Monday, March 16, 2015

Mar2015 PTI in senate EXPECTATIONS

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ اَب لہو بولے گا!
پاکستان کی سیاست کے بارے میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ یہاں سفید دکھائی دینے والے سیاہ ثابت ہوتے ہیں تو جن سے توقع نہیں ہوتی وہ آنسو بہا کر تو کہیں آئینی ترامیم کے لئے اتفاق رائے پیدا کرکے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دے جاتے ہیں‘ جن سے پارلیمانی جمہوریت کی لاج رہ جاتی ہے۔ حال ہی میں قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کے ڈپٹی چیئرمین کے لئے ہوئے اِنتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے شبلی فراز کو 16 ووٹ ملے‘ جو تحریک اِنصاف کی اَیوان بالا میں موجود تعداد سے زیادہ تھے تو آخر تحریک کے پاس ایسا کون سا جادو ہے‘ جو وہ دوسروں کو منٹوں میں قائل کر لیتی ہے؟ یہ سوال جب ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے نامزد اُمیدوار نکتہ داں‘ فہیم سینیٹر شبلی فراز کے سامنے رکھا گیا‘ تو انہوں نے فوری جواب دیا کہ ’’ایوان بالا کے اراکین کو قائل کرنے میں مجھے صرف تین گھنٹے لگے اور زیادہ وقت ملتا تو نتیجہ جو‘ اَب بھی خلاف توقع ہے زیادہ مختلف ہو سکتا تھا!‘‘

معروف شاعر اَحمد فراز (1931ء تا 2008ء) کے فرزند سینیٹر شبلی فراز اقتصادی امور و بینکاری کے عملی تجربہ کے ساتھ تحریک انصاف میں مرکزی نائب صدر کے عہدے پر فائز ہیں اُور پانچ مارچ کے روز سینیٹ انتخابات میں خیبرپختونخوا سے کامیاب ہونے والے اُس ہراوّل دستے کا حصہ بھی ہیں‘ جن سے تحریک انصاف اور اقتصادی مسائل میں گھرے خیبرپختونخوا کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔

شبلی فراز کے بقول تحریک انصاف سینیٹ میں اپنی عددی حیثیت سے آگاہ تھی اور اسی وجہ سے چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کے لئے اُمیدوار نامزد نہیں کئے گئے لیکن جب تحریک انصاف کی جانب سے عدم دلچسپی کے باعث سینیٹر رضا ربانی بلامقابلہ چیئرمین بن گئے تو چیئرمین عمران خان کی جانب سے دوپہر بارہ بجکر ایک منٹ پر حکم ملا کہ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے کاغذات جمع کرائے جائیں۔ جس کے بعد سینیٹ اراکین کو قائل کرنے کے لئے کم و بیش تین گھنٹے کا وقت ملا‘ اُور نتیجہ سب کے سامنے ہے!

 سینیٹ کی جملہ خواتین اراکین سمیت مختلف جماعتوں اُور صوبوں کی نمائندگی کرنے والوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ پولنگ کے آغاز تین بجے تک جاری رہا اور اگر مجھے صبح ہی سے علم ہوتا تو کم از کم پچیس ووٹ تو ضرور مل ہی جاتے۔‘‘ شبلی فراز پرعزم ہیں کہ وہ ایوان بالا میں خیبرپختونخوا کے حقوق کا تحفظ‘ قبائلی علاقوں سے متعلق اصلاحات کے نفاذ‘ انسانی حقوق کی علمبرداری‘ اقلیتوں‘ خواتین و دیگرکمزور طبقات کی نمائندگی کا حق ادا کریں گے جو اُن کی سیاسی سوچ اُور جدوجہد کا مرکزی خیال بھی ہے۔

سینیٹر شبلی فراز کے خاندان کا تعلق ’پیپلزپارٹی‘ سے ثابت ہے‘ لیکن اُن کے اندر ایک باغی چھپا ہے جو روایت پسند نہیں۔ آپ بینکاری کے سرمایہ کاری شعبے سے وابستہ رہے۔ پاکستان فضائیہ میں بطور پائلٹ اور سرکاری ملازم خدمات بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ سال 2002ء میں کوہاٹ کے ضلع ناظم کے لئے انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لیا تھا۔ آپ کے چچا معروف قانون داں بیرسٹر سیّد مسعود کوثر پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کے صدر اور گورنر جیسے کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ بقول شینیٹر شبلی فراز ’’ضلع ناظم کے انتخاب میں ناکام ہونے کے بعد میں نے عملی سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی تھی لیکن 2011ء میں عمران خان کی ایک تقریر نے مجھے موم کردیا‘ اُور مجھے اپنے اندر سے یہ آواز آئی کہ یہی وہ رہنما ہے‘ جو پاکستان کو تبدیل کرکے رکھ سکتا ہے۔‘‘ سینیٹرشبلی فراز تحریک انصاف کا حقیقی چہرہ ہے‘ اُن کا ماضی مفادات کی سیاست کرنے والے روائتی کرداروں جیسا نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ سینیٹ میں پہلی بار قدم رکھنے والی ’تحریک انصاف‘ سمیت پوری قوم کو اُن سے ڈھیروں ڈھیر توقعات وابستہ ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ’تحریک اِنصاف‘ میں عمران خان جیسی بصیرت و ہمت رکھنے والی کوئی دوسری شخصیت موجود نہیں جو اپنے فیصلوں میں آمرانہ مماثلت بھی رکھتے ہیں لیکن جمہوریت کے فکری پیروکار سینیٹر شبلی فراز بھی یگانۂ روزگار‘ سیاست میں اصول پسندی پر حددرجے یقین رکھنے والی شخصیت ہیں۔ یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ پاکستان میں سیاسی و سماجی انصاف عام کرنے کے لئے سینیٹر شبلی فراز اپنی صلاحیتوں اور اِس نادر موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں گے‘ جس کا لب لباب پاکستان میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے جنون کی ہر حد سے گزرنے کا عہد ہے۔’’لب کشا لوگ ہیں‘ سرکار کو کیا بولنا ہے۔۔۔ اَب لہو بولے گا‘ تلوار کو کیا بولنا ہے!‘‘
---
(سولہ مارچ کو تحریر کردہ یہ مضمون روزنامہ آج کے اِدارتی صفحے پر شائع کرنے سے معذرت کرتے ہوئے اِسے ّشخصی خاکہٗ قرار دیا گیاٗ جس میں سینیٹرشبلی فراز کی  شخصیت اور تحریک انصاف کی وجاہت و شبہات کی توصیف کی گئی ہےٗ جو بقول صفحے کے نگران ّبلاجواز و ضرورت ٗہے!)

No comments:

Post a Comment