Showing posts with label Tehreek. Show all posts
Showing posts with label Tehreek. Show all posts

Wednesday, February 8, 2023

Mind what you eat

 تحریک .... آل یاسین

متوازن غذا : قومی عادات

’باچا خان چوک (پشاور)‘ سے متصل مرغی مارکیٹ میں 100 سے زائد دکانوں سے ہوٹلوں اُور شادی بیاہ کی تقاریب کے لئے ذبح شدہ مرغیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ شادی ہالز اُور ہوٹلز (مستقل گاہگوں) کی جانب سے فون پر آرڈر لکھوانے کے بعد اُنہیں صاف ستھری مرغی مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر فراہم کی جاتی ہے جسے اپنے منافع کے ساتھ مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جاتا ہے لیکن اِس کاروباری بندوبست کا ”تاریک پہلو“ یہ ہے کہ راشننگ کنٹرولرز کی ایک کاروائی (چھاپے کے نتیجے میں) شادی ہالز اُور ہوٹلوں (کھانے پینے کے عمومی مقامات) کو ”مردہ مرغیاں“ فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ مردہ مرغی کا گوشت کھانا حرام ہے۔ شرعی طور پر ”ذبح شدہ“ برائلر مرغی کاکھاناحلال ہے محض قیاس آرائی کی بنا پر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیاجاسکتا لیکن چونکہ مردہ مرغیاں فروخت کرنے کے منظم دھندے کا انکشاف ہو چکا ہے اُور بڑی مقدار میں ایسی مردار مرغیاں برآمد بھی کی گئیں ہیں اِس لئے شرعی طور پر احتیاط اِسی میں ہے کہ صرف اُسی برائلر یا دیسی مرغی کا گوشت استعمال کیا جائے جسے اپنے سامنے حلال کیا گیا ہو نیز شرعی نکتہ نظر سے مرغی کی خوراک (فیڈ) میں اگر خالص حرام اجزا یا ایسی کوئی چیز شامل کی گئی ہو جس کی وجہ سے حرام مواد خوراک کے باقی حصے پر غالب آ جائے تو ایسی مرغیوں کو کھلانا بھی حرام ہوگا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ انسان شرعی اَحکام کا مکلف ہے اُور شریعت میں کسی بھی جاندار کو حرام غذا دینا اُور اِس کے بعد اُس کے حرام ہونے میں شک و شبہ نہیں رہتا۔ ایک شرعی نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر کسی مرغی کو حرام چیزیں کھلائی گئیں ہوں لیکن اگر اُس کے گوشت سے بو نہ آتی ہو تو ایسا گوشت کھانا جائز ہے۔ دیسی مرغیاں بھی کیڑے مکوڑے کھاکر پلتی بڑھتی ہیں۔ بہرحال کسی حلال جانور کا کم مقدار میں حرام یا ناپاک چیز کھا لینا اس کے حرام ہونے کے لئے کافی جواز نہیں ہے ہاں اگر اس جانور میں ناپاک یا حرام چیز کی بو پیدا ہوجائے‘ یہ بو کھانے پر حاوی اُور کھانے کے دوران محسوس ہو تو اُس وقت حلال جانور کا کھانا بھی ممنوع ہو جاتا ہے۔ فارمی مرغی میں ہارمونز کی مقدار کا زیادہ ہونا ایک طبی مسئلہ ہے‘ جس پر اطبا (ماہرین صحت) کو قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے کیونکہ خوراک کے حلال و حرام اُور مضرصحت ہونے سے متعلق یہ معاملہ (منظرنامہ) انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے اُور اِس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

پاکستان کی معروف فلم و ڈرامہ ایکٹر اُور یوٹیوبر ’عائشہ عمر‘ کی شناخت ’بلبلے‘ نامی مزاحیہ (سٹ کام) ڈرامہ ہے جو سال 2009ءسے اندرون و بیرون ملک دیکھا اُور پسند کیا جا رہا ہے۔ اکتالیس سالہ عائشہ عمر فن اَداکاری اُور گلوکاری میں کئی ملکی و بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ ’صحت مند خوراک‘ کے حوالے سے ’قومی عادات‘ تبدیل کریں۔ متوازن غذا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عائشہ عمر نے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ (ayesha.m.omar) سے جاری پیغام میں اپنی خوبصورتی اُور جاذب نظر ہونے کا راز بتایا ہے اُور کہا ہے کہ ”میں گھاس پھوس (کچھ بھی) نہیں کھاتی بلکہ اپنے کھانے پینے کی اشیا کا سوچ سمجھ کر انتخاب کرتی ہوں۔ باقاعدگی سے ورزش کرنا فعال زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے جس کے لئے جسمانی ضرورت اُور موسم کے مطابق ’متوازن غذا‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے اگر کوئی بھی شخص (مرد یا عورت) چاہتا ہے کہ وہ ایک مطمئن زندگی بسر کرے تو اُسے اپنے کپڑوں‘ آسائش یا دیگر نمودونمائش پر حد سے زیادہ خرچ کرنے کی بجائے اچھے کھانے پینے پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ صرف زندہ رہنے ہی کے لئے بلکہ صحت مند رہنے کے نکتہ نظر سے بھی خوراک کا انتخاب ہونا چاہئے۔ یہ انتہائی افسوسناک اُور بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے پاس پاکستان میں بہت کم ایسی کھانے پینے کی جگہیں ہیں جہاں صاف‘ غیر پروسیسڈ‘ کیمیائی مادوں‘ مصنوعی ذائقوں‘ یا ہارمونز جیسے زہریلے مواد سے پاک کھانا پیش کیا جاتا ہو۔ مقامی پیداوار‘ اجزااُور قدرتی طور پر تیار ہونے والی خوراک کے مقابلے عموماً ایسے مصنوعی خوردنی اجزاکا انتخاب کیا جاتا ہے جو زیادہ تر کم قیمت ہوتی ہیں۔ صحت مند رہنے کے لئے اچھی خوراک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے میں جلد ہی ایک تصور کو عملی جامہ پہناؤں گی جس پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اِس منصوبے کے تحت کھانے میں سمندری غذا‘ چکن (جو کہ نامیاتی ہو) اور بنا چربی گوشت کے ساتھ وافر مقدار میں سبزی‘ خشک میوہ جات‘ بیج‘ بیریز اور پھل شامل کئے جائیں گے اُور ریفائنڈ شوگر‘ گلوٹین یا کیمیائی مادوں سے بھرپور دودھ یا دودھ سے بنی ہوئی مصنوعات کا زیادہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ضرورت سے زیادہ پکے ہوئے اور ڈیف جنک فوڈ سے دور رہنے کی کوشش کی جائے گی جو کہ تازہ اور صاف کھانے کی کوشش ہے۔ کھانے کے لئے بہترین تیل ناریل یا دیسی گھی کی صورت استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔ کسی شخص (مرد یا عورت) کے لئے ضروری ہے کہ وہ کھانے کے اچھے و اعلیٰ معیار‘ نامیاتی (قدرتی) وٹامنز پر اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ خرچ کرے۔ سفر اُور کھانا انسان کی زندگی میں مقصدیت کو بھر دیتے ہیں۔ مہنگے جوتے‘ بیگز یا زیورات اور ملبوسات کی بجائے ہمیں اپنے کھانے پینے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔“ عائشہ عمر کراچی میں رہتی ہیں اُور چونکہ فن ِاداکاری کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں اِس لئے اُنہیں معیاری کھانے پینے کے کاروبار میں سرمایہ کاری سے فوری فائدہ حاصل ہونے کی اُمید ہے لیکن لاہور میں پیدا ہونے والی عائشہ عمر کراچی میں مستقل مقیم ہیں اُور اُن کی خدمات بھی کراچی یا لاہور والوں ہی کو میسر آئیں گے جو پاکستان کے ثقافتی مراکز بھی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض بالخصوص پشاور میں رہنے والوں کو بھی اپنے کھانے پینے کے معمولات پر نظرثانی کرنی چاہئے کیونکہ جو کچھ اُنہیں میسر ہے اُس میں خالص ہونا تو دور کی بات حلال ہونا بھی یقینی نہیں ہے اُور آئے روز مردہ جانور اُور زہر آلودہ دودھ تلف کرنے سے متعلق ’محکمہ خوراک (فوڈ اتھارٹی)‘ کی کارکردگی خبروں کی زینت بنتی ہے لیکن مجال ہے کہ سڑک کنارے تکہ بوٹی اُور کباب فروخت کرنے والوں کے گاہگوں میں کمی آئے۔ شام سے رات گئے تک پشاور کے مختلف حصوں میں قائم ہونے والی ’فوڈ سٹریٹس‘ میں کھانے پینے کا معیار کوئی بھی دیکھنے (پرکھنے‘ جانچنے) والا نہیں کیونکہ سرراہ یہ دکانیں دن کے اختتام پر‘ اُس وقت قائم ہوتی ہیں جب سرکاری دفاتر کے اوقات کار ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں جبکہ عمومی امراض بھی پیچیدہ شکل اختیار کر گئے ہیں اُور کھانے پینے کی اشیا‘ اجناس و سہولیات کی اکثریت معیاری بھی نہیں رہے تو پہلی ضرورت یہی ہے کہ گھر سے باہر کھانے پینے سے حتی الوسع گریز کیا جائے اُور مردہ مرغیوں کی شادی ہالز کو فراہمی کے منظم دھندے کا پردہ فاش ہونے کے بعد ضروری (لازم) ہو گیا ہے کہ احتیاط کرتے ہوئے شادی بیاہ کی تقاریب (جن کا انعقاد غیرضروری طور پر شادی ہالز میں ہونا رواج پا گیا ہے) کے دوران بنا گوشت کھانوں ہی کا انتخاب کیا جائے۔

....


Sunday, January 1, 2023

Yearender Sports in 2022

 تحریک .... آل یاسین

کھیل کھلاڑی اُور کامیابیاں

کھیل کے میدان میں سال 2022ءکے دوران سمیٹی گئیں کامیابیوں پر نظر کی جائے تو سرفہرست کامیابی ’نوح دستگیر بٹ‘ کا وہ گولڈ میڈل تھا جو اُنہوں نے ”کامن ویلتھ گیمز“ کے دوران 405 کلوگرام وزن اُٹھا کر حاصل کیا۔ یہ اعزاز اِس لئے بھی اہم ہے کہ یہ پاکستان کے لئے پہلا طلائی تمغہ ہے۔ ویٹ لفٹنگ (وزن اُٹھانے میں) پاکستان کے کئی ویٹ لفٹرز نے نام کمایا ہے لیکن ’نوح دستگیر بٹ کا 405 کلوگرام وزن اٹھانا انتہائی غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ پاکستان کے لئے سال کی دوسری اہم و نمایاں کامیابی ارشد ندیم کا کامن ویلتھ گیمز میں ’جیولن تھرو ایونٹ‘ میں گولڈ میڈل جینا تھا۔ انہوں نے 90.18 میٹر دور جیولن پھینک کر سونے کا تمغہ اپنے نام کیا اُور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ارشد ندیم نے ایتھلیٹکس میں پاکستان کی جانب سے پہلا طلائی تمغہ جیت کر ایک تاریخ رقم کردی ہے جس پر یقینا پاکستان کے فیصلہ سازوں کی نظر ہوگی اُور آئندہ کامن ویلتھ گیمز (2026ئ) میں یکساں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیاریاں کی جائیں گی۔ پاکستان کے لئے تیسری کامیابی کا تعلق بھی کامن ویلتھ گیمز ہی سے ہے جس کے کشتی (پہلوانی) میں حصہ لینے والے پاکستانی پہلوانوں نے اپنی طاقت اور مہارت سے 4 تمغے جیتے۔ انعام‘ زمان انور اور شریف طاہر نے بالترتیب 86کلوگرام‘ 125کلوگرام اور 74کلوگرام کیٹیگریز میں چاندی کے تمغے جیتے جبکہ عنایت اللہ نے 65کلوگرام کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ کشتی (پہلوانی) میں پاکستانی کھلاڑی زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اُور یقینا یہ پہلو بھی کھیلوں سے متعلق قومی فیصلہ سازوں کے پیش نظر ہوگا۔ 

کرکٹ کی دنیا میں سال دوہزاربائیس کے دوران پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائی تو اِس پر پوری قوم مسرور تھی۔ آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئٹنی ورلڈ کپ (ٹورنامنٹ) میں پاکستان کی کارکردگی کرشماتی رہی جس کا جادو فائنل میں نہ چل سکا لیکن برطانیہ سے فائنل ہارنے کے باوجود پاکستان ٹیم نے اپنی محنت کے لئے داد وصول کی۔ یقینی طور پر اپنے مکمل اعتماد اُور جذبے کے ساتھ کھیل سے شائقین کرکٹ بے حد خوشی اُور محظوظ ہوئے۔

پاکستان کے لئے سال دوہزار بائیس کی پانچویں کامیابی ’احسن رمضان‘ کے نام رہی جنہوں نے سنوکر نامی کھیل میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ سولہ سالہ احسن رضا ’آئی بی ایس ایف ورلڈ سنوکر ٹائٹل‘ جیتنے والے کم عمر ترین پاکستانی بن گئے ہیں۔ انہوں نے تجربہ کار ایرانی کیوئسٹ عامر سرکوش کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کا چوتھا آئی بی ایس ایف ورلڈ سنوکر ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔ پاکستان کے لئے چھٹی کامیابی کا تعلق کرکٹ کے ایشیا کپ مقابلے سے ہے جس میں پاکستانی ٹیم فائنل تک پہنچی۔ یوں ٹیم گرین مینز ٹیم سپر فور راؤنڈ میں کامیابی کے بعد ایشیا کپ 2022ءکے فائنل میں پہنچی اُور اگرچہ فائنل میں سری لنکا سے مقابلہ ہار گئی لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کا فائنل تک پہنچنے کا سفر کافی متاثر کن رہا۔

 پاکستان کو ساتویں کامیابی شاہ حسین شاہ نے دلوائی جنہوں نے جوڈو میں میڈل جیتا۔ شاہ حسین شاہ حالیہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لئے تمغہ جیتنے والے پہلے کھلاڑی تھے جس کے بعد ایونٹ میں دیگر پاکستانی ایتھلیٹس نے کامیابیاں حاصل کیں۔ شاہ حسین شاہ نے جوڈو ایونٹ کے مردوں کے 90کلوگرام مقابلے میں جنوبی افریقہ کے تھامس لسزلو بریٹن باخ کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ آٹھویں نمبر پر ہنزہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ’باکسر‘ العلومی کریم رہے جنہوں نے ’بنٹم ویٹ مقابلے‘ میں انڈین مکسڈ مارشل آرٹس ٹائٹل حاصل کیا۔ دبئی میں دسویں میٹرکس فائٹ نائٹ (ایم ایف این) ایونٹ کے پہلے راؤنڈ میں بھارت کے دھرو چودھری کو ناک آؤٹ کرنے کے بعد العلومی کریم نے بینٹم ویٹ چیمپیئن شپ جیتی۔

 سال دوہزار بائیس کی نویں اُور سب سے زیادہ پڑھی‘ دیکھی اُور سنی جانے والی خبر کرکٹ کے میدان سے تھی جس میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے بھارت کو شکست دی۔ پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے سلہٹ میں جاری ویمنز ایشیا کپ میں روایتی حریف بھارت کو شکست دی۔ ندا ڈار کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت پاکستان ویمنز نے تیرہ رنز سے تاریخی فتح حاصل کی۔ سال دوہزاربائیس کی دسویں خوشخبری کا تعلق ماضی سے زیادہ مستقبل سے ہے۔

 پاکستان کی فٹ بال کا عالمی مرحلے میں واپس آنا انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ تقریبا تین سال بعد پاکستان کی مینز فٹ بال ٹیم بالآخر بین الاقوامی سرکٹ میں واپس آگئی ہے کیونکہ اس نے نیپال کے خلاف ایک دوستانہ میچ کھیلا اُور اگرچہ پاکستان وہ میچ نہیں جیت سکا لیکن اِس عالمی مقابلے کی بدولت پاکستان عالمی فٹ بال کی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اِسی طرح پاکستان کی خواتین فٹ بال ٹیم نے ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن (SAFF) مقابلوں کے ویمنز کپ میں مالدیپ کے خلاف سات صفر سے تاریخی فتح حاصل کی۔

....

Tuesday, May 3, 2022

UNJUSTIFIED: Social Media Policy for Health Dept employees

 تحریک …… آل یاسین

سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔ 

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

 ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔

……


Friday, January 21, 2022

Teacher woe(s) and right(s)

 تحریک .... آل یاسین

اساتذہ مسائل: زندہ رہنے کا حق

درس و تدریس کے عمل کو معیاری اُور یکساں نصاب کا حامل بنانے کے ساتھ فیصلہ سازوں کو اساتذہ کے ’حسب ِاطمینان‘ اقدامات و انتظامات کرنا ہوں گے تاکہ جملہ فریقین کی ذہنی آمادگی و شرکت سے ایک باسہولت نظم و نسق لاگو ہو۔ خیبرپختونخوا میں تحریک اِنصاف کی حکمرانی کا پہلا دورانیہ (دو ہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) اُور اگست دوہزار اٹھارہ سے جاری دوسرے دور حکومت میں کئی قابل ذکر (مثالی) اصلاحات ہیں اُور اِن میں بطور خاص ’ایجوکیشن سیکٹر ریفارم یونٹ (ESRU)‘ کے ذریعے تعلیم کے شعبے کی مجموعی اُور باریک بینی سے کارکردگی پر بھی نظر رکھی گئی۔ ذہن نشین رہے کہ ’ایجوکیشن سیکٹر پلان (ESP)‘ جو کہ استعداد کی بہتری سے متعلق حکمت عملی ہے وہ تعلیمی شعبے کے معیار اُور کارکردگی کے بارے میں سوچ بچار کا مجموعہ ہے‘ جس کے لئے برطانیہ‘ یورپی کمیشن‘ امریکی امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) اُور جرمن حکومت مجموعی طور پر 55 ہزار 338 ملین روپے فراہم کر چکی ہے لیکن یہ ساری کوششیں اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوں گی جب تک اساتذہ کی بھرتی میں اہلیت کے بعد اُنہیں اِس مقصد کے حصول کے لئے بھی قائل نہیں کر لیا جاتا کہ شعبہ¿ تعلیم صرف ملازمتوں کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ اِس کی ایک معنویت اُور مقصدیت بھی ہے‘ جس کے اہداف حاصل کرنے میں منصوبہ سازوں سے زیادہ اساتذہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اساتذہ پر مبنی افرادی قوت کے جائز مسائل کا حل‘ امتیازات کا خاتمہ اُور اساتذہ کے حقوق بارے بھی کماحقہ غوروخوض اِس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اساتذہ اطمینان قلب اُور توجہ سے اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔ اساتذہ کی اکثریت کو تبادلوں اُور تعیناتیوں جیسے امور اُور اِن سے متعلق فیصلہ سازوں کے امتیازی روئیوں (جنہیں وہ فرعونیت سے تعیبر کرتے ہیں) کی شکایات رہتی ہیں اُور وہ چاہتے ہیں محکمے کے سبھی ملازمین کے لئے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ سیاسی اثرورسوخ‘ رشوت یا تعلقات کی بنا پر نہیں بلکہ ”میرٹ (حقیقی اہلیت)“ کے مطابق فیصلے ہونے چاہیئں۔

 محکمانہ قواعد و ضوابط پر خاطرخواہ انصاف کے ساتھ عمل درآمد دیکھنے کی ایک ایسی ہی خواہشمند معلمہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے ہے جہاں بطور پرائمری ٹیچر محترمہ زاوش فدا تعینات ہیں اُور چاہتی ہیں کہ اُنہیں مضافاتی دیہی علاقے کے پرائمری سکول شوراگ سے ضلع ایبٹ آباد کے شہری علاقے کے کسی تعلیمی ادارے میں تعینات کیا جائے۔

سال دوہزاراٹھارہ سےڈیسیز کوٹے (Deceased Quota)  پر بطور ”مستقل ملازمت“ پرائمری ٹیچر تدریسی خدمات سرانجام دینے والی محترمہ زاوش آبائی طور پر (خیبرپختونخوا کے) ضلع ہری پور سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اُن کی شادی ملحقہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی‘ جہاں سے شوراگ گاؤں کے پرائمری سکول کا یک طرفہ فاصلہ چالیس کلومیٹر سے زیادہ ہے اُور اِس مسافت کے لئے اُنہیں ہر روز دو سے ڈھائی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے چونکہ ضلع ہری پور کا شمار میدانی اضلاع جبکہ ضلع ایبٹ آباد کا شمار بالائی اضلاع میں ہوتا ہے اِس لئے موسم کے اثرات کی وجہ سے سکول کے آغاز و اختتام اُور تعطیلات کے دورانیئے بھی الگ الگ ہوتے ہیں اُور یوں شدید بارش حتیٰ کہ برفباری کی صورت بھی اُنہیں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر منہ اندھیرے سکول کی راہ لینا ہوتی ہے جو شدید موسمی یا ہنگامی حالات کی صورت کبھی کبھار ممکن بھی نہیں ہو پاتا۔ تین سال چار ماہ کا صبرآزما عرصہ ،مشکل ترین حالات میں تدریسی خدمات سرانجام دینے اُور تبادلوں و تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھانے کی دعائیں مانگتے جیسے تیسے گزر ہی گیا اُور اب جبکہ صوبائی حکومت نے اساتذہ کے بین اضلاعی تبادلوں اُور تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھا دی ہے تو ضلع ہری پور کا منتظم دفتر (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُور اِن کا ماتحت عملہ) محترمہ زاوش فدا کی خدمات کسی دوسرے ضلع منتقل کرنے کا اجازت نامہ (NOC) جاری نہیں کر رہا جسے وہ اپنا قانونی حق قرار دیتی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ انہیں بلاتاخیر تبادلے و تعیناتی کے لئے درکار محکمانہ اجازت نامہ جاری کیا جائے کیونکہ وہ (مبینہ طوسر پر) دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک  چکی ہے جبکہ اُنہیں متعلقہ دفتری عملے کے تضحیک آمیز رویئے سے بھی شکایت ہے۔

 یہ مسئلہ کئی ایسی معلمات کا ہے جو خاصی پریشان کن صورتحال ہے کیونکہ تبادلوں اُور تعیناتیوں پر پابندی کا اطلاق دوبارہ ہو سکتا ہے اُور اگر اِس موقع پر بھی انہیں اپنا حق نہ ملا تو مزید تین سے پانچ سال یا اِس سے بھی زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑ جائے گا۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اُور سوشل میڈیا پر اپنے تبادلے کے جائز قانونی حق کے لئے آواز اُٹھانے والی ’پرائمری ٹیچر‘ نے صوبائی وزیرتعلیم اُور دیگر متعلقہ فیصلہ سازوں سے درخواست کی ہے کہ اُسے دیگر ہم عصر اساتذہ کی طرح ملازمتی مقام تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے۔

تدریسی عملے کے گوناگوں مسائل میں بالخصوص خواتین اساتذہ زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہیں‘ جن کے لئے باسہولت اُور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز دیہی علاقوں میں خدمات سرانجام دینا کسی ایسے امتحان (چیلنج) سے کم نہیں جس کا اِنہیں ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لمحہ فکریہ اُور انتہا ہے کہ جس معاشرے میں تدریسی عملے کو انصاف نہ مل رہا ہو‘ وہاں تعلیم‘ تربیت‘ شعور نظم و ضبط اُور خواندگی میں اضافے جیسے بنیادی اہداف کا حصول بھلا کیوں کر عملاً ممکن ہو سکتا ہے؟

کیا ہم کھلی آنکھوں (جاگتے ہوئے) خواب دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں!؟

شاید موضوع اساتذہ ہی ہوں جن کی مشکلات و مسائل اُور سخت حالات کار کے بارے میں شاعر سرفراز زاہد نے کہا تھا کہ 

زندہ رہنے کا حق ملے گا اُسے
 جس میں مرنے کا حوصلہ ہوگا

....

Sunday, September 26, 2021

Exams, the failing impact

شبیر حسین اِمام

طب کی تعلیم: روشن مستقبل؟

پاکستان میں طب کی تعلیم (میڈیکل ایجوکیشن) کا مستقبل کتنا روشن یا کتنا تاریک ہے اُور میڈیکل (MBBS) یا ڈینٹل (BDS) کی تعلیم کے معیار (بشمول درس و تدریسی سہولیات) میں ہر سال‘ حسب آبادی اضافہ یا آبادی کے تناسب کے مقابلے ہر سال کمی ہو رہی ہے؟ اِس جیسے بہت سارے سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے جائزہ لینا پڑے گا کہ ’پاکستان میڈیکل کمیشن (PMC)‘ کے نام سے قائم وفاقی ادارے کے قواعد و ضوابط کیا ہیں اُور کیا اِس ادارے سے وابستہ طبقات کی توقعات پوری ہو رہی ہیں یا نہیں؟ علاؤہ ازیں پاکستان میں طب (میڈیکل اینڈ ڈینٹل) کا تعلیمی و تدریسی بندوبست کیا ہے اُور اِس میں خرابیاں دور کرنے (اصلاحات) کی کوشش میں کون کون سی خرابیاں داخل ہو گئی ہیں‘ جنہیں دور کئے بغیر طب کی تعلیم قابل اطمینان و معیار نہیں ہو سکتی جبکہ متعلقہ فریقین یعنی فارغ التحصیل ہوئے ڈاکٹرز‘ طب کے شعبے سے وابستہ تدریسی عملہ‘ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم (پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن)‘ نجی تعلیمی اداروں (پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز) کی نمائندہ تنظیم ”پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیویشنز (PAMI) کے اراکین اُور طب کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا و طالبات‘ اِن کے والدین اُور اساتذہ کی اکثریت کے شکایات‘ تحفظات‘ خیالات اُور تجاویز بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں‘ جنہیں محض اِس لئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اختلافی نکتہ¿ نظر ہر طبقے کے ذاتی یا کاروباری مفادات کے عکاس ہیں۔ یہ نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان میں طب کی تعلیم کا قبلہ اُس وقت تک درست نہیں ہوگا جب تک اِس سے متعلق قواعد و ضوابط وضع کرنے میں کثیرالجہتی و جامع مشاورت نہیں کی جاتی اُور دوسرا متفقہ و متنازعہ قواعد و ضوابط لاگو کرنے کے لئے من پسند‘ منظورنظر‘ جن میں اکثریت غیرمتعلقہ شعبوں سے ملازمتیں مکمل کرنے (ریٹائرڈ) کردار شامل ہیں کی بجائے حقیقی اہل اُور متعلقہ ماہرین کی سمجھ بوجھ اُور جذبے کو اصلاحات لاگو کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔

طب کی تعلیم کے حوالے سے اعتراضات کی طویل فہرست میں اگر کسی ایک نکتے کو پکڑ کر اِس الجھن (گھتی) سلجھانے کی کوشش کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ سردست پاکستان میڈیکل کمیشن نے نئے تعلیمی سال (2022ئ) میں داخلے کے لئے 65فیصد نمبرات حاصل کرنے کی بنیاد پر اہلیت کا جو معیار (پیمانہ) بصورت ’میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمشن ٹیسٹ (MDCAT)‘ مقرر کیا ہے اُس کی وجہ سے پاکستان کے سرکاری و نجی میڈیکل کالجوں میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ (اہلیت رکھنے کے باوجود بھی) نااہل ہو گئے ہیں جس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے 2 پہلو ہیں۔ پہلا پہلو یہ ہے کہ جو طلبا و طالبات ’ایم ڈی کیٹ امتحان‘ میں 65 فیصد نمبر حاصل نہیں کر سکے اُور وہ طب کی تعلیم بہرصورت حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ بچپن سے اُن کے ذہنوں میں یہی بات ڈالی گئی کہ اُنہیں بڑا ہو کر ڈاکٹر بننا ہے‘ اِس لئے وہ سوائے ڈاکٹری کسی دوسری تعلیم کو اہم نہیں سمجھتے۔ ایسے طالب علموں میں بڑی تعداد اُن بچوں کی ہوتی ہے جن کے والدین کم مالی وسائل کے باوجود بچوں کو بیرون ملک بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ طب (میڈیکل یا ڈینٹل) کی تعلیم حاصل کرنے جیسے خواب کی تعبیر کر سکیں۔ اِس صورت میں پاکستان سے صرف ذہین و اہل طالب علم ہی نہیں بلکہ داخلہ فیسوں‘ ٹیویشن فیسوں‘ آمدورفت اُور قیام و طعام و دیگر ضروریات کی صورت ’قیمتی زرمبادلہ‘ بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے بیرون ملک کے تعلیمی اداروں کی درجہ بندی جاری کر رکھی ہے جس کے تحت تین درجات (گریڈ اے‘ گریڈ بی اُور گریڈ سی) کے کالجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عام فہم زبان میں بات کی جائے تو بیرون ملک طب کی تعلیم اخراجات کے لحاظ سے دو درجات میں تقسیم ہے جبکہ بیرون ملک تعلیمی اداروں کا تعلیمی معیار میں ایک جیسا ’ناقابل اعتبار‘ ہے کہ ترقی یافتہ مغربی ممالک ہوں یا ایشیائی اُور وسط ایشیائی ریاستیں یا چین و افریقہ‘ اِن تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر پاکستان واپس آنے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ’نیشنل لائسینسینگ ایگزیم (NLE)‘ میں کامیاب ہوں بصورت ِدیگر وہ پاکستان میں طب کی مزید تعلیم یا اِس شعبے میں ملازمت کرنے کے لئے اہل تصور نہیں ہوں گے۔ اِس مرحلے پر 2 ضمنی اقدامات (اصلاحات) کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو ’ایم ڈی کیٹ‘ نامی امتحان میں کامیابی کے لئے مقررہ نمبرات کی شرح 65 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد مقرر ہونی چاہئے تاکہ طب کی تعلیم کے خواہشمند طلبہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد پاکستان ہی میں تعلیم حاصل کرے اُور یوں ذہین بچے اُور قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل نہ ہو۔

 دوسری ضرورت طب کی تعلیم کے موجودہ بندوبست میں وسعت اُور اِس شعبے میں موجود نجی سرمایہ کاری کے امکانات سے فائدہ کی ہے۔ نجی تعلیمی ادارے نہ صرف روزگار کی فراہمی کا ذریعہ ہیں بلکہ اُنہوں نے تعلیم کے شعبے میں حکومت کا بوجھ بھی بانٹ رکھا ہے اُور اگر اِن نجی تعلیمی اداروں کی تعداد یا اِن سمیت سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں زیرتعلیم طلبہ کی تعداد (گنجائش) میں اضافہ کیا جائے تو اِس سے طلبہ اُور اِن کے والدین میں پائی جانے والی تشویش بڑی حد تک کم ہو جائے گی۔ بنیادی بات آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح اُور اِس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مانگ (طلب) کو پورا کرنے کی ہے۔

سردست صورتحال یہ ہے کہ صرف طب ہی نہیں بلکہ دیگر علوم کی تعلیم کے شعبوں میں بھی داخلے ملنا ہر سال پہلے سے زیادہ مشکل ہو رہا ہے اُور اِس صورتحال (عوام کی مجبوری) کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے غیرمعیاری تعلیمی ادارے بھی قائم ہو رہے ہیں یا پہلے سے موجود نجی تعلیمی اداروں کا معیار بہتر ہونے کی بجائے رو بہ زوال ہے کیونکہ طب کی تعلیم ہو یا علاج معالجے کی سہولیات دونوں پر مانگ (آبادی) کا بوجھ ہے اُور دونوں ہی سے متعلق اصلاحات کے لئے جامع حکمت عملی مرتب (وضع) ہونی چاہئے۔

....




Sunday, August 29, 2021

Freedom Questioned!

 تحریک .... آل یاسین

آزادیءاظہار و بیاں

ملک بھر کے ایوان  ہائے صحافت (پریس کلب) اُور ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کی نمائندہ تنظیموں (یونین آف جرنلسٹس) نے ”پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ کے نام سے مجوزہ قانون مسترد کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صحافیوں اُور صحافتی اداروں کے درمیان اِس سے قبل ایسا اتفاق بہت ہی کم دیکھنے میں آیا ہے کہ جب اتنی بہت ساری دانشور تنظیمیں ایک دوسرے کی رائے سے متفق ہوئی ہوں اُور اِنہوں نے آپسی اختلافات بالائے طاق رکھے ہوں۔ درحقیقت صحافیوں کو جس ایک بات پر سوچنا چاہئے وہ یہ ہے کہ اِن کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے کیونکہ آپسی اختلافات کی وجہ سے بہت سارے ایسے امور ہیں‘ جو مسائل اُور بحرانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اُور اَکثر غلط فہمیاں بھی پیدا ہوتی ہیں‘ جن سے پاکستان کے بارے میں یہ ’منفی تاثر‘ اُبھرتا ہے کہ جیسے یہاں ’آزادی صحافت‘ نہ ہو حالانکہ جس قدر اظہار کی آزادی پاکستان میں ہے شاید ہی دنیا کے کسی بھی نظریاتی ملک میں ہو کہ یہاں صحافی ہونے کے لئے متعلقہ شعبے کی تعلیم کا ہونا تک ضروری نہیں! تعجب خیز ہے کہ جو صحافتی علوم و نظریات سے متعلق خاطرخواہ تعلیم یافتہ نہیں‘ اُنہوں نے صحافت سے متعلق فیصلہ سازی کو تابع فرمان بنا رکھا ہے اُور ”پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ مادر پدر آزاد صحافت کے مقابلے اگر ذمہ دار صحافت فروغ پاتی ہے تو اِس سے بہت سارے صحافت کی آڑ میں ہونے والی سیاست ختم ہو جائے گی بالخصوص وہ کردار کیا کریں گے جنہیں سیاستی و ریاستی صحافت کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں آتا؟ ”کروں گا کیا جو ’محبت‘ میں ہو گیا ناکام .... مجھے تو اُور کوئی کام بھی نہیں آتا (غلام محمد قاصر)۔“

اختلاف موجود ہے۔ صحافیوں کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو ”پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ کے قیام کو ضروری سمجھتی ہے اُور اِس سلسلے میں وفاقی حکومت کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے مجوزہ ”پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ کو خطرہ نہیں بلکہ ملکی حالات کے مطابق ضروری سمجھتی ہے۔ اِس سلسلے میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ”پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی“کی حمایت میں جن صحافیوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں‘ اُنہوں نے مذکورہ مجوزہ قانون کی حمایت کا یقین دلایا ہے لیکن قومی سطح پر صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ”پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)“ کا کہنا ہے ”چند صحافیوں کی رائے کو ملک بھر کے صحافیوں کا مو¿قف نہیں سمجھنا چاہئے۔“ ذہن نشین رہے کہ ’پی ایف یو جے‘ کے نام سے پاکستان میں کم سے کم 5 تنظیمیں فعال ہیں اُور اِن سبھی تنظیموں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ صحافیوں کی ترجمان اُور سب سے زیادہ صحافیوں کی رکنیت رکھنے والی تنظیمیں ہیں اُور اِن میں شامل ’پی ایف یو جے‘ مجوزہ قانون آزادی اظہار رائے کو دبانے کے مترادف قرار دیتی ہے۔ 

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پروفیشنل گروپ) کے نام سے حال ہی میں بنائی گئی تنظیم کے منتخب صدر مظہر اقبال نے وفاقی وزیراطلاعات سے ملاقات کی تھی۔ مظہراقبال کے بقول ان کی تنظیم کے حال ہی میں انتخابات ہوئے‘ جس میں انہیں بطور صدر منتخب کیا گیا لیکن یہ معلوم نہیں ہوا کہ ’پی ایف یو جے پروفیشنل‘ کے انتخابات ملک کے کس پریس کلب میں ہوئے‘ البتہ اُن کی حلف برداری کی تقریب رواں برس ہی نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی۔ دوسری طرف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی جانب سے وضاحت آئی ہے کہ پریس کلب میں ’پی ایف یو جے پروفیشنل‘ کی حلف برداری کی باقاعدہ تقریب منعقد نہیں ہوئی البتہ یہ ممکن ہے کہ ’نیشنل پریس کلب‘ میں کسی جگہ مل بیٹھ کر پانچ دس لوگوں نے ایک دوسرے سے حلف لے لیا ہو۔“

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ 13 ’یونین آف جرنلسٹس‘ کے نمائندوں پر مشتمل ہے جس کے اراکین کراچی‘ لاہور‘ پشاور‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد اور راول پنڈی کے علاؤہ سکھر‘ رحیم یار خان‘ گوجرانوالہ‘ ایبٹ آباد‘ بہاولپور اُور علاقائی سطح پر موجود ہیں۔ ’پی ایف یو جے‘ کے انتخاب کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں یونین آف جرنلسٹس کے انتخابات ہوتے ہیں جس کے ساتھ یونین کے نمائندوں جنہیں ’ڈیلیگیٹس‘ کہا جاتا ہے کا انتخاب ہوتا ہے اُور یوں صوبائی اُور علاقائی سطح پر فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے عہدیداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ مراحل اعلانیہ (پورے اہتمام سے) سرانجام پاتے ہیں اُور انتخابات سے تین ماہ قبل فیڈرل ایگزیکٹیو کونسل بنائی جاتی ہے‘ جو انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنے کے ساتھ انتخابی کمیٹی بھی تشکیل دیتی ہے جو آئندہ انتخابی مراحل کی نگرانی کرتی ہے۔ پی ایف یو جے کے عہدیداروں کے ہر دو سال کے بعد انتخابات ہوتے ہیں اور آخری انتخابات کراچی میں ہوئے تھے۔ 'پی ایف یو جے 'کا صحافیوں کی ’حقیقی نمائندہ تنظیم‘ ہونے کے بارے میں اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم (ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان )کے علاؤہ پاکستان بار کونسل اور سپرئم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی اِن کی حیثیت تسلیم کرتی ہیں اور صرف صحافی ہی نہیں بلکہ دیگر تنظیمیں بھی مجوزہ میڈیا اتھارٹی کے قیام کی مخالف ہیں۔

ذہن نشین رہے کہ صرف صحافتی تنظیمیں ہی نہیں بلکہ ٹیلی ویژن چینلز (براڈکاسٹ ایسوسی ایشن) اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کے مالکان نے بھی مجوزہ قانون کو مسترد کر رکھا ہے اور اس قانون کے خلاف اعلانات شائع کئے ہیں کیونکہ یہ قانون مبینہ طور پر ’بولنے کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔‘ مجوزہ قانون کے مندرجات میں صحافتی تنظیموں کو جن شقوں پر اعتراض ہے ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تمام اختیارات اس اتھارٹی میں شامل گیارہ افراد کے پاس ہوں گے اور اس اتھارٹی کا چیئرمین گریڈ اکیس یا بائیس کا سرکاری افسر ہوگا جس کا انتخاب صدر مملکت کریں گے جبکہ اس اتھارٹی میں ہر صوبے کا ایک ایک نمائندہ ہوگا جس کا انتخاب بھی صدر وفاقی حکومت کی سفارشات کی روشنی میں کریں گے۔ اس کے علاؤہ کمیٹی میں سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اطلاعات بھی شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو حکومت کی طرف سے جو ذمہ داری (ٹاسک) دیا جائے گا وہ اس کو پورا کرنے کی پابند ہوگی جبکہ یہ کمیٹی جو ٹربیونل بنائے گی وہ اکیس روز میں فیصلہ سنانے کا پابند ہوگا اور یہ جو بھی فیصلہ کرے گا اس پر اعتراض کی صورت عدالت عظمی (سپرئم کورٹ)سے رجوع کیا جا سکے گا۔ روایت ہے کہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت قانون ساز ایوانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہیں‘ جس کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا لیکن صحافتی تنظیموں نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اِس موقع پر مجوزہ ”پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ کے خلاف احتجاج کریں گے۔

....


Sunday, June 21, 2020

Internet for entertainment alone!

حقیقت حال .... جو میں نے دیکھا!
پہلی حقیقت: 
کسی فلم یا ڈرامے کی کامیابی کا ’عالمی پیمانہ‘ باکس آفس (Box Office) کارکردگی یعنی کمائی (حاصل وصول) بارے جاری ہونے والے اعدادوشمار ہوتے ہیں کہ مذکورہ فلم یا ڈرامے نے خاص عرصے کے دوران کتنا ’بزنس‘ کیا۔ رواں ماہ (جون دوہزاربیس) کے دوران پاکستان میں ’نیٹ فلیکس (Netflix)‘ کے ذریعے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے دس (top-10) فلموں ڈراموں میں پہلے نمبر پر براجمان پولش (Polish) زبان میں بنایا گیا 114 منٹ دورانئے کا کھیل ہے‘ جس کی کہانی جرائم‘ منشیات‘ بے راہ روی‘ تشدد اُور جنسی تعلقات جیسے تخریبی موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ مذکورہ کھیل (ٹیلی فلم) کو پولش (پولینڈ کی سرکاری زبان) میں وہاں کے خاص حالات اُور ثقافت کی نمائندگی تو کرتا ہے اُور اُس معاشرے میں پائی جانے والی سوچ کو نئے زوایئے تو دیتا ہے لیکن اُسے انگریزی میں ترجمہ کر کے پاکستان جیسے ملک میں پیش کرنے کی ضرورت و منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک طرف حکومت کے ادارے (سنسربورڈ اُور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) موجود ہیں لیکن اُن کی اجازت کے بغیر غیرملکی مواد پاکستان میں صرف نشر ہی نہیں بلکہ فروخت بھی ہو رہا ہے لیکن کسی کی توجہ نہیں۔ افسوس کے ساتھ شرم کا بھی مقام ہے کہ ایک مسلمان اکثریتی معاشرے میں انگریزی ڈرامہ ’356 دن‘ جس کا اصل (پولش) نام 365 Dni ہے سرفہرست اُور مقبول ترین ہے! سات فروری (دوہزاربیس) کے روز پولینڈ میں پہلی مرتبہ نشر اُور انٹرنیٹ پر منحصر ’نیٹ فلیکس‘ کی وساطت سے دنیا بھر میں جاری (ریلیز) ہونے والے مذکورہ ڈرامے نے چار ماہ کے عرصے (بارہ جون دوہزاربیس تک) ’باکس آفس‘ پر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کمائے ہیں جو اِس پر اُٹھنے والی لاگت سے ہزاروں گنا زیادہ منافع ہے! ذہن نشین رہے کہ پانچ لاکھ سال پر محیط انسانی آبادی کی تاریخ رکھنے والا ملک ’پولینڈ‘ وسط یورپی میں واقع ہے اُور اِس کی سرحدیں شمال میں روس‘ مشرق میں بیلاروس اُور یوکرین‘ جنوب میں چیک ری پبلک جبکہ مغرب میں جرمنی سے ملتی ہیں اُور 27 یورپی ممالک میں معاشی ترقی و قومی پیداوار کے لحاظ سے پولینڈ چھٹے نمبر پر ہے‘ جہاں دیگر صنعتوں کی طرح ٹیلی ویژن اُور فلم کی صنعت قومی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے۔

دوسری حقیقت: 
ٹیلی ویژن کے ذریعے تفریح (اِنٹرٹینمنٹ) کیبل نیٹ ورک یا روائتی چھت پر لگے انٹینا کے ذریعے موصول ہونے والے چینلز کی حد تک محدود نہیں رہی بلکہ ثقافتی یلغار سیٹلائٹ (ڈش) اُور انٹرنیٹ کی مدد سے ترقی یافتہ اشکال میں سامنے آ چکی ہیں جن میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH)‘ آئی پی ٹیلی ویژن (IPTV) اُور مختلف قسم کے سی لائن (سرورز) شامل ہیں۔ پاکستان میں اِن سبھی وسائل سے مختلف ضرورتوں (فلمیں‘ ڈرامے‘ ناچ گانے‘ کھیل‘ معلومات اُور عالمی خبروں و تجزئیات) کے لئے استفادہ کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں ہزاروں یا لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے لیکن اِس سے حکومت نہ تو مالی طور پر خاطرخواہ فائدہ اُٹھا رہی ہے اُور نہ ہی غیرروائتی نت نئے طریقوں سے تفریح بذریعہ ٹیلی ویژن جیسے شعبے کو نظم و ضبط کا پابند (ریگولیٹ) کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی اپنی تاریخ و ثقافت اُور بالخصوص اِسلام کے بتائے ہوئے اَصولوں کے مطابق نظر‘ زبان‘ سماعت اُور خیالات کو آلودہ کرنے کی کھلم کھلا اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ لمحہ  فکریہ ہے کہ تفریح کے نام پر اُن اخلاقی اَقدار کو شکار کیا جا رہا ہے‘ جو کبھی اسلام اُور مشرقی روایات کے عنوان سے پاک و پاکیزہ معاشرت و سماجیات کا خاصہ سمجھا جاتی تھیں۔ اِس بات پر جس قدر بھی اَفسوس کا اظہار کیا جائے کم ہوگا کہ ہمارے فیصلہ سازوں کو تفریح کے نام پر سازش پر برائے نام جیسی تشویش بھی نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جدید رہائشی بستیوں میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں کے رہنے والوں ڈی ٹی ایچ‘ نیٹ فلیکس‘ آئی پی ٹی وی یا لائن سرور کے صارف نہ ہوں۔ ”وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا .... کارواں کے دل سے اِحساس زیاں جاتا رہا!“

تیسری حقیقت: 
انٹرنیٹ کے ذریعے تفریحی مواد تک رسائی مختلف طریقوں سے ہو رہی ہے‘ جس میں سب سے پہلا براہ راست تعلق ہے جس میں کوئی بھی صارف ویڈیو بلاگنگ کی لاکھوں ویب سائٹس میں سے اپنے ذوق و پسندیدگی اُور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے چند ایک کا انتخاب کرتا ہے اُور جہاں کچھ نشریاتی مواد بلاقیمت (مفت) فراہم کیا جاتا ہے تاکہ صارفین عادی ہو جائیں اُور پھر اُن کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید مواد دیکھنے کی ’رعائتی پیشکش‘ کی جاتی ہے اُور اِس کی مقررہ قیمت اَدا کرنے کے لئے جن ممکنہ ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے اُن میں موبائل فون کمپنیاں بھی حصہ دار (برابر کی شریک) ہیں جو صارفین کو گھر بیٹھے بیرون ملک ادائیگیاں کرنے جیسی سہولت فراہم کر رہی ہیں اُور یوں ماہانہ اربوں روپے تفریح برائے تفریح (گناہ ¿ بے لذت) کی نذر ہو رہے ہیں!

چوتھی حقیقت:
دنیا جاگ اُٹھی ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے صرف سماجی سرگرمیاں ہی محدود کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر تعلیمی اداروں کی بندش اُور اِس سے ہونے والے تعلیمی حرج کو کم سے کم کرنے کے لئے اِنٹرنیٹ (آن لائن) وسائل (فاصلاتی درس و تدریس) سے اِستفادہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کی صورتحال یکسر مختلف (اُلٹ) ہے کہ غربت زیادہ ہونے کی وجہ سے طلبا و طالبات کی اکثریت کے پاس کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ‘ موبائل فون یا ٹیبلٹ نہیں اُور جن کے پاس یہ وسائل اُور سہولیات ہیں تو وہ بھی اِس سے اصل ضرورت یعنی تعلیم کے لئے استفادہ نہیں کر رہے کیونکہ ایک طرف رہنمائی اُور تربیت کا فقدان ہے تو دوسری طرف سینئر اساتذہ کی بڑی تعداد بشمول نجی تعلیمی اداروں کی اِنتظامیہ (مالکان) ’اِنفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے بنیادی استعمال سے متعلق خاطرخواہ ہنرمند نہیں! لمحہ ¿ فکریہ ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے پیدا ہونے والی فرصت کے باعث پاکستان میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں کئی ہزار گنا اضافہ ہوا ہے اُور یہ اضافہ دنیا بھر میں دیکھنے کو ملا ہے تاہم پاکستانی انٹرنیٹ سے خاص استفادہ مختلف انداز سے کرتے ہوئے اکثریت کے لئے انٹرنیٹ تفریح کا ذریعہ جبکہ دنیا بھر میں جوابدہ اُور شفاف طرزحکمرانی کے علاو ¿ہ یہی انٹرنیٹ عوامی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا رہا ہے! تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث تعلیم اُور تربیت کی ذمہ داری والدین کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ کیا کوئی شخص اپنے بچوں کو کسی ایسے پانی کے تالاب میں دھکا دینا پسند کرے گا جس کی گہرائی کے بارے میں اُسے صرف اتنا معلوم ہو کہ وہ معلوم نہیں؟

اِنٹرنیٹ کی دنیا گہرائی‘ وسعت اُور اِمکانات کے لحاظ سے عمودی اُور افقی لحاظ سے لامحدود ہے۔
قابل افسوس بات یہ ہے کہ اِس حقیقت کا ادراک رکھنے والوں میں شامل والدین‘ اساتذہ‘ ماہرین تعلیم‘ ذرائع ابلاغ‘ مذہبی و سیاسی رہنماو ں اُور قومی سطح پر سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے تجاہل عارفانہ اختیار کر رکھا ہے جبکہ خودکشی پر آمادہ نئی نسل کو غیرتحریری اُور غیرشعوری طور پر ایک ایسے دریا میں دھکیل دیا گیا ہے‘ جس کا کوئی کنارہ نہیں!
اِک اُور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا‘ تو میں نے دیکھا! (منیر نیازی)
........
Clipping from Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday 
Editorial Page Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday

Friday, May 8, 2020

Molvee Gee remembered

شبیرحسین اِمام
تیرہ رمضان المبارک چودہ سو اکتالیس ہجری
سات مئی دو ہزار بیس (بروز جمعرات)

مولوی جیؒ: شمع عمل

پشاور کے سرتاج سادات ’گیلانی‘ گھرانے سے تعلق رکھنے والے علمی‘ ادبی‘ سیاسی‘ سماجی اُور روحانی قائد سیّد محمد اَمیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوجی جی رحمة اللہ علیہ (پیدائش 1920ئ: وصال 2004ءبمطابق تیرہ رمضان المبارک چودہ سو پچیس ہجری) کے عرس مبارک کے سلسلے میں قرآن خوانی‘ ختم کلمہ  شریف‘ ختم غوثیہ‘ ذکر و اذکار‘ محافل حمد و نعت اُور منقبت کا سلسلہ ماہ ¿ رمضان کے دوسرے عشرے کے آغاز (گیارہویں شریف) ہی سے شروع ہو جاتا ہے درحقیقت عرس مبارک کی یہ تقاریب وابستگان و تشنگان علم و روحانیت کی اپنی تسکین و غذا کے لئے ہوتا ہے‘ جن کے لئے یہ مواقع تجدید عہد کا سنہرا موقع بھی ہوتے ہیں تاہم کورونا وائرس سے متعلق حکومتی ہدایات کا احترام کرتے ہوئے اِس مرتبہ اسلامی مہ و سال کے مطابق عرس مبارک (ایصال ثواب) کے معمولات تبدیل کرنے کا درست فیصلہ کیا گیا اُور اِس مناسبت سے نہایت ہی سادہ اُور مختصر دورانئے لیکن پرنور محافل منعقد ہوئیں‘ جنہیں سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست نشر کیا گیا جو درحقیقت احسان ہے کہ اِن بابرکت محافل میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا گیا ہے تاکہ اُس سلسلہ  نور سے ہر سانس کا رشتہ برقرار رہے‘ جو کائنات کا حاصل اُور رواں دواں ہے۔

توجہ طلب ہے کہ مولوی جیؒ کے عرس مبارک کی مناسبت سے ماضی کی طرح بڑے اجتماعات کرنے اُور جذباتی انداز میں فیصلہ کرنے کی بجائے اہل تصوف و طریقت نے خاطرخواہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے‘ جس کی موجودہ حالات میں اشد ضرورت تھی اُور اُمید ہے کہ اِس کی تقلید کرتے ہوئے دیگر علمی ادبی روحانی سیاسی اُور سماجی طبقات بھی اپنے اپنے قول و فعل سے ثابت کریں گے کہ وہ جذبات و روایات کی رو میں بہنے اُور اندھی تقلید کی بجائے حالات کے تقاضوں کو سمجھنے اُور اِن کے مطابق معمولات کی تبدیلی جیسی دانشمندانہ جرات رکھتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ گنجان آباد پشاور کے دل میں واقع ’آستانے عالیہ قادریہ‘ کہ جہاں سارا سال‘ ہر دن‘ روحانی و اجتماعی عبادات و محافل کا انعقاد معمول رہتا ہے اُور جہاں ہر مہینے کی مقررہ مناسبت سے سینکڑوں ہزاروں مریدوں کے اجتماعات ہوتے ہیں لیکن آج وہاں سے مختلف عصری وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے اُور مریدوں و طالبین ذوق و شوق کو اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے براہ ¿ راست کر دیا گیا ہے اُور یوں گھر گھر آستانہ عالیہ قادریہ کی کھڑکیاں کھل گئی ہیں جن سے دنیاوی و اخروی بخشش و نجات کا باعث بننے والی ہوائیں اُور دعائیں آ رہی ہیں اُور دنیا کے کونے کونے میں گھر گھر فیضیاب ہو رہے ہیں۔ مولوی جیؒ کے فیضانِ نظر کا یہ سلسلہ اُور انداز اپنی جگہ روحانی سرور و مسرت کا باعث ہے کہ ایک دنیا سرچشمہ ہدایت سے سیراب ہو رہی ہے اُور کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خدشات تحفظات اُور خصوصی انتظامات میں روحانی محافل کی اہمیت و تقدس کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ مولوی جیؒ کا عرس مبارک عیسوی تاریخ کی مناسبت سے بعدازاں منانے کا اہتمام کیا جائے گا بشرطیکہ کورونا وائرس کی وبا سے حالات معمول پر آ جائیں گے۔

مولوی جیؒ سے براہ راست تحصیل و تربیت کا شرف اُور سلسلہ  عالیہ قادریہ حسنیہ سے بعدازاں وابستہ ہونے والے مریدوں و طلاب کے لئے عرس مبارک کے جاری لمحات ’احتساب کی گھڑی‘ بھی ہیں کہ جنہیں اپنے معمولات زندگی بشمول عبادات اُور دنیاوی معاملات پر ایک نظر کرنی ہے کہ مولوی جیؒ نے جس طریق و تسلسل سے تعلیم و تربیت کے ذریعے اعلیٰ انسانی و اخلاقی اقدار کو اپنے قول و فعل کی صورت پیش کیا‘ اُس پر عمل درآمد (اتباع) کی صورتحال کیسی ہے اُور وہ کون کون سے نظرانداز شعبے ہیں‘ جن میں بہتری کی گنجائش کے لئے روحانی و دنیاوی تربیت کے مراحل و مدارج طے ہونا باقی ہیں۔

اہل پشاور کے لئے اندرون یکہ توت (منڈا بیری روڈ)‘ آستانہ عالیہ قادریہ (کوچہ آقا پیر جان) کسی اضافی تعارف کا محتاج نہیں۔ تحریک پاکستان سے لیکر عصر حاضر تک اِس خانوادے کا اثرورسوخ صرف مذہبی اُور روحانی ہی نہیں بلکہ پشاور سے عہد وفا کا تسلسل بھی ہے‘ جو (الحمدللہ) پشت در پشت‘ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ مولوی جیؒ کے فرزند سجادہ نشیں سیّد نور الحسنین قادری گیلانی المعروف سلطان آغا مدظلہ العالی اُور تاج الشریعہ سیّد نور سبطین قادری گیلانی المعروف تاج آغا مدظلہ العالی اپنے گھرانے کی علمی‘ ادبی‘ سیاسی سماجی اُور روحانی وراثت کو نئی بلندیوں سے روشناس کرانے کے لئے جس انداز میں جدید عصری اسلوب اُور ذرائع ابلاغ (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کا استعمال کر رہے ہیں وہ اُن کی محنت و خلوص کا منہ بولتا ثبوت اُور اِس حقیقت کا روشن پہلو ہے کہ ہر دور میں پیران پیر سیّد عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ کی رشدوہدایت کے چراغ (شمع عمل) سے پشاور منور رہے گا اُور اِس درگاہ عظیم و عالیشان سے فیض و عنایات کے سلسلے بھی جاری و ساری رہیں گے۔
شاہِ جیلاں کی چوکھٹ سلامت رہے‘ تا قیامت رہے
نقش ِپا کا چمن پر کرامت رہے‘ تا قیامت رہے
خَلعت اجتبا زیب ِقامت رہے‘ تا قیامت رہے
سَر پہ ولیوں کا تاجِ امامت رہے‘ تا قیامت رہے:
سلسلہ غوث ِاَعظمؒ کے فیضان کا‘ مرحبا مرحبا
(پیر نصیرالدین نصیر گولڑویؒ)
Clipping from Daily Aaj Peshawar Abbottabad May 08 2020 Friday

Clipping from Daily Aaj Peshawar Abbottabad May 08 2020 Friday