Showing posts with label Primary Education. Show all posts
Showing posts with label Primary Education. Show all posts

Friday, January 21, 2022

Teacher woe(s) and right(s)

 تحریک .... آل یاسین

اساتذہ مسائل: زندہ رہنے کا حق

درس و تدریس کے عمل کو معیاری اُور یکساں نصاب کا حامل بنانے کے ساتھ فیصلہ سازوں کو اساتذہ کے ’حسب ِاطمینان‘ اقدامات و انتظامات کرنا ہوں گے تاکہ جملہ فریقین کی ذہنی آمادگی و شرکت سے ایک باسہولت نظم و نسق لاگو ہو۔ خیبرپختونخوا میں تحریک اِنصاف کی حکمرانی کا پہلا دورانیہ (دو ہزار تیرہ سے دوہزار اٹھارہ) اُور اگست دوہزار اٹھارہ سے جاری دوسرے دور حکومت میں کئی قابل ذکر (مثالی) اصلاحات ہیں اُور اِن میں بطور خاص ’ایجوکیشن سیکٹر ریفارم یونٹ (ESRU)‘ کے ذریعے تعلیم کے شعبے کی مجموعی اُور باریک بینی سے کارکردگی پر بھی نظر رکھی گئی۔ ذہن نشین رہے کہ ’ایجوکیشن سیکٹر پلان (ESP)‘ جو کہ استعداد کی بہتری سے متعلق حکمت عملی ہے وہ تعلیمی شعبے کے معیار اُور کارکردگی کے بارے میں سوچ بچار کا مجموعہ ہے‘ جس کے لئے برطانیہ‘ یورپی کمیشن‘ امریکی امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) اُور جرمن حکومت مجموعی طور پر 55 ہزار 338 ملین روپے فراہم کر چکی ہے لیکن یہ ساری کوششیں اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوں گی جب تک اساتذہ کی بھرتی میں اہلیت کے بعد اُنہیں اِس مقصد کے حصول کے لئے بھی قائل نہیں کر لیا جاتا کہ شعبہ¿ تعلیم صرف ملازمتوں کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ اِس کی ایک معنویت اُور مقصدیت بھی ہے‘ جس کے اہداف حاصل کرنے میں منصوبہ سازوں سے زیادہ اساتذہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اساتذہ پر مبنی افرادی قوت کے جائز مسائل کا حل‘ امتیازات کا خاتمہ اُور اساتذہ کے حقوق بارے بھی کماحقہ غوروخوض اِس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اساتذہ اطمینان قلب اُور توجہ سے اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔ اساتذہ کی اکثریت کو تبادلوں اُور تعیناتیوں جیسے امور اُور اِن سے متعلق فیصلہ سازوں کے امتیازی روئیوں (جنہیں وہ فرعونیت سے تعیبر کرتے ہیں) کی شکایات رہتی ہیں اُور وہ چاہتے ہیں محکمے کے سبھی ملازمین کے لئے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ سیاسی اثرورسوخ‘ رشوت یا تعلقات کی بنا پر نہیں بلکہ ”میرٹ (حقیقی اہلیت)“ کے مطابق فیصلے ہونے چاہیئں۔

 محکمانہ قواعد و ضوابط پر خاطرخواہ انصاف کے ساتھ عمل درآمد دیکھنے کی ایک ایسی ہی خواہشمند معلمہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے ہے جہاں بطور پرائمری ٹیچر محترمہ زاوش فدا تعینات ہیں اُور چاہتی ہیں کہ اُنہیں مضافاتی دیہی علاقے کے پرائمری سکول شوراگ سے ضلع ایبٹ آباد کے شہری علاقے کے کسی تعلیمی ادارے میں تعینات کیا جائے۔

سال دوہزاراٹھارہ سےڈیسیز کوٹے (Deceased Quota)  پر بطور ”مستقل ملازمت“ پرائمری ٹیچر تدریسی خدمات سرانجام دینے والی محترمہ زاوش آبائی طور پر (خیبرپختونخوا کے) ضلع ہری پور سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اُن کی شادی ملحقہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی‘ جہاں سے شوراگ گاؤں کے پرائمری سکول کا یک طرفہ فاصلہ چالیس کلومیٹر سے زیادہ ہے اُور اِس مسافت کے لئے اُنہیں ہر روز دو سے ڈھائی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے چونکہ ضلع ہری پور کا شمار میدانی اضلاع جبکہ ضلع ایبٹ آباد کا شمار بالائی اضلاع میں ہوتا ہے اِس لئے موسم کے اثرات کی وجہ سے سکول کے آغاز و اختتام اُور تعطیلات کے دورانیئے بھی الگ الگ ہوتے ہیں اُور یوں شدید بارش حتیٰ کہ برفباری کی صورت بھی اُنہیں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر منہ اندھیرے سکول کی راہ لینا ہوتی ہے جو شدید موسمی یا ہنگامی حالات کی صورت کبھی کبھار ممکن بھی نہیں ہو پاتا۔ تین سال چار ماہ کا صبرآزما عرصہ ،مشکل ترین حالات میں تدریسی خدمات سرانجام دینے اُور تبادلوں و تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھانے کی دعائیں مانگتے جیسے تیسے گزر ہی گیا اُور اب جبکہ صوبائی حکومت نے اساتذہ کے بین اضلاعی تبادلوں اُور تعیناتیوں پر سے پابندی اُٹھا دی ہے تو ضلع ہری پور کا منتظم دفتر (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُور اِن کا ماتحت عملہ) محترمہ زاوش فدا کی خدمات کسی دوسرے ضلع منتقل کرنے کا اجازت نامہ (NOC) جاری نہیں کر رہا جسے وہ اپنا قانونی حق قرار دیتی ہیں اُور چاہتی ہیں کہ انہیں بلاتاخیر تبادلے و تعیناتی کے لئے درکار محکمانہ اجازت نامہ جاری کیا جائے کیونکہ وہ (مبینہ طوسر پر) دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک  چکی ہے جبکہ اُنہیں متعلقہ دفتری عملے کے تضحیک آمیز رویئے سے بھی شکایت ہے۔

 یہ مسئلہ کئی ایسی معلمات کا ہے جو خاصی پریشان کن صورتحال ہے کیونکہ تبادلوں اُور تعیناتیوں پر پابندی کا اطلاق دوبارہ ہو سکتا ہے اُور اگر اِس موقع پر بھی انہیں اپنا حق نہ ملا تو مزید تین سے پانچ سال یا اِس سے بھی زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑ جائے گا۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اُور سوشل میڈیا پر اپنے تبادلے کے جائز قانونی حق کے لئے آواز اُٹھانے والی ’پرائمری ٹیچر‘ نے صوبائی وزیرتعلیم اُور دیگر متعلقہ فیصلہ سازوں سے درخواست کی ہے کہ اُسے دیگر ہم عصر اساتذہ کی طرح ملازمتی مقام تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے۔

تدریسی عملے کے گوناگوں مسائل میں بالخصوص خواتین اساتذہ زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہیں‘ جن کے لئے باسہولت اُور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز دیہی علاقوں میں خدمات سرانجام دینا کسی ایسے امتحان (چیلنج) سے کم نہیں جس کا اِنہیں ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لمحہ فکریہ اُور انتہا ہے کہ جس معاشرے میں تدریسی عملے کو انصاف نہ مل رہا ہو‘ وہاں تعلیم‘ تربیت‘ شعور نظم و ضبط اُور خواندگی میں اضافے جیسے بنیادی اہداف کا حصول بھلا کیوں کر عملاً ممکن ہو سکتا ہے؟

کیا ہم کھلی آنکھوں (جاگتے ہوئے) خواب دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں!؟

شاید موضوع اساتذہ ہی ہوں جن کی مشکلات و مسائل اُور سخت حالات کار کے بارے میں شاعر سرفراز زاہد نے کہا تھا کہ 

زندہ رہنے کا حق ملے گا اُسے
 جس میں مرنے کا حوصلہ ہوگا

....

Tuesday, July 16, 2019

Why can’t Pakistani children read?

ژرف نگاہ ....شبیرحسین اِمام
تعلیم و تعلم: تحقیق کا آئینہ!
مقصد حاصل نہیں ہو رہا۔ تعلیم بطور نمائش عام کر دی گئی ہے لیکن خواندگی کا دور دور تک نام و نشان نہیں! عالمی سطح پر ’درسی و تدریسی عمل‘ پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے ’ولسن سنٹر (Wilson Center)‘ نے پاکستان سے متعلق تحقیق (حقائق نامہ) جاری کیا ہے‘ جس کے ایک حصے میں ”مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت اُور اِس کے آپسی تعلق“ پر بھی مختصراً لیکن جامع انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ”پاکستان میں کئی سکول ایسے بھی ہیں جہاں باقاعدہ طور پر برسہا برس تعلیم حاصل کرنے کے باوجود طالب علم نصابی و غیرنصابی کتب سے ’ایک جملہ‘ تک پڑھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔“ اِس بات کا مطلب یہ ہے کہ اگر بچے ناظرہ نہیں پڑھ سکتے تو وہ الفاظ و اسباق میں چھپے مطالب کو بھی نہیں سمجھ پائیں گے اور جب علم اسباق و الفاظ کے ذریعے منتقل نہیں ہو رہا تو اِس کی افادیت کیا رہ جاتی ہے؟ اگرچہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ کسی تحقیقی ادارے نے اِس قسم کا نتیجہ ¿ خیال پیش کیا ہو بلکہ نجی ٹیلی ویژن چینلز‘ اشاعتی ادارے اُور غیر سرکاری تنظیمیں ایک عرصے سے (اِسی موضوع پر) اپنی سالانہ رپورٹیں جاری کر رہی ہیں جن میں بارہا اِس اَمر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بالخصوص دیہی (پسماندہ) علاقوں میں دی جانے والی تعلیم کا ’بنیادی مقصد‘ حاصل نہیں ہو رہا لیکن مجال ہے کہ متعلقہ فیصلہ ساز ’ٹس سے مس‘ ہوتے ہوں اُور اپنی اُس غلطی کو تسلیم کر لیں جو سوائے اِن کے پوری دنیا کو ’روز روشن کی طرح‘ دکھائی دے رہی ہے!

اَمریکہ کے قانون ساز اِدارے ایوان بالا (کانگریس) نے 1968ءمیں ’ولسن سنٹر‘ نامی تحقیقی ادارہ ’1913ءسے 1921ءتک‘ 28ویں صدر رہے ’تھامس وڈرو ولسن‘ کی یاد میں قائم کیا‘ جسے ’زندہ یادگار (living memorial)‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس تحقیقی مرکز کا بنیادی کام ’عالمی مسائل‘ سے متعلق آزادانہ تحقیق اُور بحث و مباحثے (ڈائیلاگ) کی سرپرستی کرنا ہے تاکہ حاصل ہونے والے نتائج سے امریکی فیصلہ سازوں کو رہنمائی مل سکے۔ قابل ذکر ہے کہ ’ولسن سنٹر‘ کو علاقائی (ریجنل) اَمور سے متعلق امریکی تحقیق کا ’بڑا مرکز (تھنک ٹینک اِدارہ)‘ اُور اِس سے وابستہ تحقیق کاروں کے کام کو ’مستند‘ سمجھا جاتا ہے۔ ولسن سنٹر نے پاکستان میں ’درس و تدریس کے معیار‘ سے متعلق ’84 صفحات‘ پر مشتمل رپورٹ میں وہ سب کچھ ذکر کیا ہے‘ جو متعلقہ سیاسی فیصلہ ساز اُور حکومتی ادارے تسلیم نہ بھی کریں لیکن حقائق تبدیل نہیں ہوں گے‘ جن کی تلخی (زمینی حقائق) متقاضی ہیں کہ ”پاکستان میں تعلیم و تعلم بالخصوص بنیادی و ثانوی درجات کو مادری زبان کے قریب اُور غیرملکی اثرورسوخ (ملاوٹ) سے دور (پاک) کیا جائے۔“ مذکورہ رپورٹ ’ولسن سنٹر‘ کی ویب سائٹ (wilsoncenter.org) سے بلاقیمت حاصل (download) کی جا سکتی ہے۔ اُمید ہے کہ سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز‘ ماہرین تعلیم‘ اساتذہ اُور والدین مذکورہ رپورٹ کو ’خاطرخواہ اہمیت‘ دیں گے اُور کسی بھی وضاحت‘ اِعتراض یا اپنی رائے سے مصنفہ ’نادیہ ناوی والا‘ کو بذریعہ ٹوئیٹر (@NadiaNavi)‘ یا سنٹر کے منتظم مائیکل کلیگمن (@MichaelKugelman) کو مطلع کریں گے۔ سماجی رابطہ کاری ہی کے ذریعے ولسن سنٹر سے بذریعہ ہینڈلر @TheWilsonCenter بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

”کیا وجہ ہے کہ پاکستانی بچے پڑھ نہیں سکتے؟ Why Can't Pakistani Children Read نامی حقائق نامہ (رپورٹ) کے سرورق پر جلی حروف میں لکھا گیا ہے کہ ”پاکستان میں تعلیمی اِصلاحات میں ناکامی کی درپردہ وجوہات کیا ہیں“ اُور اِن ’درپردہ وجوہات (inside story)‘ کا بیان (احاطہ) کمال مہارت سے ہر باب اُور ہر سطر میں کرتے ہوئے بہت سے سوالات (کام) قارئین کے لئے بھی چھوڑ دیئے گئے ہیں‘ جیسا کہ تعلیم کے حوالے سے مختلف سیاسی و غیرسیاسی ادوار میں ہونے والی ’زبانی جمع خرچ (دعووں اُور وعدوں)‘ کی حقیقت کیا ہے!

وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے تعلیم کے لئے مختص کئے جانے والے مالی وسائل (بجٹ)‘ تعلیم کے مختلف حکومتی اِداروں کی تفصیلات‘ ترقیاتی و غیرترقیاتی اخراجات‘ نصاب تعلیم کی اصلاح میں غیرملکی تعاون‘ مختلف اِقسام کے تعلیمی نصاب‘ نجی سکولوں کا کردار‘ اِمتحانی طریقہ ¿ کار اُور طالب علموں (بچے بچیوں) کے رجحانات کس طرح منفی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ حکومتی مالی معاونت سے چل رہے اداروں کی مجبوری ہوتی ہے کہ یہ بہت کچھ ’بین السطور‘ بیان کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ سخت سے سخت بات بھی محتاط الفاظ کے ذریعے کہی جاتی ہے۔ ’ولسن سنٹر‘ کی رپورٹ میں بھی تعلیم کی زبوں حالی کے لئے ذمہ دار ’پاکستان کے قومی مجرموں‘ کا ذکر ’واضح الفاظ‘ میں تو نہیں کیا گیا لیکن نئے پیرائے (زیادہ دلچسپ اَنداز) میں اِشارے‘ کنائیوں اُور اِستعاروں میں وہ سب ’سچی باتیں‘ موجود ہیں! جو اِس سے قبل بھی‘ اِسی قسم کی تحقیقی کاوشوں کا حصہ رہی ہیں!

دیباچے (پیش لفظ) میں ولسن سنٹر کے سربراہ ’مائیکل گوگیلمن (Michael Kugelman) نے لکھا ہے کہ .... ”نادیہ ناوی والا کی تین سالہ اَدھوری تحقیق کو مکمل کیا گیا ہے“ اُور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ’پاکستان میں تعلیمی بحران: اَصل کہانی“ مکمل تو نہیں لیکن اِس موضوع پر تازہ ترین دستاویز ہے‘ جس میں صرف مسائل کی نشاندہی ہی نہیں بلکہ اِس کے آخری باب میں ’16تجاویز‘ کے ذریعے مسائل کا حل بھی تجویز کر دیا گیا ہے۔ اعدادوشمار کی حقیقت پر بحث ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ ستر لاکھ بچے پرائمری تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن جو ’پچاس لاکھ‘ باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے‘ اُن کی کم و بیش تعداد کا تعین الگ سے ہونا چاہئے لیکن اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جو بچے سکول جا رہے ہیں اُن کی بڑی تعداد بھی زیادہ کچھ سیکھ نہیں پا رہی! اُور سالہا سال زیرتعلیم رہنے کے باوجود بھی اگر وہ ایک جملہ تک نہیں پڑھ سکتے تو ایسا ’تعلیمی نظام‘ سنجیدہ توجہ چاہتا ہے۔ ’ولسن سنٹر‘ کی جاری کردہ ”تحقیق کے آئینے“ میں وفاقی اُور ہر صوبائی حکومت کو اپنا اپنا چہرہ دیکھنا چاہئے!
............
سولہ جولائی دو ہزار اُنیس بروز منگل
بارہ ذیقعد چودہ سو چالیس ہجری
............

Wednesday, October 25, 2017

Oct 2017: What's the standard of Quality in Education?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
معیارِ تعلیم: ’معیار‘ کیا ہے؟
خیبرپختونخوا میں شعبۂ تعلیم کی بہتری کے لئے وضع کی گئیں حکمت عملیوں کا ’’شمار انگلیوں پر ممکن نہیں‘‘ لیکن اِن کے نتائج ایک جیسے ہی برآمد ہوئے ہیں اور جن شعبوں میں بہتری کے واضح اشارے دکھائی بھی دیتے ہیں تو وہ پائیدار نہیں جیسا کہ پرائمری سطح تک سکولوں میں داخلوں اور دوران تعلیم سکول چھوڑنے والوں کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار دیکھ کر صرف طالب علم اور والدین ہی دل برداشتہ (مایوس) ہوتے دیکھے گئے ہیں آج تک ایسے کسی معلم (سرکاری ملازم) سے ملنے کا شرف نہیں مل سکا‘ جو یہ کہتے ہوئے ملازمت سے الگ ہو گیا ہو کہ ’کیا اِدارے ایسے ہوتے ہیں؟ کیا مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں معلم بن کر خود کو اور دوسروں کو دھوکہ دوں‘ جبکہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اِس فرض کے لئے اہل نہیں۔‘ کیا ہمارے ہاں معلم بننے کے لئے نفسیاتی ٹیسٹ اور درخواست گزاروں کا ماضی دیکھا جاتا ہے کہ وہ جرائم میں ملوث نہیں؟ اہلیت کے بعد دوسری اہم بات ’معیار‘ کی ہے۔ 

ہر دور حکومت میں ’تعلیم‘ کے ساتھ ’معیار‘ کا لفظ ضرور استعمال کیا جاتا ہے بلکہ یہ دونوں الفاظ لازم و ملزوم بن چکے ہیں لیکن آخر اِس ’معیار‘ نامی شے کا وجود یا حقیقت کیا ہے؟ یہ معیار کہیں سے مستعار (ادھار) لیا گیا ہے‘ امداد میں ملا ہے یا ہمارے اپنے ماہرین تعلیم اور فیصلہ سازوں نے مل بیٹھ کر مشاورت سے تخلیق کیا ہے؟ اِس معیار کے پیمانہ پر کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کامیابی کی شرح کیا مقرر کی گئی ہے؟ اِس کے جزئیات و تفصیلات کیا ہیں؟ اور آخر وہ کون سی ایسی کسوٹی ہے جس پر معیار کی درجہ بندی کرکے اِس بات کا فیصلہ کیا جاسکے کہ ’تعلیم‘ کے شعبے میں حاصل کی جانے والی کامیابیاں اور اہداف ’معیاری‘ ہیں یا معیاری نہیں ہیں!؟ یہ بھی طے نہیں ہو سکا اُور اُلجھن بدستور موجود (برقرار) ہے کہ اگر تعلیم کے شعبے میں ’معیار‘ ہی ’معیاری‘ نہیں تو اِس کے لئے ذمہ دار (قصوروار) کون ہیں؟ کیا ہم والدین‘ طالب علموں‘ اساتذہ یا سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کی گرفت کریں جنہوں نے ایک ہی ملک میں چار قسم کے ’تدریسی و نصابی نظام‘ قائم کر رکھے ہیں اور پھر بھی ’معیار‘ کی گردان سے گریز نہیں کرتے! 

اربوں روپے سے شروع کی جانے والی تعلیم کے فروغ سے متعلق حکمت عملیاں اگر ناکام ثابت ہوئی ہیں اور سوائے خزانے پر ملازمین کا بوجھ ہر سال بڑھنے کے کچھ حاصل نہیں ہو سکا ہے تو آخر ناکامی کا اعتراف کرنے میں قباحت ہی کیا ہے؟ اعلیٰ ظرفی تو یہ ہے کہ نقصان (خسارے) پر نقصان (خسارہ) کرنے کی بجائے ’حالات و ضروریات‘ سے مطابقت رکھنے والا تدریس کا کوئی ایسا ماڈل (معیار بہ وزن معیار) تخلیق کیا جائے جو ہمارے زمینی حقائق کی نفی پر مبنی (مصنوعی) نہ ہو!

خیبرپختونخوا کے ’نظام و معیار تعلیم‘ کا لب لباب یہ ہے کہ ’تحریک انصاف‘ کی قیادت میں اربوں روپے بالخصوص بنیادی و ثانوی تعلیم کی وسعت اور پہلے سے موجود سہولیات میں بہتری پر خرچ کئے گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں ’اہل اساتذہ‘ بھرتی کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے لاکھوں اساتذہ کی تربیت پر کروڑوں روپے خرچ کر ڈالے لیکن اگر نتیجہ وہی کا وہی ہے تو اِس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اساتذہ سے انسان نہیں بلکہ مشین سمجھ کر معاملہ کیا جا رہا ہے اور اُن پر اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ’کام کا دباؤ‘ اِس قدر بڑھا دیا گیا ہے کہ وہ کم ترین توجہ کلاس رومز میں تدریس کے عمل کو دیتے ہیں! 

کیا یہ معمولی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے چار سال میں ’22 ارب روپے‘ خرچ کر ڈالے ہیں جن سے مفت درسی کتب اور سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے لیکن اگر اس قدر خطیر اخراجات کے باوجود بھی صورتحال ’وہی کی وہی‘ ہے تو پالیسی سازوں کو اپنے کئے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ رواں ہفتے ’خیبرپختونخوا ایجوکیشن ریفارمز اینڈ اچیومنٹس رپورٹ (KP Education Reforms and Achievements Report 2017) جاری ہوئی‘ جس میں تمام حکومتی کامیابیوں کو قدرے تفصیل اور خوشنما انداز سے فہرست کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صوبائی حکومت نے اب تک ’نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس)‘ کے ذریعے چالیس ہزار اساتذہ بھرتی کئے ہیں تاکہ خیبرپختونخوا میں اساتذہ کی تعداد طالب عملوں کے عالمی معیار کے مطابق بڑھائی جائے جو کہ ایک معلم کے مقابلے چالیس طلبہ ہے۔ اِسی طرح سال 2014-15ء کے دوران سکول ٹیچرز‘ ہیڈماسٹرز اور پرنسپلز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اُنہیں ’پانچ کروڑ پچاس لاکھ روپے‘ کے انعامات سے نوازہ جا چکا ہے لیکن ’اساتذہ کی ایک بڑی تعداد‘ موجودہ حکومت سے ’خوش نہیں‘ اور بیان کرتی ہے کہ انہیں ذہنی اذیت‘ کوفت اُور حد سے زائد غیرضروری قواعد و ضوابط سے رہائی دی جائے۔ ایک معلم سے ہوئی ٹیلی فونک بات چیت میں جب اُنہوں نے یہ نکات اُٹھائے کہ ’’کسی معلم کی بنیادی ذمہ داری تعلیم دینا ہوتا ہے لیکن تصور کیجئے کہ کوئی استاد اگر سارا دن ’انٹیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو)‘ کے لئے اعدادوشمار اکٹھا کرتا رہے تو کیا وہ اپنے بنیادی فریضے کی انجام دہی کر رہا ہے اور ذہنی طور پر مطمئن ہوگا؟ اِسی طرح ’این ٹی ایس‘ کے ذریعے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ’’اہل‘‘ تو بتایا جاتا ہے لیکن انہیں ’عارضی‘ ملازم رکھا گیا ہے‘ جس سے اِن تمام اساتذہ کے ذہن پر غیریقینی کی صورتحال طاری رہتی ہے اور وہ خوفزدہ رہتے ہیں کہ اُن کی ملازمتوں کا خاتمہ کسی روز بھی ہوسکتا ہے! 

صوبائی حکومت نے جن اساتذہ کے لئے اب تک تربیت کا اہتمام کیا‘ اُن سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تدریس کے جملہ امور صرف ’تین ہی دن‘ میں سیکھ کر ماہر ہو جائیں گے۔ تدریس کے اسلوب سے متعلق مضامین کی خواندگی ضروری نہیں بلکہ ہر پڑھا لکھا شخص بطور معلم بھرتی ہو سکتا ہے‘ لیکن (لیکن اُور لیکن اپنے اپنے دل سے پوچھتے ہیں کہ) کیا ہمارے ہاں ہر معلم ’اُستاد گرامی‘ کے مرتبے پر فائز ہونے کا اہل بھی ہے؟
۔

Sunday, July 9, 2017

July2017: Examination is the key to measures the Public Schools Standard, performance & Education Reforms in #KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیمی پالیسی: ثمرات بصورت نتائج!

خیبرپختونخوا میں ’تعلیمی اَیمرجنسی‘ کے نفاذ اُور ’انقلابی اِصلاحات‘ کی شرح کامیابی جاننے کے لئے ’امتحانی نتائج‘ سے زیادہ بہتر کوئی دوسری ’غیرمتنازعہ‘ کسوٹی نہیں ہو سکتی۔ سرکاری ہوں یا نجی‘ تعلیمی اِداروں کی کارکردگی اُور معیار تعلیم ’امتحانی بورڈز کی زیرنگرانی سالانہ امتحانات‘ ہی ہو سکتے ہیں۔ رواں ہفتے (پانچ جولائی کے روز) پشاور کے امتحانی بورڈ نے ’سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ (میٹرک)‘ کے سالانہ نتائج کا اعلان کیا جس میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں سے کل ایک لاکھ اُنچاس ہزار دو سو بارہ طلباء و طالبات نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر کامیاب ہونے والوں کی شرح 65فیصد رہی لیکن اِس معلوم خبر میں یہ تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جن تعلیمی اصلاحات کا ’زور و شور‘ سے ذکر کیا تھا‘ اُن کے ’ثمرات بصورت نتائج ظاہر نہیں ہوسکے‘ اُور اگر ہم سرکاری بمقابلہ نجی سکولوں کے امتحانی نتائج کا موازنہ کریں تو نویں اور دسویں (میٹرک) کلاسوں کے لئے ’ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور (انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ)‘ کے حالیہ اِمتحانات (برائے سال دوہزارسترہ) میں کوئی ایک بھی سرکاری سکول سے وابستہ طالب علم ’ٹاپ پوزیشنیں‘ حاصل نہیں کرسکا یعنی باوجود کوشش بھی نمایاں نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل نہ کرنے والوں میں بڑی تعداد سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کی ہے تو کیا یہ المیہ محض ’حسن اتفاق‘ یا صوبائی حکومت کے خلاف سازش (سیاسی چال) قرار دے کر نظرانداز کر دی جائے؟ 

سبھی نمایاں پوزیشنیں نجی تعلیمی اداروں کے حصے میں آنے کا دباؤ کالج کی سطح پر تعلیمی نظام پر پڑے گا! ذرا سوچئے کہ کہ ایک جیسا نصاب تعلیم اور ایک جیسے اوقات کار رکھنے کے باوجود بھی نجی سکولوں کی انتظامیہ اور اساتذہ نے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کیں جبکہ سرکاری سکولوں کی نگران وزارت‘ مشیروں (نجی کنسلٹنٹس)‘ متعلقہ محکمہ اور سکولوں کے انتظامی عہدوں پر فائز لائق فائق و ماہرین تعلیم کا لقب رکھنے والوں کی کارکردگی ’مایوس کن‘ رہی لیکن چونکہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا اِس لئے نہ تو شرمندگی کا احساس ہے اور نہ ہی اِس قسم کے نتائج پر کوئی صاحب ضمیر مستعفی ہونے کا اعلان کرے گا۔ 

ذرائع ابلاغ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر و نمایاں بنانے کا دعویٰ کروڑوں روپے خرچ کرکے شائع کیا گیا لیکن یہ تمام ’شور شرابہ‘ (نمائشی اقدامات) بھی کام نہ آ سکے اُور سب زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سرکاری سرپرستی و نگرانی میں ’شعبۂ تعلیم‘ کی بہتری کے لئے ہر سال پہلے سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی خاطرخواہ ’امتحانی نتائج (ثمرات)‘ اگر حاصل نہیں ہو رہے تو دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ غلطیوں سے رجوع کر لیا جائے اُور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ذمہ داروں کا بناء جھجک تعین کیاجائے۔ سرکاری سکولوں کی حکمت عملی پر نظرثانی الگ سے ضروری ہے کیونکہ اگر نجی سکول کم مالی وسائل کے باوجود بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں تو سرکاری سکولوں کو بھی ٹھیکے پر دیا جا سکتا ہے جس پر مالی خرچ بھی کم آئے گا اور نتائج (حاصل وصول) بھی اثاثہ قرار پائیں گے۔ 

ظاہر ہے کہ ایسا کرنے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی کیونکہ آئین پاکستان کے تحت معیاری تعلیم کی فراہمی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور بس یہ ذمہ داری بناء معیار آئین کی حد تک محدود دکھائی دیتی ہے!
امتحانی بورڈ کے نتائج میں سرکاری سکولوں کی ’خراب کارکردگی‘ پر ہر طرف سکوت طاری ہے۔ محکمۂ تعلیم کے غیراعلانیہ ترجمانی کرنے والے موسم گرما کی تعطیلات پر چلے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا دفاع کرنے والوں کو بھی الفاظ نہیں مل رہے کہ وہ کس طرح (کس منہ سے) صوبائی دارالحکومت پشاور کے سرکاری سکولوں کو ’خراج تحسین‘ پیش کریں جن کی اپنی جگہ یہ کامیابی بھی غیرمعمولی ہے کہ اُنہوں نے کم سے کم طلباء و طالبات کو امتحان کے مراحل تک پہنچایا‘ اب آگے اُن کی قسمت! یادش بخیر سال دو ہزار آٹھ میں قائم ہونے والی اپنی نوعیت کی منفرد اور 342 کے قانون ساز معزز قومی اسمبلی ایوان میں صرف ایک نشست رکھنے والی مقبول ترین سیاسی تجزیہ کار جماعت ’’عوامی مسلم لیگ‘ کے سربراہ شیخ رشید احمد جب وفاقی وزیر برائے کھیل تھے تو پاکستان کی نمائندگی کرنے والی تیراکی کی ایک ٹیم عالمی مقابلوں میں آخری پوزیشن پر آئی۔ ایک صحافی نے شیخ رشید سے اِس انتہائی خراب کارکردگی کے بارے راہ چلتے سوال کیا تو اُنہوں نے سوچ رکھا تھا اور آن کی آن میں جواب صادر فرمایا کہ ’’شکر کرو ہمارے تیراک تالاب میں ڈبکی لگانے کے بعد ڈوب نہیں گئے۔ اگر تیراکی کے مقابلے میں حصہ لینے والے ڈوب جاتے تو سوچو کہ کتنی جگ ہنسائی ہوتی!؟‘‘

 پشاور بورڈ کے امتحان میں ناکامی کوئی پیمانہ نہیں شکر ادا کرنا چاہئے کہ کم نمبروں ہی سے سہی لیکن ایک تعداد میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کامیاب تو ہو ہی گئے ہیں۔ اب صوبائی حکومت کے لئے مسئلہ یہ ہوگا کہ اِنتہائی کم نمبر حاصل کرنے والوں کو مزید تعلیم جاری رکھنے کے لئے کن کالجوں میں بناء میرٹ داخلہ دیا جائے! 

کیا خیبرپختونخوا کو سرکاری سرپرستی کی طرح نجی شعبے میں بھی زیادہ تعداد میں ’وکیشنل انسٹی ٹیوٹس (فنی تعلیم و تربیت کے اداروں)‘ کی ضرورت نہیں؟ 

اگر تحریک انصاف اتنے سارے ہنگامے اور اصلاحاتی شورشرابے کی بجائے نہایت ہی سادگی سے خیبرپختونخوا کے سات ڈویژنوں (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان) میں صرف ایک ایک ’ماڈل سکول‘ ہی بنا لیتی تو چار سالہ کارکردگی میں کم سے کم پانچ ہزار ایسے طلباء وطالبات کی عملی مثال آج پیش کی جا سکتی تھی‘ جنہوں نے سرکاری سکولوں سے استفادہ کرتے ہوئے نجی سکولوں کے مقابلے نمایاں پوزیشنیں حاصل کی ہوتیں۔ تبدیلی نیک نیتی‘ سوچ بچار اور نمائش سے نہیں آتی بلکہ کسی طویل مسافت کو طے کرنے کے لئے پہلا قدم اُٹھانا سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہوتاہے۔ تعلیمی اصلاحات و ترجیحات کے تعین جہاں جہاں کوتاہی ہوئی‘ آئینی مدت کے آخری سال میں اُس کی 100فیصد اصلاح تو اگرچہ ناممکن ہے لیکن ’ہمت مرداں‘ مدد خدا۔‘

Wednesday, June 21, 2017

July2017: Education as business and stacks of lawmakers!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تعلیمی کاروبار!
عرصہ ہوا ’موبائل فون‘ کے کسی مختصر پیغام (شارٹ میسج سروس‘ اَیس اَیم اَیس) کے ذریعے کوئی ’قابل ذکر معلومات‘ ہاتھ آئی ہو۔ اکثر پیغامات بے معنی اور گھسے پٹے لطیفوں یا صبح سے شب بخیر تک نیک تمناؤں اور دعاؤں پر مبنی ہوتے ہیں اور یہی مصرف ’واٹس ایپ‘ و دیگر موبائل میسنجنگ رابطوں کا بھی ہے جہاں گروپوں کی بھرمار میں مقصدیت نجانے کب فوت ہوئی اور دفن کے مقام کا تو کسی کو علم (احساس) بھی نہیں! 

اُنیس جون کی شام یکے بعد دیگرے دو ’ایس ایم ایس‘ پیغامات کے ذریعے معلوم ہوا کہ امتحانی بورڈ میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات نے (اچانک) ایک طویل عرصے کے بعد پہلی بیس نمایاں پوزیشنوں میں اپنا نام درج کروایا ہے۔ سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم نصاب کی حد تک محدود اور درس و تدریس کے عمل میں طلباء و طالبات کی دلچسپی‘ رجحانات‘ قابلیت اور ذہنی سطح کو مدنظر نہ رکھنے کی وجہ سے یہ ادارے نجی سکولوں سے پیچھے چلے آ رہے تھے اور اِس بات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی وزارت تعلیم کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے صحافیوں کو فخریہ طور پر خبر دی گئی کہ ’’حضرات نوٹ فرما لیں کہ تحریک انصاف کی تعلیمی پالیسی کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔‘‘ 

دوسرا ’ایس ایم ایس‘ پیغام بھی محکمۂ تعلیم ہی سے متعلق تھا‘ جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے ’یکساں نظام تعلیم‘ رائج کرنے کے لئے ’نصاب پر نظرثانی‘ کے فیصلے اور اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا ثانوی و بنیادی تعلیم کے محکمے (ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) کی کارکردگی کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ فیصلہ سازوں نے سمجھ لیا ہے کہ جب تک تدریس کے عمل اور نصاب کی کتب کو جدید اصولوں کے قالب میں ڈھالا نہیں جاتا اُس وقت تک سرکاری تعلیمی اِداروں کی ’کارکردگی و معیار‘بصورت امتحانی نتائج بہتر نہیں ہوں گے لیکن کہیں یہ مشکل درپیش نہ آ جائے کہ نصاب کے الفاظ تبدیل کرنے کے بعد اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کی تربیت کا اہتمام کرنا پڑے اور یوں ’برٹش کونسل‘ کی پھر سے لاٹری نکل آئے! تعلیم کے نام پر ’بہتی گنگا میں نہانے‘ والے آخری مالی سال کی صورت ملنے والے موقع کو غنیمت سمجھ رہے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ جس طرح موجودہ حکومت نے ماضی کے حکمرانوں کی کارکردگی اور مالی وانتظامی امور کا احتساب نہیں کیا‘ بالکل اِسی طرح کی ’صلۂ رحمی‘ کا مظاہرہ آنے والے حکمران بھی کریں گے! محکمۂ تعلیم کی جانب سے آنے والی یہ وضاحت اپنی جگہ اہم ہے کہ پانچویں جماعت تک نصاب تعلیم پر نظرثانی کے عمل میں اسباق تبدیل نہیں کئے جا رہے بلکہ ماہرین تعلیم کے مشورے سے الفاظ کے انتخاب میں اِس بات کا بطور خاص جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ’بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق نہایت ہی سلیس انداز اختیار کیا جائے۔‘

نتائج پر مبنی درس و تدریس اور بنیادی وثانوی درجات پر تمام کی تمام تر مالی وسائل مرکوز کرنا (جھونکنا) کافی نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ سرکاری جامعات کی جانب بھی مبذول ہونی چاہئے کیونکہ آئندہ مالی سال (دوہزار سترہ اٹھارہ) کے بجٹ میں سرکاری یونیورسٹیز کی بجائے کالجوں کی بہتری پر زیادہ توجہ دی گئی ہے! اگر ہم آئندہ مالی سال کی ترقیاتی حکمت عملی (اِینول ڈویلپمنٹ پروگرام) کا جائزہ لیں تو چھ ارب (6.320 بلین) روپے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پینسٹھ منصوبوں کے لئے مختص کی گئی ہے جس میں سے 3ارب (3.996بلین) روپے جاری جبکہ 2 ارب (2.323بلین) روپے سے زائد ستائیس نئے منصوبے شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا میں تعلیم کے لئے مختص مالی وسائل میں گذشتہ مالی سال کے مقابلے پندرہ فیصد اضافہ اپنی جگہ لیکن اس کی تقسیم غیرمنصفانہ ہے کیونکہ نئے ترقیاتی منصوبوں میں سرکاری کالجز میں سہولیات کی فراہمی بنیادی نکتہ ہے۔ سرکاری جامعات کی سطح پر اہم فیصلہ یہ سامنے آیا ہے کہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی اُور شرینگل یونیورسٹی چترال کو ضم کر کے مکمل (یونٹ) ’چترال یونیورسٹی‘ تخلیق و تشکیل دے دی جائے۔ سالانہ ترقیاتی حکمت عملی میں اگر یکساں توجہ جامعات کو نہیں دی جائے گی تو اِس سے سرکاری سرپرستی میں اعلیٰ تعلیمی ادارے خدمات کا معیار اور مقدار نہیں بڑھا پائیں گے اور لاٹری نجی اداروں کی نکل آئے گی جو پہلے ہی من مانی فیسیوں کے عوض تعلیم نہیں بلکہ ’امتحانی نتائج‘ فروخت (کاروبار) کر رہے ہیں! 

خیبرپختونخوا میں ’تعلیم اُور کاروبار‘ کو الگ الگ کئے بناء محض مالی وسائل مختص و خرچ کرنے سے بہتری نہیں آئے گی۔ نجی اِداروں کو دی جانے والی غیرتحریری کھلی چھوٹ کا محرک حسن اتفاق بھی ہو سکتا ہے کہ قانون ساز صوبائی اسمبلی کے اراکین اور صوبائی کابینہ میں ایسے کردار موجود ہیں‘ جن کے ذاتی و کاروباری مفادات ’تعلیمی کاروبار‘ ہی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کو امتحانی کارکردگی کی کسوٹی پر ایک درجہ بلند کرتے ہوئے معیار تعلیم اور نظم وضبط مثالی بنا دیا جاتا ہے تو اِس سے نجی اِدارے ٹھپ ہو جائیں گے! وارے نیارے تو بس سانسیں چلنے (حیات) اور آمدنی کے وسائل قائم و دائم رہنے سے ہیں!

Saturday, June 10, 2017

June2017: Budget & Education - Financial Resources not just enough!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کارکردگی: حاوی حقائق!
برسرزمین حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ ’انسانی وسائل کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی‘ جیسی ترجیحات سرفہرست رکھی جائیں۔ خیبرپختونخوا کے بجٹ برائے مالی سال دوہزار سترہ اٹھارہ سے وابستہ توقعات بھلا کیسے پوری ہو سکتی ہیں جبکہ اُن جملہ امور کا خاتمہ نہیں کیا گیا‘ جن کے باعث گذشتہ مالی سالوں کے دوران مختص وسائل ضائع ہوتے رہے ہیں۔ ’سفررائیگاں‘ کے عنوان سے ’نو جون‘ کو ’نئے مالی سال اُور بلدیاتی نظام‘ کے حوالے سے جائزہ پیش کیا گیا‘ تاکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو اُن کا یہ انتخابی وعدہ یاد دلایا جا سکے کہ ۔۔۔ ’’قانون ساز اَراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کئے جائیں گے اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔‘‘ لیکن اگر ایسا عملاً نہیں ہو پا رہا تو فکروعمل کی اصلاح ضروری ہے۔

مالی سال دوہزارسترہ اٹھارہ کے لئے خیبرپختونخوا حکومت نے ’شعبۂ تعلیم‘ کے لئے 136 ارب روپے مختص کئے جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے ’’پندرہ فیصد‘‘ زیادہ ہیں! قابل ذکر ہے کہ صوبے کی مجموعی ترقیاتی حکمت عملی (اے ڈی پی) کا حجم 208ارب روپے میں سے 9.77 فیصد (بیس اعشاریہ بتیس ارب روپے) پرائمری اور ہائر ایجوکیشن میں ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کئے گئے ہیں! 

سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے مالی وسائل مختص کرنے میں ’بہادری (فراخدلی) کا مظاہرہ‘ کرنے میں موجودہ صوبائی حکومت کا جواب نہیں لیکن کیا اب تک کے تجربات سے ثابت نہیں ہوا کہ محض مالی وسائل پانی کی طرح بہانے ہی سے بہتری نہیں لائی جا سکتی؟ تعلیم کے لئے مختص مالی وسائل کا بڑا حصہ جن تین مدوں میں خرچ ہو رہا ہے اُن کا تعلق غیرترقیاتی اخراجات سے ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں و مراعات اور دیگر اخراجات مختص مالی وسائل کے قریب نوے فیصد کو چھو رہے ہیں! پرائمری (بنیادی) تعلیم کے شعبے میں اساتذہ کی بذریعہ برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ پندرہ روزہ تربیت پر ایک ارب روپے سے زائد رقم خرچ کرنا اور تربیتی عمل مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے آنے والے وقت میں ایک ایسا ’اسکینڈل‘ ثابت ہوگا‘ جس میں بڑے بڑے نام ’ملوث پائے جائیں گے۔‘ حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی تعلیمی پالیسی اور مختص مالی وسائل سے یا تو براہ راست ’برٹش کونسل‘ یا پھر ’برٹس کونسل‘ سے وابستہ رہے ملازمین کو زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی ڈھانچے کی بہتری کے لئے جس قدر ذیلی شعبے تخلیق کئے اُن میں حیرت انگیز طور پر برٹش کونسل سے سابق اور حاضر سروس ملازمین کی خدمات بھاری تنخواہوں اور مراعات کے عوض حاصل کی گئیں۔ حتیٰ کہ تشہیری مہمات کو ڈیزائن (تخلیق) کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی قرار دی جاسکتی ہے!؟ سوال یہ ہے کہ ماضی میں اساتذہ کی تربیت پر ایک ارب سے زائد خرچ کرنے سے کیا نتائج حاصل ہوئے اور نئے مالی سال میں 30 کروڑ (300ملین) روپے مزید مختص کرنے سے کیا بہتری آئے گی؟ دوسروں پر تنقید اور بلند بانگ دعوؤں پر مبنی بیانات جاری کرنے سے ایک ’سیاسی ضرورت‘ تو ’بخوبی پوری‘ ہو رہی ہے لیکن اگر خیبرپختونخوا کے سیاسی فیصلہ ساز کبھی اپنے آپ سے بھی باتیں کریں تو اُن کے علم میں اضافہ ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کار ’محمود جان بابر‘ سے اگر یہ نتیجۂ خیال مستعار لیا جائے کہ ’’تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی قیادت نے چیئرمین عمران خان کو ’اَندھیرے میں رکھتے ہوئے‘ ترقی اور تبدیلی کا جو نقشہ اُن کے سامنے پیش کیا ہے‘ وہ سوفیصد حقائق پر مبنی نہیں اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود اگر بہتری کے لئے عملی کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو پا رہے تو ’’طرزحکمرانی کی اصلاح‘ اِحتساب اُور تبدیلی‘‘ کے نام پر برسراِقتدار آنے والوں کو اپنے طرزفکروعمل پر غور کرنا چاہئے کہ ’حائل رکاوٹیں‘ کیا ہیں اور اُن سے چھٹکارہ پانے کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہیءں لیکن جو ایک بنیادی سوال نہیں اُٹھایا جا رہا وہ یہ ہے کہ ’’کیا چیئرمین عمران خان کی خیبرپختونخوا کے امور میں دلچسپی اُسی درجے (مقام بلند) پر فائز ہے جو مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے (حیران کن) نتائج کے وقت تھی؟‘‘ 

تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے بناء ’ہیوی ویٹ (ایلیکٹ ایبلز)‘ مئی دوہزارتیرہ کا انتخابی معرکہ اپنے نام کیا لیکن کیا آئندہ بھی ایسا کر پائے گی جبکہ تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ اور کارکنوں کے آپسی اختلافات و تعلقات (بداعتمادی) کم ترین درجے پر ہے!؟ 

صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سیاسی معاملہ فہمی‘ بصیرت اور قدکاٹھ اپنی جگہ لیکن خیبرپختونخوا کی زیرنگرانی ’’تعلیم‘ صحت اُور بلدیاتی نظام‘‘ کا قبلہ بطور ترجیح درست کئے بناء ہر سال زیادہ سے زیادہ‘ بلکہ اور بھی زیادہ مالی وسائل سے کام لینا اُس وقت تک ’کارگر ثابت نہیں ہو گا‘ جب تک تعریف و توصیف کی ماہر ’افسرشاہی‘ کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے دھوکے (سراب) سے بچا نہیں جاتا‘ جب تک خود کو ’عقل کل‘ سمجھنے کی بجائے مشاورتی عمل کو وسعت نہیں دی جاتی‘ اور جب تک بلدیاتی نظام کو مضبوط و توانا نہیں کیا جاتا کیونکہ مسائل اور دستیاب وسائل (جمع پونجی) کا اِدارک رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کردار ’نمائشی اقدامات‘ سے گریز کئے بناء ترقی کو پائیدار و معیاری نہیں بنایا جا سکے گا! 

تندوتلخ سہی لیکن حقیقت پر حقیقت (حاوی) ہی رہے گی کہ ’’خوش رنگ اقتدار کے ساتھ جڑی ذمہ داریوں کا ذائقہ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے!‘‘

Wednesday, May 31, 2017

May2017: Education, the most misunderstood subject!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
محکوم تعلیم!
نجی سکول کی جانب سے والدین کو ’سٹامپ پیپرز‘ پر یہ تحریر بطور ’بیان حلفی‘ جمع کرانے کا حکم دیا گیا کہ سکول کے داخلی امتحانات میں اگر اُن کے بچے (بچوں) نے ایک خاص تناسب سے کم نمبر حاصل کئے تو انہیں سکول سے خارج کر دیا جائے گا اور والدین کو سکول انتظامیہ کے اِس یکطرفہ فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا یعنی بچوں کی ذہنی قابلیت و استعداد اگر سکول کے کم سے کم معیار پر پوری نہ اُتری تو ایسے بچوں کے نام ’امتحانی بورڈز‘ میں بطور اُمیدوار ارسال نہیں کئے جائیں گے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا اور نہ ہی کسی ادارے کی جانب سے پہلی مرتبہ اِس قسم کے غیرقانونی و غیراخلاقی ’بیان حلفی‘ کا تقاضا کیا گیا۔ 

عمومی رجحان یہی ہے کہ داخلہ (ایڈمیشنز) کے وقت سے لیکر سال بہ سال ایسے بیان حلفی طلب کئے جاتے رہتے ہیں‘ جو اِس بات کا ثبوت ہیں کہ سکولوں کی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کے لئے کسی بھی فورم پر خوابدہی کے لئے تیار نہیں۔ اِس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ قانون کے تحت کسی بھی پاکستانی کو اُس کے آئینی حقوق سے یوں کھڑے کھڑے اور مجبوری کی حالت میں تو بالخصوص محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے خلاف کسی فیصلے کے حوالے سے قانون یا عدالت سے رجوع نہیں کرے گا۔ دوئم سکول انتظامیہ کو اِس قسم کے بیان حلفی لینے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی‘ کہیں ایسا تو نہیں کہ درس و تدریس کے عمل میں اپنی خامیوں (ناکامیوں) کا ملبہ طلباء و طالبات پر ڈال کر گلوخلاصی کی جا رہی ہو؟ سوئم آخر یہ کس طرح تصور کر لیا گیا ہے کہ ہر بچہ ’ارسطو‘ اور ’افلاطون‘ کی طرح ذہین ہوگا اور اگر طلب علم پر آمادہ بچہ کسی وجہ سے اپنے ہم جماعتوں سے پیچھے ہیں تو اُس کی شخصیت سازی اور دوسروں کے برابر لانے کی ذمہ داری اگر اساتذہ کی نہیں تو پھر کس کی ہے؟ کیونکہ والدین اساتذہ کو اِس ذمہ داری کے ساتھ اپنا پیٹ کاٹ کر ادائیگیاں کرتے ہیں۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ سکولوں کو من مانی ٹیوشن فیسیں اور دیگر مدوں میں وصولیاں کرنے کی کھلی چھوٹ کیوں دے گئی ہے؟ خیبرپختونخوا کی حدود میں فعال ہر نجی سکول چاہے وہ کسی بھی امتحانی بورڈ سے منسلک ہو‘ صوبائی حکومت کے فرمان تابع اور زیرکنٹرول ہونا چاہئے اور اگر اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے تو بھی یہ عام آدمی کا کام نہیں۔ ماہانہ ٹیوشن فیسوں سمیت جملہ وصولیوں یا تدریسی پالیسیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت یا متعلقہ محکمے سے اجازت لینا ایک ایسی ضرورت ہے جس سے تعلیم کے عمل کو آزاد و زیادہ بامقصد بنایا جا سکتا ہے۔

تعلیم کے بارے میں ہمارے ہاں نجی و سرکاری اداروں کی سوچ میں کمال مماثلت بھی پائی جاتی ہے کہ یہ سبھی امتحانات کے پیمانے (کسوٹی) پر طلباء و طالبات کی ذہانت و قابلیت اور اہلیت کی جانچ کرتے ہیں۔ نسل در نسل منتقل ہونے والا عمومی تصور (مفروضہ) یہ بھی ہے کہ ’تعلیم حاصل نہیں کرو گے تو نوکری نہیں ملے گی اور اگر نوکری نہیں ملے گی تو گھر کی کفالت کیسے ممکن ہوگی؟‘ ہمارے ہاں ’تعلیم‘ کا عمل نہ صرف اختلافی نوٹ بلکہ محکوم ہونے کی حد تک زوال پذیر بھی ہے۔ کیا تعلیم نصابی کتب کو رٹنے کا نام ہے؟ 

ڈگریوں جمع کرنے یا کتابوں اور تجربات پر زندگی کی حقیقت تک رسائی میں سے کس کا انتخاب ہونا چاہئے؟ 

کیا تعلیم کمانے کی کنجی (ذریعہ) ہے اور اس کا انسانی زندگی و شخصیت اور افکار و تخیلات کی تخلیقِ سے کوئی تعلق (واسطہ) نہیں؟ مارک ٹوین نے کہا تھا کہ ’’میں نے کبھی بھی اپنی تعلیم کو اپنی سیکھنے کے عمل پر حاوی ہونے نہیں دیا!‘‘ 

گمان نہیں یقین یہی ہے کہ تعلیم کسی ادارے‘ سکول‘ کالج یا یونیورسٹی کی محتاج نہیں البتہ یہ اِن وسیلوں سے علم کی شناخت‘ عرفان اور سمت کا تعین میں مدد دیتے ہیں‘ جس کے ذریعے عالم و جاہل میں تمیز ممکن ہو۔ خود تعلیمی اداروں نے تسلیم کر لیا ہے (ہار مان لی ہے) کہ ہمارا نصاب تعلیم اِس خوبی سے عاری ہے کہ اس کے ذریعے ذہانت کے ایک جیسے معیار کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستان میں کل تین کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ طالب علم نصابی تعلیم سے منسلک ہیں۔ ان کا تعلق سائنس‘ آرٹس‘ کامرس اور میڈیکل و انجنیرئنگ کے شبعوں سے ہے۔ یونیورسٹی طالب علموں کی تعداد بھی کم نہیں بلکہ قریب ساڑھے چار لاکھ ہے جن کا ہدف کہ وہ راتوں رات کامیاب و امیر بن جائیں! کہ یہی کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے!

تصور کیجئے کہ ریاست نے ’تعلیم‘ کو انفرادی کوشش اور محنت کا لیبل دے دیا ہے کہ پڑھے لکھنے ہونے کا معیار بس یہ ہے کہ انجینئر‘ ڈاکٹر یا اکاونٹنٹ بننے کے لئے انجینئرنگ‘ میڈیکل یا کامرس سے متعلق مضامین پڑھے جائیں۔ اس رجحان کی اگر کوئی پیروی کر رہا ہو تو اسے بالکل حیرت نہیں ہوگی کہ ریاست کس طرح ان تعلیمی اداروں کے درمیان مارکس اور گریڈ کی دوڑ میں اچھے اور ہائی گریڈ انجینئر اور اکاونٹنٹ دریافت کر رہی ہے یعنی اچھے نمبر اور اچھی نوکری لیکن کیا سبھی اچھے نمبر حاصل کرنے والوں کو اچھی ملازمتیں مل پاتی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو امتیازی نمبروں سے سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کامیاب ہونے والوں میں سے قریب پینتیس فیصد تعداد بے روزگار کیوں ہے؟ 

تعلیم کے ساتھ طلباء و طالبات میں رجحان سازی اور اُن کی تخلیقی قوتوں کو پروان چڑھانا کس کی ذمہ داری ہے؟ نصابی تعلیم کی سیدھی لکیر سے ہٹ کر تعمیری کردار ناپید ہوچکے ہیں۔ تخلیقی صلاحیتیں فکرِ معاش کے اندھیروں میں گم دکھائی دیتی ہے۔ فنونِ لطیفہ اور ادب کچھ عرصے میں صرف کتابوں کی حد تک ہی محدود ہو جائیں گے جس سے معاشرہ عدم توازن کا یونہی شکار (دوچار) رہے گا اور تعلیم ایک کاروبار و صنعت کے طور پر حسب روایت کھڑے کھڑے پرواز (ترقی) کرتی چلی جائے گی! 

تعلیم کے بارے میں فکروعمل تبدیل کئے بناء کتابوں اور کاپیوں کا بوجھ اٹھانے والے ’اچھے مزدور‘ تو حاصل ہو سکتے ہیں لیکن ایسے اچھے انسان نہیں‘ جن کے ہاتھوں میں پاکستان کی ترقی کا عمل عصری ضروریات کے ہم آہنگ قرار دیا جاسکے!

Friday, May 19, 2017

May2017: Dreaming about a technology based education system!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیم: ترجیحی منظرنامہ!

خیبرپختونخوا حکومت نے درس و تدریس کے عمل کو ’انقلابی خوبیوں‘ سے روشناس (مزین) کرنے کے لئے کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ پر مبنی ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ بطور بنیادی اسلوب متعارف کرانے کا نہ صرف فیصلہ بلکہ اِس لائحہ عمل کے لئے 4ارب تیس کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم آئندہ مالی سال (دوہزار سترہ اٹھارہ) کے بجٹ میں مختص کر دی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کی تاریخ کے اِس سب سے بڑے اور غیرمعمولی ’ترقیاتی منصوبے‘ میں برق رفتار انفارمیشن اور کیمونیکشن ٹیکنالوجیز پر بھروسہ اُور اِس جدید اَسلوب کو متعارف کرانے سے تعلیمی اِداروں کے روائتی رکھ رکھاؤ اُور عمارتی ڈھانچوں (ظاہری ناک نقشے) میں نمایاں تبدیلی آئے گی لیکن سوال یہ ہے کہ انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز کے ذریعے درس و تدریس دینے والے اساتذہ (افرادی قوت) کہاں سے آئیں گے؟ خیبرپختونخوا کے موجودہ (کم وبیش) ایک لاکھ چوبیس ہزار اساتذہ کی ستر فیصد تعداد انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز سے نابلد ہیں اور اِسی بات کا احساس کرتے ہوئے ’اساتذہ کی تربیت‘ کا بھی بطور خاص اہتمام کیا جا رہاہے۔ یعنی چار ارب تیس کروڑ روپے کا ایک بڑا حصہ اساتذہ کی تربیت پر خرچ ہو جائے گا! تو معلوم ہوا کہ نئی حکمت عملی سے اگر کسی اور کا فائدہ (بھلا) ہو یا نہ ہو لیکن اساتذہ کی تربیت کا اہتمام و انتظام کرنے والوں کی قسمت ضرور بدلنے جا رہی ہے! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے آخری مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک ایسی حکمت عملی پیش کرے جسے جاری رکھنا آنے والی حکومتوں کے لئے ممکن نہ ہو؟ چار سال اساتذہ کی تربیت پر اربوں روپے خرچ کرنے اور برطانوی حکومت کے ادارے ’برٹش کونسل‘ یا اِس جیسے دیگر غیر ملکی اداروں کو منتقل کرنے سے حاصل نتائج پر غور کرنا کس کی ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا یہ بہتر و پائیدار نہ ہوتا کہ یکایک‘ فوراً اور آن کی آن تعلیمی نظام کی اس قدر بڑے پیمانے پر اصلاح کی بجائے شعبۂ تعلیم میں انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز کا مرحلہ وار اطلاق کیا جاتا؟ توانائی بحران اور دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے ناقابل اعتماد نظام سے کس طرح‘ اتنی بڑی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ آنے والا دور ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ ہی کا ہوگا‘ جس پر انحصار بڑھنے کے ساتھ تعلیمی اداروں اور درس و تدریس کے اوقات کی پابندی بھی بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی لیکن یہ عمل بیک جنبش قلم (آنکھ چھپکتے) ممکن نہیں اور نہ ہی محض سرمائے کے زور میں ایسا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ترقی کا ’پائیدار پہلو‘ یہ ہوتا ہے کہ اِسے مرحلہ وار‘ حقائق سے ہم آہنگ اور دستیاب افرادی و مالی وسائل کے مطابق ہونا چاہئے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا قبلہ درست کرنے کے لئے نجی شعبے کے عملی تجربے اور (حاصل) تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہر نجی سکول اپنے وسائل اور اپنی ضروریات کا تعین کرکے اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے اور اِس کے لئے موسم گرما یا سرما کی طویل یا ہفتہ وار تعطیلات سے استفادہ کیا جاتا ہے کیا سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کی اُن کے متعلقہ شعبوں میں تربیت کا انتظام تعطیلات کے دوران ممکن نہیں ہوسکتا؟ کیا نصاب کو عملی تجربات اور مطالعاتی دوروں سے آسان نہیں بنایا جاسکتا؟ نجی تعلیمی اداروں کی طرح سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کے قیمتی وقت کو تعطیلات کی نذر کرنے کی بجائے اُنہیں اندرون یا بیرون ملک کیوں نہیں بھیجا جا سکتا؟ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے میدانی (گرم) علاقوں میں ستائیس مئی سے اکتیس اگست (تین ماہ پانچ دن) جبکہ پہاڑی (سرد) علاقوں میں یکم جولائی سے اکتیس جولائی (ایک ماہ) کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سبب جو بھی ہو لیکن تعلیمی عمل مہینوں معطل رہنے اور اِس دورانیئے سے بہتر و مفید عملی استفادے کے بارے میں سوچ بچار اگر ماضی کی حکومتوں کا طرزعمل نہیں رہا تو کیا ’روایت پرستی‘ میں معاملات (وقت کا ضیاع) جوں کے توں ہوتا رہے؟ گرمی ہو یا سردی‘ ہڑتال ہو یا احتجاج‘ تعطیلات کا کوئی مقصد (جواز) ہو ہی نہیں سکتا مگر اِس کی ضرورت اُن سرمایہ داروں کو رہتی ہے جو ایک مصروف ترین سال کے چند ہفتے اہل خانہ کے ہمراہ کسی پرفضا مقام یا بیرون ملک بسر کرنے کو معمول بنائے ہوئے ہیں! موسمی شدت سے بچنے کے لئے تعلیمی اداروں کے اُوقات تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔

سکولوں کو آمدورفت کے لئے سفری سہولیات میں اضافہ ممکن ہے۔ پرفضا مقامات کی آب وہوا کو درس وتدریس کے عمل سے زیادہ معطر بھی تو بنایا جاسکتا ہے؟ آخر فیصلہ سازوں نے یہ نتیجہ کس سائنسی بنیاد (اصول) پر اخذ کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے اساتذہ کو ایک جیسی تربیت چاہئے اور سبھی کی صرف انگریزی مضمون ہی میں مہارت بڑھانے سے ضرورت پوری اور معیار تعلیم بہتر ہو جائے گا؟

شعبۂ تعلیم کے مستقبل اُور مستقبل کی ضروریات پر نظر رکھتے ہوئے آج کی تاریخ اور آج کی تقاضوں کا احساس و ادراک بھی ترجیح ہونی چاہئے۔

Friday, May 12, 2017

May2017: Tale of GPS Matta Khel Shabqadar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
آخری موقع!
خیبرپختونخوا میں تعلیمی انقلاب کے لئے ’ہنگامی حالات‘ کے ثمرات بڑے شہروں میں تو دیکھے جا سکتے ہیں لیکن صوبے کے پچیس اضلاع کے دور اُفتادہ علاقوں میں صورتحال جوں کی توں (ناقابل بیان) ہے جہاں سرکاری تعلیمی اداروں بالخصوص پرائمری و سیکنڈری سکولوں کی عمارتیں خاطرخواہ حکومتی توجہ سے محروم ہیں۔ دس مئی کو ’’آخری سال‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا کے پرائمری و سیکنڈری (بنیادی و ثانوی) تعلیمی امور کے لئے مختص مالی وسائل میں اضافے اور فیصلہ سازی کے عمل میں ترجیحات کا ذکر کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت آخری سال کو ’آخری موقع‘ سمجھے یا نہ سمجھے لیکن حقیقت یہی ہے کہ چار سال قومی سیاست پر پارٹی کی مرکزی قیادت کے پیچھے چلنے والوں کے پاس ایک سال سے بھی کم عرصے کی مہلت باقی ہے۔ 

دانشمند وہ نہیں ہوتا جو خود غلطی نہ کرے بلکہ دوسروں اور اپنی غلطیوں سے حاصل اسباق پیش نظر رکھنے والا سرخرو ہوتا ہے اور سیاست میں عوامی مقبولیت کا معیار وہ بظاہر چھوٹے امور بھی بن جاتے ہیں‘ جن کی جانب دیگر مصروفیات میں توجہ نہیں رہتی! 

شعبۂ تعلیم بالخصوص پرائمری تعلیم کی بہتری کے نام پر غیرترقیاتی اَخراجات کم کرنے میں صوبائی حکومت کامیاب ہو سکتی تھی لیکن بجائے غیرتدریسی افرادی بوجھ کم کرنے کے محکمے نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ایسے مشیروں اور ماہرین کی خدمات حاصل کیں جن کا مقصد صرف اور صرف اعدادوشمار جمع کرنا تھا۔ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ خیبرپختونخوا کے محکمۂ تعلیم میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ملازمین ہیں اور اِن ملازمین سے کام لینے کے لئے بھی مزید ملازمین رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے! دست بستہ معذرت ہے کہ ’’آخری سال‘‘ کے عنوان سے کالم ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے علاقے ’مٹہ مغل خیل‘ کے رہنے والوں کے زخموں پر نمک پاشی ثابت ہوا لیکن اگر وہ ایک تسلسل سے قبل ازیں لکھی گئی تحریروں کو اپنے حافظوں میں محفوظ رکھتے تو ’گلہ مند‘ ہونے کی نوبت ہی نہ آتی بہرحال مٹہ مغل خیل کی نمائندگی کرنے والوں نے بذریعہ برقی مکتوب (اِی میل) ’گورنمنٹ پرائمری سکول مٹہ مغل خیل‘ کی خستہ حالی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے درجنوں ایسی تصاویر اور ویڈیوز ارسال کی ہیں جن میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ 1971ء میں تعمیر ہونے والے اِس سکول کی عمارت ناقابل استعمال ہے اور اِس حد تک بوسیدہ ہو چکی ہے کہ اِس سے استفادہ کرنا طالبعلموں اور اساتذہ کے لئے کسی بھی صورت محفوظ نہیں۔ 

چھتوں میں سوراخ‘ اُکھڑی ہوئی کھڑکیاں‘ دَروازے‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار فرش‘ کھلے آسمان تلے دو سو سے زائد بچوں کے ’کلاس رومز‘ پینے کے پانی اُور بیت الخلاء جیسی غیرمعیاری و ناکافی سہولیات اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ پالیسی سازی‘ کاغذی کاروائی‘ اَعدادوشمار جمع کرنے اُور اعدادوشمار سے اَخذ کی جانے والی معلومات (لائحہ عمل) کے مراحل میں کہیں نہ کہیں بہت بڑی کمی (خامی) رہ گئی ہے۔ سکول انتظامیہ (ہیڈماسٹر) کی جانب سے ’یکم جنوری دوہزار سترہ‘ کو تحریری طور پر متعلقہ حکام (ایس ڈی اِی اُو‘ اُور اے ایس ڈی اِی اُو) کو بعنوان ’’پیشگی اطلاع برائے بوسیدہ عمارت‘‘ ارسال کر دی گئی ہے جس میں ’جی پی ایس مٹہ مغل خیل‘ میں سات جماعتوں کے لئے متبادل جگہ فراہم کرنے اور نئے کمروں کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے لیکن ایک سو بیس دن (چار ماہ) سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی متعلقہ حکام کی توجہ سرکاری پرائمری سکولوں کی جانب مبذول نہ ہو سکی!

بنیادی و ثانوی محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے 16 اپریل 2014ء کو ’انڈی پینڈنیٹ منیجمنٹ یونٹ (آئی ایم یو)‘ قائم کیا‘ جبکہ اِس شعبے نے ’ماہ فروری دوہزار چودہ‘ کے پہلے ہفتے سے کام کرنا شروع کر دیا تھا اُور حسن اتفاق یہ بھی ہے کہ پاکستان میں برطانوی حکومت کے نمائندہ ادارے ’برٹش کونسل‘ کے حاضرسروس اور اِس سے وابستہ رہنے والوں کی بڑی تعداد اِس یونٹ کا حصہ بنی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے من پسند افراد کے ’سی ویز‘ سامنے رکھتے ہوئے مختلف عہدوں کے لئے بھرتیوں کو مشتہر کیا گیا اور ظاہر ہے کہ وہی ’ماہر‘ مطلوبہ قابلیت کے معیار پر پورا اُتر سکتے تھے جو منتخب ہوتے چلے گئے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن محکمۂ تعلیم کی برٹش کونسل سے قربت اور اربوں روپے اساتذہ کی تربیت پر خرچ کرکے برٹش کونسل کو مالی فائدہ پہنچانے اور برٹش کونسل کے حاضر سروس ملازمین کی خدمات سے استفادہ کرنے سے متعلق بدعنوانی کے کیسز سامنے آئیں گے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کم سے کم یہ سوال تو پوچھے گی کہ محکمہ تعلیم بشمول پرائمری وسیکنڈری سکولوں میں کتنا غیرتدریسی عملہ بھرتی کیا گیا؟ برٹش کونسل سے تربیتی معاہدے کی تفصیلات اور برٹش کونسل کے حاضر اور سابق کتنے ملازمین کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں؟

نگرانوں پر نگران ادارے ’آئی ایم یو‘ کے قیام کا مقصد ’28 ہزار‘ سرکاری سکولوں کی نگرانی اور اُن سے متعلق اعدادوشمار جمع کرنا تھا تاکہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری‘ طلباء و طالبات کی تعداد‘ نتائج اور سہولیات کا معیار یکساں بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اب تک ’آئی ایم یو‘ نے پانچ سو نگرانوں (مانیٹرنگ اسسٹنٹس) کا چناؤ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفسیرز کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔ مانیٹرنگ اسسٹنٹس کی تربیت مکمل کی لیکن اِس پوری کوشش سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کس قدر مشکوک ہو جاتے ہیں اگر کوئی ایک بھی سکول ایسا پایا جائے‘ جس کی عمارت ناقابل استعمال اور جہاں سہولیات کی مقدار و معیار ناقابل یقین حد تک کم ہو!؟

شبقدر کا مذکورہ گورنمنٹ پرائمری سکول قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 8 (چارسدہ ٹو) اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 21 (چارسدہ فائیو)‘ اور ’پی کے 22‘ (چارسدہ سکس) کا حصّہ ہے۔ گیارہ مئی دوہزار گیارہ کے عام انتخابات (ٹھیک چار سال قبل یہاں سے) قومی اسمبلی کی نشست پر قومی وطن پارٹی (شیرپاؤ) جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر یہاں سے قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے نامزد اُمیدوار کامیاب ہوئے اور یہ دونوں جماعتیں خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت کا حصہ ہیں۔ 

کسی ایسے انتخابی حلقے کا ’پرائمری سکول‘ کس طرح ’نظرانداز‘ ہو سکتا ہے جبکہ وہاں سے تعلق رکھنے والے دو صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کا رکن اقتدار کا حصہ ہوں؟ تعجب خیز امر یہ بھی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی نگرانی کرنے والے ایک سے زیادہ صوبائی حکومت کے اداروں کی موجودگی کے باوجود کس طرح ’آئی ایم یو کوڈ نمبر 12975‘ کے تحت پرائمری سکول خستہ حالی (بوسیدگی) کی تصویر ہو سکتا ہے؟

Wednesday, May 10, 2017

May2017: Primary education in KP as prime-priority & last opportunity too!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آخری سال!
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت اپنی آئینی مدت کے آخری مالی سال (دوہزارسترہ اور اٹھارہ) کے لئے آمدن و اخراجات کا میزانیہ (بجٹ) تیار کر رہی ہے اور اب تک کی مشاورت سے حاصل ہونے والی ابتدائی سفارشات سے معلوم ہوتا ہے کہ ترجیحات کو مزید ترجیح دیتے ہوئے سب سے آئندہ مالی سال سب سے زیادہ توجہ ’بنیادی و ثانوی (پرائمری اینڈ سیکنڈری) تعلیم‘ پر ہی مرکوز رہے گی جس کے لئے قریب 17فیصد زائد مالی مختص کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ 

آئندہ مالی سال کے لئے سرکاری ’پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی اداروں‘ کے حصے میں کم سے کم ’138 ارب روپے‘ آئیں گے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ ’خیبرپختونخوا‘ کی سیاسی تاریخ میں کبھی بھی سرکاری پرائمری تعلیمی اداروں کے لئے اِس قدر رقم مختص نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت کے آخری مالی سال (دوہزار بارہ تیرہ) میں تعلیم کے لئے صرف 61 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور اگر ہم ماضی کے قوم پرستوں کا موازنہ جنون اور تبدیلی کی بنیاد پر اصلاحات کی دعویدار موجودہ صوبائی حکومت سے کریں تو یہ اضافہ ’’126 فیصد‘‘ بنتا ہے! لیکن سوال یہ ہے کہ ایک سو چھبیس فیصد سے زائد مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی اگر سرکاری پرائمری وسیکنڈری تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور حاصل ہونے والے نتائج وہی کے وہی ہیں تو فائدہ (حاصل) کیا!

پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ زیادہ مالی وسائل مختص کرنا ہی کافی ہے جبکہ صورتحال یہ رہی کہ ماضی کی طرح حال میں بھی مختص بجٹ کا بڑا حصہ (قریب نوے فیصد یا اس سے زیادہ) تنخواہوں اور مراعات کی ادائیگی جبکہ مالی سال کے آخری تین ماہ باوجود کوشش اور تیزرفتار اخراجات کے بھی مختص مالی وسائل سے پوری طرح استفادہ نہیں ہوسکا! تو اِس بات پر کس قدر اظہار مسرت کرنا چاہئے کہ صوبائی حکومت نے گذشتہ مالی سال کے مقابلے ’’سترہ فیصد‘‘ زیادہ مالی وسائل پرائمری وسکینڈری تعلیم کے لئے مختص کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا بڑا حصہ غیرترقیاتی اخراجات (تنخواہوں) کی نذر ہو جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ پرائمری و سیکنڈری ایجوکیشن کے لئے مالی سال 2016-17ء کے دوران 118 ارب مختص کئے گئے تھے جنہیں بڑھا کر 138 ارب روپے کیا جا رہا ہے! ذہن نشین رہے کہ صوبائی حکومت نے چالیس ہزار اساتذہ بھرتی کئے اور نئے مالی سال میں مزید پندرہ ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت اساتذہ کی تربیت پر بھی ریکارڈ اخراجات کر رہی ہے اور اب تک 80کروڑ روپے جس تربیت پر خرچ ہو چکے ہیں‘ اُس کا فائدہ نجانے کون سی عینک پہن کر نظر آئے گا‘ معلوم نہیں! 

ماضی میں سکولوں کے ناموں پر جو کچھ تعمیر ہوا‘ اُس کا حال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو چار لاکھ کرسیاں فراہم کرنا پڑیں اور سکولوں کے نام پر تعمیر ہونے والے ڈھانچوں میں سہولیات کی فراہمی پر 7 ارب روپے خرچ کرنا پڑے۔

سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار جانچنے کی واحد اکائی ’امتحانات‘ ہیں‘ جن کے لئے نصاب چاہے جتنا بھی وسیع اور جامع بنانے کی کوشش کی جائے وہ محدود ہی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نئے مالی سال کے دوران ’ذیابیطس (شوگر)‘ کے بارے میں اسباق بھی نصاب میں شامل کرے گی کیونکہ ہری پور اور کرک کے اضلاع میں کئے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اِن دو اضلاع کی اُنیس فیصد سے زیادہ آبادی شوگر میں مبتلا ہے اور صوبے کے دیگر تیئس اضلاع میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہ ہونے کا یقین رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں غیرمحتاط کھانے پینے کی عادات اور کیمیائی مادوں پر مشتمل اشیائے خوردونوش کے سبب انواع و اقسام کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ بچوں کو لاحق ہے جو ذرائع ابلاغ میں پرکشش اشتہارات سے ملنے والی رغبت کی بنیاد پر ایسی اشیاء کھاتے ہیں‘ جن سے اُن کی صحت عمر بڑھنے کے ساتھ خراب ہوتی چلی جاتی ہے۔ کیا سرکاری و نجی سکولوں کے اندر یا اُن کے آس پاس کیمیائی مادوں سے بنی ہوئے ایسی ذائقہ دار اشیاء فروخت ہونی چاہیئں‘ جو انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں؟ نصاب کے ذریعے آگہی اپنی جگہ اہم لیکن تمباکو نوشی کے رجحان میں اُس وقت تک کمی نہیں آئے گی جب تک اِس کی ہر عمر کے لئے سرعام دستیابی ختم نہیں کی جاتی۔ 

خیبرپختونخوا حکومت پرائمری سیکنڈری ہائی اور ہائرسیکنڈری تعلیم کی ضروریات اور تقاضوں کو الگ الگ کر کے دیکھ رہی ہے‘ جبکہ اِن سب کے درمیان ایک کمزور ہوتا تعلق بھی ہے‘ جس کی کھوج اور جس کی مضبوطی کے لئے بھی عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے ہاں معلم بچوں کے لئے ’رول ماڈل (ہر لحاظ سے قابل تقلید ہستی)‘ ہے؟ جاپان کے ایک سکول کا دورہ کرنے والے صحافیوں نے عجیب عمل دیکھا کہ برآمدے سے گزرنے والے بچے چلتے چلتے ایک خاص مقام پر پہنچ کر چھلانگ لگاتے جبکہ فرش ٹھیک تھا اور گیلا بھی نہیں تھا کہ پھسلنے کا خطرہ یا امکان ہوتا۔ جب سکول کے انتظامی نگران سے اِس کا سبب پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ غور کیجئے وہاں ایک معلم کھڑا ہے جس کے سائے پر پاؤں رکھنا طالب علم توہین سمجھتے ہیں‘‘ یقیناًجاپان کے بچوں کو ایسا کرنے کی اُنہیں تربیت (تلقین) دی جاتی ہوگی کیونکہ بناء تربیت درس و تدریس کے عمل سے جو کچھ بھی حاصل ہو گا وہ ’’آداب فرزندی‘‘ جیسی خصوصیات کا مرکب نہیں ہو سکتا!

Thursday, April 27, 2017

Apr2017: Teaching & Teachers, the Self accountability concept!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

درس و تدریس: احتساب اُور خوداحتسابی!

خیبرپختونخوا میں ’تعلیمی ایمرجنسی‘ کا نفاذ ’دوہزار تیرہ‘ میں تحریک اِنصاف کی حکومت قائم ہونے کے ساتھ ہی ہوگیا تھا‘ جس کے تحت دعویٰ کیا گیا کہ صوبے کے ہر بچے کو جدید اُور معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنا دی گئی ہے تو کیا ماضی میں محکمۂ تعلیم کی سرپرستی و نگرانی میں ’جدید اور معیاری تعلیم‘ فراہم نہیں ہو رہی تھی؟ پھر تین سال تک ’تعلیمی اَیمرجنسی‘ کے تحت جو اِصلاحات کی گئیں‘ اُن سے متعلق ’تین سالہ کارکردگی رپورٹ‘ ’’ستمبر2016ء‘ میں جاری کرتے ہوئے یاد دلایا گیا کہ ’’مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) میں ’اِبتدائی و ثانوی تعلیم‘ کے لئے ’100 ارب روپے‘ مختص کئے گئے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں (حسب روایت) بہت سے ’اعدادوشمار‘ بھی شامل تھے جن کے مطابق 2013ء سے 2016ء کے دوران صوبے کے دور دراز اُور پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے لئے 1251 کیمونٹی سکول بنائے گئے۔ 2 ارب سے زائد تعلیمی وظائف اور ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت 26کروڑ روپے کے سکالرشپ دیئے گئے لیکن اِس ’تین سالہ کارکردگی رپورٹ‘ کا دلچسپ حصہ ’’اساتذہ کی تربیت‘‘ سے متعلق تھا یعنی تین سال کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے قریب ’ایک لاکھ چوبیس ہزار‘ میں سے ’66 ہزار 905‘ اساتذہ کو درس و تدریس کی تربیت دی‘ جس پر 80کروڑ روپے خرچ ہوئے! 

تصور کیجئے کہ ہمارے ہاں تعلیم کے نام پر سب کچھ (دستیاب) ہے جبکہ اگر محسوس ہونے والی کسی ایک چیز کی کمی دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو وہ ’’صرف اُور صرف‘‘ ایسے معلمین کی ہے جو معلم ہونے کے اہل ہوں! 

’اساتذہ بے تیغ سپاہی (چوبیس اپریل)‘ ذریعہ تعلیم اُور نتائج (پچیس اپریل)‘ بنیادی تعلیم: بنیادی خامی! (پچیس اپریل) کے تحت جو کچھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی‘ اُسے حکومتی و تعلیم کے نگران حلقوں نے پسند نہیں کیا تو اِس کی منطق سمجھ آتی ہے لیکن شعبۂ تعلیم میں اصلاحات کے نام پر مالی وسائل کا ضیاع اور خردبرد پر افسوس کا اظہار‘ سوچنا اور لکھنا بند کر دیا جائے‘ تو نہایت ہی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بنیادی وثانوی تعلیم کی ترقی کے لئے صوبائی حکومت کے جوانسال مشیر نجی اللہ خٹک کی یہ خواہش پوری نہیں کی جاسکتی۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کسی اُور کے لئے ’ذریعہ معاش‘ اور ’روزگار کا نادر موقع‘ تو ہو سکتی ہے لیکن کم سے کم ذرائع ابلاغ کو اِس سے دلدل سے الگ رہتے ہوئے رہنمائی کی ذمہ داری نبھاتے رہنی چاہئے۔ عین ممکن ہے الفاظ کی قدر نہ کی جائے‘ اُنہیں بکواس کہا جائے‘ لیکن سچ کی توہین باوجود کوشش بھی ممکن نہیں ہوگی!

اعتراف حقیقت ہے کہ ’ابتدائی (پرائمری) و ثانوی تعلیم‘ کے فروغ کی خواہش رکھنے والی ’خیبرپختونخوا حکومت‘ کے لئے درپیش چیلنجز کی ’قطعی کوئی کمی‘ نہیں تھی۔ فہرست مرتب کی جائے تو تین بڑی مشکلات میں پہلی رکاوٹ یہ تھی کہ بچوں کی تعداد اور آبادی کے تناسب سے پسماندہ علاقوں میں سکول موجود نہیں تھے‘ جہاں سکول تھے تو بنیادی ضروریات نہیں تھیں۔ اساتذہ حاضری تک کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ ایسے سرکاری اساتذہ بھی پائے گئے جنہوں نے اپنی جگہ چند گھنٹے حاضری کے لئے بے روزگاروں کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں! علاؤہ ازیں غربت و دیگر محرکات کی وجہ سے والدین کی ایک بڑی تعداد بچوں کو سکول نہ بھیجنے پر بضد تھی‘ جنہیں قائل کرنا سیاست دانوں (اصلاح کاروں) کے لئے باوجود خواہش و کوشش بھی مشکل نہ ہوا‘ اور جب ہر حربہ ناکام ثابت ہوا‘ تو بعدازاں قانون سازی کا سہارا بھی لیا گیا جو ہنوز کارگر ثابت نہیں ہوا کیونکہ قوانین پر عمل درآمد کرانے کا ’ٹریک ریکارڈ‘ زیادہ اچھا نہیں! اگر ہم خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے تین سال‘ گیارہ ماہ‘ پندرہ دنوں (مئی دوہزار تیرہ سے اپریل دوہزار سترہ) کی کارکردگی دیکھیں تو قوانین پر عمل درآمد کے لحاظ سے ہم آج بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں‘ تبدیلی کے ثمرات عملاً دیکھنے کے خواہشمند ہیں! اِس حد درجے مایوسی کا ثبوت خود حکومتی رپورٹ (Annual Status of Education Report ASER) میں بھی ملتا ہے جو دسمبر 2015ء کے آخری ہفتے جاری کی گئی اور جس میں کہا گیا تھا کہ ’’سال دوہزار تیرہ (خیبرپختونخوا حکومت کے پہلے سال) میں 13فیصد بچے سکولوں سے باہر تھے لیکن دوہزار چودہ کے اختتام پر یہ تعداد کم ہونے کی بجائے (’دو فیصد‘ بڑھ کر) 15فیصد ہو گئی!‘‘ تو کیا اِس میں بہتری آئی ہے یا صرف اعدادوشمار تبدیل کردیئے گئے ہیں!؟ 

سکولوں کی تعداد اُور تعلیمی اداروں سے باہر تعداد کے بعد تیسری مشکل اساتذہ تھے‘ جن کی اکثریت یا تو سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے اپنی بنیادی ذمہ داری ادا نہیں کر رہی یا پھر اُن کی ذمہ داریاں میں غیرمتعلقہ امور شامل کر دیئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ ایسے بھی ہیں‘ کہ جن کے درس وتدریس کا طریقہ تعلیم وتربیت کے جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں! یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں کسی معلم (ٹیچر) کی وہ عزت و تکریم (مقام) بھی دکھائی نہیں دیتا کہ جو عملاً ہونا چاہئے۔ ترقی یافتہ (معاشروں) مغربی ممالک میں کسی اُستاد اور بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ معلمین کا مقام دیکھنے لائق ہوتا ہے‘ جنہیں عمومی قوانین میں استثنی تک دیا جاتا ہے جیسا تقدس ہمارے ہاں صدر‘ وزیراعظم‘ گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو حاصل ہے۔ بہرحال اساتذہ کو اُن کے منصب و مقام سے آشنا کرنے اور تدریس کے جدید تصورات سے روشناس کرانے کے لئے خیبرپختونخوا حکومت پہلے مالی سال سے چوتھے سال تک کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہے‘ لیکن (مایوس کن) صورتحال جوں کی توں (بدستور) برقرار ہے تو اِس سلسلے میں اساتذہ اور اُن کے ذمہ دار نگرانوں کو بھی ’خوداحتسابی‘ کے تحت اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ کیا وہ سرکاری خزانے سے ملنے والی تنخواہ اُور دیگر مراعات کے ’حقیقت میں‘ حقدار (بھی) ہیں؟ 

کیا استاد ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اپنی کارکردگی کا موازنہ دیگر سرکاری ملازمین سے کرتے ہوئے مطمئن ہو جائیں کہ اگر وہ کام نہیں کررہے تو دیگر سرکاری ملازمین نے ایسی کون سی کارکردگی کا مظاہرہ کر دیا ہے؟ معاشرے میں تبدیلی (ارتقاء) حکومتوں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی سے ممکن ہوسکتا ہے اور بس‘ اُس نظام سے جس میں خوداحتسابی کا عنصر شامل ہو‘ جس میں ہر سرکاری ملازم ’فرض آشنا‘ ہو اور اُس کے لئے دوسرے نہیں بلکہ وہ ’بذات خود‘ دوسروں کے لئے ’مثال‘ قرار پائے!

Wednesday, April 26, 2017

Apr2017: Primary education in KP, Lack of understanding!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بنیادی تعلیم: بنیادی خامی!
خیبرپختونخوا حکومت نے ’سرکاری پرائمری سکولوں‘ کو ’نجی اِداروں‘ کے ’برابر‘ لانے کے لئے ’اَنگریزی زبان‘ کو بطور ’ذریعۂ تعلیم‘ متعارف کرتے ہوئے جن زمینی حقائق کا ادراک نہیں کیا‘ وہی شرمندگیکا سبب بھی ہے اور ایک ایسی حکمت عملی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس پر صوبائی خزانے سے ’چالیس کروڑ‘ روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی خاطرخواہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکا۔ افسوس تو اِس بات کا بھی ہے کہ اِس قدر خطیر رقم خرچ کرنے والوں کو ’افسوس‘ بھی نہیں! ’اَنگریزی زبان‘ میں تدریس کی حکمت عملی بنانے والوں نے جب سرکاری سکولوں کے پرائمری اساتذہ کا تدریسی تجربہ‘ نتائج‘ تعلیمی قابلیت اور سالہا سال پر پھیلی ’تدریسی اہلیت‘ کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ پرائمری درجات میں زیرتعلیم طالبعلموں سے قبل اساتذہ کو انگریزی زبان سکھائی جائے اور اس مقصد کے لئے برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ سے ایک معاہدہ پر ’19 جولائی 2016ء‘ کے روز پشاور میں دستخط ہوئے‘ جس کے تحت ’پانچ سو‘ پرائمری اَساتذہ کو بطور ’ماسٹر ٹریننر‘ چار مضامین ’انگریزی‘ حساب‘ سائنس اُور معلومات عامہ (جنرل نالج)‘ کے مضامین سیکھ کر باقی ماندہ 80ہزار سے زائد اساتذہ کو تربیت دے کر یہ تربیت عمل رواں ماہ کے آخر (30 اپریل) تک مکمل ہونا تھی جو صرف اِس وجہ سے مکمل نہ ہوسکی کیونکہ سرکاری اداروں نے تربیت کاروں کو بروقت وسائل مہیا نہیں کئے۔ 

پرائمری سطح پر خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں انگریزی زبان متعارف کرانے کی حکمت عملی اُور ’برٹش کونسل‘ کے ذریعے تربیت و نگرانی سے متعلق قبل ازیں ’اساتذہ: بے تیغ سپاہی (چوبیس اپریل)‘ اُور ’ذریعہ تعلیم اُور نتائج (پچیس اپریل)‘ کے ذریعے مسلسل بیان کا اختتام اُس نکتۂ نظر پر ہو رہا ہے‘ جس میں ’حکمت عملی‘ کا دفاع کرنے والے ایک فیصلہ ساز نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’پرائمری معیار تعلیم نجی تعلیمی اداروں کے مساوی کرنے کے لئے ’نیک نیتی‘ پر مبنی اقدام کیا گیا لیکن اُنہیں اندازہ نہیں کہ اِس نیک نیتی کی کتنی بھاری قیمت خیبرپختونخوا کو ادا کرنا پڑی ہے۔ 

اگر خیبرپختونخوا میں ’احتساب کمیشن‘ فعال ہوتا تو اب تک پرائمری کی سطح پر اَساتذہ کی تربیت در تربیت پر گذشتہ چار برس میں ہوئے اخراجات کا حساب کیا جاتا‘ تو دلچسپ حقائق میں وہ رنگارنگ تشہیری مہمات بھی سامنے آتیں‘ جن پر کروڑوں روپے اُڑا دیئے گئے۔ پرائمری و ثانوی تعلیم کی بہتری کے لئے دن رات سوچنے والوں کی دلچسپی کا جواز بھی موجود ہے اور حسن اتفاق ہے کہ خیبرپختونخوا کے پرائمری تعلیم سے متعلق فیصلہ سازوں اور مشیروں میں ’برٹش کونسل‘ کے سابق تنخواہ دار ملازمین شامل ہیں۔ جولائی دوہزار سولہ میں جب خیبرپختونخوا حکومت ’برٹش کونسل‘ سے اساتذہ کی تربیت کا معاہدہ کر رہی تھی‘ اُنہی دنوں کراچی میں ’برٹش کونسل لائبریری‘ کا پندرہ برس بعد دوبارہ آغاز کیا گیا جبکہ پشاور آج بھی ’برٹش کونسل لائبریری‘ سے محروم ہے جو نائن الیون دہشت گردی کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ 

تصور کیجئے کہ ’برٹش کونسل‘ خیبرپختونخوا میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے میں تو دلچسپی نہیں رکھتی لیکن امن و امان کی صورتحال میں بہتری پر اُسے اس قدر یقین ہے کہ ایک سال سے پرائمری اساتذہ کی تربیت اُس کی زیرنگرانی جاری ہے!

پرائمری سطح پر غیرمقامی زبان متعارف کرانے والے کسی ایک بھی ایسے ملک کی مثال نہیں دے سکتے جہاں بچوں کو کسی ایسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہو جو اُس کے آس پاس نہ بولی جا رہی ہو! کیا بناء انگریزی زبان ’خواندگی‘ ممکن نہیں؟ تصور کیجئے ہمارے پاس ایسے اساتذہ کی ’فوج ظفر موج‘ موجود ہے جن کی اکثریت ’انگریزی زبان‘ میں کتابیں نہیں پڑھا سکتے لیکن وہ گریجویشن اور ماسٹرز کی اسناد پر تاحیات سرکاری خزانے سے مراعات پا رہے ہیں۔ 

فیصلہ سازوں کا کہنا ہے کہ ’’مارکیٹ کی طلب (ڈیمانڈ) مدنظر رکھتے ہوئے پرائمری سطح پر انگریزی متعارف کرائی گئی ہے کیونکہ اگر کسی بچے کو اچھی انگریزی نہیں آتی تو اُسے عملی زندگی میں ترقی کے مساوی مواقع نہیں ملتے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب امیروں کے بچوں کو پرائمری کی سطح پر انگریزی پڑھائی جاتی ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا لیکن جب حکومت یہی سہولت سرکاری سکولوں میں متعارف کراتی ہے تو ہر طرف سے تنقید ہونا شروع ہو جاتی ہے!‘‘ پرائمری سطح پر ’انگریزی زبان میں تدریس‘ کا فیصلہ کرنے والوں نے کن ماہرین سے مشاورت کی‘ اور اُنہیں ’تنقید برائے تنقید‘ کی صورت کس دباؤ کا سامنا ہے‘ یہ تو واضح نہیں لیکن نتیجہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا خزانے سے ’چالیس کروڑ روپے‘ ایک ایسے منصوبے کی نذر کر دیئے گئے ہیں‘ جس سے سوائے ’’نشستن‘ خوردن اور برخواستن‘ کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا!

Tuesday, April 25, 2017

Apr2017: Flaws in KP's primary education policy!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

ذریعہ تعلیم اُور نتائج!


سرکاری تعلیمی اداروں کے ’’500 ملازمین (پرائمری اساتذہ)‘‘ کو بذریعہ برطانوی ادارے ’برٹش کونسل‘ کے ذریعے درس و تدریس کے جدید تصورات سے متعلق تربیت کا اہتمام اپنی جگہ اہم لیکن جس حکمت عملی کے تحت اِن مرد و خواتین ’ماسٹر ٹریننرز‘ نے پچیس اضلاع میں اپنے ہم منصبوں کی تربیت کرنا تھی اور جو علم ’برطانوی‘ ماہرین تعلیم کے ذریعے پانچ سو اساتذہ کرام کو منتقل ہوا‘ اُس کی مزید تقسیم کا عمل رواں ماہ (اپریل دوہزارسترہ) کے آخر تک مکمل ہو جانا چاہئے تھا۔ اِس سلسلے میں گزارشات بعنوان ’اساتذہ: بے تیغ سپاہی‘ سپرد قلم کرنے کا مقصد کسی ایسے ملک کے نظام تعلیم اور درسی و تدریسی تجربات سے مرعوب ہونے کی بجائے اُن ٹھوس زمینی حقائق کا ادراک و اِصلاحاتی عمل مکمل کیا جائے‘ جس کی وجہ سے ’’علم‘ تعلیم اُور معلم‘‘ کا کردار (تصور) واضح اور نکھر جائے۔

خیبرپختونخوا کے 1 لاکھ 24 ہزار اساتذہ کے مسائل غور طلب ہیں‘ جن کے آٹھ مطالبات میں شامل ہے کہ 1: غیرمشروط ٹائم سکیل دیا جائے۔ 2: این ٹی ایس پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کو مستقل کیا جائے۔ 3: سکول ہیڈ پالیسی منظور نہیں۔ 4: تمام اساتذہ کو ’ٹیچنگ الاؤنس‘ دیا جائے۔ 5: ’آئی ایم یو‘ کا رویہ نامناسب ہے۔ 6: ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ 7: ٹیچر سن کوٹہ بحال کیا جائے اور 8: تعطیلات کے دوران ’کنوینس الاؤنس‘ کی کٹوتی نہ کی جائے۔ اِن مطالبات کے حق میں ’’آل ٹیچرز کوآرڈینیشن کونسل ایک عرصے سے سراپا احتجاج ہے اور اگر اُن کے مطالبات جائز ہیں تو حل کیوں نہیں ہو رہے؟ اِس بارے میں ضلع پشاور سے ’پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن‘ (تنظیم) کے صدر عزیز اللہ خان خیبرپختونخوا میں طلوع ہونے والے ’تبدیلی کے سورج‘ کی کرنیں ’’مدھم‘‘ قرار دیتے ہیں۔ چند روز قبل (بیس اپریل) خیبرپختونخوا کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے نمائندوں نے احتجاجی دھرنا دیا اور اس موقع پر اسپیکر اسمبلی سے ملاقات میں اُن کے جملہ مطالبات حل کرنے کے لئے حکومت نے (دفاعی پوزیشن پر جاتے ہوئے) ’تیس اپریل‘کا اگرچہ وقت مانگا ہے لیکن اساتذہ زیادہ پراُمید نہیں! کیونکہ جب تک عملی طور پر اصلاحات نافذ نہیں ہوتیں اُس وقت تک زبانی کلامی باتوں اساتذہ کو اطمینان نہیں ہوگا۔ اِس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ جب تک پرائمری سطح پر نظام تعلیم ٹھیک نہیں ہوتا اُس وقت تک سرکاری سطح پر اعلیٰ درجات میں تعلیم کا معیار محتاج توجہ ہی رہے گا۔ 

ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ پرائمری اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں پرائمری سطح کی تعلیم مکمل کرنے والے جب ’چھٹی (ششم) کلاس‘ میں جاتے ہیں تو وہ اُردو زبان تک روانی سے نہیں بول سکتے۔ حال ہی میں حکومت نے پرائمری سطح کے بچوں کا امتحان لیا جو سرکاری سکول میں زیرتعلیم طلبہ تو کیا خود اساتذہ کی سمجھ سے بالاتر تھا اور اِس امتحان کا رزلٹ آنے بعد ہی بہتر تبصرہ کیا جا سکے گا۔

پرائمری سطح پر تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے انگریزی نہیں بلکہ ’مادری زبان‘ کو ذریعہ (میڈیم) بنانا ہوگا۔ برطانیہ سے انگریزی سیکھنے والوں کے لئے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا ’مفت مشورہ‘ موجود ہے کہ ’اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر۔‘ کیا بناء انگریزی زبان تعلیمی ترقی ممکن نہیں؟ یہ سوال فیصلہ سازوں کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے! دوسری اَہم بات ’’تغیرپذیر نصاب‘‘ ہے‘ جس میں آئے روز تبدیلیاں کی جاتی ہیں اُور موجودہ حکومت نے تو نصاب تبدیل کرنے کا ریکارڈ ہی قائم کر دیا ہے۔ جو نصاب اساتذہ کو سمجھنے کے لئے تربیت اور وہ بھی جاری تعلیمی سال کے دوران تربیت درکار ہے تو پھر بچوں کو علم کیسے اور کیونکر ممکن ہو سکے گا!پچیس سال سے ضلع پشاور کی مختلف سکولوں میں تدریسی ذمہ داریاں اَدا کرتے ہوئے 44سالہ عزیزاللہ خان کا کہنا ہے کہ ’’پرائمری سکولوں کے جملہ اساتذہ کو دیگر ہر قسم کی ڈیوٹیز سے الگ کیا جائے۔ 

تصور کیجئے کہ ’ماہ اپریل‘ میں ’نیا تعلیمی سال‘ شروع ہوتا ہے لیکن اپریل کے آخر تک مردم و خانہ شماری کا پہلا اور پچیس مئی تک دوسرا مرحلہ اختتام پذیر ہوگا جس کے لئے پرائمری اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔ سرکاری پرائمری سکولوں سے اچھے نتائج نتیجہ کیسے آئیں گے‘ جب اساتذہ کرام ’’دو ماہ مردم شماری‘ تین ماہ انسداد پولیو‘ مزید دو ماہ ’’ہاؤس ہولڈ سروے‘‘ اُور تین ماہ گرمی کی تعطیلات کریں گے تو صرف دو ماہ کے تدریسی عمل میں نتیجہ کیسے آ سکتا ہے؟ 

درحقیقت تعلیم کے فیصلہ ساز ’تعلیمی ترقی‘ نہیں چاہتے اُور اگر چاہتے تو اَساتذہ کی خدمات صرف اور صرف تدریس کی حد تک تک ہی محدود دکھائی دیتیں

Monday, April 24, 2017

Apr2017: Primary Teachers Training in KP fail to deliverer!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اساتذہ: بے تیغ سپاہی!
خواندگی کی اہمیت سے بخوبی آگاہ‘ تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت ایسے ’’تعلیمی انقلاب‘‘ کے لئے کوشاں ہے جس میں سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار بلند ہو جبکہ ’تعلیم کے معیار‘ کا تعلق ’درس و تدریس‘ سے ہے‘ جسے عصری تقاضوں اُور جدید تحقیق سے ہم آہنگ کرنے کے لئے نہ صرف خطیر مالی وسائل مختص کئے گئے بلکہ ’برطانیہ‘ کے تعاون سے پرائمری سطح کے ’اساتذہ‘ کی تربیت پر مبنی ایک ایسی مرحلہ وار حکمت عملی تیار کی گئی جس سے خیبرپختونخوا کے 25 اضلاع میں سرکاری پرائمری سکول کے اساتذہ بشمول خواتین کی تربیت شامل تھی۔ ناممکن تھا کہ 83ہزار پرائمری سطح کے اساتذہ کو بیک وقت تربیت دی جاسکتی‘ اِس لئے صوبائی حکومت نے ’برٹش کونسل (British Council)‘ کو 1500 اساتذہ (مردوخواتین) کی فہرست فراہم کی‘ جس میں سے ’500 اساتذہ‘ کے انتخاب کا اختیار ’برٹش کونسل‘ کو دیا گیا۔ اہل اساتذہ کے انتخاب کا یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے پایا اُور ’پچیس اضلاع‘ سے تعلق رکھنے والے ایسے پانچ سو اساتذہ کو چن لیا گیا‘ جنہیں بطور ’بنیادی تربیت کار (ماسٹر ٹرینر)‘ درس و تدریس کے جدید تصورات (جن میں بچوں کے نفسیاتی و اخلاقی اور تعلیم کے ساتھ تربیت کے پہلو بھی شامل تھے)‘ سے متعلق ٹیکنالوجی کی مدد سے تدریس میں ’ہائی ٹیک‘کا استعمال بھی سکھایا گیا اور یہ تربیتی عمل نہایت ہی خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہونے پر شرکاء میں اسناد و انعامات تقسیم ہوئے۔ اگلے مرحلے میں ’برٹش کونسل‘ سے تربیت یافتہ اساتذہ نے اپنے اپنے متعلقہ ضلع میں جا کر باقی ماندہ پرائمری سکولوں کے اساتذہ کی تربیت کرنا تھی لیکن جس خوش اسلوبی سے ’پرائمری اساتذہ‘ کی تربیت کا یہ ’پہلا مرحلہ‘ مکمل ہوا‘ حسب توقع دوسرا مرحلہ خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں شروع نہ ہو سکا اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ’ماسٹر ٹرینرز‘ کو تربیت دینے کے لئے مطلوبہ ’ہائی ٹیک‘ اشیاء‘ درکار مالی اور آمدورفت کے وسائل فراہم نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے وہ ہدف جو رواں ماہ (اپریل دوہزارسترہ) کے اختتام تک مکمل ہونے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی‘ وہ حاصل نہ ہو سکا۔ بھلا کس طرح ممکن تھا کہ ’برٹش کونسل‘ سے بذریعہ ٹیکنالوجی (موبائل فون‘ ٹیبلٹس اُور ملٹی میڈیا سے جڑے کمپیوٹرز‘ سمارٹ بورڈز جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) و انٹرنیٹ پر منحصر آلات کے ذریعے) تربیت یافتہ اساتذہ (سپاہی) اپنے ذاتی وسائل سے ’’(بے تیغ) جہالت کے خلاف جہاد‘‘ کا حصہ بن جاتے؟

’برٹش کونسل‘ کی مہارت پر بھروسہ کرنے والوں کو سمجھنا ہوگا کہ برطانیہ حکومت کا یہ ’84 سالہ‘ (بزرگ) ادارہ عالمی سطح پر ’تعلیم وثقافت‘ کے صرف اُنہی پہلوؤں کو اُجاگر کرتا ہے جن کا تعلق ’’انگریزی بول چال اور ڈھال‘‘ سے ہے۔ برطانیہ کی نظر میں جمہوریت‘ سیاست‘ انسانی حقوق‘ تعلیم‘ نظام تعلیم‘ تدریسی اخلاقیات‘ امتحانات کا مقصد‘ ذہانت اُور طلبہ کی درجہ بندی کا معیار کسی ’اسلامی جمہوریہ‘ سے کئی لحاظ سے مختلف ہے۔ کہیں ہمارے فیصلہ ساز یہ تو ثابت نہیں کرنا چاہتے کہ ہم ’نام کے مسلمان ہیں‘ اور پاکستان ایک برائے نام ’اسلامی جمہوریہ‘ ہے جہاں نہ تو ’ماہرین تعلیم‘ کا وجود ہے اور نہ ہی خالص نصابی تعلیم پر بھروسہ اور اِس طریق کو ’جدید‘ قرار دینے والے مغربی معاشروں کو حاصل ہونے والی پیداوار (ثمرات) ہمارے لئے کارآمد (قابل قبول) ہو سکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کے لئے فیصلہ سازی کرنے والوں کو سوچنا‘ سمجھنا اُور دردمندی (حب الوطنی) کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ شعبۂ تعلیم کی بہتری کے لئے دستیاب مالی وسائل اور توجہات مرکوز کرتے ہوئے ’’مقامی مسائل‘‘ کا ’’مقامی حل‘‘ تلاش کیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ غوروخوض (مشاورت) کرنے پر معلوم ہو کہ خیبرپختونخوا کے 25 اضلاع کے لئے ایک جیسی ’تعلیمی پالیسی‘ اُور ایک جیسے الفاظ پر مشتمل نصاب‘ درس و تدریس کا طریق‘ سرکاری سکولوں کے اُوقات‘ اساتذہ کی تربیت کا معیار و تعلیمی قابلیت و اہلیت الگ الگ (مختلف) ہونی چاہئے! 

’برٹش کونسل‘ کی تعلیمی‘ ثقافتی شعبوں اُور انگریزی زبان کے فروغ کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اِس ادارے نے صرف سال 2014-15ء کے دوران 10 کھرب‘ 93ارب‘ 78کروڑ‘ 54 لاکھ‘ 9 ہزار 560 پاکستانی روپے یعنی 97 کروڑ 73 لاکھ یوروز سے زیادہ منافع کمایا جس کی تفصیلات کا اندازہ رپورٹس کی صورت britishcouncil.org (ویب سائٹ) پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں کہ کس طرح پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک (کے فیصلہ سازوں کی مدد سے) ’برٹش کونسل‘ سمیت برطانوی و دیگر مغربی ادارے اپنی اپنی زبان و ثقافت کا اثرورسوخ بڑھانے کے لئے فیصلہ سازی کے عمل پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 500 پرائمری سطح کے اساتذہ کی تربیت کے لئے 56 کروڑ 80 لاکھ روپے کی حکمت عملی وضع کی گئی جس کا 70فیصد (41کروڑ روپے سے زیادہ) خیبرپختونخوا حکومت ’برٹش کونسل‘ کو اَدا کئے اور باقی ماندہ تیس فیصد ’برٹش کونسل‘ نے اپنے ذمے لیا۔ 

واضح رہے کہ ’برٹش کونسل‘ نہ تو خیراتی اِدارہ ہے اور نہ ہی وہ اِس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنے حسابات و اخراجات کی منظوری خیبرپختونخوا حکومت سے لے۔ چالیس کروڑ روپے سے زائد کی رقم صرف اور صرف 500 پرائمری اساتذہ کی تربیت پر خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ کیا 8 لاکھ روپے فی معلم تربیت زیادہ نہیں؟ کیا صوبائی احتساب کمیشن پرائمری اساتذہ کی تربیت کی آڑ ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لے گا؟ کون نہیں جانتا کہ ’برٹش کونسل‘ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ماہرین کی تعداد برطانوی باشندے یا چبا چبا کر انگریزی بولنے والے برطانوی حکومت کے مفادات کا تحفظ کرنے والے ’وفادار‘ ہوتے ہیں جن کی بھاری تنخواہیں‘ پرکشش مراعات برطانیہ کے خزانے سے نہیں بلکہ جس ملک میں برٹش کونسل کی شاخیں ہوتی ہیں اُسی سے اَدا کی جاتی ہیں۔ تعجب خیز اَمر کیا ہے اگر ’برٹش کونسل‘ سے حاصل ہونے والی آمدنی گرجا گھروں‘ عیسائیت کی تبلیغ و اشاعت اور اُن خارجہ پالیسیوں کے سیاسی و فوجی اہداف پر بھی خرچ کی جاتی ہو‘ جو برطانیہ حکومت کے وہ توسیع پسندانہ عزائم سے تعلق رکھتے ہیں کہ ’’برطانوی راج میں سورج غروب نہ ہو!‘‘

سرکاری سرپرستی میں شعبۂ تعلیم کی بہتری بالخصوص خیبرپختونخوا میں ’پرائمری تعلیم‘ سے متعلق اگر اَب تک کی وضع کردہ جملہ (جامع قرار دی جانے والی) حکمت عملیوں کے خاطرخواہ (مطلوبہ) نتائج حاصل نہیں ہوئے تو اِس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ’خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق کا اِدراک اُور سوچ بچار‘ کرتے ہوئے مقامی مسائل اور اُن کے مقامی حل پر توجہ نہیں دی گئی۔ جن معاشروں نے علم کی اہمیت کو تسلیم‘ اپنے آپ کو علم کے آگے تسلیم اور پھر اِس کے ثمرات حاصل کئے‘ کیا وہاں معلم یا تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی جیسے عہدوں پر فائز ہونا‘ ہمارے ہاں کی طرح (اتنا ہی) آسان ہوتاہے؟ 

تعلیم کے معیار بلند کرنے کے لئے کوئی بھی ’بیرونی حل‘ اُس وقت تک کارگر (نتیجہ خیز و کارآمد) ثابت نہیں ہو گا‘ جب تک بحیثیت مجموعی ’محکمۂ تعلیم‘ میں ’داخلی سطح‘ پر اصلاحات متعارف نہیں کی جاتیں۔ جب تک سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ (مردوخواتین) اساتذہ اور اُن کے حاکم (انتظامی نگرانوں) کی کارکردگی کا احتساب عام نہیں ہوتا اُور جب تک ’سزا و جزأ‘ کے تصورات عملاً رائج نہیں ہوتے‘ اُس وقت تک سرکاری تعلیمی اِداروں کا تدریسی ماحول‘ نظم و ضبط اُور کارکردگی بصورت اِمتحانی نتائج بہتر ہونے کے بلند و بانگ اَعلانات (توقعات) ناکافی ہی رہیں گے۔