Showing posts with label Examination System. Show all posts
Showing posts with label Examination System. Show all posts

Saturday, May 9, 2020

CORONA FILES: Promotions without Exams

امتحانات: سوالیہ نشان!
کورونا وائرس کے سبب جہاں پوری قوم امتحان سے گزر رہی ہے وہیں خیبرپختونخوا کے 8 تعلیمی بورڈز نے بناءامتحانات ترقیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اِس اقدام سے 14 لاکھ 25 ہزار سے زائد دسویں جماعت (میٹرک) اُور انٹرمیڈیٹ (گیارہوں اُور بارہوں جماعتوں) کے طلبا و طالبات نے بظاہر فائدہ اٹھایا ہے لیکن نقصان اٹھانے والوں کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جس کے لئے صورتحال کو سمجھنا اُور فیصلہ سازوں کے لئے کسی نتیجے پر پہنچنا ایک معمہ دکھائی دے رہا ہے۔ بنا امتحانات ترقیاں دینے کا اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے جو کورونا وائرس کے سبب درس و تدریس کا عمل معطل ہونے کے باعث ہے لیکن یہاں ایک مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ وہ تمام طلبا و طالبات جنہوں نے گزشتہ امتحانات میں چند مضامین کے امتحانی پرچے کامیابی سے حل نہیں کئے اُن کی اگلے درجات میں ترقیاں کیسے ہوں۔ سردست طریقہ ¿ کار یہ اختیار کیا گیا ہے کہ بنا اِمتحان ترقی گزشتہ حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر منحصر ہے لیکن جو طلبہ گزشتہ امتحانات میں چند مضامین پاس کرنے میں ناکام رہے‘ اُن کا مستقبل اِس پوری صورتحال میں غیرواضح دکھائی دے رہا ہے!

امتحانات کے ذریعے طلبا و طالبات کی ذہانت اُور قابلیت جانچنے کا روائتی عمل بھی سوالیہ نشان ہے اُور ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ مستقبل میں اِس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی ایسا درمیانی راستہ تلاش کیا جائے جس میں بنا امتحانات اگر طلبہ کی قابلیت کے بارے میں کوئی نتیجہ یا رائے قائم کرنا پڑے تو اُس میں نہ صرف آسانی رہے بلکہ اُن طلبہ کی حق تلفی بھی نہ ہو جو اپنی تعلیم کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں اُور سارا سال امتحانات کی تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ طلبہ کی وہ تعداد حکومتی فیصلے سے خوش ہے‘ جس کے لئے امتحانات کبھی بھی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا۔ اِس سلسلے میں کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں امتحانات کا نظام رائج نہیں اُور جہاں اساتذہ بچوں کی قابلیت اُن کے روئیوں‘ قول و فعل اُور تعلیمی عمل میں دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔ اِس مقصد کے لئے خصوصی کمپیوٹرز سافٹ وئرز کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بچوں کو ہر سال نئے اساتذہ کے حوالے نہیں کیا جاتا بلکہ کسی تعلیمی ادارے کے پہلے دن سے آخری دن تک اساتذہ اُور طلبہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلیمی مدارج طے کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ سبھی ممالک جن میں طالب علموں کی علمی قابلیت و اہلیت اُور ذہانت کے لئے امتحانات کے علاو ¿ہ معیار مقرر ہیں‘ وہاں سب سے مشکل کام بطور معلم سرکاری ملازمت حاصل کرنا ہے جبکہ پاکستان میں یہ عمل اُلٹ ہے کہ اساتذہ کی بھرتی سب سے آسان اُور طلباءو طالبات کو نصاب کی حد تک محدود رکھتے ہوئے اُن کی امتحانی کارکردگی کے لئے اساتذہ ذمہ دار نہیں ہوتے!

ملک کے دیگر حصوں کی طرح اکثر طلبہ ایک یا دو پرچہ جات کا امتحان نہیں دیتے بلکہ اُس کی بھرپور تیاری کرتے ہیں اُور تین ماہ بعد ضمنی اِمتحان کے ذریعے اپنے نمبر بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عجیب صورتحال ہے کہ امتحانی نظام کے لحاظ سے خیبرپختونخوا واضح طور پر 3 قسم کے طبقات میں تقسیم ہے۔ پہلا طبقہ اُن نجی سکولوں کا ہے جن کی کاروباری حکمت عملی کا حصہ یہ ہے کہ اُن سے وابستہ طلبہ امتحانات میں امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوں۔ دوسرا طبقہ اُن طلبہ کا ہے جو سرکاری و کم معروف نجی سکولوں میں زیرتعلیم ہوتے ہیں اُور اُنہیں امتحانی مرحلے سے درست انداز میں نمٹنے کی تربیت اُور معلومات فراہم نہیں کی جاتی۔ یہ طلبہ ٹیوشن سنٹروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں‘ جن کی روائتی حکمت عملی کے تحت مرحلہ وار امتحان میں کامیابی دلوائی جاتی ہے اُور طلبہ کا تیسرا طبقہ وہ ہے جن کے لئے تعلیمی عمل اُور امتحانات واجبی نمبروں سے پاس کرنا ہی کافی ہے کیونکہ اُن کی نظریں سرکاری نوکریوں پر لگی ہوتی ہیں بالخصوص جہاں والد کے بعد بیٹے کو ملازمت ملتی ہے۔ درس و تدریس اُور امتحانی عمل کی خامیوں کے باعث پورا نظام تعلیم الجھ گیا ہے اُور اِس کی خرابیاں ایک ایک کر کے سامنے آ رہی ہیں۔ وفاقی حکومت نے طلبہ کو بنا امتحان نئے درجات میں ترقی تو دے دی ہے لیکن خیبرپختونخوا کے ایسے 3 لاکھ سے زیادہ طلبہ کے بارے میں نہیں سوچا گیا جن کے ایک یا دو پرچہ جات کا امتحان ہنوز باقی ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ امتحانات کی فیس کی مد میں خیبرپختونخوا کے 8 تعلیمی بورڈز نے 1.7 ارب روپے وصول کر رکھے ہیں اُور اب جبکہ امتحانات کا انعقاد نہیں ہونا تو کیا یہ پیسہ طلبہ کو واپس کیا جائے گا؟
اگر نہیں تو کیا اِس قدر خطیر رقم سے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اُن ترقی یافتہ مغربی ممالک کے تجربات کو پاکستان میں رائج کیا جا سکتا ہے جہاں امتحان اور امتحانی نتیجہ (حاصل) کسی طالب علم کی تعلیمی قابلیت‘ اہلیت‘ ذہانت اُور تعلیم میں دلچسپی کا عکاس نہیں ہوتا۔ وقت ہے کہ سوچا جائے اُور سطحی فیصلوں کی بجائے پاکستان میں درس و تدریس کو ایک نصاب اُور ایک نظام کے تحت منظم کرنے کی کوشش کی جائے۔ قوموں کی حالت خودبخود تبدیل نہیں ہوتی۔ تعلیمی نظام کی اصلاح اُور امتحانات کا روائتی نظام بہرصورت نظرثانی کا متقاضی ہے‘ جس کی جانب اگر کورونا وائرس کی مشکل صورتحال میں توجہ مبذول ہوئی ہے تو اِس مشکل سے دیگر مشکلات آسان کرنے کے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے بھرپور فائدہ اُٹھایا جانا چاہئے۔
............
Clipping from Daily Aaj - May 09, 2020

Clipping from Daily Aaj - May 09, 2020


Sunday, July 9, 2017

July2017: Examination is the key to measures the Public Schools Standard, performance & Education Reforms in #KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیمی پالیسی: ثمرات بصورت نتائج!

خیبرپختونخوا میں ’تعلیمی اَیمرجنسی‘ کے نفاذ اُور ’انقلابی اِصلاحات‘ کی شرح کامیابی جاننے کے لئے ’امتحانی نتائج‘ سے زیادہ بہتر کوئی دوسری ’غیرمتنازعہ‘ کسوٹی نہیں ہو سکتی۔ سرکاری ہوں یا نجی‘ تعلیمی اِداروں کی کارکردگی اُور معیار تعلیم ’امتحانی بورڈز کی زیرنگرانی سالانہ امتحانات‘ ہی ہو سکتے ہیں۔ رواں ہفتے (پانچ جولائی کے روز) پشاور کے امتحانی بورڈ نے ’سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ (میٹرک)‘ کے سالانہ نتائج کا اعلان کیا جس میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں سے کل ایک لاکھ اُنچاس ہزار دو سو بارہ طلباء و طالبات نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر کامیاب ہونے والوں کی شرح 65فیصد رہی لیکن اِس معلوم خبر میں یہ تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جن تعلیمی اصلاحات کا ’زور و شور‘ سے ذکر کیا تھا‘ اُن کے ’ثمرات بصورت نتائج ظاہر نہیں ہوسکے‘ اُور اگر ہم سرکاری بمقابلہ نجی سکولوں کے امتحانی نتائج کا موازنہ کریں تو نویں اور دسویں (میٹرک) کلاسوں کے لئے ’ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور (انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ)‘ کے حالیہ اِمتحانات (برائے سال دوہزارسترہ) میں کوئی ایک بھی سرکاری سکول سے وابستہ طالب علم ’ٹاپ پوزیشنیں‘ حاصل نہیں کرسکا یعنی باوجود کوشش بھی نمایاں نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل نہ کرنے والوں میں بڑی تعداد سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کی ہے تو کیا یہ المیہ محض ’حسن اتفاق‘ یا صوبائی حکومت کے خلاف سازش (سیاسی چال) قرار دے کر نظرانداز کر دی جائے؟ 

سبھی نمایاں پوزیشنیں نجی تعلیمی اداروں کے حصے میں آنے کا دباؤ کالج کی سطح پر تعلیمی نظام پر پڑے گا! ذرا سوچئے کہ کہ ایک جیسا نصاب تعلیم اور ایک جیسے اوقات کار رکھنے کے باوجود بھی نجی سکولوں کی انتظامیہ اور اساتذہ نے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کیں جبکہ سرکاری سکولوں کی نگران وزارت‘ مشیروں (نجی کنسلٹنٹس)‘ متعلقہ محکمہ اور سکولوں کے انتظامی عہدوں پر فائز لائق فائق و ماہرین تعلیم کا لقب رکھنے والوں کی کارکردگی ’مایوس کن‘ رہی لیکن چونکہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا اِس لئے نہ تو شرمندگی کا احساس ہے اور نہ ہی اِس قسم کے نتائج پر کوئی صاحب ضمیر مستعفی ہونے کا اعلان کرے گا۔ 

ذرائع ابلاغ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر و نمایاں بنانے کا دعویٰ کروڑوں روپے خرچ کرکے شائع کیا گیا لیکن یہ تمام ’شور شرابہ‘ (نمائشی اقدامات) بھی کام نہ آ سکے اُور سب زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سرکاری سرپرستی و نگرانی میں ’شعبۂ تعلیم‘ کی بہتری کے لئے ہر سال پہلے سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی خاطرخواہ ’امتحانی نتائج (ثمرات)‘ اگر حاصل نہیں ہو رہے تو دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ غلطیوں سے رجوع کر لیا جائے اُور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ذمہ داروں کا بناء جھجک تعین کیاجائے۔ سرکاری سکولوں کی حکمت عملی پر نظرثانی الگ سے ضروری ہے کیونکہ اگر نجی سکول کم مالی وسائل کے باوجود بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں تو سرکاری سکولوں کو بھی ٹھیکے پر دیا جا سکتا ہے جس پر مالی خرچ بھی کم آئے گا اور نتائج (حاصل وصول) بھی اثاثہ قرار پائیں گے۔ 

ظاہر ہے کہ ایسا کرنے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی کیونکہ آئین پاکستان کے تحت معیاری تعلیم کی فراہمی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور بس یہ ذمہ داری بناء معیار آئین کی حد تک محدود دکھائی دیتی ہے!
امتحانی بورڈ کے نتائج میں سرکاری سکولوں کی ’خراب کارکردگی‘ پر ہر طرف سکوت طاری ہے۔ محکمۂ تعلیم کے غیراعلانیہ ترجمانی کرنے والے موسم گرما کی تعطیلات پر چلے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا دفاع کرنے والوں کو بھی الفاظ نہیں مل رہے کہ وہ کس طرح (کس منہ سے) صوبائی دارالحکومت پشاور کے سرکاری سکولوں کو ’خراج تحسین‘ پیش کریں جن کی اپنی جگہ یہ کامیابی بھی غیرمعمولی ہے کہ اُنہوں نے کم سے کم طلباء و طالبات کو امتحان کے مراحل تک پہنچایا‘ اب آگے اُن کی قسمت! یادش بخیر سال دو ہزار آٹھ میں قائم ہونے والی اپنی نوعیت کی منفرد اور 342 کے قانون ساز معزز قومی اسمبلی ایوان میں صرف ایک نشست رکھنے والی مقبول ترین سیاسی تجزیہ کار جماعت ’’عوامی مسلم لیگ‘ کے سربراہ شیخ رشید احمد جب وفاقی وزیر برائے کھیل تھے تو پاکستان کی نمائندگی کرنے والی تیراکی کی ایک ٹیم عالمی مقابلوں میں آخری پوزیشن پر آئی۔ ایک صحافی نے شیخ رشید سے اِس انتہائی خراب کارکردگی کے بارے راہ چلتے سوال کیا تو اُنہوں نے سوچ رکھا تھا اور آن کی آن میں جواب صادر فرمایا کہ ’’شکر کرو ہمارے تیراک تالاب میں ڈبکی لگانے کے بعد ڈوب نہیں گئے۔ اگر تیراکی کے مقابلے میں حصہ لینے والے ڈوب جاتے تو سوچو کہ کتنی جگ ہنسائی ہوتی!؟‘‘

 پشاور بورڈ کے امتحان میں ناکامی کوئی پیمانہ نہیں شکر ادا کرنا چاہئے کہ کم نمبروں ہی سے سہی لیکن ایک تعداد میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کامیاب تو ہو ہی گئے ہیں۔ اب صوبائی حکومت کے لئے مسئلہ یہ ہوگا کہ اِنتہائی کم نمبر حاصل کرنے والوں کو مزید تعلیم جاری رکھنے کے لئے کن کالجوں میں بناء میرٹ داخلہ دیا جائے! 

کیا خیبرپختونخوا کو سرکاری سرپرستی کی طرح نجی شعبے میں بھی زیادہ تعداد میں ’وکیشنل انسٹی ٹیوٹس (فنی تعلیم و تربیت کے اداروں)‘ کی ضرورت نہیں؟ 

اگر تحریک انصاف اتنے سارے ہنگامے اور اصلاحاتی شورشرابے کی بجائے نہایت ہی سادگی سے خیبرپختونخوا کے سات ڈویژنوں (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان) میں صرف ایک ایک ’ماڈل سکول‘ ہی بنا لیتی تو چار سالہ کارکردگی میں کم سے کم پانچ ہزار ایسے طلباء وطالبات کی عملی مثال آج پیش کی جا سکتی تھی‘ جنہوں نے سرکاری سکولوں سے استفادہ کرتے ہوئے نجی سکولوں کے مقابلے نمایاں پوزیشنیں حاصل کی ہوتیں۔ تبدیلی نیک نیتی‘ سوچ بچار اور نمائش سے نہیں آتی بلکہ کسی طویل مسافت کو طے کرنے کے لئے پہلا قدم اُٹھانا سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہوتاہے۔ تعلیمی اصلاحات و ترجیحات کے تعین جہاں جہاں کوتاہی ہوئی‘ آئینی مدت کے آخری سال میں اُس کی 100فیصد اصلاح تو اگرچہ ناممکن ہے لیکن ’ہمت مرداں‘ مدد خدا۔‘

Wednesday, May 31, 2017

May2017: Education, the most misunderstood subject!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
محکوم تعلیم!
نجی سکول کی جانب سے والدین کو ’سٹامپ پیپرز‘ پر یہ تحریر بطور ’بیان حلفی‘ جمع کرانے کا حکم دیا گیا کہ سکول کے داخلی امتحانات میں اگر اُن کے بچے (بچوں) نے ایک خاص تناسب سے کم نمبر حاصل کئے تو انہیں سکول سے خارج کر دیا جائے گا اور والدین کو سکول انتظامیہ کے اِس یکطرفہ فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا یعنی بچوں کی ذہنی قابلیت و استعداد اگر سکول کے کم سے کم معیار پر پوری نہ اُتری تو ایسے بچوں کے نام ’امتحانی بورڈز‘ میں بطور اُمیدوار ارسال نہیں کئے جائیں گے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا اور نہ ہی کسی ادارے کی جانب سے پہلی مرتبہ اِس قسم کے غیرقانونی و غیراخلاقی ’بیان حلفی‘ کا تقاضا کیا گیا۔ 

عمومی رجحان یہی ہے کہ داخلہ (ایڈمیشنز) کے وقت سے لیکر سال بہ سال ایسے بیان حلفی طلب کئے جاتے رہتے ہیں‘ جو اِس بات کا ثبوت ہیں کہ سکولوں کی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کے لئے کسی بھی فورم پر خوابدہی کے لئے تیار نہیں۔ اِس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ قانون کے تحت کسی بھی پاکستانی کو اُس کے آئینی حقوق سے یوں کھڑے کھڑے اور مجبوری کی حالت میں تو بالخصوص محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے خلاف کسی فیصلے کے حوالے سے قانون یا عدالت سے رجوع نہیں کرے گا۔ دوئم سکول انتظامیہ کو اِس قسم کے بیان حلفی لینے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی‘ کہیں ایسا تو نہیں کہ درس و تدریس کے عمل میں اپنی خامیوں (ناکامیوں) کا ملبہ طلباء و طالبات پر ڈال کر گلوخلاصی کی جا رہی ہو؟ سوئم آخر یہ کس طرح تصور کر لیا گیا ہے کہ ہر بچہ ’ارسطو‘ اور ’افلاطون‘ کی طرح ذہین ہوگا اور اگر طلب علم پر آمادہ بچہ کسی وجہ سے اپنے ہم جماعتوں سے پیچھے ہیں تو اُس کی شخصیت سازی اور دوسروں کے برابر لانے کی ذمہ داری اگر اساتذہ کی نہیں تو پھر کس کی ہے؟ کیونکہ والدین اساتذہ کو اِس ذمہ داری کے ساتھ اپنا پیٹ کاٹ کر ادائیگیاں کرتے ہیں۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ سکولوں کو من مانی ٹیوشن فیسیں اور دیگر مدوں میں وصولیاں کرنے کی کھلی چھوٹ کیوں دے گئی ہے؟ خیبرپختونخوا کی حدود میں فعال ہر نجی سکول چاہے وہ کسی بھی امتحانی بورڈ سے منسلک ہو‘ صوبائی حکومت کے فرمان تابع اور زیرکنٹرول ہونا چاہئے اور اگر اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے تو بھی یہ عام آدمی کا کام نہیں۔ ماہانہ ٹیوشن فیسوں سمیت جملہ وصولیوں یا تدریسی پالیسیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت یا متعلقہ محکمے سے اجازت لینا ایک ایسی ضرورت ہے جس سے تعلیم کے عمل کو آزاد و زیادہ بامقصد بنایا جا سکتا ہے۔

تعلیم کے بارے میں ہمارے ہاں نجی و سرکاری اداروں کی سوچ میں کمال مماثلت بھی پائی جاتی ہے کہ یہ سبھی امتحانات کے پیمانے (کسوٹی) پر طلباء و طالبات کی ذہانت و قابلیت اور اہلیت کی جانچ کرتے ہیں۔ نسل در نسل منتقل ہونے والا عمومی تصور (مفروضہ) یہ بھی ہے کہ ’تعلیم حاصل نہیں کرو گے تو نوکری نہیں ملے گی اور اگر نوکری نہیں ملے گی تو گھر کی کفالت کیسے ممکن ہوگی؟‘ ہمارے ہاں ’تعلیم‘ کا عمل نہ صرف اختلافی نوٹ بلکہ محکوم ہونے کی حد تک زوال پذیر بھی ہے۔ کیا تعلیم نصابی کتب کو رٹنے کا نام ہے؟ 

ڈگریوں جمع کرنے یا کتابوں اور تجربات پر زندگی کی حقیقت تک رسائی میں سے کس کا انتخاب ہونا چاہئے؟ 

کیا تعلیم کمانے کی کنجی (ذریعہ) ہے اور اس کا انسانی زندگی و شخصیت اور افکار و تخیلات کی تخلیقِ سے کوئی تعلق (واسطہ) نہیں؟ مارک ٹوین نے کہا تھا کہ ’’میں نے کبھی بھی اپنی تعلیم کو اپنی سیکھنے کے عمل پر حاوی ہونے نہیں دیا!‘‘ 

گمان نہیں یقین یہی ہے کہ تعلیم کسی ادارے‘ سکول‘ کالج یا یونیورسٹی کی محتاج نہیں البتہ یہ اِن وسیلوں سے علم کی شناخت‘ عرفان اور سمت کا تعین میں مدد دیتے ہیں‘ جس کے ذریعے عالم و جاہل میں تمیز ممکن ہو۔ خود تعلیمی اداروں نے تسلیم کر لیا ہے (ہار مان لی ہے) کہ ہمارا نصاب تعلیم اِس خوبی سے عاری ہے کہ اس کے ذریعے ذہانت کے ایک جیسے معیار کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستان میں کل تین کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ طالب علم نصابی تعلیم سے منسلک ہیں۔ ان کا تعلق سائنس‘ آرٹس‘ کامرس اور میڈیکل و انجنیرئنگ کے شبعوں سے ہے۔ یونیورسٹی طالب علموں کی تعداد بھی کم نہیں بلکہ قریب ساڑھے چار لاکھ ہے جن کا ہدف کہ وہ راتوں رات کامیاب و امیر بن جائیں! کہ یہی کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے!

تصور کیجئے کہ ریاست نے ’تعلیم‘ کو انفرادی کوشش اور محنت کا لیبل دے دیا ہے کہ پڑھے لکھنے ہونے کا معیار بس یہ ہے کہ انجینئر‘ ڈاکٹر یا اکاونٹنٹ بننے کے لئے انجینئرنگ‘ میڈیکل یا کامرس سے متعلق مضامین پڑھے جائیں۔ اس رجحان کی اگر کوئی پیروی کر رہا ہو تو اسے بالکل حیرت نہیں ہوگی کہ ریاست کس طرح ان تعلیمی اداروں کے درمیان مارکس اور گریڈ کی دوڑ میں اچھے اور ہائی گریڈ انجینئر اور اکاونٹنٹ دریافت کر رہی ہے یعنی اچھے نمبر اور اچھی نوکری لیکن کیا سبھی اچھے نمبر حاصل کرنے والوں کو اچھی ملازمتیں مل پاتی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو امتیازی نمبروں سے سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کامیاب ہونے والوں میں سے قریب پینتیس فیصد تعداد بے روزگار کیوں ہے؟ 

تعلیم کے ساتھ طلباء و طالبات میں رجحان سازی اور اُن کی تخلیقی قوتوں کو پروان چڑھانا کس کی ذمہ داری ہے؟ نصابی تعلیم کی سیدھی لکیر سے ہٹ کر تعمیری کردار ناپید ہوچکے ہیں۔ تخلیقی صلاحیتیں فکرِ معاش کے اندھیروں میں گم دکھائی دیتی ہے۔ فنونِ لطیفہ اور ادب کچھ عرصے میں صرف کتابوں کی حد تک ہی محدود ہو جائیں گے جس سے معاشرہ عدم توازن کا یونہی شکار (دوچار) رہے گا اور تعلیم ایک کاروبار و صنعت کے طور پر حسب روایت کھڑے کھڑے پرواز (ترقی) کرتی چلی جائے گی! 

تعلیم کے بارے میں فکروعمل تبدیل کئے بناء کتابوں اور کاپیوں کا بوجھ اٹھانے والے ’اچھے مزدور‘ تو حاصل ہو سکتے ہیں لیکن ایسے اچھے انسان نہیں‘ جن کے ہاتھوں میں پاکستان کی ترقی کا عمل عصری ضروریات کے ہم آہنگ قرار دیا جاسکے!

Saturday, March 18, 2017

Mar2017: Monitoring of the examination halls by CCTVs!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیم: کاروباری سوچ اور اَزخود نوٹس!
کیا ہوا کہ اَگر ’مفادات سے متصادم‘ آئین سازی کا عمل ’تبدیلی کے عہد و عزم‘ کے باوجود بھی ’بروقت‘ مکمل نہیں ہو پایا لیکن اگر تربیت‘ اخلاق اُور ضمیر سیاسی فیصلہ سازوں کی ترجیحات و شخصیات کا حصہ اُور خود اُنہی کے لئے رہنما ہوتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ خیبرپختونخوا کے طول و عرض اُور بالخصوص ’تعلیمی اِداروں کے شہر‘ اَیبٹ آباد میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر نجی تعلیمی اِدارے یوں من مانی کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجاتے دکھائی دیتے! 

وفاق اُور صوبے کے اِمتحانی تعلیمی نگران اِداروں (بورڈز) اور حکومتوں کی موجودگی میں اگر کوئی نجی تعلیمی ادارہ نئے داخل ہونے والوں سے اِضافی ماہانہ فیسیں وصول کر رہا ہے یا اُس نے پہلے سے زیرتعلیم طلباء و طالبات کی ماہانہ فیسوں میں (کم سے کم) ’دس فیصد‘ کے تناسب سے اِضافہ کرنے کی روایت اِس سال بھی برقرار رکھی گئی ہے یا سیکورٹی (حفاظتی انتظامات) اُور ہم نصابی سرگرمیوں کے نام پر ہر سال اور ہر طالب علم سے لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں یا زیرتعلیم بہن بھائیوں کے ایک ہی سکول میں داخلے کی صورت ماہانہ فیسوں میں رعائت نہیں دی جا رہی یا نجی تعلیمی اداروں کی آمدن و اخراجات میں شفافیت کا یہ عالم ہے کہ سکولوں کی آمدنی سے خریدے گئے اپنے ہی اثاثوں کا کرایہ وصول کیا جاتا ہے‘ نجی سکولوں کے مالکان اپنے اہل و عیال کی بطور ملازمین دیگر عملے سے زیادہ تنخواہیں اور مراعات مقرر کر دیتے ہیں اور یوں آمدنی کا بڑا حصہ ایک جیب سے دوسری جیب میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور عمومی تدریسی عملے کا استحصال ایک عمومی روش بن چکا ہے تو ایسی بہت سی دیگر بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں (خرابیوں) کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انتظامی طور پر قواعدوضوابط تو موجود ہیں لیکن اِن کا اطلاق کرنے میں متعلقہ نگران ادارے اِس لئے بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی کابینہ اور وزیراعلیٰ کے آس پاس‘ مشیر و معاونین کی صورت ایسے کردار موجود ہیں جن کے یا تو براہ راست ذاتی مفادات نجی تعلیمی اِداروں سے وابستہ ہیں یا پھر وہ معلوم وجوہات کی بناء پر اِن اداروں کے مفادات کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ 

بنی گالہ کو ’اَزخود نوٹس‘ لینا چاہئے کہ یہی عناصر (مافیا) ’صوبائی سطح پر اُس تعلیمی ہنگامی حالت (اِیمرجنسی)‘ کی راہ میں بھی حائل ہیں جس کے تحت اب تک صوبائی حکومت اربوں روپے سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی اور معیار تعلیم بلند کرنے کے لئے اساتذہ کی تربیت و حاضری یقینی بنانے پر خرچ کر چکی ہے لیکن خاطرخواہ نتائج پھر بھی حاصل نہ ہونے کی وجوہات توجہ اور مطالعہ چاہتی ہیں کیونکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری (نام اُور کام) عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے اور اگر ایسا کاغذی کاروائیوں کی بجائے عملاً ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ خیبرپختونخوا میں ’نجی تعلیمی اِدارے‘ لاچار والدین کی مجبوریوں سے یوں فائدہ اُٹھا رہے ہوتے؟ تصور کیجئے کہ اَگر صوبائی حکومت ’صارفین کے حقوق کی محافظ‘ بن جائے تو کیا ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ نجی تعلیمی اِدارے نہ صرف داخلہ فیسوں بلکہ ماہانہ فیسوں کی مد میں بھی ہر سال ’دس فیصد‘ کے تناسب سے یا من مانا اضافہ کر سکیں؟ سوچئے کہ بناء ہتھیار ڈاکہ جیسے جرم کا اطلاق کسی ایسے مجبور و لاچار کو لوٹنے والوں پر بھی تو کیا جا سکتا ہے جس کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے خواب بسے ہوں؟ 

اگر ’بنی گالہ‘ کو فرصت نہیں تو کیا ’پشاور ہائی کورٹ‘ اَزخود نوٹس لے گی کہ ایک طرف سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار تعلیم کم ترین سطح سے بلند کرنے کی سست رو کوششیں ہر سال ’امتحانی نتائج کے اعلان‘ پر ناکام ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہیں تو دوسری طرف ’بہ اَمر مجبوری‘ نجی تعلیمی اِداروں سے استفادہ کرنے والوں کا واسطہ ایک ایسی حرص و طمع سے ہے‘ جس کی تسکین مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن دکھائی دے رہی ہے!

توجہ مرکوز رہے تو ضرورت اِس امر کی بھی ہے کہ اِمتحانی بورڈز کی کارکردگی اور ساکھ بہتر بنانے پر خاص توجہ دی جائے۔ سب سے پہلے تو ایک سے زیادہ اقسام کے امتحانی نظام متعارف کرانے سے پیدا ہونے والی مشکل حل کی جائے اور طلباء و طالبات کو تدریسی عمل کے دوران ’امتحانی طریقۂ کار‘ سے متعلق باقاعدہ تربیت دی جائے جس دوران ’امتحانی مراحل‘ طے کرنے کے لئے رہنمائی کے ساتھ کامیابی کے لئے ضروری ’اعتماد و نفسیات‘ بھی شامل ہونی چاہئے۔ دوسری ضرورت امتحانی بورڈز کی کارکردگی شفاف بنانے کی ہے جس کے لئے ’آن لائن‘ وسائل کا استفادہ کم خرچ حل موجود ہے۔ ہر طالب علم کو اُس کے پرچہ جات کے نمبروں (مارکنگ) تک ’آن لائن‘ رسائی دینے میں کیا امر (مشکل) رکاوٹ ہے؟ تیسری ضرورت ہر سال چند نجی تعلیمی اداروں کے مثالی امتحانی نتائج کی روایت سے اِس شک کو تقویت ملتی ہے کہ امتحانی مراکز و نگران عملہ اور پرچہ جات کی جانچ پڑتال کا عمل درجہ بہ درجہ خرابیوں کا مجموعہ ہے۔ مثال کے طور پر بہت پرانی بات نہیں جب محکمۂ ایکسائز ایبٹ آباد کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جب نئی نویلی (زیرو میٹر) موٹر گاڑی روک کر اُس کی ملکیت کے کاغذات طلب کئے تو معلوم ہوا کہ مذکورہ گاڑی اِمتحانی بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے زیراستعمال ہیجبکہ اِس کے ملکیتی کاغذات ایک معروف نجی سکول کے پاس ہیں‘ جس کی انتظامیہ (مالک) اور بورڈ اہکار کے درمیان ’طے شدہ امتحانی نتیجہ‘ کے اعلان تک گاڑی کے ملکیتی کاغذات سکول ہی کے پاس رہیں گے! ایسی کئی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں لیکن صرف اِسی ایک معمولی مثال سے پورے تعلیمی و اِمتحانی نظام کے معیار اُور نجی سکولوں کے اچھے نتائج کے درپردہ ’’طریقۂ واردات‘‘ کا پول کھل جاتا ہے۔

اَیبٹ آباد کے امتحانی نگران اِدارے (بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اَینڈ سیکنڈری اِیجوکیشن) نے امتحانات کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے دوران امتحان ’مراکز‘ کی آن لائن مانیٹرنگ (محض نگرانی) کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بورڈ کے پاس نہ تو اِس قدر بڑے پیمانے پر ’آن لائن نگرانی‘ کا نظام موجود ہے اور نہ ہی (نان کمرشل) دستیاب انٹرنیٹ کے وسائل ہی اِس قدر قابل بھروسہ ہیں کہ اُن پر کلی طور پر انحصار کیا جائے۔ یاد رہے کہ بورڈ کے زیرانتظام ہر سال ’’گیارہ لاکھ اَسی ہزار‘‘ سے زائد طلباء و طالبات کا امتحان لیا جاتا ہے اور اِس سال تین اپریل سے امتحانات کا سلسلہ شروع ہوگا۔ قوئ امکان ہے کہ ’آن لائن آلات‘ کی خریداری پر لاکھوں روپے خرچ کئے جائیں گے‘ جس کا مالی فائدہ فیصلہ سازوں اور آلات فراہم کرنے والے اداروں کو ہو گا لیکن جہاں تک نقل (اَن فیئر مینز) کی روک تھام کا تعلق ہے تو وہ آنکھیں کہاں سے آئیں گی‘ جنہیں اگر امتحانی مراکز میں تعینات کیا جائے تو (تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے) بند رہتی ہیں لیکن کیا الیکٹرانک آلات کی مدد سے ’آن لائن‘ نگرانی کر پائیں گی! 

آخر ہم نے بدعنوانی سے ہار کیوں مان لی ہے؟ آخر ہم انسانی دانش و بصیرت اور ایمانداری پر بھروسہ کیوں نہیں کر پا رہے؟ کیا ہم ’صاحب کردار‘ ہونے کے دعویدار اتنے ہی ’قابل فروخت‘ ہو چکے ہیں کہ اَب مشینیں ’ہم اِنسانوں‘ کی نگرانی سے زیادہ ’قابل بھروسہ‘ ہوں گی؟
Online monitoring of the examination halls, another experiment