Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Saturday, July 15, 2023

Development in Peshawar - At a glance

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی .... شہری منصوبہ بندی

صوبائی دارالحکومت پشاور کا کوئی ایک بھی رہائشی یا کاروباری علاقہ ایسا نہیں جہاں بنیادی سہولیات کا نظام مثالی شکل و صورت میں موجود ہو اگرچہ عوامی اجتماعی مسائل کے حل کے لئے فیصلہ سازی کا عمل وسیع کر دیا گیا ہے اُور مقامی حکومتیں (بلدیاتی نظام) اِسی لئے وضع کیا گیا ہے کہ اِس کے ذریعے علاقائی سطح پر عوام کی نمائندگی ہو اُور علاقائی سطح پر ہی بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اِس مقصد کے لئے ضلع پشاور میں 216 تحصیل کونسلز‘ 1438 ویلیج کونسلز‘ 1076 نیبرہڈ کونسلیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اِس نظام میں ویلیج کونسلوں کے علاؤہ نیبرہڈ کونسلیں اُور اِن سے منتخب خواتین‘ مزدور کسان‘ یوتھ اُور اقلیتی اراکین خصوصی اضافی نمائندگی رکھتے ہیں۔ اِن بلدیاتی نمائندوں کی کل تعداد ’4 ہزار 244‘ بنتی ہے جن میں جنرل نشستوں پر (ویلیج اُور نیبرہڈ کونسلوں کی صورت متعلقہ علاقوں کی) نمائندگی کرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 514 کونسلر بھی شامل ہیں اُور یہی ڈھائی ہزار سے زیادہ منتخب بلدیاتی نمائندے وہ ہیں جنہیں کی منظوری سے پشاور کی ترقیاتی فیصلہ سازی کا تعین ہوتا ہے۔ اِس نتیجہ خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے پشاور کے مشرق میں واقع 4 نیبرہڈ کونسلوں (این سیز) کا جائزہ لیں جنہیں سرکاری دستاویزات میں ’گل بہار نمبر ون‘ گل بہار نمبر ٹو‘ رشید ٹاؤن اُور گل بہار نمبر فور‘ کا نام دیا گیا ہے اُور اِن چار نیبرہڈ‘ ویلیج کونسلوں سے منتخب ہونے والے جنرل کونسلروں کی کل تعداد 58 ہے جن میں 16خواتین کے لئے‘ آٹھ مزدور کسان نمائندوں کے لئے‘ آٹھ یوتھ (نوجوانوں) کے لئے اُور آٹھ نشستیں اقلیتوں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ غور ہونا چاہئے کہ بلدیاتی نظام کی صورت اِس پوری کوشش (مشق) کا مقصد کیا ہے اُور کیا وہ بنیادی مقصد حاصل ہو رہا ہے؟ گل بہار نمبر ون کے 25‘ گل بہار نمبر ٹو کے 24‘ رشید ٹاؤن کے 25 اُور ’گل بہار نمبر فور‘ کے 24 بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب و تقرری کیوں کی گئی اُور اگرچہ اِن میں سے اکثر سیٹوں پر انتخاب بھی مکمل ہو چکا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پھر بھی ’شہری مسائل‘ جوں کے توں برقرار ہیں اُور ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرنے میں وہی ’دانستہ غلطیاں‘ آج بھی دُہرائی جا رہی ہیں جو ماضی میں کی جاتی تھیں جبکہ بلدیاتی نمائندے نہیں ہوتے تھے؟

پشاور کو سیاست دیمک کی طرح صرف اندر ہی اندر سے نہیں بلکہ باہر سے بھی کھا گئی ہے! مقامی حکومتوں کے نام سے وہ بلدیاتی نظام جو ’بلاامتیاز و تفرقہ خدمت‘ کے لئے وضع کیا گیا تھا اُسے سیاسی جماعتوں نے یرغمال (ہائی جیک) کر لیا ہے اُور ’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘ یعنی ’جس سیاسی جماعت کی حکومت اُس کی من مانی‘ کے اصول پر پشاور کے ترقیاتی فیصلے ہو رہے ہیں‘ جو سیاست سے بالاتر نہیں بلکہ سیاست پشاور کے ہر فیصلے پر حاوی ہو چکی ہے۔ اگر پشاور اُور اِس کے موجودہ مسائل پر غور کیا جائے تو یکساں توجہ طلب امر (یہ پہلو) بھی سامنے آتا ہے کہ بنیادی طور پر پشاور کے مسائل کی وجہ اُور اِس کے وسائل پر ’2 قسم‘ کے بوجھ ہیں۔ ایک اِس کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز دیگر اضلاع سے بہتر معاشی مستقبل (روزگار و ملازمت)‘ حفاظت‘ تعلیم اُور حتیٰ کہ علاج معالجے کے لئے بھی پشاور کا رخ کیا جاتا ہے اُور یہ بھی پشاور کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں جب بھی کوئی ’وارد‘ ہوا تو اُن کی ایک تعداد پشاور ہی کی ہو کر رہ گئی۔ شاید اِسی لئے تاریخ کی کتب میں ”پشاور“ کی وجہ تسمیہ ’پیش آورد‘ بھی ملتی ہے۔ بہرحال پشاور کا انتخاب کرنے والوں کی نظر میں فوری طور پر یہاں کی سہولیات جم جاتی ہیں اُور اِس کا محرک سرسری و فطری بھی ہے جس کا ایک تعلق پشاور کی آب و ہوا سے ہے اُور اگرچہ اب ماضی کی طرح مثالی نہیں رہی لیکن دیگر اضلاع سے پھر بھی نسبتاً بہتر ہے۔ جب ہم سہولیات کے تناظر میں پشاور کا جائزہ لیتے ہوئے موازنہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع سے کرتے ہیں تو پشاور کی صورتحال نسبتاً زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے اُور یہی کشش یہاں کے مسائل میں اضافے کا ’کلیدی محرک‘ ہے جس کا ”بوجھ“ پشاور کی زرخیز زرعی (قابل کاشت) اراضی پر رہائشی کالونیاں بننے کی صورت دیکھا جا سکتا ہے۔ پشاور کا نہری نظام گندگی و غلاظت کا مجموعہ بن چکا ہے۔ شاہی کٹھہ اُور بازار تجاوزات سے بھر گئے ہیں۔ اکثر علاقوں میں نہری نظام نکاسی آب کا بنیادی ذریعہ ہے جس میں گھریلو و کاروباری اُور صنعتی کوڑا کرکٹ‘ فضلہ اُور کیمیائی مادے بنا روک ٹوک اُور بنا تطہیر بہائے جا رہے ہیں۔ پوچھنے والے تو ہیں اُور پوچھنے والوں کا عوام نے بلدیاتی نمائندوں کی صورت انتخاب بھی کر دیا ہے لیکن پشاور سے دلی تعلق کی بجائے سیاسی تعلق نے صورتحال کو اجتماعی مفاد سے ذاتی و جماعتی مفاد کا اسیر بنا دیا ہے۔ 

توجہ طلب ہے کہ پشاور کا وہ نہری نظام جو کبھی آبنوشی کے لئے استعمال ہوتا تھا چند دہائیوں میں نکاسی آب کا ذریعہ بن گیا ہے اُور یہی ’آلودہ پانی‘ ضلع و تحصیل پشاور کی باقی ماندہ زراعت و باغبانی کے لئے استعمال ہونے کی وجہ سے نت نئی اُور پیچیدہ بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔ پشاور کا اِسی آلودہ پانی میں ’پولیو‘ و دیگر خطرناک بیماریوں کے جرثومے بھی پائے گئے ہیں! ایک ایسا صدر مقام‘ جو پھولوں کا شہر کہلاتا ہو اُور اُس کی مثالی آب و ہوا‘ اگر مثالی نہیں رہی تو قصور وار کون ہے؟جہاں رہائشی و تجارتی علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہو چکا ہے اُور جہاں دانستہ و غیردانستہ سرزد ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنے یعنی اصلاح احوال کا جذبہ بھی نہیں پایا جاتا تو اُس طول و عرض میں پھیلتے شہر کے ساتھ بڑھتے مسائل اگر مربوط و جامع حکمت عملی کے ساتھ حل نہیں کئے جاتے تو مبینہ ترقیاتی عمل کی صورت مالی وسائل کا ضیاع جاری رہے گا۔

منتخب نمائندوں پر مبنی مقامی حکومتوں کے نظام اُور پشاور کے مسائل کی عمومی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے توجہات ’گل بہار‘ کی جانب مبذول کرتے ہیں جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اُور یہ تقسیم وقت کے ساتھ ’گل بہار‘ کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے خودبخود ہوتی چلی گئی اُور ’گل بہار‘ کی ابتدائی آبادی (پہلے حصے یعنی گل بہار نمبر ون) کے بعد کسی بھی دوسرے حصے (گل بہار نمبر دو‘ رشید ٹاؤن اُور گل بہار نمبر چار) میں خاطرخواہ شہری منصوبہ بندی کا عمل دخل نظر نہیں آتا بلکہ کھیتی باڑی کے لئے استعمال ہونے والی یہ اراضی ٹکڑوں میں فروخت ہوتی رہی اُور یوں راستے (گلیاں اُور سڑکیں) تخلیق پاتے رہے‘ جن پر تعمیر ہونے والے بے ترتیب گھروں کی اکثریت اُن تعمیراتی نقشوں کے مطابق نہیں جن کی متعلقہ میونسپلٹی (بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی) سے منظوری لی گئی تھی۔ بہرحال ’گل بہار‘ پشاور شہر کا پہلا توسیعی منصوبہ بصورت رہائشی بستی قرار دی جا سکتی ہے جس کے اکثر حصوں میں شہری منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے اُور چار سے پانچ دہائیوں میں ’گل بہار‘ کا کوئی ایک بھی حصہ ایسا نہیں رہا‘ جہاں اینٹ رکھنے (نئی آبادی) کی گنجائش باقی رہی ہو اُور یہ وہ وقت ہے جب گل بہار کے رہنے والے ’نیند سے بیدار‘ ہوئے ہیں اُور آنکھیں مل کر اپنے گردوپیش کو دیکھنے پر اُنہیں معلوم ہوتا ہے کہ فٹ پاتھ تجاوزات سے بڑھ چکے ہیں۔ فٹ پاتھ کے ساتھ بنی ہوئی نالے نالیوں پر بھی قبضہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اُن کی صفائی پندرہ بیس برس سے نہیں ہوئی اُور معمولی سی بارش بھی گل بہار کے نشینی و نسبتاً بالائی حصوں کے لئے طغیانی کا باعث بنتی ہے یا سڑکوں پر کئی کئی دن تک بارش کا پانی کھڑا رہتا ہے جس سے تعلیمی اداروں‘ دفاتر اُور مساجد کو باقاعدگی سے جانے والوں کو مشکلات رہتی ہیں! میئر پشاور نے حال ہی میں انم صنم چوک سے عشرت سینما چوک اُور عشرت سینما چوک سے آفریدی گڑھی تک سڑک کی تعمیر و مرمت کے لئے فراخ دلی سے مالی وسائل فراہم کئے ہیں لیکن یہ مالی وسائل اگر سڑک کے اُن چند حصوں کی مرمت پر خرچ کئے جاتے جو توڑ پھوڑ کا شکار تھے۔ گل بہار کے 3 مسائل انتہائی ضروری ہیں۔ نکاسی آب کا نظام گلیوں سے متصل نہیں۔ گلیاں نیچے اُور سڑک کی سطح ہر ترقیاتی کام کے بعد بلند ہو رہی ہے۔ کئی گلیوں کی فرش بندی چاہئے جو عرصہ بیس سال پہلے بنائی گئی تھیں اُور بجلی کی فراہمی کا بوسیدہ (ناکافی) نظام کی اصلاح و توسیع ہونی چاہئے کیونکہ گل بہار کی آبادی میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اِس کے ساتھ بجلی پانی و گیس جیسی سہولیات کی فراہمی کو مربوط توسیع نہیں دی گئی! 

اگر ’مکھی پر مکھی مارنا‘ مقصود نہیں اُور گل بہار کی ترقی سے کوئی سیاسی‘ جماعتی و سیاسی فائدہ بھی نہیں جڑا ہوا تو نمائشی اقدامات پر ’مالی وسائل‘ ضائع کرنے کی بجائے حسب ِحال (حسب ِضرورت) ترقیاتی حکمت عملی وضع کی جانی چاہئے۔

....

Editorial Page - Daily Aaj - 15th July 2023

Clipping from Editorial Page - Daily Aaj - 15th July 2023


Wednesday, June 28, 2023

Preserving Peshawar's Cultural Legacy

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : غروب ِآفتاب 

گنجان آباد پشاور کے اندرونی علاقوں (مرکزی شہر) کی پہچان و شناخت خطرے میں ہیں۔ دوسری طرف شہر کے رہنے والوں کو جن انواع و اقسام کے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اُن کی ’بحرانی شکل و صورت‘ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ”رہائشی و کاروباری علاقوں“ میں تمیز نہیں رہی۔ 

گلی کوچوں میں دکانیں اُور کثیرالمنزلہ تجارتی مراکز تعمیر ہونے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے رہائشی مکانات کے منہ مانگے دام مل رہے ہیں اُور یہی سبب ہے کہ اندرون شہر سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ وہ محلے جن کی رونقیں اُور خصوصیت ’ایک خاندان‘ کی طرح رہنے والوں کی مشترک زبان و ثقافت ہوا کرتی تھی‘ آج اُن کی در و دیوار سے ’اَجنبیت‘ سے چھلک و جھلک رہی ہیں۔ پشاور کا سورج تو ابھی غروب نہیں ہوا لیکن اِس کے رہنے والوں نے منہ موڑ لیا ہے اُور کم رقبے کے مکانات زیادہ قیمت کے عوض فروخت کر کے نئی بستیاں آباد کر رہے ہیں۔ وہ ہستیاں اُور گھرانے جن میں پشاور آباد (مزین) تھا‘ جن سے پشاور آباد (معطر) تھا اُنہوں نے گمنامی کا انتخاب بہ امر مجبوری کیا ہے تو اِس کے ذمہ دار صرف معاشی مسائل نہیں بلکہ وہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کے تحت پشاور کو ایک ایک کر کے اِس کی خوبیوں سے الگ کیا جا رہا ہے جیسا کہ پشاور کا تعارف آج بھی ’پھولوں کے شہر‘ کے طور پر کیا جاتا ہے جبکہ اِس کے سبھی چھوٹے بڑے باغات اُور سبزہ زاروں کی اراضی یا تو قبضہ ہو چکی ہے یا پھر تجاوزات کی زد میں ہے اُور کئی ایسی بدنما مثالیں بھی موجود ہیں جن میں باغات کی اراضی پر سرکاری دفاتر قائم کئے گئے ہیں اُور باغات کی اراضی کو ’لامتناہی عرصے کے لئے‘ اجارے (لیز) پر دیدیا گیا ہے! 

پشاور سے دشمنی (مفاد پرستی) کا یہ طویل سلسلہ باغات سے قبرستانوں (شہر ِخاموشاں) تک پھیلنے کے بعد اُن تعمیراتی نشانیوں کو بھی مٹانے پر تُلا ہوا ہے جو پشاور کی مرحلہ وار تعمیروترقی (ارتقائی مراحل) کے گواہ اُور ثبوت ہیں۔ صدیوں پر محیط پشاور کے اِس سفر میں ’ماضی کی یادگاروں‘ کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے‘ جس کے لئے خصوصی اِدارہ (محکمہ آثار قدیمہ اُور عجائب گھر) اُور سیاحت و ضلعی انتظامیہ و مقامی حکومت شامل ہیں اُور اِن سبھی الگ الگ ناموں سے حکومتی اداروں کے قیام کا مقصد پشاور کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسی طاقت اُور حاصل قانونی اختیارات کے باوجود ’پشاور کے مفادات‘ کا خاطرخواہ تحفظ نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے ہر دن پشاور کے نقشے سے کسی ایک عمارت کے منہدم ہونے کی صورت کسی ایک تاریخی باب کا اختتام ہو رہا ہے! 

جس رفتار سے پشاور کے نقوش مٹ رہے ہیں‘ اُنہیں مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چند دہائیوں بعد پشاور شہر کی شکل و صورت یکسر مختلف ہوگی۔ اِس کی آب و ہوا پر آبادی کا بڑھتا ہوا بوجھ اُور اِس کے وسائل کے دیدہ دلیرانہ استحصال کی وجہ سے ’وادی پشاور‘ کی شناختی علامت تبدیل ہو جائیں گی۔ اِس ظالمانہ سلوک کو روکنے کی ضرورت ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑی‘ باقی ماندہ نشانیوں کی حفاظت اُور بالخصوص تھانے اُور پٹوارخانے کی ملی بھگت سے قبضہ مافیا کا ہر قانونی و سماجی محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر اِتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ ’پشاور شہر‘ کے حقیقی (فطری) وارثوں میں شامل 2 معروف خاندانوں (سیٹھی اُور خواجگان) کے نمائندوں نے تنظیم سازی کے ذریعے ضلعی انتظامیہ‘ مقامی و صوبائی حکومت‘ پشاور سے قومی و صوبائی اسمبلی اُور سینیٹ اراکین و دیگر بااثر افراد سے بالمشافہ اُور بذریعہ سوشل میڈیا رابطے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پشاور کے بارے میں اِس منفی تاثر کو زائل کیا جا سکے کہ ”پشاور کا کوئی بھی والی وارث نہیں رہا۔“

’پشاور جاگ اُٹھا‘ تو اِس کے سیاسی اثرات (و مضمرات) بھی ہوں گے اُور وہ انتخابی سیاست جو پشاور کے چودہ صوبائی اُور پانچ قومی اسمبلی کے حلقوں سے ہوتی ہوئی 92 یونین کونسلوں میں تقسیم ہے اُس کے نتائج سیاسی‘ خاندانی و گروہی وابستگیوں سے بالاتر‘ توقعات سے قطعی مختلف (اندازوں سے برخلاف) برآمد ہوں گے اُور یہ نکتہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ سیٹھی و خواجہ خاندان کی جانب سے پشاور کے لئے دردمند مؤقف کی وجہ سے سیاسی دباؤ بھی آئے گا جو اِس خاندان کے نمائندوں کے لئے ایک امتحان ثابت ہوگا کہ وہ یہ دامے درہمے سخنے خود کو پشاور کے کس حد تک وقف کرتے ہیں۔ 

پیش نظر رہنا چاہئے کہ مدمقابل ’پشاور کو غروب‘ دیکھنے کی خواہش رکھنے والے اُور ’پشاور شناسی‘ کی صورت ’نئی سحر‘ کے متلاشی ہیں جو فی الوقت اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن اہل پشاور کا اتحاد ناممکن نہیں اُور اِس اتفاق میں برکت کے وسیع (لامحدود) امکانات موجود ہیں۔ یہ پہلو بھی لائق توجہ ہے کہ پشاور صرف مقامی لوگوں کے ’قابل فخر ورثہ‘ اُور ’اثاثہ‘ نہیں بلکہ پشاوری دنیا کے ہر ملک میں آباد ہیں اُور پھر پاکستان کا وہ کونسا بڑا شہر ہو گا جہاں ’پیشوری‘ آباد نہ ہوں۔ 

’ستائیس جون دوہزارتیئس‘ کے روز شروع ہونے والی مجوزہ ’تحفظ ِپشاور تحریک (ٹی پی ٹی)‘ کے دور رس نتائج و اثرات پہلا قدم اُٹھاتے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اُور ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ اِس میں صرف سیٹھی و خواجگان ہی نہیں بلکہ پشاور کی دیگر اقوام (برادریوں) کو بھی رنگ‘ نسل اُور مذہب و مسلک جیسے حوالوں سے بالاتر ہو کر ’شریک ِسفر‘ کیا جائے بالخصوص اُس نوجوان نسل کو پشاور شناس بنایا جائے جس کے ہاتھ میں ’سوشل میڈیا‘ کے ہتھیار ہیں اُور جو سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے پشاور کے مسائل اُور اِس کے ماضی و حال کو زیادہ بہتر و مربوط انداز میں مقامی اُور عالمی سطح پر اُجاگر کر سکتے ہیں۔

....




Monday, May 1, 2023

Mahsa Act

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

ایران: سروری بمقابلہ خودی کی موت

جمہوری اسلامی ایران کے دارالحکومت تہران میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے ’22 سالہ‘ خاتون ’مہسا ایمنی (Mahsa Amini)‘ کو حجاب (پردہ) درست انداز میں نہ اُوڑھنے پر گرفتار کیا اُور گرفتاری کے تین دن بعد (16 ستمبر 2022ء) کے روز ’مہسا ایمینی‘ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ ورثا کے مطابق اُس پر شدید تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے وہ ’قوما‘ میں چلی گئی اُور تشدد کے باعث زخموں کی وجہ سے اُس کی موت ہو گئی۔ ’مہسا ایمینی‘ کی موت کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی اکا دکا رپورٹ ہو رہا ہے اُور اِس ایک واقعے سے ایران میں خواتین کے خلاف قوانین پر ’سخت گیر‘ عمل درآمد عالمی سطح پر بھی اِس شدت سے زیرغور آیا کہ ایران حکومت کو حجاب پر پابندی کے حوالے سے عوامی حمایت کے مظاہرے کرنا پڑے اُور حجاب کی اہمیت کے حوالے سے قرآنی و شرعی احکامات و ہدایات کو بیان کرنے کے لئے باقاعدہ مہمات چلائی جا رہی ہیں لیکن یہ معاملہ کسی بھی صورت ’ٹھنڈا (رفع دفع)‘ نہیں ہو رہا۔ بیرون ملک بالخصوص امریکہ میں مقیم ایرانیوں اُور ایرانی نژاد امریکیوں کی جانب سے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایران کے خلاف عائد مزید عالمی پابندیاں عائد کرے تاکہ ایران کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے اُور وہ اپنے خواتین کو امریکہ کی مرضی اُور تسلی و تشفی کے مطابق ”آزادی“ دے۔ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا ایک مسودہ قانون تیار کر کے امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) کی ذیلی کمیٹی کو ارسال کیا گیا جس کے کسی بھی رکن کو اِس کی کسی بھی شق پر اختلاف نہیں ہوا اُور یوں یہ مسودہئ قانون متفقہ طور پر درست تسلیم کر لیا گیا جس کا لب لباب یہ ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کے سربراہ (سپریم لیڈر) سیّد علی خامنہ ای اور انقلاب اسلامی ایران کے حامی اعلیٰ حکومتی شخصیات پر پابندیاں عائد ہونی چاہئے۔ بل کو ”انسانی حقوق“ کے زمرے میں شمار کرتے ہوئے ”مہسا ایکٹ (Mahsa Act)“ کا نام دیا گیا جس کی رواں ہفتے (چھبیس اپریل) خارجہ امور سے متعلق کانگریس کی ذیلی کمیٹی نے منظوری دی اُور اب یہ قانون کانگریس ایوان (فل ہاؤس) میں پیش کیا جائے گا جہاں سے اِس کی ممکنہ طور پر باآسانی منظوری ہو جائے گی کیونکہ کانگریس میں موجود ’یہودی یا اسرائیل کی حمایت کرنے والے اراکین‘ پہلے ہی اِس بل کی تیاری اُور منظوری کے لئے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اِس نئے قانون کی منظوری سے ایران حکومت کے سربراہ اُور دیگر اہم شخصیات (بشمول صدر رئیسی‘ اُن کے کابینہ اراکین اُور سپرئم لیڈر کے ساتھ کام کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں) پر پہلے سے موجود عالمی پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی تاہم اِس سے ایران کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جنوری 1978ء سے فروری 1979ء کے درمیان برپا ہونے والے ’انقلاب ِاسلامی ایران‘ کا مرکزی نکتہ ہی امریکہ اُور مغرب کی ثقافت و سیاست اُور غلامی سے آزادی اُور ’اسلامی تشخص‘ کو اپنانا تھا اُور ایران کی قیادت اُور عوام کی اکثریت آج بھی اپنے اِس مقصد سے جڑے ہوئے ہیں۔ 

مہسا ایمینی کی زیرحراست موت کے بارے میں ایرانی حکومت نے ایک وضاحتی بیان ہمراہ شواہد (کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے سے حاصل کردہ ویڈیو) کے ہمراہ جاری کیا جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ’مہسا ایمینی‘ حراست میں لینے سے پہلے گرتی ہے اُور اُسے طبی امداد کے لئے اسٹریچر پر ڈال کر ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے جہاں اُس کی موت ہوئی تھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایران میں خواتین کے لئے لازمی ملبوسات کا حصہ ’حجاب‘ ہے جس کی عموماً خلاف ورزی دیکھنے میں آتی ہے لیکن اِسے اتفاقی و غیردانستہ غلطی سمجھا جاتا ہے اُور حجاب درست طریقے سے نہ لینے والی خواتین جو اپنا سر اُور بال مکمل طور پر نہیں ڈھانپتیں اُنہیں ’متنبہ (وارننگ)‘ دی جاتی ہے تشدد نہیں کیا جاتا لیکن امریکہ ایران پر پہلے سے موجود پابندیوں کو ”مشترکہ جامع ایکشن پلان“ کے تحت دوبارہ نافذ کرنا چاہتا ہے جس کا ایک تعلق دہشت گردی سے بھی جڑا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اُور یورپ کی نظروں میں اِیران صرف اِس لئے کھٹک رہا ہے کیونکہ وہ قابض اِسرائیل کے ناجائز اُور غیرقانونی قبضے اُور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اِسرائیلی مظالم کی مذمت سے لیکر ’اِنہدم ِجنت البقیع‘ تک کے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے اُور اِس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔

مہسا (ایمینی) ایکٹ جس کا اصطلاحی نام ”ایچ آر 589“ ہے جن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اُور مبینہ دہشت گردی کا احاطہ کرتا ہے اُس کا مرتکب صرف ایران ہی نہیں بلکہ امریکہ اِس سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اُور جنگی جرائم کا مرتکب ہے لیکن چونکہ مسلمان ممالک (مسلم اُمہ) اپنے مفادات کے لئے متحد نہیں اِس لئے امریکہ یک طرفہ طور پر اسلامی ممالک پر جنگیں مسلط کرنے اُور اسرائیل کے فلسطین جبکہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکہ ’عالمی تھانیدار‘ بن کر من چاہی قانون سازی کے ذریعے دنیا پر اپنا تسلط دھونس‘ جنگ اُور معاشی و اِقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے جو ایک حقیقت فراموش کر رہا ہے وہ اسلام پر عملاً استقامت کے مظاہرے سے حاصل ہونے والی طاقت اُور یقین ہے جو ہر دور میں آمریت و ملوکیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ہمیشہ فاتح و سرخرو رہی ہے۔ ایران کی قیادت اُور عوام کی سوچ میں اشتراک یہ ہے کہ یہ اپنی خودی اُور خود داری کے ساتھ جینا اُور مرنا چاہتے ہیں۔ اِنہیں معاشی آسانیوں کے لئے عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی تمنا تو ہے لیکن بقول علامہ اقبالؒ یہ اِس سروری کے لئے اپنی خودی کی موت ہونے نہیں دیں گے۔ ”کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن …… خودی کی موت ہو جس میں وہ ’سروری‘ کیا ہے (علامہ اقبالؒ)۔“

……

Women Rights are Human Rights


Monday, April 3, 2023

Molvee Gee's 19th Urs Mubarak



 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

یاد آوری : مولوی جی رحمة اللہ علیہ

راہ سلوک اُور معرفت الٰہی کے سلسلے اَزل سے قائم اُور اَبد تک جاری رہیں گے۔ ہدایت کے اِن سلسلوں کو عرف عام میں ’تصوف‘ کہا جاتا ہے اُور اِسلام کی تبلیغ و اشاعت میں صوفیا کرام کا کردار و خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ قیام پاکستان کا خواب بھی ایک صوفی ہی کا الہام تھا جو حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کو اپنا پیرو مرشد تسلیم کرتے تھے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ نے لکھا ”پیر رومی خاک را اکسیر کرد .... اَز غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد (ترجمہ) رومی کے نام سے مشہور پیر و مرشد نے مجھے مٹی (خاک) سے سونا (اکسیر) بنادیا۔ (میں قابل ذکر نہیں تھا لیکن اُن کی نظر عنایت کے سبب) میری ذات سے کئی جلوؤں کی تعمیر ہوئی (یعنی میرا کلام و پیغام لافانی ہو گیا۔)“ عرف عام میں ’پیری مریدی‘ کہلانے والے تصوف کا یہ تعلق حضوری بھی ہوتا ہے اُور غائبانہ بھی۔

 علامہ اقبالؒ المعروف اقبال ِلاہوری کی پیدائش 9 نومبر 1877ءسیالکوٹ میں ہوئی جبکہ آپ کا وصال 21 اپریل 1938ءلاہور میں ہوا جبکہ مولانا جلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 30 ستمبر 1207ءبلخ (افغانستان) میں ہوئی اُور وہ 17 دسمبر 1273ءکے روز دنیا سے پردہ فرمانے کے اگلے دن (اٹھارہ دسمبر) قونیہ (ترکیہ) میں آسودہخاک کئے گئے۔ مولانا رومیؒ کا ایک لقب ’مولوی‘ بھی تھا جو آپؒ کی حکیمانہ تعلیمات اُور فکر کی بے مثال گہرائی کے سبب عام ہوا۔ حوض کے کنارے بیٹھے تصنیف و تالیف میں مصروف تھے کہ ایک درویش پاس آیا اُور سوال کیا کہ کیا لکھ رہے ہو؟ مولانا رومیؒ نے جواب دیا .... ”یہ وہ علم ہے جو تم نہیں جانتے۔“ درویش نے آپؒ کے ہاتھ سے مسودہ لیا اُور اُسے تالاب میں پھینک دیا۔ مولانا رومیؒ پریشان ہوئے اُور کہا کہ یہ تو میری ساری زندگی کی محنت کا حاصل (کل سرمایہ) تھا۔ اِس پر درویش نے تالاب میں ہاتھ ڈالا اُور وہی مسودہ نکالا جو بالکل خشک حالت میں تھا۔ مولانا رومیؒ نے حیرت سے پوچھا ”یہ کیسے؟“ تو اُنہوں نے جواب دیا ”یہ وہ علم ہے جو تم نہیں جانتے۔“ اِس جواب سے مولانا رومیؒ سب کچھ چھوڑ کر درویش کے پیچھے ہو لئے۔ کہا مجھے تعلیم دیں۔ یہ درویش حضرت شمس تبریز رحمة اللہ علیہ (ولادت 1185 تبریز‘ ایران۔ وصال 1248ءکھوے‘ ایران) تھے جنہوں نے ایک دنیاوی طالب علم کو حقیقی علم یعنی معرفت ِالٰہی کا ’مولوی‘ بنا دیا۔ اپنے پیر و مرشد کے حکم پر بعدازاں مولانا رومیؒ نے ”مثنوی“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جو آج ”مثنوی مولانا روم‘ کے نام مشہور ہے۔ چھ جلدوں میں شائع 26 ہزار 660 اشعار پر مشتمل اِس فارسی کلام کے کم سے کم 26 زبانوں بشمول اُردو میں تراجم ہو چکے ہیں۔ مثنوی کو جس قدر شہرت اور مقبولیت حاصل ہے فارسی کی کسی دوسری کتاب کو آج تک نہیں ہوئی۔ آج بھی ایران میں 4 کتابیں (شاہ نامہ‘ گلستان‘ مثنوی روم اُور دیوان حافظ) مشہور ہیں اُور اِن میں مثنوی ہی سب زیادہ مقبول ہے جو علمی ادبی حلقوں کے علاو¿ہ عوام الناس اُور دیگر خواص میں یکساں مقبول ہے۔

پشاور کی سرتاج علمی‘ ادبی اُور روحانی شخصیت‘ غوث زماں‘ سیّد الفقرا‘ شیخ الحدیث و التفسیر‘ سیادت پناہ‘ سیّدی و مرشدی‘ سندی و آقائی قبلہ سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی علیہ رحمة الغفار بھی مولانا رومیؒ کے لقب ’مولوی‘ ہی سے مشہور ہوئے اُور آپ کا یہ اسم تعارفی ”مولوی جیؒ“ آج بھی اہل پشاور کی زبان پر ہے جو پشاور کا مستند حوالہ اُور تاریخ پشاور کا اہم باب ہے۔ مولوی جیؒ ایسی حکیمانہ شخصیت تھے جنہوں نے صرف تصوف اُور روحانیت ہی نہیں بلکہ قیادت و سیادت کے شعبوں میں بھی اہل پشاور کی ہاتھ پکڑ پکڑ کر رہنمائی کی اُور اُنہیں (بقول علامہ اقبالؒ) خاک سے اکسیر بنا دیا۔ آج (13 رمضان المبارک 1444 ہجری بمطابق 4 اپریل 2023ء) ”پشاور کے اِنہی ہردلعزیز مولوی جی علیہ الرحمہ“ کا ’19 واں عرس مبارک‘ عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے اُور اِس سلسلے میں کوچہ آقا پیر جان‘ اندرون یکہ توت شریف ’آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ امیریہ‘ میں ختم قرآن پاک‘ محافل درود و سلام‘ ختم غوثیہ اُور دیگر اوراد کا آغاز حسب سابق یکم رمضان المبارک سے کر جاری ہے جو امیرالمومنین حضرت علی ابن ابیطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہادت (شب ضربت اُنیس رمضان المبارک سے روز شہادت اکیس رمضان المبارک اُور شب قدر تیئس رمضان المبارک) تک جاری رہے گا۔ عرس مبارک کی اِن تقریبات میں ملک بھر اُور بالخصوص پشاور کے کونے کونے سے مرید اُور عقیدت مند بصد احترام شریک ہیں اُور پیر و مرشد سے اپنی اپنی محبت و عقیدت (ذوق و بیداری  قلب) کے مطابق روحانی فیوض و برکات حاصل کر رہے ہیں۔ سجادہ نشین نور السادات‘ سیّد نور الحسنین قادری گیلانی (سلطان آغا) حفظہ اللہ ”حنفی حسینی عقائد“ کے تحفظ کے لئے کوششیں بھی اپنی جگہ اہم ہیں جو اِن دنوں ایک روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے جسمانی طور پر علیل ہیں (بقول غالب: رگ بستر کو ملی شوخی مژگاں مجھ سے۔) دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سلطان آغا کو صحت ِکاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔

اہل پشاور ’مولوی جیؒ‘ کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ اِن میں اکثریت اُن کی ہے جنہوں نے راقم الحروف کی طرح آپؒ کے دست حق پرست پر بیعت ہونے کا شرف حاصل کیا اُور یہ مولوی جیؒ ہی کی نظر عنایت تھی کہ آج بھی سینکڑوں ہزاروں دلوں میں ’لا الہ الا اللہ‘ کا ورد جاری و پختہ ہے اُور مذکورہ ’آستانہ¿ عالیہ‘ سے ذکر و اذکار کی صدائیں پشاور کے بزرگان دین سے تاریخی روحانی تعلق کا اظہار بطور سند و ثبوت کر رہی ہیں۔ مسند ِغوثیت کے وراث‘ در علم (کرم اللہ وجہہ الکریم) اُور شہر علم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وابستہ نور السادات ’سلطان آغا حفظہ اللہ‘ حضور غوث الثقلین‘ قطب ربانی غوث الصمدانی‘ محبوب ربانی سیّد محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز سے حاصل رشد و ہدایت کو پھیلا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اِس آستانے اُور اِس گھرانے سے پھیلنے اُور پھوٹنے والی انوار و تجلیات بصورت وعظ و ارشادات اُور عبادات کے سلسلے تاقیامت دراز (قائم و دائم) رکھے۔ تصوف کے بارے میں اکثر یہ بنیادی سوال پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیوں ضروری ہے؟ مختصراً سمجھنے کے لئے تقدیر کی 2 اقسام ”تقدیر معلق“ اُور ”تقدیرمُبرم“ پر غور کرنا ہوگا‘ جن سے متعلق مشہور روایات بشمول نصِ قرآنی سے ثابت ہے کہ ”معلق تقدیر دعا اُور صدقات سے ٹل (بدل) جاتی ہے“ لیکن ”تقدیر مُبرم“ کا بدلنا امر ِمحال ہے کیونکہ یہ لوحِ محفوظ پر لکھی ہوتی ہے اُور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خاص عنایت (خصوصیت و مقام) خاندان ِغوثیہ کو حاصل ہے کہ حضور ِغوثیت مآب کے اِس خانوادہ عالیشان کی دعاؤں سے ”تقدیر مُبرم“ بھی بدلتے ہوئے دیکھی گئی ہے۔ اُولیائے کرام کی یہ خصوصیت صرف اُور فقط سلسلہ قادریہ میں نسل در نسل منتقل ہونے والی ولایت کا طرہ امتیاز بھی ہے جو ایک الگ موضوع ہے اُور کسی دوسرے مرحلہ  فکر پر بیان کیا جائے گا۔ خالق و مالک ِعظیم شان سبحانہ فرماتے ہیں کہ ”میں سزاُور جزا کامالک ہوں‘ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہوں‘ سب کچھ تبدیل کرنا اور قائم رکھنا میرے ارادہ کُن (اختیار) میں ہے۔“ ملاحظہ کریں قرآن کریم کی 13ویں سورہ مبارکہ (الرعد) کی 39ویں آیت کریمہ‘ جس کے تحت ارشاد باری تعالیٰ ”يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ کا ظاہری لفظی ترجمہ اِس کے اَن گنت مفاہیم کا مجموعہ ہے کہ ”اللہ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اُور (جو چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے اُور اُسی کے پاس اصل کتاب (لوح ِمحفوظ) ہے۔“ نگاہ مرشد کامل سے عشق ِمصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حاصل .... خدا کا قرب دیتی ہے محبت پیر خانے کی۔

....


Wednesday, February 8, 2023

Mind what you eat

 تحریک .... آل یاسین

متوازن غذا : قومی عادات

’باچا خان چوک (پشاور)‘ سے متصل مرغی مارکیٹ میں 100 سے زائد دکانوں سے ہوٹلوں اُور شادی بیاہ کی تقاریب کے لئے ذبح شدہ مرغیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ شادی ہالز اُور ہوٹلز (مستقل گاہگوں) کی جانب سے فون پر آرڈر لکھوانے کے بعد اُنہیں صاف ستھری مرغی مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر فراہم کی جاتی ہے جسے اپنے منافع کے ساتھ مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جاتا ہے لیکن اِس کاروباری بندوبست کا ”تاریک پہلو“ یہ ہے کہ راشننگ کنٹرولرز کی ایک کاروائی (چھاپے کے نتیجے میں) شادی ہالز اُور ہوٹلوں (کھانے پینے کے عمومی مقامات) کو ”مردہ مرغیاں“ فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ مردہ مرغی کا گوشت کھانا حرام ہے۔ شرعی طور پر ”ذبح شدہ“ برائلر مرغی کاکھاناحلال ہے محض قیاس آرائی کی بنا پر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیاجاسکتا لیکن چونکہ مردہ مرغیاں فروخت کرنے کے منظم دھندے کا انکشاف ہو چکا ہے اُور بڑی مقدار میں ایسی مردار مرغیاں برآمد بھی کی گئیں ہیں اِس لئے شرعی طور پر احتیاط اِسی میں ہے کہ صرف اُسی برائلر یا دیسی مرغی کا گوشت استعمال کیا جائے جسے اپنے سامنے حلال کیا گیا ہو نیز شرعی نکتہ نظر سے مرغی کی خوراک (فیڈ) میں اگر خالص حرام اجزا یا ایسی کوئی چیز شامل کی گئی ہو جس کی وجہ سے حرام مواد خوراک کے باقی حصے پر غالب آ جائے تو ایسی مرغیوں کو کھلانا بھی حرام ہوگا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ انسان شرعی اَحکام کا مکلف ہے اُور شریعت میں کسی بھی جاندار کو حرام غذا دینا اُور اِس کے بعد اُس کے حرام ہونے میں شک و شبہ نہیں رہتا۔ ایک شرعی نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر کسی مرغی کو حرام چیزیں کھلائی گئیں ہوں لیکن اگر اُس کے گوشت سے بو نہ آتی ہو تو ایسا گوشت کھانا جائز ہے۔ دیسی مرغیاں بھی کیڑے مکوڑے کھاکر پلتی بڑھتی ہیں۔ بہرحال کسی حلال جانور کا کم مقدار میں حرام یا ناپاک چیز کھا لینا اس کے حرام ہونے کے لئے کافی جواز نہیں ہے ہاں اگر اس جانور میں ناپاک یا حرام چیز کی بو پیدا ہوجائے‘ یہ بو کھانے پر حاوی اُور کھانے کے دوران محسوس ہو تو اُس وقت حلال جانور کا کھانا بھی ممنوع ہو جاتا ہے۔ فارمی مرغی میں ہارمونز کی مقدار کا زیادہ ہونا ایک طبی مسئلہ ہے‘ جس پر اطبا (ماہرین صحت) کو قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے کیونکہ خوراک کے حلال و حرام اُور مضرصحت ہونے سے متعلق یہ معاملہ (منظرنامہ) انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے اُور اِس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

پاکستان کی معروف فلم و ڈرامہ ایکٹر اُور یوٹیوبر ’عائشہ عمر‘ کی شناخت ’بلبلے‘ نامی مزاحیہ (سٹ کام) ڈرامہ ہے جو سال 2009ءسے اندرون و بیرون ملک دیکھا اُور پسند کیا جا رہا ہے۔ اکتالیس سالہ عائشہ عمر فن اَداکاری اُور گلوکاری میں کئی ملکی و بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ ’صحت مند خوراک‘ کے حوالے سے ’قومی عادات‘ تبدیل کریں۔ متوازن غذا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عائشہ عمر نے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ (ayesha.m.omar) سے جاری پیغام میں اپنی خوبصورتی اُور جاذب نظر ہونے کا راز بتایا ہے اُور کہا ہے کہ ”میں گھاس پھوس (کچھ بھی) نہیں کھاتی بلکہ اپنے کھانے پینے کی اشیا کا سوچ سمجھ کر انتخاب کرتی ہوں۔ باقاعدگی سے ورزش کرنا فعال زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے جس کے لئے جسمانی ضرورت اُور موسم کے مطابق ’متوازن غذا‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے اگر کوئی بھی شخص (مرد یا عورت) چاہتا ہے کہ وہ ایک مطمئن زندگی بسر کرے تو اُسے اپنے کپڑوں‘ آسائش یا دیگر نمودونمائش پر حد سے زیادہ خرچ کرنے کی بجائے اچھے کھانے پینے پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ صرف زندہ رہنے ہی کے لئے بلکہ صحت مند رہنے کے نکتہ نظر سے بھی خوراک کا انتخاب ہونا چاہئے۔ یہ انتہائی افسوسناک اُور بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے پاس پاکستان میں بہت کم ایسی کھانے پینے کی جگہیں ہیں جہاں صاف‘ غیر پروسیسڈ‘ کیمیائی مادوں‘ مصنوعی ذائقوں‘ یا ہارمونز جیسے زہریلے مواد سے پاک کھانا پیش کیا جاتا ہو۔ مقامی پیداوار‘ اجزااُور قدرتی طور پر تیار ہونے والی خوراک کے مقابلے عموماً ایسے مصنوعی خوردنی اجزاکا انتخاب کیا جاتا ہے جو زیادہ تر کم قیمت ہوتی ہیں۔ صحت مند رہنے کے لئے اچھی خوراک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے میں جلد ہی ایک تصور کو عملی جامہ پہناؤں گی جس پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اِس منصوبے کے تحت کھانے میں سمندری غذا‘ چکن (جو کہ نامیاتی ہو) اور بنا چربی گوشت کے ساتھ وافر مقدار میں سبزی‘ خشک میوہ جات‘ بیج‘ بیریز اور پھل شامل کئے جائیں گے اُور ریفائنڈ شوگر‘ گلوٹین یا کیمیائی مادوں سے بھرپور دودھ یا دودھ سے بنی ہوئی مصنوعات کا زیادہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ضرورت سے زیادہ پکے ہوئے اور ڈیف جنک فوڈ سے دور رہنے کی کوشش کی جائے گی جو کہ تازہ اور صاف کھانے کی کوشش ہے۔ کھانے کے لئے بہترین تیل ناریل یا دیسی گھی کی صورت استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔ کسی شخص (مرد یا عورت) کے لئے ضروری ہے کہ وہ کھانے کے اچھے و اعلیٰ معیار‘ نامیاتی (قدرتی) وٹامنز پر اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ خرچ کرے۔ سفر اُور کھانا انسان کی زندگی میں مقصدیت کو بھر دیتے ہیں۔ مہنگے جوتے‘ بیگز یا زیورات اور ملبوسات کی بجائے ہمیں اپنے کھانے پینے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔“ عائشہ عمر کراچی میں رہتی ہیں اُور چونکہ فن ِاداکاری کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں اِس لئے اُنہیں معیاری کھانے پینے کے کاروبار میں سرمایہ کاری سے فوری فائدہ حاصل ہونے کی اُمید ہے لیکن لاہور میں پیدا ہونے والی عائشہ عمر کراچی میں مستقل مقیم ہیں اُور اُن کی خدمات بھی کراچی یا لاہور والوں ہی کو میسر آئیں گے جو پاکستان کے ثقافتی مراکز بھی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض بالخصوص پشاور میں رہنے والوں کو بھی اپنے کھانے پینے کے معمولات پر نظرثانی کرنی چاہئے کیونکہ جو کچھ اُنہیں میسر ہے اُس میں خالص ہونا تو دور کی بات حلال ہونا بھی یقینی نہیں ہے اُور آئے روز مردہ جانور اُور زہر آلودہ دودھ تلف کرنے سے متعلق ’محکمہ خوراک (فوڈ اتھارٹی)‘ کی کارکردگی خبروں کی زینت بنتی ہے لیکن مجال ہے کہ سڑک کنارے تکہ بوٹی اُور کباب فروخت کرنے والوں کے گاہگوں میں کمی آئے۔ شام سے رات گئے تک پشاور کے مختلف حصوں میں قائم ہونے والی ’فوڈ سٹریٹس‘ میں کھانے پینے کا معیار کوئی بھی دیکھنے (پرکھنے‘ جانچنے) والا نہیں کیونکہ سرراہ یہ دکانیں دن کے اختتام پر‘ اُس وقت قائم ہوتی ہیں جب سرکاری دفاتر کے اوقات کار ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں جبکہ عمومی امراض بھی پیچیدہ شکل اختیار کر گئے ہیں اُور کھانے پینے کی اشیا‘ اجناس و سہولیات کی اکثریت معیاری بھی نہیں رہے تو پہلی ضرورت یہی ہے کہ گھر سے باہر کھانے پینے سے حتی الوسع گریز کیا جائے اُور مردہ مرغیوں کی شادی ہالز کو فراہمی کے منظم دھندے کا پردہ فاش ہونے کے بعد ضروری (لازم) ہو گیا ہے کہ احتیاط کرتے ہوئے شادی بیاہ کی تقاریب (جن کا انعقاد غیرضروری طور پر شادی ہالز میں ہونا رواج پا گیا ہے) کے دوران بنا گوشت کھانوں ہی کا انتخاب کیا جائے۔

....


Wednesday, February 1, 2023

Peshawar Bleeding: New wave of terrorism

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

دہشت گردی‘ نئی لہر : پشاور لہو لہو

پہلا تجزیہ: خیبرپختونخوا پولیس کے صوبائی مرکز (پولیس لائنز) پر دہشت گرد حملہ اِس لحاظ سے خطرناک ترین ہے کہ اِس میں حملہ آور پولیس کے حفاظتی حصار کو ناکام بنانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں اُور مستقبل میں اِس قسم کے حملوں کو روکنے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے لئے خفیہ معلومات پر مبنی کاروائیوں کو زیادہ اہمیت ملنی چاہئے۔ دوسرا تجزیہ: پاکستان کے طول و عرض میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے بیرون ملک تیار ہوتے ہیں لہٰذا سرحدی سیکورٹی نقل و حرکت سخت کرنے کے علاؤہ جب تک ہمسایہ ممالک پاکستان کی داخلی سلامتی کے درپے رہیں گے اُس وقت تک پائیدار قیام امن ممکن نہیں ہوگا۔ تیسرا تجزیہ: خیبرپختونخوا (فرنٹ لائن صوبے) میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے زیادہ مالی و افرادی وسائل بشمول تربیت اُور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ چوتھا تجزیہ: پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر کے مقابلے پشاور کی معیشت و معاشرت دہشت گردی سے نسبتاً زیادہ متاثر ہے اِس لئے پشاور کے لئے ’سیف سٹی پراجیکٹ‘ کی ترجیحی بنیادوں پر (جلد) تکمیل سمیت معاشی بحالی کے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان ہونا چاہئے۔ پانچواں تجزیہ: دہشت گردی بنا مقامی سہولت کاری ممکن نہیں ہوتی۔ گیارہ جون دوہزار اکیس سے صوبائی پولیس سربراہ (انسپکٹر جنرل پولیس) معظم جاہ انصاری کے بقول تفتیش کار اِس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ پولیس لائنز حملے کا مرکزی کردار (خودکش حملہ آور) پہلے ہی سے پولیس لائنز میں مقیم تھا۔ چھٹا تجزیہ: پولیس لائنز حملے کے بعد سے دہشت گردوں کی منصوبہ بندی عیاں ہو چکی ہے جو اِس مرتبہ اہم سرکاری تنصیبات اُور دفاتر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اِس امکان کے پیش نظر پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے جملہ سرکاری دفاتر کے حفاظتی اِنتظامات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ساتواں تجزیہ: پولیس لائنز حملے کے بعد ’ریسکیو‘ ادارے کی جانب سے امدادی کاروائیاں ’حواص باختگی‘ کا شکار دکھائی دیں جبکہ یہ ادارہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ ریسکیو کی کارکردگی کا جائزہ اُور تربیت و تیاری سے متعلق امور کا جائزہ (نظرثانی ضروری ہے۔ آٹھواں تجزیہ: خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ پولیس لائنز حملے سے چند گز کے فاصلے پر اپنے دفتر میں موجود تھے لیکن اُنہیں دھماکے کی جگہ تک پہنچنے میں 100 منٹ سے زائد کا عرصہ لگا اُور اُنہوں نے اپنے دفتر اُور موقع پر موجود صحافیوں (ذرائع ابلاغ کے نمائندوں) سے بار بار کی درخواست کے باوجود بھی بات چیت بھی نہیں۔ خودکش حملے کے حقائق کمشنر پشاور کی جانب سے پہلے‘ پشاور پولیس کے سربراہ (سی سی پی اُو) اُور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ’پبلک ریلیشنز‘ کی جانب سے بعدازاں (بالترتیب) گھنٹوں بعد جاری کئے گئے جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کیونکہ جملہ اعدادوشمار میں فرق تھا۔ کسی ہنگامی صورتحال میں جبکہ پورا ملک اُور بالخصوص پولیس لائنز میں تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ حقائق جاننے کے لئے بے چین تھا لیکن شہدا،اُور زخمیوں کے ناموں کی تفصیلات منظرعام پر آنے میں کئی گھنٹے لگے جبکہ پولیس کی موبائل فون ایپس اُور سوشل میڈیا (فیس بک‘ ٹوئیٹر وغیرہ) کے ذریعے حقائق و محرکات کی وضاحت ممکن تھی۔ نواں تجزیہ: سرکاری دفاتر کے کام کاج ’آن لائن‘ سرانجام دینے کے لئے اِنفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا چاہئے تاکہ سرکاری دفاتر سے رجوع کرنے والوں میں کمی لائے اُور صارفین کو سہولیات و خدمات کی آن لائن فراہمی ہو سکے۔ اِس سلسلے میں بھارت کے کئی شہروں بالخصوص نئی دہلی میں سرکاری دفاتر کی تعداد کم کرنے اُور دفاتر کی خدمات آن لائن فراہم کرنے کے تجربے اُور اُس کے نتائج کا مطالعہ کیا جانا چاہئے۔

دہشت گردی کی حالیہ ”نئی لہر“ کے دوران رونما ہونے والے پے در پے واقعات (ٹائم لائن) سے پتہ چلتا ہے کہ عسکریت پسند گروہ دوہزاربائیس کے ماہ نومبر سے فعال ہے جب اِس نے ماہ جون میں حکومت کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں تقریبا ایک درجن سنگین دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں صرف کم از کم 27 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ تیس جنوری کے روز پولیس لائنز پر حملہ گزشتہ تین ماہ میں ہوئے سبھی حملوں سے الگ اُور زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔ ملک بھر میں مسلح افواج کے ساتھ ساتھ سویلین اہداف پر لگاتار دہشت گردانہ حملے پریشان کن ہیں۔ خاص طور پر اس حقیقت کے پیش نظر کہ ضرب عضب اور ردالفساد جیسی فوجی کاروائیوں کے ذریعے دہشت گرد عناصر کو ان کی محفوظ پناہ گاہوں سے تقریبا ختم کر دیا گیا تھا لیکن دہشت گردی کے خلاف عزم تو برقرار رہا لیکن اِس کے انسداد کی کوششوں میں کمی اُور افغانستان کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے نتیجتاً شمال مغربی اور جنوب مغربی سرحدوں پر پاکستان دشمن تاک لگائے بیٹھے نظر آتے ہیں اُور موقع ملتے ہیں انتہائی بیدردی و بے رحمی سے وار کرتے ہیں۔ افغانستان حکومت کی سرپرستی میں مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کی کوشش بھی تاحال یا خاطرخواہ کامیاب نہیں ہو سکی ہے اُور یقینا اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان مخالف جہاں کہیں بھی ہوں اُور چاہے سرحد پار ہی کیوں نہ ہوں‘ اُن کے خلاف کاروائی کی جائے۔ اِس سے پہلے انسداد دہشت گردی سے متعلق ’قومی اتفاق رائے‘ کی تجدید ہونی چاہئے جیسا کہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) حملے کے بعد ہوا تھا اور پھر ملک سے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے تک ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ کاروائی کی گئی تھی۔

پاکستان کی انسداد دہشت گرد حکمت عملی میں موجود لچک اُور مصلحتوں یا الجھنوں کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر طے کرنا ہوگا کہ عسکریت پسند کبھی بھی اچھا یا بُرا نہیں ہوتا بلکہ عسکریت پسندی ہمیشہ ہی سے ’امن دشمن‘ ہوتی ہے اُور اِس نکتہ نظر سے شہروں کو اسلحے سے پاک کرنے کے لئے خصوصی مہمات کا آغاز ہونا چاہئے۔ ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ اگر ہم افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کو خوش کرنے کو ضروری سمجھیں گے تو دہشت گرد حملوں کی صورت ناقابل تلافی جانی و مالی نقصانات اُٹھاتے رہیں گے۔ وقت ہے کہ ملک کے تمام طبقوں بالخصوص سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کو مل بیٹھ کر دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے مشترکہ منصوبہ (لائحہ عمل) تیار کریں تاکہ پاکستان کو مزید تباہی اور اموات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلاشک و شبہ قومی سلامتی خطرات و بحران سے دوچار ہے اُور اگر اِس نازک مرحلے پر ریاست کو سلامتی کے حوالے سے ’قومی پالیسی‘ کی ضرورت ہے جو وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ طور پر نافذ کی جائے اُور یہ پالیسی صرف سیکورٹی اداروں ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ اِس کی ملکیت ہر پاکستانی فرد تک ہونی چاہئے۔ وقت ہے کہ حوصلہ مند قومی قیادت‘ جرات مندانہ اور مشکل فیصلوں پر عمل درآمد کرے اُور اُس غیر یقینی کی صورتحال کا خاتمہ کیا جائے جو تکلیف دہ حقیقتوں (خوف‘ دہشت‘ تباہی و بربادی کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات) کی صورت ظاہر ہو رہی ہے۔


Saturday, January 28, 2023

Motorways: the unsafe journey experiences.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

موٹرویز : سہولیات و حفاظت کا معیار

پاکستان میں موٹروے سال 1997ءمیں متعارف ہوئی‘ جس کے بعد سے اِس کی توسیع جاری ہے۔ فی الوقت کثیر رویہ ’موٹرویز (شاہراہیں)‘ 2 ہزار 816 کلومیٹر طویل ہیں جبکہ 1 ہزار 213 کلومیٹر توسیعی منصوبے زیرغور یا زیرتعمیر ہیں۔ یہی موٹروے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا بھی حصہ ہے جو چین کی سرحد (درہ خنجراب) سے شروع ہو کر گوادر (بندرگاہ) تک تجارتی راہداری ہے۔ پاکستان میں کل 16موٹرویز کا خاکہ تیار کیا گیا جن میں سے 11 کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اِنہیں فعال کر دیا گیا ہے۔ موٹروے کے ہر حصے (سیکشن) کو انگریزی زبان کے حرف ’ایم (M)‘ سے شناخت کیا جاتا ہے جبکہ ’ایم‘ کے ساتھ کسی عدد (نمبر) کا اضافہ اُس کی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ پشاور سے اسلام آباد (155 کلومیٹر) طویل موٹروے کو ’ایم ون (M-1)‘ کہا جاتا ہے اُور یہ سال 2007ءسے فعال ہے۔

موٹروے کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ’ہائی وے سیفٹی ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ‘ کو دیکھا جاتا ہے جو کسی بھی شاہراہ یا موٹر وے کا سب سے اہم پہلو ہوتا ہے کیونکہ اگر بناوٹ میں نقص نہ ہو تو ٹریفک حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بنا رکاوٹ اُور تیزرفتار سفر کے لئے موٹرویز کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے لیکن ’ہائی ویز‘ کو درپیش ’سیفٹی چیلنجز‘ خاطرخواہ توجہ سے حل نہیں کئے گئے۔ اِس منظرنامے سے متعلق یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ موٹروےز کے ساتھ حفاظتی امور سے جڑے مسائل (سیفٹی چیلنجز) کی ایک نئی جہت سامنے آئی ہے۔ موٹرویز کے سیفٹی مینجمنٹ کا تقاضا یہ ہے کہ حرکت کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے حفاظتی مسائل کو زیادہ محتاط طریقے سے حل کیا جائے۔ موٹروے ہو یا کوئی عمومی شاہراہ‘ جن مقامات پر عموماً ٹریفک حادثات ہوتے ہیں‘ اُنہیں ”حادثاتی بلیک سپاٹس“ کہا جاتا ہے۔ یہ ’بلیک سپاٹس‘ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے تخلیق پاتے ہیں جبکہ اِن کے دیگر محرکات (وجوہات) میں ڈرائیونگ میں مہارت کی کمی‘ ٹریفک قواعد سے متعلق خواندگی کی کمی‘ تیزرفتاری اُور بے صبری کا عمومی قومی رجحان‘ ٹریفک سائن بورڈز کی کمی‘ جیومیٹرک ڈیزائن کے مسائل اور پیدل چلنے والوں یا موٹرویز کے اردگرد کھیتوں سے مال مویشوں اُور جانوروں کا موٹرویز عبور کرنا جو اِس کے نامناسب ڈیزائن کا عکاس ہے چند ایسے پہلو ہیں‘ جنہیں خاطرخواہ توجہ حاصل نہیں اُور اگرچہ صارفین اِن کے بارے میں متعلقہ شعبوں کو شکایات درج کرواتے بھی ہیں لیکن غلطیوں کی اصلاح بہت ہی کم دیکھنے میں آتی ہے اُور پُرخطر موٹرویز پر سفری سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے۔ انسانی جان کی اہمیت کا احساس فیصلہ سازی کی جس سطح پر ہونا چاہئے وہ دیکھنے میں نہیں آ رہا اُور یہی وجہ ہے کہ ایسے عوامل موجود ہیں جو آئے روز موٹرویز پر ہونے والے حادثات یا حادثات سے بال بال بچنے میں براہ راست یا بالواسطہ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اِن عوامل میں موسمیاتی تبدیلیاں اُور ماحولیاتی اثرات جیسا کہ دھند‘ سموگ وغیرہ کا بھی کافی عمل دخل ہے۔ اب تک کے موٹرویز تجربے یعنی عمومی مشاہدے اُور تجزئیات کو یکجا کیا جائے تو معلوم ہوتا کہ موٹرویز پر حادثات کی بڑی وجہ لاپرواہی سے گاڑی چلانا (2 فیصد)‘ تیز رفتاری (25 فیصد)‘ ٹائر پھٹنے سے حادثات (23فیصد)‘ بریک فیل ہونا (18فیصد) اور موٹرویز کو پیدل عبور کرنے کی کوشش میں (9فیصد) حادثات ہوئے ہیں۔ یہ اعدادوشمار سالہا سال سے کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں جبکہ ضرورت یہ ہے کہ موٹروے سے استفادہ کرنے والے مسافروں کی آرا بھی اِس میں شامل ہونی چاہئے کہ خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والے موٹرویز کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اُور اُن کا سفری تجربہ کیسا رہا یا بار بار سفر کرنے میں اُنہیں کون کون سے ایک جیسے مسائل و مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے یا مسائل و مشکلات اُن کی نظروں سے گزرتے ہیں؟ موٹرویز قومی اثاثہ ہیں جنہیں بہتر سے بہتر بنانے کے ساتھ اِن کے انتظامی امور (مینجمنٹ) میں وقت کے ساتھ اصلاحات ضروری ہیں تاکہ مسافروں کو معیاری سہولیات میسر آئیں۔ اُنہیں اپنی حفاظت کا احساس ہو۔ اِس مقصد کے لئے رہنمائی کا مناسب ”ٹریفک گائیڈنس اینڈ کنٹرول سسٹم“ ہونا چاہئے تاکہ گاڑیوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ جن دیہی یا شہری علاقوں کے آس پاس سے موٹرویز گزرتی ہے وہاں کے رہنے والے کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے موٹروے پیدل عبور کرنے جیسا خطرہ مول لیتے ہیں جبکہ ایسے خطرات کو انڈر پاسیز بنا کر کم یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں بالخصوص پبلک ٹرانسپورٹ کو حد رفتار کا لحاظ پاس رکھنے کے لئے اُن کی رفتار ایک ٹول پلازے سے دوسرے ٹول پلازے تک دیکھی جانی چاہئے اُور پبلک ٹرانسپورٹ کے جو ڈرائیور تیزرفتار یا گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کریں اُنہیں سخت جرمانے ہونے چاہیئں۔ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی روک تھام ’ٹائر چیکنگ گیج‘ اُور بریک فیل ہونے کی صورت حادثے سے بچنے کی تربیت کے لئے ذرائع ابلاغ (پرنٹ‘ الیکٹرانک میڈیا اُور سوشل میڈیا) کے ذریعے آگاہی مہمات چلائی جانی چاہیئں۔ شاہراؤں پر سفر محفوظ اُور قابل محظوظ بنانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

موٹرویز اُور گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ سے سفر کرنے میں دو بنیادی فرق ہیں۔ سب سے پہلا اُور نمایاں اُور انتہائی اہم فرق یہ ہے کہ موٹرویز پر ’جی ٹی روڈ‘ کے مقابلے فی گاڑی زیادہ ’ٹول ٹیکس‘ وصول کیا جاتا ہے۔ دوسرا فرق موٹرویز پر بنائے گئے قیام و طعام کے مقامات (ریسٹ ایریاز) میں خدمات کی قیمت نسبتاً زیادہ وصول کی جاتی ہے جبکہ تیسری عمومی شکایت قیام و طعام کے مقامات (ریسٹ ایریاز) میں بنائے گئے ’عوامی واش رومز‘ کی خراب حالت اُور صفائی کا انتہائی ناقص انتظام سے متعلق ہے۔ موٹرویز کو پیدل عبور کرنے کی کوشش عمومی حادثات کا باعث بنتی ہے جس میں انسانوں یا جانوروں کو بچانے کی کوشش میں جانی و مالی نقصانات معمول کی بات ہیں۔ ایسی کسی ہنگامی صورت میں اگر موٹرویز کے متعلقہ شعبے کو بذریعہ ”ہیلپ لائن فون نمبر 130“ اطلاع دی جائے تو یہ بات یقینی نہیں ہوتی کہ فوری مدد پہنچے گی۔ اگر ہنگامی حالات میں کی گئی کسی فون کال کو کئی منٹ تک انتظار کروانے کے بعد جواب دیا جائے تو اِس سے ’ہنگامی حالت (ایمرجنسی)‘ میں مدد کا تصور مجروح ہوتا ہے۔ موٹرویز پر سفر کا تجربہ مسافروں کے لئے کتنا شاندار اُور پُرخطر ہے اِس حوالے سے اگر تحقیق کی جائے تو موٹروے سے زیادہ محفوظ اُور ماحول دوست آمدورفت کا تصور تیز رفتار ریل گاڑی (بلٹ ٹرین) کا سامنے آئے گا جو کئی ہمسایہ ممالک میں انتہائی ترقی یافتہ اُور زیرزمین سرنگوں کی شکل میں فعال ملتا ہے۔

....


Sunday, January 1, 2023

Yearender Sports in 2022

 تحریک .... آل یاسین

کھیل کھلاڑی اُور کامیابیاں

کھیل کے میدان میں سال 2022ءکے دوران سمیٹی گئیں کامیابیوں پر نظر کی جائے تو سرفہرست کامیابی ’نوح دستگیر بٹ‘ کا وہ گولڈ میڈل تھا جو اُنہوں نے ”کامن ویلتھ گیمز“ کے دوران 405 کلوگرام وزن اُٹھا کر حاصل کیا۔ یہ اعزاز اِس لئے بھی اہم ہے کہ یہ پاکستان کے لئے پہلا طلائی تمغہ ہے۔ ویٹ لفٹنگ (وزن اُٹھانے میں) پاکستان کے کئی ویٹ لفٹرز نے نام کمایا ہے لیکن ’نوح دستگیر بٹ کا 405 کلوگرام وزن اٹھانا انتہائی غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ پاکستان کے لئے سال کی دوسری اہم و نمایاں کامیابی ارشد ندیم کا کامن ویلتھ گیمز میں ’جیولن تھرو ایونٹ‘ میں گولڈ میڈل جینا تھا۔ انہوں نے 90.18 میٹر دور جیولن پھینک کر سونے کا تمغہ اپنے نام کیا اُور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ارشد ندیم نے ایتھلیٹکس میں پاکستان کی جانب سے پہلا طلائی تمغہ جیت کر ایک تاریخ رقم کردی ہے جس پر یقینا پاکستان کے فیصلہ سازوں کی نظر ہوگی اُور آئندہ کامن ویلتھ گیمز (2026ئ) میں یکساں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیاریاں کی جائیں گی۔ پاکستان کے لئے تیسری کامیابی کا تعلق بھی کامن ویلتھ گیمز ہی سے ہے جس کے کشتی (پہلوانی) میں حصہ لینے والے پاکستانی پہلوانوں نے اپنی طاقت اور مہارت سے 4 تمغے جیتے۔ انعام‘ زمان انور اور شریف طاہر نے بالترتیب 86کلوگرام‘ 125کلوگرام اور 74کلوگرام کیٹیگریز میں چاندی کے تمغے جیتے جبکہ عنایت اللہ نے 65کلوگرام کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ کشتی (پہلوانی) میں پاکستانی کھلاڑی زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اُور یقینا یہ پہلو بھی کھیلوں سے متعلق قومی فیصلہ سازوں کے پیش نظر ہوگا۔ 

کرکٹ کی دنیا میں سال دوہزاربائیس کے دوران پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائی تو اِس پر پوری قوم مسرور تھی۔ آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئٹنی ورلڈ کپ (ٹورنامنٹ) میں پاکستان کی کارکردگی کرشماتی رہی جس کا جادو فائنل میں نہ چل سکا لیکن برطانیہ سے فائنل ہارنے کے باوجود پاکستان ٹیم نے اپنی محنت کے لئے داد وصول کی۔ یقینی طور پر اپنے مکمل اعتماد اُور جذبے کے ساتھ کھیل سے شائقین کرکٹ بے حد خوشی اُور محظوظ ہوئے۔

پاکستان کے لئے سال دوہزار بائیس کی پانچویں کامیابی ’احسن رمضان‘ کے نام رہی جنہوں نے سنوکر نامی کھیل میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ سولہ سالہ احسن رضا ’آئی بی ایس ایف ورلڈ سنوکر ٹائٹل‘ جیتنے والے کم عمر ترین پاکستانی بن گئے ہیں۔ انہوں نے تجربہ کار ایرانی کیوئسٹ عامر سرکوش کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کا چوتھا آئی بی ایس ایف ورلڈ سنوکر ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔ پاکستان کے لئے چھٹی کامیابی کا تعلق کرکٹ کے ایشیا کپ مقابلے سے ہے جس میں پاکستانی ٹیم فائنل تک پہنچی۔ یوں ٹیم گرین مینز ٹیم سپر فور راؤنڈ میں کامیابی کے بعد ایشیا کپ 2022ءکے فائنل میں پہنچی اُور اگرچہ فائنل میں سری لنکا سے مقابلہ ہار گئی لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کا فائنل تک پہنچنے کا سفر کافی متاثر کن رہا۔

 پاکستان کو ساتویں کامیابی شاہ حسین شاہ نے دلوائی جنہوں نے جوڈو میں میڈل جیتا۔ شاہ حسین شاہ حالیہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لئے تمغہ جیتنے والے پہلے کھلاڑی تھے جس کے بعد ایونٹ میں دیگر پاکستانی ایتھلیٹس نے کامیابیاں حاصل کیں۔ شاہ حسین شاہ نے جوڈو ایونٹ کے مردوں کے 90کلوگرام مقابلے میں جنوبی افریقہ کے تھامس لسزلو بریٹن باخ کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ آٹھویں نمبر پر ہنزہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ’باکسر‘ العلومی کریم رہے جنہوں نے ’بنٹم ویٹ مقابلے‘ میں انڈین مکسڈ مارشل آرٹس ٹائٹل حاصل کیا۔ دبئی میں دسویں میٹرکس فائٹ نائٹ (ایم ایف این) ایونٹ کے پہلے راؤنڈ میں بھارت کے دھرو چودھری کو ناک آؤٹ کرنے کے بعد العلومی کریم نے بینٹم ویٹ چیمپیئن شپ جیتی۔

 سال دوہزار بائیس کی نویں اُور سب سے زیادہ پڑھی‘ دیکھی اُور سنی جانے والی خبر کرکٹ کے میدان سے تھی جس میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے بھارت کو شکست دی۔ پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے سلہٹ میں جاری ویمنز ایشیا کپ میں روایتی حریف بھارت کو شکست دی۔ ندا ڈار کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت پاکستان ویمنز نے تیرہ رنز سے تاریخی فتح حاصل کی۔ سال دوہزاربائیس کی دسویں خوشخبری کا تعلق ماضی سے زیادہ مستقبل سے ہے۔

 پاکستان کی فٹ بال کا عالمی مرحلے میں واپس آنا انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ تقریبا تین سال بعد پاکستان کی مینز فٹ بال ٹیم بالآخر بین الاقوامی سرکٹ میں واپس آگئی ہے کیونکہ اس نے نیپال کے خلاف ایک دوستانہ میچ کھیلا اُور اگرچہ پاکستان وہ میچ نہیں جیت سکا لیکن اِس عالمی مقابلے کی بدولت پاکستان عالمی فٹ بال کی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اِسی طرح پاکستان کی خواتین فٹ بال ٹیم نے ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن (SAFF) مقابلوں کے ویمنز کپ میں مالدیپ کے خلاف سات صفر سے تاریخی فتح حاصل کی۔

....

Yearender Internet in 2022

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
سالنامہ: انٹرنیٹ و سوشل میڈیا
سال 2022ءکے دوران انٹرنیٹ اُور سماجی رابطہ کاری (سوشل میڈیا) کی دنیا میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سال دوہزاراکیس کی طرح دوہزاربائیس میں بھی سب سے زیادہ استفادہ ’گوگل (Google)‘ سے کیا گیا جبکہ سوشل میڈیا کی دنیا پر حکمرانی کرنے والی ٹوئیٹر (Twitter) کا زوال دیکھا گیا اُور ٹوئیٹر کی جگہ ’انسٹاگرام (Instagram)‘ نے لی۔ سال 2022ءکے دوران دنیا کی آبادی 8 ارب کے عندسے کو عبور کر گئی اُور اِس ایک سال کے عرصے میں دنیا بھر میں ’5 ارب‘ صارفین نے انٹرنیٹ سے استفادہ کیا۔ کلاو¿ڈ فلیئر (CloudFlare) نامی ادارے کی مرتب کردہ رپورٹ کے دیگر اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ سال 2022ءکے دوران انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافہ ہوا اُور یہ اعزاز عالمی تاریخ میں کسی بھی دوسری ایجاد کو حاصل نہیں کہ وہ سالانہ اِس قدر تیزی سے پذیرائی حاصل کرے۔
 اِنٹرنیٹ پر دنیا کے بڑھتے ہوئے انحصار کو دیکھتے ہوئے پیشنگوئی کی گئی ہے کہ آئندہ چند برس کے دوران انٹرنیٹ امور مملکت سے لیکر نجی زندگی کے معمولات تک ہر ضرورت پر حاوی ہوگا تاہم ٹیکنالوجی کے اِس اندھا دھند طوفان میں اخلاقی و ثقافتی اقدار کا مستقبل کیا ہو گا یہ بات اہل مغرب (ترقی یافتہ دنیا) کے لئے اہمیت نہیں رکھتی لیکن ایشیائی خطے بالخصوص جنوب مغربی ایشیائی ممالک اُور خلیجی (عرب) ممالک کے علاو¿ہ چین‘ جاپان اُور جنوبی و شمالی کوریا جیسے ممالک اپنی تاریخ و ثقافت اُور زبان کو بہت اہمیت دیتے ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ جہاں انٹرنیٹ صارفین مقامی و علاقائی زبانوں میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں وہیں انٹرنیٹ خواندگی کے سلسلے بھی پہلے سے کئی زیادہ دراز دکھائی دیتے ہیں۔ اِس پوری صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو چاہئے کہ وہ نئے عیسوی سال (دوہزارتیئس) کے دوران انٹرنیٹ سے متعلق خواندگی کو نصاب تعلیم کا حصہ بنائیں تاکہ انٹرنیٹ کے عمومی استعمال سے ”مصنوعی ذہانت“ اُور ’ڈیٹا سائنس“ جیسی وسعت پا لینے کے بعد اِس ٹیکنالوجی سے خاطرخواہ فائدہ اُٹھایا جا سکے۔

سال دوہزار بائیس کے دوران دنیا کی 10 مقبول ترین ویب سائٹس میں پہلے نمبر پر گوگل‘ دوسرے نمبر پر فیس بک جبکہ تیسرے اُور چوتھے نمبر پر 2 ویب سائٹس (ٹک ٹاک اُور ایپل) فائز ہیں۔ پانچویں سے نویں نمبر تک بالترتیب یوٹیوب‘ مائیکروسافٹ‘ ایمازون ویب‘ انسٹاگرام‘ ایماوزن جبکہ دسویں نمبر پر 4 ویب سائٹس (آئی کلاؤڈ‘ نیٹ فلیکس‘ ٹوئیٹر اُور یاہو) ایک ہی درجے پر مساوی فائز ہیں لیکن انٹرنیٹ کی مقبولیت اُور فعالیت سے متعلق اِن اعدادوشمار پر اندھا دھند یقین کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ عالمی سطح پر پہلے 10 نمبروں پر آنے والی ویب سائٹس میں اکثریت امریکی سرمایہ کاروں کی ہیں جبکہ اِن کی مقبولیت کے بارے میں سالانہ اعدادوشمار مرتب کرنے والی کمپنیاں بھی امریکی ہی ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا پر امریکہ جس حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے اُس کے صرف چین اُور روس ہی نہیں بلکہ جمہوری اسلامی ایران بھی شدید خطرے کے طور پر دیکھا اُور ذکر کیا جاتا ہے۔

ایران نے سال 2022ءکے دوران روس کو ڈرون طیارے فراہم کئے جو ایک کمزور انٹرنیٹ سیکورٹی رکھتے تھے لیکن وہ اِس لحاظ سے کامیاب رہے کہ دنیا نے پہلی مرتبہ ’خودکش ڈرون طیاروں‘ کو دیکھا۔ اِس سے قبل اسرائیل اُور امریکہ کے تحقیق کاروں نے اربوں ڈالر خرچ کر کے ایسے ڈرون طیارے بنائے جو ایک اُڑان میں کئی روز تک فضا میں رہ سکتے ہیں۔ جو زیادہ بم یعنی وزن اُٹھا کر لیجا سکتے ہیں اُور جن میں یہ پوشیدہ رہنے کی صلاحیت بھی ہے تاکہ دشمن کے ریڈار اُنہیں نہ دیکھ سکیں۔ ایران نے نہایت ہی کم وسائل سے ایسے ڈرون طیارے بنائے جو نچلی پرواز کرنے کی وجہ سے ریڈار کی شعاؤں کو دھوکہ دیتے ہیں اُور جنہیں کسی ایک مشن (حملے) پر صرف ایک ہی مرتبہ بھیجا جا سکتا ہے۔ روس یوکرائن جنگ نے صرف ایرانی ڈرونز ہی نہیں بلکہ روس‘ امریکہ اُور نیٹو تنظیم کے رکن ممالک کی بنائی ہوئی تباہ کن جنگی ٹیکنالوجی بھی ظاہر کی جس سے کرۂ ارض پر عالمی جوہری جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں! حقیقت یہی ہے کہ ٹیکنالوجی نے انسانوں کی زندگیوں میں سہولیات سے زیادہ مشکلات پیدا کی ہیں اُور سال 2023ءکے دوران اُمید کی جا سکتی ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسان دوست اُور ماحول دوست بنانے پر زیادہ سوچ بچار (تحقیق) اُور کام کیا جائے گا۔

اگر سال 2022ءکے دوران ’کرپٹوکرنسی‘ کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو قواعد و ضوابط (ریگولیشنز) کی کمی اور غیر مرکزیت کی وجہ سے کرپٹو کرنسیز کی دنیا خطرات سے دوچار رہی لیکن ہیکس (دھوکہ دہی اُور فریب) کے درمیان کرپٹو کرنسیز کا کاروبار چلتا رہا۔ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں دھوکہ دہی کے حوالے سے دنیا دو واضح حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک حصہ ہر دھوکے کے لئے چین کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے جبکہ دوسرا گروہ امریکی Hackers کی جانب اُنگلیاں اُٹھاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کی کھوج‘ بندوبست اُور تخلیق کے بارے معلومات (پروٹوکولز) سے آشنا اِس کی خامیوں کا فائدہ اُٹھانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سال 2022ءکے پہلے تین مہینوں میں کرپٹو کرنسی کی چوری کے واقعات زیادہ پیش آئے جن کا مجموعی حجم 1.3 ارب ڈالر کے مساوی تھا جبکہ سال دوہزاربائیس کے اختتام پر ’سائبر کرائمز‘ کے عادی مجرموں نے مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی پر اعتماد کرنے والوں کے 3 ارب ڈالر چوری کئے ہیں اُور ظاہر ہے کہ سال 2023ءکے دوران کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کے رجحان میں کمی دیکھنے میں آئے گی کیونکہ جہاں اِس قدر چوری اُور دھوکہ دہی کا خطرہ ہو‘ وہاں کوئی بھی ذی شعور سرمایہ کاری کرنا پسند نہیں کرے گا۔

سال دوہزاربائیس کے دوران انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں 23 فیصد اضافے پر خوش ہونے کی بجائے اِس بات کو بھی دیکھنا چاہئے کہ انٹرنیٹ‘ سوشل میڈیا اُور بالخصوص کرپٹوکرنسی کے صارفین کیا خود کو زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں؟ اگر نہیں تو دنیا کو ’عالمی انٹرنیٹ‘ کی بجائے ’ملکی سطح پر محدود انٹرنیٹ‘ کی ضرورت ہے جو آن لائن سرگرمیوں کے لئے زیادہ محفوظ‘ قابل بھروسہ اُور زیادہ کارآمد ثابت ہو‘ یہی وہ ضروریات تھیں جن کے لئے انٹرنیٹ کو ترقی دیتے ہوئے ’ویب تھری پوائنٹ زیرو‘ متعارف کرایا گیا لیکن شاید ابھی انٹرنیٹ کے وسائل اِی گورننس اُور اِی لائف سٹائل جیسی پُرکشش مراعات کی شکل میں مشکلات کا ’یقینی حل‘ پیش کرنے سے بہت دور ہیں۔ ....

Wednesday, September 14, 2022

Sham e Hamdard

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

خلاصہ حالات

’ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے زیراہتمام ہر ماہ ’شوریٰ ہمدرد (Thinker's Forum)‘ کا انعقاد باقاعدگی سے ہوتا ہے جس میں اظہار ِخیال کے لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مقررین کو مدعو کیا جاتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ و ثقافت اُور معیشت و معاشرت کو سمجھنے کی اِس ”سنجیدہ کوشش“ کو علمی ادبی حلقے ”اہم“ قرار دیتے ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ اِس جیسی کوئی دوسری ہم عصر کوشش پشاور میں دکھائی نہیں دیتی۔ شہید حکیم سعید کی زندگی میں ”ہمدرد شوریٰ“ اب ”شوریٰ ہمدرد“ کہلاتی ہے جبکہ اِس نشست کے دعوت ناموں سے لیکر محافل کی عمومی بول چال اُور خطبات پر انگریزی زبان کے الفاظ اُور ایسے موضوعات حاوی ہوتے محسوس ہو رہے ہیں جن کا پاکستان کو درپیش حالات (عصری مسائل) سے بہت کم تعلق ہوتا ہے یا اُن کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ مفکرین و ماہرین کی رہنمائی میں جاری زبانوں کی اِس کشمکش میں ہمدرد شوریٰ یا شوریٰ ہمدرد کا ”اصل مقصد“ فوت نہیں ہونا چاہئے۔ رواں ماہ (ستمبر دوہزاربائیس) کے لئے ’شوریٰ ہمدرد پشاور‘ کا موضوع ”ذمہ دارانہ صحافت اُور اخلاقی اقدار“ رکھا گیا جس کے لئے مقرر کا انتخاب بھی شعبۂ صحافت ہی سے کیا گیا لیکن اِس کے لئے ”ایوان ِصحافت“ کا انتخاب نہیں کیا گیا جو صرف اِس ایک موضوع ہی نہیں بلکہ دیگر سبھی موضوعات کے لئے علمی و فکری نشستوں کا زیادہ موزوں مقام ہے۔ نشان امتیاز و ستارۂ امتیاز‘ شہید حکیم سعید (1920ء- 1998ء) کی حیات میں ’ہمدرد شوریٰ‘ میں سیاسی اُور غیرسیاسی موضوعات کے سیاسی پہلوؤں پر بھی اظہار خیال کیا جاتا تھا جسے سننے والوں میں سیاسی فیصلہ ساز بھی شریک ہوتے تھے اُور سب سے بڑھ کر ’ہمدرد شوریٰ‘ کے لئے حالات ِحاضرہ کی مناسبت سے موضوع کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ ’ہمدرد شوریٰ‘ کی روایت کو جاری و ساری رکھنے والوں سے اُمید تھی کہ آئندہ چند ماہ تک ہر نشست میں ”سیلاب متاثرین کی بحالی و امداد‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات (انوائرمنٹل چیلنجز) اُور پاکستان میں آبی نظم و نسق“ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اُور مسلسل رہنمائی کرتے ہوئے صرف موضوعات ہی نہیں بلکہ اِن کے ذیلی موضوعات کا بھی احاطہ کیا جائے گا یعنی ”بال کی کھال“ اُتاری جائے گی کیونکہ پاکستان موسمیاتی اُور ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے اُور دنیا میں سب سے پہلے یہ تبدیلیاں پاکستان میں رونما ہو رہی ہیں۔ 

سماجی سطح پر یہ بحث بھی زیربحث آنی چاہئے کہ کیا سائنسی تحقیق اُس درجے تک کمال حاصل کر چکی ہے کہ اِس کے ذریعے انسان اپنی مرضی کے موسم تخلیق کر سکتا ہے؟ پاکستان میں حالیہ سیلاب اُور مون سون بارشوں کے بارے میں ایک رائے (تاثر) یہ بھی عام ہے کہ یہ پاکستان میں بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے اُور سائنسی علم نے یہ کمال حاصل کر لیا ہے کہ اب مصنوعی طریقے سے کسی بھی ملک کے سرد‘ گرم یا بارشوں کے موسم کی شدت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ کرہ¿ ارض (زمین) کی فضا کا ایک حصہ جسے ’روان دار علاقہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ’روانی کرۂ (ionsphere)‘ جو کہ زمین کی سطح کے تیس سے پچاس میل اوپر سے شروع ہو کر 200 میل تک پھیلا ہوا ہے اُور اِس میں سورج سے آنے والی ایکس (x) اُور بالا بنفشی (uv) اشعاع کی ’آئیونائزیشن‘ ہوتی ہے جس سے آزاد گردش کرنے والے ذرات (الیکٹران) وقوع پذیر ہوتے ہیں اگر کسی بھی طریقے سے الیکٹران پیدا کئے جائیں تو یہ عمل موسموں کی تخلیق میں قدرت کے بنائے ہوئے توازن کو بگاڑنے یعنی مداخلت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سال 1990ءمیں امریکہ کے محکمۂ دفاع اُور عسکری علوم و تحقیق کے مراکز نے مشترکہ حکمت ِعملی کی منظوری دی جس کے تحت 1993ءمیں ’ہائی فریکونسی ایکٹو ایرورال ریسرچ پروگرام (HAARP)‘ کے لئے باقاعدہ مرکز تعمیر کیا گیا اُور اِس پچیس کروڑ ڈالر (250ملین ڈالر) مالیت کے منصوبے (تنصیبات اُور تحقیقی سہولیات) کو امریکی ریاست ’الاسکا (Alaska)‘ کی جامعہ کے حوالے کر دیا گیا یوں فوجی (دفاعی) مقاصد کے لئے شروع ہونے والا یہ پروگرام بعدازاں غیرفوجی (غیردفاعی) مقاصد کے لئے استعمال ہونے لگا اُور خاص بات یہ ہے کہ ’ہارپ‘ نامی اِس پروگرام کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ اِسے جاری رکھا گیا جس کے بارے میں ایک نظریہ یہ ہے کہ امریکہ دنیا کے موسموں کو تسخیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اِس تاثر کو ’سازشی نظریہ (کانسپریسی تھیوری)‘ قرار دیتا ہے اُور اُس کا کہنا ہے کہ ’ہاراپ‘ کرۂ ارض کو سمجھنے کے لئے جاری علمی تحقیق کا نام ہے‘ جس کی تفصیلات خفیہ نہیں بلکہ کوئی بھی امریکی یا غیرامریکی شخص اِس تحقیق کے نتائج اُور طریقۂ کار کو قریب سے مطالعہ و مشاہدہ کر سکتا ہے۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں ملک کی داخلی سلامتی و بقا کے لئے ”حقیقی خطرہ“ ہیں جس کا خاطرخواہ سنجیدگی سے تصور اُور ادارک نہیں کیا جا رہا۔ اِس سلسلے میں غیرسرکاری ماہرین اُور تحقیق کاروں کو سامنے آنا چاہئے کہ کس طرح ملک کو درپیش موسمیاتی خطرات سے بچنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اگر آئندہ مون اُور موسم سرما میں برفباری کے معمولات زیادہ ہوئے تو ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے قومی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے۔ بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے چاروں صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے بھی ماہرین کی رائے (input) ملنا بھی ضروری ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل (چیلنجز) کے بارے میں بروقت دفاعی حکمت ِعملی وضع کی جا سکے۔ اقوام عالم کی ترقی ’فلسفیانہ نظریات‘ سے شروع ہوتی ہے اُور اِنہی نظریات کی روشنی میں ’قومی ترجیحات‘ کا تعین کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ”ذمہ دارانہ صحافت اُور اخلاقی اقدار“ کا تعلق ہے تو اِس کے لئے کاروباری اُور ادارہ جاتی پہلوؤں کی اصلاح بھی یکساں ضروری ہے۔ صحافت میں پیشہ ورانہ اخلاقیات پر خاطرخواہ عمل درآمد نہ ہونے کے بارے میں سطحی (بنا سیاق و سباق) غوروخوض اِس شعبے میں اصلاحات اُور اِس کی ترجیحات کے عمل کو سست کرنے کا باعث بن رہی ہے اُور اِس سے مسائل کی گھتیاں مزید الجھ رہی ہیں۔ موضوع متنوع ہے کہ صحافت میں علمی و عملی سرمایہ کاری کرنے والے اُور اِس کے مالی سرمایہ کار اپنی اپنی ذمہ داریوں کی بجاآوری الگ الگ نکتہ ہائے نظر سے کر رہے ہیں۔ سچ کا بھی وقار ہوتا ہے اُور اِسی وقار سے مزین باوقار اقوام ابھرتی ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ صحافت سے جڑے سبھی طبقات کے نظریئے (فکر و عمل) میں حائل خلیج (فاصلہ) کم کیا جائے اُور سچ کے سفر کا آغاز پسندوناپسند یا حمایت و مخالفت میں نہیں بلکہ غیرجانبداری اُور ذمہ داری کی رہنمائی میں آگے بڑھے۔ ”خلاصہ یہ مرے حالات کا ہے .... کہ اپنا سب سفر ہی رات کا ہے (سیّد ضمیر جعفری)۔“

Clipping from Daily Aaj - Sept 14, 2022 Wednesday




Saturday, August 6, 2022

Way of blessed Muharram

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... محتاط عادات و عبادات 

کورونا وبا سے خبردار کرتے ہوئے ”نیشنل اِنسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)“ نے محرم الحرام کی مناسبت سے منعقد ہونے والے اجتماعات و تقاریب کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ’کوویڈ احتیاطی تدابیر (SOPs)‘ پر عمل درآمد کریں بالخصوص ایسے پرہجوم مقامات پر زیادہ دیر ٹھہرنے سے گریز کیا جائے جن کا انعقاد اندرون خانہ (اِن ڈور) مقامات پر ہو۔ ’ہیلتھ پروٹوکول‘ پر عمل درآمد اُور سماجی دوری اختیار کرنے سے متعلق یہ ہدایات حالیہ چند ہفتوں کے دوران کورونا جرثومے (وائرس) سے پھیلنے والی بیماری (انفیکشن) میں غیرمعمولی (تشویشناک) اضافے کے سبب جاری کی گئی ہیں۔ ’این آئی ایچ‘ کے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ (@NIH_Pakistan) سے جاری ہونے والے پیغام میں کورونا وبا کی انتہا درجے صورت کو ناقابل لاعلاج قرار دیا گیا ہے‘ جس سے محفوظ رہنے کے لئے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اُور ماسک پہننے اُور کورونا ویکسینیشن مکمل کروانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ یکم محرم الحرام کے روز جاری کردہ اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ کورونا ”3.29 فیصد“ کی شرح سے پھیل رہا ہے یعنی ہر 100 افراد میں سے ساڑھے تین افراد کورونا وبا کا شکار پائے گئے ہیں ملک بھر میں 661 کورونا مریض سامنے میں سے ایک کی موت اُور 171 انتہائی نگہداشت مراکز میں زیرعلاج ہیں۔ فروری دوہزار اُنیس سے پاکستان میں مجموعی طور پر ’ساڑھے پندرہ لاکھ (1.56ملین) سے زائد افراد کورونا سے متاثر جبکہ کورونا سے ساڑھے تیس ہزار (30,503) افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ قومی سطح پر ماہرین صحت کو اندیشہ ہے کہ محرم الحرام کے پہلے عشرے کے بعد کورونا وبا پھیلنے کی زیادہ شرح سامنے آئے گی کیونکہ کورونا سے بچاو¿ کے بارے میں بالعموم عوامی رویئے حساس نہیں ہیں۔

محرم الحرام کے دوران ”محتاط عادات و عبادات“ کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے محکمہ¿ صحت نے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کورونا کی پہلی اُور دوسری ویکسینیشن مکمل کر لی ہے اُور اُنہوں نے پہلی بوسٹر ڈوز (تیسرا ٹیکہ) بھی لگوا لیا ہے وہ فی الفور کسی بھی قریبی ویکسینیشن سنٹر سے دوسری بوسٹر ڈوز (چوتھا ٹیکہ) لگوا لیں۔ ”کورونا وائرس بوسٹر جابس“ کہلانے والے اِن ٹیکوں کے لئے صوبائی سطح پر خصوصی مہم پچیس جولائی سے جاری ہے اُور پچیس اگست کے روز ختم ہو جائے گی۔ قومی اُور صوبائی سطح پر محکمہ¿ صحت کے فیصلہ ساز کورونا وبا کی نئی لہر کے حوالے سے اِس لئے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ اِس متعدی بیماری کی کئی نئی اقسام ظاہر ہو رہی ہیں اُور اِس صورتحال میں صرف وہی لوگ کورونا وبا کے انتہائی مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں‘ جن کے جسم میں نئی اقسام کے جرثوموں کے خلاف قوت مدافعت موجود ہو اُور صرف اِسی کورونا کے پھیلاو¿ کو روکا جا سکتا ہے۔ 

”نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر“ کی جانب سے بھی ’کورونا وبا‘ کے بارے میں نئے رہنما اصول جاری کئے گئے ہیں جن کے مطابق ملک کے طول و عرض میں سرکاری ہسپتال اُور ٹیکہ جات مراکز (ویکسی نیٹرز سنٹرز) مکمل حفاظتی ٹیکے لگانے والے افراد کو پہلی اور دوسری بوسٹر خوراک دے رہے ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ بارہ سال سے زائد عمر کے 80فیصد آبادی کو کورونا ٹیکہ لگایا جائے۔ ایک ماہ دورانئے پر مشتمل جاری خصوصی ویکسینیشن مہم‘ امیونائزیشن توسیعی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت کورونا کا دوسرا ٹیکہ لگوانے کے چھ ماہ بعد پہلی بوسٹر شاٹ اُور اِس کے چار ماہ بعد دوسری بوسٹر لینے کی ضرورت ہے۔ توجہ طلب ہے کہ ماسوائے ضلع چارسدہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں 80فیصد کورونا ویکسینیشن مکمل کرنے کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ اِسی طرح خیبرپختونخوا کے صرف چار اضلاع ایسے ہیں جہاں کے 30فیصد رہائشیوں نے پہلی بوسٹر ڈوز لگوا رکھی ہے لیکن اُن کی اکثریت دوسری بوسٹر ڈوز لگوانے کے لئے نہیں آ رہی جبکہ وہ دوسری بوسٹر ڈوز لگوانے کے اہل ہو چکے ہیں۔ محکمہ¿ صحت نے ’ہیلتھ مراکز‘ کے علاو¿ہ گھر گھر جا کر بھی کورونا ویکسینیشن لگانے کی مشق شروع کر رکھی ہے اُور کوشش کی جا رہی ہے کہ یومیہ 80 ہزار ’کورونا ٹیکے‘ لگانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ خیبرپختونخوا کے لئے کورونا ویکسینیشن پہلے ہی وافر مقدار (حسب ضرورت) حاصل کر لی گئی ہے اُور حکام کے مطابق ضرورت پڑنے پر مزید ویکسین حاصل کی جا سکتی ہے۔ محکمہ¿ صحت کا ہدف اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام یعنی ’چھتیس اضلاع‘ میں اکثریت کی زندگی کو ’کورونا ویکسینیشن‘ کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکے اُور اِس مقصد کے لئے ایک ہزار سے زیادہ ویکسینیشن مراکز قائم کئے گئے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پولیو کی طرح کورونا وبا کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں‘ جن کے ازالے کی کوششیں سوفیصدی کامیاب نہیں ہو رہیں اُور خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں ایسے لوگ موجود ہیں‘ جو کورونا کی ابتدائی (پہلی) ویکسین تک کروانے کو تیار نہیں ہیں اُور اِسے ایک فرضی وبا سمجھا جا رہا ہے۔ کورونا ویکسینیشن نہ کروانے کی دوسری وجہ یہ غلط تاثر ہے کہ ”کورونا وبا ختم ہو گئی ہے“ حالانکہ اِس وبا سے متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کورونا ویکسینیشن کے بارے میں غلط اُور گمراہ کن معلومات یا نظریات پھیلانے والے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں جہاں من گھڑت ماہرین کے ناموں اُور تحقیق کا حوالہ دے کر سادہ لوح سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں سوشل میڈیا صارفین ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ایسے کسی پیغام کو پھیلانے میں آلہ¿ کار نہ بنیں‘ جس میں کورونا وبا کو فرضی یا اِس کی ویکسینیشن کو مضرصحت قرار دیا گیا ہو۔ ذہن نشین رہے کہ پہلا اور دوسرا بوسٹر شاٹ (ٹیکہ جات کورس) انتہائی اہم ہے اُور صرف یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے جسمانی قوت مدافعت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا ویکسینیشن لگوانے کی شرح ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے کم جبکہ کورونا سے اموات کی شرح زیادہ ہے اُور اگر کورونا کی نئی اقسام کو خاطر میں نہ لایا گیا تو اندیشہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کی نئی اقسام کے حملے اُور وبا کی چھٹی لہر کے دوران متاثرہ مریضوںکی تعداد زیادہ ہوگی۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar Dated 6 August 2022 Saturday


Friday, August 5, 2022

Muharram ul Harram, as Collective & Practical Responsibility

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

اِجتماعی ذمہ داری

محرم الحرام کے مہینے کی نسبت جس عظیم قربانی سے ہے‘ اُس کو خراج تحسین و عقیدت پہنچانے کا عملی تقاضا یہ ہے کہ نہ صرف (جاری) ماۂ محرم الحرام کی حرمت بلکہ اِن خصوصی ایام میں اِنسانی جان کی عزت و حرمت سے جڑی ”اجتماعی اُور ایک انتہائی بنیادی ذمہ داری“ کا ادراک کیا جائے اُور محرم الحرام کو صرف تذکرے کی حد تک محدود نہ سمجھا جائے۔

 ”کربلا شناسی“ کا عنوان جن سنجیدہ حلقوں میں سارا سال زیربحث رہتا ہے اُن کے ہاں شہدائے کربلا کی استقامت (قیام و مزاحمت)کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے کیونکہ کربلا میں 2 طرح کے واقعات بیک وقت رونما ہوئے۔ پہلی قسم کے واقعات وہ ہیں جن کا سامنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اُور آپؓ کے جانثاروں کو پانی کی بندش سے لیکر منصب ِشہادت پر فائز ہونے تک مصائب و بے حرمتی کی صورت برداشت کرنے پڑے جبکہ آپؓ آخری وقت تک دین کے دفاع پر ڈٹے رہے۔ خون خرابے سے گریز کی کوشش کرتے رہے لیکن جب یہ کوششیں رنگ نہ لائیں تو پھر اپنے خون سے ”نقش الا اللہ بر صحرا نوشت“ کرتے ہوئے ”دین است حسینؓ‘ دیں پناہ است حسینؓ .... حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ“ کی بلند منزل پر فائز ہوئے۔

سن 61 ہجری (بمطابق 680 عیسوی) کربلا میں دوسری قسم کے واقعات وہ پیش آئے‘ جن کا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اُور آپؓ کے جانثاروں نے صبرواستقامت کی ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے سامنا کیا۔

اصولاً جو کچھ حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمل کی صورت سامنے آیا وہ زیادہ اہم ہے اُور اُسی کی پیروی ہونی چاہئے جیسا کہ مشکل سے مشکل ترین حالات میں بھی دین کی سربلندی و حفاظت کے لئے شریعت پر عمل‘ جیسا کہ نماز کی بروقت اُور بہرصورت ادائیگی‘ نماز کا قیام‘ قرآن مجید کی تلاوت‘ ذکر و اذکار اُور اللہ تعالیٰ کا شکر چند ایسے اعمال ہیں‘ جنہیں لازماً اختیار کرنے کا درس دیا گیا ہے اُور ”حی علی الفلاح و حی علی خیر العمل“ کی انہی مثالوں پر عمل پیرا ہو کر ہر مسلمان دائمی کامیابی و کامرانی پا سکتا ہے۔

محرم الحرام کے لئے حفاظتی انتظامات ”حساس معاملہ“ ہے جس کا تعلق ’قومی سلامتی‘ سے جڑا ہوا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں محرم الحرام کے آغاز سے قبل اِس کے پرامن انعقاد کے لئے ”تازہ دم کوششوں“ کا ”ازسرنو آغاز“ کیا جاتا ہے۔ جملہ حکومتی اداروں کی کوشش یہی ہوتی ہے پہلے عشرے (یکم سے دس) محرم الحرام کے ایام پرامن طریقے سے گزریں یقینا اِس عرصے میں درپیش ’سیکیورٹی چیلنجز‘ اُور مذہبی آزادی جیسے بنیادی انسانی حق کی حفاظت نہیں۔

محرم کے دوران ملک بھر میں منعقد ہونے والے ہزاروں اجتماعات‘ مجالس اور ماتمی جلوسوں کا خوف و دہشت سے محفوظ انعقاد اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ یہ مذہبی اجتماعات خاص نشانے پر رہتے ہیں اُور پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کے لئے محرم کی آڑ میں وار کیا جاتا رہا ہے۔ 1980ءکی دہائی میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا جو ہنوز جاری ہے اُور اِس سے نمٹنے کے لئے ’شعلہ بیاں مقررین‘ کی نقل و حرکت محدود کی جاتی ہے اُور محرم سے قبل اُور محرم کے دوران انتظامیہ علمائے کرام کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے تاکہ کسی ایک مسلک کی جانب سے دوسرے مسلک کی دل آزاری نہ ہو لیکن اِس پوری کوشش کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ امن دشمن عناصر کی طرح ’سوشل میڈیا‘ پر بھی نظر رکھی جائے کیونکہ ’سائبر اسپیس‘ کا استعمال کر کے بھی خوف و دہشت پھیلائی جا سکتی ہے۔

محرم الحرام ہو یا کوئی بھی دوسرا مہینہ اُور خصوصی ہوں یا عمومی ایام‘ شرپسندی پر مبنی اشتعال انگیز مواد کی تشہیر (اپ لوڈ) کرنے پر عائد پابندی کا اطلاق زیادہ سختی سے ہونا چاہئے کیونکہ شرانگیزی کی کوئی ایک شکل و صورت نہیں بلکہ یہ روپ بدل بدل کر وار کرتی ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اُور خصوصی جرائم کی تحقیقات کرنے والے خفیہ اداروں میں کسی نہ کسی نام سے خصوصی شعبے (سائبر کرائمز ونگ) موجود ہیں‘ جنہیں ریاستی قوانین اُور اِن کی روشنی میں بنائے گئے قواعد کا سہارا بھی حاصل ہے لیکن انٹرنیٹ اُور موبائل فونز کے ذریعے جعل سازی (فراڈ) عام ہے۔ موبائل فون پر مختصر پیغامات (شارٹ میسیجنگ سروس المعروف ایس ایم ایس) کے ذریعے انعامات جیتنے کے بہانے سادہ لوح لوگوں کو آج بھی شکار کیا جاتا ہے۔ اِس جعل سازی کو روکنے کے لئے حکومتی ادارے تو متحرک ہیں لیکن موبائل فون کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں خود کو بری الذمہ بنائے ہوئے ہیں حالانکہ جعل سازی (فراڈ) روکنا صرف حکومتی اداروں ہی کا فرض نہیں بلکہ ایک ”اجتماعی ذمہ داری“ کی صورت یہ کام ہر صارف اُور خدمات فراہم کرنے والے ادارے پر یکساں واجب ہے۔

اجتماعی ذمہ داری کی ذیل میں ”قیامِ امن“ کے لئے کوششیں بھی صرف حکومت اُور حکومتی اداروں کا ’درد ِسر‘ نہیں ہونا چاہئے بلکہ معاشرے کے ہر فرد اُور بالخصوص مذہبی اجتماعات کے منتظمین پر لازم ہے کہ وہ فرقہ واریت کے انسداد کی کوششوں میں صرف وقتی اُور حسب ضرورت شامل نہ ہوں بلکہ اِس کوشش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اُور اِس کوشش کو مسلسل جاری رکھیں۔ خوش آئند ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت اُور ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں نمایاں کمی کمی آئی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صورتحال مثالی ہے۔ رواں برس مارچ میں مرکزی شیعہ مسجد‘ کوچہ رسالدار پشاور پر حملہ امن دشمنوں کے عزائم‘ منصوبہ بندی اُور حملہ کرنے کے استعداد کو بھی ظاہر کرتا ہے اُور یہ حقیقت انتہائی تشویشناک و خطرناک ہے کہ ہر دہشت گردی کے بعد اِس کے تانے بانے بیرون ملک تیار کی گئی سازش اُور مقامی سہولت کاروں سے جا ملتے ہیں۔

سرحدی علاقوں کی نگرانی ریاست کی ذمہ داری جبکہ دہشت گردی کے لئے سہولت کاری کرنے والوں پر نظر رکھنا ”اجتماعی ذمہ داری“ میں آتا ہے۔ خفیہ اداروں کو فرقہ وارانہ عناصر اور ان کے ہمدردوں اُور سہولت کاروں کی تلاش دہشت گردی رونما ہونے میں قبل کرنی چاہئے۔

سوشل میڈیا کی نگرانی ہونی چاہئے تاکہ نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر نہ ہو اُور یہاں بھی ذمہ داری اجتماعی ہے کہ ریاست اور سوشل میڈیا خدمات فراہم کرنے والے ادارے اُور بطور صارفین ہر خاص و عام کو چاہئے کہ ’نفرت انگیزی‘ پھیلانے والوں سے اظہار لاتعلقی کریں۔  اِس موقع پر ہر مسلک کے علمائے کرام‘ وعظین و مبلغین کو بھی چاہئے کہ قومی فریضہ سمجھتے ہوئے ”قیام ِامن“ جیسی اجتماعی ذمہ داری کے حصول کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

....

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj Peshawar, 05 August 2022 Friday


Sunday, July 24, 2022

Knowledge for peace

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

العلم

اِنسان نے اپنی لاعلمی کا اعتراف ہر دور میں کیا اُور یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشروں میں صدیوں سے اِس مسلمہ اصول پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ”علم صرف حقیقت نہیں بلکہ علم ہی حقیقت ہے‘ جسے انسانی معاشرہ معلومات و تجربات سے اخذ یا حاصل کرتا ہے اُور اِس حاصل شدہ مرکب کی جامعیت کے لئے جو اصول وضع کئے گئے ہیں اُن کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ انسانی معاشروں میں تعمیر و ترقی ہونی چاہئے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ علم کے کسی خاص حد سے زیادہ ہونے کے بعد اِس کے بطن سے تخریبی عوامل کا ظہور ہونا شروع ہو جاتا ہے اُور یہ علم کے ارتقا اُور معاشرے میں پائی جانے والی علم کی ضرورت (طلب) کا ایک نہایت ہی بدلا (نکھرا) ہوا تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اپنا حاصل کردہ اُور تخلیق کردہ علم نامکمل ہے اُور اِسے جامع بنانے کے لئے ضروری ہے کہ انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ”علم“ کو سیال بنایا جائے یعنی علم کے دامن میں اِس قدر گنجائش ہو کہ یہ مختلف نظریات‘ آرا‘ تجاویز‘ تاثرات‘ تشریحات اور تعبیرات کو سمو سکے اُور اپنے ہی وضع کردہ اصولوں پر نظرثانی کرنے جیسے ظرف کا بھی حامل ہو۔

علم کیا ہے؟

مصنفین (اساتذہ) کا نقطہ نظر ہے کہ یہ درحقیقت رجحانات‘ دلچسپیوں اور ان کے لئے دستیاب ذرائع کی بنیاد پر حاصل ہونے والا ”تاثر“ بنیادی جبکہ اِس ایک تاثر سے اُبھرنے والے تاثرات کا مجموعہ جامع ”علم“ ہے۔ علم اُور ”تعمیر نو“ کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے خطبات موجود ہیں لیکن اگر اُن سبھی تصورات کو کسی ایک تصور کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا جائے تو اُس کا عنوان ”علم فی نفس“ ہوگا۔ یہ موضوع وسیع ہے اُور یہاں صرف اشارتاً ذکر کیا جا رہا ہے کہ آج کا انسان ہر شے کے بارے میں خود سے زیادہ آشنا ہے لیکن اِسے اپنے اندر جھانکنے کی فرصت نہیں کہ جہاں اربوں برس کا ارتقائی علم محفوظ ہے۔ بہرحال ’علم فی نفس‘ کے بارے میں لاتعداد نکتہ ہائے نظر موجود ہیں اُور اِس ایک عنوان کو سمجھنے اُور بیان کرنے کے لئے قرآن و احادیث مبارکہ کے تراجم و تفاسیر‘ تاریخ اُور فقہ کی کتابوں کے علاؤہ فتاویٰ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے تاکہ علم کی حقیقت (بنیاد) تک بنا بھٹکے پہنچا جا سکے۔ علم کسی ایک ہی بیان یا حقیقت کے متعدد پہلو اُور اِن پہلوؤں کے مختلف نظریات ہوسکتے ہیں۔ کسی خاص معاملے میں قانونی یا اخلاقی پہلو‘ کئی طرح کے احکام بھی علم ہی میں شامل ہیں۔ توجہ طلب ہے کہ ہر مصنف (معلم) کسی واقعہ یا اپنے بیان (علمی نظریئے) کی ”درست“ تشریح کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہی ’درست‘ نظریہ کسی دوسرے شخص کے لئے بالکل اُلٹ (غلط) ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اسے مختلف (ایک بالکل نئے زاویئے) نقطہ نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اِس طرزعمل کی وجہ سے ابہام پیدا ہوتا ہے اُور علم تک پہنچنے کی کوشش میں جہاں کہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر قرآن و حدیث کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اِس سے انواع و اقسام کی تشریحات بصورت مسائل پیدا ہوتی ہیں۔ علم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اِسے جان بوجھ کر (دانستہ کوشش سے) مسخ بھی کیا جا سکتا ہے اُور انسانی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جہاں علم کو مفادات کے تابع کرتے ہوئے حقائق مسخ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ 

”علم“ آزادی چاہتا ہے۔ یہ آزادی اظہار کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ علم فرمان تابع اُور قابل فروخت نہیں ہونا چاہئےکہ یہ حکمرانوں کی خواہشات اُور خوشنودی کا باعث ہو۔ بہت سے مورخین ایسا کرتے رہے ہیں۔ بہت سی قومی ریاستیں بھی اپنے سیاسی ایجنڈوں اور نظریات کے مطابق تاریخ کو مسخ کرتی آئی ہیں۔ جدید دور میں جملہ ذرائع ابلاغ (بشمول الیکٹرانک و پرنٹ اُور سوشل میڈیا) اپنے مفادات کے لئے کسی خاص شے (برانڈ) یا شخصیت یا سیاسی جماعت کو دوسروں سے بہتر (پرکشش) بنا کر پیش کرتا ہے۔ اِس طرزعمل کے باعث اختلافات کو فروغ ملتا ہے۔ علم رکھنے والے طبقات کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسی کسی صورتحال میں خاموشی اختیار کرنے کی بجائے ”علم“ کے ساتھ جڑے فرائض اُور ذمہ داریوں کو ادا کریں اُور کسی معاشرے کو اختلافات سے بچائیں۔ صرف علم کا فروغ ہی فرقہ پرستی (فرقہ واریت) کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ تاویلات کی کثرت کو تاریخی حقیقت اُور مکمل علم سمجھنے کی بجائے‘ اگر علم کی تلاش علم ہی کے ذریعے کی جائے تو اِس سے مفید نتیجہ حاصل ہوگا۔ عموماً علم کی تلاش میں جہالت سے کام لیا جاتا ہے اُور جہل کی خصوصیت یہ ہے کہ اِسے جس قدر بھی ”کھنگالا“ جائے اِس سے سوائے تاریکی کچھ برآمد نہیں ہوگا۔ علم کی شناخت یہ ہے کہ یہ فرقہ واریت (اختلافات) کم کرے گا۔ یہ معاشرے کو توڑنے کے لئے نہیں بلکہ اِسے جوڑنے کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔

انسان کی تشریح علم اُور علم کی تشریح انسان ہے۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ایک دوسرے کی خوشنمائی کا باعث ہیں اُور اگر یہی ایک پہلو مدنظر رکھا جائے تو کوئی بھی خاص دن‘ ہفتہ‘ عشرہ یا مہینہ ایسا نہیں ہو سکتا جب مختلف النظریات علمی دلائل کی وجہ سے معاشرے کو خطرات لاحق ہوں اُور ہر طرف سے امن‘ امن کی بلند ہوتی صدائیں سنائی دے رہی ہوں۔ مولانا جلال الدین‘ بلخی جلال الدین رومی المعروف مولانا رومی پیدائش 1207ءوفات 1273ءنے اپنے کلام ’مثنوی مولوی معنوی‘ میں علم کے تعمیری پہلوؤں اُور انسانی کردار جیسے تصورات کو نہایت ہی خوبصورتی سے بیان کیا ہے ”تو برائے وصل کردن آمدی .... نے برائے فصل کردن آمدی (ترجمہ) اے انسان تیری تخلیق کا مقصد لوگوں کو آپس میں ملائے رکھنا ہے ناکہ تیری تخلیق کا مقصد انسانی معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنا ہے۔“

نظریات اگر لچکدار‘ غیرجانبدار اُور تعمیروترقی کا باعث نہیں تو یہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن علم نہیں۔ اصول یہ ہے کہ غیر جانبدار نتائج تک پہنچنے کے لئے ان کا ممکنہ حد تک معروضی تجزیہ کیا جائے۔ دوسروں کے خیالات کو زیادہ توجہ (ہمدردی) سے سُنا جائے۔ سماجیات سے متعلق علم کا جدید پہلو یہ ہے کہ یہ ایک نقطہ نظر کی تخلیق‘ تعمیر اور تعمیر نو کا حاصل (نتیجہ) ہوتا ہے جس میں سیاق و سباق‘ اوقات اُور محرکات سے علم وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں جبکہ اعلیٰ تعلیم کا تصور محدود نہیں رہا اُور اِس میں انسانی سماج کے ارتقا‘ اِس کی تاریخ و ثقافت اُور عقائد و نظریات کا مطالعہ بوساطت ’انٹرنیٹ‘ نسبتا آسان ہوگیا ہے تو وقت ہے کہ نوجوان (مرد و خواتین کے) ذہنوں کو مطالعے (کتب بینی) اُور علمی موضوعات پر بحث و مباحثے کی سہولت و ترغیب فراہم کی جائے۔ اس کے علاؤہ ”ادب (فنون لطیفہ)“ تک رسائی زیادہ وسیع اُور اِن کے معروضی مطالعے کو ممکن بنایا جائے۔ 

جدید تحقیقی مضامین جیسا کہ بشریات‘ سماجیات‘ نفسیات اور آثار قدیمہ توجہ طلب ہیں جن کے ذریعے ثقافتوں کا مطالعہ ممکن ہے اُور جب ہم دوسروں کی تاریخ و ثقافت کے مطالعے سے ”حصول ِعلم“ کا آغاز کریں گے تو یہی ’نافع (باعث نفع) عمل‘ ہوگا۔ علم کا سانس سُوال سے گھٹنا نہیں چاہئے بلکہ علم ساکت و جامد نہیں بلکہ مسلسل و جاری حقیقت ہے۔ اگر ہم غور و فکر اُور فکر و غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمیں اپنے ہی تصورات (پسند و ناپسند) نے گھیر رکھا ہے۔ علم کی بنیاد تنقید ہے اُور تنقیدی سوچ ہمیں اپنے آپ کو افلاطونی غاروں کے اندھیروں میں موجود تاریکی کی پرتوں میں گم اپنا آپ تلاش کرنے میں مدد کرتی ہے۔ سوچنے کی گھڑی ہے کہ تاریخی شعور کی ہماری دیواروں پر اگر فرقہ وارانہ رنگوں سے گلکاریاں موجود ہیں تو ہمیں وقتی تعبیرات سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے اور اپنی تاریخ‘ ثقافت‘ عقائد‘ طور طریقوں کو ہمیشہ متحرک‘ تعمیر و تعمیر نو کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ ہمیں تاریخ کے ارتقا‘ خیالات‘ نظریات‘ عملی نمونوں اور نقطہ ہائے نظر کے ذخائر میں چھپے ہیرے بصورت تشریحات تلاش کرنی ہیں تاکہ معاشرے کو ایک دوسرے سے زیادہ قریب لایا جا سکے‘ جس کے لئے قرآن و سنت جیسی جامع رہنمائی اُور قرآن و سنت پر عمل کرنے والے رہنما (بطور مقلد و تقلید) موجود ہیں۔

....

Clipping from DailyAaj Peshawar July 24, 2022 Sunday


Saturday, June 25, 2022

POLITICAL HAND SHAKE

ژرف نگاہ ۔۔۔شبیرحسین اِمام

سیاسی اشتراک ِعمل

پاکستان تحریک انصاف اُور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین (عمران خان اُور علامہ راجا ناصر عباس جعفری) کے درمیان سیاسی اشتراک عمل پر اتفاق رائے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تحریری معاہدے پر دستخط بھی ہوئے ہیں جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کی اہم پیشرفت ہے۔ بنی گالہ اسلام آباد میں (بیس جون دوہزاربائیس کے روز) دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے علاۂ ہ، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر شیریں مزاری جبکہ مجلس وحدت مسلمین کی طرف سے چیئرمین علامہ راجا ناصر عباس جعفری کے ساتھ وائس چیئرمین علامہ اقبال رضوی‘ سیکرٹری جنرل ناصر شیرازی اور سیکرٹری سیاسیات اسد نقوی شریک ہوئے۔ مذکورہ سیاسی اشتراک عمل کے 7 نکاتی دستاویز میں جو امور بالترتیب شامل کئے گئے ہیں وہ پاکستان کے اہم ترین داخلہ و خارجہ امور اور مستقبل کی سیاسی حکمت ِعملی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ بظاہر تو یہ چند سطروں پر مشتمل دستاویز ہے لیکن اگر اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کر لیا گیا اُور دیگر سیاسی جماعتیں بھی اِس جانب متوجہ ہوئیں تو یقینا پاکستان عظیم‘ آزاد‘ خود مختار‘ باوقار اُور امن وامان پر مبنی محفوظ اسلامی ریاست کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ درحقیقت سیاسی اشتراک عمل کے لئے مذکورہ اتفاق رائے کئی دہائیوں کی جدوجہد اُور اِس جدوجہد سے اخذ اہداف کو الفاظ کی شکل دیئے جانے کی محنت ہے‘ جو بارآور ثابت ہوئی ہے۔

تحریک انصاف اُور مجلس وحدت مسلمین کے درمیان ’اشتراک عمل‘ کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ”وطن عزیز پاکستان کی داخلی وحدت‘ سلامتی اور استحکام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اسلامی اقدار کا تحفظ‘ تحریک پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کی حفاظت اور سیاسی‘ اقتصادی اور دفاعی خود انحصاری کے حصول کے لئے (دونوں جماعتیں) مشترکہ جدوجہد کریں گی۔ اسرائیل کے حوالے سے بانی پاکستان قائداعظم رحمة اللہ علیہ کی دی ہوئی گائیڈ لائنز سے کسی قسم کی روگردانی نہیں کی جائے گی اور کشمیر و فلسطین کے موضوعات پر اخلاقی و قانونی نقطہ نظر سے کسی قسم کا انحراف نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے۔ مسلم ممالک کے ساتھ اتحاد و وحدت کو خصوصی حیثیت حاصل ہوگی۔ ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہوگا۔ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات میں مذاکرات کے ذریعے راہ حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی اور ان تنازعات میں فریق نہیں بنا جائے گا۔ دوست پڑوسی ممالک سے تعلقات کو خصوصی حیثیت حاصل ہوگی۔ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنایا جائے گا۔ وطن عزیز پاکستان میں ظلم کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ پسماندہ اور استحصال شدہ طبقے کی بحالی اولین ترجیح ہوگی۔ ہمیں غلامی قبول نہیں۔ پاکستانی سرزمین کسی بھی ملک کو فوجی اڈوں کے لئے نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کے قومی فیصلے اسلام آباد ہی میں ہوں گے۔ آزاد خارجہ پالیسی اور داخلی خودمختاری بنیادی اصولوں ہیں اور اس بیانیے سے کسی طرح بھی روگردانی نہیں کی جائے گی۔“

 ذہن نشین رہے کہ حجة الاسلام شہید علامہ عارف حسین الحسینیؒ (تاریخ شہادت 5 اگست 1988ئ) نے پاکستان میں اِسلامی ریاست کے منشور سے متعلق تصور بصورت دستاویز پیش کیا تھا جس کا عنوان ”سبیلنا (ہمارا راستہ)“ میں ”خارجہ پالیسی“ کے خدوخال بیان کئے گئے کہ ”کسی بھی طاقت کی اقتصادی‘ ثقافتی‘ فوجی اور سیاسی بالادستی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ استعماری اور سامراجی عزائم کی مزاحمت کی جائے گی۔ تمام ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک سے دو طرفہ بنیادوں پر قریبی خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم کئے جائیں گے ماسوائے ان ممالک کے جو نسل پرستانہ‘ صہیونی‘ سامراجی اور توسیع پسندانہ عزائم کے حامل ہوں یا اسلام دشمن اور مسلم کش پالیسی اپنائے ہوں۔ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا اور نہ رو بہ عمل لایا جائے گا‘ جس کے تحت کوئی غیر ملکی طاقت ملک کے قدرتی وسائل پر تسلط یا تصرف حاصل کرسکے۔ کسی سامراجی طاقت کو فوجی مقاصد کے لئے پاکستان کی زمین‘ فضا اور پانی استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ دنیا بھر میں محروموں اور مظلوموں کی آزادی کی تحریکوں بالخصوص اسلامی تحریکوں کی حمایت کی جائے گی اور ان سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ مسلم اکثریت کے وہ علاقے جو اغیار کے زیر تسلط ہیں‘ ان کی آزادی کے لئے تعاون کیا جائے گا۔ القدس اور دیگر مقامات مقدسہ کی حرمت و آزادی کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔ کشمیر کی آزادی اور اس کے پاکستان سے الحاق کے لئے جدوجہد کی جائے گی۔“

 یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مجلس وحدت مسلمین اُور تحریک انصاف کے درمیان جن نکات پر اتفاق رائے ہوا وہ قیام پاکستان کے بنیادی مقصد و نظریئے اُور پاکستان میں اسلامی اقدار کے کے تحفظ کے لئے تحریر کردہ ”سبیلنا“ نامی دستاویز ہی کی شرح ہے‘ جسے تسلیم کرنے میں تحریک انصاف نے جس وسعت نظری‘ وسعت قلبی اُور وسعت فکری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف (فقیدالمثال) ہے۔

مجلس وحدت المسلمین اقدار کی امین ہے جس نے ”سبیلنا“ سے سیاسی اشتراک عمل اخذ کیا اُور تحریک انصاف کے ساتھ اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنایا۔ یہ اتفاق رائے (لائحہ عمل) درحقیقت عقیدہۂتوحید اور انبیائے کرام کی بعثت و مقصد کا مجموعہ (نچوڑ) ہے۔ کسی بھی اقدام کی اصل حقیقت زمینی حقائق سے صرف ِنظر کرکے نہیں سمجھی جا سکتی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہوتا ہے تو اِس سے ہمیشہ خیر کے پہلو نکلتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی فہم و ادراک کی سطح اگر اِس حد تک بلند ہو چکی ہے اُور یہ مشترکات پر احسن انداز سے اکٹھا ہو رہے ہیں تو یہی سیاست کا ”حقیقی حسن“ ہے کہ اِس سے اختلافات کی بجائے اتفاق رائے پیدا ہو۔ سیاسی جماعتیں جب اپنی ترجیحات کا تعین کرتی ہیں تو یہ عمل دراصل اُن کے ہوش و خرد کا امتحان ہوتا ہے اُور یہی ’ہوش و خرد‘ تحریک و مجلس کے درمیان ہوئے اتفاق رائے کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ اُمید ہے ایفائے عہد ہوگا۔ اُمید ہے اتفاق رائے نہ صرف قائم و دائم رہے گا بلکہ اِس میں وقت کے ساتھ تقویت بھی آئے گی۔

....

Clipping from Editorial Page of  Daily Aaj Peshawar - June 25, 2022 Saturday