Showing posts with label Waste Management. Show all posts
Showing posts with label Waste Management. Show all posts

Friday, January 6, 2017

Jan2017: Clean Drinking Water for Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ تاثیر مسیحائی کی!
’’پشاور پر رحم‘‘ کرنے جیسی عاجزی کا اِظہار کرتے ہوئے اِصلاح اَحوال کی تجاویز دینے والے ’دانشور‘ لکھاری تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے حالانکہ اگر اہل پشاور کی 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو اِس کے لئے کلی طور پر ذمہ دار ’مئی دو ہزار تیرہ‘ کے بعد سے برسراقتدار آئی موجودہ صوبائی حکومت نہیں۔ کچھ ذمہ داری اُور تنقید تو پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ پیپلزپارٹی‘ متحدہ مجلس عمل‘ قومی وطن پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) سمیت اُن تمام اقتدار یا شریک رہی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو ماضی میں کسی نہ کسی طور حکومتی فیصلہ سازی کا حصہ رہے اور جن کے اَدوار میں ترقی کا عمل نہ تو ’’پائیدار‘‘ ثابت ہوا اُور نہ ہی وہ ایسی ترجیحات کے تابع تھا کہ اُس کی بدولت بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ مضبوط ہوتا یا پھر کم سے کم آج پورے خیبرپختونخوا کو پینے کا صاف پانی ہی میسر ہوتا۔ قوم پرستی اور مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر حکومت کرنے والوں نے خیبرپختونخوا کو سوائے اداروں میں بیجا سیاسی مداخلت‘ سفارش‘ بدعنوانی‘ غربت‘ پسماندگی‘ انتہاء پسندی اُور بحرانوں کی صورت مسائل کی دلدل کے سوأ کچھ نہیں دیا‘ جس کی اِصلاح کے لئے کوششوں کی راہ میں آج بھی ماضی کے وہی حکمراں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جو درپردہ نہ صرف تحریک انصاف کو اپنے انتخابی ایجنڈے پر عمل درآمد سے روکنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں بلکہ اپنے ہم خیال لکھنے والوں کی ’داد شجاعت‘ کو سراہتے ہیں کہ جن کے الفاظ ’تحریک انصاف‘ کے خلاف عام آدمی (ہم عوام) کے دلوں میں شکوک و شبہات کاشت کر رہے ہیں! صوبائی حکومت کے دفاع اور برسرزمین حقائق و صورتحال کی وضاحت کس کی ذمہ داری ہے؟ 

خیبرپختونخوا حکومت کی ترجمانی جس قدر کم پیمانے پر آج ہو رہی ہے‘ اِس کی ماضی میں مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی! آج پورے پاکستان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ دیکھو ۔۔۔ ’’خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت اپنی بنیادی ذمہ داری سے عہدہ برآء نہیں ہو رہی تو کیوں نہ اِسے ناکام قرار دے کر آئندہ عام انتخابات میں مسترد کر دیا جائے!‘‘

خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے پہلے دن سے تحریک انصاف میں ’دوسرے عمران خان‘ کی کمی محسوس ہونے لگی! تحریک کی بدقسمتی یہ بھی رہی کہ اِسے قومی سیاست یعنی وفاقی پارلیمانی سطح پر خاطرخواہ کردار ادا کرنے کی عددی برتری حاصل نہ ہو سکی‘ جس کی بنیادی وجہ یہ نہیں تھی کہ بدعنوانی سے پاک طرزحکمرانی کے قیام کا وعدہ کرنے والوں کا پیغام ملک کے کونے کونے میں نہیں پہنچ سکا بلکہ صوبوں کے ضروری طور پر بڑے حجم ہونے کے سبب ’انقلاب کی آواز‘ نسلی لسانی اور قبائلی گروہ بندیوں کے مخصوص ووٹ بینک تلے کہیں دب کر رہ گئی۔ بحث کے اِس زوایئے اور موضوع کی تہہ داریاں متقاضی ہیں کہ اِس کا احاطہ کسی دوسرے مرحلۂ فکر پر کیا جائے۔ سردست قضیہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اُس بیان سے متعلق ہے جو انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کے دورے سے واپسی کے بعد‘ 2 جنوری کے روز ورسک روڈ پر منعقدہ پہلی عوامی تقریب کے موقع پر دیا اُور ذرائع ابلاغ کے ہاتھ ایک ایسا نکتہ آ گیا‘ جس کی وضاحت ہر کسی نے اپنے اپنے تعصب کی عینک لگا کر کی۔ 

وزیراعلیٰ محترم اگر بات ’’موقع محل‘‘ دیکھ کر کرتے تو اُن کی وجہ سے پوری تحریک انصاف کو اِس قدر تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ’’گلونہ پیخور‘‘ نامی ’صفائی مہم‘ کے موقع پر بے محل یہ کہنا کہ ’’پشاور کی 80فیصد آبادی کو پینے کے لئے صاف پانی دستیاب نہیں‘‘ بڑی حد تک حقیقت تو ہے‘ لیکن اِس کا حوالہ اُور بیان غیرسائنسی طور پر دیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو پورے پاکستان کا کوئی ایک بھی ایسا شہر نہیں جہاں کی اکثریتی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہو لیکن یہ اِس بات کا جواز نہیں ہوسکتا کہ کوئی حکومت اپنی ذمہ داریاں دوسروں کے سر ڈال دے۔ توجہات مبذول رہیں کہ حکومت کا کام سنسنی خیزی اور تعجب خیزی میں اضافہ نہیں بلکہ صورتحال کی وضاحت کرنا ہوتی ہے۔ 

فیصلہ سازی کے منصب پر مراعات یافتگان کی یہ بھی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کیونکہ وہ کسی بھی مسئلے کے بارے اظہار خیال کرتے ہوئے اُس کے سیاق و سباق (ماضی و حال) اور اصلاحی پہلوؤں کے بیان سے اختتام کریں۔ کیا وزیراعلیٰ کو پشاور کے پانی کے بارے ایسا بیان دینا چاہئے تھا‘ جس سے اہل پشاور میں تشویش سے زیادہ یہ تاثر پھیل جاتا کہ اگر صوبائی حکومت جانتی ہے کہ پشاور کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو پھر پینے کا صاف پانی فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت نے اِس سلسلے میں کیا عمومی و خصوصی اقدامات کر رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا صوبائی حکومت نے پشاور کے طول و عرض میں کوئی ایسا سروے (جائزہ) اپنی نگرانی اور سرکاری اداروں کی معاونت سے مکمل کیا ہے جس سے یہ نتیجہ اَخذ کیا جاسکے کہ پشاور کی کم و بیش نہیں بلکہ پوری 80فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے؟ 

وزیراعلیٰ کو اِس بارے میں بھی اہل پشاور کی رہنمائی کرتے ہوئے بیان کرنا چاہئے تھا کہ امریکہ کا امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) کوڑا کرکٹ تلف کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے اور اِس سلسلے میں پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں جاری کام کی رفتار یا حاصل شدہ نتائج کی تفصیلات بمعہ اعدادوشمار کا تبادلہ اگر ذرائع ابلاغ کے ساتھ کر دیا جاتا تو ’بار ذمہ داری‘ کچھ ہلکا ہو جاتا۔ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا اُور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور میں کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کی پہلے ہی کمی نہیں تھی لیکن وزیراعلیٰ کے غیرمحتاط اُور سرسری بیان نے ’’جلتی پر تیل‘‘ جیسا کام کرتے ہوئے اُس بحث کو مزید اُلجھا دیا ہے‘ جس میں حکومت کی ذمہ داریاں‘ جنون پر منبی انقلابی اصلاحات اور جملہ انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دینے والے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا اُور بالخصوص پشاور کو ہنوز ایک مسیحا کا انتظار ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Clean drinking water for Peshawar,  without scientific survey and need assessment not practically possible

Tuesday, January 13, 2015

Jan2015: Hazards of Hospital Waste

۔۔۔جان ہے تو جہان ہے!۔۔۔
ہسپتال موت بانٹ رہے ہیں؟
لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہر روز اوسطاً ایک لاکھ سے سرنجیں استعمال ہوتی ہیں لیکن کیا اتنی ہی بڑی تعداد میں انہیں تلف بھی کیا جاتا ہے
پلاسٹک کی ایسی سرنجیں دستیاب ہیں جنہیں صرف ایک ہی مرتبہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور دوسری مرتبہ استعمال کے قابل نہیں رہتیں

شبیرحسین اِمام
کیا آپ پلاسٹک کے برتن استعمال کرنے کو محفوظ سمجھتے ہیں؟ سستا نعم البدل ہونے کی وجہ سے کھلونے‘ آرائشی اشیاء‘ جوتے‘ چپل‘ حتیٰ کہ کھانے پینے کے لئے استعمال ہونے والے برتن بھی پلاسٹک سے تیار ہونے لگے ہیں لیکن ایسی تمام پلاسٹک کی اَشیاء ’اِنسانی صحت‘ کے لئے ’مستقل خطرہ‘ ثابت ہو سکتیں ہیں‘ جو ادویات ذخیرہ کرنے یا علاج معالجے میں کام آنے کے بعد پلاسٹک یا شیشے جیسی جنس کی صورت فروخت کر دی جائیں‘ کسی جگہ سے چن لی جائیں اور اُنہیں دوبارہ قابل استعمال بنا کر پلاسٹک کے برتنوں میں استعمال کیا جائے! تو ہوشیار رہیں کہ کہیں آپ ایسی خطرناک پلاسٹک سے بنے ہوئے برتن یا جوتے یا کھلونے تو نہیں خرید رہے‘ جس سے آپ یا آپ کے عزیز واقارب کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے؟

سرکاری ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کے لئے پھر بھی کچھ نہ کچھ قواعد و ضوابط کا لحاظ کیا جاتا ہے لیکن نجی ہسپتالوں اور بالخصوص ماہر ڈاکٹروں کے کلینکس میں یومیہ جمع ہونے والی گندگی کے نہ تو اعدادوشمار دستیاب ہیں اور نہ ہی اِس سلسلے میں متعلقہ حکومتی ادارے مستقبل قریب میں تحقیق کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ کیجئے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ٹھوس گندگی تلف کرنے کے لئے جو آلات نصب ہیں وہ گیس کی مدد سے چلتے ہیں۔ موسم سرما کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جبکہ ڈیوٹی کے اُوقات میں گیس پریشر اِس قدر نہیں ہوتا کہ ادویات جلا کر تلف کی جا سکیں! نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایک انتظامی نگران نے کہا کہ ’’لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں صرف پشاور شہر کے مریض نہیں آتے بلکہ مضافاتی دیہی علاقوں اور دیگر اضلاع سے بھی مریضوں کو یہاں لایا جاتا ہے۔ اوسطاً تین ہزار اُو پی ڈی جبکہ دو ہزار حادثات اتفاقیہ و ہنگامی علاج معالجے کے شعبوں میں مریضوں کو لایا جاتا ہے‘ یہی علاج معالجے کے وہ شعبے ہیں جہاں بڑی مقدار میں گندگی پیدا ہوتی ہے لیکن کیا وہ حسب قواعد چوبیس گھنٹوں میں تلف بھی ہوتی ہے؟

ہسپتالوں سے جمع کی جانے والی گندگی میں پلاسٹک اور شیشے کی بوتلیں شامل ہوتی ہیں جن میں محلول یا خشک حالت میں ادویات رکھی جاتی ہیں۔ ایسی دونوں حالتوں میں ادویات کی بوتلیں کسی بھی صورت صحت مند انسانوں کو استعمال نہیں کرنی چاہیءں۔ اِس سلسلے میں توجہ طلب امر تازہ دودھ کے نام پر کیمیائی مادوں سے بنایا جانے و الا دودھ بھی ہے‘ جس میں خشک دودھ کے اجزأ‘ پانی اور مختلف کیمیائی مادے استعمال کئے جاتے ہیں‘ جس سے دودھ کی ’شیلف لائف‘ بڑھا دی جاتی ہے۔ علاؤہ ازیں دودھ نما کیمیائی محلول کو ذخیرہ کرنے کے لئے نیلے رنگ کے جو ڈرم استعمال کئے جاتے ہیں وہ بھی کیمیائی مادوں کے لئے بنائے جاتے ہیں‘ اور اِن کا استعمال کسی بھی صورت انسانی استعمال کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک سنگین و انتہائی خطرناک دور سے گزر رہے ہیں‘ جس میں ہر ایک کسی نہ کسی مرض کا شکار ہے۔ آخر کیا سبب ہے کہ ہمارے ہاں ملاوٹ سے پاک دودھ فروخت نہیں ہوتا؟ کیا متعلقہ حکومتی ادارے اور سخت قواعد موجود نہیں یا پھر ان پر عمل درآمد کرنے والے اپنے مفاد کے لئے پورے معاشرے کی صحت اور جان داؤ پر لگائے ہوئے ہیں! اِس سلسلے میں منتخب عوامی نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں حالات کا جائزہ لیں اور ایسی قانون ساز کریں جس میں ملاوٹ کرنے والوں کو بھی دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار کیا جاسکے۔ بھلا اِس سے بڑھ کر کوئی دوسری دہشت گردی اور کیا ہوسکتی ہے کہ غیرمعیاری اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں!

کیا آپ جانتے ہیں؟
سرکاری و نجی ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کا خاطرخواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے انسانی زندگیاں خطرات سے دوچار ہیں۔ ایک نجی ادارے کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں یومیہ 2 ہزار کلوگرام ایسی مہلک قسم کی گندگی اکٹھا ہوتی ہے‘ جسے سائنسی طریقوں سے تلف نہیں کیاجاتا اور ایسا نہ ہونے کی وجہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ اِس معاملے کے حوالے سے متعلقہ حکام کا حساس نہ ہونا ہے! ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسپتال کا ایک بستر یومیہ اوسطاً آدھ کلوگرام ایسی گندگی پیدا کرتا ہے‘ جو اگر انتہائی درجہ حرارت کے ذریعے تلف نہ کی جائے تو اس سے مہلک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں بستروں کی کل تعداد 4ہزار سے زیادہ ہے جن سے مجموعی طور پر 2 ہزار کلوگرام سے زائد گندگی یکجا ہوتی ہے لیکن اگر تمام ہسپتالوں میں گندگی تلف کرنے کے نظام کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعتبار کرنا مشکل ہے ہر روز ایک ہزار کلوگرام گندگی بھی بمشکل تلف ہوتی ہوگی۔ سرکاری دفاتر ایسے اعدادوشمار دستیاب نہیں لیکن محکمۂ صحت کے ایک انتظامی نگران نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ ’’لیڈی ریڈنگ ہسپتال کم و بیش دو ہزار بستروں پر مشتمل ہے‘ جہاں سے بارہ سو کلوگرام‘ خیبرٹیچنگ پندرہ سو بستروں سے پانچ سو کلوگرام‘ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سات سو بستروں سے تین سو کلوگرام‘ سٹی ہسپتال کے ڈھائی سو بستروں سے ڈیڑھ سو کلوگرام یومیہ گندگی اکٹھا ہوتی ہے جبکہ یہ اعدادوشمار آخری مرتبہ دو ہزار سات میں اکٹھا کئے گئے تھے‘ سات برس بعد جبکہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ تین گنا بڑھ چکا ہے جس سے لامحالہ مریضوں کے زیراستعمال ادویات و دیگر اشیاء گندگی کی صورت پھینک دی جاتی ہیں چونکہ یہ گندگی اِس قدر بڑے پیمانے پر ہر روز اکٹھا ہوتی ہے اِس لئے ارباب اختیار اِس بارے میں زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ ایک امریکی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہسپتالوں کا ایک کام تو علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات وہاں کی صفائی اور ایسا ماحول ہے جس میں بیماریاں معاشرے کے صحت مند افراد یا مریضوں کی عیادت کے لئے آنے والوں کو منتقل نہ ہوں۔ ہسپتال ہوا دار ہونے چاہئے۔ مریضوں کے وارڈ کی چھتیں عمومی کمروں سے بلند ہونی چاہئیں جہاں قدرتی روشنی کا خاطرخواہ بندوبست ہونا چاہئے۔ غیرسرکاری تنظیم کے جائزے میں پشاور کے سات نیم سرکاری ہسپتالوں کا بھی جائزہ لیا گیا جہاں کم و بیش چھ سو مریضوں کے علاج کی سہولیات موجود تھیں اور اِن ہسپتالوں سے یومیہ تین سو کلوگرام گندگی اکٹھا ہوتی ہے۔ یہ صورتحال صرف پشاور کی حد تک ہی تشویشناک نہیں بلکہ نوشہرہ‘ کوہاٹ‘ مردان اور دیگر گنجان آباد اضلاع میں تو کئی ایک سرکاری و نجی ہسپتال اِس بات پر شکر ادا کرتے ہیں کہ کوئی آئے اُور ہر روز ہزاروں کلوگرام گندگی اٹھا کر لے جائے‘ انہیں اِس بات سے قطعی کوئی غرض نہیں کہ وہی گندگی بعدازاں خود اُنہیں یا اُن کے اہل خانہ کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہسپتالوں سے گندگی اکٹھا کرنے کے لئے کوئی قانون بھی موجود ہے جس کے تحت ان کی یہ ذمہ داری قرار پائے کہ وہ سائنسی طریقوں سے گندگی تلف کریں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم ’انوائرمینٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997ء‘ ہے‘ جس میں یہ بات واضح طور پر درج کی گئی ہے کہ ہسپتال اس بات کے لئے پابند ہیں کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر جمع ہونے والی گندگی چاہے وہ کتنی ہی مقدار میں کیوں نہ ہو جلا کر تلف کریں۔ اِس قانون کے تحت ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل بھی ہونی چاہئے جس کی سربراہی ہیلتھ سیکرٹری ہو‘ اور وہ وقتاً فوقتاً گندگی تلف کرنے سے متعلق قواعد و ضوابط پر نظرثانی کریں۔ اس سلسلے میں ایک اور قانون ’Hazardous Substance Rules 2000‘ بھی لائق توجہ ہے جس کے تحت کسی بھی ہسپتال چاہے وہ وفاق کی زیرنگرانی ہو یا صوبائی محکمہ ماحولیات کے‘ وہ اپنے اپنے ہاں ایسے انتظامات کریں گے جس سے اردگرد کے ماحول کے لئے خطرہ نہ ہو۔

گندگی تلف کرنے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ اِسے جلا کر کام چلا لیا جائے۔ اگر ہسپتال کی گندگی جلانے کا عمل کسی عمومی طریقے سے کیا جائے جس سے دھواں پیدا ہو‘ تو ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا دھواں صحت مند افراد کے لئے ’ٹی بی‘ سینے کی بیماریوں‘ معدے کی بیماریوں اور جلدی امراض کاسبب بن سکتا ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ ہسپتال کے اندر ہی کام کرنے طبی یا معاون طبی عملے کی صحت کے لئے ہوسکتا ہے‘ جنہیں مستقل بنیادوں پر ہسپتال کے اندر رہنا ہوتا ہے۔

چونکہ ہمارے ہاں ہر آنے والے مریض کا علاج کرنے سے قبل اُس کے خون کا تجزیہ کرنے کی روایت موجود نہیں اِس لئے ایمرجنسی (ہنگامی حالات) کی صورت علاج معالجے میں استعمال ہونے والے آلات سے بیک وقت ایک سے زیادہ مریضوں کی مرہم پٹی یا جراحت کی جاتی ہے۔ ایسی کوئی صورتحال یرقان‘ ایڈز وغیرہ جیسی فوری منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔ ماضی میں پشاور کے تین تدریسی ہسپتالوں (خیبرٹیچنگ‘ لیڈی ریڈنگ اُور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس) میں 32 لاکھ روپے کی لاگت سے گندگی تلف کرنے کے آلات نصب کئے گئے تھے لیکن مقام حیرت ہے کہ اُن سے خارج ہونے والا دھواں فلٹر کرنے کی فکر نہیں کی گئی‘ جو یکساں طور پر خطرناک ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مریضوں کے زیراستعمال رہنے والی ادویات یا جراحت سے بچنے والی خون آلود گندگی کو جلانے سے ایسی مہلک گیسیں ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہیں جو یکساں طور پر خطرہ ہوتی ہیں۔ ان میں Dioxin‘ Sulphur oxide‘ Nitrogen oxide اور Furanمادے شامل ہوتے ہیں۔

فروری 2013ء کے تیسرے ہفتے میں ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے ’گرین بینچ‘ نے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ہاں ٹھوس گندگی تلف کرنے کے آلات نصب کریں کیونکہ ایسا نہ کرنے کی وجہ ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔ عدالت نے محکمۂ ماحولیات کو بھی حکم دیا کہ وہ ایسے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کرے‘ جو اِن احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔ کیا یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ وہ بات جو پوری دنیا میں مسلمہ ہے کہ ہسپتالوں کی گندگی مکمل طریقے سے تلف ہونی چاہئے‘ وہ ہمارے اداروں کو بذریعہ عدالتی حکم سمجھائی جا رہی ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سرکاری ہسپتالوں نے تو خاطرخواہ انتظامات کر لئے لیکن نجی ہسپتالوں نے اپنے طور گندگی تلف کرنے کے نظام کو خفیہ کردیا‘ یعنی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور عوام کی نظروں سے دور ایک ایسا نظام بنایا گیا‘ جس میں رات کے اندھیرے میں گندگی اُٹھانے والے ’نامعلوم ٹھیکیدار‘ واردات کرجاتے۔ ایک نجی ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے ایک سو بستروں پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں‘ اِس کے علاؤہ یومیہ اُو پی ڈی الگ ہے‘ تو اِس پورے عمل میں پیدا ہونے والی گندگی تلف کرنے کے لئے کیا انتظامات کئے گئے ہیں‘ تو وہ ہکا بکا رہ گئے اور کہنے لگے ’’یہ کیسا سوال ہے؟‘‘