Showing posts with label Ghous e Pak. Show all posts
Showing posts with label Ghous e Pak. Show all posts

Tuesday, May 29, 2018

May 2018: Remembering Molvee Gee on 13th Ramazan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
مولوی جیؒ : ایک مجاہد
پیرطریقت‘ سیّد محمد اَمیر شاہ قادری گیلانی اَلمعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ (1920ء - 2004ء) کا ’عرس مبارک‘ ہر سال ’تیرہ رمضان المبارک‘ منایا جاتا ہے‘ اِس دن کی مناسبت سے ’آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ‘ کوچہ آقا پیر جان‘ اَندرون یکہ توت شریف اُور آپ کے مزار پُراَنوار سیّد حسن بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ کوہاٹ روڈ پر ختم قرآن کریم‘ محافل حمد و نعت‘ منقبت اُور دعائیہ تقاریب کی صورت پہلی برسی (دوہزارپانچ) سے انعقاد ایک معمول ہے‘ جن میں ’سلسلہ قادریہ حسنیہ‘ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں ہزاروں مرید اور عقیدت مند اندرون و بیرون ملک سے بطور خاص شریک ہو کر تصوف کے اِس سرتاج گھرانے سے اظہار وابستگی اور اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ پشاور کا یہ روحانی اُور علمی گھرانہ اُس سلسلۂ نور (نسب) کی ایک کڑی ہے‘ جو پیران پیر حضرت شیخ محی الدین اَبو محمد عبدالقادر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ (1077ء سے 1166ء)‘ سے ہوتا ہوا‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم (خانوادہ رسالت اہلبیت اَطہار علیہم السلام) تک مسلسل ہے۔

علمی‘ اَدبی‘ صحافتی اُور سیاسی و سماجی خدمات کے علاؤہ مولوی جیؒ نے اپنے گھرانے کی اُن ’روشن روایات‘ کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی‘ جن کا مرکزی نکتہ ’’مسلکِ اہلسنت والجماعت کے فقہ حنفی عقیدے کا تحفظ اور اِس کی روشنی میں تربیت و رہنمائی‘‘ تھا۔ مولوی جیؒ پشاور کی پہچان اُور سرتاج شخصیت تھے۔ رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت سے لیکر اندرون پشاور کی سیاست میں اُن کا کردار آج بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے عام انتخابات ہوں یا بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب‘ آستانہ عالیہ کے حمایت یافتگان کی کامیابی یقینی رہتی ہے۔ 

مولوی جیؒ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو، اُن کے ہاں پایا جانے والا تحریر و تحقیق کا ذوق اور شوق تھا۔ بناء فروعی اختلافات میں الجھے اُنہوں نے اسلامی تعلیمات کو عصری مسائل اور حالات کی روشنی میں بیان کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ بات کہ پشاور کو مولوی جیؒ اور مولوی جیؒ کو پشاور پر اعتماد تھا اور اِس اعتماد و بھروسے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جبکہ مولوی جیؒ کے فرزند ارجمند سیّد نورالحسنین گیلانی المعروف سلطان آغا جی خاندان عالیہ کی روایات کے محافظ بھی ہیں اور انہیں آگے بڑھانے کے لئے خود کو وقف بھی کئے ہوئے ہیں۔ سلطان آغا جی ہی کی زیرنگرانی اور کوششوں سے مولوی جیؒ کی تحریر کردہ ’40کتب‘ دروس قرآن و حدیث کی آڈیو ویڈیو اور خدمات کے حوالے سے کوششوں کا احوال ویب سائٹ http://alameer.org پر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ جس کے جاری کرنے کا بنیادی مقصد ’اُمت مسلمہ‘ میں اُس اخوت و اتحاد کے پیغام کو فروغ دینا ہے‘ جس کے لئے مولوی جیؒ تمام زندگی اپنے قول و فعل سے جہاد کرتے رہے۔ آپ کی محافل میں علم کے موتی (اللہ کی رحمت) تقسیم ہوتی اور طالب علموں کو اُس کی استعداد کے ’سخی کے دربار‘ سے مطابق رہنمائی ملتی۔

مولوی جیؒ ہندکو زبان و ثقافت کے بھی محافظ رہے۔ آپ کی رہنمائی‘ دعا اور سربراہی میں ’گندھارا ہندکو بورڈ‘ قائم ہوا‘ جس کی ترقی یافتہ شکل ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ اندرون و بیرون ملک ’ہندکووانوں‘ کا ترجمان اِدارہ ہے۔

مولوی جیؒ کی بہ طور خاص اکثر اِس بات پر زور دیا کرتے کہ ’’اسلام لانے کے بعد سب سے زیادہ قیمتی شے ’عقیدہ‘ ہے جسے درست رکھنے اُور جس کی حفاظت ازحد ضروری ہے۔‘‘ نرم و شائستہ انداز بیان و کلام کے ذریعے سرزمین پشاور اور شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبرپختونخوا) میں اصول فقہ اور تصوف کے بیج بوئے‘ جو آج سایہ دار اور پھل دار شجر ہیں۔ مولوی جیؒ کا اِس بات پر زور رہا کہ تمام اِنسانی مشکلات کا حل ’تزکیۂ نفس‘ میں مضمر ہے اُور یہ ہدف (تزکیۂ نفس) اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ انسان اپنے کے اندر سے لالچ و خودغرضی کی صفائی نہیں کر لیتا۔ اپنی ذات میں در آنے والی اِن الائشوں (آمیزشوں) سے چھٹکارہ نہیں پا لیتا۔ مولوی جیؒ کا پیغام عمل ’اپنی ذات اور نفس پر غور تھا کیونکہ جب تک اِنسان (مرد و عورت) اپنے نفس کے ساتھ اُلجھے رہیں گے یعنی اپنے آپ اور اپنی ذات میں مگن رہیں گے‘ اِن کے روحانی درجات کی بلندی و ترقی ممکن نہیں ہوگی۔ مولوی جیؒ جدید عصری و دنیاوی علوم کے مخالف نہ تھے‘ وہ علم کو مومن کی گمشدہ میراث قرار دیتے لیکن وہ علم کے ساتھ اغیار کی ثقافت اپنانے سے گریز کی تلقین کرتے۔ اُن کی آنکھوں میں ہمیشہ خاک مدینہ و نجف کا سرمہ رہا اُور وہ دوسروں کو بھی اِس بات کی تلقین کرتے رہے کہ ’’جلوۂ دانش فرنگ‘‘ سے خیرہ ہونے کی بجائے اپنے نفس اور اسلام کے حقیقت آشنا ہو جائیں جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے چاہتے تھے کہ ’’مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی ۔۔۔ اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف۔‘‘ 

بنیادی نکتہ ’’تزکیۂ نفس‘‘ہے جس کے بغیر اخلاقی اقدار کی سربلندی و تقویت ممکن نہیں۔ ذمہ داری اور احساس ذمہ داری کے بیدار ہونے کا بھی امکان بناء ’تزکیۂ نفس‘ ممکن نہیں۔ رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا تو بہت دور کی بات بناء تزکیہ و احتیاط خالق کائنات کی ذات و صفات پر کامل یقین اور فرائض و احکامات کی بجاآوری باعث نجات و فلاح نہیں ہوسکتی۔ 

مولوی جیؒ انسانی زندگی کا خلاصہ اور ترقی کا دارومدار ’تزکیۂ نفس‘ پر قرار دیتے اور یہی اُن کی کامیابی تھی کہ آج سلسلۂ قادریہ حسنیہ کا پشاور میں آستانہ سدا بہار‘ شاد و آباد دکھائی دیتا ہے۔ تصوف کی کتب میں معروف صوفی بزرگ کا واقعہ درج ہے کہ وہ اپنے مریدوں کے ہمراہ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک آبی گزرگاہ آئی‘ جسے عبور کرنے سے اُن گھوڑے نے انکار کر دیا۔ کوشوں کے باوجود بھی کوئی جتن کارگر ثابت نہیں ہو رہا تھا اُور یہ بات ہمراہ مریدوں کے لئے تعجب خیز بھی تھی کہ گھوڑے نے نہایت ہی کم گہرے اور معمول سے رواں صاف و شفاف پانی میں اُترنے سے انکار کردیا تھا۔ جس پر شیخ نے حکم دیا کہ ’’پانی کو گدلا (میلا) کر دو۔‘‘ مریدوں نے پانی میں اُتر کر ہاتھ مارے‘ جس سے پانی کی رنگت تبدیل ہو گئی تو اب دیکھتے ہی دیکھتے گھوڑا پانی میں چلتا چلا گیا۔ مریدوں کے اِستفسار پر شیخ نے کہا کہ ’’جب تک اِس گھوڑے کو پانی میں اپنا عکس نظر آ رہا تھا‘ وہ اِس میں اُترنے سے گریزاں تھا۔‘‘ بس یہی مثال اِنسان کی ہے کہ جب تک یہ اپنا عکس اپنے نفس (کے آئینے) میں دیکھتا رہے گا‘ اِس کی روحانی ترقی اور درجات کی بلندی ممکن نہیں ہو گی۔
---
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-05-29

Saturday, December 30, 2017

Dec 2017: Giyarveen Sharif - day to remember & revise the promise!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
’تجدید عہد‘ کا دن!
برس ہا برس سے معمول ہے کہ ۔۔۔ عالم اِسلام اُور پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا کے صدر مقام ’پشاور‘ میں بھی ’ماہ ربیع الثانی‘ کی ’گیارہ تاریخ‘ بطور ’’گیارہویں شریف‘‘ شریف پورے اہتمام اور مذہبی جوش و جذبے سے منائی جاتی ہے۔ پشاور میں اِن ایام کی مناسبت سے خصوصی محافل (ختم غوثیہ) اُور لنگر (نذر و نیاز) کا سلسلہ ’’آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ‘‘ (اَندرون یکہ توت گیٹ‘ کوچہ آقا پیرجان) میں ’ربیع الثانی کی چاند رات‘ (یکم) سے ’بارہ ربیع الثانی‘ کی نماز فجر تک جاری رہتا ہے جس میں ذکر و اَذکار کے حلقے بطور خاص منعقد کئے جاتے ہیں۔ 

گیارہ تاریخ (بڑی گیارہویں شریف) کے بعد سلسلۂ قادریہ سے وابستہ مرید (تصوف کے ماننے والے) گھر گھر محافل نعت و منقبت اور لنگر (طعام) کا اہتمام کرتے ہیں جبکہ قادریہ کے علاؤہ دیگر سلسلہ ہائے تصوف (چشتی‘ نقشبندی اور سہروردی) سے وابستہ اکثر عقیدتمندوں کے ہاں ’محافل سماع (قوالی)‘ کے ذریعے ’حضرت سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (اسم گرامی: عبدالقادر۔ کنیت: اَبومحمد۔ لقب: محی الدین۔ ولادت اٹھارہ مارچ 1077 عیسوی۔ قصبہ جیلان (ایران)۔ وصال: پندرہ جنوری 1166 عیسوی بمطابق گیارہ ربیع الثانی 571ہجری‘ بغداد عراق)‘ کی ذات بابرکات سے تجدید عہد اُور اُن کی یادآوری سے فیوض و برکات کے روحانی ثمرات حاصل کئے جاتے ہیں۔ گیارہویں شریف کی مناسبت سے پشاور کی مرکزی تقریب آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ‘ اندرون یکہ توت‘ کوچہ آقا پیر جان‘ ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہے‘ جس کا ’’بنیادی مقصد‘‘ ساڑھے آٹھ سو برس سے زائد عرصہ قبل اِسلامی تاریخ کی بزرگ شخصیت اور سلسلہ قادریہ کے بانی پیرانِ پیرؒ کی تلقین و ارشادات اور شریعت و طریقت (تصوف) کے حوالے سے تعلیمات کی علمی اُور روحانی پہلوؤں پر عصری حالات (تقاضوں کے مطابق) روشنی ڈالی جائے۔ یاد رہے کہ سلسلۂ تصوف و طریقت میں بزرگان دین (اُولیاء اللہ) کے دنیا سے پردہ فرمانے کے ایام کو بطور ’عرس‘ منایا جاتا ہے۔ ’عرس‘ کے لغوی معنی ’’شادی‘‘ یعنی وصل کے دن چونکہ وہ اپنے مزاروں میں جمال مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرتے ہیں‘ جو ’وصال محبوب‘ یعنی اپنے محبوب کے دیدار سے مسرت و شادمانی کی سبیل ہے‘ اِس لئے ہر سال مخصوص تاریخوں میں عرس یعنی ’خوشیاں‘ منائی جاتی ہیں۔

پشاور کے سرتاج روحانی گھرانے کے چراغ‘ پیرطریقت سیّد محمد اَمیر شاہ قادری المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے کہ ’’اِسلام میں کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنا واجب نہیں لیکن بیعت کرنے سے مراد یہی ہے کہ بندہ کسی (صاحب علم و عمل) کی پیروی (تقلید) کرے یعنی کسی ایسے شخص کی بیعت جو کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کو ماننے اور اُن پر مکمل عمل کرنے والا ہو کیونکہ عام لوگوں اِس قابل نہیں ہوتے کہ وہ قرآن وحدیث اور علوم اسلامیہ میں مہارت رکھیں‘ اِس لئے راہِ حق پر چلنے کے لئے اُنہیں کسی رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص خود علم و عمل کے اُس بلند درجے پر فائز ہو کہ وہ تفہیمِ شریعت میں کسی کی ضرورت محسوس نہ کرے اور شریعت کے علمی اور عملی میدانوں میں بھی ماہر ہو تو ایسے بندے کے لئے تو ضروری نہیں کہ وہ کسی کی بیعت کرے لیکن اگر ضروری ہو تو بیعت (پیروی) اُس بندے یا جماعت کی کرنی چاہئے جو اسلامی تعلیمات کے علمی اور عملی پہلوؤں سے کماحقہ آشنا اور درجہ کمال پر فائز ہو ہونے کے ساتھ ’صحیح العقیدہ‘ بھی ہو۔ اللہ تعالی‘ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت اطہار اور سلف صالحین رضوان اللہ اجمعین کا ادب واحترام کرتا ہو اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ بیت سے مقصود تو بس یہی ہے کہ انسان کی بہتر تربیت و تعلیم اور انسانیت کے احترام پر مبنی ’’تعلیماتِ اسلامیہ‘‘ کو فروغ حاصل ہو اور اسلام کا پرچمِ بلند رہے۔

’گیارہویں شریف‘ کے اِہتمام میں چراغاں اُور بالخصوص بڑی گیارہویں شریف کے ایام میں مبارکبادوں کا تبادلہ پشاور کے معمولات اُور روایات کا حصہ ہے لیکن اِس خاص دن کی مناسبت سے اگر ’’سالانہ علمی و عملی محاسبہ‘‘ بھی کیا جائے کہ سلسلۂ قادریہ سے وابستگی کا تقاضا تو یہ بھی ہے کہ سلوک کی منازل طے ہوتی رہیں۔ مرید (طلب گار) اپنے باطن کی صفائی کی جانب دھیان بنائے رکھے اُور باطنی صفائی کے لئے صوفیائے کرام کے چار درجات پر عمل کر کے ہر مسلمان نہ صرف اپنے ظاہری نفس بلکہ باطن کا تزکیہ کرنے کے قابل ہو سکے۔ 

قبلہ مولوی جیؒ تقویٰ‘ احسان یا بہ الفاظ متعارف تصوف کا بنیادی کام ’’دلوں کی صفائی‘‘ بیان فرماتے تاکہ اخلاق (عمل) نکھر جائیں۔ تصوف ’اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال‘ ہے‘ جس کا سرچشمہ قرآن و حدیث اور جس کی اساس شریعت اسلامی کے اصول ہیں اور انہی کے ذریعے دل‘ کان‘ زبان‘ ناک اور ذہن کے ذریعے جو آلودگیاں در آنے کے بعد روح کی بیماری کا سبب بنتی ہیں‘ اُن کا علاج (تدارک) ممکن ہو سکتا ہے۔

سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ سے پوچھا گیا کہ ’’محبت کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’محبت‘ محبوب کی طرف سے دل میں پائی جانے والی تشویش‘ فکر اور مستقل وابستگی کا نام ہے جسے محبت ہو جائے اُس کے سامنے دنیا کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ محبت ایک نشہ ہے جس سے ہوش جاتے رہتے ہیں۔ عاشق اپنے حال میں ایسے محو رہتا ہے کہ اُسے اپنے محبوب کے مشاہدے اور خوشنودی کے سوأ کسی دوسری چیز کا ہوش نہیں رہتا۔ وہ ایسا بیمار ہو جاتا ہے کہ اپنے مطلوب (محبوب) کو دیکھے بغیر تندرست نہیں ہوتا۔ وہ اپنے خالق عزوجل کی محبت کے علاؤہ دنیا میں کچھ اُور نہیں چاہتا۔ کسی دنیاوی چیز کا طلبگار نہیں ہوتا اور اپنے محبوب (رب تعالیٰ) کے ذکر کے سوأ‘ اُسے کسی شے کی خواہش (حرص بھی) نہیں ہوتی۔ (بہجۃ الاسرار)۔‘‘ آپؒ کا فرمان ہے کہ ’’اللہ کی محبت کا ’عملی تقاضا‘ یہ ہے کہ اپنی نگاہوں کو اللہ عزوجل کی رحمت کی طرف لگادیا جائے۔ ہر گھڑی اُس کی رحمت طلب کی جائے اور کسی غیراللہ کی طرف (اُمید و آس کی) نگاہ نہ کی جائے اُور اِنسان اَندھوں کی مانند ہو جائے‘ جب تک کہ وہ ’’غیر اللہ‘‘ کی طرف دیکھتا (متوجہ) رہے گا‘ اللہ عزوجل کا فضل نہیں دیکھ پائے گا۔ (فتوح الغیب)۔‘‘
۔