Showing posts with label Social Media. Show all posts
Showing posts with label Social Media. Show all posts

Friday, April 14, 2023

Social Media: neediness and weakness

 ژرف نگاہ  …… شبیرحسین اِمام

اظہار ِرائے: محتاجی اُور ضعف

پہلا مرحلۂ فکر: ٹیکنالوجی کی دنیا پر ’حکمرانی‘ کا تعلق اہلیت سے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام سے ہے اُور شاید یہی وہ وقت کا ’دجال‘ ہے جس نے معیشت سے دفاع اُور دفاع سے اظہار رائے تک ’عالمی اجارہ داری‘ قائم کر رکھی ہے۔ دنیا کی سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں 5 کا تعلق امریکہ سے ہے۔ امریکی ایپل (apple) 380 ارب ڈالر سالانہ آمدنی کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ دیگر کمپنیوں میں امریکہ کی ایلفابیٹ (Alphabet) 260 ارب ڈالر سالانہ‘ جنوبی کوریا کی سام سنگ (Samsung) 245 ارب ڈالر سالانہ‘ تائیوان کی ہان ہائی پریسیشن (Hon Hai Precision) 215 ارب ڈالر سالانہ‘ امریکہ کی مائیکرو سافٹ 185 ارب ڈالر سالانہ‘ امریکہ ہی کے میٹا پلیٹ فارم (فیس بک) 120 ارب ڈالر سالانہ اُور امریکی ڈیل (Dell) 110 ارب ڈالر سالانہ آمدنی رکھتی ہے۔ جب معلوم ہے کہ دنیا پر ٹیکنالوجی کی حکمرانی ہے تو اِس شعبے میں عصری اُور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خاطرخواہ تعلیم و تحقیق میں سرمایہ کاری نہ کرنا ’مجرمانہ غفلت‘ ہے اُور بہتری اِسی میں ہے کہ جلد از جلد غفلت کو ترک کر کے حقائق کا ادراک کیا جائے کیونکہ یہی ٹیکنالوجی معاشی بہتری و آزادی کے علاؤہ قومی سلامتی و دفاع کے لئے بھی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔

دوسرا مرحلۂ فکر: امریکہ کی معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک (Elon Musk) ہر سیکنڈ ’پانچ سو ڈالر‘ یعنی ہر منٹ ’تیس ہزار ڈالر‘ یعنی ’بیس لاکھ ڈالر‘ فی گھنٹہ‘ یعنی ’چار کروڑ ڈالر‘ یومیہ یعنی ’تیس کروڑ ڈالر‘ ہر ہفتے یعنی ’ایک ارب ڈالر‘ ہر مہینے یعنی سالانہ ’پندرہ ارب ڈالر‘ آمدنی رکھتے ہیں۔ ایک ایسے ’کھرب پتی‘ شخص جس کی آمدنی میں ہر سال اربوں ڈالرز کا اِضافہ ہو رہا ہے‘ جب اُس نے سال 2022ء کے دوران سماجی رابطہ کاری کی معروف ویب سائٹ ’ٹوئیٹر (twitter)‘ بمعہ ادارے 44 ارب ڈالر کے عوض خریدی تو اُمید یہ تھی کہ اِس اقدام سے ’ٹوئیٹر‘ میں مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ٹوئیٹر نئی خدمات متعارف کروائے گا اُور بالخصوص یہ کہ اِس کی مفت فراہم کی جانے والی سہولیات کو زیادہ وسیع اُور معیاری بنایا جائے گا لیکن ٹوئیٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بننے کے بعد ’51 سالہ‘ ایلون مسک نے نہ صرف ٹوئیٹر کمپنی کے اخراجات کم کرنے کے لئے ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کیا بلکہ ایک اُور نہایت ہی متنازع فیصلہ کرتے ہوئے ٹوئیٹر کی خصوصی تصدیقی خدمت (بلیو چیک مارک Blue Checkmark) جو پہلے مفت فراہم کی جاتی تھی اُس کی قیمت ’8 امریکی ڈالر‘ مہینہ مقرر کر دی اُور کہا کہ ”ٹوئیٹر خریدنے کے وقت یہ اِدارہ ’3 ارب ڈالر سالانہ خسارہ‘ کر رہا تھا جسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اُور منافع بخش بنانے کے لئے ملازمین کا بوجھ کم کیا گیا ہے جبکہ ’مصدقہ خدمات‘ کی قیمت (آٹھ ڈالر ماہانہ) مقرر کی گئیں ہیں اُور اُمید ہے کہ ٹوئیٹر صارفین تعاون کریں گے۔“ ذہن نشین رہے کہ ایلون مسک کے اثاثوں کی کل مالیت 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہے! رواں ہفتے جب ٹوئیٹر کی جانب سے باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ تصدیق شدہ ٹوئیٹر اُن کھاتوں (اکاؤنٹس) سے ’بلیو چیک مارک‘ کو ہٹا دیا جائے گا جو ماضی میں مفت فراہم کئے گئے تھے اُور اِس سلسلے میں ’20 اپریل 2023ء‘ کی آخری تاریخ (ڈیڈ لائن) مقرر کر دی گئی ہے جس کے بعد صرف وہی ٹوئیٹر اکاؤنٹ تصدیق شدہ ہونے کا اعزاز رکھیں گے جو اِس کی مقررہ قیمت اَدا کرنے کی مالی سکت رکھیں گے۔ اندازہ ہے کہ ’2 لاکھ 94 ہزار‘ ٹوئیٹر صارفین کے اکاؤنٹس ’تصدیق شدہ‘ ہیں اُور اِن میں سے اگر نصف بھی آٹھ ڈالر ماہانہ کے عوض اپنے اکاؤنٹ کی دوبارہ تصدیق خریدتے ہیں تو اِس سے ٹوئیٹر کو ماہانہ 7 لاکھ 76 ہزار ڈالر ماہانہ ہو گی جبکہ کمپنی کو اِس اقدام سے کم سے کم ’10 لاکھ (ایک ملین) ڈالر ماہانہ‘ آمدنی متوقع ہے۔ سال دوہزاربائیس کے اختتام پر ٹوئیٹر کے پوری دنیا میں فعال صارفین کی تعداد 45 کروڑ (450ملین) سے زیادہ تھی جن میں پاکستان کے 30 لاکھ (تین ملین) سے زیادہ صارفین بھی شامل ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ ’8 امریکی ڈالر‘ پاکستانی کرنسی (PKR) میں 2300 روپے ہوتے ہیں۔

تیسرا مرحلۂ فکر: ٹوئیٹر کی جانب سے صارفین کے کھاتوں (اکاؤنٹس) کی قیمت مقرر کرنے کا ”نقصان“ یہ ہوا ہے کہ 8 امریکی ڈالر ادا کر کے اب کوئی بھی شخص تصدیق شدہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ حاصل کر سکتا ہے جو اِس سے قبل صرف معروف کاروباری‘ سیاسی‘ فلمی شخصیات یا پیشہ وروں جیسا کہ صحافیوں کو ایک مرحلہ وار تصدیقی عمل کی تکمیل کے بعد جاری کیا جاتا تھا تاکہ اُن کے نام سے ملتا جلتا اکاؤنٹ بنا کر کوئی غلط معلومات نہ پھیلائے یا معروف شخصیات سے منسوب فرضی (جعلی) پیغامات نہ پھیلائے جائیں۔ سوشل میڈیا پر معلومات کی تصدیق کا یہ طریقہ متعارف کرانے کے بعد ’ٹوئیٹر‘ کی پیروی کئی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی کی لیکن جب سے ’آٹھ ڈالر کے عوض تصدیق شدہ اکاؤنٹ فروخت کیا جا رہا ہے‘ تو ٹوئیٹر کی آمدنی میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن سوشل میڈیا کا ایک انتہائی معتبر ذریعہ اپنی وقعت و انفرادیت کھو گیا ہے۔ تصور کریں کہ کئی سربراہان مملکت کے علاؤہ قومی سلامتی اُور خارجہ امور کے اہم ادارے ٹوئیٹر ہی کے ذریعے اپنا مؤقف بیان کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اُور اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ٹوئیٹر کے سب سے مقبول رہنما ہیں جنہیں 1 کروڑ 90 لاکھ (19 ملین) سے زیادہ ٹوئیٹر صارفین ’فالو‘ کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے ٹوئیٹر فالوورز کی تعداد دس لاکھ (ایک ملین)‘ بلاول بھٹو زرداری پچاس لاکھ (پانچ ملین) اُور شہباز شریف کے 66 لاکھ (چھ اعشاریہ چھ ملین) فالوورز ہیں۔ اِسی طرح پاکستان کے اہم قومی ادارے جیسا کہ دفتر خارجہ کے چار لاکھ اکسٹھ ہزار سے زیادہ‘ الیکشن کمیشن کے ستانوے ہزار سے زیادہ‘ نادرا (تین لاکھ سے زیادہ)‘ اسٹیٹ بینک آف پاکستان چار لاکھ پینسٹھ ہزار سے زیادہ  اُور پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ویریفائیڈ اکاؤنٹ کے باسٹھ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

چوتھامرحلۂ فکر : ٹوئیٹر کی تصدیق شدہ اُور غیر تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کے بعد کیا قومی اداروں کو ’ٹوئیٹر‘ استعمال کرنا چاہئے اُور اگر پاکستان کی سیاسی شخصیات اُور اداروں کے بیانات اُور سرگرمیوں سے فوری آگاہ ہونے کے لئے (مجموعی طور پر) 2 کروڑ سے زیادہ ٹوئیٹر کا استعمال کر رہے ہیں تو وقت ہے کہ ایک الگ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کا آغاز ہونا چاہئے اُور مسلم ممالک کے لئے یہی وہ مناسب وقت ہے کہ وہ ’ٹوئیٹر‘ کی طرز پر سماجی رابطہ کاری کا آغاز کریں جیسا کہ کامسیٹس کی صورت ایک مشترکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق کا ادارہ بنایا گیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اُس ادارے کا قیام پاکستان میں کیا گیا لیکن اِس نے اُمت مسلمہ کے لئے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق جیسی ضرورت کو پورا نہیں کیا ہے ورنہ آج مسلم دنیا کسی ٹوئیٹر‘ فیس بک‘ یوٹیوب یا گوگل جیسے اداروں کی محتاج نہ ہوتی!

اے مرغک ِبیچارہ! ذرا یہ تو بتا تو

تیرا وہ گنہ کیا تھا‘ یہ ہے جس کی مکافات؟

افسوس‘ صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو

دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ ِمفاجات!

……




Saturday, May 7, 2022

Dos and Donts of the Social Media uses for Health Department

شبیرحسین اِمام

  سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

    غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ 

بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔


Tuesday, May 3, 2022

UNJUSTIFIED: Social Media Policy for Health Dept employees

 تحریک …… آل یاسین

سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔ 

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

 ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔

……


Thursday, February 24, 2022

TRUTH MATTERS or Truth that matter!?

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

اظہار رائے: گھٹن جو دل کی رہی .... !

دنیا سوشل میڈیا کے ذریعے اظہار رائے اُور معلومات کے آزادانہ پھیلا ؤمسائل کا حل ڈھونڈ رہی ہے۔ کسی موضوع پر مختلف شعبوں کے ماہرین اُور عوام کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی فیصلہ سازی ہو رہی ہے تاکہ طرزحکمرانی میں موجود خرابیاں دور کی جا سکیں لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ 1: ’سوشل میڈیا‘ صارفین ناکافی معلومات کی بنا پر خبریں اُور تبصرے تخلیق کرتے ہیں۔ 2: ’ناکافی معلومات‘ کو ’غلط معلومات‘ سمجھا جاتا ہے۔ 3: ’غلط معلومات‘ کو ’جعلی خبریں‘ کہا جاتا ہے اُور 4: اِن مبینہ جعلی خبروں کو روک تھام کے لئے قانون سازی جیسا انتہائی اقدام اپنی جگہ تنقید کی زد میں ہے۔ ”پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پی ای سی اے المعروف پیکا)“ کسی پینڈورا باکس جیسا ہے کہ جس میں صرف اختلاف رائے ہی نہیں بلکہ رائے بھی زیرعتاب آ چکی ہے جس کے خلاف عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا ہے اُور پیکا کے تحت ہر قسم کی تعزیری کاروائی یا گرفتاریوں پر پابندی عائد کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عام آدمی کی مشکلات اُور توقعات یہ ہیں کہ حکومت اِس کے بنیادی مسائل جیسا کہ مہنگائی اُور بیروزگاری پر توجہ دے اُور معیشت و معاشرت کی فعالیت کے ساتھ کلیدی شعبوں کی بحالی کے لئے کوششیں کی جائیں لیکن ابلاغ سے متعلق امور سے چھیڑچھاڑ ناقابل یقین و ناقابلِ فہم ہے۔

 افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ایسا پہلا مرتبہ نہیں ہو رہا کہ کسی حکومت نے اختلاف رائے اُور رائے کو روکنے کی کوشش کی ہو اُور اِس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے ادارے اِن سے جڑے نمائندے گھٹن‘ چھبن اُور تھکن محسوس کر رہے ہوں! ”گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی .... نہ روشنی سے ہوا کچھ‘ نہ کچھ ہوا سے ہوا (خالد حسن قادری)۔“

پاکستان میں آزادی اظہار سے متعلق جاری بحث و مباحثہ جو قانون سازی کے عمل سے لیکر سوشل میڈیا کی تباہ کاریوں کا احاطہ کرنے جیسی وسیع ہے‘ تو اِس کا مفید پہلو بھی ہے اُور وہ یہ ہے کہ ہر ایک فریق کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ ذرائع ابلاغ کے ادارے اُور صحافی جہاں جہاں غلطی کر رہے ہیں اُور اِن کی غطلیوں یعنی ناکافی معلومات سے فرضی خبریں تخلیق ہو رہی ہیں یا ملک و شخصیات اُور اہم اداروں کا غلط تاثر اُبھر رہا ہے تو وقت ہے کہ ہر فریق اپنے گریبان میں جھانکے اُور اپنی اصلاح (خوداحتسابی) کے جذبے سے کرے۔ یہ بات ہر کوئی دل سے جانتا ہے کہ ”سب اچھا“ نہیں ہے۔ اگر طرزحکمرانی میں خامیاں ہیں تو اِس طرزحکمرانی کے قیام بھی حسب حال (حسب ضرورت کم خرچ بالانشین) نہیں۔ اُنیس سو اَسی کی دہائی میں جب معلومات اُور خبروں پر سرکاری ادارے نظر رکھتے تھے تو اُس سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے غیرملکی نشریاتی ادارے فعال ہوئے جن میں سرفہرست برطانوی نشریاتی ادارہ ’بی بی سی‘ تھا اُور سرشام ہی بی بی سی کی ریڈیو نشریات (میڈیم ویو) پر حاصل کرنے کی تگ و دو شروع ہو جاتی کیونکہ اُس وقت بہت کم لوگوں کے پاس اچھی قسم کے ٹرانسٹرز (شارٹ ویو ریڈیو) ہوا کرتے تھے۔ معلومات جمع کرنے سے اِن کی تقسیم تک کا وہ دور آج کے مقابلے نسبتاً کم پیچیدہ تھا کہ معلومات کسی ایک ذریعے سے آ رہی ہوتی تھیں جبکہ آج کی حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت نے ’سوشل میڈیا سیل‘ بنا رکھے ہیں اُور سوشل میڈیا رضاکاروں کے ساتھ سرعام ملاقاتیں بھی کی جاتی ہیں۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے سوشل میڈیا سیلز (ٹیموں) کے قول و فعل کی ذمہ داری نہیں لیتیں لیکن اُن کی کارکردگی کی تائید و تعریف کرتی ہیں! سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ’سیربین‘ کے دور میں واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں؟ 

سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کے ذرائع محدود نہیں رہے اُور یہی ایک بات فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہو گی کہ وہ جس قدر پابندیاں عائد کریں گے‘ یہ سلسلہ اُتنا ہی زیادہ پھیلتا چلا جائے گا اُور اِس سے اُٹھنے والی معلومات کی آندھی طوفان سائبیریا سے آنے والی ہواو¿ں کی طرح‘ غیرملکی ذرائع ابلاغ فائدہ اُٹھائیں گے اُور یہ پاکستان کے سیاسی موسموں پر اثرانداز ہوں گے‘ جو ایسی تبدیلیوں کا باعث ہوگا‘ جس کی فیصلہ ساز خواہش نہیں رکھتے اُور نہ ہی اِس کا درست اندازہ لگا رہے ہیں! کیا واٹس ایپ گروپوں اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر مواد کا تبادلہ (شیئرنگ) روکی جا سکتی ہے اُور بے لگام سوشل میڈیا صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ملک کے سنجیدہ طبقات کے لئے بھی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ سوشل میڈیا کی اصلاح اختلاف رائے پر پابندی سے نہیں بلکہ اختلاف رائے کی زیادہ بڑے پیمانے پر آزادی دینے سے ممکن ہے۔ یہ تصور سننے میں ناقابل ہضم و ناقابل عمل ہے لیکن اگر معلومات کا جواب معلومات سے دینے کے لئے فعال نظام اُور شعور اُجاگر کیا جائے تو ایسی بہت سی قباحتیں ہیں جن کی اصلاح ہو جائے گی کیونکہ وہ لاعلمی یا کم خواندگی کی وجہ سے ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کو نصاب ِتعلیم کا حصہ بناتے ہوئے اِس کی اخلاقی حدود و قیود اُور اثرات کے بارے اگر نوجوان نسل کو بتایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کورونا جرثومے سے زیادہ تیزی سے پھیلنے اُور نسبتاً زیادہ مہلک اِس معلومات کا سیلاب اُنہی حاسدوں کو بہا کر لے جائے جو اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے لئے نہ صرف قومی شخصیات اُور اہم قومی اداروں کی ساکھ بلکہ ملک کی سلامتی کے بھی درپے (دشمن) دکھائی دیتے ہیں۔ 

....

Clipping from Daily Aaj Feb 24th, 2022 Thursday


Saturday, July 18, 2020

Social Media & changing role of journalism

سوشل میڈیا: روشن پہلو
اِنفارمیشن ٹیکنالوجی ’مشکل‘ نہیں ’مشکل کشا‘ ہے لیکن یہ مکمل حقیقت (پورا سچ) نہیں۔
پاکستان میں عمومی تاثر ’گمراہی کا سبب‘ ہے کہ کسی بھی شعبہ زندگی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیدا ہونے والی مشکلات اُس کے عمومی اُور روائتی طور طریقوں‘ تجربات (کامیابیوں) کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ٹیکنالوجی ’غیرروائتی انداز میں فکر و عمل (تحریک)‘ کا نام ہے‘ جسے ہمہ وقت رہنما اُور رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے تاکہ یقین کی کشتی معلوم اُور نامعلوم جزیروں (حقائق) کے درمیان سفر جاری رکھے اُور یہ سفر محفوظ‘ آسان اُور مالی و افرادی وسائل کی بچت کے ساتھ باسہولت بھی رہے۔

کون نہیں جانتا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت وقت اُور جغرافیائی سرحدوں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے اُور ایک ایسا ”عالمی معاشرہ“ تخلیق پا چکا ہے‘ جس میں ہر دن قربت اُور تعاون کے نت نئے اِمکانات جنم لے رہے ہیں اُور انفارمیشن ٹیکنالوجی جو کہ بنیادی طور پر ’سہولت کاری‘ جیسا کلیدی کردار اَدا کر رہی ہے اِس کی بدولت انسانی معاشروں کے سماجی‘ سیاسی‘ درسی و تدریسی‘ تحقیقی‘ طبی‘ معلوماتی اُور معاشی و اقتصادی معمولات (رویئے) تبدیل ہو رہے ہیں۔ بالخصوص جب ہم صحافت (ذرائع ابلاغ) کے تناظر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اُور اِس کے استعمال سے نتائج یعنی سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) کے حاصل وصول (اثرات) کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا حسب ضرورت‘ انتخاب‘ پسند اُور ترجیح جیسے مدارج تو طے کر گئی ہے لیکن اِس سے متعلق قومی حکمت عملی (مربوط کوششیں) دیکھنے میں نہیں آ رہیں۔

دعوت فکر ہے کہ سوشل میڈیا کے شعوری (بامقصد) استعمال و ترقی کے لئے حکومت اُور نجی اِدارے اِنفرادی و اِجتماعی سطح اُور شراکت داری ہونی چاہئے۔ سوشل میڈیا خودرو نہیں۔ سوچ‘ سمجھ بوجھ اُور منصوبہ بندی جیسی تین ضروریات پیش نظر رہنی چاہئے۔ اب تک وقت‘ توجہ‘ تحقیق اُور مالی وسائل کے ذریعے خاطرخواہ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی لیکن انفرادی و اجتماعی طور پر‘ ہر کس و ناکس (خاص و عام) کی کوشش و خواہش ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی (بھیڑ چال) میں ’سوشل میڈیا‘ سے مقبولیت‘ مالی فوائد یا یہ دونوں ثمرات حاصل کرے اُور اِس سوچ و مقصد کے تحت ایک ایسے مقصد کا طواف جاری رکھے جس کے کئی زیادہ روشن (ضمنی تعمیری) پہلو نظروں سے اُوجھل ہو گئے ہیں۔

مفید اُور مفاد میں توازن ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے مفید ہونے سے کسی کو انکار نہیں لیکن اِس سے جڑے مفادات اُور اُن کے اثرات بارے نسبتاً زیادہ غور و خوض ہونا چاہئے۔ ’سوشل میڈیا‘ کا صحافت اُور صحافت کے ’سوشل میڈیا‘ کے مختلف شعبوں پر الگ الگ اثرات کو سمجھنے اُور اِن کی اخلاقیات (حدود) کے ’معلوم تعین‘ کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سچائی پر سمجھوتہ کئے بغیر کسی کی ہتک و خاطرشکنی (دل آزاری) نہ ہو اُور بیان و اظہار کے شائستہ پہلو بھی نمایاں رہیں۔ یہ نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مظاہر ہوں یا ٹیکنالوجی کے نت نئے انداز‘ اِنسانی جذبات اُور احساسات کی اہمیت کم یا اِن پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے‘ جس کی جانب عظیم اُردو شاعر اُور فلسفی ڈاکٹر علامہ اقبالؒ (1877ء- 1938ئ) نے اپنی نظم ’لینن‘ میں اشارہ کیا تھا۔ ”ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت .... احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات۔“

پہلا تعمیری پہلو
سوشل میڈیا سے قبل اخبارات‘ جرائد اُور ٹیلی ویژن چینلز (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) یک طرفہ (monologue) اِظہار کا ذریعہ تھے‘ جنہیں سوشل میڈیا نے دو طرفہ اظہار (dialogue) کی مدد سے زیادہ موثر بنا دیا ہے اُور یہیں سے صحافیوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ اب اُنہیں صرف خبر اُور تجزئیات کا اِظہار ہی نہیں بلکہ اُن کا تاحیات دفاع بھی کرنا ہوتا ہے اُور وہ قارئین و صارفین سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں جو کسی جاندار کے لئے آکسیجن جیسی ضرورت ہوتی ہے۔ روائتی ذرائع ابلاغ کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایک خبر پر کئی دن‘ ہفتوں یا سالہا سال بحث جاری رکھیں لیکن سوشل میڈیا کی وساطت سے کسی خبر اُور تجزیئے کا سورج غروب نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ’زندہ حقیقت‘ بن کر دائمی شکل اِختیار کر لیتا ہے اُور یہی سوشل میڈیا کا وہ ’روشن (تعمیری) پہلو‘ ہے جو ’آزادی اظہار (freedom of speech)‘ سے متعلق ہے۔ اِنسانی تاریخ میں اپنے خیالات (پسند و ناپسند پر مبنی عمومی یا ماہرانہ رائے) کا اِظہار کبھی بھی اِس قدر آسان نہیں تھا۔

دوسرا تعمیری پہلو:
 سیاسی رہنماوں اُور صحافیوں کی اکثریت اظہار کے لئے سوشل میڈیا کے مقبول ذریعے ’ٹوئیٹر (Twitter)‘ سے استفادہ کر رہی ہے۔ ٹوئیٹر کا باضابطہ پہلا دن (launching) 15 جولائی 2006ءکے روز 13 سال قبل (رواں ہفتے) ہوئی تھی اُور فروری 2020ءمیں جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ٹوئیٹر کے فعال (active) صارفین کی تعداد 32 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ ہے‘ جن میں امریکہ کے صدر سے لیکر پاکستان و بھارت کے وزرائے اعظم اُور دنیا کے سبھی ممالک کے فیصلہ سازوں کی کسی نہ کسی صورت موجودگی اِس حقیقت کا بیان ہے کہ سیاست ہو یا صحافت‘ اظہار کے لئے سوشل میڈیا ہی پہلا انتخاب (choice) اُور ترجیح (priority) بن چکی ہے۔

تیسرا تعمیری پہلو
سوشل میڈیا نے ذرائع ابلاغ کے نئے اسلوب متعارف کروائے ہیں جیسا کہ بز فیڈ (Buzz Feed) اُور لیڈ بائبل (LADbible) وغیرہ جبکہ خبروں (نیوز)‘ اطلاعات (اناو نسمنٹ) اُور معلومات (انفارمیشن) تک رسائی کے لئے نت نئی سہولیات کا اجرا مسلسل ہو رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ وجود میں آنے والے ’ذرائع ابلاغ کے نئے ادارے‘ صرف اُور صرف سوشل میڈیا کا احاطہ کرتے ہیں‘ جن کے مطالعے سے سوشل میڈیا کے رجحانات اُور مقبول اسلوب کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی سمجھنا چاہے۔ درحقیقت سوشل میڈیا کی بدولت جو اپنی طرز (نوعیت) کی ”انوکھی مشکل“ پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اب خبروں کی کمی نہیں رہی بلکہ بہتات ہو گئی ہے اُور اِس ”لمحہ بہ لمحہ خبرنگاری“ نے پیشہ ور (تربیت یافتہ) صحافیوں کے شانہ بشانہ سوشل میڈیا صارفین کو لاکھڑا کیا ہے جو ایک دوسرے کے ”مدمقابل“ نہیں بلکہ ایک دوسرے کی خدمات‘ تجربے اُور رسائی سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اُور ایسی سینکڑوں ہزاریں مثالیں موجود ہیں‘جن سے تعمیری و تحقیقی صحافت نے جنم لیا ہے۔ 

سوشل میڈیا سے قبل کسی خبر (متن) کی تصدیق کے لئے ادارہ جاتی ساکھ کو دیکھا جاتا تھا اُور اب کسی خبر کی ذیل میں ’آن لائن تبصروں‘ سے اُس کے مندرجات کی سچائی اُور اُن سبھی ضمنی پہلووں سے شناسائی حاصل کی جاتی ہے جن کا ذکر کوئی ادارہ یا صحافی دانستہ یا غیردانستہ طور پر نہیں کرتا۔ مختصراً سوشل میڈیا کے 3 تعمیری پہلووں (آزادی اظہار‘ انتخاب و ترجیح اُور مجموعات پر مبنی نئے اسلوب) کا احاطہ ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین (بشمول ذرائع ابلاغ سے جڑے صحافتی اِداروں اُور پیشہ ور صحافیوں) کو اِس بارے میں سوچنا ہوگا کہ .... ”سوشل میڈیا کے مستقبل میں صحافتی اداروں اُور پیشہ ورانہ (تربیت یافتہ) صحافیوں کی  اہمیت و کردار کیا ہوگا؟
Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad - Saturday, 18 July 2020
Editorial Page - Daily Aaj Peshawar / Abbottabad - July 18, 2020 Saturday

Monday, September 16, 2019

Smaha Jahangir - a girl with camera eye!

کیمرے کی آنکھ!

فوٹوگرافی (عکاسی) کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں کا اِظہار ممکن ہے اُور فنون لطیفہ میں شمار ہونے والا یہی ذریعہ (میڈیم اُور مضمون) گردوپیش سے متعلق کسی فوٹوگرافر (عکاس) کی سوچ کا ترجمان بھی ہوتا ہے۔

پاکستان میں ’فن فوٹوگرافی‘ انتہائی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے‘ جس کی دلیل یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی ماضی کے مقابلے کہیں گنا زیادہ اُور معیار کے لحاظ سے بہترین انداز میں ہو رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب غیرملکی فوٹو نیوز ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار عکاس‘ جنہیں پاکستان سے متعلق صحافتی فوٹوگرافی (Photojournalism) کی ذمہ داریاں (assignments) دی جاتی تھیں وہ دیگر موضوعات جیسا کہ روزمرہ معمولات زندگی اور پاکستان کے سیاحتی مقامات کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے لیکن ڈیجیٹل فوٹوگرافی (Digital Photography) کے کم قیمت اور باآسانی دستیاب آلات نے تو گویا انقلاب برپا کر دیا ہے اُور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اب تو ہر موبائل فون رکھنے والے کی جیب میں ایک عدد کیمرہ (camera) سما گیا ہے! اُور اگر ضرورت باقی رہ گئی ہے تو وہ تخلیقی صلاحیت اُور اپنی نظر سے دنیا کو دیکھنے کی جرات و حوصلے پر مبنی ’بہادری‘ دکھانے کی ہے۔

یاد رہے کہ 1975ءمیں ایسٹ مین کوڈک (Kodak) نامی کمپنی کے 24 سالہ انجنیئر اسٹیون ساسن (Steven Sasson) نے ’ڈیجیٹل فوٹوگرافی‘ ایجاد کی تھی اُور ’ایسٹ مین کوڈک‘ نامی کمپنی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اِس نے دنیا کو پہلا ڈیجیٹل کیمرہ دیا‘ جس کی آجکل ایسی ترقی یافتہ اشکال دیکھنے کو مل رہی ہیں کہ کیمرے کسی منظر سے منعکس ہونے والی روشنی اور اُس کی تفصیلات کی ایک سکینڈ سے بھی کم لمحے میں جانچ کر کے ازخود (automatically) درست تصویر (exposure) کا انتخاب کر لیتا ہے اُور کیمروں کی اِنہی صلاحیتوں کی وجہ سے فوٹوگرافی ہر دن پہلے سے زیادہ نکھری نکھری اُور آسان سے آسان تر ہوتی جا رہی ہے۔

 تصویر بنانا مشکل نہیں رہا لیکن اِس فن کو سمجھنا مشکل نہیں تو محنت و توجہ طلب ضرور ہے۔ موبائل ہو یا کسی بھی قسم کا کیمرہ‘ اُس پر لگے ایک خاص بٹن کو دبانے (click) سے تصویر تو بن سکتی ہے لیکن اِس تصویر میں مقصدیت ہی کسی عکاس کو کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کا ذریعہ ہو سکتی ہے اُور یہ ایک ایسا نادر موقع ہے جس سے یقینا ہر کوئی فائدہ اُٹھانا چاہے گا‘ بالخصوص موبائل فون اُور سوشل میڈیا کا امتزاج کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ دنیا منتظر و طلبگار ہے کہ کوئی کیمرے کی آنکھ سے اپنے گردوپیش میں دیکھنے کی اچھوتی کوشش کرے۔ خوش آئند ہے کہ عکاسی کے عالمی منظرنامے میں پاکستان ’غیرمانوس نام‘ نہیں رہا۔

اکتوبر 2017ءمیں جب جاپان کی معروف کیمرہ ساز کمپنی نیکون (Nikon) نے نئے ماڈل کا کیمرہ (D-850) متعارف کروایا تو اُس کے تجرباتی استعمال (فوٹوشوٹ) کے لئے دنیا کے بہترین اور معروف فوٹوگرافروں کو جاپان طلب کیا گیا‘ جہاں اُنہوں نے اپنی اپنی مہارت اُور صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ اِن میں پاکستان سے فیشن فوٹوگرافر ’ٹپو جویری (Tapu Javeri)‘ بھی شامل تھے اُور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک جیسے آلات اُور ایک جیسے حالات میں کام کرتے ہوئے ’ٹپو جویری‘ نے مدمقابل غیرملکی فوٹوگرافروں کو حیران بلکہ پریشان کیا! ’ٹپو جویری‘ تو ایک پیشہ ور عکاس ہیں‘ جن کا اُوڑھنا‘ بچھونا ہی عکاسی ہے لیکن آج ہمیں ایسی خواتین بالخصوص طالبات ملتی ہیں جنہوں نے عکاسی کے عمل کو شوق و ذوق کی تسکین کے لئے اپنایا اُور پھر اِس میدان میں آگے بڑھتی چلی گئیں۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ’24 سالہ‘ سماحہ جہانگیر (Smaha Jahangir) ایسی ہی ایک عکاس ہیں‘ رواں ماہ (ستمبر دوہزار اُنیس) اُن کی بنائی ہوئی ایک تصویر معروف عالمی میگزین ’نیشنل جیوگرافک‘ میں شائع ہوئی ہے‘ جو امریکہ سے شائع ہوتا ہے اُور دنیا میں دستاویزی فوٹوگرافی کا مستند ادارہ ہے۔ اِس اعزاز کی وجہ سے سماحہ جہانگیر دنیا کے لئے اجنبی نہیں رہیں۔ آپ اُن 10 پاکستانی خواتین میں بھی شامل ہیں‘ جو سوشل میڈیا کی وساطت سے عالمی منظرنامے پر پاکستان کا حوالہ (پہچان) ہیں۔ سماحہ جہانگیر (@fictionography) کے علاوہ خدیجہ ابتسام (@kibtisam)‘ ندا علوی (@nidalvi_)‘ مہ حور جمال (@mahoorjamal)‘ عظیمہ الیاس (@_zeemee)‘ نتاشا خان (@natty.a.khan)‘ آنیہ (@anniyah._)‘ نوال مظہر (@i.nawalmazhar)‘ توبا اُور اقصیٰ(@thenerdtwins)‘ عایزہ حماد (@aiza_Hammad) کے نام کسی اضافی تعارف کے محتاج نہیں۔ اِس مرحلہ فکر پر یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ صرف وہی عکاس بہترین (کامیاب) نہیں ہوتے کہ جن کی تصاویر کسی عالمی میگزین میں شائع ہوں بلکہ وہ سبھی مردوخواتین جو عکاسی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں‘ اُن کی محنت‘ جذبے‘ لگن‘جنون اُور سب سے بڑھ کر الگ سوچنے کے انداز کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔ بظاہر عمومی دکھائی دینے والا ہنر‘ عکاسی کسی بھی طرح معمولی نہیں بلکہ اِس کے لئے اُس ’اَن دیکھے‘ کی تلاش کرنا پڑتی ہے‘ جو سب کو یکساں اور برابر دکھائی دے رہا ہوتا ہے لیکن کسی عکاس کی آنکھ ہی اُسے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیتی ہے!

 کسی عکاس سے پوچھیں تو کہے گا کہ فوٹوگرافی کے لئے آپ کو جدید کیمرے‘ ٹرائی پوڈ‘ کیمرہ بیگ‘ عدسوں کی ضرورت ہے لیکن اِن بیش قیمت آلات کی ضرورت صرف اُسی صورت ہوتی ہے جبکہ فوٹوگرافی کو بطور کاروبار (پیشہ) شروع کرنا مقصود ہو۔ سوشل میڈیا کے ذریعے گردوپیش میں خوبیوں اور خوبصورتیوں کو تلاش کرنے کے لئے آلات سے زیادہ ’ژرف نگاہی‘ اُور سوچ (deep-thinking) چاہئے ہوتی ہے۔

سماجی و صحافتی موضوعات ہوں یا سیاحتی مقامات کی دلفریبی کو قید کرنا‘ اِس کام کے لئے کیمرے کے علاوہ جن 3 چیزوں کی اِنتہائی اَشد اُور ناگزیر ضرورت ہوتی ہے وہ صبر‘ تحمل اُور برداشت ہیں۔ عمومی غلطی یہی کی جاتی ہے کہ اندھا دھند تصاویر (clicks) کرنے کو فوٹوگرافی سمجھا جاتا ہے کہ چلو کوئی ایک تصویر تو اچھی آ ہی جائے گی ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن یہ حربہ ہر وقت کارگر ثابت نہیں ہوگا‘ جب تک کہ کسی بظاہر بے جان اُور خاموش تصویر کے قالب سے روشنی اُور خیالات بولتے دکھائی نہ دیں۔ رنگوں کو بات کرنی چاہئے اُور باتوں سے خوشبو وہ اضافی خصوصیت ہے‘ جو کسی تصویر کو خاص بلکہ بہت خاص بنا سکتی ہے۔
...
https://www.instagram.com/fictionography/
https://twitter.com/smahajahangir



Sunday, June 2, 2019

TRANSLATION: A weaponised space by Dr Farrukh Saleem

A weaponised space
مسلط جنگ: پرخطر محاذ!

دنیا میں ’انٹرنیٹ‘ سے استفادہ کرنے والے صارفین کی تعداد ’4.5 ارب‘ ہے جن میں 10 صارف فی سکینڈ کی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا تیزی سے مقبول ہونے کے ساتھ سماجی و انفرادی روئیوں پر اثرانداز ہو رہا ہے اُور عمومی سطح دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کی وجہ سے برداشت ختم ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کیا ہے؟ یہ اظہار کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو بناءکسی بڑی لاگت‘ بناءکسی نگرانی اُور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اثر کرنے والا ہتھیار ہے۔ ریاستی اور غیرریاستی عناصر سوشل میڈیا کا استعمال مختلف اہداف کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرتے ہیں‘ جن میں فرضی معلومات‘ جھوٹ پر مبنی اطلاعات اُور افواہیں پھیلانا بھی شامل ہے۔

پاکستان پر جنگ مسلط ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے‘ جس کے آغاز کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا اُور نہ ہی اِس کے لئے باقاعدہ فوج کشی کی گئی ہے۔ اِس جنگ میں عوام کے نکتہ ¿ نظر اُور اُن کے نظریات و روئیوں پر اثرانداز ہوا جا رہا ہے۔ اِس جنگ کی کوئی سرحد اور جغرافیائی علاقہ (حدود) بھی معین نہیں جبکہ اِس جنگ میں ریاستی و غیرریاستی عناصر جسمانی طور پر حصہ لینے کی بجائے ’سوشل میڈیا آلات‘ کے ذریعے وار (حملہ) اُور جوابی وار (دفاع) کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کا استعمال پاکستان پر حملہ آور ہونے والوں نے کیا ہے‘ جس کے ذریعے اقدار‘ عقائد‘ تاثرات‘ جذبات‘ تحریکی خیالات‘ دلائل اُور روئیے نشانے پر ہیں اُور اِس کے ذریعے وہ سبھی اہداف‘ ایک ایک کر کے‘ حاصل کئے جا رہے ہیں جو کسی ملک پر باقاعدہ فوج کشی کی صورت میں پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا پہلا وار ’دانستہ طور پر‘ غلط خبریں پھیلانا ہوتا ہے اُور ایسی افواہیں بھی جن کے ذریعے عوام میں مایوسی پھیلے۔ اُنہیں اپنا اُور ریاست کا مستقبل تاریک نظر آنے لگے۔ اُن میں مایوسی اور نااُمیدی جیسے جذبات پیدا ہوں اُور وہ بہتری کے لئے کوشش یا اصلاحات کے لئے حکومتی اقدامات کا اعتبار نہ کریں۔ اِس طرح معاشرے میں نفرت‘ بداعتمادی اور انتشار پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اگر ہم سوشل میڈیا کے ایک مقبول ذریعے ’ٹوئیٹر (twitter)‘ کی بات کریں تو اِس کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں فرضی ناموں سے صارفین کے اکاو ¿نٹس کی مدد سے ’گمراہ کن حقائق اُور اعدادوشمار‘ پر مبنی اطلاعات کو اِس قدر بڑے پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے کہ جھوٹ پر سچ کا گمان ہونے لگے۔ ہر طرف سے ’غلط اطلاعات و معلومات‘ کے بم برسائے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی صارف درست خبر‘ ایک ’نئے موضوع (Hashtag)‘ سے جاری کرتا ہے تو اُس ’ہیش ٹیگ‘ کو استعمال کرتے ہوئے یلغار کر دی جاتی ہے‘ جس سے اصل بات‘ موضوع اور حقائق دب کر رہ جاتے ہیں یا کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ اِس قسم کی کاروائیاں خودکار انداز میں کمپیوٹر پروگراموں کے ذریعے سے بھی کئے جاتے ہیں‘ جنہیں ’بوٹس (bots)‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ’بوٹس‘ کسی اِنسان کی طرح سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اُور جب اِن کو دیئے گئے عنوانات یا موضوعات سے متعلق کوئی صارف کچھ لکھتا ہے‘ تو اُس کے ٹوئیٹر پیغام کو دیگر صارفین تک پہنچنے نہ دینے کے لئے اُس پر ہونے والی بحث کو کسی دوسری سمت میں موڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی تکنیکی قسم کی چال ہے‘ اُور سوشل میڈیا کے بارے میں عمومی یا سطحی معلومات رکھنے والے صارف کی سمجھ میں یہ بات (طریقہ واردات) باآسانی نہیں آتی!

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ”سوشل میڈیا وسائل“ سے استفادہ کرتی ہے‘ جن میں معروف سائٹس ’فیس بک (facebook)‘ ٹوئیٹر (Twitter)‘ یو ٹیوب (You Tube)‘ اُور انسٹا گرام (Instagram)‘ شامل ہیں اُور انہی کے ذریعے دل کا حال (خبروں یا معلومات) کا دنیا سے تبادلہ کیا جاتا ہے لیکن پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت کو اُس جنگ کے بارے میں قطعی کوئی اندازہ ہی نہیں جو مسلط ہے‘ اُور جس میں صارفین کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ پر بھی نظر رکھی جاتی ہے‘ تاکہ اُنہیں ’ہدف (ٹارگٹ)‘ بنایا جا سکے۔ القصہ مختصر سوشل میڈیا ایک ایسا غیر فوجی جنگی ہتھیار ہے جس سے جنگی مقاصد
و اہداف حاصل کئے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا ’تباہ کن‘ اُور ’باعث ہلاکت‘ اثرات رکھتا ہے۔ اِس میں اِنسانوں کے خیالات اُور اُن کے عقائد و نظریات کو تبدیل یا الجھایا جا رہا ہے اُور عجیب (زیادہ پریشان کن) بات یہ ہے کہ جن سوشل میڈیا صارفین پر جنگ مسلط ہے‘ اُنہیں اِس بات کا احساس بھی نہیں۔ ہدف صرف ایک ہے کہ پاکستان کو کمزور بنایا جائے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت‘ سیاسی حکمرانوں اُور ریاست کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں۔

پاکستان کو کمزور اُور ناتواں یا ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کیا جائے‘ جو (خدانخواستہ) ناکام ہونے جا رہی ہے اُور جس کا کوئی (روشن) مستقبل نہیں! سوشل میڈیا وسائل سے استفادہ کرنے والوں کو اِن حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی ’آن لائن سرگرمیوں‘ میں پہلے سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ سوشل میڈیا کی شرانگیزیاں توجہ طلب ہیں۔ ہر اطلاع اور ہر خبر درست نہیں ہوتی بالکل اِسی طرح سوشل میڈیا پر زیرگردش (وائرل اُور مقبول عام) ہر تصور اُور تصویر بھی حقائق کے برخلاف ’دروغ گوئی یا جعل سازی‘ کا مجموعہ ہو سکتی ہے! 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Sunday, March 10, 2019

TRANSLATION: The Indo-Israeli nexus by Dr. Farrukh Saleem

The Indo-Israeli nexus
بھارت اِسرائیل گٹھ جوڑ!
دفاعی تعاون کے شعبے میں بھارت اُور اسرائیل کے درمیان ’گٹھ جوڑ‘ اسلحے کی خریدوفروخت کے علاؤہ بھی کئی اہداف رکھتا ہے۔ ہر سال اسرائیل بھارت کو ’اربوں ڈالر‘ مالیت کا جدید ترین اسلحہ فروخت کر رہا ہے اور یہ بات راز نہیں رہی کہ اسرائیل سے جنگی سازوسامان خریدنے والوں میں بھارت دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ 26 فروری کے روز صبح 3 بج کر 30 منٹ پر بھارتی فضائیہ کے 12 ’میراج (Mirage) 2000‘ نامی طیارے جو ’پوپائے (Popeye)‘ نامی فضاء سے زمین پر مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں (میزائلوں) سے لیس تھے‘ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ اسپائس (Spice) کہلانے والی میزائل ٹیکنالوجی مختلف قسم کے الیکٹرانک آلات پر مشتمل ہے‘ جس کے ذریعے کسی ہدف کو نہایت ہی صفائی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور یہ ٹیکنالوجی فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی جو کہ ’رافیل ایڈوانس ڈیفینس سسٹم‘ بھی بناتی ہے کی تخلیق ہے جس کا صدر دفتر (ہیڈکواٹر) ’حایفا (Haifa)‘ اسرائیل میں ہے۔ ’پوپائے‘ میزائل بھی اِسی کمپنی کا بنایا ہوا ہے۔

سال 1992ء تک بھارت کی شہریت (پاسپورٹ) رکھنے والوں کو اسرائیل سفر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ 1997ء میں اسرائیل کے اُس وقت کے صدر ’وائزمین (Weizman)‘ نے بھارت کو ’باراک (Barak) ون‘ نامی میزائل فروخت کئے تاکہ بھارت پاکستان کے ’ہارپون (Harpoon)‘ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کا جواب دے سکے۔ 1998ء میں اسرائیل نے بھارت کی ’آپریشن شکتی(Operation Shakti)‘ نامی کاروائی کی مذمت نہیں کی‘ جس میں بھارت نے 5 جوہری بموں کا تجربہ کیا۔

سال 1999ء میں اسرائیل نے بھارتی کاروائی ’آپریشن وجے (Operation Vijay)‘ کی حمایت کرتے ہوئے اِس مشق میں استعمال کے لئے اپنے ڈرون طیاروں‘ خلائی سیاروں اور لیزر گائیڈیڈ بم دیئے۔ قبل ازیں بھارت فوج کی نشانہ بنانے کی صلاحیت نہایت ہی کمزور اور بوسیدہ آلات پر منحصر تھی۔

سال 2000ء میں اسرائیلی بحریہ (نیوی) نے بھارتی سمندر میں اُن کروز (Cruise) میزائلوں کا تجربہ کیا‘ جو ’آب دوز (submarine)‘ سے فائر کئے جا سکتے ہیں۔ سال 2003ء میں بھارت کے فضائی دستے میں ’فیلکن اواکس (AWACS)‘ شامل ہوئے‘ جو اسرائیلی ساختہ ہیں تاکہ بھارت کی خطے کی فضائی حدود میں بالادستی قائم ہو جائے۔ بھارت نے ’ہیرون (Heron)‘ نامی ڈرون طیارے بھی خرید رکھے ہیں جو اسرائیلی ائرواسپیس انڈسٹری کا تیار کردہ ہے اور ایک طیارے کی قیمت 2 کروڑ 20 لاکھ (220ملین) ڈالر ہے۔

سال 2007ء میں بھارتی نیوی اور ائرفورس نے اسرائیل ائرواسپیس سے ایک معاہدہ کیا‘ جس کے تحت جدید ’باراک آٹھ (Barak-8)‘ نامی میزائل خریدے گئے۔ یہ بھارت کی اسرائیل سے اسلحے کی سب سے بڑی خریداری تھی۔ سال 2008ء میں بھارت نے اسرائیل فوج کے لئے کام کرنے والا ایک خلائی سیارہ (military satellite) بھیجا۔ سال 2008ء میں اسرائیل کی دفاعی افواج کے سربراہ ’لیفٹیننٹ جنرل گابی اشکینازئی (Lt. Gen. Gabi Ashkenazi)‘ نے بھارت کا دورہ کیا۔ سال 2011ء میں ’بھارت ڈئنامکس لیمٹیڈ (Bharat Dynamics Limited)‘ نے ’رافیل ایڈوانس ڈیفینس سسٹمز (اسرائیل)‘ سے ایک ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کیا‘ جس میں ’اسپائک (Spike)‘ نامی ’ٹینک شکن (anti-tank) میزائل‘ 321 لانچر‘ 8356 میزائل اُور 15 تربیتی آلات (simulators) شامل تھے۔

سال 2017ء میں 3 بھارتی بحری جہازوں نے ’حایفا (Haifa)‘ کا دورہ کیا اُور اسرائل کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کا ایک معاہدہ کیا جس کے تحت 40 عدد ’باراک 8‘ میزائل خریدے گئے۔ بھارت کی نظریں اسرائیل کے ’ائرن ڈوم (iron dome)‘ اُور ’ڈیویڈ سلنگ (David Sling)‘ نامی میزائل خریدنے پر بھی لگی ہوئی ہیں۔ فروری 2019ء میں بھارت نے اسرائیل سے 50کروڑ ڈالر مالیت کے ’ہیرون (Heron)‘ نامی مسلح ڈرون طیارے خریدے۔

بھارت کا خفیہ ادارہ ’را (RAW)‘ اُور اسرائیل کا خفیہ ادارہ ’موساد (Mossad)‘ کے درمیان ایک عرصے سے خفیہ طور پر تعاون ہو رہا ہے۔ بھارت جدید جنگی ہتھیاروں کے علاؤہ اسرائیل سے وہ سبھی طریقے (چالیں) سیکھ رہا ہے‘ جن کا استعمال کرکے وہ کسی ملک کے خلاف غیرروائتی محاذوں پر حملہ آور ہو سکے۔ ’را‘ نے اسرائیل سے یہ بھی سیکھا ہے کہ انٹرنیٹ پر منحصر سوشل میڈیا اور دیگر وسائل کا استعمال کرتے ہوئے کس طرح جھوٹ پھیلایا جا سکتا ہے۔

اسرائیل دنیا میں غیرفوجی افراد کی نگرانی کرنے والے آلات کی فراہمی کرنے والا سب سے بڑا برآمدکنندہ ہے۔ ’را‘ اسرائیل سے ’سوشل میڈیا مانیٹرنگ سافٹ وئر‘ کے علاؤہ ٹیلی فون کالز سننے کے آلات‘ پوشیدہ پیغامات (decrypt messages) اور ایسے آلات خریدنا چاہتا ہے جس سے علاقوں پر مستقل نظر (surveillance) رکھی جا سکے۔

برازیل (Brazil) نے واٹس ایپ (Whats-App) کا استعمال کرتے ہوئے غلط معلومات پھیلائیں‘ جس کا اثر انتخابات کے نتائج پر ہوا۔ نائیجریا (Nigeria) کے ہاں بھی پہلی مرتبہ ’واٹس ایپ انتخابات‘ ہوئے جن کے ذریعے جھوٹی خبریں اور تصاویر پھیلائی گئیں‘ جن سے رائے عامہ پر اثرانداز ہوا گیا۔

سال 2019ء میں بھارت پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر ’واٹس ایپ انتخابات‘ کے دور (تجربے) سے گزرنے والا ہے‘ جس کے لئے ’بھارتیہ جنتہ پارٹی (BJP)‘ نے تیاری مکمل کر رکھی ہے جبکہ مدمقابل جماعت ’کانگریس (Congress)‘ نے نہیں۔ ڈیجیٹل آلات کا استعمال کرتے ہوئے جھوٹ اُور جعل سازی پر مبنی سیاسی خبریں اور معلومات تخلیق کرنے کے بعد اُنہیں اِس طرح پھیلایا جاتا ہے کہ عام آدمی نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے اُن پر یقین کرتے ہوئے عام انتخابات میں ووٹ دینے سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
’بی جے پی‘ کا اپنا ’آئی ٹی سیل (IT Cell)‘ ہے جہاں 9 لاکھ ’واٹس ایپ‘ استعمال کرنے والے کارکنوں پر مشتمل فوج کا تیار کیا گیا ہے۔ یہ تعداد بھارت میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں عام انتخابات کے لئے کل ’’9 لاکھ 27 ہزار 533 پولنگ اسٹیشن‘‘ بنائے جاتے ہیں۔ بھارت میں 1.14 کھرب موبائل فون صارفین ہیں۔ 46کروڑ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین ہیں۔ 30 کروڑ لوگ ’سمارٹ فون‘ استعمال کرتے ہیں اُور 20 کروڑ ’واٹس ایپ‘ صارفین ہیں۔ 

معلوم حقیقت ہے کہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ دفاعی شعبے میں ہے لیکن یہ صرف دفاعی شعبے کی حد تک محدود نہیں بلکہ آنے والے بھارتی انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے کے لئے بھی پوری طرح فعال اور تیاری کئے بیٹھا ہے تاکہ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی (Modi) کی انتخابی کامیابی یقینی بنائی جا سکے؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Friday, June 2, 2017

Jun2017: Fruit boycott - Social Media Drive!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مہنگائی کا علاج!
’سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) کے ذریعے ملک گیر سطح پر تین روزہ مہم آج (دو جون) سے شروع ہو رہی ہے‘ جس کا عام فہم بنیادی خیال (مطالبہ) یہ ہے کہ ’’تین دن پھل (فروٹ) نہ خریدے جائیں۔‘‘ 

مہنگائی کی ’حوصلہ شکنی‘ کرنے کے لئے اپنی نوعیت کی اِس منفرد (انوکھی) مہم کا تصور کراچی سے شروع ہوا‘ جہاں ماہ رمضان المبارک کے دوران پھل و سبزی کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن مہنگائی کا یہ رجحان صرف کراچی کی حد تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اِس میں ملک کے دیگر حصوں بشمول خیبرپختونخوا سے ’سوشل میڈیا فعالیت پسند (ایکٹوسٹ) بھی احتجاجی تحریک‘ کا حصہ بن گئے ہیں اور مرکزی شہری و دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اِن سوشل میڈیا صارفین کے پیغامات اور بڑھتی ہوئی حمایت (عزم) سے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ’پاکستان کی تاریخ کی یہ پہلی ہڑتال (بائیکاٹ) اگر سوفیصد کامیاب نہ بھی ہو لیکن اِس کے مثبت اثرات ضرور ظاہر ہوں گے۔ سوفیصد کامیابی نہ ہونے وجہ اِس تحریک سے کسی کا اختلاف نہیں بلکہ پھل و سبزی کے تمام خریداروں کا ’سوشل میڈیا‘ سے منسلک نہ ہونا ہے۔ اِس سلسلے میں نجی ٹیلی ویژن چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز (الیکٹرانک میڈیا) کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے جہاں سردست قومی سیاست سے متعلق موضوعات رواں ہفتے بھی حاوی دکھائی و سنائی دے رہے ہیں اور جب سے ’پانامہ کیس‘ کے سلسلے میں وزیراعظم کے صاحبزادوں کو تحقیقاتی کمیشن نے طلب کیا ہے تب سے ’فوکس‘ وہ مقدمہ بن گیا ہے‘ جس کا فیصلہ آنے تک قوم کو صبر کرنا چاہئے اور اگر مگر سے شروع ہونے والی خبروں اور تبصروں پر کان دھرنے کی بجائے اُن امور کی جانب توجہات مبذول کرنی چاہیءں‘ جن سے وہ ’لٹ‘ رہے ہیں اور ناجائز منافع خور ملک کی ابتر سیاسی حالات (غیریقینی) کا مسلسل فائدہ اُٹھا رہے ہیں!

صرف تین روز پھل نہ خریدنے سے کیا ہوگا؟ پورا سال مہنگائی کی منصوبہ بندی اور مارکیٹ (اجناس کی طلب و رسد) کنٹرول کرنے والوں (اڑھتیوں) کا تجربہ دہائیوں پر محیط ہے اور وہ پھلوں کی ’شیلف لائف (عمر)‘ بڑھانے کے لئے ادویات اور سردخانوں کا استعمال بھی کرتے ہیں‘ چونکہ تین روزہ مہم اعلان کرکے شروع کی گئی ہے‘ اِس عرصے میں سردخانوں اور ذخیروں سے مارکیٹ میں پھل مارکیٹ میں نہیں لائے جائیں گے اور سارے کا سارا نقصان چھوٹے پیمانے پر پھل فروش ہتھ ریڑھی بانوں اور دکانداروں کا برداشت کرنا ہوگا۔ عوام چاہے جتنے بھی متحد اور باشعور ہو جائیں اُور چاہے سوشل میڈیا کے ذریعے طوفان در طوفان بھی برپا کر دے لیکن جب تک ضلعی انتظامیہ (کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ محکمۂ فوڈ‘ انسداد بدعنوانی وغیرہ) کے دفاتر و محکمے (عوام کے حق میں) فعال نہیں ہوں گے‘ جب تک منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ایوان بالا کے اراکین عوام کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہوں گے‘ اُس وقت تک مہنگائی کے خلاف ایسی کوئی بھی مہم خاطرخواہ انداز میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی۔ 

آخر کوئی یہ سوال کیوں نہیں اُٹھا رہا کہ مہنگائی کے معلوم اسباب (مصنوعی قلت کے ذریعے طلب و رسد میں فرق پیدا کرنے کے ذمہ دار) معلوم ہونے کے باوجود بھی یہ کردار قانون کی گرفت میں نہیں لائے جا رہے؟ عام آدمی (ہم عوام) کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ہر سال ماہ رمضان اور مہنگائی کے آپسی تعلق کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ 

سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین کے حقوق کی تحریک کو پلیٹ فارم (پھلنے پھولنے کا وسیلہ) ضرور ملا ہے لیکن اِس کی وساطت سے ملنے والی کامیابی کا حجم اگرچہ کم لیکن نہ ہونے سے بہتر ثابت ہوگا۔ سوشل میڈیا نے ایک سوچ دی ہے‘ ایک سمت معین کرکے گویا پورے پاکستان کو متحد کردیا ہے اور سارا سال ماہ رمضان المبارک کا انتظار کرنے والے ’ناجائز منافع خوروں‘ کے خلاف اگر عوامی سطح پر اتحاد ہو سکتا ہے اور یہ تین روزہ ہڑتال کسی بھی درجے کامیاب ہو جاتی ہے تو اِس سے دیگر شعبوں میں فیصلہ سازی اور بالخصوص صارفین کے حقوق کی ذیل میں ایسی نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا‘ جن کا تعلق کم و بیش سبھی اجناس کی قیمتوں اور معیار سے ہے۔ 

باعث خیروبرکت ہے کہ بالآخر عام آدمی (ہم عوام) نے متحد ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو عین ممکن ہے کہ سوشل میڈیا کا اگلا نشانہ انتہاء پسندی‘ فروعی اختلافات کو ہوا دینے اور مذہبی یا نسلی لسانی بنیادوں پر منافرت پھیلانے والے ہوں جو داخلی طور پر ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔

Wednesday, May 24, 2017

May2017: Curbing the Social Media!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

وارداتیں!

پاکستان تحریک اِنصاف خیبرپختونخوا کے ’سوشل میڈیا‘ دفتر (ڈینز سنٹر‘ پشاور) میں چوری کی ’اَنوکھی واردات‘ ہوئی ہے‘ جس پر ’اِنٹرنیٹ‘ کے ذریعے اِظہار خیال (سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس سے استفادہ) کرنے والے حلقوں کی جانب سے ’آن لائن اور آف لائن‘ تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ چوری کے لئے آنے کسی بیش قیمت کمپیوٹر آلات کی بجائے صرف وہی آلات (ہارڈوئرز) ’نہایت مہارت‘ سے کیوں اُتار لے گئے جن کی ’فرانزک جانچ‘ ممکن ہے؟ اگر یہ چوری کی ’عمومی واردات‘ ہوتی تو اِس میں نفاست کا اِس قدر عملی مظاہرہ دیکھنے کو نہ ملتا۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے اِس واردات کو ’وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)‘ کی کارستانی (خفیہ کاروائی) بیان کیا گیا ہے‘ جبکہ ’ایف آئی اے‘ کی جانب سے تردید اور مقامی پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا! یوں لگتا ہے کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں حکمران ہی نہ ہو کہ اُس کے ایک دفتر پر کاروائی سے متعلق اگر وضاحت آئی بھی تو مرکزی عہدیداروں کی جانب سے! کیا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اِس قسم کے حوصلے (برادشت) کی کوئی دوسری مثال پیش کی جا سکتی ہے؟ 

بنیادی قضیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف ہو یا کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت‘ فرضی ناموں سے سوشل میڈیا اکاونٹس استعمال ہو رہے ہیں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ اِن فرضی اکاونٹس کے ذریعے جس نکتۂ نظر کی تشہیر ہو رہی ہے‘ وہ ایک محدود سرکل میں ہونے کے باوجود بھی تاثیر کے لحاظ سے اِس لئے زیادہ ہے کیونکہ خطیب اور مخاطب دونوں ’صائب الرئب‘ بھی ہیں اور اِس بات پر اتفاق بھی رکھتے ہیں کہ اُن کا آپس میں کسی بھی معاملے پر اتفاق نہیں! 

سوشل میڈیا پر انفرادی حیثیت میں بھی جو کچھ لکھا جا رہا ہے یا کسی گروہ (تحریک) کی صورت اجتماعی طور پر مقصد و نظریات کا پرچار ’اندھا دھند‘ اور ’تقلید‘ کے سبب ہے‘ جس کی جہتیں نفسیاتی اور سماجی و ثقافتی دباؤ کی مظہر ہیں! اِس پورے ماحول سے الگ وفاقی حکومت کے اداروں نے (شاید حسب حکم) سہل پسندی سے کام لیتے ہوئے ’ضابطۂ اخلاق‘ وضع کرنے بجائے قانون سے فائدہ اٹھانے پر اکتفا کر لیا اور سمجھ لیا کہ جہاں اُور جس کسی پر چاہے گرفت کی جا سکتی ہے وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بات اور کسی بھی فکر و تصور کا کوئی زاویہ نیا نہیں ہوتا۔ جس بات پر کسی ایک ’صارف‘ کی گرفت کی جا رہی ہوتی ہے‘ وہی بات سینکڑوں کی تعداد میں دوسرے صارفین بھی کر رہے ہوتے ہیں! سمجھ داری اِسی میں ہے کہ سوشل میڈیا سے ٹکراؤ کی بجائے پاکستان کو اُس آنے والے ’ہائی ٹیک‘ دور کے لئے تیار کیا جائے‘ جس میں ممالک کی سرحدیں آج کی طرح اہمیت کی حامل نہیں ہوں گی۔ 

کیا ہمارے فیصلہ سازوں نے ’بٹ کوائن (Bitcoin)‘ کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی کرنسی ہے؟ یاد رہے کہ 23 اپریل (دوہزارسترہ) کے روز عالمی مارکیٹ میں ایک ’بٹ کوائن‘ کا شرح تبادلہ پاکستانی کرنسی میں 2 لاکھ 35 ہزار 981 روپے اور آٹھ پیسے مقرر ہوئی! اور یہ دنیا کی سب سے زیادہ تیزی سے بڑھتی اور استعمال ہونے والی کرنسی ہے۔



’بٹ کوائن‘ کو سمجھنے کے لئے انسانی معاشرے کے ارتقائی مراحل اور معاشی واقتصادی اصولوں پر نظر کرنا ہوگی‘ جس میں سرمائے کی اہمیت ہمیشہ سے رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں نئے انداز کے سکے سامنے آتے رہے‘ اب چاہے وہ سونے کی اشرفی کی صورت میں ہو یا کانسی کا سکہ مگر موجودہ عہد ٹیکنالوجی کا قرار دیا جاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا بھی اپنی کرنسی سے محروم رہے؟  یہی کمی ’بٹ کوائن‘ نے پوری کی‘ جو حالیہ عرصے میں تیزی سے اُبھرنے والی ’ڈیجیٹل ورچوئل کرنسی‘ ہے اور اِس کے ذریعے لوگ آن لائن کمپنیوں سے مصنوعات اور خدمات حاصل کر رہے ہیں تاہم کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے۔ 

بٹ کوائنز متعدد ممالک جیسے کینیڈا‘ چین اور امریکہ میں استعمال ہورہے ہیں تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص یہ کرنسی خرید سکتا ہے‘ جس کے لئے ’بٹ کوائن والٹ اکاؤنٹ‘ چاہئے ہوتا ہے جو بذریعہ ’اپلیکشن‘ ڈاؤن لوڈ (حاصل) تخلیق کیا جا سکتا ہے اور ’والٹ اکاؤنٹ‘ کو پے پال‘ کریڈ کارڈز یا کسی بینک اکاؤنٹ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر کمپنی ’مائیکروسافٹ‘ سمیت انٹرنیٹ پر کاروبار کرنے والے سینکڑوں دیگر ادارے ’بٹ کوائنز‘ قبول کر رہی ہیں اور بالخصوص سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا‘ بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور ’اوور اسٹاک ڈاٹ کام‘ بھی ’بٹ کوائنز‘ قابل ذکر ہیں اور دنیا میں قریب ’ایک کروڑ بیس لاکھ (بارہ ملین بٹ کوائنز)‘ گردش کررہے ہیں جس کی قیمت سو ڈالر کی نفسیاتی حد پر پہنچنے کے بعد دوہزار دوسو ڈالر فی بٹ کوائن سے تجاوز کر گئی ہے! عالمی سطح پر ’بٹ کوائنز‘ کی ’اے ٹی ایم‘ مشینیں قائم کرنے کی بات ہو رہی ہے! 

کیا ہمارے فیصلہ سازوں کو کچھ اندازہ ہے کہ پاکستان سے کتنا سرمایہ ’بٹ کوائنز‘ کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے؟ بڑے شہروں میں ’انٹرنیٹ گیمنگ کلبس‘ عالمی مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد اِن ایک ایسے نشے کی عادی ہو رہی ہے جس سے جانی (صحت) و مالی نقصانات ہو رہے ہیں لیکن نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومتوں کی اِس جانب توجہ مبذول ہے! جنگ جاری ہے۔ ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوششیں عروج پر ہیں اور ’انٹرنیٹ کی دنیا‘ میں زیادہ سے زیادہ حکمرانی میں حصہ داری کے لئے جہاں ہر ملک بطور حکمت عملی کوشش کر رہا ہے‘ وہیں پاکستان میں انٹرنیٹ ہی کے استعمال پر خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں! ’بٹ کوائنز‘ کی قدر بڑھنے کی ممکنہ وجہ امریکہ‘ یورپ اور چین میں اس کرنسی کی بڑھتی ہوئی قبولیت ہے جبکہ جاپان میں بٹ کوائنز کے حوالے سے ایک خرابی (بگ) سامنے آنے کے بعد سے لوگوں نے اسے ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے بھی بٹ کوائنز کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی تو ’انٹرنیٹ‘ کے ممکنہ اطلاق بارے بہت کچھ سمجھنا اور سمجھانا ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے یوں الگ نہیں ہو سکتی! 

پاکستان میں سائبر قوانین کا پوری طاقت (شدت) سے اطلاق اور اِس کی ’باپردہ کاروائیوں‘ کی بجائے اُس توانائی سے بھرپور افرادی قوت اور جوان ذہانت کا تعمیری مقاصد کے لئے استعمال ہونا چاہئے جسے دباؤ اور طاقت سے بغاوت پر اکسانا کسی بھی صورت دانشمندی نہیں۔

Tuesday, May 23, 2017

May2017: Social Media as Crime!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جبر مسلسل!
کبھی کبھار ’شاعرانہ تخیل‘ حقیقت کے اِظہار و بیان میں ضرب المثل بن جاتا ہے۔ ساغر صدیقی (وفات اُنیس جولائی اُنیس سو چوہتر) کا یہ مصرعہ شاید اَحباب نے بہت دن سے نہ پڑھا ہو کہ ’’جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں!‘‘ اور اِس تخیل کی تمہید میں ایک ایسے ’جبرمسلسل‘ کا ذکر جوڑ دیا گیا‘ جو بطور سزا تجویز کرنے والوں نے گویا زندگی کے معنی و مفہوم ہی بدل کر رکھ دیئے ہوں۔ بالکل اِسی قسم کی ’خوف و دہشت پر مبنی صورتحال کا سامنا پاکستان میں ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل استعمال کرنے والوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائمز ونگ اور کاونٹر ٹریرازم ونگ سے درپیش ہے۔ عجب ہے کہ گذشتہ چند روز میں ملک بھر سے بائیس ایسے سوشل میڈیا صارفین کو طلب (گرفتار) اور سبھی کو بعدازاں بناء کسی سزا رہا کیا گیا‘ جنہوں نے پاکستان کے فوجی سربراہ اور فوج کے ادارے پر تنقید کی تھی۔ پاکستان کے آئین کی رو سے بیک وقت اِس بات کی آزادی بھی حاصل ہے کہ ہر پاکستانی جس کسی موضوع کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے اور اِسی آئین ہی میں کی گئی ایک ترمیم ضمنی طور پر ریاست کی نظر سے ناپسندیدہ اظہار رائے کرنے والا ’مجرم‘ کہلاتا ہے کیونکہ اگر ریاست کسی تبصرے پر ’معترض‘ ہوا تو یہ ایسا اظہار رائے قابل گرفت و سزا جرم بن جائے گا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پہلے تو قانون کی تشریح اور پھر اُن تمام اَلفاظ‘ جملوں اُور اِستعاروں کے بارے میں وضاحت ہونی چاہئے کہ جن کا استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی صارف تنقید کے نشتر چلائے گا‘ تو وہ ’مجرم‘ تصور ہوگا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر اکاونٹ بنانے کے لئے بالغ ہونے کی شرط ہوتی ہے لیکن کسی بھی ’فرضی نام‘ سے اکاونٹ (کھاتہ) تخلیق کرنے والے اپنی عمر کے بارے جھوٹ بول کر بھی ایک ایسی تیزرفتار دنیا کے باشندے بن جاتے ہیں جہاں کے باسی ’ہر ایک سکینڈ‘ میں چھ ہزار سے زائد پیغامات (ٹوئٹس) کا تبادلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کسی ایک دن‘ فی سکینڈ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ پیغامات ’’1لاکھ 43 ہزار 999 ٹوئٹس‘‘ سال دوہزار تیرہ میں ریکارڈ ہوئے جبکہ عمومی حالات میں ہر دن اُوسطاً (کم سے کم) 50 کروڑ ٹوئٹر پیغامات اِرسال کئے جاتے ہیں اور یہی ٹوئٹر پاکستان کی حکومت کے لئے ’درد سر‘ بنا ہوا ہے‘ جس کا اِستعمال ہر سطح کے سیاست دانوں سے لیکر افسرشاہی اُور قومی اِداروں کی ترجمانی کرنے والے کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی طرح دوسروں کو یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ وہ اُن سے اختلاف رائے کا اظہار کر سکیں۔ 

بنیادی مسئلہ اُور غلط فہمی اَلفاظ کے غلط چناؤ کی وجہ سے پیش آ رہی ہے۔ ہمارے ہاں نظام تعلیم کی خامی (کمزوری) یہ ہے کہ اِس میں الفاظ کا اِستعمال تو سکھایا جاتا ہے لیکن الفاظ کے ’’معنی و مفہوم اُور اَثرات‘‘ کے بارے طلباء و طالبات کو ’بہرہ مند‘ نہیں کیا جاتا۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور اپنے تعارف میں تعلیمی اسناد کی فہرستیں گردان کرنے والوں کے ہاں بھی الفاظ کا مضحکہ خیز استعمال سننے کو ملتا ہے تو تعلیمی نصاب کے گرد طواف کرنے والے بیچارے عام طلباء و طالبات سے کس طرح اُمیدیں (توقعات) وابستہ کی جا سکتیں کہ وہ ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولیں گے یا ٹوئٹر سمیت سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے خاطرخواہ احتیاط کا مظاہرہ کریں گے۔ 

وفاقی وزارت داخلہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ زمانہ تبدیل ہو گیا ہے اور انٹرنیٹ صارفین کی حفظ مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی نہیں کی جاسکتی ہے تو بہتری اِسی میں ہے کہ متنازعہ امور کو ہوا دینے والوں سے ’منطق (عقلی دلیل)‘ سے بات کی جائے اُور اگر کوئی صارف متفق نہ بھی ہو تب بھی حکومت پاکستان کا مؤقف ہر پیغام کے ساتھ منسلک ہوتا چلا جائے گا‘ جس سے عالمی سطح پر پاکستان یا قومی اداروں اور اہم شخصیات (بالخصوص پاک فوج کے سربراہ) کے بارے پھیلنے والا تاثر زائل کرنے میں مدد ملے گی یا پھر حکومت کے نکتۂ نظر سے جو حقائق ہیں اُنہیں عام کیا جا سکے گا۔ سماجی رابطہ کاری کے وسائل یا اظہار رائے پر پابندی عائد کرنے کی بجائے وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو فعال ’سوشل میڈیا حکمت عملیاں‘ تشکیل دینا پڑیں گی تاکہ ہر حملے کا بروقت (مستعدی) اُور پوری طرح مقابلہ (دفاع) عملاً ممکن بنایا جا سکے۔

منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ پاکستان میں سماجی رابطہ کاری کے وسائل سے اِستفادہ کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ’تحریک انصاف‘ سے ہے یا وہ قومی سلامتی سمیت ریاستی اِداروں کے بارے میں وہی رائے رکھتے ہیں یا اُنہی ملتے جلتے نظریات کا پرچار کرتے ہیں‘ جن کی تحریک انصاف تائید کرتی ہے۔ پاکستان میں سخت گیر مالی نظم و ضبط کے قیام‘ احتساب‘ مالی و انتظامی امور میں بدعنوانیوں کے خاتمے اور طرزحکمرانی کی اِصلاح پر مبنی ’تحریک انصاف‘ کے مؤقف (سیاسی منشور) کی تائید کرنے والے کی بڑی تعداد ہر وقت ٹوئٹر اور فیس بک پر ’حاضر جناب (آن لائن)‘ رہتی ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی صارف تحریک انصاف کے حق یا اس کے خلاف کچھ لکھے اور اُسے ترکی بہ ترکی (فوراً) جواب نہ ملے۔ 

وفاقی حکمراں جماعت ’نواز لیگ‘ کو سوشل میڈیا پر فعال (متحرک) ہونے میں اگرچہ دیر ہوئی تاہم اُن کا ’سوشل میڈیا سیل‘ زیادہ منظم اور ہر دن پھل پھول رہا ہے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے ’سوشل میڈیا شعبے‘ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لئے جس طرح سرگرم ہیں اور جس طرح رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ’سوشل میڈیا وسائل‘ میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اُسے مدنظر رکھتے ہوئے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں ’سوشل میڈیا‘ بھی ذرائع ابلاغ کے دیگر وسائل کی طرح کسی فرد یا جماعت کو ہیرو یا زیرو بنانے میں غیرمعمولی کردار ادا کریں گے۔ 

سوشل میڈیا کو پاکستان کی سیاست میں وہ مقام مل چکا ہے جہاں اِس کے ’’معنوی وجود‘‘ سے نہ تو انکار ممکن ہے اور نہ ہی اِسے غیراہم قرار دیتے ہوئے ’نظرانداز‘ کیا جاسکتا ہے‘ لہٰذا بہتری (عافیت) اِسی میں ہے کہ عصری تقاضوں (تبدیلیوں) کا (کماحقہ) ادراک کیا جائے۔ قواعد و ضوابط کے اطلاق میں سختی اور پابندیاں عائد کرنے کی بجائے ’سوشل میڈیا صارفین‘ کی تعلیم و رہنمائی کے لئے تربیت کا اہتمام و انتظام کیا جائے۔ ’سوشل میڈیا‘ خیر محض ہے جس کا تعمیری (اپنے حق میں) استعمال کا لائحہ عمل وقت کی ضرورت اُور اس کے ذریعے ’شرارت‘ تخریب کاری‘ یا معصومیت میں خطا کاروں کی نیت (پس پردہ عزائم) بھی پیش نظر رہنی چاہئے!

Thursday, May 11, 2017

May2017: Lessons embedded into the General Elections in UK & use of Social Media

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عام انتخابات: سوشل میڈیا کا کردار!

برطانیہ میں عام انتخابات کا انعقاد ’’8 جون 2017ء‘‘ کو ہونے جا رہا ہے جس میں 650 انتخابی حلقوں کے تین سطحی جمہوری ایوانوں (ممبر آف پارلیمنٹ‘ ہاؤس آف کامنز اُور لوئر ہاؤس) کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دوہزار گیارہ میں منظور کی جانے والی ایک آئینی ترمیم کی رو سے برطانیہ میں آئندہ عام انتخابات کا انعقاد سات مئی دوہزار بیس کو ہونا چاہئے لیکن اٹھارہ اپریل دوہزار سترہ کو غیرمعمولی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم ’تھریسا مئی (Theresa May) نے قبل ازوقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا جسے 19 اپریل 2017ء کو اراکین اسمبلی نے دوتہائی کی لازمی حمایت سے منظور کر لیا۔ 

برطانیہ کے سیاسی منظرنامے پر موجودہ حکمراں جماعت ’کنزرویٹو پارٹی‘ مقبول ترین اور مضبوط سمجھی جاتی ہے جو سال دوہزار پندرہ سے برسراقتدار ہے۔ دوسرے نمبر پر حزب اختلاف کی باضابطہ جماعت لیبر پارٹی‘ تیسرے نمبر پر ’اسکاٹش نیشنل پارٹی‘ چوتھے نمبر پر ’لبرل ڈیموکریٹس اور پانچویں نمبر پر ’ناردن آئرش ڈیموکریٹک نیشنلسٹ پارٹی‘ کم ترین عوامی مقبولیت رکھتی ہے لیکن برطانیہ کی جمہوریت میں ہر سیاسی جماعت کی یکساں اہمیت اور مقام ہے۔ قبل ازوقت عام انتخابات کے انعقاد کا سبب بننے والے غیرمعمولی حالات درحقیقت برطانیہ کو درپیش وہ معاشی و اقتصادی مسائل ہیں‘ جو مارچ دوہزار سے ظہور پذیر ہوئے ہیں جن کے مطابق برطانیہ کی اکثریت اور اُن کی نمائندگی کرنے والے چاہتے ہیں کہ وہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائیں۔ برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے یا نہ ہو‘ یہی معاملہ ’آٹھ جون‘ کو ہونے والے عام انتخابات پر حاوی رہے گا۔ جب سے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا ہے‘ تب سے عوامی جائزہ رپورٹوں کے مطابق موجودہ وزیراعظم تھریسا مئی کو حزب اختلاف کی لیبرپارٹی پر سبقت حاصل ہے۔ اَمریکہ کی طرح عالمی طاقت برطانیہ کے عام انتخابات بھی پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں‘ جنہیں برطانوی الیکشن کمیشن آزاد‘ شفاف اور باوقار انداز میں منعقد کرانے کا تجربہ رکھتا ہے لیکن چونکہ اِس مرتبہ سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) ابلاغ کے دیگر ذرائع کی نسبت زیادہ استعمال ہو رہے ہیں‘ اِس لئے شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے ’سوشل میڈیا کے منفی اثرات‘ کم سے کم کرنے کے لئے سوچ بچار (بحث و مباحثے) کا عمل ہر سطح پر جاری ہے۔ برطانیہ کے معروف اشاعتی اور نشریات ادارے نہ صرف عوام کی رہنمائی کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح ’سوشل میڈیا کے فریب‘ سے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے بھی کم و بیش 7 کروڑ برطانوی باشندوں کے لئے رہنما اصول جاری کئے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں انگریزی بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد قریب سو فیصد ہے لیکن وہاں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں! 

اگر انگریزی زبان ’خونداگی و قابلیت‘ کا کوئی معیار ہوتی تو آج برطانیہ یورپی یونین ممالک کی فہرست میں کم ترین درجے پر فائز نہ ہوتا۔ اسپیکٹیٹر نامی جریدے کی اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسابل ہارڈمین (Isabel Hardman) کی ایک تحقیق کے مطابق ’’سولہ سے اُنیس سال کے برطانوی نوجوانوں کی بیس فیصد تعداد ناخواندہ جبکہ چالیس فیصد سے زیادہ ایسے ہیں جو حساب کتاب (numeracy) سے آگاہ نہیں۔‘‘ لیکن برطانیہ کی کم وبیش سات کروڑ کی آبادی میں 92 فیصد لوگ انٹرنیٹ وسائل کا استعمال کرتے ہیں۔ اِس قدر بڑی تعداد میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے معاشرے کو پاکستان سے ایک تقابلی جائزے کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں بمشکل 18 فیصد آبادی ہی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے تو جس معاشرے میں یہ تناسب بانوے فیصد ہوگا‘ وہاں ’سوشل میڈیا‘ کے اثرات بھی اتنے ہی زیادہ اور فوری ہوں گے۔

سرسری طور پر برطانیہ کی سیاسی صورتحال‘ شرح خواندگی اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کے بارے جاننے کے بعد آزاد و شفاف عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق اُن جاری کوششوں کا احوال بھی جان لیجئے جن میں امریکی سوشل میڈیا کا ایک معروف ادارہ ’فیس بک(facebook)‘ برطانیہ سے تعاون کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں ’فیس بک‘ کے تین کروڑ دس لاکھ سے زیادہ اکاونٹ ہولڈرز ہیں یعنی برطانیہ کی نصف آبادی ’فیس بک‘ استعمال کرتی ہے۔ عام انتخابات سے قبل ہی ’فیس بک‘ نے ایسے سینکڑوں ہزاروں اکاونٹس (کھاتے) ختم (ڈیلیٹ) کر دیئے ہیں جو فرضی ناموں یا مشکوک شناخت کے ساتھ بنائے گئے تھے اور صرف اِسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نو مئی سے برطانوی اخبارات میں ’دس ایسے رہنما اصولوں‘ کی تشہیر بھی شروع کردی ہے جن کی بنیاد پر ’اصلی اور جعلی خبروں‘ کے درمیان تمیز کی جا سکے گی۔ 

کسی امریکی ادارے کی برطانیہ سے اِس قدر دلی محبت کا اظہار اپنی جگہ اہم بھی ہے اور ایک الگ موضوع بھی لیکن اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو آئندہ برس ہمارے ہاں بھی عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ’فیس بک‘ نے جو دس اصول برطانیہ میں ’اصلی اور جھوٹی خبر‘ کی پہچان کے لئے وضع کئے ہیں اگر اُنہیں فیس بک کے پاکستانی صارفین بھی سمجھ لیں تو وہ صرف عام انتخابات ہی کے موقع پر کارآمد ثابت نہیں ہوں گے بلکہ ’فیس بک‘ صارفین قومی اہمیت کے حامل دیگر معاملات کے بارے میں ’پراپگنڈے‘ کی نذر نہیں ہوں گے اور ’عوامی رائے‘ کی آڑ میں منشتر گمراہ کن خیالات (وار) سے باآسانی محفوظ رہ سکیں گے۔
’فیس بک‘ انتظامیہ کے تین بنیادی اہداف ہیں سب سے پہلے تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کی خدمات کا غلط استعمال کرنے کا اِمکانات کم سے کم ہوں۔ فیس بک کسی ملک کے داخلی معاملات‘ عام انتخابات یا سیاست پر منفی طور پر اثرانداز ہونے کے لئے استعمال نہ ہو اُور تیسرا یہ کہ فیس بک صارفین فرضی اُور جعلی خبروں (اطلاعات) کی اَزخود تصدیق کرنے کے قابل ہو جائیں لیکن یہ تینوں بنیادی اہداف اُس وقت تک حاصل نہیں ہوں گے جب تک فیس بک صارفین اپنی ’آن لائن‘ موجودگی کے ’ہر ایک پل‘ کا سوچ سمجھ کر استعمال نہیں کرتے۔ 

کیا پاکستان میں انٹرنیٹ خواندگی اور احساس ذمہ داری شعور کی اُن بلندیوں کو چھو رہا ہے‘ جس کا ’فیس بک انتظامیہ‘ تصور کئے بیٹھی ہے اور چاہتی ہے ۔۔۔ 1: کسی بھی خبر کی ’ہیڈلائن‘ سے فوری متاثر نہ ہوں کیونکہ جعلی خبروں کو مشتہر کرنے کے عموماً دلچسپ عنوانات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ 2: صرف خبریت پر مبنی مواد ہی کو نہ پڑھا جائے بلکہ جس ذریعے (ویب سائٹ) سے خبر آ رہی ہے اُس کا ’ایڈریس‘ بھی نوٹ کیا جائے۔ لہٰذا ایسی کسی خبر یا اطلاع کا اعتبار نہ کیا جائے جو غیرمعروف یا مشکوک ویب سائٹ سے آ رہی ہو۔ 3: اِس بات کی تسلی کرلیں کہ جس کسی نے بھی خبر یا تجزیہ تحریر کیا ہے وہ قابل اعتماد اور قابل بھروسہ ہونے کے ساتھ معلوم لکھاری ہے۔ فیس بک کے کسی صارف (اکاونٹ) کے بارے جاننے کے لئے ’اُس سے متعلق (about)‘ کی ذیل میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ 4: جعلی یا فرضی ناموں سے بنائی جانے والی ’نیوز ویب سائٹس‘ کی ساخت پیشہ ورانہ نیوز سائٹس کے مقابلے کم جاذب نظر ہوتی ہے۔ کسی خبر کی املا (الفاظ و بیان) میں اگر غلطیاں پائی جائیں تو سمجھ لیں کہ اِس کا مآخذ پیشہ ورانہ اور مبنی بر صداقت نہیں۔ 6: جعلی یا فرضی خبروں کے ساتھ استعمال ہونے والی تصاویر سے بھی اُن کی شناخت ممکن ہے۔ عموماً ایسی خبروں کے ہمراہ تصاویر کو ایک دوسرے سے ملا کر استعمال کیا گیا ہوتا ہے یا پھر درست تصاویر کا غلط موضوعات کے بیان کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ تصاویر کے اصل مآخذ (سورس) کے بارے میں تحقیق کرنے سے بھی خبر کی اصلیت معلوم ہو سکتی ہے۔ 6: کسی خبر میں واقعات کے رونما ہونے کی تاریخیں یا ماضی کے حوالہ جات بھی اُس کی تصدیق یا اصلیت کا ثبوت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا خبروں میں دی گئی تاریخیں اور اُن کی مناسبت سے رونما ہونے والے واقعات کے بارے تھوڑی سی تحقیق سے اُن کی اصلیت باآسانی معلوم کی جا سکتی ہے۔ 7: خبر کی تخلیق میں جن ذرائع کا استعمال بطور حوالہ دیا گیا ہوتا ہے اُن کی جانچ کرنے سے بھی سچائی کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی خبر مستند ذرائع سے نہیں دی جا رہی تو صحافتی دنیا میں کوئی بھی ایسی خبر لائق بھروسہ نہیں ہوتی۔8: کسی ایک خبر کے بارے میں ابلاغ کے دیگر ذرائع کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر کوئی خبر صرف ایک ہی ذریعے سے آ رہی ہو اُور اُس کے بارے میں دیگر ذرائع ابلاغ خاموش ہوں تو ایسی خبر کے حقائق مشکوک اور یک طرفہ ہوتے ہیں۔ 9: بسا اوقات فرضی یا جعلی خبریں مزاح کے قریب ہوتی ہیں اور مزاحیہ یا مضحکہ خیز تاثر سے بھرپور ہوتی ہیں۔ کسی خبر کا لب و لہجہ اور سنجیدگی سے الفاظ کا استعمال بھی اِسے قابل بھروسہ بنانے کے اجزأ میں شامل ہوتا ہے۔ 10: آن لائن ہوتے ہوئے (انٹرنیٹ پر) جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ کسی خبر کا مطالعہ کرتے ہوئے اُس کے مختلف پہلوؤں کا ’تنقیدی‘ طور پر جائزہ لیں اور دوسروں کی دیکھا دیکھی (ٹرینڈ کو فالو کرتے ہوئے) بناء تحقیق‘ تصدیق اور ذاتی طور پر اطمینان کے بغیر کسی بھی صورت میں کسی صارف تک پہنچنے والی خبر (پوسٹ‘ اطلاع‘ تصویر یا ویڈیو) سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس بالخصوص ’فیس بک‘ پر مزید پھیلانے (share) یا اُس کی مزید تشہیر نہ کی جائے!

Monday, March 13, 2017

Mar2017: Terrorism, Social Media and Artificial Intelligence

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سوشل میڈیا: ذہین پھندا!
پاکستان میں امن کو لاحق خطرات کا شمار اِس لئے بھی ممکن نہیں کہ ایک تو حملہ آور گوریلا طرز پر عسکری مہمات کرنے میں ’جلدبازی‘ کا مظاہرہ نہیں کررہا کہ اُن سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اُن کی طاقت کے مراکز پر ہاتھ ڈال سکیں اور دوسرا اب تک ہوئے دہشت گرد حملوں کے پیچھے اس حد تک باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی کا عمل دخل پایا گیا کہ کئی ایک سہولت کاروں کی گرفتاری کے باوجود بھی اصل کرداروں تک رسائی اور اُن کے شہری و دیہی علاقوں کے تمام نیٹ ورکس ظاہر نہیں ہوسکے۔ 

سیکورٹی اداروں کے لئے دہشت گردی سے نمٹنے کا یہ کھلا چیلنج اِس لئے بھی پیچیدہ ہے کیونکہ اِس میں مواصلاتی رابطوں اور افرادی قوت حاصل کرنے کے لئے غیرروائتی اسلوب یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھی کام لیا جارہا ہے۔ بارہ مارچ کے مضمون ’’سوشل میڈیا دہشت گردی!‘‘ کے عنوان سے ’’مہم جو طبیعت‘‘ رکھنے والے اُن نوجوانوں‘ اساتذہ اور والدین تک یہ بات پہنچانے کی کوشش کی گئی کہ اگر کوئی بھی صارف آن لائن سرگرمیوں میں احتیاط سے کام نہیں لے گا‘ تو غیردانستہ طور پر وہ قابل گرفت و سزا جیسے سنگین جرائم کے ارتکاب میں ملوث ہوسکتا ہے اور ایسے جرائم میں بھلا کون دانشمند ملوث ہونا پسند کرے گا‘ جن پر دہشت گردی کی دفعات لاگو ہوتی ہوں؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تعلیمی اداروں اور والدین کو سمجھنا ہوگا کہ انسانوں کی طرح جدید کمپیوٹرز بھی کسی نہ کسی حد تک ’مصنوعی ذہانت‘ کے مالک ہوتے ہیں اور اِسی مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹلی جنس) کی بنیاد پر سافٹ وئرز نہ صرف صارفین کی عادات اور فیصلوں کو محفوظ کرتے رہتے ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں مستقبل میں خدمات فراہم کی جاتی ہیں لہٰذا یہ سمجھنا کہ ’آن لائن‘ وسائل سے استفادہ اگر گمنام اکاونٹس کے ذریعے کیا جائے تو محفوظ ہوتا ہے‘ تو یہ تاثر سوفیصد درست نہیں۔ پاکستان سمیت بیشتر ایشیائی ممالک کے باشندوں کے لئے مصنوعی ذہانت فی الوقت ایک غیر معروف اور نو آموز موضوع ہے جس کی بڑی وجہ ہی ہے کہ اس عنوان کے تحت میسر زیادہ تر تحقیقی مواد انگریزی زبان میں ہوتا ہے اور وہ بلاقیمت دستیاب بھی نہیں۔ مقامی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر بہت کم لکھا جاتا ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ اس موضوع کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ان کا اوڑھنا بچھونا انگریزی ہوتی ہے۔ 

بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت انسانی دماغ کو مسخر کر کے اس سے کئی گنا زیادہ سوچنے‘ سمجھنے اور پھر عمل کر دکھانے والی مشینیں تیار کرنے کے علوم کا مجموعہ (سائنس) ہے جس کا آغاز اُنیس سو ساٹھ سے ہوا اور دنیا بھر کے سائنس دانوں اور محققین کا یہ پسندیدہ ترین موضوع رہا ہے‘ بالخصوص کمپیوٹر گیمز تخلیق کرنے والے مصنوعی ذہانت ہی کا استعمال کرتے ہوئے کھیلوں کو زیادہ مشکل بناتے ہیں تاکہ کمپیوٹر انسانی دماغ کو مشکل سے دوچار کر سکے۔ مصنوعی ذہانت کے قریب نصف صدی کے سفر میں تیز رفتار تحقیق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مصنوعی انسانی دماغ تخلیق کرنے کے منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے اور ضرورت اِس امر کی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی ’نیشنل ایکشن پلان‘ میں اِسی مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے اور اس سلسلے میں جامعات کو تحقیق کے اہداف دیئے جائیں۔ امریکہ کی ڈرون ٹیکنالوجی اور بیشتر دفاعی بالادستی جامعات ہی میں ہونے والی چھوٹے پیمانے پر تحقیق کا حاصل ہے اور جب تک نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد اور مستقبل کی ضروریات کا ادراک نہیں کیا جائے گا‘ اُس وقت تک ہمارا دفاع جامع اور سوفیصد بہتر (محفوظ وقابل بھروسہ) نہیں بنایا جا سکے گا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی سے لے کر سماجی اور معاشرتی سطح تک تحقیق و جستجو کے میدان میں جتنے زیادہ امکانات انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اِس ’مصنوعی ذہانت‘ نے پیدا کئے ہیں‘ اس سے قبل یہ اعزاز بہت کم سائنسی علوم کے حصے میں آئے ہیں۔ اگرچہ ذرائع ابلاغ کا سارا زور ہمیشہ سے ہر نئی ایجاد اور تحقیق کے منفی رخ کی ترویج پر ٹوتتا ہے مگر اس حقیقت سے کسی صورت بھی انکار ممکن نہیں کہ ہماری موجودہ زندگی کو آرام دہ اور سہل بنانے میں مصنوعی ذہانت ہی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مصنوعی ذہانت کا منفی پہلو یہ ہے کہ اِس سے ہماری عمومی زندگیوں میں مشینوں کا عمل دخل بڑھ جائے گا اور غیرتربیت یافتہ‘ کم تعلیم یافتہ یا کسی جسمانی کمزوری سے دوچار انسانوں (افرادی قوت) کی اہمیت بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی۔ ہم محسوس نہیں کر رہے لیکن ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ہمارا اوڑھنا بچھونا بن رہی ہے اور مستقبل کی دنیا میں ’جاہل‘ بن کر بقاء صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگی۔ 

گوگل سرچ‘ آئی بی ایم واٹسن‘ جدید مہلک ہتھیاروں کی دوڑ‘ صنعتوں‘ معاشیات‘ حتی کہ کھیل کود اور سوشل میڈیا الغرض ہر جگہ بہت جلد ’مصنوعی ذہانت‘ کا سکہ چلتا نظر آئے گا تو کیوں نہیں اِس کرنسی کو پاکستان میں بھی آج ہی سے رائج کرنے کی تیاری کی جائے؟ سوال یہ بھی ہے کہ بالفرض آئندہ بیس برس یا اس سے کچھ کم عرصے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی موجودہ ٹیکنالوجی کی جگہ لے لیتی ہے تو اس تبدیلی کے ہمارے معاشرتی سیاسی سماجی نظام اور سب سے بڑھ کر اخلاقی اقدار پر کیا مثبت یا کیا منفی ممکنہ اثرات ہوں گے اور کیا ہم کسی ایسے ٹیکنالوجیکل انقلاب کا سامنا کرنے کے لئے بحثیت ملک و قوم تیاری کئے بیٹھے ہیں؟ 

زمین سے زیادہ خلائی دنیا کے بارے جاننے والے معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ ایک عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’’ہم انسانوں کو اپنی تمام تر توجہ ایسی ذہین مشینوں کی تخلیق پر مرکوز کرنی چاہئے‘ جو انسانیت کی فلاح و بہبود اور قیام امن کی ضامن ہوں‘‘ لیکن جدید کمپیوٹرز ہوں یا ہمارا نظام تعلیم‘ قومی ترجیحات کا تعین کرنے والوں کو علوم میں سوچ بچار کے ساتھ اخلاقیات اور ذمہ داریوں کے بارے میں نوجوانوں کو آگاہ کرنا ہوگا۔ ایک توازن اور عدل بھی ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں اردو زبان کے ذرائع ابلاغ نہایت ہی کلیدی کردار اَدا کرسکتے ہیں جنہیں اپنی نشریات کا کچھ وقت یا اپنی اشاعتوں میں بطور خاص ایسی بحث و مباحثے کو جگہ دینی ہوگی‘ جس کا تعلق تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اُس منظرنامے سے ہے جو کچھ کچھ نہیں بلکہ سب کچھ بدل کر رکھ دے گا اور پھر (خدانخواستہ) ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے اور خود اپنی ہی تباہی کا تماشا دیکھنے کے سوأ کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔

Sunday, March 12, 2017

Mar2017: Social Media Terrorism

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سوشل میڈیا دہشت گردی!
سماجی رابطہ کاری کے جملہ وسائل (سوشل میڈیا) تک رسائی بذریعہ ’اِنٹرنیٹ‘ ممکن ہوتی ہے لیکن انٹرنیٹ صارفین کے بارے میں بنیادی معلومات (کوائف) ہونے کا یہ قطعی مطلب نہیں ہوتا کہ ہر صارف کی انٹرنیٹ پر (آن لائن) موجودگی اور اِس دوران مثبت یا منفی سرگرمیوں کے بارے میں تمام تر ’راز‘ معلوم کئے جا سکیں خصوصاً جبکہ انٹرنیٹ سے استفادہ کرنے والے جانتے ہوں کہ انہیں ’سائبر ورلڈ‘ میں رہتے ہوئے بھی خود کو کس طرح ’روپوش‘ رکھنا ہے۔ اِس سلسلے میں کئی ایسے ’سافٹ وئرز‘ موجود ہیں‘ جن کی مدد سے ’سائبرورلڈ‘ پر موجودگی اور سرگرمیاں خفیہ رکھی جا سکتی ہیں اُور اِن کا پاکستان میں ’عام‘ اِستعمال ہو رہا ہے بلکہ بیس پچیس روپے کی ’سی ڈی‘ خریدنے یا ’مفت ڈاون لوڈ‘ کرنے سے کسی بھی فون یا کمپیوٹر سے کی جانے والی آن لائن سرگرمیاں ایک خاص حد تک اُوٹ میں رکھی جا سکتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر ایک دہشت گرد کاروائی کے بعد حملہ آوروں کی تصاویر اور اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے فخریہ بیانات جاری کئے جاتے ہیں لیکن ایک ہی اِی میل ایڈریس اور ایک ہی ٹوئٹر یا دیگر اکاونٹس کا استعمال کرنے کے باوجود بھی دہشت گردوں یا اُن سہولت کاروں پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا جو ’سائبر خواندگی‘ کا پوری طرح استعمال کر رہے ہیں۔ 

ہمیں سمجھنا ہے اُور اِنٹرنیٹ استعمال کرنے یا اِس کے بارے میں مہارت (خواندہ) نوجوانوں کو سمجھانا ہے کہ دہشت گردی کی سہولت کاری میں صرف وہی اَفراد شمار نہیں ہوتے جو کسی دہشت گرد کو اپنے ہاں قیام و طعام فراہم کریں اور اُسے کسی ہدف تک پہنچانے کی رہنمائی کریں بلکہ وہ سبھی لوگ جو کسی نہ کسی صورت اپنے علم کا استعمال بھی دہشت گردوں کے عزائم کی تکمیل کے لئے کر رہے ہیں وہ بھی ’سہولت کاروں ہی کے زمرے میں آتے ہیں‘ لہٰذا ایسی کسی بھی کاروائی (مہم جوئی) کا نہ تو حصّہ بنا جائے اور اگر دوسروں کی ایسی مشکوک سرگرمیوں کے بارے کوئی بات علم میں آئے تو اُس معلومات کا تبادلہ قانون نافذ کرنے والے اِداروں سے کرنا ایک قانونی ذمہ داری ہے۔
سماجی رابطہ کاری کے وسائل (انٹرنیٹ‘ اِی میل‘ سوشل میڈیا) سے جڑے تعمیری مقاصد کا حصول نہیں ہو پایا بلکہ اس کی وجہ سے وقت کا ضیاع اور تخریب کاری عام ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ابلاغ (کیمونیکیشن) کا یہی ذریعہ مذہبی و سماجی شخصیات‘ اداروں یا مذہبی بنیادوں پر اگر دل آزاری کا باعث بن رہا ہے تو یہ فعل بھی ’دہشت گردی‘ ہی کے زمرے میں شمار ہونا چاہئے جیسا کہ حال ہی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کے اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین کے بارے میں توہین آمیز خیالات کی تشہیر کی گئی‘ جس کا نوٹس نہ صرف عدلیہ نے لیا بلکہ اِس کی مذمت اور گونج قانون ساز ایوانوں میں بھی سنی گئی۔ انتہائی غیرمعمولی بات ہے کہ قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) نے سوشل میڈیا پر موجود گستاخانہ مواد کی مذمت اور اس گستاخی میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن کو یقینی بنانے کے لئے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ’’پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 295(C) کے تحت ایسے عناصر کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر متنازع مواد اَپ لوڈ (upload) کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی کی جائے جبکہ ایسا باقاعدہ نظام تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے ملک میں سوشل میڈیا پر متنازع مواد کی گردش پر نظر رکھی جاسکے۔‘‘ 

قانون ساز اداروں کی ’’بے بسی‘‘ اور قانون سازوں کی ’’سادگی‘‘ پر قربان کہ خود حکومتی اراکین سینیٹ نے مذکورہ قرارداد پیش کی اور خود اپنے آپ ہی سے مطالبہ کر ڈالا! متنازع مواد شائع کرنے والوں کے خلاف کاروائی کون کرے گا اور یہ کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا یہ کام عام آدمی (ہم عوام) نے کرنا ہے یا وفاقی حکومت کے زیرنگران اداروں نے اپنی موجودگی کا ثبوت دینا ہے؟ آخر اِس بات پر بحث کیوں نہیں کی جاتی کہ جب تک سماجی رابطہ کاری کی جملہ ویب سائٹس پاکستان حکومت کو صارفین کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ تک رسائی نہیں دیتیں‘ اُس وقت تک پاکستان میں تمام ’سوشل میڈیا‘ کی ویب سائٹس معطل (block) رہیں گی؟ دنیا کے کئی ممالک بشمول عرب دنیا میں سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر کلی یا جزوی پابندی عائد ہے اور اگر پاکستان میں بھی ایسا کیا جاتا ہے تو اِس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ کوئی بھی آزادی بناء پابندی نہیں ہوتی۔

سینیٹ میں پیش کردہ قرارداد کا متن بڑا دلچسپ ہے جس میں کچھ نظریات بھی واضح کرنے کی کوشش کرتے ہوئے قانون سازوں نے اپنی مشکلات میں مزید اضافہ کر لیا ہے۔ قرارداد میں تحریر ملتا ہے کہ ’’پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جسے اِسلام (دین) کے نام پر حاصل کیا گیا اور آئین پاکستان کے تحت تمام رسول و انبیائے کرام‘ اسلام کی مقدس شخصیات بالخصوص ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُور ان کے اہل و عیال و تمام ساتھیوں کی عزت و تکریم کرنا ضروری ہے۔ ایوان اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ چند گمراہ افراد قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں تاکہ ملک میں افراتفری کی فضا پیدا کی جاسکے۔ اسلام نے ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی فراہم کی ہے تاہم یہ آزادی بے لگام نہیں۔‘‘ اِس قرارداد کے روائتی مذمتی الفاظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے یاد رہے کہ اِس سے قبل کچھ سینیٹرز ’سوشل میڈیا دہشت گردی‘ کا حل تجویز کرتے ہوئے ایسی ویب سائٹس پر مکمل پابندی کا تصور پیش کر چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بات صرف قانون سازوں کی قراردادوں اُور مذمت کی حد تک محدود رہتی ہے اُور اِس معاملے میں ملوث افراد کی نشاندہی‘ کرنے میں وفاقی حکومت کے ادارے عملاً ناکام ثابت ہوتے ہیں تو اِس سے پاکستان میں ہنگامے ہو سکتے ہیں‘ مذہبی حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی پہلے ہی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ آن لائن منفی سرگرمیوں کی مستقل بنیادوں پر مانیٹرنگ اور عوام کو شریک کرکے ایسے عناصر کی نشاندہی باآسانی ممکن ہے جو کسی خاص مقصد کے تحت ’منافرت پھیلانے والی مہمات‘ اِس منظم انداز میں چلا رہے ہیں‘ جس کی پاکستان کے نظریاتی اور سماجی تصورات میں گنجائش‘ قبولیت اور مقبولیت نہیں۔ المیہ ہے کہ موبائل فونز کے ذریعے انٹرنیٹ ’’سرعام‘‘ تو کر دیا گیا ہے جس سے ’ملٹی نیشنل کمپنیاں (سروس پروائیڈرز)‘ خوب منافع کما رہی ہیں اور اس میں سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز بھی یقیناًیکساں شریک ہوں گے لیکن ذاتی حرص و طمع کے اسیروں کو اندازہ ہی نہیں کہ کس طرح انٹرنیٹ کا غیرمحتاط استعمال تخریب و دہشت کا باعث بن رہا ہے اور اگرچہ حکومتی اداروں کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو اس مہم میں ملوث ذرائع کی شناخت میں مدد فراہم کرسکتی ہے لیکن تاحال ایسے کسی بھی کردار کی نشاندہی نہیں ہوسکی ہے! 

سوال یہ بھی ہے کہ ٹوئٹر یا فیس بک پر جعلی ناموں (شناخت) والے کھاتہ دار (اکاؤنٹ ہولڈرز) کس طرح تاحال فعال رہ سکتے ہیں جبکہ اس بارے میں ڈائریکٹر جنرل ’ایف آئی اے‘ اور چیئرمین ’پی ٹی اے‘ جیسے متعلقہ اِداروں کو وفاقی حکومت کی جانب سے (مبینہ طور پر) تحریری و زبانی اَحکامات بھی اِرسال ہو چکے ہوں!؟ مواصلات و نشریات وفاقی موضوع (معاملہ) ہے جس میں صوبے مداخلت نہیں کرسکتے لیکن صوبائی سطح پر (بالخصوص خیبرپختونخوا میں) ایسی (الگ) قانون سازی ممکن ہے جس کے ذریعے ’سوشل میڈیا دہشت گردی‘ کرنے والوں سے لاحق خطرات کو کم یا اِس مستقل بنیادوں پر روکا جاسکتا ہے۔ 

تجویز ہے کہ موبائل فون کے ’پری پیڈ‘ کی بجائے ’پوسٹ پیڈ‘ کنکشن کو موبائل فون اور انٹرنیٹ (ڈیٹا کنکشن) جیسی سہولیات دی جائیں کیونکہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کو عام کرنے کا نہیں بلکہ اس کے شعوری‘ معنوی اور ایسے محتاط و محفوظ استعمال کا بھی ہے‘ جو کسی کی صورت اور کسی بھی حالت میں ریاست یا فرد و معاشرے کے لئے خطرے کا باعث (مؤجب) نہ ہو۔