Showing posts with label Haripur. Show all posts
Showing posts with label Haripur. Show all posts

Thursday, May 12, 2022

Incompleteness.

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

اَدھورا پن

شہر شہر اُور گاؤں گاؤں تعمیر و ترقی کا عمل کئی وجوہات کی بنا پر ’ادھورے پن‘ کا شکار ہے‘ جس میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ قومی خزانے سے کی جانے والی تعمیروترقی میں مستقبل کے تقاضوں (آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات) کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اُور دوسرا پہلو جو اِس بھی زیادہ  تشویش کا باعث ہے کہ قومی خزانے سے خطیر رقومات خرچ کرنے کے باوجود بھی تعمیروترقی عوام کے مسائل حل کرنے کا باعث (وسیلہ) نہیں۔ ترقیاتی ادھورے پن سے متعلق اِس تصور کو 2 مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پہلی مثال پشاور شہر کے علاقے سیٹھی ٹاؤن (پہاڑی پورہ)‘ کی ہے جہاں کے رہائشی ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی موسم گرما کے آغاز ہی سے 3 طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حسین چوک سے غالب سٹریٹ اُور اِس سے ملحقہ محلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی گزشتہ کئی ہفتوں سے معطل ہے۔ پانی کب آئے گا‘ کسی کو کچھ نہیں معلوم اُور نہ ہی اُمید ہے لیکن پانی آئے نہ آئے آبنوشی کا بل باقاعدگی سے ادا کرنا ضروری ہے‘ جو ایک الگ موضوع ہے! سیٹھی ٹاؤن کی مذکورہ آبادی کے لئے ٹیوب ویل کی تنصیب متنازعہ قطعہئ اراضی میں کی گئی جس کا انتخاب ہی غلط تھا اُور یہی بنیادی غلطی پوری حکمت عملی کی ناکامی کا سبب بن گئی ہے کہ ٹیوب ویل کی اراضی ایک بااثر شخص کی ملکیت ہے اُور ٹیوب ویل لگنے کے بعد‘ مبینہ طور پر اُس نے اپنے بیٹے کو اِس بات کے لئے اہل سمجھا کہ وہ ’ٹیوب ویل آپریٹر‘ کی سرکاری ملازمت کرے لیکن جب اُس کا یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو اُس ٹیوب ویل بند کر دیا اُور سیٹھی ٹاؤن کے رہائشی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے ہر دن پانی راہ دیکھتے ہیں! سیٹھی ٹاؤن کا دوسرا مسئلہ ’نکاسیئ آب‘ کے نظام کی صفائی نہ ہونا اُور تیسرا مسئلہ کوڑا کرکٹ کی بروقت تلفی نہ ہونا ہے جس کے سبب مچھروں اُور مکھیوں کی اَفزائش (بہتات) ہے جبکہ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا جاری عرصہ (سیزن) اہل علاقہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ ضروری اُور ٹیوب ویل کی واگزاری ہے‘ تاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے! عجیب و غریب صورتحال یہ ہے کہ اگر ’عوامی مفاد‘ کو دیکھا جائے تو ’ٹیوب ویل بند کرنا‘ قانوناً جرم ہے لیکن چونکہ یہاں معاملہ ایک بااثر شخص کا ہے‘ اِس لئے ادارے خاموش اُور عوام بلک رہے ہیں!

تعمیروترقی اُور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں میں پائے جانے والے ”اَدھورے پن“ کی بدترین دوسری مثال سیٹھی ٹاؤن سے 150 کلومیٹر دور ’ہری پور‘ میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کے ”منگ“ نامی دیہی علاقے میں 200 طلبہ کے لئے ”سرکاری ہائی سکول“ 10 سال قبل تعمیر ہوا‘ جس کے بعد اراضی کے مالک بااثر زمیندار اور محکمہئ تعلیم کے درمیان مالی امور پر تنازعہ پیدا ہوا اُور مذکورہ عمارت تعمیر تو ہوئی لیکن دس سال سے فعال نہ ہو سکی! تصور کیا جا سکتا ہے کہ 10 سال کتنا طویل عرصہ ہوتا ہے جسے ضائع کرنے سے علاقے کے کس قدر تعلیمی حرج ہو چکا ہے اُور یہ حرج مسلسل جاری بھی ہے! محکمہ تعلیم نے عارضی طور پر کرائے کی عمارت میں تین کمروں پر مشتمل سکول قائم کر رکھا ہے جبکہ میلوں سفر کر کے دور دراز سکول جانے والے کتنے ہی بچے سفری مشکلات کے باعث تعلیم کو الوداع کہہ چکے ہیں!

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہری پور کے ’خان پور روڈ‘ کے کنارے آباد ’منگ‘ گاؤں میں سکول 1913ء میں تعمیر ہوا تھا‘ جس کی خستہ حال (پرانی) عمارت کو کی جگہ زیادہ گنجائش والی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ نئی عمارت تعمیر کرے کے لئے سال 2004ء میں اُس وقت کے محکمہئ تعلیم کے ضلعی نگران (حیدر زمان مرحوم) اُور مالک اراضی (ملک اعظم خان) کے درمیان زبانی کلامی معاہدہ ہوا جس کے بعد 2012 میں 86لاکھ روپے کی لاگت سے نئی عمارت تعمیر کی گئی اُور معاہدے کے تحت پرانی عمارت والی اراضی زمیندار کو منتقل کرنا تھا۔ جب نئی عمارت میں کلاسیں شروع ہونے والی تھیں تو زمیندار نے معاہدے کے مطابق جائیداد کے حقوق کی منتقلی کے لئے محکمے پر دباؤ ڈالا اُور جب حکام نے اراضی کی ملکیت کے ریکارڈ کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ پرانی عمارت کا ٹکڑا ہری پور ضلع کونسل کی ملکیت ہے اُور سرکاری اراضی زمیندار کے نام منتقل کرنے سے معذرت کر لی گئی چونکہ زمیندار بااثر تھا اُس نے ہر طرح کا دباؤ استعمال کیا اُور عدالت سے بھی رجوع کیا جہاں دوہزارچودہ میں سول عدالت نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ وہ زمیندار کو دس لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے ادائیگی کرے یا پھر زمیندار سکول کی تعمیراتی لاگت ادا کرے۔ محکمے نے عدالت کو بتایا کہ سکول کی تعمیر پر مجموعی کو ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے بھی عدالت سے رجوع کیا اُور ہائی کورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے دس لاکھ روپے فی کنال کی بجائے ’مارکیٹ ریٹ‘ یعنی دو لاکھ اَسی ہزار روپے فی کنال ادائیگی کا حکم دیا لیکن اِس پوری تگ و دو میں سکول کی نئی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی اُور مقامی افراد کے مطالبے پر خیبرپختونخوا محکمہئ تعلیم نے ایک نیا سکول تعمیر کرنے کے لئے چار کروڑ بیاسی لاکھ روپے منظور کئے ہیں۔ اِس پوری کہانی سے ’منصوبہ بندی کا فقدان‘ کھل کر سامنے آتا ہے اُور یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ انتظامی عہدوں پر فائز ہونے والوں کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو کس قدر مالی نقصان جبکہ عوام کو کس قدر سنگین نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ترقیاتی عمل سے زیادہ اِس کا ’ادھوراپن‘ دور کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں ادارہ جاتی فیصلوں پر نظرثانی کے لئے ضلعی سطح پر ایسی مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوں اُور اِن ’ٹیکنوکریٹس‘ کے ذریعے کسی بھی حکومتی ترقیاتی منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے جن میں بشمول لاگت‘ پائیداری‘ معیار‘ سماجی و ماحولیاتی اثرات اُور اِس کی راہ میں حائل ممکنہ قانونی رکاوٹوں کے بارے پہلے ہی سے سوچ بچار کر لیا جائے تو اِس سے حکومتی وسائل میں بچت اُور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی فراہمی میں روانی ممکن و برقرار بنائی جا سکتی ہے۔ 

اگر نیت میں فتور نہیں‘ اگر خالصتاً قومی و عوامی مفادات ہی پیش نظر ہیں تو ترقیاتی عمل کو سیاسی و انتخابی مفادات و ترجیحات کی قید سے آزاد کرانا ہوگا‘ جس کا ایک امکان بلدیاتی اداروں کو زیادہ بااختیار بنانا بھی ہے اُور اِس سے بھی بامقصد و باسہولت تعمیروترقی جیسے اہداف باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ”اگر ہے جذبہئ تعمیر زندہ …… تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے!؟ (احمد ندیم قاسمی)“

……

Clipping from Daily Aaj May 12, 2022 Thursday 


Friday, January 21, 2022

Teacher woe(s) and right(s)

 تحریک .... آل یاسین

اساتذہ مسائل: زندہ رہنے کا حق

درس و تدریس کے عمل کو معیاری اُور یکساں نصاب کا حامل بنانے کے ساتھ فیصلہ سازوں کو اساتذہ کے ’حسب ِاطمینان‘ اقدامات و انتظامات کرنا ہوں گے تاکہ جملہ فریقین کی ذہنی آمادگی و شرکت سے ایک باسہولت نظم و نسق لاگو ہو۔ خیبرپختونخوا میں تحریک اِنصاف کی حکمرانی کا پہلا دورانیہ (دو ہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) اُور اگست دوہزار اٹھارہ سے جاری دوسرے دور حکومت میں کئی قابل ذکر (مثالی) اصلاحات ہیں اُور اِن میں بطور خاص ’ایجوکیشن سیکٹر ریفارم یونٹ (ESRU)‘ کے ذریعے تعلیم کے شعبے کی مجموعی اُور باریک بینی سے کارکردگی پر بھی نظر رکھی گئی۔ ذہن نشین رہے کہ ’ایجوکیشن سیکٹر پلان (ESP)‘ جو کہ استعداد کی بہتری سے متعلق حکمت عملی ہے وہ تعلیمی شعبے کے معیار اُور کارکردگی کے بارے میں سوچ بچار کا مجموعہ ہے‘ جس کے لئے برطانیہ‘ یورپی کمیشن‘ امریکی امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) اُور جرمن حکومت مجموعی طور پر 55 ہزار 338 ملین روپے فراہم کر چکی ہے لیکن یہ ساری کوششیں اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوں گی جب تک اساتذہ کی بھرتی میں اہلیت کے بعد اُنہیں اِس مقصد کے حصول کے لئے بھی قائل نہیں کر لیا جاتا کہ شعبہ¿ تعلیم صرف ملازمتوں کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ اِس کی ایک معنویت اُور مقصدیت بھی ہے‘ جس کے اہداف حاصل کرنے میں منصوبہ سازوں سے زیادہ اساتذہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اساتذہ پر مبنی افرادی قوت کے جائز مسائل کا حل‘ امتیازات کا خاتمہ اُور اساتذہ کے حقوق بارے بھی کماحقہ غوروخوض اِس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اساتذہ اطمینان قلب اُور توجہ سے اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔ اساتذہ کی اکثریت کو تبادلوں اُور تعیناتیوں جیسے امور اُور اِن سے متعلق فیصلہ سازوں کے امتیازی روئیوں (جنہیں وہ فرعونیت سے تعیبر کرتے ہیں) کی شکایات رہتی ہیں اُور وہ چاہتے ہیں محکمے کے سبھی ملازمین کے لئے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ سیاسی اثرورسوخ‘ رشوت یا تعلقات کی بنا پر نہیں بلکہ ”میرٹ (حقیقی اہلیت)“ کے مطابق فیصلے ہونے چاہیئں۔

 محکمانہ قواعد و ضوابط پر خاطرخواہ انصاف کے ساتھ عمل درآمد دیکھنے کی ایک ایسی ہی خواہشمند معلمہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے ہے جہاں بطور پرائمری ٹیچر محترمہ زاوش فدا تعینات ہیں اُور چاہتی ہیں کہ اُنہیں مضافاتی دیہی علاقے کے پرائمری سکول شوراگ سے ضلع ایبٹ آباد کے شہری علاقے کے کسی تعلیمی ادارے میں تعینات کیا جائے۔

سال دوہزاراٹھارہ سےڈیسیز کوٹے (Deceased Quota)  پر بطور ”مستقل ملازمت“ پرائمری ٹیچر تدریسی خدمات سرانجام دینے والی محترمہ زاوش آبائی طور پر (خیبرپختونخوا کے) ضلع ہری پور سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اُن کی شادی ملحقہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی‘ جہاں سے شوراگ گاؤں کے پرائمری سکول کا یک طرفہ فاصلہ چالیس کلومیٹر سے زیادہ ہے اُور اِس مسافت کے لئے اُنہیں ہر روز دو سے ڈھائی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے چونکہ ضلع ہری پور کا شمار میدانی اضلاع جبکہ ضلع ایبٹ آباد کا شمار بالائی اضلاع میں ہوتا ہے اِس لئے موسم کے اثرات کی وجہ سے سکول کے آغاز و اختتام اُور تعطیلات کے دورانیئے بھی الگ الگ ہوتے ہیں اُور یوں شدید بارش حتیٰ کہ برفباری کی صورت بھی اُنہیں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر منہ اندھیرے سکول کی راہ لینا ہوتی ہے جو شدید موسمی یا ہنگامی حالات کی صورت کبھی کبھار ممکن بھی نہیں ہو پاتا۔ تین سال چار ماہ کا صبرآزما عرصہ ،مشکل ترین حالات میں تدریسی خدمات سرانجام دینے اُور تبادلوں و تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھانے کی دعائیں مانگتے جیسے تیسے گزر ہی گیا اُور اب جبکہ صوبائی حکومت نے اساتذہ کے بین اضلاعی تبادلوں اُور تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھا دی ہے تو ضلع ہری پور کا منتظم دفتر (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُور اِن کا ماتحت عملہ) محترمہ زاوش فدا کی خدمات کسی دوسرے ضلع منتقل کرنے کا اجازت نامہ (NOC) جاری نہیں کر رہا جسے وہ اپنا قانونی حق قرار دیتی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ انہیں بلاتاخیر تبادلے و تعیناتی کے لئے درکار محکمانہ اجازت نامہ جاری کیا جائے کیونکہ وہ (مبینہ طوسر پر) دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک  چکی ہے جبکہ اُنہیں متعلقہ دفتری عملے کے تضحیک آمیز رویئے سے بھی شکایت ہے۔

 یہ مسئلہ کئی ایسی معلمات کا ہے جو خاصی پریشان کن صورتحال ہے کیونکہ تبادلوں اُور تعیناتیوں پر پابندی کا اطلاق دوبارہ ہو سکتا ہے اُور اگر اِس موقع پر بھی انہیں اپنا حق نہ ملا تو مزید تین سے پانچ سال یا اِس سے بھی زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑ جائے گا۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اُور سوشل میڈیا پر اپنے تبادلے کے جائز قانونی حق کے لئے آواز اُٹھانے والی ’پرائمری ٹیچر‘ نے صوبائی وزیرتعلیم اُور دیگر متعلقہ فیصلہ سازوں سے درخواست کی ہے کہ اُسے دیگر ہم عصر اساتذہ کی طرح ملازمتی مقام تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے۔

تدریسی عملے کے گوناگوں مسائل میں بالخصوص خواتین اساتذہ زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہیں‘ جن کے لئے باسہولت اُور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز دیہی علاقوں میں خدمات سرانجام دینا کسی ایسے امتحان (چیلنج) سے کم نہیں جس کا اِنہیں ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لمحہ فکریہ اُور انتہا ہے کہ جس معاشرے میں تدریسی عملے کو انصاف نہ مل رہا ہو‘ وہاں تعلیم‘ تربیت‘ شعور نظم و ضبط اُور خواندگی میں اضافے جیسے بنیادی اہداف کا حصول بھلا کیوں کر عملاً ممکن ہو سکتا ہے؟

کیا ہم کھلی آنکھوں (جاگتے ہوئے) خواب دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں!؟

شاید موضوع اساتذہ ہی ہوں جن کی مشکلات و مسائل اُور سخت حالات کار کے بارے میں شاعر سرفراز زاہد نے کہا تھا کہ 

زندہ رہنے کا حق ملے گا اُسے
 جس میں مرنے کا حوصلہ ہوگا

....

Sunday, September 15, 2019

KP all set to Reform the Education sector with dress code!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

تعلیمی اِصلاحات:
پہلا قدم (بڑا فیصلہ)!


خیبرپختونخوا میں ’تعلیمی اِصلاحات‘ کے جاری سلسلے میں غوروخوض کا عمل دخل سطحی ہونے کے باعث سست روی کا شکار ہے جس سے خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ اب تک ہوئے قابل ذکر اقدامات میں سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم بلند کرنے پر کم لیکن درسگاہوں کی تعداد میں اِضافے پر زیادہ توجہ دی گئی جو اپنی جگہ ایک الگ ضرورت تھی۔

کسی ایسے سکول کا تصور بھی بھلا کیسے کیا جا سکتا ہے جس میں بنیادی سہولیات (چاردیواری‘ کمرے‘ بجلی‘ پینے کے پانی‘ بیت اِلخلائ‘ سیکورٹی اِنتظامات اُور طلبہ کی تعداد کے مطابق تدریسی عملہ) تعینات نہ ہو۔ تحریک انصاف مبارکباد کی مستحق ہے جس نے اَساتذہ کی تربیت‘ اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لئے بائیومیٹرکس نظام سے استفادہ‘ چھاپہ مار ٹیموں کی تشکیل‘ محکمانہ ترقی کو اساتذہ کی کارکردگی (امتحانی نتائج) سے مشروط کرنے‘ نصابی کتب کے علاوہ دیگر ضروریات بھی مفت فراہمی‘ نصاب تعلیم پر نظرثانی اُور سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم طلبہ کے لئے مراعات (وظائف) جیسے غیرمعمولی اقدامات کئے‘ جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ اگرچہ اِن سبھی کوششوں سے سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار اُس سطح تک بلند نہیں ہو سکا‘ جہاں تسلی کا اظہار کیا جا سکے لیکن حکومتی کوششوں سے اُبھرنے والا ’خیبرپختونخوا کا تدریسی منظرنامہ‘ ماضی سے بہت مختلف اُور نکھرا نکھرا دکھائی دے رہا ہے۔

تصور کیجئے کہ کسی صوبے میں سب سے زیادہ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے والا ’محکمہ تعلیم‘ میں اب ماضی کی طرح اساتذہ کی بھرتیاں سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر نہیں ہوتیں۔ تدریسی و غیرتدریسی ملازمتیں ’برائے فروخت‘ نہیں اُور اساتذہ کی بھرتیوں و تعیناتیوں میں قواعدوضوابط پر اِس قدر سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے کہ خود اراکین اسمبلی اُور صوبائی کابینہ کے اراکین چاہتے ہوئے بھی عزیزواقارب یا منظورنظر افراد کو بھرتی نہیں کر سکتے لیکن اِن سبھی گرانقدر اقدامات کے باوجود سکولوں سے باہر (out-of-school) بچے بچیوں کو تدریسی عمل کا حصہ بنانے کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے‘ جس کے لئے فیصلہ سازوں نے پہلی مرتبہ والدین کے تحفظات دور کرنے پر توجہ دی ہے۔ وہ والدین جو باوجود خواہش بھی‘ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے‘ اُن کے تحفظات کو سنجیدگی سے سُنا اُور سمجھا گیا ہے کہ کس طرح سماجی برائیاں اُور مسائل معاشرے میں اِس حد تک پھیل چکے ہیں کہ والدین نے اپنے بچے بچیوں کو سکول نہ بھیجنے میں ہی عافیت سمجھی ہے۔ قدرے تاخیر سے سہی لیکن بالآخر صوبائی فیصلہ سازوں نے ایسے سبھی منفی محرکات (رکاوٹوں) کو دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ جن کے باعث بالخصوص بچیوں (لڑکیوں) کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ اِس مقصد کے لئے بچیوں کے سکول جانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرتے ہوئے پہلا قدم (بڑا فیصلہ) ضلع ہری پور میں سامنے آیا ہے جہاں سرکاری تعلیمی اِداروں میں بچیوں کے لئے حجاب اُور عبایہ پہننے کو ’سکول یونیفارم‘ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ حجاب سر اُور چہرے کو ڈھانپنے کے استعمال ہوتا ہے جبکہ عبایا پورے لباس کے اُوپر اُوڑھ لیا جاتا ہے‘ جس سے جسم کی تراش خراش ظاہر نہیں ہوتی۔ سکول یونیفارم کی پابندی برقرار رہے گی لیکن ’ضلع ہری پور‘ کے تمام سرکاری سکولوں کے لئے آمدورفت میں طالبات حجاب اُور عبایا کا استعمال کریں گی۔ اِس سلسلے میں جب صوبائی وزیر تعلیم ’ضیاءاللہ بنگش‘ سے بذریعہ واٹس ایپ (What's App) رابطہ کیا گیا تو اُنہوں نے قریب 2منٹ کے صوتی پیغام میں جواباً اِس فیصلے سے متعلق جن امور کی وضاحت کی‘ اُن سے سکول یونیفارم میں اضافے پر اعتراض کرنے (اُنگلیاں اُٹھانے) والوں کی تسلی و تشفی ہو جانی چاہئے۔

حجاب اُور عبایہ کو یونیفارم کی طرح لازماً استعمال کرنے والوں کے عمومی اعتراضات یہ ہیں 1: خیبرپختونخوا حکومت ’طالبان طرز حکمرانی‘ کو فروغ دے رہی ہے! 2: پردے سے متعلق شرعی قواعد پر ’سخت گیر‘ عمل درآمد سے تنگ نظری پھیلے گی۔ معاشرہ اِنتہاءپسندی کی طرف راغب ہوگا اُور 3: اِس سے عالمی سطح پر پاکستانی معاشرے سے متعلق منفی تاثر اُبھر کر سامنے آئے گا۔ صوبائی حکومت اِن سبھی اعتراضات کو رد کرتے ہوئے مصر ہے کہ حجاب اُور عبایا سے سکولوں میں بچیوں کا داخلہ بڑھے گا۔

رواں ہفتے کی اہم خبر قرار دی جاسکتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام اضلاع میں طالبات کے لئے حجاب اُور عبایا کا استعمال لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلع ’ہری پور‘ سے ہوئی ابتداءسے متعلق صوبائی وزیر تعلیم ضیاءاللہ بنگش کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کرنے کی مہم (enrollment-drive) کا آغاز کیا گیا‘ تاہم اِس مرتبہ فیصلہ سازی کرتے ہوئے اُن والدین کے تحفظات کو پیش نظر رکھا گیا ہے جو گردوپیش میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی سے پریشان تھے اُور جو دیگر ایسے سماجی برائیوں (مسائل) کی وجہ سے اپنے بچے بچیوں کو تعلیمی اداروں میں نہ بھیجنے کا فیصلہ کئے بیٹھے تھے۔“

برسرزمین حقائق متقاضی ہیں کہ تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو روائتی انداز میں زبانی کلامی بیانات کی بجائے عملی اقدامات سے دور کیا جاتا۔ اِس سلسلے میں محکمہ ¿ تعلیم پہلے ہی ہر ضلع میں بچے اُور بچیوں کے لئے الگ الگ نگرانوں کو خصوصی اختیارات دے چکی ہے‘ تاکہ وہ اپنے اپنے علاقے میں مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات (فیصلے) کریں۔

ضلع ہری پور کی نگران (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر‘ ڈی اِی اُو) برائے خواتین (فی میل)‘ محترمہ ثمینہ الطاف نے پیش قدمی کرتے ہوئے حجاب اُور عبایا کے لازمی استعمال سے متعلق اعلامیہ (حکمنامہ) جاری کیا‘ جو صوبائی وزارت تعلیم کے فیصلہ سازوں کے علم میں تھا اُور صوبائی وزیر نے ’ڈی اِی اُو‘ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اِس اقدام کو صوبے کے دیگر حصوں میں وسعت دینے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سماجی سطح پر برائیاں اِس حد تک پھیل چکی ہیں تو زیادہ بڑی تعداد میں لڑکیاں تو نجی اداروں میں زیرتعلیم ہیں‘ جہاں اُنہیں اُور اُن کے والدین یا سکولوں کی انتظامیہ کو آمدورفت میں حائل سماجی برائیوں جیسی مشکلات کا سامنا نہیں تو آخر کیا وجہ ہے صرف سرکاری تعلیمی ادارے ہی نشانے پر ہیں؟ علاو ¿ہ ازیں حجاب اُور عبایا کا اطلاق نجی تعلیمی اداروں پر بھی ہوگا یا ہونا چاہئے؟

شک و شبے اُور مزید تحقیق سے بالاتر حقیقت ہے کہ تعلیم سے زیادہ اہم کوئی دوسری ضرورت نہیں بالخصوص خیبرپختونخوا کے تناظر میں شرح خواندگی میں اضافے کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح معاشرے میں عمومی و خصوصی جرائم کی موجودگی بھی اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے‘ جس کی وجہ سے تعلیم جیسی خوبی سے نئی نسل محروم ہو رہی ہے۔ صوبائی حکومت کو اِس بارے میں بھی غور کرنا چاہئے کہ کسی ایک ضلع (ہری پور) میں اگر نوجوانوں میں بے راہ روی اِس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہاں بچیوں کا گھروں سے نکلنا تک محال ہو چکا ہے تو اِس بیماری کا علاج بھی ضروری ہے اُور صرف مرض کی علامات ہی نہیں بلکہ اِس کی وجوہات کا قلع قمع کرنے کے لئے بھی اقدامات ہونے چاہیئں کیونکہ اگر بچیوں کو حجاب اُور عبایا پہنا بھی دیئے جائیں‘ پھر بھی گھر سے سکول تک کے سفر میں اُنہیں لاحق ’مبینہ خطرات‘ موجود رہیں گے۔

سگریٹ (تمباکو) نوشی کے نت نئے انداز (چلم شیشہ محافل)‘ چرس (Hashish)‘ پوڈر (Diamorphine)‘ اُور الکوحل (Ethanol) کے بعد اب آئس (Crystal Methamphetamine) نامی نشے کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ کیبل نیٹ ورکس‘ انٹرنیٹ اُور چوبیس گھنٹے بیدار و مادر پدر آزاد سوشل میڈیا نے رہی سہی کسر نکال دی ہے! بیروزگاری کی بلند شرح‘ فنی علوم سے ناآشنائی اُور مزید تعلیم کے مواقعوں کی کمی کے باعث نوجوانوں صحت مند اور بامقصد سرگرمیوں سے الگ ہیں! کیا اِن سبھی محرکات پر غور کرتے ہوئے فیصلہ ساز اپنی ذمہ داریوں کا ازسرنو تعین کریں گے؟

کیا ہم اُس مقام پر نہیں آ پہنچے جہاں قانون نافذ کرنے والوں کی سرزنش ہونی چاہئے‘ جن کی کارکردگی اِس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اب بچے بچیوں کی تعلیم کا حرج ہونے لگا ہے! فیصلہ سازوں کو کسی ایک زاویئے کی بجائے صورتحال کے بارے مختلف پہلووں سے سوچنا چاہئے کہ اگر حجاب اُور عبایا (سکول یونیفارم میں اضافے) جیسے اقدامات بھی کارگر ثابت نہ ہوئے تو کیا صوبائی حکومت طالبات کو سکول لانے لیجانے (تحفظ فراہم کرنے) کے لئے بکتر بند گاڑیوں کا بندوبست کرے گی!؟
............

Tuesday, August 18, 2015

Aug2015: Political Revenge

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انتقام!
وہ دن گئے جب ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بانٹ دی جاتی تھیں۔ قومی و صوبائی سیاست پر اجارے داری کا دور آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے اور یہ بات سولہ اگست کے روز حلقہ این اے اُنیس‘ ہری پور کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب کے موقع پر پھر سے ثابت ہوئی ہے کہ ’عام آدمی بطور ووٹر‘ خاموش تو ہے لیکن وہ اپنے ووٹ سے انتقام لینے کے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا! ہری پور کے ضمنی انتخاب میں جو کچھ بھی ہوا‘ وہ نہ تو جنون تھا اور نہ ہی انقلاب جیسا اندھا دھند کوئی نظریہ‘ رائے دہندگان (ووٹرز) کی اکثریت نے اپنے علاقے کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ایک ایسی تاریخ جو کسی کے حق میں نہیں۔ اگرچہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے بابر نواز خان کو ملک کے سب سے کم عمر ’رکن قومی اسمبلی‘ ہونے کا اِعزاز ملا ہے لیکن اُن کا چناؤ ایک متبادل قیادت (آپشن) کے طور پر ہوا ہے اور یہی بات سمجھنے لائق ہے کہ جہاں کہیں عام آدمی (ہم عوام) کو متبادل کے طور پر ووٹ دینے کا موقع میسر آتا ہے‘ وہاں فیصلہ سیاسی تجزیہ کاروں سے مختلف ہوتا ہے۔

سولہ اگست کی ابرآلود الصبح ہری پور میں دن کا آغاز سست روی سے ہوا۔ ہفتہ وار عام تعطیل کی وجہ سے گلیاں اور بازار سنسان تھے لیکن پولنگ کا وقت شروع ہوتے ہی پولنگ اسٹیشنوں کے آس پاس گہماگہمی شروع ہوئی اور جب فیصلہ آیا تو متوسط قد‘ مضبوط جسم اور بھاری بھرکم چپلی پہننے والے نوجوان نے ’فتح‘ کے ساتھ پورے خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اِعزاز اَپنے نام کر لیا تھا۔ ہری پور کی سیاست خاندانوں میں بٹی ہوئی ہے اُور یہاں کی دوستیوں سے زیادہ دشمنیاں مشہور ہیں۔ بابر نواز خان کے مدمقابل اُن کے اپنے ہی خاندان کے ایک فرد کو حفظ ماتقدم کے طور پر گھر میں نظربند کر دیا گیا لیکن بعدازاں الیکٹرانک میڈیا کی مداخلت پر بکتر بند گاڑی فراہم کی گئی جس میں بیٹھ کر اُنہوں نے کھلابٹ ٹاؤن شپ میں اپنی رہائش گاہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر جاکر ووٹ کاسٹ کیا۔ ہری پور پر راجہ (راجگان) اُور ترین خاندانوں کا اثر واضح دیکھا جاسکتا ہے اور ملک کی سبھی بڑی جماعتیں ہری پور سے انتخاب کرتے ہوئے انہی 2 خاندانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتی ہیں۔ چونکہ سیاست پیسے کا کھیل ہے اُور عام آدمی کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ محض مخلص اور سیاست کو خدمت و عبادت سمجھ کر انتخابات میں حصہ لے‘ اِس لئے سیاسی خوش قسمتی ہمیشہ اُنہیں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہے‘ جن کی سیاسی وابستگیوں سے زیادہ مالی حیثیت مضبوط ہو۔ ہری پور کی سیاست میں بھی مالی وسائل کی طاقت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق بابر نواز نے ایک لاکھ سینتیس ہزار دو سو اُنیس ووٹ حاصل کئے اور اُن کے مقابلے میں ڈاکٹر راجہ عامر زمان نے 90ہزار 698 ووٹ لئے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے نامزد اُمیدوار طاہر قریشی نے 1 ہزار 396 ووٹ لئے۔ 41.2فیصد کے تناسب سے ہوئی ووٹنگ میں سب سے زیادہ مایوسی تحریک انصاف کو ہوئی‘ جنہیں اُمید تھی کہ بھابھی (چیئرمین عمران خان کی اہلیہ ریحام خان) کا دورہ طلسماتی ثابت ہوگا لیکن 28سالہ بابر نواز کی حمایت کرنے والے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی وضع کردہ ترقیاتی حکمت عملی زیادہ کامیاب ثابت ہوئی۔ حقیقت یہی ہے کہ تحریک انصاف سے زیادہ نواز لیگ نے این اے اُنیس کے ضمنی انتخاب کو زیادہ سنجیدگی سے لیا۔

ہری پور کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کا تناسب معلوم کرتے ہوئے جب نصف دن کے قریب تحریک انصاف کے ایک رہنما کی رہائشگاہ پہنچے تو جدید طرز کے حجرے میں چارپائیوں کو چند افراد کے درمیان رہنما تشریف فرما تھے اور جب اُن سے پوچھا گیا کہ صورتحال کیا تو کہنے لگے میں تو ابھی اپنا ووٹ ڈالنے بھی نہیں گیا۔ آپ بتائیں باہر کیا ہو رہا ہے! اگر ہری پور کے ووٹروں کے ترقیاتی کاموں کو ووٹ دیا ہے تو ساتھ ہی اُنہوں نے دو ایسے خاندانوں سے بھی بدلہ لیا ہے‘ جو یکے بعد دیگرے یہاں سے منتخب ہوتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کو چاہئے کہ وہ ’این اے 19‘ پر شکست کے حوالے سے ایک محرکات و اسباب کا جائزہ لینے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں۔ پارٹی کے جن عہدیداروں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور جنہوں نے دوغلی پالیسی اختیار کی‘ اُن موقع پرستوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا یہی بہترین موقع ہے۔ ضلع ہری پور کو مثال بنا کر ملک کے دیگر اضلاع میں مغرور افراد کو پیغام دیا جاسکتا ہے کہ اگر اُن کی ذاتی ترجیحات ہیں تو پارٹی ڈسپلن کے تحت اُنہیں پس پشت ڈالنا ہوگا۔ ہری پور میں سب سے زیادہ مایوسی تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہوئی ہے‘ جو خود کو ’یتیم‘ سمجھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو اب تو سمجھ ہی لینا چاہئے کہ اُن کے لئے زیادہ اہم انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والے نہیں بلکہ ووٹ ڈالنے والے ہوتے ہیں۔
Clipping from Daily Aaj of Aug 20, 2015. Both PTI and PMLN are not happy with their workers attitude during NA19 ByElections held on Aug16
 مشتری ہوشیار باش صوبائی سطح پر تحریک انصاف کی تنظیم نو کے مرحلے پر فیصلہ سازی کسی ایسے کردار کو نہیں سونپی جانی چاہئے جس نے ہری پور میں منفی یا خاطرخواہ کردار ادا نہ کیا ہو۔ غلطی پر غلطی اور توقع پر توقع سے نہیں بلکہ ہزارہ میں تحریک انصاف کو کمزور ہونے سے بچانے کے لئے اراکین صوبائی اسمبلیوں کو تاکید کرنا ہوگی کہ وہ اپنے ہی ہم جماعتی قومی اسمبلی کے اراکین کو اعتماد میں لیں اور بنی گالہ حکم دے کہ ہر ضلع کی سطح پر کم ازکم مہینہ وار اجلاس ہونے چاہیءں جس میں تحریک سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندے اور کارکنوں کو آپس میں بات کرنے کی سہولت میسر آئے۔ مسئلہ اُس اجنبیت‘ بے حسی اور لاتعلقی کو ختم کرنے کا ہے‘ جو تحریک انصاف کی صفوں میں بے چینی کی صورت پھیل چکی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اِس عالم میں تحریک کسی دوسرے مقام پر ووٹروں کے انتقام کا نشانہ بن جائے!
Political revenge by the voters of NA19, Haripur. The ByElection result shocked many but thinking only few