Showing posts with label Osama Bin Laden. Show all posts
Showing posts with label Osama Bin Laden. Show all posts

Saturday, November 4, 2017

Nov 2017: Abbottabad Documents!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

اِیبٹ آباد: دستاویزات!

امریکہ کے خفیہ اِدارے ’سنٹرل انٹلی جنس (سی آئی اے)‘ کی جانب سے سینکڑوں ہزاروں دستاویزات (تحریریں‘ تصاویر اُور ویڈیوز) جاری کرنے کے ’درپردہ مقاصد‘ کی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے‘ جس کا ایک محرک یہ بھی ہے کہ پاکستان کے بارے وہ بحث پھر سے زندہ ہو جائے جو ’دو مئی دوہزار گیارہ‘ کو سمندر میں بہا دی گئی تھی! ہر چند برس بعد ’بن لادن کی باقیات‘ منظرعام پر لاکر امریکہ نے اُس ایک کردار کو لافانی بنا دیا ہے‘ جس کی تخلیق اور خاتمے کا اعزاز (گولڈ میڈل) اُسی کے نام ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ ’بن لادن‘ کے افکار و نظریات اور اُس کی ذات محو نہ ہو پائے جسے سراپا سلامتی کے مذہب سے منسوب رکھا جا سکے۔ 

امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان کے بارے وہ دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ یہ اسلامی جمہوریہ انتہائی مطلوب دہشت گردوں کا مرکز رہا ہے اور عالمی سطح پر ’اِنسداد دہشت گردی‘ صرف اور صرف امریکی کوششوں کی مرہون منت ہے! جب اَمریکہ کی فوجی اُور سیاسی قیادت یہ کہتی ہے کہ اُنہوں نے ’بن لادن‘ کو ڈھونڈ نکالا تو وہ ’’ڈو مور (do-more)‘‘ مطالبے کے ذریعے یہ تاثر بھی دیتی ہے کہ انتہاء پسندی اور دہشت گردی جیسی انتہاؤں پر یقین کرنے والی ’بن لادن‘ کی باقیات اور نظریات کا مرکز ’پاک سرزمین‘ہے جہاں آج بھی ایسے ’آتش فشاں‘ پائے جاتے ہیں جو اگر لاوا اگلنا شروع کریں تو پوری دنیا کے امن کو تہس نہس کر سکتے ہیں! حالانکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جدید ہتھیاروں کی ایجاد و استعمال میں پہل کے ساتھ امریکہ نے دنیا کو وسیع و عریض میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے اور آج کی دنیا تعلیم و تحقیق سے لیکر معاشی و سماجی حیثیتوں میں زوال پذیر ہے کہ اگر کوئی ملک یا گروہ امریکہ کی سیاسی و اقتصادی بالادستی (پر مبنی نظریات) کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا تو اُسے سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں!

تصور کیجئے ایک ایسی دنیا کا جس میں جوہری ہتھیاروں کو براعظموں اور خلاؤں میں وار کرنے اور روائتی ہتھیاروں کو زیادہ مہلک بنانے کی مہمات کا آغاز ہو چکا ہے۔ اَمریکی فضائیہ کے مرکز میں ’مادر آف آل بمز (Mother of All Bombs)‘ کی ایجاد ’سال دوہزار تین‘ میں مکمل ہوئی اُور اِنسانی تاریخ کے اِس سب سے وزنی (نوہزارآٹھ سو کلوگرام) اور سب سے لمبے (تیس فٹ ایک اعشاریہ پچھتہر انچ) بم کو ’13اپریل 2017ء‘ کے روز مشرقی اَفغانستان (صوبہ ننگرہار) کے ضلع اچین میں ’مامند‘ نامی گاؤں پر گرایا گیا‘ جو پاک افغان سرحدی علاقہ ہے۔ دنیا کے اِس سب سے وزنی اور لمبے بم کا استعمال کرنے کے باوجود بھی (افغانستان کے محاذ پر) داعش (اسلامک اسٹیٹ) کا خاتمہ نہ ہو سکا اور وہ آج بھی امریکہ‘ افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں اپنے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن MOAB کی ایجاد نے غیرجوہری ہتھیاروں کی جس نئی دوڑ اور جس نئے دور کا آغاز کیا‘ وہ تشویشناک ہے۔ ’سال دوہزار سات‘ میں ’مادر آف آل بمز(MOAB)‘ کا جواب دیتے ہوئے ’روس‘ نے ’سات ہزار ایک سوکلوگرام‘ وزنی بم بنانے کا اعلان کیا جسے ’فادر آف آل بمز (Father of All Bombs)‘ کہا گیا اور اِس ’تھرموبیرک بم‘ کی یہ ’’خصوصیت‘‘ بطور خاص بیان کی گئی کہ یہ امریکی MOAB کی ’’گیارہ ٹن‘‘ کے مساوی دھماکہ خیزی کے مقابلے ’’چوالیس ٹن‘‘ بارود کے مساوی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ روس نے اگرچہ FOAB کا ابھی تک استعمال نہیں کیا لیکن ظاہر ہے کہ چھوٹے روائتی و جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں اگر غیرجوہری بم ایجاد کیا گیا ہے تو یہ ایجاد کم سے کم ’نمائشی مقاصد‘ کے لئے تو ہرگز نہیں کی گئی ہوگی!

امریکہ وقت اور تاریخ کو روکنا چاہتا ہے اور اُس کی خواہش یہ بھی ہے کہ دنیا آگے بڑھنے کی بجائے مسلسل پیچھے مڑ کر دیکھتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کا ’’سارا زور‘‘ آج بھی اِسی ایک نکتے پر مرکوز ہے کہ ’بن لادن‘ ایبٹ آباد چھاؤنی سے قیام پذیر رہا۔ یہ بات خود پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے لئے بھی حیرت‘ پریشانی اُور ندامت کا باعث تھی جنہوں نے ’بن لادن‘ کے ہر نشان کو مٹانے کے لئے اُس سے منسوب عمارت تک مسمار کر دی لیکن شاید ابھی ’اَمریکی ایجنڈا‘ مکمل نہیں ہوا۔ یکم اور دو مئی دوہزار گیارہ کی درمیانی شب ’بن لادن‘ کی (ایبٹ آباد) رہائش گاہ سے قبضے میں لی گئیں دستاویزات کے ذخیرے کا دوسرا حصہ جاری کیا گیا ہے‘ جو ’سی آئی اے‘ کی ویب سائٹ (www.cia.gov) سے بلاقیمت ’ڈاؤن لوڈ (حاصل)‘ کیا جا سکتا ہے‘ تاہم سوال یہ ہے کہ اِن دستاویزات کی اہمیت کیا رہ گئی ہے جبکہ ’القاعدہ نامی اُس تنظیم کا شیرازہ بکھر چکا ہے‘ جس کا قیام خود امریکہ کی مالی سرپرستی سے ہوا؟ ’اثاثہ‘ قرار دیئے گئے جنگجوؤں کے ذریعے افغان محاذ پر روس کو شکست اور بعدازاں زیادہ تر آلۂ کاروں کو چن چن کر اُن کے منطقی انجام تک پہنچانا ’عالمی حاکمیت (ورلڈ آرڈر)‘ قائم رکھنے کی چال تھی! دنیا کو ’’جنگ کا میدان‘‘ بنانے والوں کے عزائم اُس وقت تک تروتازہ رہیں گے‘ جب تک (جنگ کے نتائج) برداشت کرنے والوں کی طاقت جواب نہیں دے جاتی!
آج کی تاریخ میں فاتح (کامیاب) کون ہے؟ 

کیا زخم خوردہ ’القاعدہ ذہنیت‘ کے حوصلے پست اور ’بن لادن‘ کی ہلاکت سے انہوں نے شکست تسلیم کر لی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ’ایبٹ آباد دستاویزات‘ میں پنہاں پیغامات اُور کسی دہشت گرد تنظیم کی قیادت کرنے کے رہنما اصول جاری کئے گئے ہیں!؟ کیا ’ایبٹ آباد دستاویزات‘ جاری کرنے سے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں فائدہ ہوگا؟ جیسا کہ MOAB سے خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی‘ اِسی طرح ’بن لادن‘ اپنی زندگی ہی میں القاعدہ تنظیم کو کم ترین فعال سطح پر لے گئے تھے۔ مجموعی طور پر القاعدہ ’سولہ برس‘ سے زائد عرصے میں امریکی سرزمین پر سوائے ’نائن الیون‘ کوئی دوسری بڑی کاروائی نہیں کر سکی جس کی وجہ امریکہ کا مضبوط داخلی دفاع ’ہوم لینڈ سیکورٹی‘ تھی لیکن اِسے محدود رکھا گیا اور آج بھی جبکہ ’ایبٹ آباد دستاویزات‘ جاری کی گئیں تو اِن کا تبادلہ بطور خفیہ معلومات اُن اتحادی ممالک بشمول پاکستان سے نہیں کیا گیا‘ جو انسداد دہشت گردوں کی باوجود سنجیدہ عملی کوششوں بھی وسائل کی کمی کے باعث الجھا ہوا ہے۔ 

ایبٹ آباد دستاویزات سے ثابت ہوا ہے کہ القاعدہ جنوب ایشیاء اور مغربی افریقہ کے ممالک میں پھیلتی چلی گئی اور اِس کے تربیت یافتہ جنگجوؤں نے کئی ایک تنظیموں کو جنم دیا‘ جن سے ’بن لادن‘ کے ساتھ رابطوں کا اِنکشاف ’ناقابل تردید ریکارڈ‘ کا حصہ ہے۔ انہی دستاویزات کی بدولت دنیا ’حمزہ بن لادن‘ کی شکل و صورت بھی پہچان گئی ہے کیونکہ سال 2015ء سے القاعدہ نے ویڈیو پیغامات جاری کرنے کا سلسلہ ختم کردیا تھا اور اِس عرصے میں بن لادن صرف ’صوتی (آڈیو)‘ پیغامات ہی جاری کرتے رہے جن کے ذریعے وہ ’جہادی حلقوں‘ میں اپنے جانشین بیٹے حمزہ کو متعارف کروایا لیکن القاعدہ کی جانب سے حمزہ کی کوئی بھی تصویر جاری نہیں کی گئی تاکہ اُن کی شناخت خفیہ رکھی جا سکے لیکن امریکہ نے ایک نئے بن لادن کو جنم دیا ہے۔ 

اٹھائیس سالہ ’حمزہ بن لادن‘ ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کاروائی سے چند ہفتے قبل کسی دوسرے مقام پر منتقل ہو گیا تھا‘ جس کی زندہ و مردہ تلاش کرنے والے یہ کہتے ہوئے دنیا کو ایک مرتبہ پھر غیرمحفوظ ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں کہ حمزہ بن لادن اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے عزائم رکھتا ہے! ’اَیبٹ آباد دستاویزات‘ میں ’228 صفحات‘ پر مشتمل ’بن لادن‘ کی تحریرکردہ ذاتی یاداشتیں بھی ہیں‘ جن میں عالمی حالات و واقعات اور بالخصوص عرب دنیا کی سیاست پر اُن کے تاثرات درج ہیں اور اِن سے معلوم ہوا ہے کہ ’القاعدہ‘ تیزی سے بدلتے حالات پر نظریں جمائے مواقعوں کی تلاش میں رہتی تاکہ کسی ملک کے داخلی انتشار سے فائدہ اُٹھا سکے۔
۔

Wednesday, May 3, 2017

May2017: 6th Anniversary OBL

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
راز نہاں!
چھ سال گزر گئے۔ عسکریت پسند القاعدہ تنظیم کے سربراہ ’اُسامہ بن لادن‘ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا سراغ لگانے اور اُسے فوجی کاروائی میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کی طرح پاکستان حکومت نے بھی ضروری نہیں سمجھا ہے کہ وہ ’آپریشن نیپچون سپیئر (Operation Neptune Spear)‘ کی تفصیلات‘ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور ’ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ‘ کی صورت حقائق منظر پر لائیں تاکہ دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں اُن ذمہ داروں کا تعین یا حفاظتی حکمت عملی میں موجود خامیوں کی نشاندہی ممکن ہو سکے جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کا ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد بمعہ اہل خانہ طویل یا قلیل عرصے تک فوجی چھاؤنی کی حدود میں قیام پذیر رہا‘ اُور اُس کی پاکستان میں موجودگی عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بھی بنی! 

لمحۂ فکریہ ہے کہ جن سیکورٹی نقائص کا فائدہ اٹھایا گیا آخر اِس بات کی گارنٹی کیا ہے کہ مزید دہشت گرد ضلع ایبٹ آباد کے میدانی و پہاڑی علاقوں کا استعمال نہیں کر رہے ہوں گے!

چھ سال گزر گئے۔ اُسامہ بن لادن کے زیراستعمال قلعہ نما مکان کو مسمار کرکے ہر ایک اینٹ الگ الگ کر دی گئی لیکن 38ہزار مربع فٹ (قریب ایک سو چالیس مرلہ) اراضی کی ملکیت کا تنازعہ تاحال حل نہ ہوسکا ہے‘ جس کے بارے میں صوبائی حکومت کے ذمہ دار اور ایبٹ آباد چھاؤنی (کنٹونمنٹ) کی انتظامیہ الگ الگ دعوے رکھتے ہیں‘ چونکہ مذکورہ اراضی ’ٹھنڈا چوہا‘ نامی ایک ایسے رہائشی علاقے کے وسط میں موجود ہے‘ جہاں آمدنی کے لحاظ سے متوسط طبقات کی اکثریت آباد ہے اور جہاں اوسط گھر پانچ سے دس مرلہ پر مشتمل ہیں‘ اِس لئے ایک بڑا ’قطعۂ اراضی‘ سبھی کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ جس کی تین فٹ چاردیواری بنا دی گئی ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے ’وال چاکنگ‘ بھی کر دی گئی ہے کہ ’’یہ اراضی صوبائی حکومت کی ملکیت ہے۔‘‘ لیکن اِس سے زیادہ عملی اقدامات (جرأت) کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ جب اُسامہ بن لادن کی ’قیام گاہ‘ رہے مکان کو مسمار کیا جا رہا تھا تو سب سے پہلا تاثر یہ سامنے آیا کہ اِس مقام پر پبلک پارک بنایا جائے گا۔ دوسرا مطالبہ اِس مقام پر عوامی قبرستان بنانے کا تھا اور حال ہی میں اہل علاقہ کی جانب سے تیسرا مطالبہ یہ سامنے آیا ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومت اِس مقام پر سرکاری سکول تعمیر کرے۔
چھ سال گزر گئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جس معاملے کو ’رفع دفع‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں‘ وہ اپنی جگہ اہمیت بھی رکھتا ہے اور باریک بینی سے زیربحث بھی آنا چاہئے لیکن ’اُسامہ کمپاؤنڈ‘ پر خدشات کے بادل بدستور چھائے ہوئے ہیں! 

حقائق کیا ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن بلال ٹاؤن (ٹھنڈا چوہا) کے رہائشی اُسامہ سے ایک تعلق بنا بیٹھے ہیں اور اُس 900میٹر طویل گلی کا نام بھی غیرسرکاری طور پر اُسامہ ہی کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے جس کا چھ سو میٹر حصہ پختہ اور وہ تین سو میٹر خستہ حال ہے‘ جہاں سے اُسامہ سے منسوب چاردیواری کی حدود شروع ہوتی ہے۔ سفید ریش زین لالہ اور اسلم لالہ کا بیشتر وقت اُن درجنوں بچوں کی طرح اُس قطعہ اراضی پر گزرتا ہے‘ جو ایک وسیع وعریض سبزہ زار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بچے کرکٹ کھیلتے ہیں۔ بزرگ درخت کی چھاؤں میں بیٹھ کر دھیمی آواز میں ایک دوسرے سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہیں لیکن کسی اجنبی (بالخصوص) صحافیوں کو قریب پا کر اُن کی آنکھوں میں وحشت پھیل جاتی ہے! ’’انکل یہاں پلے گراؤنڈ تعمیر ہونا چاہئے‘‘ ایک نوجوان لڑکے نے قریب آ کر کہا لیکن جب اُس کا نام پوچھا تو تیز قدموں سے واپس پلٹتے ہوئے اُس نے کہا ’’ابو نے کسی بھی صحافی سے بات کرنے سے منع کیا ہے۔‘‘ چھ سال گزر گئے ہیں لیکن بلال ٹاؤن کے سبھی رہنے آج بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں اور اُن کا رویہ ایک جیسا ہے کہ وہ اپنے ہمسائے میں ہونے والی سرگرمیوں نہ تو دو مئی سے قبل کے حالات پر بات کرنے کو اپنے لئے محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی اِس معاملے کے بارے اپنی شناخت کے ساتھ کسی محتاط یا غیرمحتاط تبصرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں!

حسن اتفاق ہے کہ ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی مبینہ موجودگی اور امریکی فوج کے شب خون کی چھ سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگزیب ایبٹ آباد تشریف لائیں اور اِس موقع پر صحافیوں کی جانب سے دو الگ الگ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے جو چند سوالات اُن سے بار بار پوچھے گئے وہ بتدریج ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ‘ پانامہ لیکس پر کمیشن کی تشکیل اُور ڈان لیکس کے حوالے سے قائم کمیشن کی رپورٹ سے متعلق تھے۔ ایبٹ آباد الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے ایک رکن نے چھبتا ہوا یہ سوال بھی پوچھ لیا کہ ’’آخر پاکستان میں تحقیقاتی کمیشن قائم ہی کیوں کئے جاتے ہیں جبکہ اُن کی رپورٹس منظرعام پر نہیں لائی جاتیں؟‘‘ مریم اورنگزیب کی جانب سے بس یہی کہا گیا کہ ’’کچھ چیزیں قومی مفاد سے ہوتی ہیں!‘‘ اُن کا مقصود تھا کہ ’وسیع تر قومی مفاد‘ میں کمیشن رپورٹ جاری نہیں کی جارہی! دو مئی دو ہزار گیارہ کی ’سیاہ اندھیری رات‘ کا سورج طلوع نہیں ہوا‘ چھ سال گزر گئے اور چار سال سے کمیشن رپورٹ جو معلوم حقائق کے اعتراف میں سوچ بچار کا ناقابل یقین اُور طویل عرصہ ہے! دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی کا تعلق (مستقبل) ’ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ‘ میں بین السطور ہے ’وسیع تر قومی مفاد‘ آخر ’’سچ‘‘ کیوں نہیں ہوسکتا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سیاسی اقتدار کو طول دینے کے لئے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ جاری نہ کی جا رہی ہو؟ 

Monday, May 2, 2016

May2016: Mystry of Osama contine!

ژرف نگاہ ۔۔۔شبیر حسین اِمام
ناقابل فراموش: 2 مئی کی یادیں!
خبررساں ادارے ’کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) سے بات چیت کرتے ہوئے امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ ’’مئی دو ہزار گیارہ میں اسامہ بن لادن کو انجام تک پہنچانے میں کامیابی کے ظاہری اِمکانات اگرچہ محدود تھے اور کسی دوسرے ملک میں اچانک فوجی کاروائی کی ناکامی سے شرمندگی بھی اپنی جگہ دباؤ رکھتی تھی لیکن اِس کے باوجود دنیا کے انتہائی مطلوب شخص تک رسائی کی اجازت دی گئی جو بطور صدر میرے لئے ایک مشکل فیصلہ تھا۔‘‘ گیارہ ستمبر 2001ء (نائن الیون) کے روز امریکہ پر ہوئے دہشت گرد حملے کا بدلہ چکانے کے لئے امریکہ کے صدر نے ہر خطرہ مول لیا۔ جسے یاد کرتے ہوئے اُن کے چہرے پر سنجیدگی زیادہ گہری ہوتی دیکھی جا سکتی تھی۔ رواں ہفتے (30 اپریل)کو ’سی این این‘ پر نشر ہونے والی بات چیت میں اُنہوں نے ’اسامہ بن لادن‘ کے خلاف کاروائی کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ’’بالآخر ہم نے وہ حاصل کرلیا‘ جو چاہتے تھے۔‘‘

اِس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ نے جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ کرچکا اُور ’نائن الیون‘ نے دنیا کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ اقتصادیات‘ باہم تجارت اور سیاست کی بجائے اقوام نے عسکری اتحاد تشکیل دے کر ایک دوسرے کے ساتھ ’جینے اور مرنے‘ کی قسمیں کھائیں۔ نائن الیون کا جرم ثابت کرنے کی بجائے امریکہ نے دنیا کے ہر اُس مسلم ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جہاں اُس کے بقول منصوبہ بندی یا عملی جامہ پہنانے کے لئے غوروخوض یا وسائل مہیا کئے گئے تھے لیکن جس طرح سال دو ہزار ایک میں امریکہ کی سرزمین پر ہوئے ’نائن الیون دہشت گرد حملے‘ پراسرار تھے بالکل اسی طرح ’2مئی 2011ء‘ کی اَلصبح چاند کی روشنی میں اَیبٹ آباد کے علاقے ’ٹھنڈا چوا‘ میں ہوئی اُس فوجی (جوابی) کاروائی کے بارے بھی مقامی افراد کی یا پاکستان میں عمومی طورپر پائی جانے والی معلومات نہایت ہی کم ہیں۔ ہر کوئی زیادہ کچھ جاننے کا خواہشمند آج بھی ہے۔ پانچ سال یعنی ایک ہزار آٹھ سو ستائیس دن‘ چھبیس لاکھ تیس ہزار‘ آٹھ سو سے زیادہ منٹ گزرنے کے باوجود بھی ہم امریکہ کے صدر ہی کے بیان سے حقائق کھوج نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا پانچ سال بعد کہنا ہے کہ ’’آپریشن میں حصہ لینے والے 23 فوجی بخیریت واپس لوٹیں گے یا نہیں‘ اِس بارے وثوق سے کچھ نہ جاننے کے باوجود کاروائی (آپریشن) کی اجازت دی گئی!‘‘

گذشتہ پانچ برس میں امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق دو مئی دو ہزار گیارہ رات ایک بجے ’نیپچون سپیئر(Neptune Spear)‘ نامی آپریشن میں ’اُسامہ بن لادن‘ کو قتل کیا گیا۔ اُس رات سے متعلق ایبٹ آباد کے ’ٹھنڈا چوا‘ نامی علاقے کے رہائشیوں کی یادیں بس اتنی ہی ہیں کہ وہ سوئے ہوئے تھے کہ اچانک درویوار لرز اُٹھے۔ متعدد دھماکے اور گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔ ایک ہیلی کاپٹر میں لگی آگ سے پھیلی روشنی میں کتے کے بھونکنے کی آواز سے وادی گونج رہی تھی پھر آن کی آن ایک ہیلی کاپٹر اُڑا اُور فضاؤں میں کھو گیا جس کے بعد پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیر لیا۔ سخت پوچھ گچھ ہوئی جو آج بھی جاری ہے۔ یہ علاقہ عالمی و مقامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں آنے والے ہر شخص کو آج بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ’اُسامہ بن لادن یا اُس کے اہل خانہ کے زیراستعمال رہی رہائشگاہ‘ کے آس پاس سفید کپڑوں میں یہاں وہاں خفیہ اداروں کے اہلکار منڈلاتے رہتے ہیں‘ جو کسی ’سیاح‘ چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو‘ اُسے بناء پوچھ گچھ جانے نہیں دیتے۔ حالیہ دنوں میں ایک غیرملکی ٹیلی ویژن چینل کی ٹیم کو اُس مقام سے باقاعدہ حراست میں لیکر کر ’ایبٹ آباد سے نکال باہر‘ کیا گیا‘ جو ملبے کی صورت بکھری اُن باقی ماندہ بھاری بھرکم نشانیوں (شہ تیروں) تلے دبی سچائی تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے!

اسامہ بن لادن سے منسوب عمارت کا اب نام و نشان نہیں۔ وہاں فرش کا ایک ٹکڑا ہے۔ ٹیوب ویل سے جڑا پانی کا ایک نلکا جس کی ٹوٹی نہیں اور وہ ہر وقت بہتا رہتا ہے۔ خود رو گھاس اور فرش کے باقی ماندہ حصے پر بچے شام کو کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے ہیں۔ شمعریز نامی ایک بوڑھا شخص جو ہمسائے ہی کے ایک دو کمرے کے مکان میں رہتا ہے نے بناء کسی مالک اِس قطعہ اراضی کے ایک کونے میں لہسن و دیگر سبزیاں کاشت کر رکھی ہیں‘ جن کی دیکھ بھال میں اُس کی عمر کے باقی ماندہ دن کٹ رہے ہیں۔ کون جانتا تھا کہ دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گردکے گھر کا دروازہ اور ملبے کی ایک ایک اینٹ تک یوں لوٹ لی جائے گی یا اُس سے یوں تصرف ہوگا! پاکستان کے سیکورٹی اداروں کا بس نہیں چلتا کہ وہ کسی جادو کے زور سے اِس انتہائی پراسرار قطعہ اراضی کو صفحہ ہستی ہی سے مٹا دیں‘ جس کی حفاظت ایک دردسر بنی ہوئی ہے۔ ایک تجویز تھی کہ اِس مقام پر سبزہ زار بنا دیا جائے لیکن کنٹونمنٹ بورڈ (ایبٹ آباد چھاؤنی) کی حدود میں ’تفریحی پارک کی سیر کے بہانے‘ بھلا عوام و خواص کو آنے سے کیسے روکا جائے گا اور شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ مذکورہ چھ سے سات کینال پر پھیلے رقبے کی قسمت کا فیصلہ پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی نہیں ہوسکا ہے۔ سوالات بہت ہیں کہ بن لادن کے اہل خانہ اِس مقام (ایبٹ آباد چھاؤنی کے دل) تک کیسے پہنچے اور کس طرح پاک فوج کی ایک حساس ترین تربیت گاہ کے قرب میں دنیا کا انتہائی مطلوب شخص یا اُس کے اہل خانہ سالہا سال تک روپوش و گمنامی کی زندگی بسر کرتے رہے؟! مذہبی رجحانات یا خیالات رکھنے والے حلقے بن لادن کی دامے درہمے سخنے اسلام کی خدمت اور جہادی زندگی میں عملی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے شرعی طریقے سے تجہیزوتدفین کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مغموم‘ دکھی اور جذبات پر مبنی خیالات کا اظہار کرنے والے حد درجہ احتیاط کے باوجود بھی اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔ ’ٹھنڈا چوا‘ کے ایسے ہی ایک باسی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’’دہشت گردی کے لئے اکسانا بھی تو اِس کے محرکات اور وجوہات کا حصہ سمجھا جانا چاہئے۔ مسلمان ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے اگر عیسائی و یہودی ممالک چند اتحادی مسلم ممالک کے ساتھ اکھٹے ہو بھی جاتے ہیں‘ تو بھی ’اخلاقی طور پر‘ ایبٹ آباد میں جو کچھ بھی کیا گیا‘ وہ ایک مجرمانہ فعل ہی شمار ہوگا۔ اسامہ بن لادن سے روحانی و نظریاتی نسبت رکھنے والوں کی کمی نہیں‘ کچھ لوگ اُسے ظالم تو بہت سے مظلوم بھی سمجھتے ہیں جن کے دل آج بھی مغموم لیکن انصاف کی منتظر آنکھوں میں چھپے آنسو دنیا کو دکھائی نہیں دے رہے۔‘‘
5th anniversary of Osama Bin Laden and feeling of his neighborhood in Abbottabad