Showing posts with label NAP. Show all posts
Showing posts with label NAP. Show all posts

Friday, September 22, 2017

Sept 2017: Muharram associated with security concerns, why?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

اِستقبال محرم الحرام!


ماضی کی طرح رواں برس بھی خیبرپختونخوا میں ’نئے اسلامی سال‘ کا آغاز (استقبال) اَمن و امان کو لاحق خطرات سے نمٹنے‘ دہشت گردی کے خوف کو کم کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے غیرمعمولی ’حفاظتی انتظامات‘ کے ذریعے کیا جارہا ہے لیکن اُس ایک مسئلے (دردسر) کا ’مستقل حل (علاج)‘ تلاش نہیں کیا جاتا‘ جس کی وجہ سے ہر سال قومی خزانے سے کروڑوں روپے ’بنام عارضی سیکورٹی‘ پر خرچ کئے جاتے ہیں! خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے رواں سال ’’محرم الحرام 1439ہجری‘‘ کی مناسبت سے مجالس عزاء‘ ماتمی جلوسوں اُور مذہبی اجتماعات کی ’براہ راست نگرانی‘ کے لئے ’کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن نشریاتی الیکٹرانک آلات‘ نصب کئے جائیں گے۔ یہ بیش قیمت آلات دہشت گردی یا فرقہ واریت اور انتہاء پسندی پر قابو پانے میں کس حد تک معاون ثابت ہوں گے یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے لیکن محرم الحرام کی سیکورٹی کے نام پر کروڑوں روپے نت نئے آلات کی خریداری کی نذر ضرور ہو جائیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ گذشتہ برس نگرانی کے لئے جو کیمرے (نگران آلات) نصب کئے گئے وہ اِس مرتبہ کتنے کارآمد ہیں اور رواں برس نئے آلات کی تنصیب کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے جبکہ محرم الحرام کی مناسبت سے جملہ سرگرمیاں روائتی ہیں اور ان کے اوقات و راستے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی نئے جلوس یا اجتماع کے انعقاد کی باوجود درخواست بھی اجازت نہیں دی جاتی اور کسی مخصوص علاقے میں چھوٹے بڑے اجتماعات کے انعقاد کے باقاعدہ لائسینس (اجازت نامے) جاری کئے جاتے ہیں جن کے بغیر کسی بھی قسم کا چھوٹا بڑا‘ اجتماع یا تقریب منعقد نہیں کئے جا سکتے۔

نیشنل کاونٹر ٹریرازم اتھارٹی (نیکٹا) کی ویب سائٹ (nacta.gov.pk) پر دستیاب 20 نکاتی ’اِنسداد دہشت گردی‘ سے متعلق پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی متفقہ قومی حکمت عملی ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ جنوری دوہزارپندرہ سے توجہ کا طالب ہے‘ جس پر عمل درآمد وفاقی حکومت سے زیادہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی لیکن اِس جامع پلان کے کسی ایک نکتے پر بھی ’سو فیصد‘ عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات اور اس سے قبل و بعدازاں ہر انتخابی معرکے میں کالعدم تنظیموں کے نامزد اُمیدواروں کی کسی نہ کسی صورت نمائندگی ہوتی ہے لیکن اِنتہاء پسندی اور فرقہ وارانہ جذبات کو اُبھارنے والوں کے خلاف خاطرخواہ کاروائی نہیں کی جاتی تو پھر ہمیں غیروں (امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ) کی الزام تراشیوں پر سیخ پا نہیں ہونا چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے 21 اگست کو جنوب ایشیاء کے لئے نئی امریکی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو ’’دہشت گردوں کی پناہ گاہ‘‘ قرار دیا تھا اور اُن کے اِس بیان کی حمایت میں 4 ستمبر کو عالمی تعاون تنظیم برکس (برازیل‘ روس‘ بھارت‘ چین اور جنوبی افریقہ)‘ کے اجلاس میں جہاں شمالی کوریا کے جوہری تجربے اور میزائل ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کی مذمت کی گئی وہیں پاکستان کو خطے اور عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’’دنیا کی چند انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں اپنے مراکز رکھتی ہیں۔‘‘ اگرچہ مذکورہ ’مشترکہ اعلامیے‘ میں اِس الزام سے متعلق زیادہ تفصیل سے بات نہیں کی گئی لیکن مغربی تجزیہ کار پاکستان کی اُس حکمت عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘ جس میں پاکستان کو ’غیرریاستی کرداروں‘ کی ’ریاستی پشت پناہی‘ کرنے ’’اچھے اور بُرے عسکریت پسندوں (طالبان)‘‘ کے ذریعے خطے میں جنگی مہمات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’دہشت گردی‘ سے پریشان حال پاکستان پر ’دہشت گردی‘ کی سرپرستی کرنے کا الزام لگانے عائد کرنے والوں میں ہمارا سب سے اچھا دوست ’چین‘ بھی ہم آواز ہو چکا ہے لیکن اِس کے باوجود ہمارے سیاسی و عسکری فیصلہ سازوں ایک ایسی حقیقت کا مسلسل (مستقل) انکار کر رہے ہیں‘ جس پر (سوائے ہمارے) پوری دنیا یقین کئے بیٹھی ہے لیکن چاہے دنیا ہمارا اعتبار کرے یا نہ کرے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’اِنسداد دہشت گردی‘ کی کوششیں اگر بیانات کی حد تک محدود رہیں تو اِن کی کامیابی کے خاطرخواہ امکانات نہیں ہوں گی۔ جب تک پاکستان یہ بات ’عمل‘ سے ثابت نہیں کر دیتا کہ ملک کے طول و عرض میں مذہب کے نام پر‘ اَمن کے لئے خطرہ بننے والے عناصر بالخصوص دہشت گرد ہی نہیں بلکہ اِنتہاء پسند‘ فروعی اِختلافات اور فرقہ واریت پھیلانے والی کالعدم تنظیموں کے علاؤہ اِن کے سہولت کاروں کے لئے سیاسی و عسکری قیادت (اسٹیبلشمنٹ) کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں‘ اُس وقت تک پاکستان داخلی خطرات سے دوچار اور بے یقینی کا شکار ہی رہے گا۔




حسب سابق اِس مرتبہ بھی محرم الحرام کے پہلے عشرے کے دوران ’سیکورٹی کے نام پر غیراعلانیہ کرفیو‘ کا نفاذ ہونے جا رہا ہے۔ ماتمی جلوسوں یا اجتماعات سے متصل لیکن غیرمتعلقہ مرکزی شاہراہیں بند کی جائیں گی۔ نویں اور دسویں محرم الحرام کے روز موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ (ڈیٹا) سروسیز معطل ہونے سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح پشاور کے اندرون شہری و دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو آمدورفت اور مواصلاتی رابطوں میں پریشانی کا سامنا رہے گا اُور عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت گھروں میں محصور ہو کر رہ جائے گی۔ 

خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس پشاور کا فرض بنتا ہے کہ وہ صرف محرم الحرام کے آغاز سے اِیام عزاء کے اختتام (دو ماہ آٹھ دن کی مدت) کے لئے مستعدی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں اُس مذہبی راواداری‘ برداشت اور مثالی (شیعہ سنی) بھائی چارے کو بحال کرنے کے لئے بھی عملی کوشش کریں‘ جو کبھی یہاں کے معمولات و معاشرت کا حسن ہوا کرتا تھا۔ ہر سال روائتی سیکورٹی پلان ’خان رازق شہید‘ کی تیار کردہ دستاویز پر تاریخیں اُور نام بدلنے سے امن و امان کو لاحق خطرات دور (ختم) نہیں ہوں گے۔ 

مسلمہ ہے کہ محرم الحرام کے پہلے عشرہ (دس روز) کو بالخصوص ہر فرقے اور مذہب کے ماننے والے محترم تصور کرتے ہیں۔ اِن ایام میں کثرت سے روزے رکھنا اور نفلی عبادات بھی معمول سے زیادہ کی جاتی ہیں کیونکہ کربلا توحید کی سربلندی اور اِس کے بقاء کے لئے جانی و مالی قربانیاں دینے کا عہد (اِستعارہ) ہے۔ محرم الحرام ایک نسبت بھی ہے جس میں خصوصیت کے ساتھ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے اور اُن کے جانثاروں کی میدان کربلا میں قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں کی اکثریت اِس واقعے کو ’حق و باطل کا معرکہ‘ قرار دیتی ہے اُور بقول علامہ اقبالؒ ’’پیغام ملا تھا جو حسینؓ اِبن علیؓ کو ۔۔۔ خوش ہوں وہی پیغامِ قضاء میرے لئے ہے۔‘‘ 



Friday, March 17, 2017

Mar2017: Military Courts, only way out!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
فوجی عدالتیں: کیوں نہیں؟
تصور ہی باطل ہے کہ صرف ’اِنسداد دہشت گردی‘ کے مقدمات میں ’فوری انصاف تک رسائی‘ ضروری ہے‘ جس کے لئے دو سال قبل فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے کی جانے والی قانون سازی کی پھر سے ضرورت آ پڑی ہے اور اِس مرتبہ چند ترامیم کے ساتھ مذکورہ مسودہ قانون (بل) قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک حساس مسئلہ ہے جس کے بارے میں ملک کی عسکری قیادت بھی یکساں فکرمند ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ ’’کور کمانڈرز کانفرنس‘‘ میں فوجی عدالتوں کی ’’اطمینان بخش کارکردگی‘‘ زیرغور آئی۔ چھوٹے موٹے اعتراضات اپنی جگہ لیکن ملک کی اکثر سیاسی جماعتیں ماسوائے پیپلز پارٹی‘ ان آئینی و قانونی مسودوں پر متفق ہیں جو مسودے قومی اسمبلی میں پیش کئے جا چکے ہیں۔

عجب ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام پر سیاسی جماعتیں نہ تو کھل کر حمایت اور نہ ہی کھل کر مخالفت کر رہی ہیں لیکن اُنہوں نے سیاست کے ذریعے ایک اچھی خاصی ضرورت کو التوأ (شک) میں ڈال رکھا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کا مؤقف ہے کہ اس قانون میں سے ’مذہب‘ اور ’فرقے‘ کے الفاظ حذف کئے جائیں‘ قانون امتیازی نہیں ہونا چاہئے اور دہشت گردوں کی کسی درجہ بندی کا اندراج بھی آئین میں نہیں ہونا چاہئے۔ ’ایم کیو ایم‘ کا مطالبہ ہے کہ قانون صرف مذہب اور فرقے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف ہونا چاہئے اور عام نوعیت کے دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں کی بجائے عام عدالتوں میں عام قوانین کے تحت کاروائی ہونی چاہئے لیکن سب سے ’’مبہم‘ گومگو اور چونکہ چنانچہ‘‘ پر مبنی مؤقف پیپلز پارٹی کا ہے۔ پہلے دن سے بل کے پیش ہونے تک پیپلز پارٹی نہ صاف چھپتی ہے نہ سامنے آتی ہے۔ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے سے لے کر مدت میں توسیع کے معاملات پر مذاکرات اور اجلاسوں میں اپنا مؤقف اور رائے تبدیل کرتی ہوئی نظر آئی ہے۔ 

پیپلز پارٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں ہونے والے آخری اجلاس میں اپنی تجاویز رکھیں اور یہ بات سامنے آئی کہ پیپلز پارٹی دو برس کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کے لئے راضی ہو چکی ہے لیکن رات ڈھلے پیپلز پارٹی نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنی تجاویز سے دستبردار نہیں ہوئی۔ ایسا ہرگز نہیں کہ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کو ناقابل قبول سمجھ کر ایوان کے اندر یا باہر ان کی مخالفت کرے گی‘ یہ بھی نہیں کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں اس بل کی حمایت کرے اور سینیٹ سے فوجی عدالتوں کا بل رد کروا دے گی۔ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی حامی بھی ہے اور مخالف بھی۔ اصل بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی شرائط پر فوجی عدالتیں قائم کرنا چاہتی ہے!

فوجی عدالتوں کی ضرورت کی بات صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ بھی کر رہی ہے۔ مقتدر قوتیں چاہتی ہیں کہ وہی فوجی عدالتیں ہوں جو دہشت گردی میں ملوث مجرموں کے خلاف پہلے کی طرح ہنگامی بنیادوں پر مقدمات چلائیں تاکہ مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچا کر دہشت گردی کے شکار لوگوں کو انصاف مہیا کیا جا سکے۔ 

دو سال قبل آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گرد حملے کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں کل جماعتی کانفرنس کے موقع پر پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کا وہ بیان آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس کی تعریف وزیرِ داخلہ بھی کر چکے ہیں۔ اس بیان میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ’’اگر میری جماعت کو نقصان ہوتا ہے تو بھی منظور لیکن دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے حکومت اور فوج کے ساتھ ہیں۔‘‘ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اِن دو برسوں میں ایسا کیا ہوا کہ اب پیپلز پارٹی ان فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کو تیار نہیں اور تیار ہے تو اپنی کچھ شرائط کے ساتھ؟

پیپلزپارٹی اب تک ’’قلیل الجماعتی کانفرنس‘‘ طلب کر چکی ہے جس کی ناکامی کے بعد اُس نے اکیلے ہی فوجی عدالتوں پر ’’نو نکاتی تجاویز‘‘ پیش کر دیں‘ جس میں فطری انصاف‘ عالمی قوانین اور شفاف ٹرائل کے تمام اصولوں کا ذکر ہے لیکن فوجی عدالتوں کے قیام کے تناظر میں یہ نکات فنی اعتبار سے ناقابلِ عمل سمجھے جاتے ہیں۔ تجویز کے مطابق اگر سیشن ججوں نے ہی اس طرح کا ٹرائل کرنا ہے تو آئین میں ترمیم کی ضرورت کیا ہے؟ اور اگر عام قوانین کے مطابق ملزموں کے خلاف استغاثہ ہونا ہے تو پھر فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ 

حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنا مؤقف واضح نہیں کر پا رہی اور اِس سوال کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی کہ کیا دہشت گرد کسی رعائت کے مستحق ہیں؟ پیپلزپارٹی کی جانب سے فوجی عدالتوں پر اپنا الگ بل لانے کا مطلب ’’سیاست‘‘ کے سوائے اُور کیا لیا جا سکتا ہے جبکہ تحریک انصاف حکومت سے نالاں ہے‘ اگر یہ دونوں جماعتیں حقیقی مخالفت کی ٹھان لیں تو حکومت لاکھوں کوششوں کے باوجود فوجی عدالتوں کا بل منظور نہیں کروا سکے گی تو کیا ایسا کرنا ملک کے مفاد میں ہوگا؟ 

پیپلز پارٹی ڈیل بھی چاہتی ہے اور اپنی طاقت و اہمیت کا مظاہرہ بھی کر رہی ہے۔ ڈیل (کچھ لو کچھ دو) کا مطلب ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی ممکن بنائی جائے اور طاقت و اہمیت کی بنیاد پر نمایاں ہونے کی ضرورت پارٹی کے داخلی محاذ پر جاری اختیارات کی اُس رسہ کشی کی وجہ سے محسوس ہو رہی ہے‘ جس کا ایک سرا زرداری اور اُن کے وفاداروں اور رسی کا دوسرا سرا بلاول اُور اُن کے ساتھ اپنا سیاسی مستقبل وابستہ کرنے والے کارکنوں کی اکثریت کے پیش نظر ہے۔ اصولی طور پر تمام مقدمات کا فیصلہ عمومی یا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں ہی سے ہونے چاہیءں لیکن ملک کو جن معروضی حالات و مشکلات (بحرانوں) کا سامنا ہے اُن میں خصوصی عدالتی نظام کے بغیر دہشت گردی سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی (نیشنل ایکشن پلان) کے جملہ اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے اور یہ بات ’مخالفت برائے مخالفت‘ کر رہی سیاسی جماعتوں کے قائدین بخوبی جانتے ہیں‘ جنہیں اپنے اپنے جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے مفاد کے بارے میں بھی ضرور سوچنا چاہئے۔
Politicizing the military courts for known reasons

Monday, March 13, 2017

Mar2017: Terrorism, Social Media and Artificial Intelligence

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سوشل میڈیا: ذہین پھندا!
پاکستان میں امن کو لاحق خطرات کا شمار اِس لئے بھی ممکن نہیں کہ ایک تو حملہ آور گوریلا طرز پر عسکری مہمات کرنے میں ’جلدبازی‘ کا مظاہرہ نہیں کررہا کہ اُن سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اُن کی طاقت کے مراکز پر ہاتھ ڈال سکیں اور دوسرا اب تک ہوئے دہشت گرد حملوں کے پیچھے اس حد تک باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی کا عمل دخل پایا گیا کہ کئی ایک سہولت کاروں کی گرفتاری کے باوجود بھی اصل کرداروں تک رسائی اور اُن کے شہری و دیہی علاقوں کے تمام نیٹ ورکس ظاہر نہیں ہوسکے۔ 

سیکورٹی اداروں کے لئے دہشت گردی سے نمٹنے کا یہ کھلا چیلنج اِس لئے بھی پیچیدہ ہے کیونکہ اِس میں مواصلاتی رابطوں اور افرادی قوت حاصل کرنے کے لئے غیرروائتی اسلوب یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھی کام لیا جارہا ہے۔ بارہ مارچ کے مضمون ’’سوشل میڈیا دہشت گردی!‘‘ کے عنوان سے ’’مہم جو طبیعت‘‘ رکھنے والے اُن نوجوانوں‘ اساتذہ اور والدین تک یہ بات پہنچانے کی کوشش کی گئی کہ اگر کوئی بھی صارف آن لائن سرگرمیوں میں احتیاط سے کام نہیں لے گا‘ تو غیردانستہ طور پر وہ قابل گرفت و سزا جیسے سنگین جرائم کے ارتکاب میں ملوث ہوسکتا ہے اور ایسے جرائم میں بھلا کون دانشمند ملوث ہونا پسند کرے گا‘ جن پر دہشت گردی کی دفعات لاگو ہوتی ہوں؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تعلیمی اداروں اور والدین کو سمجھنا ہوگا کہ انسانوں کی طرح جدید کمپیوٹرز بھی کسی نہ کسی حد تک ’مصنوعی ذہانت‘ کے مالک ہوتے ہیں اور اِسی مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹلی جنس) کی بنیاد پر سافٹ وئرز نہ صرف صارفین کی عادات اور فیصلوں کو محفوظ کرتے رہتے ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں مستقبل میں خدمات فراہم کی جاتی ہیں لہٰذا یہ سمجھنا کہ ’آن لائن‘ وسائل سے استفادہ اگر گمنام اکاونٹس کے ذریعے کیا جائے تو محفوظ ہوتا ہے‘ تو یہ تاثر سوفیصد درست نہیں۔ پاکستان سمیت بیشتر ایشیائی ممالک کے باشندوں کے لئے مصنوعی ذہانت فی الوقت ایک غیر معروف اور نو آموز موضوع ہے جس کی بڑی وجہ ہی ہے کہ اس عنوان کے تحت میسر زیادہ تر تحقیقی مواد انگریزی زبان میں ہوتا ہے اور وہ بلاقیمت دستیاب بھی نہیں۔ مقامی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر بہت کم لکھا جاتا ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ اس موضوع کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ان کا اوڑھنا بچھونا انگریزی ہوتی ہے۔ 

بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت انسانی دماغ کو مسخر کر کے اس سے کئی گنا زیادہ سوچنے‘ سمجھنے اور پھر عمل کر دکھانے والی مشینیں تیار کرنے کے علوم کا مجموعہ (سائنس) ہے جس کا آغاز اُنیس سو ساٹھ سے ہوا اور دنیا بھر کے سائنس دانوں اور محققین کا یہ پسندیدہ ترین موضوع رہا ہے‘ بالخصوص کمپیوٹر گیمز تخلیق کرنے والے مصنوعی ذہانت ہی کا استعمال کرتے ہوئے کھیلوں کو زیادہ مشکل بناتے ہیں تاکہ کمپیوٹر انسانی دماغ کو مشکل سے دوچار کر سکے۔ مصنوعی ذہانت کے قریب نصف صدی کے سفر میں تیز رفتار تحقیق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مصنوعی انسانی دماغ تخلیق کرنے کے منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے اور ضرورت اِس امر کی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی ’نیشنل ایکشن پلان‘ میں اِسی مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے اور اس سلسلے میں جامعات کو تحقیق کے اہداف دیئے جائیں۔ امریکہ کی ڈرون ٹیکنالوجی اور بیشتر دفاعی بالادستی جامعات ہی میں ہونے والی چھوٹے پیمانے پر تحقیق کا حاصل ہے اور جب تک نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد اور مستقبل کی ضروریات کا ادراک نہیں کیا جائے گا‘ اُس وقت تک ہمارا دفاع جامع اور سوفیصد بہتر (محفوظ وقابل بھروسہ) نہیں بنایا جا سکے گا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی سے لے کر سماجی اور معاشرتی سطح تک تحقیق و جستجو کے میدان میں جتنے زیادہ امکانات انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اِس ’مصنوعی ذہانت‘ نے پیدا کئے ہیں‘ اس سے قبل یہ اعزاز بہت کم سائنسی علوم کے حصے میں آئے ہیں۔ اگرچہ ذرائع ابلاغ کا سارا زور ہمیشہ سے ہر نئی ایجاد اور تحقیق کے منفی رخ کی ترویج پر ٹوتتا ہے مگر اس حقیقت سے کسی صورت بھی انکار ممکن نہیں کہ ہماری موجودہ زندگی کو آرام دہ اور سہل بنانے میں مصنوعی ذہانت ہی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مصنوعی ذہانت کا منفی پہلو یہ ہے کہ اِس سے ہماری عمومی زندگیوں میں مشینوں کا عمل دخل بڑھ جائے گا اور غیرتربیت یافتہ‘ کم تعلیم یافتہ یا کسی جسمانی کمزوری سے دوچار انسانوں (افرادی قوت) کی اہمیت بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی۔ ہم محسوس نہیں کر رہے لیکن ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ہمارا اوڑھنا بچھونا بن رہی ہے اور مستقبل کی دنیا میں ’جاہل‘ بن کر بقاء صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگی۔ 

گوگل سرچ‘ آئی بی ایم واٹسن‘ جدید مہلک ہتھیاروں کی دوڑ‘ صنعتوں‘ معاشیات‘ حتی کہ کھیل کود اور سوشل میڈیا الغرض ہر جگہ بہت جلد ’مصنوعی ذہانت‘ کا سکہ چلتا نظر آئے گا تو کیوں نہیں اِس کرنسی کو پاکستان میں بھی آج ہی سے رائج کرنے کی تیاری کی جائے؟ سوال یہ بھی ہے کہ بالفرض آئندہ بیس برس یا اس سے کچھ کم عرصے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی موجودہ ٹیکنالوجی کی جگہ لے لیتی ہے تو اس تبدیلی کے ہمارے معاشرتی سیاسی سماجی نظام اور سب سے بڑھ کر اخلاقی اقدار پر کیا مثبت یا کیا منفی ممکنہ اثرات ہوں گے اور کیا ہم کسی ایسے ٹیکنالوجیکل انقلاب کا سامنا کرنے کے لئے بحثیت ملک و قوم تیاری کئے بیٹھے ہیں؟ 

زمین سے زیادہ خلائی دنیا کے بارے جاننے والے معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ ایک عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’’ہم انسانوں کو اپنی تمام تر توجہ ایسی ذہین مشینوں کی تخلیق پر مرکوز کرنی چاہئے‘ جو انسانیت کی فلاح و بہبود اور قیام امن کی ضامن ہوں‘‘ لیکن جدید کمپیوٹرز ہوں یا ہمارا نظام تعلیم‘ قومی ترجیحات کا تعین کرنے والوں کو علوم میں سوچ بچار کے ساتھ اخلاقیات اور ذمہ داریوں کے بارے میں نوجوانوں کو آگاہ کرنا ہوگا۔ ایک توازن اور عدل بھی ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں اردو زبان کے ذرائع ابلاغ نہایت ہی کلیدی کردار اَدا کرسکتے ہیں جنہیں اپنی نشریات کا کچھ وقت یا اپنی اشاعتوں میں بطور خاص ایسی بحث و مباحثے کو جگہ دینی ہوگی‘ جس کا تعلق تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اُس منظرنامے سے ہے جو کچھ کچھ نہیں بلکہ سب کچھ بدل کر رکھ دے گا اور پھر (خدانخواستہ) ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے اور خود اپنی ہی تباہی کا تماشا دیکھنے کے سوأ کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔