Showing posts with label Commissioner Abbottabad. Show all posts
Showing posts with label Commissioner Abbottabad. Show all posts

Saturday, November 4, 2017

Nov 2017: Abbottabad Documents!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

اِیبٹ آباد: دستاویزات!

امریکہ کے خفیہ اِدارے ’سنٹرل انٹلی جنس (سی آئی اے)‘ کی جانب سے سینکڑوں ہزاروں دستاویزات (تحریریں‘ تصاویر اُور ویڈیوز) جاری کرنے کے ’درپردہ مقاصد‘ کی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے‘ جس کا ایک محرک یہ بھی ہے کہ پاکستان کے بارے وہ بحث پھر سے زندہ ہو جائے جو ’دو مئی دوہزار گیارہ‘ کو سمندر میں بہا دی گئی تھی! ہر چند برس بعد ’بن لادن کی باقیات‘ منظرعام پر لاکر امریکہ نے اُس ایک کردار کو لافانی بنا دیا ہے‘ جس کی تخلیق اور خاتمے کا اعزاز (گولڈ میڈل) اُسی کے نام ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ ’بن لادن‘ کے افکار و نظریات اور اُس کی ذات محو نہ ہو پائے جسے سراپا سلامتی کے مذہب سے منسوب رکھا جا سکے۔ 

امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان کے بارے وہ دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ یہ اسلامی جمہوریہ انتہائی مطلوب دہشت گردوں کا مرکز رہا ہے اور عالمی سطح پر ’اِنسداد دہشت گردی‘ صرف اور صرف امریکی کوششوں کی مرہون منت ہے! جب اَمریکہ کی فوجی اُور سیاسی قیادت یہ کہتی ہے کہ اُنہوں نے ’بن لادن‘ کو ڈھونڈ نکالا تو وہ ’’ڈو مور (do-more)‘‘ مطالبے کے ذریعے یہ تاثر بھی دیتی ہے کہ انتہاء پسندی اور دہشت گردی جیسی انتہاؤں پر یقین کرنے والی ’بن لادن‘ کی باقیات اور نظریات کا مرکز ’پاک سرزمین‘ہے جہاں آج بھی ایسے ’آتش فشاں‘ پائے جاتے ہیں جو اگر لاوا اگلنا شروع کریں تو پوری دنیا کے امن کو تہس نہس کر سکتے ہیں! حالانکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جدید ہتھیاروں کی ایجاد و استعمال میں پہل کے ساتھ امریکہ نے دنیا کو وسیع و عریض میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے اور آج کی دنیا تعلیم و تحقیق سے لیکر معاشی و سماجی حیثیتوں میں زوال پذیر ہے کہ اگر کوئی ملک یا گروہ امریکہ کی سیاسی و اقتصادی بالادستی (پر مبنی نظریات) کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا تو اُسے سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں!

تصور کیجئے ایک ایسی دنیا کا جس میں جوہری ہتھیاروں کو براعظموں اور خلاؤں میں وار کرنے اور روائتی ہتھیاروں کو زیادہ مہلک بنانے کی مہمات کا آغاز ہو چکا ہے۔ اَمریکی فضائیہ کے مرکز میں ’مادر آف آل بمز (Mother of All Bombs)‘ کی ایجاد ’سال دوہزار تین‘ میں مکمل ہوئی اُور اِنسانی تاریخ کے اِس سب سے وزنی (نوہزارآٹھ سو کلوگرام) اور سب سے لمبے (تیس فٹ ایک اعشاریہ پچھتہر انچ) بم کو ’13اپریل 2017ء‘ کے روز مشرقی اَفغانستان (صوبہ ننگرہار) کے ضلع اچین میں ’مامند‘ نامی گاؤں پر گرایا گیا‘ جو پاک افغان سرحدی علاقہ ہے۔ دنیا کے اِس سب سے وزنی اور لمبے بم کا استعمال کرنے کے باوجود بھی (افغانستان کے محاذ پر) داعش (اسلامک اسٹیٹ) کا خاتمہ نہ ہو سکا اور وہ آج بھی امریکہ‘ افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں اپنے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن MOAB کی ایجاد نے غیرجوہری ہتھیاروں کی جس نئی دوڑ اور جس نئے دور کا آغاز کیا‘ وہ تشویشناک ہے۔ ’سال دوہزار سات‘ میں ’مادر آف آل بمز(MOAB)‘ کا جواب دیتے ہوئے ’روس‘ نے ’سات ہزار ایک سوکلوگرام‘ وزنی بم بنانے کا اعلان کیا جسے ’فادر آف آل بمز (Father of All Bombs)‘ کہا گیا اور اِس ’تھرموبیرک بم‘ کی یہ ’’خصوصیت‘‘ بطور خاص بیان کی گئی کہ یہ امریکی MOAB کی ’’گیارہ ٹن‘‘ کے مساوی دھماکہ خیزی کے مقابلے ’’چوالیس ٹن‘‘ بارود کے مساوی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ روس نے اگرچہ FOAB کا ابھی تک استعمال نہیں کیا لیکن ظاہر ہے کہ چھوٹے روائتی و جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں اگر غیرجوہری بم ایجاد کیا گیا ہے تو یہ ایجاد کم سے کم ’نمائشی مقاصد‘ کے لئے تو ہرگز نہیں کی گئی ہوگی!

امریکہ وقت اور تاریخ کو روکنا چاہتا ہے اور اُس کی خواہش یہ بھی ہے کہ دنیا آگے بڑھنے کی بجائے مسلسل پیچھے مڑ کر دیکھتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کا ’’سارا زور‘‘ آج بھی اِسی ایک نکتے پر مرکوز ہے کہ ’بن لادن‘ ایبٹ آباد چھاؤنی سے قیام پذیر رہا۔ یہ بات خود پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے لئے بھی حیرت‘ پریشانی اُور ندامت کا باعث تھی جنہوں نے ’بن لادن‘ کے ہر نشان کو مٹانے کے لئے اُس سے منسوب عمارت تک مسمار کر دی لیکن شاید ابھی ’اَمریکی ایجنڈا‘ مکمل نہیں ہوا۔ یکم اور دو مئی دوہزار گیارہ کی درمیانی شب ’بن لادن‘ کی (ایبٹ آباد) رہائش گاہ سے قبضے میں لی گئیں دستاویزات کے ذخیرے کا دوسرا حصہ جاری کیا گیا ہے‘ جو ’سی آئی اے‘ کی ویب سائٹ (www.cia.gov) سے بلاقیمت ’ڈاؤن لوڈ (حاصل)‘ کیا جا سکتا ہے‘ تاہم سوال یہ ہے کہ اِن دستاویزات کی اہمیت کیا رہ گئی ہے جبکہ ’القاعدہ نامی اُس تنظیم کا شیرازہ بکھر چکا ہے‘ جس کا قیام خود امریکہ کی مالی سرپرستی سے ہوا؟ ’اثاثہ‘ قرار دیئے گئے جنگجوؤں کے ذریعے افغان محاذ پر روس کو شکست اور بعدازاں زیادہ تر آلۂ کاروں کو چن چن کر اُن کے منطقی انجام تک پہنچانا ’عالمی حاکمیت (ورلڈ آرڈر)‘ قائم رکھنے کی چال تھی! دنیا کو ’’جنگ کا میدان‘‘ بنانے والوں کے عزائم اُس وقت تک تروتازہ رہیں گے‘ جب تک (جنگ کے نتائج) برداشت کرنے والوں کی طاقت جواب نہیں دے جاتی!
آج کی تاریخ میں فاتح (کامیاب) کون ہے؟ 

کیا زخم خوردہ ’القاعدہ ذہنیت‘ کے حوصلے پست اور ’بن لادن‘ کی ہلاکت سے انہوں نے شکست تسلیم کر لی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ’ایبٹ آباد دستاویزات‘ میں پنہاں پیغامات اُور کسی دہشت گرد تنظیم کی قیادت کرنے کے رہنما اصول جاری کئے گئے ہیں!؟ کیا ’ایبٹ آباد دستاویزات‘ جاری کرنے سے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں فائدہ ہوگا؟ جیسا کہ MOAB سے خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی‘ اِسی طرح ’بن لادن‘ اپنی زندگی ہی میں القاعدہ تنظیم کو کم ترین فعال سطح پر لے گئے تھے۔ مجموعی طور پر القاعدہ ’سولہ برس‘ سے زائد عرصے میں امریکی سرزمین پر سوائے ’نائن الیون‘ کوئی دوسری بڑی کاروائی نہیں کر سکی جس کی وجہ امریکہ کا مضبوط داخلی دفاع ’ہوم لینڈ سیکورٹی‘ تھی لیکن اِسے محدود رکھا گیا اور آج بھی جبکہ ’ایبٹ آباد دستاویزات‘ جاری کی گئیں تو اِن کا تبادلہ بطور خفیہ معلومات اُن اتحادی ممالک بشمول پاکستان سے نہیں کیا گیا‘ جو انسداد دہشت گردوں کی باوجود سنجیدہ عملی کوششوں بھی وسائل کی کمی کے باعث الجھا ہوا ہے۔ 

ایبٹ آباد دستاویزات سے ثابت ہوا ہے کہ القاعدہ جنوب ایشیاء اور مغربی افریقہ کے ممالک میں پھیلتی چلی گئی اور اِس کے تربیت یافتہ جنگجوؤں نے کئی ایک تنظیموں کو جنم دیا‘ جن سے ’بن لادن‘ کے ساتھ رابطوں کا اِنکشاف ’ناقابل تردید ریکارڈ‘ کا حصہ ہے۔ انہی دستاویزات کی بدولت دنیا ’حمزہ بن لادن‘ کی شکل و صورت بھی پہچان گئی ہے کیونکہ سال 2015ء سے القاعدہ نے ویڈیو پیغامات جاری کرنے کا سلسلہ ختم کردیا تھا اور اِس عرصے میں بن لادن صرف ’صوتی (آڈیو)‘ پیغامات ہی جاری کرتے رہے جن کے ذریعے وہ ’جہادی حلقوں‘ میں اپنے جانشین بیٹے حمزہ کو متعارف کروایا لیکن القاعدہ کی جانب سے حمزہ کی کوئی بھی تصویر جاری نہیں کی گئی تاکہ اُن کی شناخت خفیہ رکھی جا سکے لیکن امریکہ نے ایک نئے بن لادن کو جنم دیا ہے۔ 

اٹھائیس سالہ ’حمزہ بن لادن‘ ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کاروائی سے چند ہفتے قبل کسی دوسرے مقام پر منتقل ہو گیا تھا‘ جس کی زندہ و مردہ تلاش کرنے والے یہ کہتے ہوئے دنیا کو ایک مرتبہ پھر غیرمحفوظ ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں کہ حمزہ بن لادن اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے عزائم رکھتا ہے! ’اَیبٹ آباد دستاویزات‘ میں ’228 صفحات‘ پر مشتمل ’بن لادن‘ کی تحریرکردہ ذاتی یاداشتیں بھی ہیں‘ جن میں عالمی حالات و واقعات اور بالخصوص عرب دنیا کی سیاست پر اُن کے تاثرات درج ہیں اور اِن سے معلوم ہوا ہے کہ ’القاعدہ‘ تیزی سے بدلتے حالات پر نظریں جمائے مواقعوں کی تلاش میں رہتی تاکہ کسی ملک کے داخلی انتشار سے فائدہ اُٹھا سکے۔
۔

Sunday, March 26, 2017

Mar2017: Clean Abbottabad & Priorities!

ژرف نگاہ .... شبیر حسین اِمام
ترقئ معکوس!
شہری ترقی کا معیار اُور فیصلہ سازوں کی ترجیحات دیکھ کر بخوبی اَندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ہم تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں تو اِس کے محرکات کیا ہیں۔ شاہراہ قراقرم کے کنارے اَیبٹ آباد شہر اُور چھاو ¿نی پر مشتمل یونین کونسلوں کا آغاز اگر ’سلہڈ‘ سے تصور کیا جائے تو شہر کی آخری یونین کونسل ’میرپور‘ ہو گی اُور دیہی و شہری علاقوں پر مشتمل ضلع اَیبٹ آباد کی پچاس سے زائد یونین کونسلوں میں ترقی کی کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ عام آدمی اور خواص کے لئے سہولیات کا معیار الگ الگ ہے۔

یونین کونسل میرپور کی کہانی ملاحظہ کیجئے جہاں ’سول آفیسرز کالونی اور عثمان آباد‘ جیسے گنجان آباد علاقوں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر بنایا جانے والا نکاسئ آب کے ایک نالے کی سلاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور یہی منظر یونین کونسل کاکول سے جڑی کینٹ بورڈ کی ’وارڈ نمبر 5‘ کا بھی ہے جہاں ’پی ایم اے‘ روڈ کا ایک حصہ توسیعی منصوبے میں آنے کے بعد متبادل سڑک تعمیر کی گئی لیکن اِس تعمیر کا معیار اِس قدر ناقص و نامکمل ہے‘ کہ نالے پر بنائی جانے والی پل سے آہنی سلاخیں ابھری ہوئی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہلکی و بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے تمام دن اُور رات استعمال ہونے والا سڑک کا یہ ٹکڑا ’موت کا پھندا‘ ہے۔ ایسے کئی موت کے پھندے ’فوارہ چوک‘ سے ’اَے پی اَیس سکول‘ تک سڑک کے دونوں کناروں پر ’آپٹیکل فائبر‘ تار بچھانے کی صورت پھیلے ہوئے ہیں لیکن عام آدمی (ہم عوام) کی جان و مال ہو‘ صحت و تعلیم یا پینے کے صاف پانی اُور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی‘ سمیت جملہ حقوق اُس کی مالی و سیاسی حیثیت سے مشروط ہیں!

1849ءسے 1853ءتک تعینات رہنے والے پہلے ’ڈپٹی کمشنر‘ میجر جیمس اَیبٹ کے نام سے منسوب ’اَیبٹ آباد‘ کا شمار خیبرپختونخوا کے اِنتہائی تیزی سے پھیلنے والے شہری علاقوں میں ہوتا ہے۔ خوشگوار آب و ہوا کے لئے معروف اَیبٹ آباد میں اگر تعمیرات اُور ترقی کے مقررہ پیمانوں (قواعد و ضوابط) پر خاطرخواہ عملدرآمد ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ اِس قدر بے ہنگم و اَبتر صورتحال دَرپیش ہوتی۔ سردست صورتحال یہ ہے کہ آبادی اُور رقبے کے لحاظ ’فوجی چھاونی‘ (کنٹونمنٹ) محدود ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ”میونسپلٹی (ٹاو ¿ن میونسپل اِتھارٹی)“ کے زیرکنٹرول علاقوں میں ’نئی رہائشی کالونیاں‘ بن رہی ہیں تو کیا یہ مسئلہ بھی حکام کی توجہات کا مرکز ہے؟ ’آٹھ مارچ‘ کی صبح ’کمشنر ہزارہ‘ کی زیرصدارت کنٹونمنٹ بورڈ‘ بلدیاتی و دیگر منتخب نمائندوں کے اِجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ”21 اُور 22 مارچ“ کو 2 روزہ ’صفائی کی مہم‘ چلائی جائے گی جس میں ایبٹ آباد کے ہر حصے کو رضاکاروں بالخصوص طلباءو طالبات کی مدد سے صاف کیا جائے گا اور اِسی کوشش کے ذریعے صفائی سے متعلق ’عوام الناس‘ میں شعور اجاگر کیا جائے گا لیکن کمشنر ہزارہ جیسی بااختیار شخصیت اور کمانڈنٹ و چیف ایگزیکٹو آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ کی موجودگی میں ہوئے ایک اجتماعی فیصلے کو بعدازاں عمل درآمد کے قابل نہیں سمجھا گیا تو اِس سے فیصلہ سازوں کی ترجیحات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں جنہیں اپنا گھر اور اپنے گھر سے جڑی چند گلیوں کی صفائی دیکھ کر اطمینان ہو جاتا ہے کہ باقی ماندہ شہر میں بھی صفائی ستھرائی کی صورتحال ایسی ہی ہوگی!

ایبٹ آباد سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی کارکردگی ملاحظہ کیجئے جنہوں نے پانچ لاکھ روپے سے زائد رقم ایک ایسے ”مطالعاتی دورے“ پر خرچ کر ڈالی ہے‘ جس کا حاصل سوائے تفریح اور تھکاوٹ کچھ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تحصیل آیبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی نمائندے 13 مارچ سے 22 مارچ تک لاہور‘ ملتان‘ سکھر‘ سیہون شریف‘ کراچی‘ زیارت‘ کوئٹہ اُور ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کرکے بخیروعافیت واپس لوٹ آئے ہیں۔ مقام شُکر یہ ہے کہ چوبیس رکنی وفد کی قیادت کرنے والے تحصیل ناظم اِسحاق سلیمانی نے ’پانچ رکنی‘ اِنتظامی کمیٹی کی سربراہی سیاسی مخالف جماعت ’نواز لیگ‘ کے ایک نمائندہ کو سونپی‘ جس سے معلوم ہوا کہ اگر معاملہ تفریح طبع کا ہو تو سیاسی مخالفت اُور اختلافات خاطرمیں نہیں لائے جاتے۔ خدا کرے کہ قومی وسائل سے مل جل کر مستفید ہونے کی طرح عام آدمی (ہم عوام) کے مسائل کے حل کے لئے بھی اسی قسم کے بابرکت اتحاد و اتفاق کی مثالیں عام ہوں!

ایبٹ آباد کی چار یونین کونسلوں کے علاوہ شہر میں کہیں صفائی کا نظام موجود نہیں۔ کوڑے کے ڈھیروں پر ڈھیر بن رہے ہیں۔ ایک ایسا شہر جس میں یومیہ ڈھائی لاکھ کلوگرام گندگی اکٹھا ہو لیکن یومیہ ایک لاکھ کلوگرام سے کم گندگی اٹھائی جا رہی ہو تو تصور محال نہیں کہ آنے والے موسم گرما میں ایبٹ آباد میں کتنے مچھروں اور مکھیوں کی آبادی میں اضافہ ہوگا!

حال ہی میں ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی)‘ کو ایبٹ آباد تک وسعت دی گئی ہے تو یہ تجربہ بھی مسئلے کا پائیدار حل ثابت نہ ہوسکا بلکہ اپنی جگہ پر ایک ایسا مسئلہ ہے جو حل (توجہ) چاہتا ہے کیونکہ ’الاماشاءاللہ‘ پہلے ہی کام نہ کرنے والے سرکاری اِداروں کی کیا کم کمی تھی جو ایک اُور ادارے کا اضافہ کر دیا گیا بہرکیف یہ امر بھی حیرت کا باعث ہے کہ مذکورہ کمپنی نے دفتر کے لئے ’پوش ایریا‘ کا انتخاب کیا اور اب تک ملنے والے دو کروڑ روپے جیسی رقم بھی دفتری ضروریات اُور دفتر کے حصول پر ہی خرچ کی گئی لیکن اِس کمپنی کا بنیادی کام جو کہ گندگی صرف اُٹھانا نہیں بلکہ اُسے تلف کرنا‘ نکاسئ آب اور ہر خاص و عام کے لئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے جیسا بنیادی کام نہیں ہوسکا!

عام آدمی (ہم عوام) کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں تو اِس کی وجہ خاموشی اُور تجاہل عارفانہ ہے۔ آفیسرز کالونی میں رہنے والے اگر بیچ سڑک سر اُٹھائے آہنی سلاخوں سے اُلجھ اُلجھ کر بھی زندہ ہیں اُور ’پی اَیم اَے کاکول روڈ‘ سے اِستفادہ کرنے والے ایک مستقل عذاب و ذلت برداشت کرنے پر بھی خاموش ہیں تو برداشت کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے اُور برداشت کی بھی کوئی نہ کوئی حد تو ضرور ہونی چاہئے۔

Sunday, June 12, 2016

Jun2016: Resources for few!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِستحقاق: احساس محرومی اُور دُکھ!
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شریں مزاری کی تسلی و تشفی نہیں ہو رہی جبکہ اُن کی ذات کو نشانہ بنانے والے توہین آمیز جملوں کو نہ صرف قومی اسمبلی کی کاروائی (ریکارڈ) سے نکال دیا گیا ہے بلکہ اِنتہائی اَہم وفاقی بجٹ اِجلاس میں سپیکر کے نام لکھے خواجہ آصف نے تحریری بیان میں ’غیرمشروط‘ معافی مانگتے ہوئے طویل سیاسی سفر کا حوالہ بھی دیا ہے اور جاتے جاتے یہ بھی کہا ہے کہ ’’تقریر کے دوران لقمہ دینے والوں کو جواب دیا‘ تو یہ غلطی میں شمار نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ اِس عمومی منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کیا استحقاق صرف اراکین اسمبلیوں ہی کے مجروح ہوتے ہیں؟ کیا تعلیم و صحت اُور بنیادی سہولیات بشمول ’’پینے کے پانی‘‘ سے محروم لوگوں کے مسائل کی وجہ بننے والے سرکاری اِداروں کی ناقص کارکردگی توجہ نہیں چاہتی؟

ایبٹ آباد کی یونین کونسل میرپور میں ’آفیسرز کالونی‘ کے علاقے کی وجۂ شہرت سرکاری ملازمین کی ایک رہائشی بستی ہے جس میں مکانات کی تعداد کم وبیش 50 اُور اگر رہائشیوں بشمول ڈرائیورز‘ گھریلو ملازمین و سیکورٹی گارڈز کو بھی شمار کر لیا جائے تو اِس چاردیواری کے اندر رہنے والوں کی کل تعداد کسی بھی طرح 500 افراد سے زیادہ نہیں جن کے لئے پانی کی فراہمی کے لئے ساڑھے چھ سو فٹ گہرے کنویں پر ’’10ہارس پاور‘‘ کی ٹیوب ویل مشین نصب ہے‘ اور اگر اِس مشین سے پانی کے اخراج کی صلاحیت پر بھروسہ کیا جائے تو یہ یومیہ 5سے 6ہزار افراد کی ضروریات (آبنوشی) کے لئے کافی ہے لیکن کیا عجب کہ جون کے اختتام کے قریب ’پانی کی ایسی مصنوعی قلت‘ پیدا کر دی گئی ہو‘ جس کا حل کرنے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑیں۔ موجودہ کنویں میں پانی کی سطح اِس حد تک کم ہو گئی ہے کہ چند گھنٹے چلنے کے بعد مشین کو پانی ہی میسر نہیں ہوتا کہ وہ دے سکے! یہی سبب ہے کہ پچاس گھروں کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں تھیں تو ایک وفد کی صورت اعلیٰ عہدوں پر فائز مذکورہ کالونی کے رہائشی سرکاری ملازمین متعلقہ ’سی اینڈ ڈبلیو‘ اور ’کمشنر‘ کے دفتر جا پہنچے تاکہ 1: ’سی اینڈ ڈبلیو‘ کی نگرانی چلنے والے اِس ٹیوب ویل پر نصب موٹر کی طاقت ’دس ہارس پاور‘ سے بڑھائی جائے لیکن اگر زیرزمین پانی کی سطح کم ہونے کا مسئلہ ہے تو ایک عدد نیا ٹیوب ویل کھودا جائے‘ نیا ترسیلی نظام بنایا جائے‘ جس پر لاگت کا تخمینہ کم سے کم بیس سے پچیس لاکھ روپے ہوگا۔ 2: مذکورہ ٹیوب ویل سے سرکاری ملازمین کے بغیر جو مقامی افراد پانی حاصل کر رہے ہیں اُن کے کنکشن کاٹ دیئے جائیں کیونکہ وہ اِس بات کا استحقاق ہی نہیں رکھتے کہ سرکاری ٹیوب ویل سے پانی حاصل کریں! چونکہ بات سرکاری ملازمین کے مفاد کی ہو رہی تھی تو بناء تحقیق حکمنامے کے ذریعے آفیسرز کالونی کی چاردیواری سے متصل انگلیوں پر شمار ہونے والے چند مقامی افراد کو پینے کے پانی کی فراہمی کا سلسلہ منقطع کردیا گیا۔ اگر ’کمشنر ایبٹ آباد‘ انصاف کے تقاضے پورے کرتے‘ اگر متعلقہ تھانے کے نگران پانی کا تقاضا کرنے والوں سے بل ادا کرنے کی رسیدیں اور اُن سے تحریری شکایت درج کرانے کا مطالبہ کرنے کے علاؤہ معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے تشریف لے جاتے تو اُنہیں درج ذیل حقائق سے آگہی ہوتی۔ 1: آفیسرز کالونی سے ملحقہ ’مقامی (لوکل) آبادی‘ میں پینے کے صاف پانی کی قلت اِس بستی کے آباد ہونے سے موجود ہے لیکن پورے علاقے بشمول کالونی کو پانی کی فراہمی کی بجائے حکومتی وسائل ایک کالونی کے اندر چند درجن گھروں پر خرچ کر دیئے گئے جبکہ یہی پیسہ اور یہی ایک ٹیوب ویل پورے علاقے کی ضروریات کے لئے بھی کافی ہو سکتا تھا۔

2: مالی وسائل رکھنے والوں نے جن مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گھروں میں کنویں کھود رکھے ہیں‘ ان کے لئے ’بورنگ‘ سے حاصل ہونے والا پانی انسانی استعمال کے لئے مناسب نہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ 200فٹ گہرائی سے حاصل کیا جانے والا پانی ’’بدذائقہ اُور بو‘‘ جیسا مزاج رکھتا ہے۔

3: آفیسرز کالونی سے ملحقہ ایک درجن میں سے صرف دو گلیوں کی کل آبادی بشمول کالونی کی چاردیواری میں اندر رہنے والوں کا شمار کسی بھی طرح ایک ہزار افراد سے کم ہے جبکہ ٹیوب ویل اگر اپنی ایک تہائی استعداد کے مطابق 2 ہزار افراد کی یومیہ ضروریات کی کفالت کر سکتا ہے تو ایسا کیوں نہیں ہوسکتا ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹے یا سات دن میں کسی ایک دن پانی اُن لوگوں کو بھی دیا جائے تو سرکاری کالونی کی چاردیواری کے اردگرد پیاسے ہیں اور اپنی ضروریات کے لئے پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں!؟ کیا سرکاری ملازمین کو تنخواہیں اور مراعات اُن عوام کے پیسے سے نہیں مل رہیں‘ جن پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا؟

4: سرکاری ٹیوب ویل کے استعمال پر خرچ ہونے والی بجلی اُور ٹیوب ویل کی دیکھ بھال (آن آف) کرنے کے لئے دو نگران بھی چوبیس گھنٹے مقرر ہیں‘ جسے کالونی کے اندر ہی وسیع و عریض رہائش اور سہولیات دی گئیں ہیں لیکن وہ کسی بھی مکین سے پانی کا بل وصول کرنے کا اختیار یا ذمہ داری نہیں رکھتے۔ سالہا سال سے بناء پانی کا بل اَدا کئے پانی استعمال کرنے والے اعلیٰ و اَدنی سرکاری ملازمین نے اِس بات کو اپنا ’استحقاق‘ سمجھ لیا ہے کہ وہ بناء قیمت ادا کئے جتنا چاہے پانی استعمال کریں چاہے وہ کھیتی باڑی کے لئے ہو‘ باغ باغیچوں کو تروتازہ رکھنے کے لئے ہو‘ گاڑیاں اور پالتو جانوروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے ہو یا پھر گھربار کی جملہ ضروریات اور صفائی ستھرائی کے لئے جس قدر چاہیں پانی استعمال کریں لیکن اِس پانی کی ایک بوند بھی چاردیواری کے باہر کسی کو نہیں ملنی چاہئے۔ مذکورہ کالونی میں ایسے سرکاری ملازمین بھی اپنے سیاسی اثرورسوخ سے رہائش پذیر ہیں جنہیں گھر خالی کرنے کے نوٹس جاری ہو چکے ہیں لیکن کوئی اُن کی طرف نہیں دیکھ سکتا! (جس کی لاٹھی اُس کی بھینس)

5: استحقاق سے محروم ’آفیسرز کالونی‘ سے ملحقہ آبادی کے رہنے والوں کے لئے یہ منظر انوکھا (سرپرائز) نہیں کہ سرکاری نمبر پلیٹ والی ڈبل کیبن گاڑیوں میں بڑے بڑے ڈرموں (برتنوں) کے ذریعے چشموں سے پانی لایا جاتا ہے کیونکہ سرکاری آفیسر وہ پانی پینے کے لئے استعمال میں نہیں لاتے جو مذکورہ ٹیوب ویل سے ایک بالائی پانی کے ٹینک میں ذخیرہ کرکے ہمہ وقت فراہم کیا جاتا ہے اور گذشتہ دو دہائیوں سے زائد تعمیر ہونے والے اِس پانی کی ٹینکی کی صفائی کب سے نہیں ہوئی‘ کوئی نہیں جانتا کیونکہ کائی (فنگس) ملے محلول کی بوند بوند کو ترسنے والوں کے لئے یہی پانی کسی نعمت سے کم نہیں اور (الاماشاء اللہ) یہ نعمت (متروکہ) بھی چھین لی گئی ہے!

6: کمشنر ’صاحب بہادر‘ کو تحقیقات کی صورت یہ حقیقت بھی معلوم ہوتی کہ جو پانی اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے پالتو جانوروں کو پینے کے لئے نہیں دیا جاتا اُسی پر گزر بسر کرنے والے چند گھرانے ماہ رمضان المبارک میں کس عذاب سے گزر رہے ہیں اور کیا ملحقہ لوکل آبادی کے جن گھروں کو سرکاری پانی میسر تھا‘ اُن کے گھروں میں گاڑیاں‘ باغ باغیچے‘ کھیت یا پالتو جانور ہیں جن کی ضروریات پر اچانک اتنا بے تحاشہ پانی خرچ (ضائع) ہونے لگا ہے کہ قلت ہی پیدا ہو گئی ہے!

7: خاکم بدہن کہانی کا ’حیران کن‘ پہلو یہ بھی ہے کہ ماہ جون کے اِختتام سے قبل سرکاری اِداروں کے نگرانوں کو فکر کھا جاتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے حصّے کا ’باقی ماندہ‘ بجٹ یہاں وہاں خرچ کریں! اور اِس سے زیادہ منطقی بات اُور کیا ہوسکتی ہے کہ پینے کے پانی کی قلت دور کر دی جائے۔ اگر کمشنر صاحب زحمت کرتے اُور ’پانی کی مصنوعی قلت‘ کے اسباب و وجوہات کی تہہ میں جاتے تو دیگر اسباب کے ساتھ یہ بات بھی عیاں ہو جاتی کہ کس طرح چند فیصلہ سازوں کو اپنا مالی مفاد عزیز ہے اور وہ سرکاری وسائل پر اپنے صوابدیدی و غیرصوابدیدی اختیارات کا استعمال کتنی ’بے رحمی‘ سے بلاتھکان کر رہے ہیں!‘‘
Water shortage in Officers' colony and role of govt officials & departments