict has two distinct dimensions – the military battlefield and civilian ‘hearts and minds’. The Pak-India conflict is in essence a ‘struggle of wills’ in which the attitudes, narratives and the behaviour of the civilian population will play the central role in determining the final outcome of the conflict. For Pakistan’s leaders and the Pakistani population, understanding the motivation of military commanders across the border will be the critical first step towards denying the adversary an opportunity to shape public perception that allows an outcome desired by the adversary.
At a more technical level, “perception management combines truth projection, operations security, cover and deception and psychological operations.” In this information-dominated global environment coupled with low-cost information technology, Pakistan’s adversaries are bent upon communicating directly to their intended target.
This communication is taking place in two forms: Black propaganda, which is “inherently deceitful information attributed to a source that was not responsible for its creation”; and grey propaganda whereby the objective is to “advance viewpoints that are in the interest of the originator but that would be more acceptable to target audiences than official statements.”
There is evidence that Pakistan’s adversaries intend to use every possible thought-influencing technology to achieve their military objectives. There is evidence that the ‘secret agenda of hidden persuaders’ is landing in Pakistan. There is evidence that subliminally embedded messages by Pakistan’s adversaries are being bought at face value by unsuspecting Pakistanis.
The British army is “creating a special force of Facebook warriors, skilled in psychological operations and use of social media to engage in unconventional warfare in the information age.” The Israel Defence Forces are “active on 30 platforms – including Twitter, Facebook, Youtube and Instagram – in six languages.”
Has Pakistan’s leadership recognizsd our vulnerability to perception control by foreign actors? Do we have an institutional mechanism which detects and then counteracts the perception management capabilities of our adversaries?
“The best victory is when the opponent surrenders of its own accord before there are any actual hostilities. It is best to win without fighting.” – Sun Tzu
The writer is a columnist based in Islamabad.
Email: farrukh15@hotmail.com.
Twitter:@saleemfarrukh