Showing posts with label Water & Sanitation. Show all posts
Showing posts with label Water & Sanitation. Show all posts

Thursday, May 12, 2022

Incompleteness.

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

اَدھورا پن

شہر شہر اُور گاؤں گاؤں تعمیر و ترقی کا عمل کئی وجوہات کی بنا پر ’ادھورے پن‘ کا شکار ہے‘ جس میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ قومی خزانے سے کی جانے والی تعمیروترقی میں مستقبل کے تقاضوں (آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات) کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اُور دوسرا پہلو جو اِس بھی زیادہ  تشویش کا باعث ہے کہ قومی خزانے سے خطیر رقومات خرچ کرنے کے باوجود بھی تعمیروترقی عوام کے مسائل حل کرنے کا باعث (وسیلہ) نہیں۔ ترقیاتی ادھورے پن سے متعلق اِس تصور کو 2 مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پہلی مثال پشاور شہر کے علاقے سیٹھی ٹاؤن (پہاڑی پورہ)‘ کی ہے جہاں کے رہائشی ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی موسم گرما کے آغاز ہی سے 3 طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حسین چوک سے غالب سٹریٹ اُور اِس سے ملحقہ محلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی گزشتہ کئی ہفتوں سے معطل ہے۔ پانی کب آئے گا‘ کسی کو کچھ نہیں معلوم اُور نہ ہی اُمید ہے لیکن پانی آئے نہ آئے آبنوشی کا بل باقاعدگی سے ادا کرنا ضروری ہے‘ جو ایک الگ موضوع ہے! سیٹھی ٹاؤن کی مذکورہ آبادی کے لئے ٹیوب ویل کی تنصیب متنازعہ قطعہئ اراضی میں کی گئی جس کا انتخاب ہی غلط تھا اُور یہی بنیادی غلطی پوری حکمت عملی کی ناکامی کا سبب بن گئی ہے کہ ٹیوب ویل کی اراضی ایک بااثر شخص کی ملکیت ہے اُور ٹیوب ویل لگنے کے بعد‘ مبینہ طور پر اُس نے اپنے بیٹے کو اِس بات کے لئے اہل سمجھا کہ وہ ’ٹیوب ویل آپریٹر‘ کی سرکاری ملازمت کرے لیکن جب اُس کا یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو اُس ٹیوب ویل بند کر دیا اُور سیٹھی ٹاؤن کے رہائشی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے ہر دن پانی راہ دیکھتے ہیں! سیٹھی ٹاؤن کا دوسرا مسئلہ ’نکاسیئ آب‘ کے نظام کی صفائی نہ ہونا اُور تیسرا مسئلہ کوڑا کرکٹ کی بروقت تلفی نہ ہونا ہے جس کے سبب مچھروں اُور مکھیوں کی اَفزائش (بہتات) ہے جبکہ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا جاری عرصہ (سیزن) اہل علاقہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ ضروری اُور ٹیوب ویل کی واگزاری ہے‘ تاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے! عجیب و غریب صورتحال یہ ہے کہ اگر ’عوامی مفاد‘ کو دیکھا جائے تو ’ٹیوب ویل بند کرنا‘ قانوناً جرم ہے لیکن چونکہ یہاں معاملہ ایک بااثر شخص کا ہے‘ اِس لئے ادارے خاموش اُور عوام بلک رہے ہیں!

تعمیروترقی اُور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں میں پائے جانے والے ”اَدھورے پن“ کی بدترین دوسری مثال سیٹھی ٹاؤن سے 150 کلومیٹر دور ’ہری پور‘ میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کے ”منگ“ نامی دیہی علاقے میں 200 طلبہ کے لئے ”سرکاری ہائی سکول“ 10 سال قبل تعمیر ہوا‘ جس کے بعد اراضی کے مالک بااثر زمیندار اور محکمہئ تعلیم کے درمیان مالی امور پر تنازعہ پیدا ہوا اُور مذکورہ عمارت تعمیر تو ہوئی لیکن دس سال سے فعال نہ ہو سکی! تصور کیا جا سکتا ہے کہ 10 سال کتنا طویل عرصہ ہوتا ہے جسے ضائع کرنے سے علاقے کے کس قدر تعلیمی حرج ہو چکا ہے اُور یہ حرج مسلسل جاری بھی ہے! محکمہ تعلیم نے عارضی طور پر کرائے کی عمارت میں تین کمروں پر مشتمل سکول قائم کر رکھا ہے جبکہ میلوں سفر کر کے دور دراز سکول جانے والے کتنے ہی بچے سفری مشکلات کے باعث تعلیم کو الوداع کہہ چکے ہیں!

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہری پور کے ’خان پور روڈ‘ کے کنارے آباد ’منگ‘ گاؤں میں سکول 1913ء میں تعمیر ہوا تھا‘ جس کی خستہ حال (پرانی) عمارت کو کی جگہ زیادہ گنجائش والی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ نئی عمارت تعمیر کرے کے لئے سال 2004ء میں اُس وقت کے محکمہئ تعلیم کے ضلعی نگران (حیدر زمان مرحوم) اُور مالک اراضی (ملک اعظم خان) کے درمیان زبانی کلامی معاہدہ ہوا جس کے بعد 2012 میں 86لاکھ روپے کی لاگت سے نئی عمارت تعمیر کی گئی اُور معاہدے کے تحت پرانی عمارت والی اراضی زمیندار کو منتقل کرنا تھا۔ جب نئی عمارت میں کلاسیں شروع ہونے والی تھیں تو زمیندار نے معاہدے کے مطابق جائیداد کے حقوق کی منتقلی کے لئے محکمے پر دباؤ ڈالا اُور جب حکام نے اراضی کی ملکیت کے ریکارڈ کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ پرانی عمارت کا ٹکڑا ہری پور ضلع کونسل کی ملکیت ہے اُور سرکاری اراضی زمیندار کے نام منتقل کرنے سے معذرت کر لی گئی چونکہ زمیندار بااثر تھا اُس نے ہر طرح کا دباؤ استعمال کیا اُور عدالت سے بھی رجوع کیا جہاں دوہزارچودہ میں سول عدالت نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ وہ زمیندار کو دس لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے ادائیگی کرے یا پھر زمیندار سکول کی تعمیراتی لاگت ادا کرے۔ محکمے نے عدالت کو بتایا کہ سکول کی تعمیر پر مجموعی کو ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے بھی عدالت سے رجوع کیا اُور ہائی کورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے دس لاکھ روپے فی کنال کی بجائے ’مارکیٹ ریٹ‘ یعنی دو لاکھ اَسی ہزار روپے فی کنال ادائیگی کا حکم دیا لیکن اِس پوری تگ و دو میں سکول کی نئی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی اُور مقامی افراد کے مطالبے پر خیبرپختونخوا محکمہئ تعلیم نے ایک نیا سکول تعمیر کرنے کے لئے چار کروڑ بیاسی لاکھ روپے منظور کئے ہیں۔ اِس پوری کہانی سے ’منصوبہ بندی کا فقدان‘ کھل کر سامنے آتا ہے اُور یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ انتظامی عہدوں پر فائز ہونے والوں کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو کس قدر مالی نقصان جبکہ عوام کو کس قدر سنگین نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ترقیاتی عمل سے زیادہ اِس کا ’ادھوراپن‘ دور کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں ادارہ جاتی فیصلوں پر نظرثانی کے لئے ضلعی سطح پر ایسی مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوں اُور اِن ’ٹیکنوکریٹس‘ کے ذریعے کسی بھی حکومتی ترقیاتی منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے جن میں بشمول لاگت‘ پائیداری‘ معیار‘ سماجی و ماحولیاتی اثرات اُور اِس کی راہ میں حائل ممکنہ قانونی رکاوٹوں کے بارے پہلے ہی سے سوچ بچار کر لیا جائے تو اِس سے حکومتی وسائل میں بچت اُور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی فراہمی میں روانی ممکن و برقرار بنائی جا سکتی ہے۔ 

اگر نیت میں فتور نہیں‘ اگر خالصتاً قومی و عوامی مفادات ہی پیش نظر ہیں تو ترقیاتی عمل کو سیاسی و انتخابی مفادات و ترجیحات کی قید سے آزاد کرانا ہوگا‘ جس کا ایک امکان بلدیاتی اداروں کو زیادہ بااختیار بنانا بھی ہے اُور اِس سے بھی بامقصد و باسہولت تعمیروترقی جیسے اہداف باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ”اگر ہے جذبہئ تعمیر زندہ …… تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے!؟ (احمد ندیم قاسمی)“

……

Clipping from Daily Aaj May 12, 2022 Thursday 


Sunday, May 13, 2018

TRANSLATION: "Fundamental rights" by Dr. Farrukh Saleem

Fundamental rights
بنیادی حقوق
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ’زندہ رہنے کا حق‘ دے لیکن اِس آئینی ذمہ داری سے عہدہ برآء ہونے کی بجائے سیاسی و غیرسیاسی (منتخب و غیرمنتخب) حکومتوں نے دیگر ایسے اَمور کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنایا جو کم اہم تھیں جیسا کہ ملک کے مختلف شہروں میں ’میٹرو بس‘ کے منصوبے جاری یا مکمل ہیں لیکن وہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی خاطرخواہ سہولیات میسر نہیں!

آئین پاکستان یہ کہتا ہے کہ ’’ہر پاکستانی کو زندہ رہنے کا حق ہے لہٰذا کسی بھی شخص بشمول حکومت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی زندگی ختم کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ آئین کی اِس شق سے بھی یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پاکستانیوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے لئے خاطرخواہ اقدامات و انتظامات کرے۔

سوال: پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد کتنی ہے جو آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہر سال اسہال یعنی ڈائریا (دستوں کی بیماری) کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں؟ جواب: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں ہر سال 53 ہزار بچے ’ڈائریا‘ کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ تصور کیجئے کہ پاکستان میں سالانہ 53 ہزار ایسے والدین ہیں جو اپنے بچوں سے محروم ہو رہے ہیں کیونکہ اُنہیں پینے کے صاف پانی جیسی نعمت متروکہ میسر نہیں! اِس قدر بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکت لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں سے ’سال 2017ء‘ کے دوران 1 ہزار 260 افراد ہلاک ہوئے لیکن پینے کا صاف پانی نہ ملنے سے 53 ہزار بچے دیکھتے ہی دیکھتے موت کے منہ میں چلے گئے اُور یہ موت کا یہ تماشا جاری ہے!
عالمی بینک (ورلڈ بینک) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں آلودہ پانی کی وجہ سے ملک کی مجموعی خام آمدنی کا 4 فیصد یعنی سالانہ 12 ارب ڈالر خرچ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں آلودہ پانی پینے سے صرف بچے ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ہر عمر کے لوگ ٹائیفائیڈ‘ کلوریا‘ ہیپاٹائٹس (یرقان) اور قے و دست کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی سالانہ ہلاکتوں میں آلودہ پانی سے ہونے والی ہلاکتوں کا شمار 30 سے 40 فیصد ایک غیرمعمولی اور مختلف بیماریوں سے ہونے والی ’انتہائی بلند شرح اموات‘ ہے!
پاکستان حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی صحت و تندرستی کی ضمانت فراہم کرے۔ اُنہیں پینے کا صاف پانی مہیا کرے لیکن اگر حکومت ایسا نہیں کر رہی تو آخر یہ کام کون کرے گا؟ سوال: اقوام متحدہ (تنظیم) کے رکن ممالک کی تعداد 153 ہے جن وہ ملک کونسا ہے جہاں سب سے زیادہ نومولود بچے پیدائش کے چند ہفتوں بعد ہی مر جاتے ہیں؟ جواب: اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ہر 22 میں سے ایک بچہ پیدائش کے چند ہفتوں بعد مر رہا ہے۔ اِس شرح کا موازنہ اگر جاپان سے کیا جائے تو وہاں ہر 1 ہزار 111 بچوں میں سے ایک نومولود بچے کی ہلاکت کا امکان ہوتا ہے۔ اگر حکومت پاکستان عوام کی جان اور صحت و تندرستی کی ضامن نہیں بنے گی تو پھر یہ آئینی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟

صحت کی طرح تعلیم بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی جمہوریہ آئین کے آرٹیکل 25-A کے مطابق یہ ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کے ہر بچے کے لئے مفت اور لازماً تعلیم فراہم کرے لیکن برسرزمین (تلخ) حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کل 2 کروڑ 30 لاکھ بچوں میں سے 1 کروڑ 80 لاکھ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں! ایک کروڑ اَسی لاکھ بچوں کی یہ تعداد دس سے سولہ سال کے درمیان ہے۔ اگر حکومت پاکستان عوام کی جان‘ صحت و تندرستی اور درس و تدریسکی ضامن نہیں بنے گی تو پھر یہ آئینی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟

سوال: پاکستان میں زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد کتنی ہے؟ جواب: عالمی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر سالانہ ہر ایک لاکھ خواتین میں سے 276 خواتین ہلاک ہو رہی ہیں اور بچے کی پیدائش کے عمل میں ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے اموات پسماندہ صوبے‘ اضلاع اور علاقوں میں زیادہ ہو رہی ہیں۔ کیوبا کی مثال لیں جہاں زچگی کے عمل سے گزرنے والی ہر ایک لاکھ خواتین میں سے 39 کی اموات ہوتی ہیں اور کیوبا حکومت نے ہر ایک ہزار باشندوں کے لئے 5.9 ڈاکٹر فراہم کئے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر ایک ہزار افراد کے لئے 0.7 ڈاکٹرز دستیاب ہیں۔ حکومت پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان‘ صحت و تندرستی اور تعلیم کی ضامن بنے لیکن اگر حکومت ہی اپنی اِس آئینی ذمہ داری کو اَدا نہیں کرے گی تو پھر یہ کون کرے گا؟ یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ پینے کا صاف پانی اُور صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات کے مقابلے ’میٹرو بسیں‘ فراہم کرنے سے کن آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی پوری ہوئی ہے اور کون کون سے ضروری کام باقی رہ گئے ہیں؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Friday, January 6, 2017

Jan2017: Clean Drinking Water for Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ تاثیر مسیحائی کی!
’’پشاور پر رحم‘‘ کرنے جیسی عاجزی کا اِظہار کرتے ہوئے اِصلاح اَحوال کی تجاویز دینے والے ’دانشور‘ لکھاری تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے حالانکہ اگر اہل پشاور کی 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو اِس کے لئے کلی طور پر ذمہ دار ’مئی دو ہزار تیرہ‘ کے بعد سے برسراقتدار آئی موجودہ صوبائی حکومت نہیں۔ کچھ ذمہ داری اُور تنقید تو پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ پیپلزپارٹی‘ متحدہ مجلس عمل‘ قومی وطن پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) سمیت اُن تمام اقتدار یا شریک رہی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو ماضی میں کسی نہ کسی طور حکومتی فیصلہ سازی کا حصہ رہے اور جن کے اَدوار میں ترقی کا عمل نہ تو ’’پائیدار‘‘ ثابت ہوا اُور نہ ہی وہ ایسی ترجیحات کے تابع تھا کہ اُس کی بدولت بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ مضبوط ہوتا یا پھر کم سے کم آج پورے خیبرپختونخوا کو پینے کا صاف پانی ہی میسر ہوتا۔ قوم پرستی اور مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر حکومت کرنے والوں نے خیبرپختونخوا کو سوائے اداروں میں بیجا سیاسی مداخلت‘ سفارش‘ بدعنوانی‘ غربت‘ پسماندگی‘ انتہاء پسندی اُور بحرانوں کی صورت مسائل کی دلدل کے سوأ کچھ نہیں دیا‘ جس کی اِصلاح کے لئے کوششوں کی راہ میں آج بھی ماضی کے وہی حکمراں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جو درپردہ نہ صرف تحریک انصاف کو اپنے انتخابی ایجنڈے پر عمل درآمد سے روکنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں بلکہ اپنے ہم خیال لکھنے والوں کی ’داد شجاعت‘ کو سراہتے ہیں کہ جن کے الفاظ ’تحریک انصاف‘ کے خلاف عام آدمی (ہم عوام) کے دلوں میں شکوک و شبہات کاشت کر رہے ہیں! صوبائی حکومت کے دفاع اور برسرزمین حقائق و صورتحال کی وضاحت کس کی ذمہ داری ہے؟ 

خیبرپختونخوا حکومت کی ترجمانی جس قدر کم پیمانے پر آج ہو رہی ہے‘ اِس کی ماضی میں مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی! آج پورے پاکستان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ دیکھو ۔۔۔ ’’خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت اپنی بنیادی ذمہ داری سے عہدہ برآء نہیں ہو رہی تو کیوں نہ اِسے ناکام قرار دے کر آئندہ عام انتخابات میں مسترد کر دیا جائے!‘‘

خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے پہلے دن سے تحریک انصاف میں ’دوسرے عمران خان‘ کی کمی محسوس ہونے لگی! تحریک کی بدقسمتی یہ بھی رہی کہ اِسے قومی سیاست یعنی وفاقی پارلیمانی سطح پر خاطرخواہ کردار ادا کرنے کی عددی برتری حاصل نہ ہو سکی‘ جس کی بنیادی وجہ یہ نہیں تھی کہ بدعنوانی سے پاک طرزحکمرانی کے قیام کا وعدہ کرنے والوں کا پیغام ملک کے کونے کونے میں نہیں پہنچ سکا بلکہ صوبوں کے ضروری طور پر بڑے حجم ہونے کے سبب ’انقلاب کی آواز‘ نسلی لسانی اور قبائلی گروہ بندیوں کے مخصوص ووٹ بینک تلے کہیں دب کر رہ گئی۔ بحث کے اِس زوایئے اور موضوع کی تہہ داریاں متقاضی ہیں کہ اِس کا احاطہ کسی دوسرے مرحلۂ فکر پر کیا جائے۔ سردست قضیہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اُس بیان سے متعلق ہے جو انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کے دورے سے واپسی کے بعد‘ 2 جنوری کے روز ورسک روڈ پر منعقدہ پہلی عوامی تقریب کے موقع پر دیا اُور ذرائع ابلاغ کے ہاتھ ایک ایسا نکتہ آ گیا‘ جس کی وضاحت ہر کسی نے اپنے اپنے تعصب کی عینک لگا کر کی۔ 

وزیراعلیٰ محترم اگر بات ’’موقع محل‘‘ دیکھ کر کرتے تو اُن کی وجہ سے پوری تحریک انصاف کو اِس قدر تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ’’گلونہ پیخور‘‘ نامی ’صفائی مہم‘ کے موقع پر بے محل یہ کہنا کہ ’’پشاور کی 80فیصد آبادی کو پینے کے لئے صاف پانی دستیاب نہیں‘‘ بڑی حد تک حقیقت تو ہے‘ لیکن اِس کا حوالہ اُور بیان غیرسائنسی طور پر دیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو پورے پاکستان کا کوئی ایک بھی ایسا شہر نہیں جہاں کی اکثریتی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہو لیکن یہ اِس بات کا جواز نہیں ہوسکتا کہ کوئی حکومت اپنی ذمہ داریاں دوسروں کے سر ڈال دے۔ توجہات مبذول رہیں کہ حکومت کا کام سنسنی خیزی اور تعجب خیزی میں اضافہ نہیں بلکہ صورتحال کی وضاحت کرنا ہوتی ہے۔ 

فیصلہ سازی کے منصب پر مراعات یافتگان کی یہ بھی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کیونکہ وہ کسی بھی مسئلے کے بارے اظہار خیال کرتے ہوئے اُس کے سیاق و سباق (ماضی و حال) اور اصلاحی پہلوؤں کے بیان سے اختتام کریں۔ کیا وزیراعلیٰ کو پشاور کے پانی کے بارے ایسا بیان دینا چاہئے تھا‘ جس سے اہل پشاور میں تشویش سے زیادہ یہ تاثر پھیل جاتا کہ اگر صوبائی حکومت جانتی ہے کہ پشاور کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو پھر پینے کا صاف پانی فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت نے اِس سلسلے میں کیا عمومی و خصوصی اقدامات کر رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا صوبائی حکومت نے پشاور کے طول و عرض میں کوئی ایسا سروے (جائزہ) اپنی نگرانی اور سرکاری اداروں کی معاونت سے مکمل کیا ہے جس سے یہ نتیجہ اَخذ کیا جاسکے کہ پشاور کی کم و بیش نہیں بلکہ پوری 80فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے؟ 

وزیراعلیٰ کو اِس بارے میں بھی اہل پشاور کی رہنمائی کرتے ہوئے بیان کرنا چاہئے تھا کہ امریکہ کا امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) کوڑا کرکٹ تلف کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے اور اِس سلسلے میں پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں جاری کام کی رفتار یا حاصل شدہ نتائج کی تفصیلات بمعہ اعدادوشمار کا تبادلہ اگر ذرائع ابلاغ کے ساتھ کر دیا جاتا تو ’بار ذمہ داری‘ کچھ ہلکا ہو جاتا۔ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا اُور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور میں کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کی پہلے ہی کمی نہیں تھی لیکن وزیراعلیٰ کے غیرمحتاط اُور سرسری بیان نے ’’جلتی پر تیل‘‘ جیسا کام کرتے ہوئے اُس بحث کو مزید اُلجھا دیا ہے‘ جس میں حکومت کی ذمہ داریاں‘ جنون پر منبی انقلابی اصلاحات اور جملہ انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دینے والے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا اُور بالخصوص پشاور کو ہنوز ایک مسیحا کا انتظار ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Clean drinking water for Peshawar,  without scientific survey and need assessment not practically possible

Sunday, June 12, 2016

Jun2016: Resources for few!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِستحقاق: احساس محرومی اُور دُکھ!
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شریں مزاری کی تسلی و تشفی نہیں ہو رہی جبکہ اُن کی ذات کو نشانہ بنانے والے توہین آمیز جملوں کو نہ صرف قومی اسمبلی کی کاروائی (ریکارڈ) سے نکال دیا گیا ہے بلکہ اِنتہائی اَہم وفاقی بجٹ اِجلاس میں سپیکر کے نام لکھے خواجہ آصف نے تحریری بیان میں ’غیرمشروط‘ معافی مانگتے ہوئے طویل سیاسی سفر کا حوالہ بھی دیا ہے اور جاتے جاتے یہ بھی کہا ہے کہ ’’تقریر کے دوران لقمہ دینے والوں کو جواب دیا‘ تو یہ غلطی میں شمار نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ اِس عمومی منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کیا استحقاق صرف اراکین اسمبلیوں ہی کے مجروح ہوتے ہیں؟ کیا تعلیم و صحت اُور بنیادی سہولیات بشمول ’’پینے کے پانی‘‘ سے محروم لوگوں کے مسائل کی وجہ بننے والے سرکاری اِداروں کی ناقص کارکردگی توجہ نہیں چاہتی؟

ایبٹ آباد کی یونین کونسل میرپور میں ’آفیسرز کالونی‘ کے علاقے کی وجۂ شہرت سرکاری ملازمین کی ایک رہائشی بستی ہے جس میں مکانات کی تعداد کم وبیش 50 اُور اگر رہائشیوں بشمول ڈرائیورز‘ گھریلو ملازمین و سیکورٹی گارڈز کو بھی شمار کر لیا جائے تو اِس چاردیواری کے اندر رہنے والوں کی کل تعداد کسی بھی طرح 500 افراد سے زیادہ نہیں جن کے لئے پانی کی فراہمی کے لئے ساڑھے چھ سو فٹ گہرے کنویں پر ’’10ہارس پاور‘‘ کی ٹیوب ویل مشین نصب ہے‘ اور اگر اِس مشین سے پانی کے اخراج کی صلاحیت پر بھروسہ کیا جائے تو یہ یومیہ 5سے 6ہزار افراد کی ضروریات (آبنوشی) کے لئے کافی ہے لیکن کیا عجب کہ جون کے اختتام کے قریب ’پانی کی ایسی مصنوعی قلت‘ پیدا کر دی گئی ہو‘ جس کا حل کرنے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑیں۔ موجودہ کنویں میں پانی کی سطح اِس حد تک کم ہو گئی ہے کہ چند گھنٹے چلنے کے بعد مشین کو پانی ہی میسر نہیں ہوتا کہ وہ دے سکے! یہی سبب ہے کہ پچاس گھروں کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں تھیں تو ایک وفد کی صورت اعلیٰ عہدوں پر فائز مذکورہ کالونی کے رہائشی سرکاری ملازمین متعلقہ ’سی اینڈ ڈبلیو‘ اور ’کمشنر‘ کے دفتر جا پہنچے تاکہ 1: ’سی اینڈ ڈبلیو‘ کی نگرانی چلنے والے اِس ٹیوب ویل پر نصب موٹر کی طاقت ’دس ہارس پاور‘ سے بڑھائی جائے لیکن اگر زیرزمین پانی کی سطح کم ہونے کا مسئلہ ہے تو ایک عدد نیا ٹیوب ویل کھودا جائے‘ نیا ترسیلی نظام بنایا جائے‘ جس پر لاگت کا تخمینہ کم سے کم بیس سے پچیس لاکھ روپے ہوگا۔ 2: مذکورہ ٹیوب ویل سے سرکاری ملازمین کے بغیر جو مقامی افراد پانی حاصل کر رہے ہیں اُن کے کنکشن کاٹ دیئے جائیں کیونکہ وہ اِس بات کا استحقاق ہی نہیں رکھتے کہ سرکاری ٹیوب ویل سے پانی حاصل کریں! چونکہ بات سرکاری ملازمین کے مفاد کی ہو رہی تھی تو بناء تحقیق حکمنامے کے ذریعے آفیسرز کالونی کی چاردیواری سے متصل انگلیوں پر شمار ہونے والے چند مقامی افراد کو پینے کے پانی کی فراہمی کا سلسلہ منقطع کردیا گیا۔ اگر ’کمشنر ایبٹ آباد‘ انصاف کے تقاضے پورے کرتے‘ اگر متعلقہ تھانے کے نگران پانی کا تقاضا کرنے والوں سے بل ادا کرنے کی رسیدیں اور اُن سے تحریری شکایت درج کرانے کا مطالبہ کرنے کے علاؤہ معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے تشریف لے جاتے تو اُنہیں درج ذیل حقائق سے آگہی ہوتی۔ 1: آفیسرز کالونی سے ملحقہ ’مقامی (لوکل) آبادی‘ میں پینے کے صاف پانی کی قلت اِس بستی کے آباد ہونے سے موجود ہے لیکن پورے علاقے بشمول کالونی کو پانی کی فراہمی کی بجائے حکومتی وسائل ایک کالونی کے اندر چند درجن گھروں پر خرچ کر دیئے گئے جبکہ یہی پیسہ اور یہی ایک ٹیوب ویل پورے علاقے کی ضروریات کے لئے بھی کافی ہو سکتا تھا۔

2: مالی وسائل رکھنے والوں نے جن مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گھروں میں کنویں کھود رکھے ہیں‘ ان کے لئے ’بورنگ‘ سے حاصل ہونے والا پانی انسانی استعمال کے لئے مناسب نہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ 200فٹ گہرائی سے حاصل کیا جانے والا پانی ’’بدذائقہ اُور بو‘‘ جیسا مزاج رکھتا ہے۔

3: آفیسرز کالونی سے ملحقہ ایک درجن میں سے صرف دو گلیوں کی کل آبادی بشمول کالونی کی چاردیواری میں اندر رہنے والوں کا شمار کسی بھی طرح ایک ہزار افراد سے کم ہے جبکہ ٹیوب ویل اگر اپنی ایک تہائی استعداد کے مطابق 2 ہزار افراد کی یومیہ ضروریات کی کفالت کر سکتا ہے تو ایسا کیوں نہیں ہوسکتا ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹے یا سات دن میں کسی ایک دن پانی اُن لوگوں کو بھی دیا جائے تو سرکاری کالونی کی چاردیواری کے اردگرد پیاسے ہیں اور اپنی ضروریات کے لئے پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں!؟ کیا سرکاری ملازمین کو تنخواہیں اور مراعات اُن عوام کے پیسے سے نہیں مل رہیں‘ جن پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا؟

4: سرکاری ٹیوب ویل کے استعمال پر خرچ ہونے والی بجلی اُور ٹیوب ویل کی دیکھ بھال (آن آف) کرنے کے لئے دو نگران بھی چوبیس گھنٹے مقرر ہیں‘ جسے کالونی کے اندر ہی وسیع و عریض رہائش اور سہولیات دی گئیں ہیں لیکن وہ کسی بھی مکین سے پانی کا بل وصول کرنے کا اختیار یا ذمہ داری نہیں رکھتے۔ سالہا سال سے بناء پانی کا بل اَدا کئے پانی استعمال کرنے والے اعلیٰ و اَدنی سرکاری ملازمین نے اِس بات کو اپنا ’استحقاق‘ سمجھ لیا ہے کہ وہ بناء قیمت ادا کئے جتنا چاہے پانی استعمال کریں چاہے وہ کھیتی باڑی کے لئے ہو‘ باغ باغیچوں کو تروتازہ رکھنے کے لئے ہو‘ گاڑیاں اور پالتو جانوروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے ہو یا پھر گھربار کی جملہ ضروریات اور صفائی ستھرائی کے لئے جس قدر چاہیں پانی استعمال کریں لیکن اِس پانی کی ایک بوند بھی چاردیواری کے باہر کسی کو نہیں ملنی چاہئے۔ مذکورہ کالونی میں ایسے سرکاری ملازمین بھی اپنے سیاسی اثرورسوخ سے رہائش پذیر ہیں جنہیں گھر خالی کرنے کے نوٹس جاری ہو چکے ہیں لیکن کوئی اُن کی طرف نہیں دیکھ سکتا! (جس کی لاٹھی اُس کی بھینس)

5: استحقاق سے محروم ’آفیسرز کالونی‘ سے ملحقہ آبادی کے رہنے والوں کے لئے یہ منظر انوکھا (سرپرائز) نہیں کہ سرکاری نمبر پلیٹ والی ڈبل کیبن گاڑیوں میں بڑے بڑے ڈرموں (برتنوں) کے ذریعے چشموں سے پانی لایا جاتا ہے کیونکہ سرکاری آفیسر وہ پانی پینے کے لئے استعمال میں نہیں لاتے جو مذکورہ ٹیوب ویل سے ایک بالائی پانی کے ٹینک میں ذخیرہ کرکے ہمہ وقت فراہم کیا جاتا ہے اور گذشتہ دو دہائیوں سے زائد تعمیر ہونے والے اِس پانی کی ٹینکی کی صفائی کب سے نہیں ہوئی‘ کوئی نہیں جانتا کیونکہ کائی (فنگس) ملے محلول کی بوند بوند کو ترسنے والوں کے لئے یہی پانی کسی نعمت سے کم نہیں اور (الاماشاء اللہ) یہ نعمت (متروکہ) بھی چھین لی گئی ہے!

6: کمشنر ’صاحب بہادر‘ کو تحقیقات کی صورت یہ حقیقت بھی معلوم ہوتی کہ جو پانی اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے پالتو جانوروں کو پینے کے لئے نہیں دیا جاتا اُسی پر گزر بسر کرنے والے چند گھرانے ماہ رمضان المبارک میں کس عذاب سے گزر رہے ہیں اور کیا ملحقہ لوکل آبادی کے جن گھروں کو سرکاری پانی میسر تھا‘ اُن کے گھروں میں گاڑیاں‘ باغ باغیچے‘ کھیت یا پالتو جانور ہیں جن کی ضروریات پر اچانک اتنا بے تحاشہ پانی خرچ (ضائع) ہونے لگا ہے کہ قلت ہی پیدا ہو گئی ہے!

7: خاکم بدہن کہانی کا ’حیران کن‘ پہلو یہ بھی ہے کہ ماہ جون کے اِختتام سے قبل سرکاری اِداروں کے نگرانوں کو فکر کھا جاتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے حصّے کا ’باقی ماندہ‘ بجٹ یہاں وہاں خرچ کریں! اور اِس سے زیادہ منطقی بات اُور کیا ہوسکتی ہے کہ پینے کے پانی کی قلت دور کر دی جائے۔ اگر کمشنر صاحب زحمت کرتے اُور ’پانی کی مصنوعی قلت‘ کے اسباب و وجوہات کی تہہ میں جاتے تو دیگر اسباب کے ساتھ یہ بات بھی عیاں ہو جاتی کہ کس طرح چند فیصلہ سازوں کو اپنا مالی مفاد عزیز ہے اور وہ سرکاری وسائل پر اپنے صوابدیدی و غیرصوابدیدی اختیارات کا استعمال کتنی ’بے رحمی‘ سے بلاتھکان کر رہے ہیں!‘‘
Water shortage in Officers' colony and role of govt officials & departments