Showing posts with label Secretary Health KP. Show all posts
Showing posts with label Secretary Health KP. Show all posts

Saturday, May 7, 2022

Dos and Donts of the Social Media uses for Health Department

شبیرحسین اِمام

  سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

    غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ 

بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔


Tuesday, May 3, 2022

UNJUSTIFIED: Social Media Policy for Health Dept employees

 تحریک …… آل یاسین

سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔ 

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

 ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔

……


Friday, January 12, 2018

Jan 2018: Health facilities in KP, discussed in court!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برن یونٹ: آخر کب تک؟
خیبرپختونخوا میں طرزِحکمرانی کا خلاصہ (لب لباب) یہ ہے کہ علاج معالجے جیسی بنیادی ضروریات بھی اب ’عدالت (کورٹ) احکامات‘ کی تعمیل میں فراہم کی جائیں گی! چھ جنوری ’’برن یونٹ‘ ہنوز ندارد‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا میں آگ سے جلے ہوئے مریضوں کے لئے ناکافی سہولیات اور جس معیار و مقدار کا ذکر کیا گیا‘ وہ معاملہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ تک جا پہنچا ہے! محرک یہ ہے کہ گھریلو تنازعہ سے دل برداشتہ ایک خاتون اندرون شہر ’تھانہ کوتوالی‘ میں داخل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے مبینہ طور پر خود کو آگ لگا دی‘ اِس سے قبل کہ موقع پر موجود پولیس اہلکار اُسے روک پاتے مذکورہ خاتون کے جسم کا 98 فیصد جل چکا تھا‘ چونکہ پشاور میں ’آگ سے جلے ہوئے ایسے مریضوں کے علاج کا خاطرخواہ بندوبست نہیں‘ اِس لئے اُسے کئی گھٹنوں (کم و بیش 200 کلومیٹر) کی مسافت پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تاہم لمحۂ فکریہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں صرف چالیس فیصد تک آگ سے جلے مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا میں ’جدید سہولیات پر مبنی برن یونٹ یا ہسپتال‘ کا نہ ہونا مجرمانہ غفلت اور سیاسی فیصلہ سازوں کی غلط ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پشاور کی عدالت عالیہ نے اِس صورتحال پر برہمی کے لہجے میں تعجب کا اظہار بھی کیا ہے جس سے اُمید پیدا ہو گئی ہے کہ صوبائی حکمران فوری طور پر اپنی تمام تر توجہ اور مالی وسائل ’برن ہسپتال‘ کی تعمیر کے لئے مختص کر دیں گے!

پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ (جسٹس قیصر رشید اور جسٹس غضنفر خان) نے (دس جنوری کے روز) ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ’برن یونٹ کی عدم دستیابی‘ کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ درحقیقت زیرسماعت مقدمہ (قضیہ) ’برن یونٹ‘ کا نہیں بلکہ خیبرٹیچنگ ہسپتال (المعروف شیرپاؤ ہسپتال) میں ’نیوروسرجری وارڈ‘ کی سست رفتار تعمیرات سے متعلق ہے‘ لیکن جب متعلقہ اعلیٰ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو جسٹس قیصر نے ضمنی طور پر یہ بات بھی پوچھ لی کہ ’’پشاور میں ’برن ہسپتال‘ کب تک (آخر کب تک) مکمل ہو جائے گا؟‘‘ وہ ایک تلخ حقیقت جس سے سالانہ سینکڑوں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے آگ سے جلے اَفراد کی اَموات کا تناسب بھی اِسی وجہ سے زیادہ ہے کہ اِنہیں علاج معالجے کے لئے سہولیات فوری طور پر میسر نہیں آتیں۔ مقام تشکر ہے کہ عدالت عالیہ نے محسوس کیا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو صوبہ پنجاب کے مختلف ہسپتالوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور سفری و دیگر علاج معالجے کے اخراجات کے علاؤہ بہت سے مریض مسافت کے دورانیئے کو برداشت نہیں کر پاتے اور راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں!‘‘ 

عدالت کے روبرو گریڈ بیس کے اہلکار ’’محمد عابد مجید‘‘ حاضر تھے‘ جو سولہ مارچ دوہزار سولہ (665 دنوں) سے بطور ’سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا‘ تعینات ہیں اُور انہوں نے پورے اعتماد سے (بناء ہانپتے کانپتے یا شرمندگی و معذرت کے اظہار) عدالت کو بتایا کہ ’جون دوہزار اٹھارہ‘ تک پشاور میں ’برن ہسپتال‘ فعال ہو جائے گا‘ جس کی ’ائرکنڈیشنگ‘ میں تکنیکی مسئلے کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک ماہ کی تاخیر سے مکمل ہونے جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراستہ ’برن یونٹ‘ کی عدم دستیابی کا معاملہ پہلی مرتبہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے سامنے زیرغور نہیں آیا بلکہ اِس سے قبل جولائی 2017ء میں عدالت عالیہ نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا تھا کہ وہ حکومتی کوششوں سے عدالت کو آگاہ کریں۔ یاد رہے کہ اُس وقت عدالت نے ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ایک ایک برن یونٹ قائم کرنے کا حکم دیا تھا جس پر سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کہا تھا کہ اِس سلسلے میں کام کا آغاز پہلے ہی سے جاری ہے اور ضلعی ہیڈکواٹر ہسپتالوں سے بستروں کی تعداد اور دستیاب سہولیات طلب کر لی گئیں ہیں۔ تصور کیجئے کہ جولائی دوہزار سترہ سے جنوری دوہزار اٹھارہ تک پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال اعدادوشمار ہی اکٹھا نہیں ہوسکے ہیں حالانکہ ٹیلی فون اور دیگر برق رفتار مواصلاتی رابطوں کی موجودگی میں دو درجن ٹیلی فون کالز کے ذریعے بھی یہ کام باآسانی سرانجام پا سکتا تھا اور اگر سیکرٹری ہیلتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مخلص ہوتے تو اب تک پچیس ہفتوں میں پچیس اضلاع کے خود بھی دورے کر کے معلومات اکٹھا کر چکے ہوتے۔ عجب ہے کہ جہاں کہیں سرکاری ملازمین کے اپنے مفادات‘ سہولیات اور مراعات حاصل کرنے کی بات ہوتی ہے تو یہ ’بابو‘ مہینوں کا کام منٹوں میں نمٹا دیتے ہیں لیکن جہاں عام آدمی (ہم عوام) کے مفاد کے لئے کام کرنا ہوتا ہے وہاں مصلحتیں اور تاخیری حربے آڑے آ جاتے ہیں۔

سیکرٹری صحت نے دس جنوری کے روز عدالت عالیہ میں ’آن دی ریکارڈ‘ جو بیان دیا‘ اُس کے مطابق سیدوشریف (سوات) میں چار بستروں پر مشتمل برن یونٹ موجود ہے۔ کوہاٹ میں مقامی رکن قومی اسمبلی کی جانب سے دوکروڑ ساٹھ لاکھ روپے دینے سے ’برن یونٹ‘ بنایا جا رہا ہے جس کا تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے۔ بنوں میں 18 بستروں کا ’برن یونٹ‘ فعال ہے جبکہ مردان میں ’برن یونٹ‘ کے قیام کے لئے غور ہو رہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ’برن یونٹ‘ نہیں۔ تیمرگرھ میں ’برن یونٹ‘ تو ہے لیکن عملہ نہیں۔ بقول سیکرٹری ہیلتھ چھوٹے پیمانے پر ایک ’برن یونٹ‘ کے قیام پر 20سے 30 کروڑ روپے لاگت آتی ہے۔ اگر رواں مالی سال کے دوران مالی وسائل دستیاب نہ ہوئے تو آئندہ مالی سال میں ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ’برن یونٹ‘ قائم کرنے کے لئے لازمی طور پر مالی وسائل مختص کئے جائیں گے۔‘‘

سیکرٹری ہیلتھ نے جب اپنی فرض شناسی پر مبنی کہانی عدالت کے روبرو سنا رہے تھے تو ججوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں‘ اُنہیں ایک منٹ کے لئے یہ بھی بھول گیا کہ جس ’برن یونٹ‘ کے قیام میں جس قدر بھی تاخیر (مجرمانہ غفلت) ہوئی ہے‘ اُس کے لئے ذمہ داروں میں یہی موصوف سیکرٹری ہیلتھ بہ نفس نفیس شمل ہیں‘ جنہوں نے اپنے گھر اور دفاتر کی ضروریات پوری کرنے پر ’برن یونٹ‘ سے زیادہ مالی وسائل خرچ کئے ہیں لیکن عام آدمی (ہم عوام) کے دُکھ کا اِنہیں احساس نہیں۔ دیگر سرکاری اِداروں کی طرح محکمۂ صحت میں بھی ملازمین کی فوج ظفر موج ہے‘ جن کی ماہانہ تنخواہوں اور مراعات پر خیبرپختونخوا میں علاج فراہم کرنے سے زیادہ اخراجات اُٹھ رہے ہیں! عدالت عالیہ نے کمال سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو ’برن یونٹ‘ منصوبوں کا تاحیات نگران مقرر کردیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اگر انہیں ’سیکرٹری ہیلتھ‘ کے عہدے سے ہٹا بھی دیا جائے تب بھی وہی اِن منصوبوں کے نگران بن کر کام کی رفتار کا جائزہ لیتے رہیں! ’’ترے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں‘ سزا چاہتا ہوں۔ (علامہ اِقبالؒ )