Showing posts with label Muharram. Show all posts
Showing posts with label Muharram. Show all posts

Friday, July 21, 2023

Muharram ul Harram 2023 - 1445 Hijri - Security Plan

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : محرم سیکورٹی : خطرات و خدشات

حالیہ چند روز یعنی محرم الحرام (1445 ہجری) کے آغاز سے قبل اُور بالخصوص یکم محرم الحرام (بیس جولائی کے روز) پیش آئے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگرچہ ’پشاور پولیس‘ سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مستعد و چوکنا اُور پہلے سے زیادہ پرعزم دکھائی دیتی ہے لیکن غیرمعمولی حالات‘ غیرمعمولی اقدامات و انتظامات کے متقاضی ہیں۔ اِس سلسلے میں ’امامیہ کونسل‘ نے تجویز دی ہے کہ دو اُور گیارہ محرم الحرام (جمعة المبارک) کے ایام میں نماز جمعة المبارک کے اجتماعات کی سیکورٹی کے لئے صرف پولیس کے افرادی وسائل پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ عبادت گاہوں کے لئے متبادل سیکورٹی انتظامات بھی ہونی چاہئے جبکہ کونسل کی جانب سے پشاور پولیس کے فیصلہ سازوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حفاظتی حکمت عملی (محرم کنٹیجینسی پلان)‘ پر نظرثانی کریں کیونکہ سیکورٹی خطرات و خدشات حقیقی ہیں تاہم حفاظتی انتظامات خوف و دہشت پھیلانے کا باعث نہیں ہونے چاہیئں۔ قابل ذکر ہے کہ پشاور پولیس نے مختلف مسالک کی عبادتگاہوں‘ اجتماعات اُور جلوسوں کو حفاظت فراہم کرنے کے لئے ’تین سطحی حفاظتی انتظامات‘ کر رکھے ہیں جس کے لئے ساڑھے تیرہ ہزار پولیس اہلکاروں‘ دو سو کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں‘ خفیہ اطلاعات کے مربوط نظام اُور کرائے کے گھروں و ہوٹلوں‘ سرائے خانوں میں مقیم افراد پر بھی نظر رکھی گئی ہے جبکہ افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم پشاور شہر اُور اِس کے مضافات میں افغان مہاجرین مستقل مقیم ہیں یعنی وہ پہلے ہی شہر کی حدود میں داخل ہیں جبکہ ایسے افغان مہاجرین بھی ہیں جنہوں نے جعل سازی سے پاکستان کی شہریت حاصل کر رکھی ہے اُور اُنہیں صرف بول چال و رہن سہن کی عادات سے پہچانا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی شناختی دستاویزات کسی بھی غلط طریقے (بذریعہ رشوت اُور قبائلی اضلاع سے دستاویزات بنوا کر حاصل کرنا) جرم ہے لیکن چونکہ اِس جرم میں ’افغان مہاجرین‘ کی معاونت کرنے میں پاکستان کے اپنے سرکاری اہلکار ملوث پائے گئے ہیں‘ اِس لئے دوسروں سے گلہ کرنے کی بجائے اپنے گھر (داخلی امور) کی اصلاح کی جانی چاہئے۔ افغان مہاجرین چاہے قانونی ہوں یا غیرقانونی اُن کی باعزت اُور رضاکارانہ وطن واپسی کے لئے دی جانے والی رعایت و سہولت کا خاطرخواہ ہمدردی سے جواب نہیں دیا گیا۔ 

افغان مہاجرین یہ بات سمجھنے کے باوجود نہیں سمجھ رہے کہ اُن کی آڑ میں منظم جرائم پیشہ عناصر اُور پاکستان دشمن کاروائیاں کر رہے ہیں اُور اِس مسئلے کے صرف دو ہی حل ہیں۔ ایک تو یہ کہ افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد سے متصل (شہروں سے دور) خیمہ بستیاں قائم کر کے اِن کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے لیکن ظاہر ہے کہ اِس کے لئے پاکستان کے پاس نہ تو درکار مالی و افرادی وسائل ہیں اُور نہ ہی وقت۔ دوسرا حل اِن مہاجرین کی رضاکارانہ یا غیررضاکارانہ وطن واپسی کا ہے جو قابل عمل حل ہے اُور اِس میں افغان مہاجرین کی بھی بہبود شامل ہے کیونکہ کم آبادی اُور قومی ترجیحات کے درست تعین کی وجہ سے افغانستان کے معاشی حالات میں ہر دن بہتری آ رہی ہے‘ جس کا افغان مہاجرین اُور افغان امور کے تجزیہ کار اکثر پاکستان کی معاشی صورتحال کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو اگر واقعی ایسا ہی ہے تو افغان مہاجرین کو فوراً سے پہلے اپنے ملک واپس چلے جانا چاہئے اُور اِس سے بڑھ کر کوئی دوسری خوش قسمتی اُور کیا ہوگی کہ اگر کسی شخص کو اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہاتھ بٹانے کا موقع مل جائے؟

پشاور کو لاحق امن و امان کے خطرات اُور اِن خطرات سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے شہر کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں‘ جو پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر بحران سے گزر رہی تھیں لیکن ظاہر ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی پہلی (at-most) ذمہ داری ہوتی اِس لئے سوچ بچار سے لیکر عملی اقدامات تک ہر پہلو سے غور و خوض اُور اِس سلسلے میں ہر فریق (اسٹیک ہولڈر) سے مشاورت کی گئی ہے اُور گیارہ اضلاع (پشاور‘ کوہاٹ‘ ہنگو‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرم‘ اورکزئی‘ ٹانک‘ مردان‘ نوشہرہ‘ ہری پور اُور ایبٹ آباد) کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ضلع پشاور کی بات کریں تو محرم الحرام کا آغاز ہونے سے قبل ’دفعہ 144‘ نافذ کر کے افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے‘ اسلحے کی نمائش اُور موٹرسائیکل پر ایک سے زیادہ (ڈبل سواری) پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ موٹرسائیکل کم آمدنی رکھنے والوں کی سواری ہے اُور پشاور شہر کے گنجان آباد (پرہجوم) قدیمی حصوں میں آمدورفت کے لئے موٹرسائیکل سواری کا واحد ذریعہ بھی ہے تو ایسی صورت میں اُن علاقوں سے رعایت ہونی چاہئے جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے اجتماعات یا جلوس نہیں ہوتے۔ پشاور میں لگائی گئی ’دفعہ 144‘ کے تحت موٹرگاڑی اُور موٹرسائیکل کے کرائے پر دینے یا حاصل کرنے‘ بغیر نمبرپلیٹ موٹرگاڑی یا موٹرسائیکل اُور دیگر گاڑیوں کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اِسی طرح اُن علاقوں میں چھت پر کھڑے ہونے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات یا جلوس گزرتے ہیں۔ پشاور شہر و مضافات اُور چھاؤنی کی حدود میں آتش بازی کے سامان کی خرید و فروخت بھی اِس پابندی کا حصہ ہے۔ 

مجموعی طور پر 25 پابندیاں 15 روز کے لئے نافذ کی گئی ہیں لیکن اِن میں کئی ایسی پابندیاں بھی شامل ہیں جو مستقل ہونی چاہیئں جیسا کہ آتش گیر مادے کی خریدوفروخت‘ جو بچوں اُور بڑوں کے لئے یکساں خطرہ اُور مالی وسائل کا ضیاع بھی ہے۔

 توجہ طلب ہے کہ محرم الحرام کے موقع پر جبکہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی حرکت میں نہیں آتے بلکہ ضلعی انتظامیہ اُور بنام مقامی حکومتوں عوام کے منتخب (بلدیاتی) نمائندے بھی حرکت میں آ جاتے ہیں تو اِس نادر موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پشاور شہر کے بازاروں کا سروے کر لیا جائے کہ کن کن بازاروں میں دکانداروں نے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کر رکھا ہے اُور تجاوزات کے لئے استعمال ہونے والی اشیا دکانوں کے باہر ہی ڈھانپ کر رکھی جاتی ہیں یا ایک ایسی صورتحال میں جبکہ بازاروں میں آمدورفت کم ہو اُور کاروباری سرگرمیاں بھی بند کروا دی گئی ہوں تو دکانوں کے پختہ تعمیر شدہ یا غیرپختہ (مستقل و عارضی) اضافی حصے باآسانی شناخت اُور ہٹائے جا سکتے ہیں اُور اگر حکام کی جانب سے اپیل کی جائے تو محب الوطن تاجر از خود ’انسداد تجاوزات‘ کے سلسلے میں تعاون کریں گے کیونکہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک مذہب و مسلک کو لاحق نہیں اُور نہ ہی اِس کے خاتمے کی ذمہ داری صرف اُور صرف حکومت اُور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے بلکہ یہ پورے پشاور کو لاحق خطرہ اُور ایک اجتماعی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے ’اجتماعی (مربوط) محنت و کوشش کی پہلے سے زیادہ آج ضرورت ہے۔‘

....

Editorial Page Daily Aaj 21 July 2023

Clipping from Editorial Page Daily Aaj 21 July 2023


Thursday, August 4, 2022

Surprise element of Muharram Security Plan

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: سرپرائز ایلیمنٹ

محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کی کوششیں اِس قدر اچانک اُور اِس قدر وسیع پیمانے پر کی جا رہی ہیں کہ اندرون شہر کے کئی علاقوں میں کاروباری مراکز 2 محرم الحرام ہی سے بند اُور بالخصوص شرپسندوں یا دہشت گردوں پر بند کروا دیئے ہیں جبکہ شہر میں داخلے کے راستے بھی کم کر دیئے گئے ہیں اُور اگر کسی شخص کو گاڑی یا موٹرسائیکل پر اندرون شہر سے بیرون شہر کسی ضرورت کے لئے جانا پڑے تو اُسے مختلف راستوں کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔ ماضی میں اِس قسم کے اقدامات و انتظامات 6 محرم الحرام سے کئے جاتے تھے اُور انہی اقدامات و انتظامات کے تحت مذہبی اجتماعات سے ملحقہ مساجد میں ایک ایک پولیس اہلکار کی ’مستقل تعیناتی‘ بھی چھ محرم الحرام ہی سے ہوتی تھی لیکن اِس کا عرصہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں کرنا چاہتے اُور اُن کی کوشش ہے کہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ (یکم سے دس محرم الحرام) بنا کسی بدمزگی گزر جائے تاہم محرم الحرام کی مناسبت سے اجتماعات اُور جلوسوں کا تعلق صرف ’یوم عاشور (دس محرم)‘ تک نہیں بلکہ یہ سلسلہ سوئم امام سے چہلم امام (اربعین) تک پھیلا ہوا ہے جو ’ایام عزا‘ کا حصہ ہے۔

 ذہن نشین رہے کہ ’ایام عزا‘ کہلانے والا عرصہ 8 ربیع الاو¿ل تک جاری رہتا ہے‘ جس کے بعد مساجد و امام بارگاہوں اُور مزارات کی سیاہ پوشی ختم کر دی جاتی ہے اُور اِس دوران مجموعی طور پر ہزاروں کی تعداد میں اجتماعات منعقد ہوتے ہیں‘ جن کی حفاظت کے لئے پولیس کو خصوصی انتظامات کرنا پڑتے ہیں اُور یقینا پہلا عشرہ محرم سمیت 2 ماہ 8 دن کے ’ایام ِعزاداری‘ پولیس کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتے۔ گزشتہ تیس برس کے دوران کئے گئے جو مختلف ”حفاظتی تجربات“ کئے گئے ہیں‘ اُن کی ناکامی کا ثبوت یہ ہے کہ ہر سال ”محرم سیکورٹی پلان“ کے لئے پہلے سے زیادہ ’مالی و افرادی وسائل‘ درکار ہوتے ہیں۔ اضافی پولیس اہلکار دیگر اضلاع سے طلب کرنا پڑتے ہیں‘ جن کی میزبانی بھی پشاور ہی کو کرنا ہوتی ہے اُور یہ ایک مہنگا عمل ہے۔ خیبرپختونخوا کے سیاسی اُور قانون نافذ کرنے والے حفاظتی فیصلہ ساز اگر روائتی انداز میں ’امن و امان‘ سے متعلق ”وقتی حکمت ِعملیاں“ تشکیل نہ دیں تو صورتحال اِس حد تک معمول پر آ سکتی ہے اُور ہر ضلع کی پولیس ہی اُس کی حفاظتی ضروریات کے لئے کافی ہوگی اُور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع کو حساس و انتہائی حساس اضلاع قرار دینے جیسے جھنجھٹ سے بھی نجات مل جائے گی۔ البتہ اِس ناممکن کو ممکن بنانے کے لئے قانون و قواعد کا بلاامتیاز و سخت ترین اطلاق کی ضرورت ہے جو ”زیادہ محنت طلب‘ مستقل توجہ اُور مصلحت آمیز طرزحکمرانی سے چھٹکارا حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔“

محرم الحرام کے ابتدائی 4 دنوں میں پشاور شہر سمیت بیرون و مضافاتی شہری و دیہی علاقوں میں بھی کاروباری سرگرمیوں متاثر ہیں۔ شہر میں اجناس کی منڈیاں بند ہیں یا اُن تک رسائی مشکل بنا دی گئی ہے۔ محرم سیکورٹی پلان کے تحت ٹریفک کا نظام بھی اچانک سختیوں کا مجموعہ ہے جبکہ ’غیر رجسٹرڈ   گاڑیوں‘ فینسی نمبر پلیٹ‘ بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں و موٹرسائیکلوں‘ گاڑیوں کے شیشے کالے کرنے یا ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنے والوں کے خلاف اگر محرم الحرام سے ایک ماہ قبل اُور مستقل بنیادوں پر مہم چلائی جائے تو اِس کے زیادہ مفید نتائج برآمد ہوں گے۔ پشاور ٹریفک پولیس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق محرم الحرام کے پہلے تین دنوں کے دوران بتیس سو پچاس سے زائد موٹرسائیکل سواروں کو ”ڈبل سواری“ کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ جبکہ موٹرسائیکل کے ملکیتی کاغذات نہ رکھنے والے سینکڑوں موٹرسائیکل کو قبضے میں لے لیا گیا۔ ٹریفک قواعد کے خلاف اِس قسم کا ”کریک ڈاؤن“ اپنی جگہ اہم اُور ضروری ہے تاہم پشاور شہر اُور بیرون شہر کے علاقوں میں نہ تو ٹریفک سگنلز دیکھنے کو ملتے ہیں اُور نہ ہی ٹریفک سائن بورڈز کے ذریعے آمدورفت کے بہاؤ کو نظم و ضبط کا پابند بنایا گیا ہے۔ یہ صورتحال پشاور کے علاؤہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں زیادہ گھمبیر (ناقابل بیان) ہے۔ محرم سیکورٹی پلان ”غیرضروری“ نہیں ہے لیکن ”غیر حساس“ ضرور ہے۔ جن راستوں کو بند کیا جاتا ہے اُس سے متعلق عوام کو آگاہ کرنے کو ضروری نہیں سمجھا جاتا اُور یہی بات ’محرم سیکورٹی پلان‘ کی سب سے بڑی خامی ہے کہ اِس کا اطلاق جن (ہم عوام) پر کیا جاتا ہے وہ اِس سے بے خبر‘ حیران و پریشان ہوتے ہیں لہٰذا مذکورہ حکمت عملی کا ”سرپرائز ایلیمنٹ“ ختم ہونا چاہئے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ اگر ”سٹی ٹریفک پولیس پشاور“ کے فیصلہ ساز یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کا کام صرف قواعد پر عمل درآمد ہے اُور اِن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ’کبھی کبھار‘ سخت کاروائی کرنی ہے تو اِس سے ٹریفک قواعد پر عمل درآمد کا بنیادی مقصد (ہدف) حاصل نہیں ہوگا۔ صوبائی فیصلہ سازوں کو چاہئے کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد سے جو جرمانہ وصول کیا جاتا ہے اُس کا ایک خاص حصہ متعلقہ ضلع میں ٹریفک کے نظام کو مرتب کرنے کے لئے مختص کیا جائے۔ موجودہ صورتحال میں ٹریفک پولیس کے اہلکار اُور دفتروں میں بیٹھے اِن کے آفیسرز جرمانوں کی صورت وصول ہونے والی رقم کا ایک خاص حصہ آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں جبکہ اُنہیں ٹریفک قواعد پر عمل درآمد کروانے کی الگ سے تنخواہ اُور دائمی مراعات بھی مل رہی ہوتی ہیں! یہ سراسر غیرمنطقی ہے کہ کسی سرکاری ملازم کو اِس بات کی الگ سے تنخواہ (شاباشی) دی جائے کہ اُس نے اپنی ملازمتی خدمات سرانجام دی ہیں!

پشاور کے ’محرم سیکورٹی پلان‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اِس میں حکومت کے پاس فہرست (رجسٹرڈ) ہوئے مقامات ہی پر مذہبی اجتماعات یا مقررہ راستوں پر جلوسوں کے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ نئی امام بارگاہوں کا قیام اُور اجتماعات کے نئے مقامات یا جلوسوں کی نئی گزرگاہیں مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ ہر سال ایسا کرنے والوں کے خلاف مقدمات (ایف آئی آرز) درج کی جاتی ہیں اُور اِس سلسلے میں قواعد پر سختی سے عمل درآمد بالخصوص گزشتہ تیس برس سے جاری ہے‘ جس کے خلاف متاثرین نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے رجوع کیا اُور عدالت نے اِس بات کی اجازت دیدی ہے کہ حکومت کے پاس رجسٹرڈ مقامات کے علاؤہ بھی اہل تشیع جہاں چاہیں محرم الحرام کی مناسبت سے اجتماعات یا ماتمی و منت کے دیگر جلوسوں کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے تاہم اِس کی وجہ سے پولیس کے موجودہ ’محرم سیکورٹی پلان‘ پر نظرثانی کی ضرورت شاید اِس سال نہ پڑے لیکن آئندہ برس محرم کے حفاظتی انتظامات کے لئے زیادہ مالی و افرادی وسائل مختص کرنا پڑیں گے۔ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سیّد ارشاد علی اُور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل 2 رکنی بینج نے ’دو اگست‘ کے روز امامیہ جرگہ کی محرم کمیٹی کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کی گئی اُور ایسا حسب حال و ضرورت سیکورٹی پلان کی تشکیل سے اتفاق کیا گیا جس میں ہر کسی کو عبادات کرنے کی آزادی حاصل ہو کیونکہ وقت کے ساتھ پشاور کی آبادی بڑھ گئی ہے جس کے تناسب سے عبادت گاہوں اُور مراسم ِعزاداری کی ادائیگی کے مقامات میں اضافہ ضروری ہے۔ محرم الحرام کا تقدس‘ احترام اُور اِس ماہ پیش آنے والے واقعات کی یادآوری کے لئے اجتماعات پشاور میں پائی جانے والی مذہبی رواداری‘ اخوت و محبت کا آئینہ دار ہے اُور اِس گلدستے کا ہر پھول اہم اُور خوشبو کے لحاظ سے منفرد ہے‘ جس کی تب و تاب اُور تروتازگی برقرار رہنی چاہئے۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar 4th August 2022 Thursday


Monday, August 1, 2022

Muharram & Security Concerns

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: محرم سیکورٹی پلان

نئے اسلامی سال (محرم الحرام 1444ہجری)کے پرامن آغاز کے لئے مختلف حکومتی اداروں نے مربوط حفاظتی حکمت عملیاں (سیکورٹی پلانز) تشکیل دی ہیں‘ جن میں محکمۂ پولیس‘ محکمۂ صحت‘ پشاور کی ضلعی حکومت و انتظامیہ شریک ہیں جبکہ طبی و ہنگامی حالات یا کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری 4 ہزار سے زائد ریسکیو اہلکاروں کو سونپی گئی ہے‘ جنہیں 95 ایمبولینسیز اُور 24 آگ بجھانے والی گاڑیوں بمعہ عملہ چاق و چوبند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اہلکاروں کی تعطیلات تاحکم ثانی ختم کر دی گئی ہیں جبکہ حالات پر نظر رکھنے کے لئے ریسکیو حکام نے الگ ’کنٹرول روم‘ بھی بنایا ہے جو ’پولیس کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر‘ کے ساتھ رابطے میں رہے گا اُور ریسکیو اہلکار محرم الحرام کی مناسبت سے منعقد ہونے والے تمام اجتماعات کے آس پاس تعینات رہیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ اِس مرتبہ محرم الحرام کے آغاز سے قبل خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کے لئے مراعات میں اضافہ کرتے ہوئے گریڈ سات سے سولہ کے اہلکاروں کے لئے ’رسک الاؤنس‘ کی شرح میں ’پندرہ فیصد‘ اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یکم جولائی دوہزاربائیس سے کئے جانے والے اِس اضافے سے گریڈ سات کے پولیس اہلکار کو ’رسک الاؤنس‘ کی مد میں پہلے 5754 روپے ملتے تھے جنہیں بڑھا کر 7400 روپے کر دیا گیا ہے جبکہ ’گریڈ 9‘ کے ہیڈ کانسٹیبلز کے لئے ’رسک الاؤنس‘ 6227 روپے سے بڑھا کر 8 ہزار روپے کرنے سے پولیس اہلکاروں میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ نئے حکمنامے سے ’گریڈ 11‘ کے پولیس اہلکار 8600 روپے‘ گریڈ 14 کے اہلکار 10 ہزار 300 روپے‘ گریڈ سولہ کے اہلکار ماہانہ 12 ہزار 700 روپے بطور الاؤنس وصول کریں گے جو بنیادی تنخواہ کے تناسب سے پندرہ فیصد بڑھایا گیا ہے لیکن یہ سبھی حفاظتی انتظامات اُور دوڑ دھوپ اُس وقت تک ناکافی رہے گی جب تک ’پشاور سیف سٹی پراجیکٹ‘ مکمل نہیں کیا جاتا۔ ذہن نشین رہے کہ گزشتہ 13 برس سے مذکورہ منصوبہ التواکا شکار ہے جبکہ اِس کی تکمیل کے لئے ہر سال صوبائی بجٹ میں خطیر رقم مختص کی جاتی ہے۔ رواں مالی سال دوہزار بائیس تیئس کے صوبائی بجٹ میں بھی ’پشاور سیف سٹی پراجیکٹ کے لئے 50 کروڑ (500ملین) روپے مختص کئے گئے ہیں لیکن ہر سال منصوبے پر لاگت میں اضافے کی وجہ سے یہ منصوبہ ’سفید ہاتھی‘ بن گیاہے جس کے لئے 2009-10ءکے مالی سال سے کوششیں جاری ہیں۔ 

پشاور سیف سٹی منصوبہ کیا ہے؟
خیبرپختونخوا اسمبلی کو فراہم کردہ دستاویزات اُور پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق پشاور کے 850 مقامات جن میں داخلی و خارجی راستے بھی شامل ہیں کی نشاندہی کر دی گئی ہے جہاں 6 ہزار سے زائد کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ اِس منصوبے کو مرحلہ وار مکمل کرنے کی بھی کوشش کی گئی جس کے تحت قبائلی ضلع سے متصل حیات آباد (رہائشی و صنعتی بستی) میں کلوزسرکٹ کیمرے نصب کئے گئے ہیں تاہم یہ مرحلہ وار حکمت عملی سے بھی خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ہیں! قابل ذکر ہے کہ پشاور کے لئے ’سیف سٹی منصوبہ‘ اسلام آباد‘ لاہور کے ساتھ بیک وقت اعلان کیا گیا تھا جسے عملی جامہ پہناتے ہوئے سال 2015ءمیں پنجاب حکومت نے ’سیو سٹیز اتھارٹی‘ بھی بنائی تاکہ لاہور کے علاؤہ پنجاب کے دیگر شہروں کو بھی نگران ٹیکنالوجی کے استعمال سے محفوظ بنایا جا سکے۔ پشاور کے سیف سٹی منصوبے میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اِس کی تکنیکی ضروریات پر ہر سال نظرثانی کی جاتی ہے اُور فیصلہ سازوں کی تازہ ترین خواہش یہ سامنے آئی ہے کہ کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے شمسی (سولر) سسٹم سے توانائی حاصل کریں اُور اِنہیں بنا کسی تار (روائتی کنکشن) کسی دور دراز مقام پر‘ پرآسائش دفاتر میں بیٹھ کر کنٹرول کیا جا سکے جبکہ مؤثر پولیسنگ کے لئے نگرانی کا عمل ہزاروں کی تعداد میں ٹیلی ویژن کیمروں سے نہیں بلکہ حسب آبادی پولیس کے افرادی وسائل اُور تھانہ جات کی تعداد میں اضافے سے عملاً ممکن ہے۔ کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں کی مدد سے کسی جرم یا دہشت گردی کے رونما ہونے کے بعد تفتیش میں تو مدد مل سکتی ہے لیکن اِس سے جرائم یا دہشت گردی رونما ہونے سے روکی نہیں جا سکتی یا جرائم و دہشت گردی سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کم کرنا ممکن نہیں۔ اِس لئے پولیس تھانہ جات اُور چوکیوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بارہ سو مربع کلومیٹر پر پھیلے پشاور کی نگرانی کا مرکزی نظام بنانے کی بجائے جس کی دیکھ بھال و دیگر ضروریات پر بھی زیادہ اخراجات آئیں گے‘ ہر تھانے کی حدود میں مقامی کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں سے نگرانی کا عمل متعارف کرایا جائے تاکہ کسی ایک مرکزی نظام میں خرابی کی صورت پورے پشاور کی سیکورٹی کا ’بلیک آؤٹ‘ نہ ہو۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ پولیس کے لئے ’گشتی نگران اسکوڈ‘ تشکیل دینا چاہئے جو کم فاصلے پر کسی بھی علاقے میں فوری طور پر کیمروں کی تنصیب اُور جیو فینسنگ آلات سے لیس ہونا چاہئے۔ اِس نگران گشتی اسکوڈ کی خدمات سے استفادہ خصوصی و عمومی اجتماعات اُور عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئے ہونا چاہئے‘ جن میں نصب موبائل فون جیمرز کی مدد سے کسی متعلقہ و ملحقہ علاقوں ہی میں موبائل سروسیز معطل کی جائیں۔ عموماً سات سے دس محرم الحرام (چار دن کے لئے) پشاور شہر میں موبائل فون سروسیز معطل کرنے کے علاؤہ کاروباری مراکز پانچ محرم الحرام ہی سے بند کر دیئے جاتے ہیں اُور یوں ایک غیراعلانیہ کرفیو کے سماں (ماحول) میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ہر سال محرم الحرام سیکورٹی پلان پر تاریخیں اُور آفیسرز کے نام تبدیل کرنے کی بجائے اگر ٹیکنالوجی کے عقلمندی سے استعمال اُور اِس کی خامیوں  یا کمزوریوں کو کماحقہ سمجھتے ہوئے حفاظتی حکمت عملی تشکیل دی جائے تو یہ زیادہ بامقصد (باہدف) اُور شہری زندگی کو معطل کرنے کی صورت خوف و ہراس پھیلائے بغیر بھی کارآمد و یادگار ہو سکتی ہے لیکن اِس کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت ہوگی۔

پشاور کا محرم الحرام کیا ہے؟
صوبائی دارالحکومت پشاور میں یکم سے دس محرم الحرام کے دوران 126 (شرکا کی تعداد کے لحاظ سے چھوٹے بڑے) ماتمی جلوس برآمد ہوتے ہیں جبکہ مجموعی طور پر پشاور کی 62 امام بارگاہوں میں 306 مجالس کاانعقاد ہوتا ہے۔ اِن میں خواتین کی خصوصی مجالس بھی شامل ہیں جن کا آغاز یکم محرم الحرام سے قبل اُور زیادہ تر چاند رات سے ہوتا ہے۔ ماتمی جلوسوں‘ مجالس اُور سبیلوں کی حفاظت کے لئے 33 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے جاتے ہیں‘ جن میں جلوس کی گزرگاہوں میں بلند مقامات اُور مساجد میں بھی پولیس اہلکاروں کو دس روز تک مستقل تعینات رکھا جاتا ہے‘ اِس کے علاؤہ ہر جلوس کے آگے‘ پیچھے اُور دونوں اطراف پولیس کا حصار بنایا جاتا ہے اُور مقررہ مقامات کے علاؤہ جلوس یا مجلس عزا میں شرکت کے لئے داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ جلوسوں اُور اِس کے راستوں کی فضائی نگرانی کی جاتی ہے اُور اِس موقع پر بانیان ِمجلس کے تعاون سے جامہ تلاشی کا انتظام بھی کیا جاتا ہے جس کے لئے ہر امام بارگاہ اپنے افرادی وسائل فراہم کرتا ہے اُور اِس مقصد کے لئے حیدریہ سکاؤٹس‘ مختار فورس‘ امامیہ سٹوڈنٹس و دیگر مقامی تنظیمیں حفاظتی انتظامات و حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہیں۔

Clipping from Daily Aaj - 1st August 2022 Monday


Sunday, July 24, 2022

Knowledge for peace

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

العلم

اِنسان نے اپنی لاعلمی کا اعتراف ہر دور میں کیا اُور یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشروں میں صدیوں سے اِس مسلمہ اصول پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ”علم صرف حقیقت نہیں بلکہ علم ہی حقیقت ہے‘ جسے انسانی معاشرہ معلومات و تجربات سے اخذ یا حاصل کرتا ہے اُور اِس حاصل شدہ مرکب کی جامعیت کے لئے جو اصول وضع کئے گئے ہیں اُن کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ انسانی معاشروں میں تعمیر و ترقی ہونی چاہئے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ علم کے کسی خاص حد سے زیادہ ہونے کے بعد اِس کے بطن سے تخریبی عوامل کا ظہور ہونا شروع ہو جاتا ہے اُور یہ علم کے ارتقا اُور معاشرے میں پائی جانے والی علم کی ضرورت (طلب) کا ایک نہایت ہی بدلا (نکھرا) ہوا تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اپنا حاصل کردہ اُور تخلیق کردہ علم نامکمل ہے اُور اِسے جامع بنانے کے لئے ضروری ہے کہ انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ”علم“ کو سیال بنایا جائے یعنی علم کے دامن میں اِس قدر گنجائش ہو کہ یہ مختلف نظریات‘ آرا‘ تجاویز‘ تاثرات‘ تشریحات اور تعبیرات کو سمو سکے اُور اپنے ہی وضع کردہ اصولوں پر نظرثانی کرنے جیسے ظرف کا بھی حامل ہو۔

علم کیا ہے؟

مصنفین (اساتذہ) کا نقطہ نظر ہے کہ یہ درحقیقت رجحانات‘ دلچسپیوں اور ان کے لئے دستیاب ذرائع کی بنیاد پر حاصل ہونے والا ”تاثر“ بنیادی جبکہ اِس ایک تاثر سے اُبھرنے والے تاثرات کا مجموعہ جامع ”علم“ ہے۔ علم اُور ”تعمیر نو“ کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے خطبات موجود ہیں لیکن اگر اُن سبھی تصورات کو کسی ایک تصور کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا جائے تو اُس کا عنوان ”علم فی نفس“ ہوگا۔ یہ موضوع وسیع ہے اُور یہاں صرف اشارتاً ذکر کیا جا رہا ہے کہ آج کا انسان ہر شے کے بارے میں خود سے زیادہ آشنا ہے لیکن اِسے اپنے اندر جھانکنے کی فرصت نہیں کہ جہاں اربوں برس کا ارتقائی علم محفوظ ہے۔ بہرحال ’علم فی نفس‘ کے بارے میں لاتعداد نکتہ ہائے نظر موجود ہیں اُور اِس ایک عنوان کو سمجھنے اُور بیان کرنے کے لئے قرآن و احادیث مبارکہ کے تراجم و تفاسیر‘ تاریخ اُور فقہ کی کتابوں کے علاؤہ فتاویٰ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے تاکہ علم کی حقیقت (بنیاد) تک بنا بھٹکے پہنچا جا سکے۔ علم کسی ایک ہی بیان یا حقیقت کے متعدد پہلو اُور اِن پہلوؤں کے مختلف نظریات ہوسکتے ہیں۔ کسی خاص معاملے میں قانونی یا اخلاقی پہلو‘ کئی طرح کے احکام بھی علم ہی میں شامل ہیں۔ توجہ طلب ہے کہ ہر مصنف (معلم) کسی واقعہ یا اپنے بیان (علمی نظریئے) کی ”درست“ تشریح کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہی ’درست‘ نظریہ کسی دوسرے شخص کے لئے بالکل اُلٹ (غلط) ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اسے مختلف (ایک بالکل نئے زاویئے) نقطہ نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اِس طرزعمل کی وجہ سے ابہام پیدا ہوتا ہے اُور علم تک پہنچنے کی کوشش میں جہاں کہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر قرآن و حدیث کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اِس سے انواع و اقسام کی تشریحات بصورت مسائل پیدا ہوتی ہیں۔ علم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اِسے جان بوجھ کر (دانستہ کوشش سے) مسخ بھی کیا جا سکتا ہے اُور انسانی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جہاں علم کو مفادات کے تابع کرتے ہوئے حقائق مسخ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ 

”علم“ آزادی چاہتا ہے۔ یہ آزادی اظہار کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ علم فرمان تابع اُور قابل فروخت نہیں ہونا چاہئےکہ یہ حکمرانوں کی خواہشات اُور خوشنودی کا باعث ہو۔ بہت سے مورخین ایسا کرتے رہے ہیں۔ بہت سی قومی ریاستیں بھی اپنے سیاسی ایجنڈوں اور نظریات کے مطابق تاریخ کو مسخ کرتی آئی ہیں۔ جدید دور میں جملہ ذرائع ابلاغ (بشمول الیکٹرانک و پرنٹ اُور سوشل میڈیا) اپنے مفادات کے لئے کسی خاص شے (برانڈ) یا شخصیت یا سیاسی جماعت کو دوسروں سے بہتر (پرکشش) بنا کر پیش کرتا ہے۔ اِس طرزعمل کے باعث اختلافات کو فروغ ملتا ہے۔ علم رکھنے والے طبقات کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسی کسی صورتحال میں خاموشی اختیار کرنے کی بجائے ”علم“ کے ساتھ جڑے فرائض اُور ذمہ داریوں کو ادا کریں اُور کسی معاشرے کو اختلافات سے بچائیں۔ صرف علم کا فروغ ہی فرقہ پرستی (فرقہ واریت) کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ تاویلات کی کثرت کو تاریخی حقیقت اُور مکمل علم سمجھنے کی بجائے‘ اگر علم کی تلاش علم ہی کے ذریعے کی جائے تو اِس سے مفید نتیجہ حاصل ہوگا۔ عموماً علم کی تلاش میں جہالت سے کام لیا جاتا ہے اُور جہل کی خصوصیت یہ ہے کہ اِسے جس قدر بھی ”کھنگالا“ جائے اِس سے سوائے تاریکی کچھ برآمد نہیں ہوگا۔ علم کی شناخت یہ ہے کہ یہ فرقہ واریت (اختلافات) کم کرے گا۔ یہ معاشرے کو توڑنے کے لئے نہیں بلکہ اِسے جوڑنے کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔

انسان کی تشریح علم اُور علم کی تشریح انسان ہے۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ایک دوسرے کی خوشنمائی کا باعث ہیں اُور اگر یہی ایک پہلو مدنظر رکھا جائے تو کوئی بھی خاص دن‘ ہفتہ‘ عشرہ یا مہینہ ایسا نہیں ہو سکتا جب مختلف النظریات علمی دلائل کی وجہ سے معاشرے کو خطرات لاحق ہوں اُور ہر طرف سے امن‘ امن کی بلند ہوتی صدائیں سنائی دے رہی ہوں۔ مولانا جلال الدین‘ بلخی جلال الدین رومی المعروف مولانا رومی پیدائش 1207ءوفات 1273ءنے اپنے کلام ’مثنوی مولوی معنوی‘ میں علم کے تعمیری پہلوؤں اُور انسانی کردار جیسے تصورات کو نہایت ہی خوبصورتی سے بیان کیا ہے ”تو برائے وصل کردن آمدی .... نے برائے فصل کردن آمدی (ترجمہ) اے انسان تیری تخلیق کا مقصد لوگوں کو آپس میں ملائے رکھنا ہے ناکہ تیری تخلیق کا مقصد انسانی معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنا ہے۔“

نظریات اگر لچکدار‘ غیرجانبدار اُور تعمیروترقی کا باعث نہیں تو یہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن علم نہیں۔ اصول یہ ہے کہ غیر جانبدار نتائج تک پہنچنے کے لئے ان کا ممکنہ حد تک معروضی تجزیہ کیا جائے۔ دوسروں کے خیالات کو زیادہ توجہ (ہمدردی) سے سُنا جائے۔ سماجیات سے متعلق علم کا جدید پہلو یہ ہے کہ یہ ایک نقطہ نظر کی تخلیق‘ تعمیر اور تعمیر نو کا حاصل (نتیجہ) ہوتا ہے جس میں سیاق و سباق‘ اوقات اُور محرکات سے علم وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں جبکہ اعلیٰ تعلیم کا تصور محدود نہیں رہا اُور اِس میں انسانی سماج کے ارتقا‘ اِس کی تاریخ و ثقافت اُور عقائد و نظریات کا مطالعہ بوساطت ’انٹرنیٹ‘ نسبتا آسان ہوگیا ہے تو وقت ہے کہ نوجوان (مرد و خواتین کے) ذہنوں کو مطالعے (کتب بینی) اُور علمی موضوعات پر بحث و مباحثے کی سہولت و ترغیب فراہم کی جائے۔ اس کے علاؤہ ”ادب (فنون لطیفہ)“ تک رسائی زیادہ وسیع اُور اِن کے معروضی مطالعے کو ممکن بنایا جائے۔ 

جدید تحقیقی مضامین جیسا کہ بشریات‘ سماجیات‘ نفسیات اور آثار قدیمہ توجہ طلب ہیں جن کے ذریعے ثقافتوں کا مطالعہ ممکن ہے اُور جب ہم دوسروں کی تاریخ و ثقافت کے مطالعے سے ”حصول ِعلم“ کا آغاز کریں گے تو یہی ’نافع (باعث نفع) عمل‘ ہوگا۔ علم کا سانس سُوال سے گھٹنا نہیں چاہئے بلکہ علم ساکت و جامد نہیں بلکہ مسلسل و جاری حقیقت ہے۔ اگر ہم غور و فکر اُور فکر و غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمیں اپنے ہی تصورات (پسند و ناپسند) نے گھیر رکھا ہے۔ علم کی بنیاد تنقید ہے اُور تنقیدی سوچ ہمیں اپنے آپ کو افلاطونی غاروں کے اندھیروں میں موجود تاریکی کی پرتوں میں گم اپنا آپ تلاش کرنے میں مدد کرتی ہے۔ سوچنے کی گھڑی ہے کہ تاریخی شعور کی ہماری دیواروں پر اگر فرقہ وارانہ رنگوں سے گلکاریاں موجود ہیں تو ہمیں وقتی تعبیرات سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے اور اپنی تاریخ‘ ثقافت‘ عقائد‘ طور طریقوں کو ہمیشہ متحرک‘ تعمیر و تعمیر نو کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ ہمیں تاریخ کے ارتقا‘ خیالات‘ نظریات‘ عملی نمونوں اور نقطہ ہائے نظر کے ذخائر میں چھپے ہیرے بصورت تشریحات تلاش کرنی ہیں تاکہ معاشرے کو ایک دوسرے سے زیادہ قریب لایا جا سکے‘ جس کے لئے قرآن و سنت جیسی جامع رہنمائی اُور قرآن و سنت پر عمل کرنے والے رہنما (بطور مقلد و تقلید) موجود ہیں۔

....

Clipping from DailyAaj Peshawar July 24, 2022 Sunday


Tuesday, August 3, 2021

Muharram ul Harram & Security Concerns

محرم الحرام‘ تیاریاں‘ انتظامات اُور خدشات
 اسلامی سال کے پہلے مہینے ’محرم الحرام‘ کا آغاز 9 یا 10 اگست سے ہو رہا ہے جبکہ یوم عاشور (10محرم الحرام) اٹھارہ یا اُنیس اگست اُور چہلم اِمام 27 یا 28 ستمبر روائتی مذہبی جوش و خروش سے منانے کی تیاریاں اُور انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر محرم الحرام کے آغاز سے 8 ربیع الاوّل تک کا عرصہ بطور ’ایام ِعزا (سوگ)‘ منایا جاتا ہے اُور اِن ’ایام ِعزا‘ کے دوران عبادت گاہوں (اِمامیہ مساجد و امام بارگاہوں) کی سیّاہ پوشی کی جاتی ہے۔ کامل ”2 مہینے 8 دن“ پر مشتمل اِن ایام ِعزا کے حوالے سے ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہری سہولیات فراہم کرنے والے اداروں اُور محکمہ¿ صحت کو شریک کرتے ہوئے ضلعی حفاظتی اقدامات (سیکورٹی پلانز) تشکیل دیئے ہیں‘ جن پر ’عدم اِطمینان‘ کا اظہار کرتے ہوئے امامیہ جرگہ خیبرپختونخوا نے پشاور سمیت حساس علاقوں میں سیکورٹی انتظامات سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عزاداریسیّد الشہدا  کے ذریعے تمام مسالک اُور جملہ مسلم و غیر مسلم مکاتب ِفکر کے درمیان جس ہم آہنگی کا قیام اُور فروغ ہونا چاہئے‘ اُس کی اہمیت و ضرورت تو ہر کوئی محسوس کر رہا ہے لیکن اِس سلسلے میں اِنفرادی و اجتماعی حیثیت سے ’ذمہ داری‘ اُور ’احساس ِ ذمہ داری‘ عام نہیں۔

محرم الحرام کی آمد سے قبل اخبارات میں ضلعی اِنتظامیہ اُور پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تصاویر شائع کروانے والے مانوس چہرے نمودار ہوتے ہیں۔ امن کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں لیکن پشاور میں بالخصوص اُور خیبرپختونخوا میں بالعموم وہ امن بحال نہیں ہو رہا جو12 جولائی 1992ء(یوم عاشور) کے موقع پر ’سانحہ¿ کوہاٹی گیٹ‘ کے بعد سے متاثر ہے اُور جس کی برسی و غم صرف اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے وہ گھرانے بھی مناتے ہیں‘ جن کے پیارے مذہب کی بنیاد پر پائی جانے والی نفرت کا نشانہ بنے تھے۔ مذکورہ سانحے میں 10 افراد قتل جبکہ درجنوں زخمی ہوئے اُور اِس سانحے کے بعد پیدا ہوئی کشیدگی اپنی جگہ جبکہ املاک پر حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا‘ جو پشاور کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔

محرم الحرام کی مناسبت سے حفاظتی انتظامات پر سرکاری خزانے سے ہر سال کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن مثالی صورت میں امن و امان کو بحال نہیں کیا جاتا جس کے بعد خصوصی حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہی پیش نہ آئے جیسا کہ مقامی اُور غیرمقامی کی تمیز نہ کرتے ہوئے بازاروں اُور راستوں کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کرنا اُور موبائل فونز کی سروسیز معطل رکھنے جیسے انتظامات ناقابل فہم ہیں۔ 1992ءسے قبل میں صرف افغان مہاجرین اُور مقامی و غیرمقامی (دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے) متنازعہ علمائے کرام کے داخلے پر پابندی عائد کی جاتی تھی لیکن سوشل میڈیا اُور انٹرنیٹ کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر پھیل جاتی ہیں اُور یہ پابندی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ کورونا وبا کے ظاہر ہونے کے بعد سے رواں برس دوسری مرتبہ محرم الحرام کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات منعقد ہوں گے جن میں مساجد و امام بارگاہوں کی چاردیواریوں کے اندر اُور کھلے مقامات پر ”کربلا شناسی“ عام کرنے کے لئے ذکر و فکر کی محافل منعقد ہوں گی جنہیں اِس سال کورونا قواعد (SOPs) کی روشنی میں منعقد کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے کیونکہ نئی قسم (ڈیلٹا وائرس) کی موجودگی اُور وفاقی و خیبرپختونخوا حکومتوں کی جانب سے نئے حفاظتی انتظامات (2 اگست) جاری کئے گئے ہیں جن میں اگرچہ محرم الحرام کا ذکر نہیں لیکن چونکہ محرم الحرام کی مناسبت سے تقاریب کا آغاز ہفتے دس دن میں ہونے والا ہے‘ اِس لئے کسی الگ ہدایت نامہ کی ضرورت نہیں اُور کسی بھی مسلک کی نمائندگی کرنے والوں کو طلب کر کے اُن سے اِس بات کا تحریری عہدنامہ لینا چاہئے کہ وہ اپنے ہاں ہونے والے اجتماعات میں ’کورونا ایس اُو پیز‘ کو یقینی بنائیں گے اُور اگر زبانی کلامی یا تحریری یقین دہانی کے باوجود گزشتہ برس کی طرح اِس سال بھی ’کورونا ایس او پیز‘ پر عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آتا تو ایسی صورت میں ضلعی اِنتظامیہ اُور پولیس کے اَعلیٰ حکام پر اُن کرداروں کی حقیقت عیاں ہو جانی چاہئے جن کے لئے محرم الحرام اُن کی ذاتی تشہیری سرگرمیوں (معمولات) کا نادر موقع ہوتا ہے۔ کسی اُور مرحلہ فکر پر بیان کیا جائے گا کہ اِمام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی (قیام و عمل) کا ذکر کس طرح ہدایت‘ اخلاقیات پر مبنی معاشرت اُور سب سے بڑھ کر اِنسانیت کے فروغ کا ذریعہ ہیں لیکن اِس لمحہ فکریہ پر صرف اِسی جانب توجہ دلانی ہے کہ اگر ’درحسینؓ پہ ملتے ہیں ہر مزاج کے لوگ .... یہ دوستی کا وسیلہ ہے دشمنی کا نہیں“ اُور اگر اِس حقیقت کو بھی سمجھ لیا گیا ہے کہ ”اِنسان کو بیدار تو ہو لینے دو .... ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ“ تو پھر اختلاف کی گنجائش کہاں اُور کیوں رہ جاتی ہے!؟

علامہ ڈاکٹر سیّد کلب حسین صادق نقوی (وفات نومبر دوہزاربیس) نے ایک خاص نکتے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا تھا کہ ”اگر منبر سدھر جائے تو معاشرہ خود بخود سدھر جائے گا۔“ مگر مشکل تو یہی ہے کہ منبر و محراب کی ذمہ داریوں کا خاطرخواہ احساس نہیں کیا جا رہا اُور ”تو برائے وصل کردن آمدی .... نے برائے فصل کردن آمدی (ترجمہ) تو جوڑ (پیار) پیدا کرنے کے لئے (دنیا) میں آیا ہے ناکہ توڑ (اختلافات) پیدا کرنے کے لئے۔“ جیسی صورتحال درپیش ہے۔ اس لئے محرم الحرام کے دوران حالات و تعلقات معمول پر لانے اُور فاصلے و اختلافات ختم کرنے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ اسلامی جمہوریہ میں امن دوست معاشرے کا چہرہ اُبھرے۔ اِس موقع پر تمام تر ذمہ داری علمائے کرام ہی نہیں بنتی بلکہ ہر کس و ناکس کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے تقاریر کے ایسے ٹکڑے (clips) کا  تبادلہ (share)  نہ کرے‘ جن میں فروعی باتوں کو علمی بحث کی بجائے شدت و یک طرفہ زوایئے سے بیان (پیش) کیا جاتا ہے اُور اِس سے مذہبی منافرت پھیلتی ہے۔ مذہبی تعلیمات پر عمل سے لیکر مذہبی عقائد اُور مراسم کی ادائیگی تک ہر لفظ اُور ہر اقدام احتیاط پر مبنی ہونا چاہئے جس سے دوریاں ایجاد نہ ہوں اور فاصلے قربت سے بدل جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
....

Monday, October 2, 2017

Oct 2017: Yum e Ashur Holiday.

NOTE:
Yum e Ashur یوم عاشور observed in Pakistan on Oct 01, 2017. Newspaper not published due to public holiday on Oct 01, that's why no column on Oct 02.

یاداشت
دس محرم الحرام کی سرکاری ملک گیر تعطیل کے باعث اخبارات اور دو اکتوبر کے روز کالم شائع نہیں ہوا۔

Sunday, October 1, 2017

Oct 2017: Karbala - forever!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کربلا: تااَبد قائم رہے گی!
اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ آنحضور اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی۔ 

اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی‘ حریت فکر‘ انسان دوستی‘ مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کو اسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے اس لئے حضرت امام حسین علیہ السلام محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقاء و بحالی کے لئے میدانِ عمل میں اترے‘ راہِ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدانِ کربلا میں گزری وہ جور و جفا‘ بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔ یہ تصور کہ اسلام کے نام لیواؤں پر یہ ظلم خود اُن لوگوں نے کیا جو خود کو مسلمان کہتے تھے بڑا روح فرسا ہے۔ مزید براں‘ حضرت امام حسینؓ کا جو تعلق آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھا اسے بھی ظالموں نے نگاہ میں نہ رکھا۔ نواسہ رسول کو میدانِ کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اور سر کی بے حرمتی کی گئی۔ یہ اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں مزید اضافہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ حضرت امام حسینؓ نے آخری لمحات میں جو انتہائی معقول تجاویز پیش کیں‘ انہیں سرے سے درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا گیا۔ اس سے یزید کی آمرانہ ذہنیت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ نقطہ قابلِ غور ہے کہ جب شخصی اور ذاتی مصالح‘ ملی‘ اخلاقی اور مذہبی مصلحتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں تو انسان درندگی کی بدترین مثالیں بھی پیش کرنے پرقادر ہے اور ایسی مثالوں سے تو یورپ کی ساری تاریخ بھری پڑی ہے لٰہذا اِن حقائق کی روشنی میں سانحہ کربلا کا جائزہ لیا جائے تو یہ واقعہ اسلام کے نام پر سیاہ دھبہ ہے کیونکہ اس سے اسلامی نظامِ حکومت میں ایسی خرابی کا آغاز ہوا جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں لیکن اگر ہم اس سانحہ کو اسلام کے نام پر ایک سیاہ دھبہ بھی قرار دیں تو یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہوگا کیونکہ جہاں تک حق و انصاف‘ حریت و آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لئے جدوجہد کا تعلق ہے یہ کہنا درست ہوگا کہ: سانحۂ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب بھی ہے جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں شخصی حکومتوں یا بادشاہت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یزید کی نامزدگی اسلام کے نظامِ شورائیت کی نفی تھی ۔ 

امام حسینؓ نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت‘ جرأت اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی‘ حریت فکر اور خدا کی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔ امام حسینؓ کا ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ 

سانحۂ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لئے تاریخِ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔ 

’’جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیں: 
تا ابد روشن رہیں گی: 
خدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس ’انفس و آفاق‘ ہے: 
اور خیر کی تاریخ کا وہ باب اوّل ہے: 
ابد تک جس کا فیضان کرم جاری رہے گا: 
یقیں کے آگہی کے روشنی کے قافلے ہر دور میں آتے رہے ہیں: 
تا ابد آتے رہیں گے: ابوطالب کے بیٹے حفظ ناموس رسالت کی روایت کے امیں تھے: 
جان دینا جانتے تھے: 
وہ مسلمؓ ہوں کہ وہ عباسؓ ہوں‘ عونؓ و محمدؓ ہوں‘ علی اکبرؓ ہوں‘ قاسمؓ ہوں‘ علی اصغرؓ ہوں: 
حق پہچانتے تھے: 
لشکر باطل کو کب گردانتے تھے: 
ابوطالب کے بیٹے سر بُریدہ ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
اَبوطالب کے بیٹے‘ پا بجولاں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
ابوطالب کے بیٹے‘ صرف زنداں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیں: 
مدینہ ہو نجف ہو کربلا ہو کاظمین و سامرہ ہو مشہد و بغداد ہو: 
آل ابوطالب کے قدموں کے نشاں ‘اِنسانیت کو اُس کی منزل کا پتہ دیتے رہے ہیں تا ابد دیتے رہیں گے: 
ابوطالب کے بیٹوں اور غلامان علی ابن ابی طالب میں اِک نسبت رہی ہے: 
محبت کی یہ نسبت عمر بھر قائم رہے گی: تا اَبد قائم رہے گی۔ (اِفتخار عارف)‘‘
۔۔

Friday, September 22, 2017

Sept 2017: Muharram associated with security concerns, why?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

اِستقبال محرم الحرام!


ماضی کی طرح رواں برس بھی خیبرپختونخوا میں ’نئے اسلامی سال‘ کا آغاز (استقبال) اَمن و امان کو لاحق خطرات سے نمٹنے‘ دہشت گردی کے خوف کو کم کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے غیرمعمولی ’حفاظتی انتظامات‘ کے ذریعے کیا جارہا ہے لیکن اُس ایک مسئلے (دردسر) کا ’مستقل حل (علاج)‘ تلاش نہیں کیا جاتا‘ جس کی وجہ سے ہر سال قومی خزانے سے کروڑوں روپے ’بنام عارضی سیکورٹی‘ پر خرچ کئے جاتے ہیں! خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے رواں سال ’’محرم الحرام 1439ہجری‘‘ کی مناسبت سے مجالس عزاء‘ ماتمی جلوسوں اُور مذہبی اجتماعات کی ’براہ راست نگرانی‘ کے لئے ’کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن نشریاتی الیکٹرانک آلات‘ نصب کئے جائیں گے۔ یہ بیش قیمت آلات دہشت گردی یا فرقہ واریت اور انتہاء پسندی پر قابو پانے میں کس حد تک معاون ثابت ہوں گے یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے لیکن محرم الحرام کی سیکورٹی کے نام پر کروڑوں روپے نت نئے آلات کی خریداری کی نذر ضرور ہو جائیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ گذشتہ برس نگرانی کے لئے جو کیمرے (نگران آلات) نصب کئے گئے وہ اِس مرتبہ کتنے کارآمد ہیں اور رواں برس نئے آلات کی تنصیب کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے جبکہ محرم الحرام کی مناسبت سے جملہ سرگرمیاں روائتی ہیں اور ان کے اوقات و راستے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی نئے جلوس یا اجتماع کے انعقاد کی باوجود درخواست بھی اجازت نہیں دی جاتی اور کسی مخصوص علاقے میں چھوٹے بڑے اجتماعات کے انعقاد کے باقاعدہ لائسینس (اجازت نامے) جاری کئے جاتے ہیں جن کے بغیر کسی بھی قسم کا چھوٹا بڑا‘ اجتماع یا تقریب منعقد نہیں کئے جا سکتے۔

نیشنل کاونٹر ٹریرازم اتھارٹی (نیکٹا) کی ویب سائٹ (nacta.gov.pk) پر دستیاب 20 نکاتی ’اِنسداد دہشت گردی‘ سے متعلق پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی متفقہ قومی حکمت عملی ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ جنوری دوہزارپندرہ سے توجہ کا طالب ہے‘ جس پر عمل درآمد وفاقی حکومت سے زیادہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی لیکن اِس جامع پلان کے کسی ایک نکتے پر بھی ’سو فیصد‘ عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات اور اس سے قبل و بعدازاں ہر انتخابی معرکے میں کالعدم تنظیموں کے نامزد اُمیدواروں کی کسی نہ کسی صورت نمائندگی ہوتی ہے لیکن اِنتہاء پسندی اور فرقہ وارانہ جذبات کو اُبھارنے والوں کے خلاف خاطرخواہ کاروائی نہیں کی جاتی تو پھر ہمیں غیروں (امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ) کی الزام تراشیوں پر سیخ پا نہیں ہونا چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے 21 اگست کو جنوب ایشیاء کے لئے نئی امریکی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو ’’دہشت گردوں کی پناہ گاہ‘‘ قرار دیا تھا اور اُن کے اِس بیان کی حمایت میں 4 ستمبر کو عالمی تعاون تنظیم برکس (برازیل‘ روس‘ بھارت‘ چین اور جنوبی افریقہ)‘ کے اجلاس میں جہاں شمالی کوریا کے جوہری تجربے اور میزائل ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کی مذمت کی گئی وہیں پاکستان کو خطے اور عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’’دنیا کی چند انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں اپنے مراکز رکھتی ہیں۔‘‘ اگرچہ مذکورہ ’مشترکہ اعلامیے‘ میں اِس الزام سے متعلق زیادہ تفصیل سے بات نہیں کی گئی لیکن مغربی تجزیہ کار پاکستان کی اُس حکمت عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘ جس میں پاکستان کو ’غیرریاستی کرداروں‘ کی ’ریاستی پشت پناہی‘ کرنے ’’اچھے اور بُرے عسکریت پسندوں (طالبان)‘‘ کے ذریعے خطے میں جنگی مہمات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’دہشت گردی‘ سے پریشان حال پاکستان پر ’دہشت گردی‘ کی سرپرستی کرنے کا الزام لگانے عائد کرنے والوں میں ہمارا سب سے اچھا دوست ’چین‘ بھی ہم آواز ہو چکا ہے لیکن اِس کے باوجود ہمارے سیاسی و عسکری فیصلہ سازوں ایک ایسی حقیقت کا مسلسل (مستقل) انکار کر رہے ہیں‘ جس پر (سوائے ہمارے) پوری دنیا یقین کئے بیٹھی ہے لیکن چاہے دنیا ہمارا اعتبار کرے یا نہ کرے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’اِنسداد دہشت گردی‘ کی کوششیں اگر بیانات کی حد تک محدود رہیں تو اِن کی کامیابی کے خاطرخواہ امکانات نہیں ہوں گی۔ جب تک پاکستان یہ بات ’عمل‘ سے ثابت نہیں کر دیتا کہ ملک کے طول و عرض میں مذہب کے نام پر‘ اَمن کے لئے خطرہ بننے والے عناصر بالخصوص دہشت گرد ہی نہیں بلکہ اِنتہاء پسند‘ فروعی اِختلافات اور فرقہ واریت پھیلانے والی کالعدم تنظیموں کے علاؤہ اِن کے سہولت کاروں کے لئے سیاسی و عسکری قیادت (اسٹیبلشمنٹ) کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں‘ اُس وقت تک پاکستان داخلی خطرات سے دوچار اور بے یقینی کا شکار ہی رہے گا۔




حسب سابق اِس مرتبہ بھی محرم الحرام کے پہلے عشرے کے دوران ’سیکورٹی کے نام پر غیراعلانیہ کرفیو‘ کا نفاذ ہونے جا رہا ہے۔ ماتمی جلوسوں یا اجتماعات سے متصل لیکن غیرمتعلقہ مرکزی شاہراہیں بند کی جائیں گی۔ نویں اور دسویں محرم الحرام کے روز موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ (ڈیٹا) سروسیز معطل ہونے سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح پشاور کے اندرون شہری و دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو آمدورفت اور مواصلاتی رابطوں میں پریشانی کا سامنا رہے گا اُور عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت گھروں میں محصور ہو کر رہ جائے گی۔ 

خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس پشاور کا فرض بنتا ہے کہ وہ صرف محرم الحرام کے آغاز سے اِیام عزاء کے اختتام (دو ماہ آٹھ دن کی مدت) کے لئے مستعدی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں اُس مذہبی راواداری‘ برداشت اور مثالی (شیعہ سنی) بھائی چارے کو بحال کرنے کے لئے بھی عملی کوشش کریں‘ جو کبھی یہاں کے معمولات و معاشرت کا حسن ہوا کرتا تھا۔ ہر سال روائتی سیکورٹی پلان ’خان رازق شہید‘ کی تیار کردہ دستاویز پر تاریخیں اُور نام بدلنے سے امن و امان کو لاحق خطرات دور (ختم) نہیں ہوں گے۔ 

مسلمہ ہے کہ محرم الحرام کے پہلے عشرہ (دس روز) کو بالخصوص ہر فرقے اور مذہب کے ماننے والے محترم تصور کرتے ہیں۔ اِن ایام میں کثرت سے روزے رکھنا اور نفلی عبادات بھی معمول سے زیادہ کی جاتی ہیں کیونکہ کربلا توحید کی سربلندی اور اِس کے بقاء کے لئے جانی و مالی قربانیاں دینے کا عہد (اِستعارہ) ہے۔ محرم الحرام ایک نسبت بھی ہے جس میں خصوصیت کے ساتھ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے اور اُن کے جانثاروں کی میدان کربلا میں قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں کی اکثریت اِس واقعے کو ’حق و باطل کا معرکہ‘ قرار دیتی ہے اُور بقول علامہ اقبالؒ ’’پیغام ملا تھا جو حسینؓ اِبن علیؓ کو ۔۔۔ خوش ہوں وہی پیغامِ قضاء میرے لئے ہے۔‘‘ 



Tuesday, October 4, 2016

Oct2016: Remembering Muharram in different ways, why?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
محرم الحرام: مشترک اقدار!



امن و سلامتی سے ماخوذ ’دین‘ کے ماننے والوں کو کسی اضافی تمہید کے ذریعے انسانیت کے احترام کی ترغیب دلانا ’منطقی‘ نہیں لیکن اگر شعور دامن گیر رہے۔ 

’’اِسلام‘‘ کسی بھی عمومی صورت یا صورتحال میں‘ کسی بھی انسان کی زندگی اُور جان و مال کی حرمت کو باطل قرار نہیں دیتا اُور یہی وجہ ہے کہ اہل مغرب کی ایک بڑی تعداد مشرف با اسلام ہو رہی اور اِسلام ہی دنیا کا سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ جاری بحث کا پہلا پڑاؤ ’’محرم الحرام سیکورٹی پلان‘‘ دوسری منزل ’’محرم الحرام اُور امن و امان‘‘ اور اِس تیسرے مرحلۂ فکر پر توجہات اُس بنیادی پیغام کی جانب مرکوز کرنی ہیں‘ جس کے بیان و رسائی کے لئے الگ الگ اظہار کے وسائل سے استفادہ ہو رہا ہے لیکن اگر کربلا کے ’مسلسل و جاری ذکر‘ کی اہمیت سمجھ لی گئی ہے تو اِس ’قدر مشترک‘ کے ذریعے توحید شناسی‘ قول و فعل کی اصلاح‘ اعمال کی تطہیر‘ ایک دوسرے کی جان ومال کا تحفظ‘ عبادات کا خلوص اُور خشوع حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ امن کا قیام بھی ممکن ہے لیکن اگر کربلا کے ذکر میں روحانی برکات و فیوض کے ساتھ عملی پیغام بھی تلاش کرنے کی مشق کر لی جائے۔



پشاور ایک گلدستے کی مانند ہے۔ جس میں ہر مذہب‘ فرقے یا مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے پھول پیوست ہیں۔ ’باہمی احترام و مثالی رواداری‘ پشاور کا مستند تعارف و حوالہ رہا ہے۔ یہاں کے درخشاں ماضی کا ایک باب وہ وقت بھی تھا جب دہشت گردی اور انتہاء پسندی تو بہت دور کی بات‘ معمولی جرائم تک رونما نہیں ہوتے تھے۔ گلی محلوں کو آہنی دروازے لگا کر بند نہیں کیا جاتا تھا۔ ایک قسم کی چاہت اور اپناہیت عام ہوا کرتی تھی جس میں اجنبیت کا گزر تک نہ تھا لیکن پھر خطے پر جنگ مسلط ہوئی اور دو عالمی طاقتوں کے ٹکڑاؤ نے ’حق و باطل‘ کے واضح تصورات رکھنے والوں کو بھی روند ڈالا۔ 

کلاشنکوف کلچر کے ساتھ عدم برداشت آئی۔ اچھے اور بُرے دہشت گردوں کی اصطلاحات ایجاد ہوئیں‘ جس کے بعد دنیا نے ہماری تباہی اور تنزلی کا تماشا دیکھا۔ اگر اِس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ کوئی دشمن ہمارے درمیان اختلافات کو ہوا دے کر پاکستان کو کمزور کر رہا ہے تو پھر اصلاح و بہتری کی گنجائش یقیناًنکالی جاسکتی ہے۔



توجہات مرکوز رہیں کہ محرم الحرام 1438ء ہجری کا آغاز اسلامی کلینڈر کے اُس ’واقعۂ کربلا‘ سے بالخصوص منسوب ہو چکا ہے جو سن 61ہجری میں پیش آیا اُور آج بھی اِس کی یاد صرف اہل اسلام کے ہاں مسلکی اختلاف کے ساتھ الگ الگ طریقوں سے نہیں منائی جاتی بلکہ غیرمذہب بھی حق وباطل کے معرکے اور جذبۂ حریت بیدار رکھنے کے لئے اِس ذکر میں شریک ہوتے ہیں۔ 

پشاور میں محرم الحرام کے دوران صرف مجالس عزأ یا ماتمی جلوس ہی برآمد نہیں ہوتے اور نہ ہی اِمام بارگاہوں کی حد تک ’شہدائیکربلا‘ کی قربانیوں کے تذکرے محدود رکھے جاتے ہیں بلکہ اہلسنت والجماعت مسلک دیوبند کی ترجمانی کرنے والی ’انجمن تبلیغ قرآن و سنت‘ پشاور میں 2 سے 10محرم الحرام تک 9 اجتماعات کا انعقاد کرتی ہے جن میں سے 8 اجتماعات مختلف جامع مساجد (بالترتیب شیخ آباد‘ اخون آباد‘ فردوس چوک‘ لاہوری گیٹ‘ چوک ناصر خان‘ قصہ خوانی‘ ہشتنگری اُور نمک منڈی) جبکہ دس محرم کے روز جلسۂ سیرت ’فاروق اعظمؒ چوک (اندرون کوہاٹی گیٹ)‘ منعقد کیا جاتا ہے۔ 

انجمن کے جنرل سیکرٹری مولانا حسین احمد مدنی کے بقول ’شہدائے اسلام کانفرنس‘ کے عنوان سے خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ سلسلہ 1952ء سے جاری ہے اور رواں برس (1438ہجری) ہونے والی 65ویں کانفرنس میں مقامی مقررین کے علاؤہ 6 مقررین اُوکاڑہ‘ ساہیوال‘ لاہور‘ ایبٹ آباد‘ راولپنڈی اور نوشہرہ سے مدعو کئے گئے ہیں۔ اِسی طرح شہدائے کربلا کی سیرت‘ واقعات اُور تناظر و محرکات پر روشنی پر ڈالنے کے لئے فقہ حنفی ہی سے تعلق رکھنے والے ’اہلسنت والجماعت (عرف عام میں فاضل بریلی کے مکتب تحقیق و تعلیم کے علمبرداروں)‘ کی نمائندہ تنظیم ’اِدارہ تبلیغ اِلاسلام‘ اَپنے قیام کے 68ویں برس 9 اجتماعات بالترتیب نوتھیہ‘ غلہ منڈی‘ سرکی‘ گنج‘ سبزی منڈی‘ ناصر خان اُور گھنٹہ گھر کے مقامات پر انعقاد کی تیاریاں مکمل کر چکی ہے۔ ’اِدارۂ تبلیغ الاسلام‘ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری خواجہ غلام فاروق کے مطابق اس سال راولپنڈی‘ فیصل آباد‘ چنیوٹ اور سرگودھا سے 9 مقررین کو مدعو کیا گیا ہے۔ 

مجالس عزأ ہوں یا سیرت کے عام اجتماعات‘ سیکورٹی اداروں کے لئے اِن سے نمٹنا آسان نہیں کیونکہ بیرون پشاور سے آنے والے مقررین بسااوقات شعلہ بیانی یا روانی میں پشاور یا خیبرپختونخوا کے کشیدہ حالات کی نزاکتوں (باریکیوں) کا خیال نہیں رکھتے یا جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف منتظمین بعدازاں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں بلکہ پشاور پھر 1992ء کے مقام پر جا کھڑا ہوتا ہے۔ اِس صورتحال میں سیکورٹی اِداروں سے زیادہ اگر سیاسی قیادت فعالیت کا مظاہرہ کرے اور تمام فریقین کو اِس بات پر قائل کیا جائے کہ بیرون پشاور سے مقرر مدعو کرنے کی بجائے مقامی مقررین کی زبانی ہی ذوق کی تسکین کر لیا کریں تو پشاور کے ماضی و حال سے بخوبی آشنا مقامی مقررین کبھی بھی ایسی کوئی غیرمستند بات بحوالہ یا بناء حوالہ نہیں کریں گے یا دُہرائیں گے‘ جس سے کسی مسلک کی دل آزاری ہو۔ 

امن وامان کا قیام اُس وقت تک ممکن نہیں ہوگا‘ جب تک مسالک کے درمیان ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا احترام عام نہیں ہو جاتا۔ اِس ہدف کے حصول‘ کے لئے دردمندی کا مظاہرہ اور پشاور سے محبت میں سرشار پرخلوص منظم و مسلسل کوششوں کی اَشد ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, October 3, 2016

Oct2016: Restoring Peace in Muharram. The Basic Issue.

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
محرم الحرام اُور امن و امان!

بنیادی قضیہ کیا ہے؟ 

آخر سال کے دیگر مہینوں میں اِس قدر ’ہنگامی حالات‘ کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑتا؟ 

محرم سیکورٹی پلان کے تحت دو اکتوبر کو شائع ہوئی (گذشتہ) تحریر میں پولیس کی وضع کردہ اُس حکمت عملی کے خدوخال اُور عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے حفاظتی انتظامات کا سرسری جائزہ پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ فیصلہ سازوں کے شاہانہ مزاج‘ تن آسانی اُور حالات کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی روش زیربحث لائی جائے۔ علاؤہ ازیں مختلف مکاتب فکر کو دعوت فکروعمل دی جائے کہ وہ خیبرپختونخوا کے طول وعرض اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور کی سطح پر شعوری اور فکری رغبت و آمادگی کے ساتھ ایسی رضاکارانہ تحاریک (عمل) کا حصہ بنیں جس سے پشاور کا امن بحال ہو‘ بھائی چارہ عام ہو‘ انسانی خون کی حرمت و عزت بڑھے اور پھر اِس رواداری کے ثمرات صوبے کے دیگر اضلاع تک پھیلتے چلے جائیں کیونکہ اگر ’امن و امان‘ بحال کرنے کی ذمہ داری صرف اُور صرف قانون نافذ کرنے والے (حکومتی) اداروں کو سونپ دی جاتی ہے تو اِس کا نتیجہ یہی برآمد ہوگا کہ ہرسال کی طرح اِس سال اور آئندہ بھی محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ اُن کی جان و مال اور مذہبی یا مسلکی جذبات و احساسات‘ رسومات اور عبادات کو سنگین قسم کے خطرات لاحق ہیں! جن کا سوائے اِس کے کوئی دوسرا حل نہیں کہ ’’تمام معمولات زندگی معطل کر دیئے جائیں!‘‘

محرم الحرام کا آغاز امن و امان کے لئے دعاؤں‘ نیک خواہشات اور سیکورٹی پلانز کی صورت ہوتا ہے‘ جس کی ضرورت سال 1992ء سے پیش آ رہی ہے جب یوم عاشور (دس محرم بوقت عصر) کوہاٹی گیٹ میں دو مسالک کے درمیان تصادم میں جانی ومالی نقصانات ہوئے اور اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے تباہی و بربادی اور خونریزی کا کھیل دیکھتے رہے۔ جس کے بعد سے سال کا کوئی بھی مہینہ یا موقع ہو‘ پشاور کی وہ روائتی مذہبی رواداری اور معمولات معمول پر نہ آسکے۔ اگر اُس وقت بناء کسی ’دستاویزی محرم سیکورٹی پلان‘ امن وامان برقرار رکھنے کے ذمہ داروں کو اپنے فرائض کی غفلت پر سزائیں دی جاتیں۔ کسی بھی فرقے کے انگلیوں پر شمار ہونے والے شرپسندوں کو انجام تک پہنچایا جاتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ عینی شاہدین‘ عوام کے خون اور پشاور کے امن سے رنگے ہاتھ توانا نہ ہوتے! 

بنیادی بات یہ ہے کہ اگر سال کے دیگر مہینوں میں کسی سیکورٹی پلان کی ضرورت پیش نہیں آتی تو پھر ایسا محرم ہی میں کیوں ہوتا ہے‘ جس کی حرمت کے سبھی قائل ہیں؟ اِس سوال کا جواب سمجھنے کے لئے ماضی و حال کے سیاسی فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی ہے جس کی کئی ایک مثالیں بطور خاص پیش کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تحریک انصاف (موجودہ صوبائی) حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ’پشاور‘ کئی لحاظ سے کم ترین ترجیح دکھائی دیتا ہے۔ 

ماضی میں محرم سے قبل روایت رہی ہے کہ وزرائے اعلیٰ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نمائندہ وفود کو طلب کرکے قانون نافذ کرنے والے ماتحت محکموں کو یہ پیغام دیتے کہ اُن کی کارکردگی پر نظر ہے اور اگر پولیس فورس نے مصلحت یا کسی بھی فرقے کی طرف جھکاؤ کا مظاہرہ کیا تو ایسی کارکردگی (کوتاہی) کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا لیکن افسوس کہ ’انتخابی سیاست‘ جیسی ’ذاتی ترجیح‘ کی وجہ سے پشاور سے منتخب ہونے والی صوبائی اور قومی اسمبلی کی قیادت نے ’تجاہل عارفانہ‘ اختیار کر رکھا ہے اور وہ یا تو بظاہر انتہاء درجے کی جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا پھر ’پشاور‘ اُن کی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں اُور یہاں سے منتخب ہو کر‘ یہاں کے وسائل سے اپنی ’شان و شوکت‘ میں اضافہ کرنے والوں کے لئے یہ بات ضروری ہی نہیں کہ وہ پشاور سے اپنا ’دلی تعلق‘ بھی جوڑیں۔ پشاور کو محبوب سمجھیں۔ 

جنوب مشرق ایشیاء کے اِس قدیم ترین‘ زندہ و تاریخی شہر کی رونقیں‘ مذہبی آزادی اُور ثقافتی و سماجی رونقیں بحال کرنے میں اپنا کلیدی و حسب ضرورت کردار ادا کریں۔ اس سال منتخب بلدیاتی نمائندوں بشمول پشاور و دیگر اضلاع میں ضلعی ناظمین کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں اُور اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بہترین سے بہترین عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اُس امن کی بحالی بناء آرام سے نہیں بیٹھیں گے‘جس کا ایک جہان متمنی اور جس کا خلاصہ شہدائے کربلا کی سیرت و تعلیمات کا نچوڑ بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, October 2, 2016

Oct2016: Peace, Law & Order during Muharram

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
محرم الحرام اُور امن و امان!


بنیادی قضیہ کیا ہے؟ 
آخر سال کے دیگر مہینوں میں اِس قدر ’ہنگامی حالات‘ کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑتا؟ 
محرم سیکورٹی پلان کے تحت دو اکتوبر کو شائع ہوئی (گذشتہ) تحریر میں پولیس کی وضع کردہ اُس حکمت عملی کے خدوخال اُور عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے حفاظتی انتظامات کا سرسری جائزہ پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ فیصلہ سازوں کے شاہانہ مزاج‘ تن آسانی اُور حالات کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی روش زیربحث لائی جائے۔ علاؤہ ازیں مختلف مکاتب فکر کو دعوت فکروعمل دی جائے کہ وہ خیبرپختونخوا کے طول وعرض اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور کی سطح پر شعوری اور فکری رغبت و آمادگی کے ساتھ ایسی رضاکارانہ تحاریک (عمل) کا حصہ بنیں جس سے پشاور کا امن بحال ہو‘ بھائی چارہ عام ہو‘ انسانی خون کی حرمت و عزت بڑھے اور پھر اِس رواداری کے ثمرات صوبے کے دیگر اضلاع تک پھیلتے چلے جائیں کیونکہ اگر ’امن و امان‘ بحال کرنے کی ذمہ داری صرف اُور صرف قانون نافذ کرنے والے (حکومتی) اداروں کو سونپ دی جاتی ہے تو اِس کا نتیجہ یہی برآمد ہوگا کہ ہرسال کی طرح اِس سال اور آئندہ بھی محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ اُن کی جان و مال اور مذہبی یا مسلکی جذبات و احساسات‘ رسومات اور عبادات کو سنگین قسم کے خطرات لاحق ہیں! جن کا سوائے اِس کے کوئی دوسرا حل نہیں کہ ’’تمام معمولات زندگی معطل کر دیئے جائیں!‘‘


محرم الحرام کا آغاز امن و امان کے لئے دعاؤں‘ نیک خواہشات اور سیکورٹی پلانز کی صورت ہوتا ہے‘ جس کی ضرورت سال 1992ء سے پیش آ رہی ہے جب یوم عاشور (دس محرم بوقت عصر) کوہاٹی گیٹ میں دو مسالک کے درمیان تصادم میں جانی ومالی نقصانات ہوئے اور اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے تباہی و بربادی اور خونریزی کا کھیل دیکھتے رہے۔ جس کے بعد سے سال کا کوئی بھی مہینہ یا موقع ہو‘ پشاور کی وہ روائتی مذہبی رواداری اور معمولات معمول پر نہ آسکے۔ اگر اُس وقت بناء کسی ’دستاویزی محرم سیکورٹی پلان‘ امن وامان برقرار رکھنے کے ذمہ داروں کو اپنے فرائض کی غفلت پر سزائیں دی جاتیں۔ 

کسی بھی فرقے کے انگلیوں پر شمار ہونے والے شرپسندوں کو انجام تک پہنچایا جاتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ عینی شاہدین‘ عوام کے خون اور پشاور کے امن سے رنگے ہاتھ توانا نہ ہوتے! 

بنیادی بات یہ ہے کہ اگر سال کے دیگر مہینوں میں کسی سیکورٹی پلان کی ضرورت پیش نہیں آتی تو پھر ایسا محرم ہی میں کیوں ہوتا ہے‘ جس کی حرمت کے سبھی قائل ہیں؟ اِس سوال کا جواب سمجھنے کے لئے ماضی و حال کے سیاسی فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی ہے جس کی کئی ایک مثالیں بطور خاص پیش کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تحریک انصاف (موجودہ صوبائی) حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ’پشاور‘ کئی لحاظ سے کم ترین ترجیح دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں محرم سے قبل روایت رہی ہے کہ وزرائے اعلیٰ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نمائندہ وفود کو طلب کرکے قانون نافذ کرنے والے ماتحت محکموں کو یہ پیغام دیتے کہ اُن کی کارکردگی پر نظر ہے اور اگر پولیس فورس نے مصلحت یا کسی بھی فرقے کی طرف جھکاؤ کا مظاہرہ کیا تو ایسی کارکردگی (کوتاہی) کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا لیکن افسوس کہ ’انتخابی سیاست‘ جیسی ’ذاتی ترجیح‘ کی وجہ سے پشاور سے منتخب ہونے والی صوبائی اور قومی اسمبلی کی قیادت نے ’تجاہل عارفانہ‘ اختیار کر رکھا ہے اور وہ یا تو بظاہر انتہاء درجے کی جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا پھر ’پشاور‘ اُن کی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں اُور یہاں سے منتخب ہو کر‘ یہاں کے وسائل سے اپنی ’شان و شوکت‘ میں اضافہ کرنے والوں کے لئے یہ بات ضروری ہی نہیں کہ وہ پشاور سے اپنا ’دلی تعلق‘ بھی جوڑیں۔ 

پشاور کو محبوب سمجھیں۔ جنوب مشرق ایشیاء کے اِس قدیم ترین‘ زندہ و تاریخی شہر کی رونقیں‘ مذہبی آزادی اُور ثقافتی و سماجی رونقیں بحال کرنے میں اپنا کلیدی و حسب ضرورت کردار ادا کریں۔ اس سال منتخب بلدیاتی نمائندوں بشمول پشاور و دیگر اضلاع میں ضلعی ناظمین کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں اُور اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بہترین سے بہترین عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اُس امن کی بحالی بناء آرام سے نہیں بیٹھیں گے‘جس کا ایک جہان متمنی اور جس کا خلاصہ شہدائے کربلا کی سیرت و تعلیمات کا نچوڑ بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Oct2016: Muharram Security Plan

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
محرم سیکورٹی پلان


صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے ’محرم الحرام‘ کے لئے حفاظتی اِنتظامات کا خاکہ (سیکورٹی پلان) حسب سابق تشکیل دینے کے بعد مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے فریقین کے نمائندہ وفود سے ملاقاتوں کا عمل‘ ذرائع ابلاغ میں تشہیر کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے‘ جس میں حسب سابق ’پرامن رہنے‘ اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات و رسومات کا احترام کرنے کی تلقین کی گئی لیکن کیا یہ ساری محنت (تگ ودو) اُس وقت تک ناکافی رہے گی جب تک گذشتہ برس محرم الحرام کے تلخ تجربات (واقعات) کے ظاہری و پس پردہ محرکات پر غور نہیں کیا جاتا۔


پشاور میں کل 79 امام بارگاہیں ہیں اور محرم کے پہلے 10روز کے دوران اِن امام بارگاہوں کے علاؤہ دیگر درجنوں مقامات سے بھی 121 مختلف ماتمی جلوس برآمد ہوتے ہیں۔ ماتمی جلوس یا مجالس عزأ کے اجتماعات کے لئے چھوٹی یا بڑی کی اصطلاح استعمال نہیں کی جاسکتی۔ دس فٹ کے کمرے میں چند افراد اگر ’فرش عزأ‘ بچھا کر بیٹھتے ہیں تو بھی سیکورٹی فراہم کرنے والوں کی ذمہ داری یکساں اہم رہتی ہے۔ گذشتہ برس جن 20 امام بارگاہوں کے 30 ماتمی جلوسوں کو ’حساس ترین (موسٹ سینسٹیو)‘ قرار دیا گیا تھا تو اِس مرتبہ خطرات میں نمایاں کمی آنی چاہئے تھی لیکن ماسوائے اسپیکر کے محتاط استعمال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی کسی دوسرے شعبے میں نمایاں نہیں۔ پولیس حکام کو سمجھنا ہوگا کہ ’’واک چاکنگ‘‘ کا نیا اسلوب ’واٹس ایپ‘ فیس بک اُور ٹوئٹر‘ بن چکے ہیں۔ اشتعال انگیز تقاریر سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے نشر ہو رہی ہیں اور محرم الحرام کے آغاز کی اِس گھڑی پر ’آن لائن منافرت پھیلانے والوں پر بھی گرفت ہونی چاہئے۔‘ 

ماضی میں کی گئیں وہ تمام تقاریر اور اشاعتوں کے اقتباسات اگر سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر زیرگردش ہیں تو اُنہیں روکنا (ڈیلیٹ کرنا) کس کی ذمہ داری ہے؟ ہرسال کی طرح اِس مرتبہ بھی عشرہ محرم کے آخری دو یا تین دن موبائل فونز کی سروسیز معطل کر دی جائیں گی لیکن اگر ’غیررجسٹرڈ فون کنکشن‘ ختم کرنے سے متعلق ’پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے)‘ نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہوتیں تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ موبائل فون سروسیز بند کرنا پڑتیں‘ جس سے پورے پشاور میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔ حسب سابق اِس مرتبہ بھی افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے لئے ’دفعہ 144‘ کا سہارا لیا گیا ہے لیکن جو (رجسٹرڈ و بڑی تعداد میں غیررجسٹرڈ) افغان مہاجرین پشاور شہر کی حدود میں بودوباش کرتے ہیں اُن سے کس طرح نمٹا جائے گا؟ کم سے کم پشاور شہر کو ’افغان مہاجرین‘ اور ’ہر قسم کے غیرلائسینس شدہ اسلحہ‘ سے پاک کرنے کے لئے ’پولیس‘ کو جو بھی کردار اَدا کرنے چاہئے تھا وہ کیوں ادا نہیں کیا جاتا جبکہ ایک سال گزرنے کے بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں دس روز کے لئے کروڑوں روپے کے ’سیکورٹی پلان‘ کی ضرورت پڑی ہے اور اس سال بھی گلی گلی محلے محلے سات ہزار سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو تعینات کرنا پڑے گا!

محرم الحرام کے پہلے عشرے اور بعدازاں 20صفر (چہلم امام حسین رضی اللہ عنہ تک) سے 8ربیع الاوّل تک ’ایام عزأ‘ کے دوران پشاور کے علاؤہ خیبرپختونخوا کے جو دیگر اضلاع انتہائی حساس قرار دیئے جاتے ہیں اُن میں کوہاٹ‘ ہنگو اُور ڈیرہ اسماعیل خان کے 66 امام بارگاہیں‘ 174 ماتمی جلوس شامل ہیں لیکن اِس مرتبہ ضلع ہنگو حساس ترین اضلاع کی فہرست میں شامل نہیں تو پشاور و دیگر اضلاع کے لئے ایسا کیوں نہیں ہوا؟ یاد رہے کہ اِس سال بھی محرم کے پہلے دس روز کے دوران خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں مجموعی طور پر 429 ماتمی جلوس اور 940 مجالس کا انعقاد ہوگا۔ پشاور میں چھ سے دس محرم تک سیکورٹی پلان کے تحت وہ شاہراہیں اور راستے پورے دن کے لئے بند کر دیئے جاتے ہیں‘ جہاں شام یا رات گئے کوئی مذہبی اجتماع وقت مقررہ اور مقررہ راستوں پر منعقد ہونا ہوتا ہے۔

یومیہ مزدوری (دیہاڑی) کرنے والوں کے لئے محرم الحرام کے ایام کس قدر مشکلات بھرے ہوتے ہیں‘ فیصلہ سازوں کو اِس کا بھی دھیان رکھنا چاہئے! پشاور کو سال 1992ء سے پہلے کا امن و امان واپس دلانے کے لئے سب سے زیادہ توقعات ’قانون نافذ کرنے والے اداروں‘ سے وابستہ ہیں‘ جو اپنے حصّے کی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے سیکورٹی پلان کے نام جو انتظامات بھی کرتے ہیں‘ اُس سے عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات میں کمی کی بجائے ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, October 7, 2015

Oct2015: Muharram Security Plan need revision

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سیکورٹی پلان: نیا باب!
محرم الحرام 1437ہجری کی مناسبت سے ’پشاور پولیس‘ نے ’حفاظتی حکمت عملی (سیکورٹی پلان)‘ کو حتمی شکل دے دی ہے اُور رواں برس حساس و نیم حساس عبادتگاہوں سمیت پہلے ’عشرۂ محرم سے آٹھ ربیع الاوّل تک (ایام عزأ) کے جلسے اجتماعات (جلسے جلوسوں) کی نگرانی کے لئے ’کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن‘ کیمروں کی تنصیب کے علاؤہ ’الیکٹرانک آلات‘ سے نگرانی کے لئے خصوصی ’کمانڈ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم‘ بھی ’چوبیس گھنٹے‘ فعال رہیگا۔ یادش بخیر محرم الحرام کے پہلے عشرے کے دوران‘ 27 جنوری 2007ء کے روز ’قصہ بازار‘ سے متصل ماتمی جلوس کے برآمد ہونے سے قبل خودکش حملے میں پشاور پولیس کے سربراہ ملک سعد اُور ڈی ایس پی (سٹی) خان رازق سمیت ایک درجن سے زائد افراد شہید ہوئے! ایک دن میں دو اہم فرض شناس اہلکاروں کی شہادت صرف محکمۂ پولیس ہی کے لئے بلکہ پشاور کے لئے صدمہ تھا‘ بالخصوص خان رازق شہید جیسا نظم و ضبط کا پابند‘ ملنسار اُور تنظیمی خداداد صلاحیتوں سے مالامال بیدار و مستعد فکروعمل والا اہلکار نہ پہلے کبھی دیکھا اور نہ ہی آج تک اُن کا ثانی مل پایا ہے۔ یہ وہی خان رازق تھے جنہوں نے اندرون کوہاٹی گیٹ 12جولائی 1992ء (یوم عاشور)کا فرقہ ورانہ سانحہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اُور بعدازاں محرم سیکورٹی پلان کے نام سے حکمت عملی مرتب کی جبکہ اِس سے قبل مرکزی دفتر سے متعلقہ تھانہ جات کو صرف چند سطروں پر مشتمل ہدایات جاری کر دی جاتی تھیں۔ جس وقت پشاور کا سیکورٹی پلان مرتب کیا گیا‘ وہ نہایت ہی پرخطر دور تھا اُور کم و بیش ہر روز ہی دہشت گرد واقعات رونما ہوتے تھے۔ پشاور کے داخلی راستوں‘ بازاروں اور عبادتگاہوں کے آس پاس آمدورفت محدود کرنے کے باوجود بھی دہشت گرد اپنے اہداف کو چن چن کر نشانہ بنا رہے تھے۔ خان رازق نے تمام ماتمی جلوسوں کے راستوں‘ جلسہ گاہوں کے مقامات کی نشاندہی پر مبنی نقشے مرتب کئے۔ ہر جلسے جلوس اور نماز کی ادائیگی کو وقت کا پابند بنایا اُور کئی برس تک مشاہدے کے بعد ان میں شرکت کرنے والے افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد کے بارے میں اعدادوشمار بھی سیکورٹی پلان میں شامل کردیئے جس سے پولیس (نفری) کی تعیناتی بہت ہی آسان ہوگئی۔ علاؤہ ازیں انہوں نے سفید کپڑوں میں پولیس اہلکار تعینات کئے اور مخصوص الفاظ (کوڈ ورڈ) کے ذریعے پولیس کی باہمی بات چیت و شناخت کی اصطلاحات مرتب کیں جو اُن کے اقوام متحدہ امن مشن میں تعینات رہنے کے دوران تجربات کا حاصل تھا۔ بہرکیف خان رازق کا مرتب کردہ سیکورٹی پلان آج بھی ’من و عن‘ زیراستعمال ہے اور اس کی پیشانی پر تاریخوں سمیت آخری صفحات پر رابطہ نمبروں میں تبدیلی کر دی جاتی ہے چونکہ آج کے سیکورٹی حالات (چیلنجز) ماضی سے بہت مختلف ہیں اور بقول انسپکٹرجنرل پولیس ناصر درانی دہشت گردی کے واقعات (امکانات) میں 56 فیصد جیسی غیرمعمولی کمی آئی ہے اُور پشاور سے متصل قبائلی علاقوں تک آپریشن ضرب عضب کا دائرۂ کار بھی پھیلا دیا گیا جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں تو حالات میں آئی بہتری کی جھلک رواں برس محرم الحرام کے دوران عملاً نظر آنی چاہئے۔

کرفیو جیسے سخت انتظامات کی وجہ سے پشاور کے مرکزی علاقوں کو ایک دوسرے سے اس حد تک کاٹ دیا جاتا ہے کہ اندرون شہر کے مختلف حصوں میں دودھ اُور دیگر ضروریات کی اشیائے خوردونوش تک کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ دفاتر اور تعلیمی اداروں سے وابستہ چھوٹے بڑے افراد بشمول مریضوں کو الگ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ہونے کے باوجود اندرون شہر کے رہنے والوں کو سات سے دس محرم الحرام کے ایام میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ پولیس ناکوں پر بحث و تکرار معمول ہوتا ہے‘ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حفاظتی ناکوں پر غیرمقامی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے‘ جو مقامی افراد کے لب و لہجے‘ لباس اور معمولات سے واقفیت نہیں ہوتی۔ پشاور پولیس ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سمیت طبی و میونسپل خدمات فراہم کرنے والوں کو ’سیکورٹی کارڈز (خصوصی اجازت نامے)‘ جاری کرتی ہے اگر اسی قسم کے اجازت نامے متعلقہ تھانہ جات سے نجی و کمرشل گاڑیوں‘ موٹرسائیکلوں اور آٹو رکشاؤں سمیت دیگر سفری وسائل استعمال کرنے والوں کو جاری کر دیئے جائیں تو ہر مکتبہ فکر ’سیکورٹی انتظامات‘ کا خیرمقدم کرے گا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اُور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے مستقل نگرانی اپنی جگہ اہم لیکن سفید کپڑوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ اور پشاور کے اندرونی حصوں میں خفیہ معلومات کی بناء پر ’سرچ آپریشنز‘ کئے جائیں کیونکہ صرف دہشت گرد ہی نہیں بلکہ اُن سے ہمدردی رکھنے والے سہولت کاروں اور کالعدم تنظیموں کی موجودگی پشاور کے لئے کسی ’ٹائم بم‘ سے کم نہیں۔

خیبرایجنسی میں ’فوجی کاروائی (ضرب عضب)‘ کا منطقی انجام ’پشاور کو اسلحے سے پاک کرنے کی خصوصی مہم تک وسیع ہونا چاہئے۔‘ رنگ روڈ کے مضافاتی علاقوں میں چند ایک کاروائیاں کی گئیں لیکن اندرون شہر کے علاقے تاحال کسی غفلت یا مصلحت کی وجہ سے خاطرخواہ توجہ سے محروم ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اِداروں کو چاہئے کہ وہ پشاور کو اُس کا امن‘ اخوت اُور بھائی چارہ واپس دلانے کے لئے نومنتخب بلدیاتی نمائندوں اور عوام کے منتخب کردہ اَراکین صوبائی و قومی اسمبلیوں کو فعال کردار اَدا کرنے کی ترغیب دیں۔ سال 1992ء سے قبل کے پشاور کی یاد آ رہی ہے‘ جب محرم الحرام سمیت مذہبی مواقعوں پر نہ تو آمدورفت محدود کی جاتی تھی اور نہ ہی گلیاں کوچے اور بازار (تجارتی مراکز) بند کئے جاتے تھے۔ سیکورٹی فراہم کرتے ہوئے اُن یومیہ مزدوری کرنے والے محنت کشوں کا بھی احساس کرنا چاہئے جن کی بیروزگاری کا ایک دن اُن کے کنبے کے لئے فاقوں کا مؤجب بنتا ہے۔ ’سیکورٹی پلان‘ پر نظرثانی کرتے ہوئے امن وامان کی مستقل و پائیدار بحالی کے لئے ’نئے باب کا اِضافہ‘ بھی ہونا چاہئے جس کے لئے صرف ماہ محرم ہی نہیں بلکہ سال کے دیگر مہینوں کے دوران بھی غوروخوض ضروری ہے۔

Monday, November 3, 2014

Nov2014: Ashura The day of victory

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عاشور: حسینؓ فاتح مرگ و حیات کہلائے!
قرآن کریم کی سورہ آل عمران‘ اُنیسویں آیت مبارکہ کا پہلا حصہ ’’اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّہِ الاِسلاَمْ‘‘ کے تحت جس موضوع کو ’’رب جلیل کے پسندیدہ دین‘‘ سے مخاطب کیا‘ اُس عظیم فلسفے (بنی نوع انسان کی خوشحالی و سربلندی) کی تشریح و وضاحت ’واقعۂ کربلا‘ سے ملتی ہے۔

کربلا کے میدان میں نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ (ولادت: 8 جنوری 626عیسوی: شہادت: 10 اکتوبر 680 عیسوی) نے جس اِستقامت کا مظاہرہ کیا اور راہِ حق میں جو عظیم و لاثانی قربانیاں پیش کیں اُنہیں کی بدولت ’دین اسلام کی سربلندی‘ ممکن ہوئی اور اِس دین خالص‘ پسندیدہ دین کو تاقیامت ’جاودانی حیثیت‘ حاصل ہوئی۔

سن اکسٹھ ہجری‘ دس محرم (عاشور) کا دن ’سفینۂ اِسلام‘ جو خشک وگرم ریگزار میں باطل پرست طاغوتی طاقت کے ہاتھوں غرق ہونے کو تھا۔ پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے اور شیر خدا جناب امیرالمومنین سیّدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بیٹے جناب اِمام حسین رضی اللہ عنہ کا احسان بھلا کون فراموش کر سکتا ہے جنہوں نے اپنی اور اپنے عزیزواقارب سمیت وفادار ساتھیوں کی قربانیاں پیش کر کے اِس ڈوبتے سفینے کو شہدأ کے خون کی لہروں پر ساحلِ مراد سے ہمکنار کیا اور دین اسلام کو ’اَبدی قیام‘ بخشا۔’’حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسین‘‘

مؤرخین کی اکثریت کا اتفاق ہے کہ ’کربلا‘ نے اِسلام کو نئی زندگی بخشی‘گویا ’شہادت عظمیٰ‘ نے دین کی اَساس کو نابودی سے بچالیا۔ ماننا پڑے گاکہ ’کربلا‘ تاریخ عالم کے دیگر تمام واقعات سے زیادہ فکر انگیز اور ایک فکری (حئی علی الفلاح) و عملی جدوجہد (حئی علی خیرالعمل) کی ترغیب دینے والی تحریک کا نام ہے کیونکہ اسی معرکہ میں باطل پرستوں کی طرف سے ظلم وجبرکے تمام حربے بروئے کار لاکر حق وصداقت کی آواز پوری شدت کے ساتھ دبانے کی کوشش کی گئی۔ امن پسند‘ حق پرست‘ انسانیت دوست صاحبان تفکر و حکمت جب تاریخ اسلام کے اِس خونین معرکے کو پرکھتے ہوئے بے اختیار خون کے آنسو رونے لگتے ہیں۔ ’کربلا‘ محسوس کرکے اُن پر یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ تاریخ اسلام کے سب سے بڑے جابر وظالم حکمران کے مقابل حق وصداقت کا عَلم بلند رکھنے والے قائد نے ہرمرحلے پر صبر وشکر کی راہ اپنائی اور یہی انعام تھا کہ بے مثال قربانیاں پیش کرکے ’سیّدالشہدأ‘ کا لقب منورہ پایا۔ تاقیامت یہ بات حقیقت بن چکی ہے کہ کربلا والے دنیا کے تمام مظلوموں اور راہِ حق میں شہید ہونے والوں کے لئے ایک ’زندہ علامت‘ ہیں‘ جہد حق کا استعارہ ہیں۔ ’’کر دیا ثابت یہ تو نے‘ اَے دلاور آدمی: زندگی کیا موت سے لیتا ہے ٹکر آدمی: کاٹ سکتا ہے رگ گردن سے خنجر آدمی: لشکروں کو روند سکتے ہیں 72آدمی: ضعف ڈھا سکتا ہے قصرِِ افسر و اورنگ کو:آبگینے توڑ سکتے ہیں حصارِ سنگ کو!‘‘

اِمام حسین رضی اللہ عنہ قیامت تک دنیائے انسانیت کے لئے عدل وانصاف کے روشن مینار ہیں‘ جن کی پیروی بلاشک و شبہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ اِس محسن کی قدرومنزلت سمجھنے کے لئے نگاہ ودل کی پاکیزگی کے ساتھ حق شناس‘ فہم ورسا اور عدل پسند ضمیر کی ضرورت ہے چونکہ ’حسین کے سورج کو زوال نہیں‘ اِس لئے وقت گزرنے کے ساتھ ’عظمت حسین رضی اللہ عنہ‘ شعورکی بیداری کے ساتھ ہرقلب اِنسانی کے لئے کشش کا باعث بنتی چلی جائے گی۔ ’’اِنسان کو بیدار تو ہولینے دو۔۔۔ہرقوم پکارنے گی ہماے ہیں حسینؓ!‘‘

شہادت عظمیٰ کی مقصدیت ومعنویت کو نظر میں رکھتے ہوئے ’یوم عاشور‘ عہد کرنے کی گھڑی ہے۔ ظلم سے بیزاری کا اعلان‘ ظالم کو کیفرکردار تک پہنچانے کے ساتھ اُس کا مکروہ چہرہ‘ سازشیں‘ درپردہ مذموم عزائمکا پردہ چاک کرنے اور حق کی سربلندی کے لئے ہرقسم کی جانی و مالی قربانی دینے پر آمادگی کے ساتھ خود سے سوال پوچھنے کی گھڑی ہے کہ کیا ہم اِمام مظلومؓ کا اسم مبارک لینے یا اُن سے نسبت رکھنے کا حق بھی رکھتے ہیں؟ فلسفۂ کربلا مظلومین کی حمایت‘ دفاع اور اعانت کے لئے ’’جہاد ‘‘ کا پیام ہے۔ حق پر مرمٹنے کا گر جذبہ نہیں۔۔۔رسم دنیا ہے فقط ذکرِ حسینؓ۔

 اگر آج ہم حوصلہ‘ استقامت‘ صبر‘ جرأت اور ثابت قدمی جیسے الفاظ کے معانی سے آشنا ہیں تو یہ سب کربلا میں ’توحیدی لغت‘ اپنے پاکیزہ خون سے تحریر کرنے والوں کی عنایات ہیں‘ جنہوں نے پہلے ہی صفحے پر ’’لا الہ الا اللہ (نہیں کوئی معبود‘ مگر اللہ)‘‘ تحریر کیا ہے۔ اِس کلمۂ ’لا الہ‘ کو قول و فعل سے ہم وزن اور سربلندی عطا کرنے والوں کا تاقیامت ذکر ہوتا رہے گا۔ جب کبھی بھی حقیقی فتح وشکست کی بات ہوگی یا پھر ’جاندار زندگی‘ اُور ’بامقصد موت‘کا فیصلہ کرنا ہوگا‘ تب کسوٹی اور رہنمائی کا معیار صرف کربلا ہی ہوگا۔ ’’شکست موت کو اور موت ظلم کو دے کر۔۔۔حسینؓ فاتح مرگ وحیات کہلائے!‘‘

Sunday, November 2, 2014

Nov2014: Baz o Maidan Persian Noha Tradition.

باز میدان پر خطر مینماید۔۔۔۔۔آہ نینوا‘ نوع دیگر مینماید
پشاور: فارسی نوحہ خوانی کی خاص روایت
شبیر حسین اِمام
جنوب مشرق ایشیاء کے سب سے قدیم زندہ تاریخ شہر پشاور میں شہدائے کربلا کی یاد میں مجالس عزأ کا انعقاد ایک ایسی روایت سے کیا جاتا ہے جو خطے کے دیگر سبھی ممالک میں ہونے والی عزاداری سے منفرد ہے۔ مجالس عزأ بالخصوص نو اور دس محرم کے روز خنجرزنی کے ماتمی جلوسوں میں جب علم و شبیہہ ذوالجناح امام بارگاہوں سے برآمد ہوتی ہیں تو اُس وقت فارسی کا ایک خاص مرثیہ اجتماعی طور پر پڑھا جاتا ہے‘ جو مشہور شاعر حضرت سیاح اعلی اللہ مقامہ کا تحریر کردہ ہے۔ یہ فارسی نوحہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی بے مثال ہے اور اِس میں جس انداز سے یوم عاشور (دس محرم کے روز) کربلا کے میدان میں پیش آنے والے واقعات بالخصوص شہادت اِمام حسین کی منظرکشی اختصار سے کی گئی ہے‘ وہ دیگر مرثیوں میں بہت کم ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ پشاورکی سبھی امامبارگاہوں سے ذوالجناح کے ماتمی جلوس برآمد ہونے سے قبل اس مرثیے کو بطور خاص پڑھا جاتا ہے۔ پشاور میں عزأداری امام حسین و مظلومین کربلا کی خوبصورت و دلنشین اِس روایت کی پوری دنیا میں دھوم ہے اور اِس مرثیے کو بطور خاص سن کر شہدائے کربلا کے حضور تعزیت اور آنسوؤں کے نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔

’باز اُو میدان‘ کی زندہ روایت کا خاصہ یہ بھی ہے کہ پشاور میں رہنے والا ہر عزأدار اس فارسی مرثیے کو زبانی ازبر رکھتا ہے‘ اور نو و دس محرم کی مجالس کے اختتام پر اجتماعی طور پر اِسے پڑھ کر عزأداری کرنے والوں کے جذبات تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔ باز اُو میدان کی تاثیر اور اِس کے جملوں میں پائی جانے والی حرارت‘ حسن بیان و تکلم شہادت حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کے زخموں کو پھر سے تازہ کردیتا ہے اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عزأدار اِسے دل کے نہایت ہی قریب محسوس کرتے ہیں۔

درحقیقت ’بازاُو میدان‘ نامی یہ مرثیہ حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بی بی سکینہؓ کی زبانی میدان کربلا کا منظرنامہ ہے۔ روایات کے مطابق جب دس محرم بوقت عصر حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کو میدان کربلا کے ایک نشیبی حصے میں شہید کیا گیا جبکہ آپؓ کے ہمراہ خواتین کو در خیمہ سے وہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ جس پر حضرت اِمام حسین کی بہن بی بی زینبؓ نے سکینہ بی بیؓ کو کندھوں پر اُٹھا کر پوچھا کہ بی بی آپ میدان کربلا میں کیا منظر دیکھ رہی ہیں؟ کم سن بی بی سکینہ نے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جو کچھ بیان کیا‘ اُسے شاعر نے کمال مہارت‘ ترتیب اور تفصیلات کے ساتھ رقم کیا ہے۔

باز میدان پر خطر مینماید
آہ نینوا‘ نوع دیگر مینماید
ترجمہ:
میدان پھر خطرات سے بھرا دکھائی دے رہا ہے
آہ‘ نینوا میں نئی آفت دکھائی دے رہی ہے

گشتہ طوفان کشتی ’بابم حسین‘ (علیہ السلام)
آہ موج دریا بیشتر مینماید
ترجمہ:
میرے باپ کی زندگی کی کشتی طوفان میں گھری ہوئی ہے
اَفسوس میدان میں ہرطرف خون کا دریا رواں دکھائی دے رہا ہے

طبل شادی مینوا زند کوفیاں
آہ بابم از دنیا سفر مینماید
ترجمہ:
(کوفیوں کے لشکر میں فتح کی منظر کشی)
کوئی خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے
آہ‘ میرا باپ اِس دنیا سے کوچ کرتا دکھائی دے رہا ہے

میشویم امروز در غربت اسیر
آہ اے خدا بر من اثر مینماید
ترجمہ:
آج ہم عالم غربت کی حالت میں اسیر ہو رہے ہیں
آہ‘ مجھ پر غم و اندوہ کا اثر دکھائی دے رہا ہے

قرص خورشید است و مثل طشت زر
آہ روز ما تاریک و تر مینماید
ترجمہ:
سورج اپنی پوری تمازت کے ساتھ سونے کے تشت کی طرح دکھائی دے رہا ہے
لیکن ہم پر تاریکی کے بادل سیاہ سایہ کئے ہوں ہیں۔

عمحہ جان این سر کہ کاکل برسراست
آہ اکبر والا گوہر مینماید
ترجمہ:
پھوپھی جان یہ نوک نیزہ پر جو نیزے کی زینت بنا ہوا ہے
یہ واللہ‘ مجھے شہزادہ اکبر کا سر دکھائی دے رہا ہے

برسر نیزہ عدواں عمحہ جان
آہ ’بنگر‘راس پدر مینماید
ترجمہ:
پھوپھی جان یہ جو نوک نیزہ پر میں سر دیکھ رہی ہوں
اْف دیکھیں تو یہ میرے بابا (حضرت امام حسین علیہ السلام) کا سر (مبارک) دکھائی دے رہا ہے

ذوالجناح غرقہ در خون آمدہ
آہ از پدر مارا خبر مینماید
ترجمہ:
(حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذوالجناح کی واپسی)
ذوالجناح خون میں آلودہ حالت ہماری (یعنی خیموں) کی طرف آرہا ہے
یہ یقینامیرے باپ کے مرنے (شہادت) کی خبر لاتا دکھائی دے رہا ہے

ذاکری سیاح ؔ محزون پیشہ کن
آہ خدمتش آخر ثمر مینماید
ترجمہ:
سیاح محزون تو ذاکری (ذکر اہلبیت) کو پیشہ بنا
جو آخرت کے لئے ثمر آور دکھائی دے رہا ہے