Showing posts with label Sethi Town. Show all posts
Showing posts with label Sethi Town. Show all posts

Thursday, May 12, 2022

Incompleteness.

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

اَدھورا پن

شہر شہر اُور گاؤں گاؤں تعمیر و ترقی کا عمل کئی وجوہات کی بنا پر ’ادھورے پن‘ کا شکار ہے‘ جس میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ قومی خزانے سے کی جانے والی تعمیروترقی میں مستقبل کے تقاضوں (آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات) کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اُور دوسرا پہلو جو اِس بھی زیادہ  تشویش کا باعث ہے کہ قومی خزانے سے خطیر رقومات خرچ کرنے کے باوجود بھی تعمیروترقی عوام کے مسائل حل کرنے کا باعث (وسیلہ) نہیں۔ ترقیاتی ادھورے پن سے متعلق اِس تصور کو 2 مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پہلی مثال پشاور شہر کے علاقے سیٹھی ٹاؤن (پہاڑی پورہ)‘ کی ہے جہاں کے رہائشی ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی موسم گرما کے آغاز ہی سے 3 طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حسین چوک سے غالب سٹریٹ اُور اِس سے ملحقہ محلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی گزشتہ کئی ہفتوں سے معطل ہے۔ پانی کب آئے گا‘ کسی کو کچھ نہیں معلوم اُور نہ ہی اُمید ہے لیکن پانی آئے نہ آئے آبنوشی کا بل باقاعدگی سے ادا کرنا ضروری ہے‘ جو ایک الگ موضوع ہے! سیٹھی ٹاؤن کی مذکورہ آبادی کے لئے ٹیوب ویل کی تنصیب متنازعہ قطعہئ اراضی میں کی گئی جس کا انتخاب ہی غلط تھا اُور یہی بنیادی غلطی پوری حکمت عملی کی ناکامی کا سبب بن گئی ہے کہ ٹیوب ویل کی اراضی ایک بااثر شخص کی ملکیت ہے اُور ٹیوب ویل لگنے کے بعد‘ مبینہ طور پر اُس نے اپنے بیٹے کو اِس بات کے لئے اہل سمجھا کہ وہ ’ٹیوب ویل آپریٹر‘ کی سرکاری ملازمت کرے لیکن جب اُس کا یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو اُس ٹیوب ویل بند کر دیا اُور سیٹھی ٹاؤن کے رہائشی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے ہر دن پانی راہ دیکھتے ہیں! سیٹھی ٹاؤن کا دوسرا مسئلہ ’نکاسیئ آب‘ کے نظام کی صفائی نہ ہونا اُور تیسرا مسئلہ کوڑا کرکٹ کی بروقت تلفی نہ ہونا ہے جس کے سبب مچھروں اُور مکھیوں کی اَفزائش (بہتات) ہے جبکہ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا جاری عرصہ (سیزن) اہل علاقہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ ضروری اُور ٹیوب ویل کی واگزاری ہے‘ تاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے! عجیب و غریب صورتحال یہ ہے کہ اگر ’عوامی مفاد‘ کو دیکھا جائے تو ’ٹیوب ویل بند کرنا‘ قانوناً جرم ہے لیکن چونکہ یہاں معاملہ ایک بااثر شخص کا ہے‘ اِس لئے ادارے خاموش اُور عوام بلک رہے ہیں!

تعمیروترقی اُور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں میں پائے جانے والے ”اَدھورے پن“ کی بدترین دوسری مثال سیٹھی ٹاؤن سے 150 کلومیٹر دور ’ہری پور‘ میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کے ”منگ“ نامی دیہی علاقے میں 200 طلبہ کے لئے ”سرکاری ہائی سکول“ 10 سال قبل تعمیر ہوا‘ جس کے بعد اراضی کے مالک بااثر زمیندار اور محکمہئ تعلیم کے درمیان مالی امور پر تنازعہ پیدا ہوا اُور مذکورہ عمارت تعمیر تو ہوئی لیکن دس سال سے فعال نہ ہو سکی! تصور کیا جا سکتا ہے کہ 10 سال کتنا طویل عرصہ ہوتا ہے جسے ضائع کرنے سے علاقے کے کس قدر تعلیمی حرج ہو چکا ہے اُور یہ حرج مسلسل جاری بھی ہے! محکمہ تعلیم نے عارضی طور پر کرائے کی عمارت میں تین کمروں پر مشتمل سکول قائم کر رکھا ہے جبکہ میلوں سفر کر کے دور دراز سکول جانے والے کتنے ہی بچے سفری مشکلات کے باعث تعلیم کو الوداع کہہ چکے ہیں!

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہری پور کے ’خان پور روڈ‘ کے کنارے آباد ’منگ‘ گاؤں میں سکول 1913ء میں تعمیر ہوا تھا‘ جس کی خستہ حال (پرانی) عمارت کو کی جگہ زیادہ گنجائش والی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ نئی عمارت تعمیر کرے کے لئے سال 2004ء میں اُس وقت کے محکمہئ تعلیم کے ضلعی نگران (حیدر زمان مرحوم) اُور مالک اراضی (ملک اعظم خان) کے درمیان زبانی کلامی معاہدہ ہوا جس کے بعد 2012 میں 86لاکھ روپے کی لاگت سے نئی عمارت تعمیر کی گئی اُور معاہدے کے تحت پرانی عمارت والی اراضی زمیندار کو منتقل کرنا تھا۔ جب نئی عمارت میں کلاسیں شروع ہونے والی تھیں تو زمیندار نے معاہدے کے مطابق جائیداد کے حقوق کی منتقلی کے لئے محکمے پر دباؤ ڈالا اُور جب حکام نے اراضی کی ملکیت کے ریکارڈ کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ پرانی عمارت کا ٹکڑا ہری پور ضلع کونسل کی ملکیت ہے اُور سرکاری اراضی زمیندار کے نام منتقل کرنے سے معذرت کر لی گئی چونکہ زمیندار بااثر تھا اُس نے ہر طرح کا دباؤ استعمال کیا اُور عدالت سے بھی رجوع کیا جہاں دوہزارچودہ میں سول عدالت نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ وہ زمیندار کو دس لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے ادائیگی کرے یا پھر زمیندار سکول کی تعمیراتی لاگت ادا کرے۔ محکمے نے عدالت کو بتایا کہ سکول کی تعمیر پر مجموعی کو ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے بھی عدالت سے رجوع کیا اُور ہائی کورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے دس لاکھ روپے فی کنال کی بجائے ’مارکیٹ ریٹ‘ یعنی دو لاکھ اَسی ہزار روپے فی کنال ادائیگی کا حکم دیا لیکن اِس پوری تگ و دو میں سکول کی نئی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی اُور مقامی افراد کے مطالبے پر خیبرپختونخوا محکمہئ تعلیم نے ایک نیا سکول تعمیر کرنے کے لئے چار کروڑ بیاسی لاکھ روپے منظور کئے ہیں۔ اِس پوری کہانی سے ’منصوبہ بندی کا فقدان‘ کھل کر سامنے آتا ہے اُور یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ انتظامی عہدوں پر فائز ہونے والوں کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو کس قدر مالی نقصان جبکہ عوام کو کس قدر سنگین نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ترقیاتی عمل سے زیادہ اِس کا ’ادھوراپن‘ دور کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں ادارہ جاتی فیصلوں پر نظرثانی کے لئے ضلعی سطح پر ایسی مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوں اُور اِن ’ٹیکنوکریٹس‘ کے ذریعے کسی بھی حکومتی ترقیاتی منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے جن میں بشمول لاگت‘ پائیداری‘ معیار‘ سماجی و ماحولیاتی اثرات اُور اِس کی راہ میں حائل ممکنہ قانونی رکاوٹوں کے بارے پہلے ہی سے سوچ بچار کر لیا جائے تو اِس سے حکومتی وسائل میں بچت اُور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی فراہمی میں روانی ممکن و برقرار بنائی جا سکتی ہے۔ 

اگر نیت میں فتور نہیں‘ اگر خالصتاً قومی و عوامی مفادات ہی پیش نظر ہیں تو ترقیاتی عمل کو سیاسی و انتخابی مفادات و ترجیحات کی قید سے آزاد کرانا ہوگا‘ جس کا ایک امکان بلدیاتی اداروں کو زیادہ بااختیار بنانا بھی ہے اُور اِس سے بھی بامقصد و باسہولت تعمیروترقی جیسے اہداف باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ”اگر ہے جذبہئ تعمیر زندہ …… تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے!؟ (احمد ندیم قاسمی)“

……

Clipping from Daily Aaj May 12, 2022 Thursday 


Wednesday, August 5, 2020

Tale of occupied Tube-Well. WONDERFUL Peshawar!

مقبوضہ ٹیوب ویل

واٹر اِینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور (اَلمعروف واسا) کی خدمات میں ”صاف پانی کی فراہمی“ وہ بنیادی کام ہے‘ جس کی اِہمیت و طلب موسم گرما میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ’واسا‘ کے زیرانتظام پشاور کی مختلف یونین کونسلوں میں فراہم کیا جانے والا پانی معیاری (صاف) اُور مقدار میں کافی ہو اُور اِس بات کی ضمانت بھی نہیں دی جاتی کہ کسی علاقے (یونین کونسل) کے صارفین کو فراہم کیا جانے والا پانی وہاں کے ہر گھر (ہر صارف) تک پہنچ بھی رہا ہے جبکہ پانی پہنچے یا نہ پہنچے لیکن ’پانی کا بل (Water Bill)‘ باقاعدگی سے وصول ہو جاتا ہے۔ وقت ہے کہ اخبارات میں شائع کروائی جانے والی کارکردگی پر اکتفا اُور مذکورہ سرکاری اِدارے کی خدمات کا دائرہ ہر دن وسیع کرنے کے ساتھ اُن صارفین کا اِعتماد حاصل کرنے کے بارے میں بھی سوچا جائے‘ جنہیں واسا کے ذریعے ملنے والا پانی اِس کے معیار اُور مقدار بارے شکایات و تحفظات ہیں اُور اِنہی آرا کی روشنی میں ’واسا کارکردگی کا اِحتساب‘ ہونا چاہئے۔

پشاور کی یونین کونسل نمبر 1‘ سیٹھی ٹاون (پہاڑی پورہ)‘ بلدیاتی بندوبست کے لحاظ سے ”ٹاون ون“کا حصہ اُور اُن ’چنیدہ‘ علاقوں میں شامل ہے‘ جہاں کے رہنے والوں کو کمال مہربانی سے (بطور احسان) ”شہریوں“ میں تو شمار کیا جاتا ہے لیکن اُنہیں شہریوں جیسی جملہ سہولیات میسر نہیں اُور نہ ہی واسا کے زیرانتظام تمام صارفین اُور تمام یونین کونسلوں (علاقوں) کو ایک نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیٹھی ٹاون کے ایک حصے کو پانی کی فراہمی کے سلسلے (نیٹ ورک) سے جوڑا گیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پانی کی فراہمی کا یہ بندوبست ’واسا‘ کی تخلیق سے پہلے کا تھا‘ جس کی حسب ضرورت اصلاح نہیں کی گئی۔ سیٹھی ٹاون کی غالب سٹریٹ اُور اِس سے ملحقہ گلی کوچوں میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ’آبنوش صارفین‘ کو ماہ رمضان المبارک سے پانی کی قلت کا سامنا ہے اُور اِس بات کی فریاد (شکایت) کرتے کرتے عید الفطر اُور عید الاضحی جیسے تہوار بھی فریاد کرتے گزر گئے لیکن پانی کے بل باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے ضمیر پر کسی بھی قسم کا بوجھ نہیں! پانی کے بل پر شکایات درج کرانے کے نمبروں پر ٹیلی فون کالز‘ متعلقہ ٹیوب ویل‘ واسا   زونل دفتر اُور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین سے رجوع (رابطہ) کرنے کا بھی خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا کہ پانی کی فراہمی بحال ہو سکے۔ 

آخر کب تک ٹیوب ویلوں سے پانی کی تقسیم جیسے معاملے میں بھی سیاسی مداخلت ہوتی رہے گی؟ 
اہل علاقہ کے بقول بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں ٹیوب ویل کسی سرکاری زمین یا سرکاری کنٹرول والی جگہ پر نصب کرنے کی بجائے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی ایک مقامی شخصیت (ملک سجاد) کے حجرے کی چاردیواری کے اندر‘ عام شاہراہ سے دور جگہ کا انتخاب کیا گیا‘ جہاں تک رسائی اُور مذکورہ حجرے میں داخلے کے حقوق محفوظ تھے۔ مذکورہ سیاسی و سماجی اُور مالی طور پر بااثر شخصیت نے ٹیوب ویل نصب ہونے کے بعد اپنے حجرے کے ایک حصے میں ’سوئمنگ پول‘ بنا کر کاروبار شروع کر دیا اُور یوں سرکاری بجلی‘ مشینری اُور ٹیوب ویل پر تعینات سرکاری عملے کی خدمات سے ’کمرشل سوئمنگ پول‘ بھرنے لگا۔ موسم گرما میں دور دراز سے لوگ تازہ پانی کے اِس سوئمنگ پول میں نہانے کے لئے آنے لگے یوں ”مقامی سیاحت“ میں ایک خوشگوار تفریح کا اضافہ ہوا‘ جو سراسر ’بدنیتی اُور بدعنوانی پر مبنی اقدام‘ اُور متعلقہ بلدیاتی ادارے کے اہلکاروں کی ملی بھگت کا مظہر تھا۔ ٹیوب ویل کا وہ پانی جو اہل علاقہ کو فراہم ہونا تھا وہ ایک ’نجی کمرشل سوئمنگ پول‘ کے لئے مختص کر دیا گیا اُور جب اہل علاقہ کی شکایات ذرائع ابلاغ کے ذریعے زیادہ ہوئیں تو پائپ لائن بچھا کر مذکورہ ٹیوب ویل سے آس پاس کے چند محلوں کو پانی فراہم کیا گیا لیکن اہل علاقہ کو پانی فراہم کرنا کبھی بھی ترجیح نہیں تھی۔ حسب سابق و معمول موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی ہزاروں لیٹر پانی سوئمنگ پول کو دیا جانے لگا جس کی وجہ سے پہلے پانی کی قلت اُور بعدازاں مکمل بندش کر دی گئی۔

سیٹھی ٹاون کے جملہ رہائشی‘ حسین چوک سے غالب سٹریٹ اُور رنگ روڈ (چغل پورہ) تک کسی نہ کسی صورت پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ کہیں سرکاری پائپ لائنیں مکمل خشک ہیں تو کہیں چند گھنٹوں کے لئے پانی فراہم کر کے صارفین کے منہ کر دیئے گئے ہیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ سیٹھی ٹاون میں زیرزمین پانی کی مقدار اِس حد تک کم ہو چکی ہے کہ گھروں میں موجود بورنگ کارآمد نہیں رہیں۔ پشاور کی اِس نسبتاً جدید رہائشی بستی میں تعمیر ہونے والے ہر مکان کے لئے زیرزمین پانی کے ذخیرے سے اِستفادہ ہوتا تھا لیکن ’پانی کی سطح‘ آبادی بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی چلی گئی اُور اب سارے کا سارا انحصار ’واسا‘ کے فراہم کردہ پانی کے نیٹ ورک پر ہو چکا ہے‘ جو اپنی جگہ قابل بھروسہ نہیں۔ 

سیٹھی ٹاون سے تعلق رکھنے والے ’پانی کے صارفین‘ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے درخواست کی ہے کہ وہ اُن کے علاقے میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری پانی کی شدید ترین قلت کا نوٹس لیں اُور مقبوضہ سرکاری ٹیوب ویل کو سیاسی جماعت کے چنگل سے واگزار کرانے کے علاوہ اُن تمام بلدیاتی اُور واسا اِہلکاروں کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی دیں جو سرکاری ٹیوب ویل کے نجی استعمال و استفادے پر خاموش ہیں اُور یہ خاموشی بلاوجہ نہیں ہو سکتی! 

وقت ہے کہ پشاور کی جن یونین کونسلوں میں ’واسا‘ خدمات کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے وہاں کے صارفین کی آرا جاننے کے لئے کسی آزاد ذریعے سے سروے کیا جائے۔ ’واسا‘ کے لئے نئے سربراہ کی تعیناتی اپنی جگہ ایک الگ ضرورت ہے کیونکہ موجودہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سربراہ دیگر اہم محکموں (پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اُور میٹرو بس بی آر ٹی) کے بھی منتظم اعلیٰ ہیں اُور کسی ایک شخص کے لئے عملاً ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ باوجود خواہش و کوشش بھی بیک وقت تین محکموں کے اَمور نمٹاتے ہوئے اپنے عہدے سے جڑی ذمہ داریوں کی انجام دہی (کماحقہ) خوش اسلوبی سے کر سکے۔ 

سیٹھی ٹاون سمیت پشاور کے جن علاقوں میں صارفین کو حسب وعدہ پانی فراہم نہیں کیا جا رہا‘ اُن سے وصول شدہ گزشتہ کئی ماہ کے یوٹیلٹی بلز یا تو واپس ہونے چاہیئں یا پھر اُن بلوں کو آئندہ مہینوں میں (تاوقتیکہ) ایڈجسٹ کیا جائے‘ جب پانی کی فراہمی بحال ہو کیونکہ یہ بات مبنی بر انصاف نہیں کہ صارفین کو پانی تو نہ ملے لیکن آبنوشی کے ماہانہ بلوں کی باقاعدگی سے موصولی اُور وصولی کا عمل جاری رہے۔
....