Showing posts with label WSSC. Show all posts
Showing posts with label WSSC. Show all posts

Friday, September 16, 2022

Water Distribution issues in Peshawar City.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خوابوں کی دُنیا

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور نکاسی آب سمیت کوڑا کرکٹ کی تلفی و صفائی کے لئے ذمہ دار ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (WSSP)“ نامی ادارہ ”جنوری دوہزارچودہ“ میں قائم ہوا۔ اِس سے قبل پشاور شہر اُور ضلع پشاور میں ’میونسپل سروسیز‘ میونسپلٹی فراہم کرتی تھی‘ جسے تحلیل کر کے چار ٹاؤنز اُور ایک ضلعی نگران و منتظم ادارہ بنایا گیا تاہم بعدازاں چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی ادارے سے صفائی ستھرائی‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی جیسے بنیادی کام (متعلقہ امور بھی) ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کو اِس اعلان کے ساتھ سونپ دیئے گئے کہ یہ ادارہ پشاور کی تمام 92 یونین کونسلوں میں فعال کیا جائے گا اُور اُمید یہ بھی تھی کہ میونسپلٹی اُور بعدازاں چار ٹاؤنز سے جن میونسپل خدمات کو ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سپرد کیا گیا ہے مذکورہ خدمات کا معیار بہتر ہوگا لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا اُور یہ نتیجہ¿ خیال صرف عوامی رائے نہیں بلکہ یہی مؤقف پشاور سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کا بھی ہے۔ رواں ہفتے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی‘ فوکل پرسن برائے میگا پراجیکٹس اور احیائے پشاور نامی حکمت ِعملی کے شریک نگران (ایم پی اے) آصف خان نے ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور‘ کو پشاور شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال‘ مسدود نکاسی آب اُور جا بجا کچرے (کوڑا کرکٹ) کے ڈھیروں کا حوالہ دیتے ہوئے ’کڑی تنقید‘ کا نشانہ بنایا تاہم یہ واضح نہیں کہ صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام کو ”سنگین غلطی“ تسلیم کرتے ہوئے اِسے تحلیل کرتی ہے یا نہیں اُور کیا میونسپل خدمات دوبارہ چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی بلدیاتی ادارے کو سونپ دی جائیں گی؟ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام سے پہلے پشاور میں مذکورہ تین میونسپل خدمات (پینے کے پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب کو فعال رکھنے اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی) پر اُٹھنے والے اخراجات میں کئی سو نہیں بلکہ کئی ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پشاور کو مختلف علاقوں (زونز) میں تقسیم کر کے ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے انتظامی دفاتر کرائے کی عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں جبکہ ملازمین کو مراعات کی مد میں ایسی سہولیات بھی فراہم ہیں‘ جو اُن کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر واپس لے لینی چاہیئں!

جون دوہزار بائیس میں پیش کئے گئے رواں مالی سال 2022-23ءکے صوبائی ترقیاتی بجٹ میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) کے لئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے۔ اِن چھ ارب روپے سے اگر ملازمین کی تنخواہیں اُور مراعات ادا نہ کی جائیں تو پشاور کے کئی ایک مسائل حل ہو سکتے ہیں جبکہ تمام یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ پشاور میں پینے کے پانی کی فراہمی کا انحصار زیرزمین آبی ذخیرے پر ہے‘ جس سے شہریوں کو 7 گھنٹے یومیہ پانی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن پشاور شہر کے کئی ایسے حصے بھی ہیں جہاں یومیہ ایک سے دو گھنٹے بمشکل پانی فراہم ہو رہا ہے اُور ایسا ہی ایک بدقسمت علاقہ ’یونین کونسل گنج‘ ہے۔ پشاور شہر کی اِس بالائی یونین کونسل گنج کے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد ٹیوب ویل نصب ہیں لیکن پانی کی ترسیل کا غیرمنظم نظام ہونے کی وجہ سے گنج‘ یکہ توت‘ لاہوری اُور کریم پورہ کے کئی حصوں میں پینے کا پانی حسب ِاعلان یومیہ 7 گھنٹے فراہم نہیں ہو رہا۔ پانی کی قلت بالخصوص اُن علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو ڈھلوان پر ہیں جیسا کہ کوچہ بی بی ذکری‘ محلہ تیلیان‘ محلہ شیخ الاسلام‘ محلہ دفتر بندان اُور اِن سے ملحقہ دیگر محلہ جات کے صارفین کو بمشکل ایک سے دو گھنٹہ پانی فراہم کیا جاتا ہے جو اہل علاقہ کی ضرورت کے مطابق کفالت نہیں کرتا کیونکہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابی کے باعث زیرڈھلوان علاقے اپنے حصے سے زائد پانی لیجاتے ہیں! اندرون پشاور مذکورہ علاقوں میں پانی کی قلت کی 2 بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ’ٹیوب ویلوں‘ کے لئے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے غلط فیصلے ہیں جبکہ دوسری وجہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابیاں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی علاقے میں ایک درجن ٹیوب ویل نصب ہونے کے باوجود بھی وہاں پانی کی قلت سے متعلق شکایات سننے کو نہ ملتیں۔ 

پہلی ضرورت: صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’ڈبلیو ایس ایس سی‘ سے پشاور کے ٹیوب ویلوں کے منجملہ کوائف طلب کرے‘ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ پشاور میں کس طرح پانی کی فراہمی پر سیاسی کاروبار کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ پبلک ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر چکے ہیں‘ جسے فراہم کرنے میں غیرضروری طور پر تاخیر کی جا رہی ہے۔ دوسری ضرورت: پشاور شہر کی حدود میں پانی کے ترسیلی نظام کے نقشہ جات مرتب کئے جائیں اُور پانی کے ترسیلی پائپ لائن زیر زمین بچھانے کی بجائے اُنہیں ظاہر رکھا جائے تاکہ چوری کے پانی کنکشنوں کا خاتمہ ہو اُور کسی ایک ٹیوب ویل سے پانی کا ترسیلی درست خطوط پر استوار ہو۔ ذہن نشین رہے کہ ایک ٹیوب ویل کم سے کم ایک ہزار خاندانوں کی یومیہ کفالت ممکن ہوتی ہے اُور اِس تناسب سے دیکھا جائے تو پشاور کی 92 میں سے 43 یونین کونسلوں میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے کل 524 ٹیوب ویل فعال اُور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے زیراستعمال 40 ٹیوب ویل‘ گیارہ پانی ذخیرہ کرنے کی بڑی ٹینکیاں اُور 39 فلٹریشن پلانٹس نصب ہیں۔ مجموعی طور پر پشاور میں سرکاری و نجی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1400 سے زیادہ ہے جن سے ”یومیہ 800 ملین گیلن پانی“ حاصل کیا جا رہا ہے اُور یہ مقدار پشاور کی کل آبادی کی ضرورت سے کئی زیادہ ہے۔ توجہ طلب ہے کہ زیادہ تعداد میں ٹیوب ویلوں کی وجہ سے نہ صرف بجلی اُور پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ زیرزمین پانی کی سطح بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے لیکن اِس بارے میں بہت کم خوروخوض کیا جاتا ہے۔

’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز ”خوابوں کی دنیا“ میں رہتے ہیں‘ جہاں ہمیشہ سب کچھ مثالی (سب اچھا) دکھائی دیتا ہے۔ سمجھنا ہوگا کہ ترقی اُور پائیدار ترقی کے نت نئے تصورات‘ نت نئے پرکشش ناموں سے متعارف کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ رواں ہفتے نئے جوش و جذبے سے ’ماڈل نیبرہڈ کونسلز‘ نامی حکمت ِعملی کا اعلان کرتے ہوئے ”ڈبلیو ایس ایس پی“ کے فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ وہ مقامی افراد کی شمولیت سے چنیدہ یونین کونسلوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جائے گی اُور اِس سلسلے عوام کے تعاون سے پینے کے پانی کی بچت اُور حفظان صحت کے اصولوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اِس حکمت ِعملی کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی عالمی امدادی ادارے ”یونیسیف (یونائٹیڈ نینشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ)“ اُور ”اسلامک ریلیف پاکستان“ نامی دنیا کے پانچویں بڑے امدادی ادارے کے اشتراک سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ’اِسلامک ریلیف‘ نامی ادارہ 1992ءسے پاکستان میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اُور یہ پاکستان سمیت 29 ممالک میں کام کرنے والا شاید واحد مسلمان امدادی ادارہ ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ نے پانچ یونین کونسلوں (قائد آباد کاکشال ٹو‘ زون اے میں یوسف آباد‘ زون بی میں رشید ٹاؤن‘ زون سی میں نوتھیہ قدیم اُور زون ڈی میں راحت آباد) کو مثالی (ماڈل) بنانے کے لئے ’یونیسیف‘ اُور ’اسلامک ریلیف‘ کے مالی تعاون سے تجرباتی جن اقدامات کا فیصلہ کیا ہے‘ اُن میں شجرکاری اُور صفائی ستھرائی شامل ہیں لیکن ماضی میں بھی اِسی قسم کی (ملتی جلتی) کوششوں کے اگر خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تو فیصلہ سازی کی سطح پر غوروخوض ہونا چاہئے تاکہ وقت و مالی وسائل ضائع نہ ہوں اُور ماضی کی وہ غلطیاں بھی نہ دُہرائی جائیں جن کی وجہ سے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی حاصل وصول صفر رہا ہے‘ البتہ ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا کے صفحات ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر کام کرنے والے اہلکاروں کی تصاویر اُور بیانات سے ہرے بھرے دکھائی دے رہے ہیں!

 منیر اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے کہ کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اُور سفر‘ آہستہ آہستہ (منیر نیازی)۔

....


Sunday, March 26, 2017

Mar2017: Clean Abbottabad & Priorities!

ژرف نگاہ .... شبیر حسین اِمام
ترقئ معکوس!
شہری ترقی کا معیار اُور فیصلہ سازوں کی ترجیحات دیکھ کر بخوبی اَندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ہم تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں تو اِس کے محرکات کیا ہیں۔ شاہراہ قراقرم کے کنارے اَیبٹ آباد شہر اُور چھاو ¿نی پر مشتمل یونین کونسلوں کا آغاز اگر ’سلہڈ‘ سے تصور کیا جائے تو شہر کی آخری یونین کونسل ’میرپور‘ ہو گی اُور دیہی و شہری علاقوں پر مشتمل ضلع اَیبٹ آباد کی پچاس سے زائد یونین کونسلوں میں ترقی کی کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ عام آدمی اور خواص کے لئے سہولیات کا معیار الگ الگ ہے۔

یونین کونسل میرپور کی کہانی ملاحظہ کیجئے جہاں ’سول آفیسرز کالونی اور عثمان آباد‘ جیسے گنجان آباد علاقوں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر بنایا جانے والا نکاسئ آب کے ایک نالے کی سلاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور یہی منظر یونین کونسل کاکول سے جڑی کینٹ بورڈ کی ’وارڈ نمبر 5‘ کا بھی ہے جہاں ’پی ایم اے‘ روڈ کا ایک حصہ توسیعی منصوبے میں آنے کے بعد متبادل سڑک تعمیر کی گئی لیکن اِس تعمیر کا معیار اِس قدر ناقص و نامکمل ہے‘ کہ نالے پر بنائی جانے والی پل سے آہنی سلاخیں ابھری ہوئی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہلکی و بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے تمام دن اُور رات استعمال ہونے والا سڑک کا یہ ٹکڑا ’موت کا پھندا‘ ہے۔ ایسے کئی موت کے پھندے ’فوارہ چوک‘ سے ’اَے پی اَیس سکول‘ تک سڑک کے دونوں کناروں پر ’آپٹیکل فائبر‘ تار بچھانے کی صورت پھیلے ہوئے ہیں لیکن عام آدمی (ہم عوام) کی جان و مال ہو‘ صحت و تعلیم یا پینے کے صاف پانی اُور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی‘ سمیت جملہ حقوق اُس کی مالی و سیاسی حیثیت سے مشروط ہیں!

1849ءسے 1853ءتک تعینات رہنے والے پہلے ’ڈپٹی کمشنر‘ میجر جیمس اَیبٹ کے نام سے منسوب ’اَیبٹ آباد‘ کا شمار خیبرپختونخوا کے اِنتہائی تیزی سے پھیلنے والے شہری علاقوں میں ہوتا ہے۔ خوشگوار آب و ہوا کے لئے معروف اَیبٹ آباد میں اگر تعمیرات اُور ترقی کے مقررہ پیمانوں (قواعد و ضوابط) پر خاطرخواہ عملدرآمد ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ اِس قدر بے ہنگم و اَبتر صورتحال دَرپیش ہوتی۔ سردست صورتحال یہ ہے کہ آبادی اُور رقبے کے لحاظ ’فوجی چھاونی‘ (کنٹونمنٹ) محدود ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ”میونسپلٹی (ٹاو ¿ن میونسپل اِتھارٹی)“ کے زیرکنٹرول علاقوں میں ’نئی رہائشی کالونیاں‘ بن رہی ہیں تو کیا یہ مسئلہ بھی حکام کی توجہات کا مرکز ہے؟ ’آٹھ مارچ‘ کی صبح ’کمشنر ہزارہ‘ کی زیرصدارت کنٹونمنٹ بورڈ‘ بلدیاتی و دیگر منتخب نمائندوں کے اِجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ”21 اُور 22 مارچ“ کو 2 روزہ ’صفائی کی مہم‘ چلائی جائے گی جس میں ایبٹ آباد کے ہر حصے کو رضاکاروں بالخصوص طلباءو طالبات کی مدد سے صاف کیا جائے گا اور اِسی کوشش کے ذریعے صفائی سے متعلق ’عوام الناس‘ میں شعور اجاگر کیا جائے گا لیکن کمشنر ہزارہ جیسی بااختیار شخصیت اور کمانڈنٹ و چیف ایگزیکٹو آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ کی موجودگی میں ہوئے ایک اجتماعی فیصلے کو بعدازاں عمل درآمد کے قابل نہیں سمجھا گیا تو اِس سے فیصلہ سازوں کی ترجیحات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں جنہیں اپنا گھر اور اپنے گھر سے جڑی چند گلیوں کی صفائی دیکھ کر اطمینان ہو جاتا ہے کہ باقی ماندہ شہر میں بھی صفائی ستھرائی کی صورتحال ایسی ہی ہوگی!

ایبٹ آباد سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی کارکردگی ملاحظہ کیجئے جنہوں نے پانچ لاکھ روپے سے زائد رقم ایک ایسے ”مطالعاتی دورے“ پر خرچ کر ڈالی ہے‘ جس کا حاصل سوائے تفریح اور تھکاوٹ کچھ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تحصیل آیبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی نمائندے 13 مارچ سے 22 مارچ تک لاہور‘ ملتان‘ سکھر‘ سیہون شریف‘ کراچی‘ زیارت‘ کوئٹہ اُور ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کرکے بخیروعافیت واپس لوٹ آئے ہیں۔ مقام شُکر یہ ہے کہ چوبیس رکنی وفد کی قیادت کرنے والے تحصیل ناظم اِسحاق سلیمانی نے ’پانچ رکنی‘ اِنتظامی کمیٹی کی سربراہی سیاسی مخالف جماعت ’نواز لیگ‘ کے ایک نمائندہ کو سونپی‘ جس سے معلوم ہوا کہ اگر معاملہ تفریح طبع کا ہو تو سیاسی مخالفت اُور اختلافات خاطرمیں نہیں لائے جاتے۔ خدا کرے کہ قومی وسائل سے مل جل کر مستفید ہونے کی طرح عام آدمی (ہم عوام) کے مسائل کے حل کے لئے بھی اسی قسم کے بابرکت اتحاد و اتفاق کی مثالیں عام ہوں!

ایبٹ آباد کی چار یونین کونسلوں کے علاوہ شہر میں کہیں صفائی کا نظام موجود نہیں۔ کوڑے کے ڈھیروں پر ڈھیر بن رہے ہیں۔ ایک ایسا شہر جس میں یومیہ ڈھائی لاکھ کلوگرام گندگی اکٹھا ہو لیکن یومیہ ایک لاکھ کلوگرام سے کم گندگی اٹھائی جا رہی ہو تو تصور محال نہیں کہ آنے والے موسم گرما میں ایبٹ آباد میں کتنے مچھروں اور مکھیوں کی آبادی میں اضافہ ہوگا!

حال ہی میں ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی)‘ کو ایبٹ آباد تک وسعت دی گئی ہے تو یہ تجربہ بھی مسئلے کا پائیدار حل ثابت نہ ہوسکا بلکہ اپنی جگہ پر ایک ایسا مسئلہ ہے جو حل (توجہ) چاہتا ہے کیونکہ ’الاماشاءاللہ‘ پہلے ہی کام نہ کرنے والے سرکاری اِداروں کی کیا کم کمی تھی جو ایک اُور ادارے کا اضافہ کر دیا گیا بہرکیف یہ امر بھی حیرت کا باعث ہے کہ مذکورہ کمپنی نے دفتر کے لئے ’پوش ایریا‘ کا انتخاب کیا اور اب تک ملنے والے دو کروڑ روپے جیسی رقم بھی دفتری ضروریات اُور دفتر کے حصول پر ہی خرچ کی گئی لیکن اِس کمپنی کا بنیادی کام جو کہ گندگی صرف اُٹھانا نہیں بلکہ اُسے تلف کرنا‘ نکاسئ آب اور ہر خاص و عام کے لئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے جیسا بنیادی کام نہیں ہوسکا!

عام آدمی (ہم عوام) کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں تو اِس کی وجہ خاموشی اُور تجاہل عارفانہ ہے۔ آفیسرز کالونی میں رہنے والے اگر بیچ سڑک سر اُٹھائے آہنی سلاخوں سے اُلجھ اُلجھ کر بھی زندہ ہیں اُور ’پی اَیم اَے کاکول روڈ‘ سے اِستفادہ کرنے والے ایک مستقل عذاب و ذلت برداشت کرنے پر بھی خاموش ہیں تو برداشت کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے اُور برداشت کی بھی کوئی نہ کوئی حد تو ضرور ہونی چاہئے۔

Friday, March 10, 2017

Mar2017: Beautification & role of WSSC in Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ایبٹ آباد: خوبصورتی مانند!؟
چوبیس جون دوہزار پندرہ کے روز خیبرپختونخوا حکومت نے باقی ماندہ چھ ڈویژنل ہیڈکواٹرز شہروں (ایبٹ آباد‘ کوہاٹ‘ مردان‘ بنوں‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات) تک ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی)‘ کا دائرہ کار پھیلا دیا‘ جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں کام نکاسئ آب کے نظام کی فعالیت‘ صفائی کی صورتحال میں بہتری‘ کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) کی تلفی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی شامل ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے اِس اعلامیے (ہینڈآؤٹ) پر ’ایبٹ آباد‘ کی حد تک عمل درآمد ہوتے ہوتے کم و بیش دو سال بعد بھی صورتحال غیریقینی ہی کا شکار ہے کیونکہ صفائی ستھرائی کے لئے پہلے سے موجود نیٹ ورک کے نگران ’ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے)‘ نے مذکورہ کمپنی سے ’سروسیز اینڈ منیجمنٹ ایگریمنٹ (سماء معاہدہ)‘ کرنے انکار کر رکھا ہے۔ 

اگر پشاور سمیت دیگر ڈویژنل ہیڈکواٹرز میں فعال مذکورہ کمپنیوں سے ’ٹی ایم اے‘ حکام تعاون کر رہے ہیں تو آخر کیا وجہ ہے یہ تعاون ’ایبٹ آباد‘ میں نہیں ہو رہا؟

تحریک اِنصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کی بدقسمتی رہی ہے کہ اِس کے بالخصوص ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں ’رکاوٹوں پر رکاوٹیں‘ حائل کرنے والوں کی کمی نہیں۔ آٹھ مارچ کی صبح کمشنر ہزارہ کی زیرصدارت ’’ایبٹ آباد کی خوبصورتی‘‘ کے حوالے سے اجلاس میں تجاوزات کے خاتمے‘ غیرقانونی اڈوں‘ سڑکوں کی حالت‘ نکاسئ آب اور صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جس میں کنٹونمنٹ بورڈ‘ پاکستان ملٹری اکیڈمی‘ ڈبلیو ایس ایس سی اور متعلقہ رکن قومی اسمبلی (این اے سترہ) و صوبائی اسمبلی (پی کے پینتالیس) کو مدعو کیا گیا تھا۔ اوّل تو اِس اجلاس کو خفیہ (تہہ دار) رکھنے کوئی خاص ضرورت نہیں تھی بلکہ اِسے ’اوپن فورم‘ کے طور پر منعقد کیا جاتا جس میں ایبٹ آباد سے منتخب بلدیاتی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے کے علاؤہ تاجر و دیگر تنظیموں کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جاتا تو کوئی خاص فرق نہ پڑتا بلکہ مشاورت سے بہتری کی راہیں کھلتیں اُور ایسا اب بھی ہو سکتا ہے۔

شہری علاقوں میں صفائی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا تجربہ ستمبر دوہزار چودہ میں پشاور سے شروع کیا گیا جس کی کامیابی کے بعد اِسے مختلف ڈویژنل ہیڈکواٹرز تک توسیع دی گئی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک کی سوچ یہ تھی کہ تیسرے مرحلے میں اِسے تمام اضلاع تک وسعت دے دی جائے گی لیکن شاید یہ ہدف بھی حاصل نہ ہو سکے۔ صوبائی حکومت کی خواہش اور کوشش ہے کہ بلدیاتی اداروں کو ملنے والے ترقیاتی فنڈز کا ایک خاص حصہ صفائی اور پینے کے پانی کی فراہمی پر خرچ ہو لیکن میونسپل خدمات کے ادارے اور اہلکار اِس بارے شدید تحفظات رکھتے ہیں!

ایبٹ آباد کی چار یونین کونسلوں پر مشتمل شہری علاقوں اور کنٹونمنٹ بورڈ کے پانچ وارڈز میں یومیہ 250 ٹن (ڈھائی ہزار کلوگرام) کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) پیدا ہوتی ہے جس میں سے صرف 80سے 90 ٹن گندگی اکٹھا ہوتی ہے لیکن اِس کی تلفی (ٹھکانے لگانے) کا خاطرخواہ بندوبست نہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود سے پچاس ٹن جبکہ شہری علاقوں کی حدود سے چالیس سے تیس سے چالیس ٹن گندگی اُٹھانے کا نظام ایبٹ آباد کی خوبصورتی کو ماند کرنے کا باعث بن رہا ہے‘ جس کا اگر آنے والے سیزن (موسم گرما) سے قبل علاج نہ کیا گیا تو ایبٹ آباد کی گندگی کے انبار اردگرد پہاڑوں سے زیادہ بلند دکھائی دیں گے! خیبرپختونخوا کے بالائی سیاحتی مراکز (گیٹ وے اَیبٹ آباد) میں کم سے کم اگر صفائی ستھرائی کی صورتحال ہی بہتر نہیں بنائی جاتی تو یہ ’تحریک انصاف کی عظیم بدنامی‘ کا باعث بنے گا۔ تین برس سے کمشنر ہزارہ جیسے عہدے پر ایک ہی شخص کو تعینات رکھنے سے حاصل ہونے والے فوائد اور نقصانات کا شمار ضروری ہے۔ تحریک اِنصاف کی مرکزی و صوبائی اُور اِیبٹ آباد سے منتخب قیادت کے پیش نظر ضلع ایبٹ آباد کے مفادات اُور بالخصوص اُس ’ووٹ بینک‘ کی رائے کا اِحترام ہونا چاہئے‘ جس نے ’’اَندھا اِعتماد‘‘ کیا اور آج بھی بہتری کی اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے!

ایبٹ آباد کے دیرینہ مسائل بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ تجاوزات‘ ٹھوس گندگی کی تلفی‘ نکاسئ آب‘ غیرقانونی اڈے‘ سڑکوں کی حالت زار اُور شہری منصوبہ بندی کا فقدان ایسے چند مسائل ہیں جن کے حل پر ہونے والی سست پیشرفت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے نوٹس میں رہنی چاہئے۔ ایبٹ آباد کی آبادی کا زیادہ بڑا حصّہ فوجی چھاؤنی (کنٹونمنٹ کی پانچ وارڈوں) پر مشتمل ہے‘ جہاں فوجی اُور سول اِداروں کے درمیان رابطوں اور تعاون کے فقدان کے سبب الگ سے مسائل (اُلجھنیں) وقت گزرنے کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے توسیعی منصوبے کے بارے مقامی آبادی کے تحفظات اور مشکلات یہاں کی نمائندگی کرنے والوں کے لئے زیادہ بڑا چیلنج ہیں لیکن اگر ’ادارہ جاتی طاقت کے مراکز‘ اپنے اپنے اختیارات خطرے میں محسوس کرنے کی بجائے اُس ’بیچارے انسان‘ کے بارے میں بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں‘ جس کی زندگی ایک مسلسل کرب سے گزر رہی ہے۔