Showing posts with label Anniversary. Show all posts
Showing posts with label Anniversary. Show all posts

Saturday, December 30, 2017

Dec 2017: Giyarveen Sharif - day to remember & revise the promise!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
’تجدید عہد‘ کا دن!
برس ہا برس سے معمول ہے کہ ۔۔۔ عالم اِسلام اُور پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا کے صدر مقام ’پشاور‘ میں بھی ’ماہ ربیع الثانی‘ کی ’گیارہ تاریخ‘ بطور ’’گیارہویں شریف‘‘ شریف پورے اہتمام اور مذہبی جوش و جذبے سے منائی جاتی ہے۔ پشاور میں اِن ایام کی مناسبت سے خصوصی محافل (ختم غوثیہ) اُور لنگر (نذر و نیاز) کا سلسلہ ’’آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ‘‘ (اَندرون یکہ توت گیٹ‘ کوچہ آقا پیرجان) میں ’ربیع الثانی کی چاند رات‘ (یکم) سے ’بارہ ربیع الثانی‘ کی نماز فجر تک جاری رہتا ہے جس میں ذکر و اَذکار کے حلقے بطور خاص منعقد کئے جاتے ہیں۔ 

گیارہ تاریخ (بڑی گیارہویں شریف) کے بعد سلسلۂ قادریہ سے وابستہ مرید (تصوف کے ماننے والے) گھر گھر محافل نعت و منقبت اور لنگر (طعام) کا اہتمام کرتے ہیں جبکہ قادریہ کے علاؤہ دیگر سلسلہ ہائے تصوف (چشتی‘ نقشبندی اور سہروردی) سے وابستہ اکثر عقیدتمندوں کے ہاں ’محافل سماع (قوالی)‘ کے ذریعے ’حضرت سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (اسم گرامی: عبدالقادر۔ کنیت: اَبومحمد۔ لقب: محی الدین۔ ولادت اٹھارہ مارچ 1077 عیسوی۔ قصبہ جیلان (ایران)۔ وصال: پندرہ جنوری 1166 عیسوی بمطابق گیارہ ربیع الثانی 571ہجری‘ بغداد عراق)‘ کی ذات بابرکات سے تجدید عہد اُور اُن کی یادآوری سے فیوض و برکات کے روحانی ثمرات حاصل کئے جاتے ہیں۔ گیارہویں شریف کی مناسبت سے پشاور کی مرکزی تقریب آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ‘ اندرون یکہ توت‘ کوچہ آقا پیر جان‘ ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہے‘ جس کا ’’بنیادی مقصد‘‘ ساڑھے آٹھ سو برس سے زائد عرصہ قبل اِسلامی تاریخ کی بزرگ شخصیت اور سلسلہ قادریہ کے بانی پیرانِ پیرؒ کی تلقین و ارشادات اور شریعت و طریقت (تصوف) کے حوالے سے تعلیمات کی علمی اُور روحانی پہلوؤں پر عصری حالات (تقاضوں کے مطابق) روشنی ڈالی جائے۔ یاد رہے کہ سلسلۂ تصوف و طریقت میں بزرگان دین (اُولیاء اللہ) کے دنیا سے پردہ فرمانے کے ایام کو بطور ’عرس‘ منایا جاتا ہے۔ ’عرس‘ کے لغوی معنی ’’شادی‘‘ یعنی وصل کے دن چونکہ وہ اپنے مزاروں میں جمال مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرتے ہیں‘ جو ’وصال محبوب‘ یعنی اپنے محبوب کے دیدار سے مسرت و شادمانی کی سبیل ہے‘ اِس لئے ہر سال مخصوص تاریخوں میں عرس یعنی ’خوشیاں‘ منائی جاتی ہیں۔

پشاور کے سرتاج روحانی گھرانے کے چراغ‘ پیرطریقت سیّد محمد اَمیر شاہ قادری المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے کہ ’’اِسلام میں کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنا واجب نہیں لیکن بیعت کرنے سے مراد یہی ہے کہ بندہ کسی (صاحب علم و عمل) کی پیروی (تقلید) کرے یعنی کسی ایسے شخص کی بیعت جو کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کو ماننے اور اُن پر مکمل عمل کرنے والا ہو کیونکہ عام لوگوں اِس قابل نہیں ہوتے کہ وہ قرآن وحدیث اور علوم اسلامیہ میں مہارت رکھیں‘ اِس لئے راہِ حق پر چلنے کے لئے اُنہیں کسی رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص خود علم و عمل کے اُس بلند درجے پر فائز ہو کہ وہ تفہیمِ شریعت میں کسی کی ضرورت محسوس نہ کرے اور شریعت کے علمی اور عملی میدانوں میں بھی ماہر ہو تو ایسے بندے کے لئے تو ضروری نہیں کہ وہ کسی کی بیعت کرے لیکن اگر ضروری ہو تو بیعت (پیروی) اُس بندے یا جماعت کی کرنی چاہئے جو اسلامی تعلیمات کے علمی اور عملی پہلوؤں سے کماحقہ آشنا اور درجہ کمال پر فائز ہو ہونے کے ساتھ ’صحیح العقیدہ‘ بھی ہو۔ اللہ تعالی‘ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت اطہار اور سلف صالحین رضوان اللہ اجمعین کا ادب واحترام کرتا ہو اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ بیت سے مقصود تو بس یہی ہے کہ انسان کی بہتر تربیت و تعلیم اور انسانیت کے احترام پر مبنی ’’تعلیماتِ اسلامیہ‘‘ کو فروغ حاصل ہو اور اسلام کا پرچمِ بلند رہے۔

’گیارہویں شریف‘ کے اِہتمام میں چراغاں اُور بالخصوص بڑی گیارہویں شریف کے ایام میں مبارکبادوں کا تبادلہ پشاور کے معمولات اُور روایات کا حصہ ہے لیکن اِس خاص دن کی مناسبت سے اگر ’’سالانہ علمی و عملی محاسبہ‘‘ بھی کیا جائے کہ سلسلۂ قادریہ سے وابستگی کا تقاضا تو یہ بھی ہے کہ سلوک کی منازل طے ہوتی رہیں۔ مرید (طلب گار) اپنے باطن کی صفائی کی جانب دھیان بنائے رکھے اُور باطنی صفائی کے لئے صوفیائے کرام کے چار درجات پر عمل کر کے ہر مسلمان نہ صرف اپنے ظاہری نفس بلکہ باطن کا تزکیہ کرنے کے قابل ہو سکے۔ 

قبلہ مولوی جیؒ تقویٰ‘ احسان یا بہ الفاظ متعارف تصوف کا بنیادی کام ’’دلوں کی صفائی‘‘ بیان فرماتے تاکہ اخلاق (عمل) نکھر جائیں۔ تصوف ’اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال‘ ہے‘ جس کا سرچشمہ قرآن و حدیث اور جس کی اساس شریعت اسلامی کے اصول ہیں اور انہی کے ذریعے دل‘ کان‘ زبان‘ ناک اور ذہن کے ذریعے جو آلودگیاں در آنے کے بعد روح کی بیماری کا سبب بنتی ہیں‘ اُن کا علاج (تدارک) ممکن ہو سکتا ہے۔

سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ سے پوچھا گیا کہ ’’محبت کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’محبت‘ محبوب کی طرف سے دل میں پائی جانے والی تشویش‘ فکر اور مستقل وابستگی کا نام ہے جسے محبت ہو جائے اُس کے سامنے دنیا کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ محبت ایک نشہ ہے جس سے ہوش جاتے رہتے ہیں۔ عاشق اپنے حال میں ایسے محو رہتا ہے کہ اُسے اپنے محبوب کے مشاہدے اور خوشنودی کے سوأ کسی دوسری چیز کا ہوش نہیں رہتا۔ وہ ایسا بیمار ہو جاتا ہے کہ اپنے مطلوب (محبوب) کو دیکھے بغیر تندرست نہیں ہوتا۔ وہ اپنے خالق عزوجل کی محبت کے علاؤہ دنیا میں کچھ اُور نہیں چاہتا۔ کسی دنیاوی چیز کا طلبگار نہیں ہوتا اور اپنے محبوب (رب تعالیٰ) کے ذکر کے سوأ‘ اُسے کسی شے کی خواہش (حرص بھی) نہیں ہوتی۔ (بہجۃ الاسرار)۔‘‘ آپؒ کا فرمان ہے کہ ’’اللہ کی محبت کا ’عملی تقاضا‘ یہ ہے کہ اپنی نگاہوں کو اللہ عزوجل کی رحمت کی طرف لگادیا جائے۔ ہر گھڑی اُس کی رحمت طلب کی جائے اور کسی غیراللہ کی طرف (اُمید و آس کی) نگاہ نہ کی جائے اُور اِنسان اَندھوں کی مانند ہو جائے‘ جب تک کہ وہ ’’غیر اللہ‘‘ کی طرف دیکھتا (متوجہ) رہے گا‘ اللہ عزوجل کا فضل نہیں دیکھ پائے گا۔ (فتوح الغیب)۔‘‘
۔

Sunday, December 17, 2017

Dec 2017: Remembering APS - 4th anniversary!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تین صدیاں!
سولہ دسمبر کے زخم ہرے ہیں۔ آرمی پبلک سکول (اَے پی اَیس) پر دہشت گرد حملے کے تین سال نہیں‘ جیسے تین برس بیت گئے ہوں! یوں تو ’اے پی ایس سانحے‘ پر ہر آنکھ اشکبار ہوئی لیکن یہ دُکھ صرف اُن متاثرین کی ذات تک محدود نظر آتا ہے‘ جن کی آنکھیں آج بھی اپنے پیاروں کی منتظر ہیں۔ پاکستان تو کیا دنیا ’ایک سو بتیس‘ طالب علموں سمیت ڈیڑھ سو شہادتیں کبھی فراموش نہیں کی جا سکیں گی‘ لیکن اِس سانحۂ کے معلوم حقائق اور نتائج کی روشنی میں قومی سطح پر جو لائحۂ عمل (نیشنل ایکشن پلان) تشکیل دیا گیا‘ اُس پر مکمل عمل درآمد آج تک ممکن نہیں ہوسکا‘ اگرچہ ایک ہزار سے زائد دن (ایک سو چھپن ہفتے یا چھبیس ہزار سے زائد گھنٹے) گزر چکے ہیں!

سانحۂ اے ایس کے متاثرین کی یادیں دل ہلا دینے والی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ماں جس کے ’دو جوان بیٹے‘ شہید ہوئے اور اُس کے لئے ’تین بیٹیوں‘ کے ساتھ زندگی کٹتے نہیں کٹ رہی کا کہنا ہے کہ ۔۔۔ ’’گویا میرے دونوں ہاتھ کٹ چکے ہیں۔ تین برس میں کوئی ایک رات بھی ایسی نہیں گزری جب ہم گھر والوں (میاں بیوی اور تین بیٹیوں) نے آنکھوں ہی آنکھوں میں نہ گزاری ہوں۔ اب ہم ایک دوسرے سے زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتے اور سب سے زیادہ تکلیف اُس وقت ہوتی ہے جب کسی روزمرہ ضرورت کے لئے محلے کے کسی لڑکے کو کہا جاتا ہے!‘‘ ایسی سینکڑوں داستانیں ہیں‘ جنہیں اَلفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں لیکن ’اَے پی اَیس‘ کا دُکھ زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے‘ جب دہشت گردوں کے سہولت کار ہمارے آس پاس دندناتے پھر رہے ہیں! اُور انتہاء پسندی کے ذریعے دہشت گردی کے لئے اَفرادی قوت کی کوئی کمی نہیں! لمحۂ فکریہ ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انتہاء پسندی سرایت کر چکی ہے اور کئی وارداتوں میں ملوث کردار اُس فلسفے کے قائل ہیں‘ جس میں دوسروں کی جان و مال کو نقصان پہنچانا غیرانسانی و غیر اخلاقی فعل نہیں۔ سانحۂ اے پی ایس کے بعد جس ایک محاذ کو سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا وہ انتہاء پسندی اور مذہبی منافرت پھیلانے والے ہیں‘ جو سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا آزادانہ استعمال کر رہی ہے اور یہی نوجوانوں کے زیراستعمال سب سے مقبول ذریعہ ہے۔ انسداد دہشت گردی کے لئے بنائے گئے ’نیشنل ایکشن پلان‘ میں انٹرنیٹ پر منحصر ’سوشل میڈیا (سماجی رابطہ کاری)‘ کے وسائل استعمال کرنے اور انتہاء پسندی عام کرنے والوں سے معاملہ نہیں کیا گیا‘ جس سے نمٹنے کے لئے صوبائی نہیں بلکہ قومی سطح پر ایک متفقہ پالیسی مرتب ہونی چاہئے۔

سانحۂ ’اے پی ایس‘ کے بعد گزرنے والا ہر دن اور ہر گھڑی شمار میں ہے‘ جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا امتحان بھی ہے۔ خوش آئند ہے کہ خیبرپختونخوا میں عمومی جرائم کی شرح میں غیرمعمولی کمی آئی ہے لیکن بھتہ خوری اور دہشت گردی کا نہ تھمنے والا سلسلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں‘ جنہیں عمومی جرائم کی کم ہوتی شرح پر اطمینان کا اظہار (اکتفا) نہیں کرنا چاہئے۔ بھتہ خوری اور دہشت گردی کا انسداد ’خفیہ اداروں کی فعالیت‘ سے ممکن ہے لیکن خیبرپختونخوا پولیس کے اعلیٰ اہلکار کے بقول جب تک ’قبائلی علاقوں کی امتیازی حیثیت ختم نہیں کر دی جاتی اور اِن علاقوں کو بطور پناہ گاہ استعمال کرنے والوں کے رجحان کی حوصلہ شکنی نہں کی جاتی اُس وقت تک بھتہ خوری اور دہشت گرد حملوں کا سلسلہ روکنا ممکن نہیں ہوگا۔‘‘

بھتہ خوری کا شمار درجہ بندی کے لحاظ سے ’منظم جرائم‘ کے زمرے میں کیا جاتا ہے اور اب تک کے واقعات‘ شواہد اُور معلومات کی بنیاد پر اِس دھندے میں ملوث کردار بندوبستی اُور قبائلی علاقوں میں سہولت کاروں کی مدد لیتے ہیں‘ جن میں عسکریت پسند (دہشت گرد) گروہوں کی بھی مدد لی جاتی ہے۔ اِس بات کو خارج اَزامکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ قانون نافذ کرنے والے اِداروں میں ایسے کردار روپوش ہوں‘ جو سہولت کاری کا کردار اَدا کر رہے ہوں۔ بھتہ خوری کے باعث خیبرپختونخوا کے کاروباری طبقات میں بھی تشویش پائی جاتی ہے‘ جو اِس سے براہ راست متاثر ہیں۔ اِس سلسلے میں سب سے بنیادی اور ضروری کام ’’ہُنڈی‘‘ کے کاروبار (غیرقانونی ترسیل زَر) کا خاتمہ ہے‘ جس کا مرکز ’پشاور‘ ہے اُور خفیہ معلومات کی بنیاد پر ’ہُنڈی‘ کرنے والوں کو کھوج نکالا جا سکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں چھپے سہولت کاروں تک رسائی کے لئے جملہ ملازمین کے ’اَثاثہ جات‘ کی چھان بین ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں برطانیہ کے ایک قانون سے رہنمائی لی جا سکتی ہے جہاں سرکاری و نجی اِداروں کے ملازمین کی مالی حیثیت جاننے کے لئے اُن کی آمدنی کے قانونی ذرائع معلوم کئے جاتے ہیں اور پھر بیس برس کے دوران ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کا شمار کر کے مالی حیثیت کا تعین کر لیا جاتا ہے جس سے اگر اثاثے زیادہ ہوں تو متعلقہ اہلکار کو اپنی صفائی بذریعہ وکیل پیش کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ جب تک سرکاری اداروں میں سزأوجزأ اُور احتساب کا عمل متعارف نہیں کیا جاتا‘ 

پولیس اصلاحات بے معنی ہی رہیں گی۔ خیبرپختونخوا پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں برس (سال دوہزار سترہ) کے دوران (پندرہ دسمبر تک) بھتہ خوری کے 71 جبکہ دہشت گردی کے 126 مختلف واقعات رونما ہوئے ہیں!سینیئرصحافی ممتاز بنگش کا کیا خوبصورت جملہ ہے کہ ’’آرمی پبلک پبلک سکول کے بچوں کی قربانی کے باعث آج پاکستان کا کونہ کونہ ’اَمن کی تصویر‘ پیش کر رہا ہے۔‘‘ امن کی اِس تصویر میں خون آلود معصوم چہرے شامل ہے جن کا دُکھ ’نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ پاکستان پر مسلط کرنے والوں کا اِحتساب چاہتا ہے۔
۔

Wednesday, May 3, 2017

May2017: 6th Anniversary OBL

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
راز نہاں!
چھ سال گزر گئے۔ عسکریت پسند القاعدہ تنظیم کے سربراہ ’اُسامہ بن لادن‘ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا سراغ لگانے اور اُسے فوجی کاروائی میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کی طرح پاکستان حکومت نے بھی ضروری نہیں سمجھا ہے کہ وہ ’آپریشن نیپچون سپیئر (Operation Neptune Spear)‘ کی تفصیلات‘ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور ’ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ‘ کی صورت حقائق منظر پر لائیں تاکہ دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں اُن ذمہ داروں کا تعین یا حفاظتی حکمت عملی میں موجود خامیوں کی نشاندہی ممکن ہو سکے جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کا ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد بمعہ اہل خانہ طویل یا قلیل عرصے تک فوجی چھاؤنی کی حدود میں قیام پذیر رہا‘ اُور اُس کی پاکستان میں موجودگی عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بھی بنی! 

لمحۂ فکریہ ہے کہ جن سیکورٹی نقائص کا فائدہ اٹھایا گیا آخر اِس بات کی گارنٹی کیا ہے کہ مزید دہشت گرد ضلع ایبٹ آباد کے میدانی و پہاڑی علاقوں کا استعمال نہیں کر رہے ہوں گے!

چھ سال گزر گئے۔ اُسامہ بن لادن کے زیراستعمال قلعہ نما مکان کو مسمار کرکے ہر ایک اینٹ الگ الگ کر دی گئی لیکن 38ہزار مربع فٹ (قریب ایک سو چالیس مرلہ) اراضی کی ملکیت کا تنازعہ تاحال حل نہ ہوسکا ہے‘ جس کے بارے میں صوبائی حکومت کے ذمہ دار اور ایبٹ آباد چھاؤنی (کنٹونمنٹ) کی انتظامیہ الگ الگ دعوے رکھتے ہیں‘ چونکہ مذکورہ اراضی ’ٹھنڈا چوہا‘ نامی ایک ایسے رہائشی علاقے کے وسط میں موجود ہے‘ جہاں آمدنی کے لحاظ سے متوسط طبقات کی اکثریت آباد ہے اور جہاں اوسط گھر پانچ سے دس مرلہ پر مشتمل ہیں‘ اِس لئے ایک بڑا ’قطعۂ اراضی‘ سبھی کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ جس کی تین فٹ چاردیواری بنا دی گئی ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے ’وال چاکنگ‘ بھی کر دی گئی ہے کہ ’’یہ اراضی صوبائی حکومت کی ملکیت ہے۔‘‘ لیکن اِس سے زیادہ عملی اقدامات (جرأت) کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ جب اُسامہ بن لادن کی ’قیام گاہ‘ رہے مکان کو مسمار کیا جا رہا تھا تو سب سے پہلا تاثر یہ سامنے آیا کہ اِس مقام پر پبلک پارک بنایا جائے گا۔ دوسرا مطالبہ اِس مقام پر عوامی قبرستان بنانے کا تھا اور حال ہی میں اہل علاقہ کی جانب سے تیسرا مطالبہ یہ سامنے آیا ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومت اِس مقام پر سرکاری سکول تعمیر کرے۔
چھ سال گزر گئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جس معاملے کو ’رفع دفع‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں‘ وہ اپنی جگہ اہمیت بھی رکھتا ہے اور باریک بینی سے زیربحث بھی آنا چاہئے لیکن ’اُسامہ کمپاؤنڈ‘ پر خدشات کے بادل بدستور چھائے ہوئے ہیں! 

حقائق کیا ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن بلال ٹاؤن (ٹھنڈا چوہا) کے رہائشی اُسامہ سے ایک تعلق بنا بیٹھے ہیں اور اُس 900میٹر طویل گلی کا نام بھی غیرسرکاری طور پر اُسامہ ہی کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے جس کا چھ سو میٹر حصہ پختہ اور وہ تین سو میٹر خستہ حال ہے‘ جہاں سے اُسامہ سے منسوب چاردیواری کی حدود شروع ہوتی ہے۔ سفید ریش زین لالہ اور اسلم لالہ کا بیشتر وقت اُن درجنوں بچوں کی طرح اُس قطعہ اراضی پر گزرتا ہے‘ جو ایک وسیع وعریض سبزہ زار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بچے کرکٹ کھیلتے ہیں۔ بزرگ درخت کی چھاؤں میں بیٹھ کر دھیمی آواز میں ایک دوسرے سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہیں لیکن کسی اجنبی (بالخصوص) صحافیوں کو قریب پا کر اُن کی آنکھوں میں وحشت پھیل جاتی ہے! ’’انکل یہاں پلے گراؤنڈ تعمیر ہونا چاہئے‘‘ ایک نوجوان لڑکے نے قریب آ کر کہا لیکن جب اُس کا نام پوچھا تو تیز قدموں سے واپس پلٹتے ہوئے اُس نے کہا ’’ابو نے کسی بھی صحافی سے بات کرنے سے منع کیا ہے۔‘‘ چھ سال گزر گئے ہیں لیکن بلال ٹاؤن کے سبھی رہنے آج بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں اور اُن کا رویہ ایک جیسا ہے کہ وہ اپنے ہمسائے میں ہونے والی سرگرمیوں نہ تو دو مئی سے قبل کے حالات پر بات کرنے کو اپنے لئے محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی اِس معاملے کے بارے اپنی شناخت کے ساتھ کسی محتاط یا غیرمحتاط تبصرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں!

حسن اتفاق ہے کہ ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی مبینہ موجودگی اور امریکی فوج کے شب خون کی چھ سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگزیب ایبٹ آباد تشریف لائیں اور اِس موقع پر صحافیوں کی جانب سے دو الگ الگ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے جو چند سوالات اُن سے بار بار پوچھے گئے وہ بتدریج ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ‘ پانامہ لیکس پر کمیشن کی تشکیل اُور ڈان لیکس کے حوالے سے قائم کمیشن کی رپورٹ سے متعلق تھے۔ ایبٹ آباد الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے ایک رکن نے چھبتا ہوا یہ سوال بھی پوچھ لیا کہ ’’آخر پاکستان میں تحقیقاتی کمیشن قائم ہی کیوں کئے جاتے ہیں جبکہ اُن کی رپورٹس منظرعام پر نہیں لائی جاتیں؟‘‘ مریم اورنگزیب کی جانب سے بس یہی کہا گیا کہ ’’کچھ چیزیں قومی مفاد سے ہوتی ہیں!‘‘ اُن کا مقصود تھا کہ ’وسیع تر قومی مفاد‘ میں کمیشن رپورٹ جاری نہیں کی جارہی! دو مئی دو ہزار گیارہ کی ’سیاہ اندھیری رات‘ کا سورج طلوع نہیں ہوا‘ چھ سال گزر گئے اور چار سال سے کمیشن رپورٹ جو معلوم حقائق کے اعتراف میں سوچ بچار کا ناقابل یقین اُور طویل عرصہ ہے! دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی کا تعلق (مستقبل) ’ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ‘ میں بین السطور ہے ’وسیع تر قومی مفاد‘ آخر ’’سچ‘‘ کیوں نہیں ہوسکتا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سیاسی اقتدار کو طول دینے کے لئے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ جاری نہ کی جا رہی ہو؟