Showing posts with label Private Education institutions. Show all posts
Showing posts with label Private Education institutions. Show all posts

Sunday, September 26, 2021

Exams, the failing impact

شبیر حسین اِمام

طب کی تعلیم: روشن مستقبل؟

پاکستان میں طب کی تعلیم (میڈیکل ایجوکیشن) کا مستقبل کتنا روشن یا کتنا تاریک ہے اُور میڈیکل (MBBS) یا ڈینٹل (BDS) کی تعلیم کے معیار (بشمول درس و تدریسی سہولیات) میں ہر سال‘ حسب آبادی اضافہ یا آبادی کے تناسب کے مقابلے ہر سال کمی ہو رہی ہے؟ اِس جیسے بہت سارے سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے جائزہ لینا پڑے گا کہ ’پاکستان میڈیکل کمیشن (PMC)‘ کے نام سے قائم وفاقی ادارے کے قواعد و ضوابط کیا ہیں اُور کیا اِس ادارے سے وابستہ طبقات کی توقعات پوری ہو رہی ہیں یا نہیں؟ علاؤہ ازیں پاکستان میں طب (میڈیکل اینڈ ڈینٹل) کا تعلیمی و تدریسی بندوبست کیا ہے اُور اِس میں خرابیاں دور کرنے (اصلاحات) کی کوشش میں کون کون سی خرابیاں داخل ہو گئی ہیں‘ جنہیں دور کئے بغیر طب کی تعلیم قابل اطمینان و معیار نہیں ہو سکتی جبکہ متعلقہ فریقین یعنی فارغ التحصیل ہوئے ڈاکٹرز‘ طب کے شعبے سے وابستہ تدریسی عملہ‘ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم (پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن)‘ نجی تعلیمی اداروں (پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز) کی نمائندہ تنظیم ”پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیویشنز (PAMI) کے اراکین اُور طب کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا و طالبات‘ اِن کے والدین اُور اساتذہ کی اکثریت کے شکایات‘ تحفظات‘ خیالات اُور تجاویز بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں‘ جنہیں محض اِس لئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اختلافی نکتہ¿ نظر ہر طبقے کے ذاتی یا کاروباری مفادات کے عکاس ہیں۔ یہ نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان میں طب کی تعلیم کا قبلہ اُس وقت تک درست نہیں ہوگا جب تک اِس سے متعلق قواعد و ضوابط وضع کرنے میں کثیرالجہتی و جامع مشاورت نہیں کی جاتی اُور دوسرا متفقہ و متنازعہ قواعد و ضوابط لاگو کرنے کے لئے من پسند‘ منظورنظر‘ جن میں اکثریت غیرمتعلقہ شعبوں سے ملازمتیں مکمل کرنے (ریٹائرڈ) کردار شامل ہیں کی بجائے حقیقی اہل اُور متعلقہ ماہرین کی سمجھ بوجھ اُور جذبے کو اصلاحات لاگو کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔

طب کی تعلیم کے حوالے سے اعتراضات کی طویل فہرست میں اگر کسی ایک نکتے کو پکڑ کر اِس الجھن (گھتی) سلجھانے کی کوشش کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ سردست پاکستان میڈیکل کمیشن نے نئے تعلیمی سال (2022ئ) میں داخلے کے لئے 65فیصد نمبرات حاصل کرنے کی بنیاد پر اہلیت کا جو معیار (پیمانہ) بصورت ’میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمشن ٹیسٹ (MDCAT)‘ مقرر کیا ہے اُس کی وجہ سے پاکستان کے سرکاری و نجی میڈیکل کالجوں میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ (اہلیت رکھنے کے باوجود بھی) نااہل ہو گئے ہیں جس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے 2 پہلو ہیں۔ پہلا پہلو یہ ہے کہ جو طلبا و طالبات ’ایم ڈی کیٹ امتحان‘ میں 65 فیصد نمبر حاصل نہیں کر سکے اُور وہ طب کی تعلیم بہرصورت حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ بچپن سے اُن کے ذہنوں میں یہی بات ڈالی گئی کہ اُنہیں بڑا ہو کر ڈاکٹر بننا ہے‘ اِس لئے وہ سوائے ڈاکٹری کسی دوسری تعلیم کو اہم نہیں سمجھتے۔ ایسے طالب علموں میں بڑی تعداد اُن بچوں کی ہوتی ہے جن کے والدین کم مالی وسائل کے باوجود بچوں کو بیرون ملک بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ طب (میڈیکل یا ڈینٹل) کی تعلیم حاصل کرنے جیسے خواب کی تعبیر کر سکیں۔ اِس صورت میں پاکستان سے صرف ذہین و اہل طالب علم ہی نہیں بلکہ داخلہ فیسوں‘ ٹیویشن فیسوں‘ آمدورفت اُور قیام و طعام و دیگر ضروریات کی صورت ’قیمتی زرمبادلہ‘ بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے بیرون ملک کے تعلیمی اداروں کی درجہ بندی جاری کر رکھی ہے جس کے تحت تین درجات (گریڈ اے‘ گریڈ بی اُور گریڈ سی) کے کالجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عام فہم زبان میں بات کی جائے تو بیرون ملک طب کی تعلیم اخراجات کے لحاظ سے دو درجات میں تقسیم ہے جبکہ بیرون ملک تعلیمی اداروں کا تعلیمی معیار میں ایک جیسا ’ناقابل اعتبار‘ ہے کہ ترقی یافتہ مغربی ممالک ہوں یا ایشیائی اُور وسط ایشیائی ریاستیں یا چین و افریقہ‘ اِن تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر پاکستان واپس آنے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ’نیشنل لائسینسینگ ایگزیم (NLE)‘ میں کامیاب ہوں بصورت ِدیگر وہ پاکستان میں طب کی مزید تعلیم یا اِس شعبے میں ملازمت کرنے کے لئے اہل تصور نہیں ہوں گے۔ اِس مرحلے پر 2 ضمنی اقدامات (اصلاحات) کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو ’ایم ڈی کیٹ‘ نامی امتحان میں کامیابی کے لئے مقررہ نمبرات کی شرح 65 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد مقرر ہونی چاہئے تاکہ طب کی تعلیم کے خواہشمند طلبہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد پاکستان ہی میں تعلیم حاصل کرے اُور یوں ذہین بچے اُور قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل نہ ہو۔

 دوسری ضرورت طب کی تعلیم کے موجودہ بندوبست میں وسعت اُور اِس شعبے میں موجود نجی سرمایہ کاری کے امکانات سے فائدہ کی ہے۔ نجی تعلیمی ادارے نہ صرف روزگار کی فراہمی کا ذریعہ ہیں بلکہ اُنہوں نے تعلیم کے شعبے میں حکومت کا بوجھ بھی بانٹ رکھا ہے اُور اگر اِن نجی تعلیمی اداروں کی تعداد یا اِن سمیت سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں زیرتعلیم طلبہ کی تعداد (گنجائش) میں اضافہ کیا جائے تو اِس سے طلبہ اُور اِن کے والدین میں پائی جانے والی تشویش بڑی حد تک کم ہو جائے گی۔ بنیادی بات آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح اُور اِس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مانگ (طلب) کو پورا کرنے کی ہے۔

سردست صورتحال یہ ہے کہ صرف طب ہی نہیں بلکہ دیگر علوم کی تعلیم کے شعبوں میں بھی داخلے ملنا ہر سال پہلے سے زیادہ مشکل ہو رہا ہے اُور اِس صورتحال (عوام کی مجبوری) کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے غیرمعیاری تعلیمی ادارے بھی قائم ہو رہے ہیں یا پہلے سے موجود نجی تعلیمی اداروں کا معیار بہتر ہونے کی بجائے رو بہ زوال ہے کیونکہ طب کی تعلیم ہو یا علاج معالجے کی سہولیات دونوں پر مانگ (آبادی) کا بوجھ ہے اُور دونوں ہی سے متعلق اصلاحات کے لئے جامع حکمت عملی مرتب (وضع) ہونی چاہئے۔

....




Friday, October 4, 2019

CENSORED: PHC verdict in School Case!

۔۔۔ ناقابل اشاعت قرار دے دیا گیا ۔۔
ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
خواب بیچ دے!

خیبرپختونخوا میں نجی تعلیمی اِداروں کی ’ٹیوشن فیسوں‘ میں اِضافہ زیربحث تھا کہ اِس موضوع میں ’سہ ماہی تعطیلات‘ کی فیس وصولی کا تنازعہ بھی شامل ہو گیا۔ تشویش کا شکار چند والدین نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے رجوع کیا‘ جہاں مقدمہ قائم کرتے ہوئے اِسے ایک بنیادی سوال کی حد تک محدود کر دیا گیا کہ ”کیا نجی سکول تعطیلات کی فیس اُور اِن تعطیلات کے عرصے میں طلباءو طالبات سے آمدورفت کے اخراجات وصول کرنے کے مجاز ہیں یا نہیں؟“ حالانکہ معاملہ کثیرالجہتی تھا اُور اِس کا مختلف پہلوو ¿ں سے جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔ بہرحال (دو اکتوبر دوہزار اُنیس کے روز) عدالت کی جانب سے بائیس صفحات کا مشتمل فیصلہ سامنے آیا‘ جسے تفصیلی کہا گیا اُور اگر اِس کا لب لباب پیش کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ
1
والدین متعلقہ حکومتی محکمے سے رجوع کریں
2
 متعلقہ حکومتی محکمہ ’خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (KPPSRA)‘ پابند ہو گا کہ وہ آئندہ (2 نومبر 2019ء) سے قبل یعنی 2 ماہ کے عرصے میں والدین کے ساتھ مشاورت کر کے اِس مسئلے کا حل تلاش کرے۔

3
 نجی تعلیمی ادارے والدین سے وہ تمام بقایا جات یکمشت وصول نہیں کریں گے بلکہ پچیس پچیس فیصد کے تناسب سے چار اقساط میں وصول کئے جائیں گے‘ جو عدالت سے ’حکم امتناعی (اِسٹے آرڈر) کی وجہ سے والدین اَدا نہیں کر رہے تھے۔

4
ریگولیٹری اتھارٹی والدین کے نمائندوں پر مشتمل ’فیس کمیٹی‘ بنائے گی جو نہ صرف تعلیم بلکہ نجی سکولوں کے اُن ضمنی اخراجات کا بھی تعین کرے گی‘ جو (بڑھا چڑھا کر) والدین کو منتقل کر دیئے جاتے ہیں اُور

5
مذکورہ فیس کمیٹی اُور نجی سکولوں کا نگران صوبائی محکمہ اَساتذہ کے لئے مراعات و سہولیات کا تعین بھی کرے گا۔

’پشاور ہائی کورٹ‘ کے جاری ہونے والا فیصلے پر تینوں فریقین (نجی سکول‘ حکومتی محکمہ اُور والدین) اپنی اپنی جگہ

 خوشیاں منا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس سے نہ تو مسئلہ حل ہوا ہے اُور نہ ہی اِس کا پائیدار حل ہونے کی اُمید ہی پیدا ہوئی ہے۔ اگر صوبائی حکومت کا متعلقہ محکمہ خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا اُور وہ نجی سکولوں کی بجائے صارفین یعنی والدین کے مفادات کا محافظ ہوتا (جو کہ اُسے ہونا چاہئے) تو والدین کو اپنا کام کاج چھوڑ کر اُور اپنے مالی وسائل خرچ کر کے عدالت عالیہ سے رجوع کرنے (یعنی کورٹ کچہری کے دھکے کھانے) کی ضرورت ہی کیوں پڑتی؟ اِس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ بے بس‘ متاثرہ اُور مظلوم فریق ’والدین‘ ہیں‘ جنہوں نے انصاف کے لئے صرف عدالت ہی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ سازوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ہیں اُور ہر طرف سے سوائے دھتکار کچھ حاصل نہیں ہوا۔ البتہ فرق یہ تھا کہ کسی نے دھتکار مہذب انداز میں دی اُور کسی کا لب و لہجہ غیرشائستہ تھا!

والدین کے پاس اب لے دے کر .... یہی آپشن بچا ہے کہ وہ نجی سکولوں کی خواہش و مطالبہ (جائز و ناجائز) کے مطابق فیسیں و دیگر اخراجات اَدا کریں اُور اُس روز قیامت کا انتظار کریں جب عدالت قائم ہو گئی اُور پوچھا جائے گا کہ تعلیم کی فراہمی جیسی آئینی ذمہ داری سے حکمرانوں کو خود کو کیسے بری الذمہ قرار دیا تھا اُور تعلیم جیسی جنس کو کاروباری طبقات کے حوالے کرنے والے فیصلہ سازوں نے اپنے کاروباری و ذاتی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے والدین کا اِستحصال کیا۔ بااثر نجی تعلیمی اداروں کے مقابلے اگر والدین خود کو بے بس سمجھ رہے ہیں تو اِس کے لئے بھی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں‘ جو عام انتخابات میں ووٹ دیتے وقت اُن مسائل و مشکلات کو موضوع نہیں بناتے‘ جس پر بعدازاں عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں!



عدالتیں آئین ساز اُور قواعد ساز نہیں ہوتیں۔ وہ تو فیصلوں کو آئینی دستاویزات اور فیصلوں کی روشنی میں لکھنے کی پابند ہے اُور زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتی ہے‘ جو اِس نے کیا ہے!



والدین عجیب مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ اب وہ یہ بھی نہیں کرسکتے کہ اپنے بچوں کو بطور احتجاج نجی سکولوں سے نکال کر سرکاری سکولوں میں داخل کروا دیں کیونکہ ایک تو سرکاری سکولوں میں لاکھوں کی تعداد میں بچوں کو داخل کرنے کی صلاحیت (گنجائش) موجود نہیں۔ دوسرا سرکاری سکولوں کی تعداد اُور وہاں حسب طلبہ تعینات اساتذہ کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔ تیسرا سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم اُور ماحول ایسا نہیں کہ اچھے مستقبل کی اُمید میں سرمایہ کاری کرنے والے اپنی آنکھوں کے خواب بیچ ڈالیں۔ وہ اپنے آپ کو تو بیچ دیں گے لیکن شاید تعلیم چاہے وہ کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہو جائے‘ لیکن اِس میں سرمایہ کاری ضرور کریں گے کیونکہ یہ آج نہیں مستقبل کا معاملہ ہے!



نجی تعلیمی ادارے ہوں یا سرکاری دفاتر۔ کاروبار ہوں یا سہولیات و خدمات کی فراہمی کے مراکز‘ ہر سطح پر ذمہ داروں (ملازمین اُور معاونین) ’مافیا‘ کی صورت اپنے مفادات کے لئے اُس ایک صارف کے خلاف متحد ہیں‘ جسے عرف عام میں ’عوام‘ کہہ کر دیکھا اُور سمجھا جاتا ہے۔ یہ عوام نہ تو خواص (حکمرانوں‘ اسٹیبلشمنٹ اُور افسرشاہی) کا مقابلہ کرنے کی مالی و سیاسی سکت رکھتے ہیں اُور نہ ہی اِن کے آپسی روابط اُور اتحاد ہی ممکن ہو پایا ہے کہ یہ اپنے جائز (درست) موقف کو کسی بھی فورم پر بذریعہ احتجاج و طاقت منوا سکیں۔ جب بات تعلیم (درس و تدریس) کی آتی ہے تو حقیقت یہ ہے کہ ایک عام آدمی (ہم عوام) ماضی کے مقابلے آج خود کو زیادہ بے بس محسوس کر رہا ہے۔



اُمید تھی کہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ اِن جیسے جملہ ضمنی پہلوو ¿ں کا اَزخود نوٹس لے گی‘ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے معروف اُور مہنگے ترین وکلاء(قانونی ماہرین)‘ کی خدمات حاصل کرکے مقدمہ تو جیت لیا ہے‘ جس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ عدالت نے جن 9 مقدمات کو بیک وقت لپیٹ کر جس فریق سے اپنے تیئں انصاف کیا ہے اُس کی زبان نہیں بلکہ چہروں کے تاثرات بول رہے ہیں! والدین مجبور ہیں‘ جن کی مجبوری زیرغور نہیں۔ اِسی مجبوری کے بارے میں 57 کتابوں کے مصنف‘ رومانین نژاد اَمریکی مفکر‘ پروفیسر ایلی وایسل (Elie Wiesel) نے کہا تھا کہ ”غیرجانبداری فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اُور اِس کے ذریعے بسا اُوقات کسی متاثرہ شخص کی مدد بھی ممکن ہوتی ہے لیکن غیرجانبداری سے اُس ایک فریق کی مدد ممکن نہیں‘ جس پر ’ظلم‘ ہوا ہو۔ جانبدار (خاموش) رہنے سے ظالم کو حوصلہ ملتا ہے جبکہ اِس عمل سے مظلوم کی ہمت جواب دے جاتی ہے!“

............

Friday, September 7, 2018

Sept 2018: Fee increase by ABHC!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برن ہال: والدین کی تشویش!
قیام پاکستان (1947ء) کے بعد جہاں مسلمانوں نے ’مذہبی سیاسی سماجی اُور ثقافتی آزادی‘ کے لئے سفر (ہجرت) اختیار کیا وہیں غیرمسلموں کی ایک تعداد نے بھی ’اسلامی جمہوریہ‘ کو اپنے ’جان و مال اُور مذہبی حقوق و آزادی‘ لئے زیادہ محفوظ سمجھا۔ اِسلام کے پیروکاروں پر بھروسہ کرنے والے ایسے غیرمسلموں میں ’عیسائی مذہب‘ کے پیروکار بھی شامل تھے‘ جن کے ایک گروہ میں درس و تدریس کے ماہرین نے کشمیر (سرینگر) میں قائم تعلیمی ادارے ’برن ہال‘ کو پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے (حال خیبرپختونخوا) کے ضلع ’ایبٹ آباد‘ منتقل کیا اُور ایسا کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ برطانوی دور میں ’ایبٹ آباد‘ کی تعمیروترقی اور اِس وادی کو چھاؤنی کے علاؤہ باسہولت شہری علاقہ بنانے میں ’جنرل سر جیمز اِیبٹ (پیدائش 12 مارچ 1807ء: وفات 6 اکتوبر 1896ء)‘ نے خاص دلچسپی لی تھی‘ جس کی وجہ سے نہ صرف اِس شہر کا نام آج تک اُن سے منسوب ہے بلکہ انتظامی و شہری ترقی سے متعلق اُن کی مہارت کے چرچے برصغیر کے طول و عرض میں عام تھے۔ یہی وجہ رہی کہ مسیحی ماہرین تعلیم جن میں زندگی اِنسانی خدمت کے لئے وقف کرنے والی عبادت گزار (مشنری) خواتین بھی شامل تھیں‘ نے ایبٹ آباد کا اِنتخاب کیا اُور یہاں آ کر حکومت سے ’اِجارے (لیز)‘ پر زمین حاصل کی اُور ’برن ہال‘ کے نام سے اِدارہ قائم کیا‘ جس کی آج 2 شاخیں قدیمی ۔شاخ (برائے طالبات) اور نئی شاخ (برائے طلباء) فوج کے ’ایجوکیشن کور‘ کی زیرنگرانی فعال ہیں 

قیام پاکستان کے وقت جان و مال سے قربانیاں دینے والے ’عیسائی مشنریوں‘ کی خدمات کو خراج تحسین اور تاحیات زندہ رکھنے کی بجائے ’برن ہال‘ نامی تعلیمی اداروں کو اجارے (لیز) کی مدت مکمل ہونے کے بعد ضبط کر لیا گیا۔ وہ مسیحی جو جنت نظیر کشمیر کو چھوڑ کر ’ایبٹ آباد‘ ’’سکون‘ اَمن اُور اپنائیت‘‘ کی تلاش میں آئے تھے‘ تاکہ خواندگی کے ذریعے ’’پاکستان کی خدمت‘‘ کر سکیں لیکن اُن کی نسلوں کو سال 1977ء میں بیدخل کر دیا گیا۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’’1948ء سے سال 1977ء‘‘ تک کا عرصہ ایک ایسا ’سنہرا دور‘ تھا کہ پورے پاکستان سے بچوں کو اِس ’بورڈنگ سکول‘ میں بھیجا جاتا تھا۔ ’انگلش پبلک سکول لائنز‘ سے ’برن ہال‘ تک کے سفر میں ’مسیحی مشنریوں‘ نے پاکستان سے محبت اور خلوص کی ایسی ’’عملی مثالیں‘‘ پیش کیں جن پر جس قدر بھی فخر کیا جائے کم ہے۔

برطانیہ کے کیتھولک چرچ کا ذیلی فلاحی ادارہ ’سینٹ جوزف سوسائٹی فار فارن مشنز (Saint Joseph's Society for Foregin Missions)‘ جسے عرف عام میں ’مل ہل مشنیریز (Mill Hill Missionaries)‘ یا ’مل ہال فادرز (Mill Hill Fathers)‘ بھی کہا جاتا ہے آج سے قریب 152 سال قبل (1866ء) میں قائم ہوا‘ اُور اِس کی خدمات دنیا کے ’4 براعظموں‘ میں پھیلی ہوئی ہیں‘ جن میں ایشیائی ممالک (کمبوڈیا‘ چین‘ بھارت اُور پاکستان) بھی شامل ہیں لیکن افسوس جس نقشے پر کبھی ’ایبٹ آباد‘ لکھا (mark) ہوتا تھا اب نہیں رہا۔ مسیحی مشنری اقلیت ہونے کی وجہ سے خود کو اِس قدر ’بے بس‘ اور سیاسی طور پر اِس قدر ’بے یارومددگار‘ پایا کہ اُن سے برن ہال چھین لیا گیا لیکن وہ خاموش رہے اور ہنستے مسکراتے رخصت ہو گئے!

’برن ہال‘ کے نام سے تعلیمی اِداروں کی ’ماہانہ ٹیوشن فیسوں‘ میں ’25فیصد‘ غیرمعمولی اضافہ ’بنیادی خبر‘ ہے جس کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ یہ اضافہ صرف جاری مہینے کے لئے نہیں بلکہ گذشتہ دو ماہ (ماہ جولائی و اگست) کے لئے کیا گیا ہے اُور سکول کی ماہانہ فیسوں کے ساتھ گذشتہ دو ماہ کی فیسیں بطور ’بقایاجات‘ کی مد میں اِدا کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے‘ جس پر ’والدین کی جانب سے تشویش‘ منطقی امر ہے۔ یاد رہے کہ برن ہال سکولوں کے نگران (چیئرمین) کورکمانڈر راولپنڈی (ٹینکور) لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر (ہلال امتیاز ملٹری) جبکہ معاون نگران (ڈپٹی چیئرمین) میجر جنرل اختر نواز ستی کمانڈنٹ ’پاکستان ملٹری اکیڈمی (کاکول) ہیں اُور فیسوں میں حالیہ ’’25فیصد‘‘ اِضافے (ردوبدل) کی منظوری جس ’’نگران فیصلہ سازوں کے بورڈ‘‘ نے دی ہے‘ جس کی سربراہی مذکورہ 2 اہم عہدوں پر فائز جرنیلوں نے دی ہے۔ ایک سے زیادہ فوجی اِعزازات رکھنے والے اِن نفوس عالیہ کی پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت شک و شبے سے بالاتر ہونے کے ساتھ‘ مشروط بھی نہیں کہ وہ اُور اُن کے اہل خانہ چونکہ دفاعی مد سے تنخواہیں اور مراعات پاتے ہیں‘ اِس لئے مجبوراً پاکستان کے وفادار ہیں لیکن اُن کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور ماضی (خدمات) اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ پاکستانیوں کے بارے میں بھی سوچتے ہیں اور فوج کو منافع بخش اِدارے کے طور پر نہیں بلکہ ’حفاظت و خدمت‘ جیسی ضروریات و تقاضوں کے تحت ’اِستوار‘ رکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔

دردمندی سے غور (نظرثانی) کی ضرورت ہے کہ ۔۔۔
1: برن ہال کے نام سے تعلیمی اِداروں کی ماہانہ فیسوں میں ’25فیصد‘ (حالیہ) اضافے سے ’پہلی کلاس‘ کے فی طالب علم کی اوسط ’ماہانہ فیس 10 ہزار روپے‘ سے تجاوز کر گئی ہے‘ جس سے بڑی کلاسیز کے زیرتعلیم بچوں کی شرح فیس میں اضافے کا بلند تناسب حیران کن ہے۔ کسی پبلک سکول (سرکاری اَراضی پر قائم) سکول کی شرح فیس نجی اِداروں سے بھی بڑھ جائے تو اِس پر تشویش کا اِظہار‘ والدین کا حق ہے۔

2: برن ہال سکولوں میں فوجی ملازمین اور سویلینز سے تعلق رکھنے والے بچوں سے یکساں درس وتدریسی سہولیات کے عوض الگ الگ شرح سے فیسیں وصول کی جاتی ہیں جبکہ سویلین ذہین ترین اور جسمانی طور پر ’توانا‘ بچوں کو چن چن کر داخلہ دیا جاتا ہے جبکہ فوج سے وابستہ ملازمین کے لئے ہر قدم پر رعایت (گنجائش) موجود ہے۔ صرف ماہانہ فیسیں ہی نہیں دیگر اخراجات بھی قابل غور ہیں‘ جنہیں مستقل بنیادوں پر ’’ماہانہ فیس بل‘‘ کا حصہ بنا دیا گیا بلکہ سکول انتظامیہ کے ’اِمتیازی رویئے‘ پر بھی تشویش کا اظہار والدین کا حق ہے۔ اگر سب پاکستانی ہونے کے ناطے ’مساوی حقوق‘ رکھتے ہیں تو یہ ’ہتک آمیز‘ اِمتیازی سلوک کیوں؟

وزیراعظم عمران خان‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ (بوساطت انٹرسروسیز پبلک ریلیشنز) سے مؤدبانہ درخواست (اِستدعا) ہے کہ برن ہال کی فیسوں‘ معیار تعلیم اُور امتیازی روئیوں کا نوٹس لیں اُور اِس ’اخلاقی پہلو‘ پر بھی غور کریں کہ ’برن ہال‘ کی امانت اُس کے اصل وارث (کتھولک چرچ) کو واپس دے دینی چاہئے۔

Tuesday, August 21, 2018

Aug 2018: Monopoly of Private Medical Colleges & an ugly role of PMDC!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

میڈیکل کالجز: فیسوں میں اضافہ!

طب کی اعلیٰ تعلیم پر ’نجی شعبے‘ کی حکمرانی کے جاری دور کا خاتمہ کسی صورت (بذریعہ تدبیر و تدبر) نہیں ہو رہا۔ حتیٰ کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان‘ کی جانب سے مالی و اِنتظامی ’بے قاعدگیوں‘ کا نوٹس لیا گیا لیکن اِس کے باوجود بھی نگران ادارہ (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ’پی ایم ڈی سی‘) اُور ’نجی میڈیکل کالجز‘ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ پرائمری سے مڈل‘ سیکنڈری‘ ہائر سیکنڈری اور گریجویشن تک ’تعلیم‘ کے ہر شعبے پر ایسے ہی سرمایہ کاروں کی اجارہ داری ہے جنہوں نے ایک پاؤں نجی کاروبار اور دوسرا پاؤں سیاست میں گھسا رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قانونی اور عدالتی چارہ جوئی کے باوجود بھی صورتحال میں تبدیل نہیں ہو رہی۔19 اگست کو قوم سے پہلے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’وہ وزارت عظمیٰ کے دوران نجی کاروبار نہیں کریں گے۔‘‘ لیکن کیا وہ اپنی جماعت کے دیگر اراکین کو بھی روک سکیں گے جو انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے قومی فیصلہ سازی پر مسلط ہیں!؟

کیا یہ اَمر باعث تشویش نہیں کہ پاکستان کی سب بڑی عدالت (سپرئم کورٹ) کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی مداخلت کے باوجود بھی میڈیکل کالجوں کے نگران ادارے ’’پی ایم ڈی سی‘‘ اور ’’پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹیٹیویشن (پی اے ایم آئی)‘‘ نے مل بیٹھ کر فیصلہ کر لیا کہ ۔۔۔ ’’داخلہ فیسوں کی شرح میں اضافہ کر دیا جائے۔‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ جن قومی اداروں کو عوام کے مفادات کا محافظ ہونا چاہئے‘ لیکن وہ نجی اداروں کے کاروباری مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں! اِس صورت میں عدالت کی جانب سے دباؤ اور تشویش کا اظہار بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ میڈیکل کالجز کی سالانہ فیس 8لاکھ سے 9لاکھ 50ہزار تک بڑھادی گئی ہے‘ جس کے بعد ہر طالب علم کو (تعلیمی سیشن 2019ء) سے داخلے کی مد میں (اضافی) پچاس ہزار روپے اور پانچ فیصد ٹیکس اَدا کرنا ہوگا یعنی نہ صرف میڈیکل کالجز کو مقررہ فیس پر پچاس ہزار روپے اضافی وصول کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے بلکہ طلباء و طالبات پر پانچ فیصد ٹیکس کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے جس کی رقم بھی قریب پچاس ہزار روپے ہی بنتی ہے! ٹیکس اور وہ بھی تعلیم پر ٹیکس‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ 

اِس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ میڈیکل کالجز میں زیرتعلیم طلباء و طالبات کے والدین یا سرپرستوں کے پانچ سال پر مشتمل مالی استعداد سے متعلق اسناد بھی طلب کی جائیں اور انشورنس سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا لازمی ہوگا۔ نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لئے والدین کی ’مالی استعداد‘ معلوم کرنے کا تعلق قطعی طور پر فیسوں میں اضافے سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ تو ایک الگ ضرورت ہے۔ صرف نجی میڈیکل کالجز ہی نہیں بلکہ دیگر ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں عمومی درس و تدریس سے لیکر پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم تک لاکھوں روپے فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور اصولی طور پر اِن معاملات کا ’ایف بی آر(FBR)‘ کو جائزہ لینا چاہئے کہ بھاری فیسیں ادا کرنے والے والدین کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ پاکستان میں بدعنوانی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے صارفین کے اخراجات اور اثاثہ جات معلوم لیکن ’ذرائع آمدن‘ نامعلوم ہیں!

خودمختار’پی ایم ڈی سی ‘کی جانب سے فیسوں میں اضافے کو دیگر فیصلوں کی آڑ میں پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ والدین کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ اضافی پانچ فیصد ٹیکس دیا جائے اور سنٹرل پالیسی نظام کے تحت آئندہ سے داخلے دیئے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ نجی میڈیکل کالجز کے معاملات گزشتہ برس (2018ء) دسمبر سے موجودہ چیف جسٹس پاکستان کی عدالت میں زیرسماعت ہیں‘ جنہوں نے ’نجی میڈیکل کالجز‘ کی جانب سے داخلہ وصولیوں اور ایڈمیشن پالیسی سے متعلق خبروں اور والدین کی شکایات کا ’’ازخود نوٹس‘‘ لیا تھا‘ جس کے بعد اُمید ہو چلی تھی کہ صورتحال تبدیل ہوگی۔ توقع تھی کہ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم خطے کے دیگر ممالک (بھارت‘ چین‘ روس اور ایران) کے مقابلے صرف زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے تو اِس میں کمی ہو گی اور غیرمعیاری نجی میڈیکل کالجز کا خاتمہ عملاً ممکن ہوگا۔ اخبارات میں خبروں اور تجزئیات کی اشاعت اور عوام کو اُمید دلانے کی حد تک تو سپرئم کورٹ نے یقیناًاپنا ہدف حاصل کر لیا لیکن نئے تعلیمی سیشن (دو ہزار اُنیس) کے لئے جب والدین کو ایک لاکھ روپے اضافی ادا کرنا پڑیں گے تو اُن پر ’سپرئم کورٹ‘ اور ’انصاف و قانون‘ کی حقیقت واضح ہو جائے گی! 

عدالت عظمیٰ نے ’پی ایم ڈی سی‘ رجسٹرار سے رپورٹ طلب کی تھی اور ریمارکس دیئے تھے کہ بغیر جواز فیسوں میں اضافے کی اجازت نہ دی جائے چونکہ ’’جواز‘‘ کے امکان کو رکھا گیا تھا جس کا فائدہ ’رجسٹرار‘ نے بخوبی اٹھایا ہے اور وکلاء ثابت کردیں گے کہ اُس نے توہین عدالت بھی نہیں کی! 

آٹھ سال گزرنے کو ہیں اور موضوع ہے کہ پرانا نہیں ہورہا۔ مجموعی طور پر سپریم کورٹ نے 2010ء میں میڈیکل کالج کی فیسوں سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا اور بعدازاں فیصلہ سامنے آیا کہ ہر طالب علم سالانہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے ادا کرے گا ‘جس میں زیادہ سے زیادہ 7فیصد سالانہ اضافے کی اجازت ہو گی۔2013ء میں نجی میڈیکل کالجز 6لاکھ 42ہزار تک فیس وصول کر رہے تھے اور قانونی ضرورت تھی کہ میڈیکل کالج تدریس کے ساتھ 150بیڈز کا ’’مفت تدریسی (ٹیچنگ) ہسپتال‘‘ کی سہولت بھی فراہم کرے گا‘ جس سے طلباء و طالبات کو عملی تربیت کے ساتھ عوام کو صحت کی سہولیات میسر آئیں گی لیکن نجی میڈیکل کالجز کی بڑی تعداد سرکاری علاج گاہوں سے استفادہ کر رہی ہے‘ جہاں پہلے ہی حکومت کی جانب سے سالانہ بجٹ دیا جاتا ہے۔ سال 2016ء میں میں ’پی ایم ڈی سی‘ نے داخلوں کا ’’سنٹرل انڈکشن نظام‘‘ متعارف کرایا تھا تاکہ نجی کالجز کو طالب علموں سے من مانی وصولیاں روکی جا سکیں لیکن نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے ’پی ایم ڈی سی‘ کا اِس نظام کو مسترد کرتے ہوئے عدالت سے حکم امتناعی (اسٹے آرڈر) حاصل کرلیا گیا۔

2017ء میں ایک مرتبہ پھر ’پی ایم ڈی سی‘ نے نجی میڈیکل کالجز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا اور فیصلہ سامنے آیا کہ سالانہ فیس 6لاکھ 42ہزار سے بڑھا کر 8لاکھ روپے کردی جائے اور اسی رقم میں طالب علم کو قیام و طعام‘ ٹرانسپورٹ اور لائبریری سمیت درس و تدریس سے جڑی جملہ سہولیات فراہم کی جائیںیعنی 8 لاکھ روپے سے اضافی فنڈز طلب نہ کئے جائیں۔ ساتھ ہی نجی کالجز کو ہدایت کی گئی کہ طلباء و طالبات کو ’’سنٹرل انڈکشن نظام‘‘ کے تحت ہی داخلہ دیں۔ نئی شرح داخلہ فیسوں کے مطابق نجی میڈیکل کالج کے ہر طالب علم کو سالانہ 9لاکھ 50روپے ادائیگی کرنا ہوگی جبکہ اِس کے علاؤہ الگ سے (ایک مرتبہ) 50ہزار روپے داخلہ فیس اور ایک ہی مرتبہ داخلہ فیس پر پانچ فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ گویا میڈیکل کالجز بیٹھے بٹھائے فی طالب علم پچاس ہزار روپے مقررہ فیس کے علاؤہ وصولی کریں گے جبکہ وہ پہلے ہی داخلہ فارم کی فروخت سے لاکھوں روپے کما چکے ہوتے ہیں! 

نئی داخلہ پالیسی ’اکتوبر 2018ء‘ سے فعال تصور ہوگی اور اس کا اطلاق اُن تمام ’طلباء و طالبات پر یکساں‘ پر ہوگا جنہوں نے ماضی میں بھی داخلہ لے رکھا ہے لیکن تاحال ’ایم بی بی ایس‘ اور ’بی ڈی ایس‘ کی تعلیم مکمل نہیں کی! طب کی اعلیٰ تعلیم ’’حکیمانہ فعل ‘‘ہے‘ جسے نجی شعبے کے حوالے کرنے جیسے ’’ظالمانہ‘ اقدام ‘‘کی اصلاح اب اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ ’وزیراعظم عمران خان‘ ہیں! جنہیں عدالت عظمیٰ جیسی بلندمرتبت ’’اتھارٹی ‘‘کی ناکامی کے بعد ’’اُمید کی آخری کرن‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے!

Tuesday, March 20, 2018

Mar 2018: Food for Kids, the do's and don'ts!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
مشترک ذمہ داری!
کھانے پینے کی اِشیاء اُور عادات ’بچوں کی نفسیات‘ پر اَثرانداز ہوتی ہیں۔ بچوں کے روئیوں (بدتمیزی) کی شکایت کرنے والوں کو جہاں اپنے سلوک (تعلقات) کا جائزہ لینا چاہئے‘ وہیں ’’پہلی فرصت میں‘‘ بچوں کے زیراِستعمال اَشیائے خوردونوش (بالخصوص معمولات) کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جائیں کیونکہ بچے‘ بڑوں کی دیکھا دیکھی یا بڑوں کی مہربانی (عطا) جو کچھ بھی کھا پی رہے ہیں‘ وہ اُن کی جسمانی صحت‘ مزاج اُور روئیوں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ شعور کی اِس منزل پر ماہرین تعلیم اُور درس و تدریس سے متعلق اِنتظامی فیصلہ سازوں کو عام آدمی (ہم عوام) کی رہنمائی کرنی چاہئے کہ کس طرح بچوں کے شخصیت (مزاج) سازی پر اَثرانداز ہونے والی ’’خوراک‘‘ پر نظر کی جائے اُور صحت مندانہ تبدیلی (اِصلاح اَحوال) کی کوششوں میں سب مل کر کس طرح اپنا اپنا کردار اَدا کر سکتے ہیں۔ اِسی مرحلۂ فکر پر تعلیمی اِداروں کی حدود یا آس پاس فروخت ہونے والی اَشیائے خوردونوش پر ضلعی اِنتظامیہ کو نظر رکھنی چاہئے کہ کہیں والدین‘ سرپرستوں‘ اَساتذہ اُور نفسانفسی کے شکار معاشرے سے نظریں بچا کر ہمارے بچے کچھ ایسا تو نہیں کھا پی رہے جو اُن کے لئے ممنوع ہے یا جس کا بطور خوراک استعمال ’صحت مند‘ نہیں۔

سوچ کی تبدیلی ضروری ہے کہ ’’بچہ صرف اپنے والدین یا سرپرستوں کی ذمہ داری ہوتا ہے۔‘‘ ترقی یافتہ مغربی معاشروں میں بچوں سے ریاست زیادہ حساس دکھائی دیتی ہے اُور یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی بچہ ہنگامی اِمداد کے لئے ’نائن وَن وَن (911)‘ کے نمبر پر ’فون کال‘ کرے تو اُس کی مدد کے لئے پولیس پہنچ جاتی ہے کیا ہم ’ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)‘ کو اتنا ہی حساس اُور فعال کر سکتے ہیں کہ وہ بچوں جیسی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا سکے؟ یکساں سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہماری ریاست ہر بچے کو ’مشترک ذمہ داری‘ سمجھتی ہے؟ کیا تعلیمی ادارے بچوں کی جسمانی صحت اور روئیوں کے بارے میں اتنے ہی حساس جتنا کہ اِن کو ہونا چاہئے؟ اور کیا تعلیمی اِداروں کی چاردیواریوں کے اندر (حدود میں) یا آس پاس ایسی اشیائے خوردونوش کی خریدوفروخت تو نہیں ہوتی جو اصولاً نہیں ہونی چاہئے؟ اِس سلسلے میں سگریٹ اور شیشہ (ذائقے دار تمباکو) کی کھلے عام فروخت لمحۂ فکریہ ہے!

’عالمی اِدارۂ صحت‘ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ’’پاکستان میں 44 فیصد بچے ’غذائی کمی‘ کا شکار ہیں۔‘‘ جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ’غذائی کمی‘ سے وہ بچے بھی متاثر ہیں جو ’کھاتے پیتے گھرانوں‘ سے تعلق رکھتے ہیں اُور جنہیں اَشیائے خوردونوش کی ’جملہ نعمتیں بہترین حالت میں‘ (باآسانی) میسر ہیں۔ اکثر صورتوں میں ’مسئلہ خوردنی اشیاء کی قلت نہیں بلکہ بہتات بھی ہے۔‘ بچوں کے کھانے پینے پر اشتہارات کے ذریعے ترغیب اور والدین کا تن آسان طرزعمل اثرانداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی مرعوب اشیاء میں ’’جنک فوڈز (junk foods)‘‘ شامل ہوتے ہیں۔ اِس درجہ بندی (کٹیگری) میں ڈیپ فرائی چپس‘ تلی ہوئی دیگر اشیاء‘ کیمیائی مادے‘ مٹھاس اُور ذائقے سے بھرپور ’کاربونیٹیڈ مشروبات‘ بشمول ’اِنرجی ڈرنکس‘ ٹافیاں اُور چاکلیٹس کی وجہ سے نہ صرف بچوں کے ناک کان گلہ‘ دانت‘ چھاتی‘ نظام ہضم اُور گردے متاثر ہو رہے ہیں‘ وہیں اُن کا جسمانی وزن بھی بڑھ رہا ہے‘ جس سے سونے جاگنے کے اوقات میں بے ترتیبی‘ پڑھنے لکھنے میں مشکلات اور کھیلنے کودنے (جسمانی پھرتی) جیسی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ ایسی تمام اشیاء جو کیلشیم کے جسم میں جذب ہونے کو روک کر ہڈیوں کی نشوونما کو متاثر کرتی ہیں ممنوع ہونی چاہیئں۔ جن کی فروخت تعلیمی اداروں میں نہیں ہونی چاہئے۔ 

غیرمعیاری تیل اُور مضر صحت رنگوں سے تیارکردہ چپس‘ پاپڑ‘ نمکو‘ سموسے‘ پکوڑے‘ مٹھائیاں اُور آئس کریم جن موذی امراض کا باعث بنتی ہیں‘ اُن میں سرطان (کینسر) اُور اَلسر (معدے و آنتوں کے زخم) شامل ہیں! ڈیری آئس کریم کے نام پر فروخت ہونے والی ’فروزن ڈیزرٹ‘ کے ڈبوں پر واضح طور سے لکھا ہوتا ہے کہ ’’یہ آئس کریم نہیں بلکہ ویجیٹیبل فیٹس سے بنی ہوئی ہے۔‘‘ 

بچوں کو ’فروزن ڈیزرٹ‘ دینے کی بجائے ’’دُودھ کی چکنائیوں (ڈیری فیٹس)‘‘ سے بنی ہوئی آئس کریم دینی چاہئے۔ بچوں کے لئے بنائے گئے ’فارمولا دودھ‘ کسی بھی طرح ’قدرتی اور ماں کے دودھ کا نعم البدل‘ نہیں۔ وفاقی حکومت اگرچہ ’’فارمولا خوردنی اشیاء‘‘ کو ضبط میں لانے (ریگولیٹ) کے لئے ضروری قانون سازی کر رہی ہے اُور اُمید ہے کہ مارکیٹنگ‘ فری سیمپلنگ اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ’گمراہ کن اشتہارات‘ پر پابندی عائد کی جائے گی اور مذکورہ ایسی اشیاء کی لیبلنگ (labelling-theory) حکمت عملی کی اصلاح بھی ضرورت ہے۔ 

بچوں کے لئے ’’مارجرین پراڈکٹس (مصنوعی مکھن)‘‘ ذہنی و جسمانی نشوونما کی ضروریات پوری نہیں کرتا۔ اِسی طرح ’ٹی وائٹنرز (Tea Whiteners)‘ دُودھ جیسی رنگت والے محلول کا چائے کافی یا دیگر ٹھنڈے یا گرم مشروبات میں استعمال بالخصوص بچوں کی صحت کے لئے مضر ہے جس سے پیچیدہ اَمراض قلب‘ دل کی دورہ (ہارٹ اٹیک) اُور ذیابیطس (شوگر) لاحق ہو سکتے ہیں۔ فوری تیار ہونے والے مشروبات (انسٹنٹ ڈرنکس) جیسا کہ ٹینگ‘ سن سپ‘ فروٹین وغیرہ کیمیائی مادوں سے بنائے جاتے ہیں جبکہ ڈبوں میں بند جوسیز میں صرف دس سے پچیس فیصد ہی پھلوں کا عرق شامل ہوتا ہے‘ جن کی وجہ سے بچوں میں ’شوگر کا مرض‘ پھیل رہا ہے اور عجب نہیں کہ ماضی میں ’ٹائپ ٹو شوگر‘ کی تشخیص صرف بڑوں میں ہوتی تھی لیکن اب چھوٹے بچے بھی اِس انتہائی قسم کی بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں! 

’’صحت مند بچے‘ محفوظ مستقبل‘‘ کا نعرہ (بطور اَصول) یاداشتوں میں محفوظ تو ہے عمل میں پیش پیش نہیں۔ کیا عام آدمی (ہم عوام) پوچھ سکتے ہیں کہ صوبائی وزیرخوراک قلندر خان لودھی اُور سیکرٹری فوڈ محمد اکبر خان کی توجہات و ترجیحات میں ’بچے‘ شامل ہیں؟ کیا صوبہ پنجاب کی طرز پر ’خیبرپختونخوا فوڈ اِتھارٹی‘ کو بھی عملاً فعال کیا جائے گا‘ جو غیرمعیاری‘ مضرصحت اَشیائے خوردونوش سے نہ صرف بڑوں بلکہ بالخصوص بچوں کو بچانے کے لئے خاطرخواہ اِقدامات و اِنتظامات کرے؟ 

بچے ۔۔۔’’اگر‘‘ ۔۔۔ ریاست‘ والدین اُور تعلیمی اِداروں کی ’مشترک ذمہ داری‘ ہیں تو اِس کی ’اَحسن اَدائیگی‘ کے لئے مربوط کوششیں ہونی چاہیءں۔ شاعر اَعظم خان کی نظم ’’مسئلہ یہ نہیں‘‘ لائق مطالعہ ہے جس میں ایک مرحلے پر کہا گیا کہ ’’درد اپنے پرائے کئی مشترک ۔۔۔ سوچ کی دُوزخیں!‘‘ سوچ کی دوزخ اُور اپنے پرائے مشترک دُکھوں میں بچے ہماری توجہات و ترجیحات کا مرکز ہیں‘ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mar 2018: School Bags, weight, size and quality of education in KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تعلیم: وزن اُور معیار!
خیبرپختونخوا کے محکمۂ ابتدائی (بنیادی) و ثانوی تعلیم (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) کے حکام پر مشتمل ’اعلیٰ سطحی کمیٹی‘ تشکیل دی گئی ہے جس کے اراکین میں اسپیشل سیکرٹری ایجوکیشن‘ اساتذہ کے تربیتی ادارے کے سربراہ اور محکمہ صحت کے صوبائی سربراہ (ڈائریکٹر جنرل) شامل ہیں۔

رواں ہفتے (مارچ دوہزار اٹھارہ کے تیسرے ہفتے) قائم ہونے والی یہ کمیٹی بچوں کے سکول بیگز کے وزن اور اِس وزن کے بچوں کی جسمانی صحت پر مرتب ہونے والے ’منفی اثرات کا جائزہ‘ لے گی لیکن یہ مرحلۂ فکر متقاضی ہے کہ مذکورہ کمیٹی کے معزز اراکین اپنی ذمہ داری کو محدود نہ سمجھیں اور اُن دیگر ضمنی و متعلقہ امور کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے جائزے (مطالعے) کا حصہ بنائیں جس کی وجہ سے تعلیم کا عمل ہر دن زیادہ مشکل‘ پیچیدہ اور وزنی ہو رہا ہے۔ جن امور پر خصوصی توجہ ہونی چاہئے اُن میں (اوّل) بچوں پر درسی کتب کے بوجھ کی بجائے تعلیم کا معیار کیسے بلند کیا جائے۔ (دوئم) اگر سرکاری سکولوں کی سطح پر ’سمارٹ بورڈز‘ اور ’ملٹی میڈیا‘ جیسی سہولیات فراہم کر دی جائیں تو بچوں کو صرف کاپیاں اور ہوم ورک ڈائری ہی لانا لیجانا ہوگی۔ (سویم) درس و تدریس کے عمل میں تجرباتی طور پر الیکٹرانک آلات (آئی پیڈز یا ٹیبلیٹس) کو متعارف کرانے کے امکانات و اخراجات کیا ہیں اور اگر حکومت صوبائی بینک کے ذریعے آسان اقساط پر تعلیمی اداروں اور بچوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی آلات خریدنے میں مدد کرتی ہے تو یہ تجربہ کس قدر کارگر اور مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ (چہارم) درسی کتب اور کاپیوں کو یکجا کرنے سے کاپیوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ (پنجم) عملی اسباق کے لئے الگ کتابیں سکول کی حد تک رکھی جا سکتیں ہیں‘ جن کے ذریعے بچوں کے کسی علم سے متعلق تصورات عملی مشقوں سے واضح کئے جا سکتے ہیں۔
عالمی معیار یہ ہے کہ کسی بچے کے ’سکول بیگ‘ کا وزن اُس کے جسمانی وزن کا ’10 فیصد‘ ہونا چاہئے لیکن ہمارے ہاں یہ ’پچاس فیصد‘ کی نفسیاتی حد عبور کر چکا ہے! سردست یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ مذکورہ کمیٹی میں جن مصروف ترین شخصیات کو شامل کیا ہے انہیں پہلی فرصت کب ملتی ہے اور وہ پہلی فرصت میں ’سکول بیگز‘ کے حوالے سے پہلا اجلاس کب طلب کرتے ہیں لیکن واقف حال کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت سرکاری سکولوں میں ایسا فرنیچر متعارف کرانے کا بھی سوچ رہی ہے جس میں کتابیں تالہ لگا کر محفوظ رکھی جا سکیں اور یوں بچوں کو درسی کتب لانے لیجانے کی زحمت نہ ہو۔

تبدیلی کے علمبرداروں نے عوامی شکایات پر ’سکول بیگز (بستوں) کے وزن‘ سے متعلق تحقیقات کا آغاز تو کر دیا ہے لیکن آخر ایسی تحقیقات کی نوبت ہی کیوں آئی جبکہ روزمرہ کے مناظر میں بیچارے بچے سکول بیگز گھسیٹتے دکھائی دیتے ہیں!؟ ’’ہو ایک فرد تو ہو فرد جرم بھی آید ۔۔۔ ستم گری تو یہاں کاروبار سب کا ہے (ظفر مراد آبادی)۔ مذکورہ مسئلے سے زیادہ مسئلے کی شدت سنگین ہے۔ صرف ’سکول بیگز‘ کا وزن ہی نہیں بلکہ نجی سکولوں کی جانب سے اُن غیرضروری کتب کا بھی ہے جو ’پبلشرز (کتابیں شائع کرنے والے اِداروں)‘ کی فرمائش پر ’شامل (داخل) نصاب‘ کی جاتی ہیں۔ اَمر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح کچھ ڈاکٹرز (طبیب) مریضوں کو ایسی ادویات بھی لکھ دیتے ہیں کہ جن کا اُن کی بیماری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بالکل اِسی طرح نجی سکولوں میں ایسی کتب اُور ایسا یونیفارم بھی مقرر کیا جاتا ہے جن کا تعلیم سے زیادہ کمائی کے دیگر ضمنی ذرائع سے ہوتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ نجی تعلیمی اِداروں کے منافع (لالچ‘ حرص و طمع) کی کوئی حد نہیں۔ کمیٹی کو اِس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ 1: خیبرپختونخوا کی حدود میں جتنے بھی نجی سکول ہیں چاہے اُن میں کسی بھی صوبے یا بورڈ کا نصاب پڑھایا جا رہا ہو لیکن اُن پر صوبائی (تعلیمی) قواعد و ضوابط کا اطلاق ہوگا۔ 2: وفاقی امتحانی و دیگر بورڈز کے زیرانتظام تعلیمی اداروں کو صوبائی حکومت کے قواعد کے تابع لانے کے لئے قانون سازی کی سفارش کی جائے اور اِس سلسلے میں صرف سفارش ہی نہیں بلکہ مذکورہ کمیٹی لائحہ عمل اُور ضابطۂ اخلاق بھی وضع کرے‘ جس کی روشنی میں عوام کے منتخب اراکین (قانون ساز ایوان) رہنمائی حاصل کرسکے۔

’سکول بیگز‘ کا مسئلہ بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خصوصی کمیٹی میں نہ تو صوبائی وزیرتعلیم (صاحب بہادر) شامل ہیں اور نہ ہی کسی منتخب رکن صوبائی و قومی اسمبلی یا سینیٹر کو شامل کیا گیا ہے‘ جو معاملے کی کھوج و تحقیقات کے دوران مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے سکے۔ عجیب ہے کہ دنیا علم و حکمت میں چاند ستاروں کو عبور کر گئی ہے اور ہمارے ہاں (پاکستان میں) ابھی یہ بھی طے نہیں ہو رہا کہ بچوں کے سکول کا وزن کتنا ہونا چاہئے اور بچوں پر گدھوں کی طرح درسی کتب کی صورت کتنا بوجھ لادا جائے؟ آنے والے دنوں میں اِس سوال کا جواب تلاش کرنے والوں کو زیادہ پیچیدہ موضوعات سے واسطہ پڑے گا اور یہی وجہ ہے کہ کمیٹی میں ایسے ماہرین تعلیم بھی شامل ہونے چاہیءں تھے جو حکومتی وظیفہ خور نہ ہوتے کیونکہ سرکاری ملازمین وہی کچھ کہتے ہیں جو حکومت سننا چاہتی ہے۔ درس و تدریس کے عمل اور مجموعی طور پر شعبۂ تعلیم میں اصلاحات صرف سکول بستے کے وزن اور حجم سے متعلق ہی نہیں بلکہ تدریسی نصاب (مضامین و موضوعات)کا باریک بینی سے جائزہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ غورطلب سوال یہ بھی ہے کہ بچوں کو ابتدائی کلاسوں سے کن مضامین کی تعلیم دینی چاہئے؟ کیا دنیا کا ہر موضوع اور ہر مضمون بچوں کے نصاب میں شامل ہو؟

صوبائی حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ نجی سکول اُس کے بنائے ہوئے قوانین اور قواعد و ضوابط کا کس حد تک احترام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سکولوں میں (مسلمان طلباء و طالبات کے لئے) ’ناظرہ قرآن‘ کی تعلیم لازمی قرار دی گئی تاکہ بچہ ابتدائی پانچ کلاسیں مکمل کرنے تک نہ صرف ناظرہ ’قرآن کریم‘ کی تلاوت کر سکے بلکہ آخری پارے کی کم سے کم وہ بیس سورتیں بھی اُسے زبانی ازبر ہوں‘ جن کی تلاوت نماز میں کی جاتی ہے۔ ابتدائی پانچ درجات (کلاسوں) تک ناظرہ قرآن اور میٹرک (کلاس دہم) تک ’قرآن شناسی‘ سے متعلق مضامین سے نہ صرف بچوں کی سیرت بہتر بنائی جاسکتی ہے بلکہ اُنہیں تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ’ایک بہتر انسان‘ کے سانچے میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں انگریزی زبان کو علم و دانش اور خواندگی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ دنیا کی ایسی کئی ترقی یافتہ اقوام ہیں جنہوں نے علوم و فنون کے شعبوں میں گرانقدر منازل عبور کی ہیں لیکن اُن کے ہاں انگریزی نہیں بولی جاتی اور نہ ہی انگریزی زبان و ثقافت‘ رہن سہن‘ لباس اور نصاب سے متعلق رہنے پر ہم پاکستانیوں کی طرح فخر کیا جاتا ہے۔ سکول بیگ کا وزن ہو یا نصاب تعلیم سے متعلق ہمارے رویئے‘ بچوں کو راتوں رات عالم فاضل بنانے اور احساس کمتری کے مظہر اندھی تقلید کی اصلاح ضروری ہے۔
’’اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر ۔۔۔
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔علامہ اقبالؒ ۔

Monday, March 19, 2018

Mar 2018: Ignored factors about education

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
خود فریبی: جبر کی حقیقت!
’اِستحصال کروٹ کروٹ‘ بھی ہو سکتا ہے اُور ’لمحہ لمحہ‘ بھی۔ ’معلوم حقائق‘ سے ’حقیقت حال کی تہہ تک پہنچنا‘ اُور ’عمومی روئیوں‘ میں ’اِظہار و سلوک‘ کی خوبیاں (گوہر) تلاش کرنے کی شعوری (دانستہ) کوششوں کے بغیر ’’تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔‘‘ خیبرپختونخوا میں سماجی اِنصاف کی فراہمی کا وعدہ کرنے والوں (پاکستان تحریک انصاف) کی توجہ چاہئے کیونکہ جہاں ہر مرحلے‘ سوچ‘ زوایۂ نگاہ اور ہر ایک صاحب نظر و اِختیار پر ’اِنکارِ‘ طاری ہو‘ وہاں (باوجود خواہش و غیرمتعلقہ شعبوں میں کوششوں) صنفی‘ جنسی اُور مالی اِمتیازات کو تقویت دینے سے ’’انسانی حقوق کی بلاامتیاز ادائیگی‘‘ ممکن نہیں رہتی۔ ’انقلاب‘ سطحی یا غیرسطحی منصوبہ سازی کا نہیں بلکہ عوامی مفادات کے خلاف متحرک منصوبوں پر حاوی ہونے کا نام ہوتا ہے۔ افسوس کہ جس دیس میں ’بے اصولی‘ اصول بن جائے وہاں اِس زراعت سے حاصل شجر چاہے کتنے ہی سایہ دار دکھائی دیں لیکن اُن کا پھل (حاصل و نتیجہ) کڑوا رہتا ہے۔ توجہات کی نذر ہے کہ کسی ملک‘ صوبے‘ علاقے یا اِدارے کا نظام ’’کفریہ عقائد‘‘ پر یقین سے تو چل سکتا ہے لیکن ظلم سے نہیں! خوداحتسابی کی گھڑی سوچنے‘ سمجھنے اُور دوسروں کو دعوت فکر دینے (شریک کرنے) کی ہے کہ ۔۔۔ کہیں ہم اپنے قول و فعل میں ظالم (اپنی اپنی اختیاراتی مملکت کے فرعون) تو نہیں؟

سب جانتے ہیں اُور (جیسے) کوئی نہیں جانتا۔ خیبرپختونخوا کے بالائی (پہاڑی) علاقوں میں موسم سرما کی تعطیلات کے بعد ’نئے تعلیمی سال (دوہزاراٹھارہ)‘ کا آغاز ہو چکا ہے اور اِس موقع پر والدین اور طلباء و طالبات کو درپیش ’تین پریشانیاں‘ بالخصوص توجہ طلب ہیں۔ 

داخلہ فارم کی قیمت سے لیکر داخلہ فیسوں کی شرح اور دیگر مدوں میں بھاری وصولیاں کرنے والے اداروں کے منہ کو خون لگ گیا ہے جو معیاری تعلیم کے خواہشمند والدین کی مجبوری کا ’ناجائز‘ فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ لالچ و حرص کے تابعداروں کو روکنے کے لئے عوام کے منتخب نمائندے اور اِن نمائندوں پر مشتمل مرکزی صوبائی یا ضلعی حکومتیں بشمول ضلعی انتظامیہ‘ ایک سے زیادہ نگران حکومتی محکموں کا دُور دُور تک نام و نشان دکھائی نہیں دیتا۔ تعلیم کی اہمیت پر انگریزی زبان میں گھنٹوں لیکچر دینے والوں کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ انہوں نے بذریعۂ تعلیم ’’سماجی و قومی ترقی کے وسیع و بلیغ نظریئے (تصور)‘‘ کو کس حد تک محدود کر دیا ہے اور تعلیم کو ایک ایسے ’’خالص کاروبار‘‘ میں ڈھال دیا ہے‘ جہاں ’علم و دانش‘ کی اہمیت فقط اسناد (ڈگریوں) کی محتاج اور ملازمت کے حصول سے زیادہ معنی نہیں رکھتی۔ ’المیہ در المیہ‘ یہ بھی ہے کہ نجی اِداروں کی دیکھا دیکھی ’پاک فوج کی ذیلی شاخ ’اِیجوکیشن کور‘ جیسے معزز‘ مستند اور معتبر ریاستی اِدارے کی زیرنگرانی ’سکولز و کالجز‘ بھی ’منافع خوری‘ کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں! اگر معاشرے کو امتیازات کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرنا تو سکول داخلے سے لیکر ماہانہ ٹیوشن فیسوں کی شرح تک ہر پاکستانی سے یکساں وصولیاں ہونی چاہیئں۔

کیا قومی سطح پر ’نجی یا سرکاری اِدارے‘ فوجی بہن بھائیوں سے اِمتیازی سلوک روا رکھتے ہیں؟ جس کا جواب دیتے ہوئے (شکوہ جواب شکوہ کے طور پر) پاک فوج کے انتظامی وسائل سے چلنے والے سکولوں اور علاج گاہوں میں ’سویلینز (civilians)‘ سے (ایک جیسی خدمات (سروسیز) کی) دوگنا سے بھی زیادہ قیمتیں وصول کی جاتی ہیں؟ 
’سویلین نان انٹائٹل (CNE)‘ کیوں ہیں؟ 
کیا عوام عدالت عالیہ سے رجوع کرے؟

چیف جسٹس آف پاکستان کو اِس بات کا بھی نوٹس لینا چاہئے؟ کیا ’یونیفارم‘ پہنے ’فیصلہ سازوں‘ کو زیب دیتا ہے کہ اُن کا بوجھ اُٹھانے (ٹیکس اَدا کرنے) والے عام آدمی (ہم عوام) کو یوں حقارت کی نظر سے دیکھیں؟ اطلاع کے لئے عرض ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے فراہم کردہ مالی وسائل ہی سے دفاع کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ باسہولت چھاؤنیوں کی خوبصورتی سے لیکر باادب گھریلو ملازمین کی قطاریں‘ ملٹری ڈیری فارم کے دودھ‘ دہی اور مکھن کی چکناہٹ اُور وردی پر سجے چاند ستاروں (اعزازات) کی چمک دمک کا راز ’صرف اُور صرف‘ یہ ہے کہ عام آدمی (ہم عوام) اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر ٹیکس اَدا کر رہے ہیں! ہم ایک ایسے معاشرے (پاکستان) کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں معیاری تعلیم‘ صحت و معاشرتی مقام صرف اُنہی طبقات کا حق سمجھا جا رہا ہے‘ جن کے پاس ’مالی وسائل‘ کی فراوانی ہے‘ جو مذکورہ بنیادی حقوق (صحت و تعلیم) ’خریدنے‘ اور کسی بھی شے کی منہ مانگی قیمت ادا کرنے کی مالی سکت رکھتے ہیں؟ تو کیا کسی ایسے معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز باقی رہے گی؟

تعلیمی اصلاحات کرنے والے بڑی بڑی باتیں تو کرتے ہیں لیکن وہ آج تک سکول کے بستے (بیگ) کا وزن کم نہیں کرسکے جو ہر سال بڑھتا چلا جا رہا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ بچوں کے وزن اٹھانے کی سکت اور والدین کا صبر جواب دے رہا ہے! اِسی طرح فی کلاس روم (زیادہ سے زیادہ) بچوں کی تعداد کے حوالے سے کیا قواعد موجود ہیں اگر ہیں تو اُن پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔ تمام تعلیمی اداروں میں دن کے آغاز اور اختتام (حاضری اور اخراج) کے اوقات ایک ہی جیسے مقرر کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی ٹریفک مشکلات باآسانی حل کی جاسکتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کو آمدورفت کے لئے زیراستعمال نجی ٹرانسپورٹ وسائل کی گرانی‘ ٹرانسپورٹرز کی من مانیاں‘ اخلاقی مسائل الگ سے توجہ طلب ہیں کہ ماہانہ لاکھوں روپے منافع کمانے والے اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ ’’سکول ٹرانسپورٹ‘‘ کا بندوبست کریں۔ اگر انتظامیہ کی زیرنگرانی سکولوں کی حدود میں کتابوں کی دکانیں (سٹیشنری شاپ) اور کنٹین جیسے منافع بخش شعبوں کا اضافہ ہو سکتا ہے تو طلباء و طالبات کو لانا لیجانا بھی نیم سرکاری و نجی سکولوں کی ذمہ داری قرار دی جا سکتی ہے۔ وقت کے فریب سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ’’تعلیمی عمل‘‘ جامع اِصطلاح ہے‘ جس میں طلباء و طالبات کی جسمانی مشقت کم سے کم کرنے‘ انہیں باعزت اُور باوقار سہولیات کی فراہمی کے لئے اِنتظامی فیصلہ سازوں کو دردمندی (خوداِحتسابی کے نظریئے) سے سوچنا چاہئے کہ اگر حکومت اُور حکومتی اِدارے ’ریاستی عمل داری‘ نافذ کرنے میں عملاً کمزور (ناکام) ہیں تو وہ اپنے ضمیر اور اُس یوم الحساب (عدالت کو) کیا جواب دیں گے‘ جب استحصال کرنے کے بارے میں کوئی بھی حیل و حجت کام نہیں آئے گی۔

احمد ندیم قاسمی نے ’لذت آگہی‘ کے عنوان سے لکھا تھا
’’یہی علم ہے ۔۔۔ یہی علم میرا سرور ہے ۔۔۔ یہ علم میرا عذاب ہے!‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-03-19

Saturday, January 13, 2018

Jan 2018: Medical Education Standard in Pakistan, a road to nowhere!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
مستقبل کی سوچ!
پاکستان میں جس طرح رہائشی اور کاروباری علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہے بالکل اِسی طرح خالصتاً کاروباری نکتۂ نظر سے نجی اِداروں کی حاکمیت کے خلاف ریاست کا وجود بھی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ طب (میڈیکل) جیسے حساس شعبے میں ’اعلیٰ تعلیم‘ کی صورتحال بھی ناقابل بیان ہے جس کا ’اَزخودنوٹس‘ کی سماعت کے دوران (بارہ جنوری کے روز) سپرئم کورٹ نے ’’پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی)‘‘ نامی نگران ادارے کو تحلیل کرتے ہوئے ’’سات رکنی عبوری کمیٹی‘‘ تشکیل دی ہے جو آئندہ کسی حکمنامے تک روزمرہ امور کی انجام دہی کرے گی۔ 

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ایم ڈی سی کے وجود اور ’سنٹرل ایڈمیشن پالیسی‘ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جو سات رکنی عبوری کمیٹی تشکیل دی اُس کی سربراہی جسٹس شاکر اللہ جان کریں گے جبکہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ’پی ایم ڈی سی‘ سے متعلق قانون سازی میں معاونت کی غرض سے کمیٹی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ اِس اعلیٰ اختیاراتی عبوری کمیٹی کو نجی میڈیکل کالجوں کی جانچ پڑتال (انسپکشن) کا اختیار بھی حاصل ہوگا‘ جو خوش آئند اقدام ہے اُور اُمید ہے کہ سپرئم کورٹ کی اِس دلچسپی اور باریک بین خلوص نیت کوشش سے خاطرخواہ بہتری آئے گی۔ ’’سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے۔۔۔ پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے۔ (جان ایلیا)۔‘‘

پاکستان میں رجسٹرڈ طبی معالجین کی تعداد ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اور ماہر (اسپیشلسٹ) ڈاکٹروں کی تعداد سینتالیس ہزار ہے جبکہ پچیس ہزار ماہر ڈاکٹر پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں! 

زوال نہیں تو کیا ہے کہ معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے‘ ذہین‘ باشعور‘ مفید اور زمینی حقائق کو سمجھنے والوں نے خود کو انجان بنا رکھا ہے اور وہ ایک ایسے ماحول سے دل برداشتہ ہیں جسے ٹھیک کرنا خود اُنہی کی ذمہ داری ہے۔ ’طب کی تعلیم کا انتظام اور اِس کا معیار برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ اِس سے آئینی فرض سے انکار ممکن نہیں لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے سب کچھ حکومت پر ڈال دیا ہے۔ سرکاری خرچ پر ڈاکٹری کی عملی تربیت اور مہارت حاصل کرنے کے بعد جو ڈاکٹر پاکستان کو چھوڑ کر جاتے ہیں‘ انہیں اپنے ضمیر کے سامنے بھی جواب دینا چاہئے کہ اُن پر مٹی کا کتنا قرض واجب الاداء ہے۔ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ پچیس ہزار سے زائد ڈاکٹر بیرون مل جانے کے باوجود بھی حکومت کو نہیں بلکہ عدالت عظمی کو لاحق تشویش سامنے آئی ہے۔ اگر مذکورہ پچیس ہزار ڈاکٹر بیرون ملک نہ بھی گئے ہوتے تب بھی پاکستان میں ماہر ڈاکٹروں کی تعداد حسب آبادی کم ہے جس پر قابو پانے کے لئے حکومت کے پاس منصوبہ بندی نہیں۔ ڈاکٹر اگر بیرون ملک جا رہے ہیں تو اس کی وجہ وہاں کے بہتر ملازمتی طریقۂ کار اور حالات کار ہیں جن میں اُنہیں مالی طور پر کشش دکھائی دیتی ہے۔ 

پاکستان میں ڈاکٹروں کو جان و مال اور ملازمتی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ اہلیت کی بنیاد پر اگر محکمانہ ترقی کا نظام وضع کر دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ کوئی اپنا ملک اور آبائی شہر چھوڑ کر چلا جائے۔
سپرئم کورٹ کے سامنے زیرغور معاملہ ’طب کی تعلیم‘ اور ’نجی اداروں کی من مانیوں‘ کا ہے۔ عدالت عظمی نے بظاہر عزم کر رکھا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم دینے کے لئے مقرر کردہ فیسوں سے زائد وصولیاں کرنے اور ایڈمیشنز دینے کے لئے عطیات پر عائد پابندی کا کھلم کھلا مذاق اڑانے والوں سے نمٹا جائے گا اُور اِس عدالتی مؤقف کی حمایت خود ’پی ایم ڈی سی‘ کے وکیل نے بھی کی ہے کہ ’نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے مقررہ شرح کے مطابق داخلہ فیسیوں اور اِن کے علاؤہ عطیات کے نام پر وصولیاں غلط اقدام ہے۔‘ پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل کی سالانہ فیس 6 لاکھ 42 ہزار روپے مقرر ہے جبکہ نجی میڈیکل کالجز فی طالب علم سالانہ فیس کی مد میں 9 سے 15 لاکھ روپے وصول کر رہے ہیں۔ سالانہ فیسوں اور دیگر مدوں میں اضافی وصولیاں کرنے والے باقاعدہ رسیدیں دی جاتی ہیں۔ 

پاکستان میں طب کی تعلیم کا معیار اُور نجی اداروں کی حاکمیت و سرپرستی بدقسمتی سے دانستہ طور پر کی جا رہی ہے اور حکومتوں نے ہمیشہ عوام کے مقابلے سرمایہ داروں کے مفادات کا زیادہ تحفظ کیا ہے۔ یہ طرزعمل ناقابل قبول ہے۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والوں کو عملی زندگی میں جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے نجی میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات اُن کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر پاکستان میں ڈاکٹروں اور ماہر ڈاکٹروں سمیت آبادی کے تناسب سے طبی سہولیات کی کمی ہے تو اِس میں اضافہ حکومتی وسائل سے خود حکومت ہی کو کرنا چاہئے۔ 

عمومی تعلیم کی طرح طب کی پیشہ وارانہ تعلیم بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پیدا ہونے والی خرابیوں پر تعجب کا اظہار کرنے کی بجائے غلطی سے رجوع ضروری ہے اور ایسے تمام نجی میڈیکل کالجز جو ’پی ایم ڈی سی‘ کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اُترتے اُنہیں بناء رعایت ختم میں تاخیر و کوتاہی کا ازالہ ہونا چاہئے! معاملہ سالانہ فیسوں کی زائد وصولی سے زیادہ گھمبیر ہے کیونکہ طب کی تعلیم کا معیار بھی گر رہا ہے۔ 

ذرائع ابلاغ میڈیکل کی تعلیم سے جڑی بے قاعدگیوں کی مسلسل رپورٹ کرتے آ رہے ہیں لیکن ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی (پارلیمینیٹرین) سے تعلق رکھنے والے اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دست راست (ڈاکٹر) عاصم حسین اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی موجودہ میں کسی کا احتساب کا خوف نہیں۔ جب تک اربوں کی اِس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی جڑ تک نہیں پہنچا جائے گا اور ماضی و حال میں کی گئی خردبرد (فنانشیل کک بیکس) ضبط نہیں کئے جائیں گے‘ اُس وقت تک معاملات کی درستگی محض عدالتی سماعتوں اور عبوری انتظامیہ تعینات کرنے سے ممکن نہیں ہوگی۔ 

سمجھ لیجئے کہ خواہش اور عدالت چاہے جتنی اور جس قدر بھی بڑی ہو لیکن بناء ’سزا و جزا‘ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے کڑے احتساب‘ مالی بدعنوانیوں اور انتظامی بے قاعدگیوں کے جاری سلسلے روکے نہیں جا سکیں گے۔
۔

Wednesday, October 25, 2017

Oct 2017: What's the standard of Quality in Education?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
معیارِ تعلیم: ’معیار‘ کیا ہے؟
خیبرپختونخوا میں شعبۂ تعلیم کی بہتری کے لئے وضع کی گئیں حکمت عملیوں کا ’’شمار انگلیوں پر ممکن نہیں‘‘ لیکن اِن کے نتائج ایک جیسے ہی برآمد ہوئے ہیں اور جن شعبوں میں بہتری کے واضح اشارے دکھائی بھی دیتے ہیں تو وہ پائیدار نہیں جیسا کہ پرائمری سطح تک سکولوں میں داخلوں اور دوران تعلیم سکول چھوڑنے والوں کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار دیکھ کر صرف طالب علم اور والدین ہی دل برداشتہ (مایوس) ہوتے دیکھے گئے ہیں آج تک ایسے کسی معلم (سرکاری ملازم) سے ملنے کا شرف نہیں مل سکا‘ جو یہ کہتے ہوئے ملازمت سے الگ ہو گیا ہو کہ ’کیا اِدارے ایسے ہوتے ہیں؟ کیا مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں معلم بن کر خود کو اور دوسروں کو دھوکہ دوں‘ جبکہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اِس فرض کے لئے اہل نہیں۔‘ کیا ہمارے ہاں معلم بننے کے لئے نفسیاتی ٹیسٹ اور درخواست گزاروں کا ماضی دیکھا جاتا ہے کہ وہ جرائم میں ملوث نہیں؟ اہلیت کے بعد دوسری اہم بات ’معیار‘ کی ہے۔ 

ہر دور حکومت میں ’تعلیم‘ کے ساتھ ’معیار‘ کا لفظ ضرور استعمال کیا جاتا ہے بلکہ یہ دونوں الفاظ لازم و ملزوم بن چکے ہیں لیکن آخر اِس ’معیار‘ نامی شے کا وجود یا حقیقت کیا ہے؟ یہ معیار کہیں سے مستعار (ادھار) لیا گیا ہے‘ امداد میں ملا ہے یا ہمارے اپنے ماہرین تعلیم اور فیصلہ سازوں نے مل بیٹھ کر مشاورت سے تخلیق کیا ہے؟ اِس معیار کے پیمانہ پر کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کامیابی کی شرح کیا مقرر کی گئی ہے؟ اِس کے جزئیات و تفصیلات کیا ہیں؟ اور آخر وہ کون سی ایسی کسوٹی ہے جس پر معیار کی درجہ بندی کرکے اِس بات کا فیصلہ کیا جاسکے کہ ’تعلیم‘ کے شعبے میں حاصل کی جانے والی کامیابیاں اور اہداف ’معیاری‘ ہیں یا معیاری نہیں ہیں!؟ یہ بھی طے نہیں ہو سکا اُور اُلجھن بدستور موجود (برقرار) ہے کہ اگر تعلیم کے شعبے میں ’معیار‘ ہی ’معیاری‘ نہیں تو اِس کے لئے ذمہ دار (قصوروار) کون ہیں؟ کیا ہم والدین‘ طالب علموں‘ اساتذہ یا سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کی گرفت کریں جنہوں نے ایک ہی ملک میں چار قسم کے ’تدریسی و نصابی نظام‘ قائم کر رکھے ہیں اور پھر بھی ’معیار‘ کی گردان سے گریز نہیں کرتے! 

اربوں روپے سے شروع کی جانے والی تعلیم کے فروغ سے متعلق حکمت عملیاں اگر ناکام ثابت ہوئی ہیں اور سوائے خزانے پر ملازمین کا بوجھ ہر سال بڑھنے کے کچھ حاصل نہیں ہو سکا ہے تو آخر ناکامی کا اعتراف کرنے میں قباحت ہی کیا ہے؟ اعلیٰ ظرفی تو یہ ہے کہ نقصان (خسارے) پر نقصان (خسارہ) کرنے کی بجائے ’حالات و ضروریات‘ سے مطابقت رکھنے والا تدریس کا کوئی ایسا ماڈل (معیار بہ وزن معیار) تخلیق کیا جائے جو ہمارے زمینی حقائق کی نفی پر مبنی (مصنوعی) نہ ہو!

خیبرپختونخوا کے ’نظام و معیار تعلیم‘ کا لب لباب یہ ہے کہ ’تحریک انصاف‘ کی قیادت میں اربوں روپے بالخصوص بنیادی و ثانوی تعلیم کی وسعت اور پہلے سے موجود سہولیات میں بہتری پر خرچ کئے گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں ’اہل اساتذہ‘ بھرتی کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے لاکھوں اساتذہ کی تربیت پر کروڑوں روپے خرچ کر ڈالے لیکن اگر نتیجہ وہی کا وہی ہے تو اِس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اساتذہ سے انسان نہیں بلکہ مشین سمجھ کر معاملہ کیا جا رہا ہے اور اُن پر اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ’کام کا دباؤ‘ اِس قدر بڑھا دیا گیا ہے کہ وہ کم ترین توجہ کلاس رومز میں تدریس کے عمل کو دیتے ہیں! 

کیا یہ معمولی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے چار سال میں ’22 ارب روپے‘ خرچ کر ڈالے ہیں جن سے مفت درسی کتب اور سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے لیکن اگر اس قدر خطیر اخراجات کے باوجود بھی صورتحال ’وہی کی وہی‘ ہے تو پالیسی سازوں کو اپنے کئے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ رواں ہفتے ’خیبرپختونخوا ایجوکیشن ریفارمز اینڈ اچیومنٹس رپورٹ (KP Education Reforms and Achievements Report 2017) جاری ہوئی‘ جس میں تمام حکومتی کامیابیوں کو قدرے تفصیل اور خوشنما انداز سے فہرست کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صوبائی حکومت نے اب تک ’نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس)‘ کے ذریعے چالیس ہزار اساتذہ بھرتی کئے ہیں تاکہ خیبرپختونخوا میں اساتذہ کی تعداد طالب عملوں کے عالمی معیار کے مطابق بڑھائی جائے جو کہ ایک معلم کے مقابلے چالیس طلبہ ہے۔ اِسی طرح سال 2014-15ء کے دوران سکول ٹیچرز‘ ہیڈماسٹرز اور پرنسپلز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اُنہیں ’پانچ کروڑ پچاس لاکھ روپے‘ کے انعامات سے نوازہ جا چکا ہے لیکن ’اساتذہ کی ایک بڑی تعداد‘ موجودہ حکومت سے ’خوش نہیں‘ اور بیان کرتی ہے کہ انہیں ذہنی اذیت‘ کوفت اُور حد سے زائد غیرضروری قواعد و ضوابط سے رہائی دی جائے۔ ایک معلم سے ہوئی ٹیلی فونک بات چیت میں جب اُنہوں نے یہ نکات اُٹھائے کہ ’’کسی معلم کی بنیادی ذمہ داری تعلیم دینا ہوتا ہے لیکن تصور کیجئے کہ کوئی استاد اگر سارا دن ’انٹیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو)‘ کے لئے اعدادوشمار اکٹھا کرتا رہے تو کیا وہ اپنے بنیادی فریضے کی انجام دہی کر رہا ہے اور ذہنی طور پر مطمئن ہوگا؟ اِسی طرح ’این ٹی ایس‘ کے ذریعے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ’’اہل‘‘ تو بتایا جاتا ہے لیکن انہیں ’عارضی‘ ملازم رکھا گیا ہے‘ جس سے اِن تمام اساتذہ کے ذہن پر غیریقینی کی صورتحال طاری رہتی ہے اور وہ خوفزدہ رہتے ہیں کہ اُن کی ملازمتوں کا خاتمہ کسی روز بھی ہوسکتا ہے! 

صوبائی حکومت نے جن اساتذہ کے لئے اب تک تربیت کا اہتمام کیا‘ اُن سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تدریس کے جملہ امور صرف ’تین ہی دن‘ میں سیکھ کر ماہر ہو جائیں گے۔ تدریس کے اسلوب سے متعلق مضامین کی خواندگی ضروری نہیں بلکہ ہر پڑھا لکھا شخص بطور معلم بھرتی ہو سکتا ہے‘ لیکن (لیکن اُور لیکن اپنے اپنے دل سے پوچھتے ہیں کہ) کیا ہمارے ہاں ہر معلم ’اُستاد گرامی‘ کے مرتبے پر فائز ہونے کا اہل بھی ہے؟
۔

Tuesday, September 12, 2017

Sept2017: The unreasonable policy of "fine" at schools!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شعبۂ تعلیم: غافل مباش!
نجی تعلیمی اِداروں سے متعلق والدین کی شکایات بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہوں لیکن اِن مسائل کا حجم اور نوعیت اپنی شدت و نتائج کے باعث متعلقہ شعبے کے فیصلہ سازوں کی توجہ کا متقاضی ہے۔ کسی طالب علم کی سکول سے ’غیراطلاعیہ‘ غیرحاضری کی صورت جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جس کی شرح کا تعین نہ تو سرکاری طور پر کیا گیا ہے اور نہ ہی والدین کی مشاورت سے سکول انتظامیہ طے کرتی ہے کہ اگر کوئی طالب علم کسی دن سکول سے غیرحاضر رہے گا اور وہ اِس کی پیشگی اطلاع نہیں دی جائے گی تو اِس ’’جرم‘‘ کے عوض ’’والدین کو کتنا جرمانہ‘‘ کیا جائے۔ عموماً اِس قسم کے جرمانے کی شرح 200 روپے یومیہ سے شروع ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر طالب علم بیماری یا کسی ناگزیر مصروفیت (فوتگی میں شرکت) میں مبتلا ہے تو وہ اپنی بیماری اور آگہانی مصیبت کی فراموش کر کے سکول کی پہلے فکر کیسے کرے اور ’بروقت اور پیشگی اطلاع‘ کس طرح دی جائے؟ 

سکولوں کے داخلی دروازوں پر ’رخصت کی درخواستیں‘ وصول تو کر لی جاتی ہیں لیکن چونکہ اِس کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا‘ نہ وصولی کی رسید (سند) دی جاتی ہے اِس وجہ سے یہ درخواستیں وصول کرنا اِس بات کی ضمانت بھی نہیں ہوتا کہ کسی ایک یا دو ماہ کے آخر میں جرمانہ بینک رسید میں درج نہیں ہو گا۔ والدین کو بذریعہ خط مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کا بچہ فلاں تاریخ کو غیرحاضر پایا گیا اور اِس وجہ سے اُسے ’’200 روپے‘‘ جرمانہ کر دیا گیا ہے (تلخ حقیقت: 200 روپے کسی بھی طرح معمولی رقم نہیں ہوتی کیونکہ یہی وہ پیمانہ ہے جس پر خط غربت (کسوٹی) مقرر ہے۔ اگر کسی شخص کی یومیہ آمدنی دوسوروپے سے کم ہوتی ہے تواُس کا شمار ’’غریب‘‘ میں کیا جاتا ہے اور پاکستان میں ایسے افراد کی تعداد ملک کی کل آبادی کا ساٹھ فیصد ہے جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔) کاروباری ترجیحات ملاحظہ کریں کہ نجی سکولوں کی انتظامیہ یہ جاننے میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتی کہ آخر کس وجہ سے کوئی بچہ غیرحاضر تھا اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اُس کی غیرحاضری کسی حادثے یا ایسی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ہے جس کے لئے اُسے مزاج پرسی‘ عیادت یا تعزیت کی ضرورت ہے۔ کیا معلم طالب علم اُور تعلیمی اِداروں کا تعلق بس یہی رہ گیا ہے (اس حد تک محدود تصور کیا جائے) کہ والدین مطلوبہ فیسیں (بلاچوں چرا) اَدا کریں اور تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے والے عوام کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے رہیں؟ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کی تعلیمی اداروں میں تربیت کس انداز سے کر رہے ہیں کہ سوائے فیسوں اور دیگر مدوں میں وصولیوں سے زیادہ اُن کی کوئی اہمیت نہیں!

نجی تعلیمی اِداروں میں ’والدین اُور اساتذہ کے درمیان رسمی بات چیت (پیرنٹس ٹیچرز ملاقات) عموماً سالانہ نتائج کے موقع پر ہوتی ہے‘ جس کا نہ تو پہلے سے کوئی ’لائحہ عمل (ایجنڈا)‘ طے ہوتا ہے اور نہ ہی اِس میں سکول کے انتظامیہ کے اہم فیصلہ ساز حصہ لینے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں۔ کلاس ٹیچرز (ملازمین) سالانہ نتائج کے دن‘ بن سنور کر مصنوعی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے والدین کا استقبال کرتے یا کرتی ہیں‘ والدین کو نتیجہ تھاما کر انہیں اپنے تاثرات قلمبند کرنے کا کہا جاتا ہے جس پر عمل درآمد کون کرتا ہے‘ کتنا کیا جاتا ہے‘ اُسے قابل عمل کیوں نہیں سمجھا جاتا اور والدین کی تجاویز و آرأ پر کیا تبدیلیاں (اصلاحات) لائی جاتی ہیں‘ اِس بارے میں والدین کو نہ تو مطلع کیا جاتا ہے اور نہ ہی اِس سلسلے میں اُن سے رابطہ رکھا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے فیصلہ ساز بچوں کی طرح اُن کے والدین کو بھی ناخواندہ ہی سمجھتے ہیں! تجویز ہے کہ انٹرنیٹ پر منحصر ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے نجی تعلیمی ادارے اور والدین بطور صارفین کے درمیان فاصلوں کو کم کیا جائے۔ یہ عمل سیکورٹی کے نکتۂ نظر سے بھی محفوظ ہے کہ آئے روز والدین سکولوں کا دورہ نہیں کریں۔ ایک سیدھی سادی ’موبائل فون ایپلی کیشن‘ کے ذریعے والدین نہ صرف ’تعلیمی سال‘ کے دوران سکول انتظامیہ اور کلاس ٹیچر سے رابطے میں رہ سکتے ہیں بلکہ اگر کسی بچے کو اچانک رخصت درکار ہو تو اُس کے لئے بھی موبائل فون ایپلی کیشن (سافٹ وئر) یا ویب سائٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور والدین خاص اکاونٹس اور پاس ورڈز کے ذریعے رخصت کی صورت سکولوں کو مطلع کر سکتے ہیں۔ 

کلاس رومز میں بچوں کو ’ہوم ورک (گھر کا کام)‘ دینے کی ایک روایت بھی ہے لیکن بچوں کو اپنی اپنی ڈائری اَزخود لکھنے کو کہا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ کام سکول ٹیچر (معلم یا معلمہ) کی ذمہ داری ہوا کرتا تھا لیکن چونکہ (کاروباری مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے) فی کلاس طلبہ کی اُوسط تعداد قریب پچاس یا اِس سے زیادہ کر دی گئی ہے‘ اِس لئے اساتذہ کے لئے یہ بات عملاً ممکن نہیں رہی کہ وہ ہر بچے کی ’ڈائری‘ میں اُس کا ’ہوم ورک‘ کم سے کم اِس حد تک خوش خطی سے تحریر کریں کہ والدین اُسے پڑھ کر سمجھ اور سمجھا سکیں۔ موبائل فون ایپلی کیشن (سافٹ وئر) یا ویب سائٹ کی مدد سے ہر طالب علم کا ’ہوم ورک‘ کی تفصیلات کا تبادلہ اُس کے والدین سے ممکن بنایا جاسکتا ہے جس کے لئے متعلقہ معلم یا معلمہ کی بجائے اگر یہ تکنیکی کام ’آئی ٹی کے تربیت یافتہ دفتری اہلکاروں‘ کے ذریعے کیا جائے تو بہتر ’فیڈبیک (نتائج)‘ حاصل ہوں گے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم سے متعلق جملہ اَمور صوبائی حکومت کو سونپ دیئے گئے ہیں لیکن کسی ایک صوبے میں سرکاری و نجی سکولوں کی ایک ایسی تعداد بھی ہوتی ہے جو صوبائی کی بجائے وفاقی یا دیگر امتحانی بورڈز سے منسلک ہو جاتی ہے یا جن کے ہاں غیرملکی نصابی کتب (آکسفورڈ پریس کی کتب) پڑھائی جاتی ہیں اور اُنہی کے غیرملکی بورڈز کی نگرانی میں امتحان لئے جاتے ہیں۔ اِس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن آئینی طور پر خیبرپختونخوا کی حدود میں نجی سکول چاہے وہ جس کسی امتحانی بورڈ سے بھی منسلک ہوں لیکن اُن پر صوبائی حکومت کے احکامات کی پابندی واجب (لازم) ہوتی ہے۔ 

تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ صرف ٹیوشن فیسیں مقرر کرنے کی حد تک نہیں بلکہ ’ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی‘ کے ذریعے انواع و اقسام کے جرمانوں اور اِن جرمانوں کی شرح بھی مقرر کی جائے۔ وزیراعلیٰ پرویز خان خٹک اور صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان سے دست بستہ عرض ہے کہ وہ 30مئی 2018ء سے قبل تک ملنے والی ’مہلت (آخری آٹھ ماہ)‘ کا فائدہ اُٹھائیں۔ اپنی نہیں تو کم سے کم ’تحریک انصاف‘ کی عزت و ساکھ ہی کا خیال کریں کہ کس طرح ’مئی دوہزارتیرہ‘ کے عام اِنتخابات سے قبل عوام سے تبدیلی کے وعدے کئے گئے جو عملاً پورے نہیں ہوئے۔ 

عوام کی خدمت کا عہد کرنے والے جب فیصلہ سازی کے منصب پر ’غفلت‘ کا ارتکاب کریں تو وہ محض کوتاہی نہیں بلکہ ناقابل معافی جرم شمار ہوتا ہے۔ نجی تعلیمی اِداروں کی من مانیاں‘ ٹیوشن فیسیوں اُور جرمانوں کی شرح پر غوروخوض کے ساتھ درس و تدریس کو کاروبار بنانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ضروری ہے تو یہ ’کارِدارد‘ کون کرے گا؟ محاورہ ہے کہ ’’دم اَز گندم بروید جو‘ اَزجو۔۔۔ اَز مکافاتِ عمل غافل مشو۔ (ترجمہ): گیہوں سے گیہوں اُگتا ہے اور جُو سے جُو: خود احتسابی سے ہمیں غافل نہیں رہنا چاہئے!‘‘

Thursday, July 20, 2017

July 2017: The homework about Education System!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شعبۂ تعلیم: ہوم ورک!
پاکستان کے سیاسی‘ مالی اُور اِنتظامی مستقبل محفوظ بنانے کے لئے ’تحریک انصاف‘ کی آئینی و قانونی محاذوں پر جاری جدوجہد (پانامہ کیس کی پیروی) اہمیت اور مقصدیت سے انکار ممکن نہیں لیکن اپنے حصے کی ذمہ داریاں اَدا کرنے میں تحریک کس قدر کامیاب (سرخرو) ہوئی ہے‘ اِس بات کا فیصلہ خیبرپختونخوا کے 27 ہزار 261 سرکاری فعال سکولوں میں درس و تدریس اور بنیادی سہولیات کے معیارکو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے‘ جہاں زیرتعلیم طلباء و طالبات کی اکثریت صرف عام آدمی (ہم عوام) پر مشتمل ہے۔ رواں ہفتے محکمۂ تعلیم سے متعلق اعدادوشمار پر مبنی ’سالانہ رپورٹ 2015-16ء‘ مرتب کی گئی‘ جسے باضابطہ جاری کرنے کی بجائے ماضی کی رپورٹوں کی طرح ’سرکاری دستاویزات‘ کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور ایسا کرنے کی وجہ بھی سمجھ آتی ہے کیونکہ رپورٹ میں سب اچھا کی گردان کے باوجود بھی کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے‘ جن میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ مقام حیرت ہے کہ خیبرپختونخوا میں گیارہ فیصد (قریب تین ہزار) ایسے غیرفعال سرکاری سکول ہیں‘ جن کی چاردیواریاں نہیں اور اس سے بھی تعجب خیز بات یہ ہے کہ چاردیواریوں سے محروم سرکاری سکولوں کی اکثریت اُنہی علاقوں میں ہے جہاں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں! چونکہ سرکاری سکولوں کی ایک تعداد ایسی ہے کہ جہاں حفاظت کا خاطرخواہ انتظام نہیں اِس لئے حکومت تسلیم کرتی ہے کہ ۔۔۔ دیگر وجوہات سمیت سیکورٹی خدشات کے باعث تین ہزار سکول فعال نہیں ہیں۔ تصور کیجئے کہ ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات صرف اِس لئے سکول نہیں جا سکتے کیونکہ اُن کے بارے میں سوچنے اور فیصلہ کرنے والوں نے باقاعدگی سے تنخواہیں اور مراعات تو وصول کی ہیں لیکن اپنے حصے کی ذمہ داریاں اَدا نہیں کیں! خودمختار نگران اِدارے (انٹیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ) کی مذکورہ رپورٹ میں مذکور اعدادوشمار سے صوبائی سرکاری سکولوں کی جو تصویر ذہن میں اُبھرتی ہے‘ وہ کسی بھی سیاسی حکومت بالخصوص انقلابی و جنوبی سیاسی دھڑے کے لئے نیک نامی کا سبب نہیں اور اُمید ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت (بنی گالہ) پہلی فرصت سے پہلے ماضی کے برعکس اِس رپورٹ کا ’سخت نوٹس‘ لے گی کیونکہ خیبرپختونخوا حکومت آئینی مدت کے آخری سال میں داخل ہو چکی ہے اور یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی ہے کہ یہ آخری سال عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ’پانامہ کیس‘ کی وجہ سے مکمل ہو پائے گا!

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں کے بارے میں اعدادوشمار ماہ جون (دوہزارسترہ) کے دوران اکٹھا کئے گئے جن سے معلوم ہوا کہ صوبے کے دورافتادہ اور پسماندہ ترین ضلع ’تورغر (کالا ڈھاکہ)‘ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے یعنی ’تورغر‘ میں پینسٹھ فیصد سرکاری سکولوں کی چاردیواریاں نہیں! اِسی طرح ضلع کوہستان میں ساٹھ فیصد‘ شانگلہ میں چوبیس فیصد‘ بٹ گرام میں اُنیس فیصد‘ مانسہرہ میں پندرہ فیصد‘ چترال وایبٹ آباد میں چودہ فیصد سرکاری تعلیمی ادارے ’چاردیواری سے محروم‘ ہیں۔ بھلا چند کمروں پر مشتمل کسی ایسی عمارت کو ’’سکول‘‘ کا نام (درجہ) ہی کیسے دیا گیا جس کی نہ تو چاردیواری تھی اور نہ ہی وہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی عملاً ممکن بنائی گئی! افتتاحی تختیاں لگانے والوں کی شرمناک کارکردگی کی تشہیر ہونی چاہئے اُور انہیں اِس کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لینے سے نااہل قرار دینا چاہئے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ’’محکمۂ تعلیم‘‘ ملازمتیں فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ملازمتی مواقع فراہم کر رکھے ہیں اور صوبائی وزیر و مشیر اور معاونین سے لیکر نگرانوں اور سکولوں کے عملے تک ہر ایک کردار اپنے اپنے حصے کی تنخواہ اور مراعات حاصل کر رہا ہے! رہی بات تعلیم اور معیار تعلیم کی تو فرد جرم کسی پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ سیاسی حکمران معصوم‘ فیصلہ ساز معصوم‘ اساتذہ اور معاون عملہ معصوم اور اگر کوئی ’’قصوروار‘‘ ہے تو عام آدمی (ہم عوام) جن کے پاس بچوں کو معیاری تعلیم اور ایک ایسے نظم وضبط سے روشناس تربیت دلوانے کے لئے ماسوائے نجی اداروں سے رجوع کرنے کوئی صورت باقی نہیں رہی! اگر خدائی قانون یہ نہیں کہ غریب ہمیشہ غریب رہے تو امیر کے ہمیشہ امیر رہنے اور سیاست کرنے والوں کا وابستگیاں تبدیل کر کے حکمرانی کرنے کا بھی کوئی جواز اور منطق نہیں رہتی۔

خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد طلوع ہوا‘ جس سے قبل محکمۂ تعلیم کے لئے ’سالانہ 61 ارب روپے‘ مختص کئے جاتے تھے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی حکمت عملی (صوبائی بجٹ) میں تعلیم کو ترجیح قرار دیتے ہوئے 61 ارب کے مقابلے سالانہ 138 ارب روپے مختص کرنے کے علاؤہ ’ہنگامی حالت (ایمرجنسی)‘ کا نفاذ کیا کیونکہ بناء تعلیمی ترجیح جمہوریت کی جڑیں مضبوط گہری اور اِس کا حاصل (ثمرات میٹھے) خاطرخواہ نہیں ہوسکتے! صوبائی وزیرتعلیم سے بات کی جائے تو وہ بھی منطقی لگتے ہیں کہ ’’تحریک انصاف کی حکومت میں صوبائی سطح پر تعلیمی اداروں کی جس قدر ضروریات پوری کی گئیں اِس کی ساٹھ سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ عاطف خان مطمئن ہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ اپنے فیس بک پیج پر صوبائی وزیر کا بیان مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہا ہے کہ ’’موجودہ حکومت نے پانچ ہزار سرکاری سکولوں میں بیت الخلاء اور چودہ ہزار سرکاری سکولوں میں چاردیواریاں تعمیر کروائیں!‘‘ عاطف خان نے گنوا دیا کہ صوبائی حکومت نے چودہ لاکھ کرسیاں فراہم کی ہیں جبکہ پانچ ہزار سکولوں میں ہم نصابی سرگرمیوں کے آغاز کا سہرا بھی وہ اپنے سر باندھتے ہیں! صوبائی محکمۂ خزانہ (فنانس ڈیپارٹمنٹ) کی ویب سائٹس پر موجود اعدادوشمار پر نظر کی جائے تو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے گذشتہ چار سال کے دوران سرکاری سکولوں میں سہولیات کی فراہمی پر مجموعی طور سے ’’121 ارب روپے‘‘ خرچ کئے ہیں اور یہ عمل جاری ہے کیونکہ سہولیات کی کمی اِس قدر بڑے پیمانے پر تھی کہ باوجود ایک سو اکیس ارب روپے جیسی خطیر رقم خرچ کرنے کے بھی‘ سرکاری تعلیمی ادارے اپنے قیام جیسی بنیادی سطح سے ایک درجہ بلند نہیں ہوئے۔

سرکاری سرپرستی میں ’’خیبرپختونخوا کا تعلیمی منظر اُور پس منظر‘‘ کسی بھی لحاظ (زاویئے) سے اِطمینان بخش نہیں۔ مالی وسائل میں ’تاریخی اضافہ‘ کرنے کے باوجود بھی اگر بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ہی ممکن نہیں ہوسکی تو آئندہ کسی سیاسی حکومت سے اِس بات کی توقع نہیں کی جاسکے گی کہ وہ باقی ماندہ کام مکمل کرے گی۔ ابھی تو خیبرپختونخوا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے نئے سکولوں کے قیام کی ضرورت کا ادراک اور تعداد پورا ہونا باقی ہے۔ فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ اُنہیں اِضافی محنت (ہوم ورک) کرنا ہوگا کیونکہ سرکاری تعلیمی اِداروں کا وجود اور موجودہ حکومتی کوششیں نتیجہ خیز‘ مبنی برانصاف (کافی) ثابت نہیں ہو رہیں!

Sunday, July 9, 2017

July2017: Examination is the key to measures the Public Schools Standard, performance & Education Reforms in #KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیمی پالیسی: ثمرات بصورت نتائج!

خیبرپختونخوا میں ’تعلیمی اَیمرجنسی‘ کے نفاذ اُور ’انقلابی اِصلاحات‘ کی شرح کامیابی جاننے کے لئے ’امتحانی نتائج‘ سے زیادہ بہتر کوئی دوسری ’غیرمتنازعہ‘ کسوٹی نہیں ہو سکتی۔ سرکاری ہوں یا نجی‘ تعلیمی اِداروں کی کارکردگی اُور معیار تعلیم ’امتحانی بورڈز کی زیرنگرانی سالانہ امتحانات‘ ہی ہو سکتے ہیں۔ رواں ہفتے (پانچ جولائی کے روز) پشاور کے امتحانی بورڈ نے ’سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ (میٹرک)‘ کے سالانہ نتائج کا اعلان کیا جس میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں سے کل ایک لاکھ اُنچاس ہزار دو سو بارہ طلباء و طالبات نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر کامیاب ہونے والوں کی شرح 65فیصد رہی لیکن اِس معلوم خبر میں یہ تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جن تعلیمی اصلاحات کا ’زور و شور‘ سے ذکر کیا تھا‘ اُن کے ’ثمرات بصورت نتائج ظاہر نہیں ہوسکے‘ اُور اگر ہم سرکاری بمقابلہ نجی سکولوں کے امتحانی نتائج کا موازنہ کریں تو نویں اور دسویں (میٹرک) کلاسوں کے لئے ’ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور (انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ)‘ کے حالیہ اِمتحانات (برائے سال دوہزارسترہ) میں کوئی ایک بھی سرکاری سکول سے وابستہ طالب علم ’ٹاپ پوزیشنیں‘ حاصل نہیں کرسکا یعنی باوجود کوشش بھی نمایاں نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل نہ کرنے والوں میں بڑی تعداد سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کی ہے تو کیا یہ المیہ محض ’حسن اتفاق‘ یا صوبائی حکومت کے خلاف سازش (سیاسی چال) قرار دے کر نظرانداز کر دی جائے؟ 

سبھی نمایاں پوزیشنیں نجی تعلیمی اداروں کے حصے میں آنے کا دباؤ کالج کی سطح پر تعلیمی نظام پر پڑے گا! ذرا سوچئے کہ کہ ایک جیسا نصاب تعلیم اور ایک جیسے اوقات کار رکھنے کے باوجود بھی نجی سکولوں کی انتظامیہ اور اساتذہ نے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کیں جبکہ سرکاری سکولوں کی نگران وزارت‘ مشیروں (نجی کنسلٹنٹس)‘ متعلقہ محکمہ اور سکولوں کے انتظامی عہدوں پر فائز لائق فائق و ماہرین تعلیم کا لقب رکھنے والوں کی کارکردگی ’مایوس کن‘ رہی لیکن چونکہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا اِس لئے نہ تو شرمندگی کا احساس ہے اور نہ ہی اِس قسم کے نتائج پر کوئی صاحب ضمیر مستعفی ہونے کا اعلان کرے گا۔ 

ذرائع ابلاغ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر و نمایاں بنانے کا دعویٰ کروڑوں روپے خرچ کرکے شائع کیا گیا لیکن یہ تمام ’شور شرابہ‘ (نمائشی اقدامات) بھی کام نہ آ سکے اُور سب زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سرکاری سرپرستی و نگرانی میں ’شعبۂ تعلیم‘ کی بہتری کے لئے ہر سال پہلے سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی خاطرخواہ ’امتحانی نتائج (ثمرات)‘ اگر حاصل نہیں ہو رہے تو دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ غلطیوں سے رجوع کر لیا جائے اُور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ذمہ داروں کا بناء جھجک تعین کیاجائے۔ سرکاری سکولوں کی حکمت عملی پر نظرثانی الگ سے ضروری ہے کیونکہ اگر نجی سکول کم مالی وسائل کے باوجود بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں تو سرکاری سکولوں کو بھی ٹھیکے پر دیا جا سکتا ہے جس پر مالی خرچ بھی کم آئے گا اور نتائج (حاصل وصول) بھی اثاثہ قرار پائیں گے۔ 

ظاہر ہے کہ ایسا کرنے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی کیونکہ آئین پاکستان کے تحت معیاری تعلیم کی فراہمی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور بس یہ ذمہ داری بناء معیار آئین کی حد تک محدود دکھائی دیتی ہے!
امتحانی بورڈ کے نتائج میں سرکاری سکولوں کی ’خراب کارکردگی‘ پر ہر طرف سکوت طاری ہے۔ محکمۂ تعلیم کے غیراعلانیہ ترجمانی کرنے والے موسم گرما کی تعطیلات پر چلے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا دفاع کرنے والوں کو بھی الفاظ نہیں مل رہے کہ وہ کس طرح (کس منہ سے) صوبائی دارالحکومت پشاور کے سرکاری سکولوں کو ’خراج تحسین‘ پیش کریں جن کی اپنی جگہ یہ کامیابی بھی غیرمعمولی ہے کہ اُنہوں نے کم سے کم طلباء و طالبات کو امتحان کے مراحل تک پہنچایا‘ اب آگے اُن کی قسمت! یادش بخیر سال دو ہزار آٹھ میں قائم ہونے والی اپنی نوعیت کی منفرد اور 342 کے قانون ساز معزز قومی اسمبلی ایوان میں صرف ایک نشست رکھنے والی مقبول ترین سیاسی تجزیہ کار جماعت ’’عوامی مسلم لیگ‘ کے سربراہ شیخ رشید احمد جب وفاقی وزیر برائے کھیل تھے تو پاکستان کی نمائندگی کرنے والی تیراکی کی ایک ٹیم عالمی مقابلوں میں آخری پوزیشن پر آئی۔ ایک صحافی نے شیخ رشید سے اِس انتہائی خراب کارکردگی کے بارے راہ چلتے سوال کیا تو اُنہوں نے سوچ رکھا تھا اور آن کی آن میں جواب صادر فرمایا کہ ’’شکر کرو ہمارے تیراک تالاب میں ڈبکی لگانے کے بعد ڈوب نہیں گئے۔ اگر تیراکی کے مقابلے میں حصہ لینے والے ڈوب جاتے تو سوچو کہ کتنی جگ ہنسائی ہوتی!؟‘‘

 پشاور بورڈ کے امتحان میں ناکامی کوئی پیمانہ نہیں شکر ادا کرنا چاہئے کہ کم نمبروں ہی سے سہی لیکن ایک تعداد میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کامیاب تو ہو ہی گئے ہیں۔ اب صوبائی حکومت کے لئے مسئلہ یہ ہوگا کہ اِنتہائی کم نمبر حاصل کرنے والوں کو مزید تعلیم جاری رکھنے کے لئے کن کالجوں میں بناء میرٹ داخلہ دیا جائے! 

کیا خیبرپختونخوا کو سرکاری سرپرستی کی طرح نجی شعبے میں بھی زیادہ تعداد میں ’وکیشنل انسٹی ٹیوٹس (فنی تعلیم و تربیت کے اداروں)‘ کی ضرورت نہیں؟ 

اگر تحریک انصاف اتنے سارے ہنگامے اور اصلاحاتی شورشرابے کی بجائے نہایت ہی سادگی سے خیبرپختونخوا کے سات ڈویژنوں (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان) میں صرف ایک ایک ’ماڈل سکول‘ ہی بنا لیتی تو چار سالہ کارکردگی میں کم سے کم پانچ ہزار ایسے طلباء وطالبات کی عملی مثال آج پیش کی جا سکتی تھی‘ جنہوں نے سرکاری سکولوں سے استفادہ کرتے ہوئے نجی سکولوں کے مقابلے نمایاں پوزیشنیں حاصل کی ہوتیں۔ تبدیلی نیک نیتی‘ سوچ بچار اور نمائش سے نہیں آتی بلکہ کسی طویل مسافت کو طے کرنے کے لئے پہلا قدم اُٹھانا سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہوتاہے۔ تعلیمی اصلاحات و ترجیحات کے تعین جہاں جہاں کوتاہی ہوئی‘ آئینی مدت کے آخری سال میں اُس کی 100فیصد اصلاح تو اگرچہ ناممکن ہے لیکن ’ہمت مرداں‘ مدد خدا۔‘

Wednesday, June 21, 2017

July2017: Education as business and stacks of lawmakers!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تعلیمی کاروبار!
عرصہ ہوا ’موبائل فون‘ کے کسی مختصر پیغام (شارٹ میسج سروس‘ اَیس اَیم اَیس) کے ذریعے کوئی ’قابل ذکر معلومات‘ ہاتھ آئی ہو۔ اکثر پیغامات بے معنی اور گھسے پٹے لطیفوں یا صبح سے شب بخیر تک نیک تمناؤں اور دعاؤں پر مبنی ہوتے ہیں اور یہی مصرف ’واٹس ایپ‘ و دیگر موبائل میسنجنگ رابطوں کا بھی ہے جہاں گروپوں کی بھرمار میں مقصدیت نجانے کب فوت ہوئی اور دفن کے مقام کا تو کسی کو علم (احساس) بھی نہیں! 

اُنیس جون کی شام یکے بعد دیگرے دو ’ایس ایم ایس‘ پیغامات کے ذریعے معلوم ہوا کہ امتحانی بورڈ میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات نے (اچانک) ایک طویل عرصے کے بعد پہلی بیس نمایاں پوزیشنوں میں اپنا نام درج کروایا ہے۔ سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم نصاب کی حد تک محدود اور درس و تدریس کے عمل میں طلباء و طالبات کی دلچسپی‘ رجحانات‘ قابلیت اور ذہنی سطح کو مدنظر نہ رکھنے کی وجہ سے یہ ادارے نجی سکولوں سے پیچھے چلے آ رہے تھے اور اِس بات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی وزارت تعلیم کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے صحافیوں کو فخریہ طور پر خبر دی گئی کہ ’’حضرات نوٹ فرما لیں کہ تحریک انصاف کی تعلیمی پالیسی کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔‘‘ 

دوسرا ’ایس ایم ایس‘ پیغام بھی محکمۂ تعلیم ہی سے متعلق تھا‘ جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے ’یکساں نظام تعلیم‘ رائج کرنے کے لئے ’نصاب پر نظرثانی‘ کے فیصلے اور اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا ثانوی و بنیادی تعلیم کے محکمے (ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) کی کارکردگی کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ فیصلہ سازوں نے سمجھ لیا ہے کہ جب تک تدریس کے عمل اور نصاب کی کتب کو جدید اصولوں کے قالب میں ڈھالا نہیں جاتا اُس وقت تک سرکاری تعلیمی اِداروں کی ’کارکردگی و معیار‘بصورت امتحانی نتائج بہتر نہیں ہوں گے لیکن کہیں یہ مشکل درپیش نہ آ جائے کہ نصاب کے الفاظ تبدیل کرنے کے بعد اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کی تربیت کا اہتمام کرنا پڑے اور یوں ’برٹش کونسل‘ کی پھر سے لاٹری نکل آئے! تعلیم کے نام پر ’بہتی گنگا میں نہانے‘ والے آخری مالی سال کی صورت ملنے والے موقع کو غنیمت سمجھ رہے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ جس طرح موجودہ حکومت نے ماضی کے حکمرانوں کی کارکردگی اور مالی وانتظامی امور کا احتساب نہیں کیا‘ بالکل اِسی طرح کی ’صلۂ رحمی‘ کا مظاہرہ آنے والے حکمران بھی کریں گے! محکمۂ تعلیم کی جانب سے آنے والی یہ وضاحت اپنی جگہ اہم ہے کہ پانچویں جماعت تک نصاب تعلیم پر نظرثانی کے عمل میں اسباق تبدیل نہیں کئے جا رہے بلکہ ماہرین تعلیم کے مشورے سے الفاظ کے انتخاب میں اِس بات کا بطور خاص جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ’بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق نہایت ہی سلیس انداز اختیار کیا جائے۔‘

نتائج پر مبنی درس و تدریس اور بنیادی وثانوی درجات پر تمام کی تمام تر مالی وسائل مرکوز کرنا (جھونکنا) کافی نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ سرکاری جامعات کی جانب بھی مبذول ہونی چاہئے کیونکہ آئندہ مالی سال (دوہزار سترہ اٹھارہ) کے بجٹ میں سرکاری یونیورسٹیز کی بجائے کالجوں کی بہتری پر زیادہ توجہ دی گئی ہے! اگر ہم آئندہ مالی سال کی ترقیاتی حکمت عملی (اِینول ڈویلپمنٹ پروگرام) کا جائزہ لیں تو چھ ارب (6.320 بلین) روپے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پینسٹھ منصوبوں کے لئے مختص کی گئی ہے جس میں سے 3ارب (3.996بلین) روپے جاری جبکہ 2 ارب (2.323بلین) روپے سے زائد ستائیس نئے منصوبے شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا میں تعلیم کے لئے مختص مالی وسائل میں گذشتہ مالی سال کے مقابلے پندرہ فیصد اضافہ اپنی جگہ لیکن اس کی تقسیم غیرمنصفانہ ہے کیونکہ نئے ترقیاتی منصوبوں میں سرکاری کالجز میں سہولیات کی فراہمی بنیادی نکتہ ہے۔ سرکاری جامعات کی سطح پر اہم فیصلہ یہ سامنے آیا ہے کہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی اُور شرینگل یونیورسٹی چترال کو ضم کر کے مکمل (یونٹ) ’چترال یونیورسٹی‘ تخلیق و تشکیل دے دی جائے۔ سالانہ ترقیاتی حکمت عملی میں اگر یکساں توجہ جامعات کو نہیں دی جائے گی تو اِس سے سرکاری سرپرستی میں اعلیٰ تعلیمی ادارے خدمات کا معیار اور مقدار نہیں بڑھا پائیں گے اور لاٹری نجی اداروں کی نکل آئے گی جو پہلے ہی من مانی فیسیوں کے عوض تعلیم نہیں بلکہ ’امتحانی نتائج‘ فروخت (کاروبار) کر رہے ہیں! 

خیبرپختونخوا میں ’تعلیم اُور کاروبار‘ کو الگ الگ کئے بناء محض مالی وسائل مختص و خرچ کرنے سے بہتری نہیں آئے گی۔ نجی اِداروں کو دی جانے والی غیرتحریری کھلی چھوٹ کا محرک حسن اتفاق بھی ہو سکتا ہے کہ قانون ساز صوبائی اسمبلی کے اراکین اور صوبائی کابینہ میں ایسے کردار موجود ہیں‘ جن کے ذاتی و کاروباری مفادات ’تعلیمی کاروبار‘ ہی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کو امتحانی کارکردگی کی کسوٹی پر ایک درجہ بلند کرتے ہوئے معیار تعلیم اور نظم وضبط مثالی بنا دیا جاتا ہے تو اِس سے نجی اِدارے ٹھپ ہو جائیں گے! وارے نیارے تو بس سانسیں چلنے (حیات) اور آمدنی کے وسائل قائم و دائم رہنے سے ہیں!

Tuesday, June 20, 2017

July2017: Toothless Education Regulatory Authority in KP, not the practical solution!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
دیوانے کا خواب!

اُور جب کھیل سے پہلے ہی ہار مان لی گئی۔ خیبرپختونخوا میں نجی تعلیمی اِداروں سے متعلق ’قانون سازی‘ 23 مئی کے روز کی گئی‘ تاہم ابھی یہ قانون پوری طرح لاگو بھی نہیں ہو پایا تھا کہ ’16 جون‘ (بجٹ پر غوروخوض کے جاری اجلاس کے دوران ہلاگلہ میں) صوبائی اسمبلی نے مذکورہ قانون میں متعدد ترامیم منظور کر لیں‘ جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اب صوبائی حکومت کسی بھی ایسے نجی سکول کو جزوی یا مکمل طور پر بند یا سربمہر نہیں کر سکے گی‘ جو صوبائی حکومت کے مقررہ کم سے کم معیار پر پورا نہیں اُترے گا۔ اِس ترمیم سے قبل قانون کے تحت متعلقہ حکام کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اگر کوئی نجی سکول ضروریات و سہولیات کے مقررہ پیمانے (معیار) پر پورا نہیں اُترتا تو اُس کا اجازت نامہ منسوخ کرتے ہوئے اُسے بند کیا جا سکتا تھا لیکن اِس شق کو تبدیل کرتے ہوئے قانون میں متبادل کے طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کے مرتکب تعلیمی ادارے کے خلاف ’تعزیری کاروائی (Punitive action)‘ کی جائے گی! اِس لمحۂ فکر پر ’دو امور‘ لائق توجہ ہیں۔ نجی تعلیمی اِدارے ’مادرپدر آزاد‘ ہیں‘ جن پر حکومت یا سرکاری قواعد و ضوابط کا خوف طاری نہیں اُور یہ خالصتاً کاروباری اَصولوں پر فعال ہیں۔ اگر سرکاری سکولوں میں نظم وضبط اُور معیار تعلیم بلند ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ سرمایہ داروں کی یوں شعبۂ تعلیم پر ’اجارہ داری‘ قائم ہوتی اور وہ اپنی اِس اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لئے عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرتے! جمہوریت اور قانون سازی کے عمل ہی کو یرغمال بنا لیا جاتا۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی نجی تعلیمی ادارے کے خلاف ’حکومتی تعزیری کاروائی‘ کی کوئی ایک ’عملی مثال‘ بھی موجود ہوتی تو نئی قانون سازی کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے ’خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2017ء‘ کا شمار اُن ’اچھے (مثالی) قوانین‘ میں ہو سکتا تھا‘ جن کا مقصد اجتماعی بہبود اور عوام کے مفادات کا تحفظ ہوتا لیکن صوبائی قانون ساز اسمبلی کی یہ ’شرمناک کارکردگی‘ تاریخ کا حصہ رہے گی کہ پہلے قانون منظور کیا گیا اور پھر اُسے لاگو کرنے سے قبل ہی ’غیرمؤثر‘ کر دیا گیا یعنی قانون کے دانت نکال دیئے گئے جس سے بجا طور یہ تاثر عام ہوا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے اراکین ’نجی تعلیمی اداروں کے مفادات کے محافظ‘ بن کر سوچ رہے ہیں اُور اِنہیں ’نجی تعلیمی اداروں کی دن دیہاڑے کھلم کھلا لوٹ مار‘ دکھائی نہیں دے رہی!


ترمیم کے ذریعے خیبرپختونخوا کے نجی تعلیمی اِداروں کو اِس پابندی سے بھی آزاد کر دیا گیا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ رشتہ دار بچوں کو ’ٹیوشن فیس‘ میں ’پچیس فیصد‘ رعائت دیں گے۔ ترمیم کے ذریعے ’رشتہ دار (Kinship)‘ کی بجائے یہ رعائت صرف بہن بھائیوں (Siblings) کی حد تک محدود کر دی گئی ہے۔ اَگر قانون سازی عام آدمی (ہم عوام) کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہوتی اور آنکھوں میں دھول جھونکنا ہی مقصود نہ ہوتا تو ’ٹیوشن فیس‘ میں (حاتم طائی) رعائت پچیس کی بجائے پچاس فیصد مقرر کی جاتی۔ لائق توجہ امر یہ بھی ہے کہ پچیس فیصد رعائت صرف ’ٹیوشن فیس‘ کی مد میں دی گئی ہے اور نجی تعلیمی اداروں کو اِس بات کا پابند نہیں بنایا گیا کہ 1: وہ ٹیوشن فیس مقرر کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ 2: ٹیوشن فیس سے دیگر اخراجات کسی بھی صورت زیادہ نہیں ہوں گے۔ 3: سردست اگر کوئی نجی سکول ٹیوشن فیس میں رعائت نہیں دیتا تو اُس کے خلاف کاروائی صرف اُسی صورت ممکن ہے جبکہ والدین یا سرپرستوں کی جانب سے شکایت درج کی جائے۔ دانستہ طور پر ایسا کوئی بھی طریقۂ کار (میکانزم) قانون میں درج ہی نہیں کیا گیا جس کے تحت ’نجی اِداروں‘ کے انتظامی امور کی شفاف طریقے سے نگرانی ہو سکے بالخصوص نجی تعلیمی ادارے صرف مجبور والدین ہی کا نہیں بلکہ اَساتذہ (بالخصوص خواتین ٹیچرز) کا بھی اِستحصال کرتے ہیں اُور بھاری ٹیوشن فیسیں و مختلف ناموں سے دیگر وصولیاں کرنے کے باوجود ٹیچنگ و نان ٹیچنگ عملے کے نہ تو ملازمتی اوقات کار و حالات کار باسہولت ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو ’’ملازمتی تحفظ‘‘ حاصل ہوتا ہے۔ نجی اداروں میں اساتذہ سے غلاموں اور لونڈیوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے اور بیروزگاری کے خوف سے اُن کے پاس سوائے یہ غیرقانونی بدسلوکی برادشت کرنے کے کوئی چارہ نہیں ہوتا! آخر یہ بات کیوں ممکن نہیں بنائی جا سکتی کہ کوئی بھی نجی سکول ٹیچنگ و نان ٹیچنگ سٹاف کی خدمات اور انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ بناء حکومتی منظوری (ریگولیٹری) نہیں کر سکے گا اُور کسی بھی صورت جز وقتی (عارضی) ملازمت کی آڑ میں ’ٹیچنگ و نان ٹیچنگ سٹاف (عملے)‘ کا اِستحصال کرنے کی غیرتحریری اجازت نہیں دی جائے گا؟ اِصلاح اَحوال (تبدیلی) و اِرتقاء قوانین بنانے سے نہیں بلکہ قوانین و قواعد پر اِن کی روح کے مطابق بلاامتیاز ’عمل درآمد‘ سے ہوتا ہے۔ اب تو موجودہ حکومت کی آئینی مدت کا صرف ایک سال ہی باقی بچا ہے صوبائی سطح پر ’مفادات سے متصادم‘ قانون کب منظور ہوگا؟ خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایسے معروف و معلوم کردار موجود ہیں جن کے ذاتی و کاروباری مفادات ’نجی تعلیمی اِداروں‘ سے وابستہ ہیں اور یہ کسی ’دیوانے کا خواب‘ ہی ہو سکتا ہے کہ وہ اُمید و یقین رکھے کہ ماضی کی طرح تبدیلی کے داعی موجودہ حکمران عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات کا محافظ بن کر سوچیں گے۔ 


ذرا سوچئے: یقین نہیں آ رہا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھارت کے خلاف ایک بڑے مقابلے کو جس مہارت سے اپنے نام کیا گیا‘ اُس پر اظہار مسرت‘ مبارک بادوں کا تبادلہ‘ ہوائی فائرنگ اُور شکرانہ اپنی جگہ فطری ردعمل ہیں لیکن کامیابی ٹھوس بنیادوں پر منطق اُور جواز چاہتی ہے۔ کیا ہماری کرکٹ ٹیم کی کارکردگی ’قابل بھروسہ‘ اور حقیقت میں فخریہ ہے؟ کیا پاکستان کی کرکٹ ٹیم مستقبل کے عالمی مقابلوں میں بھی ’پاک بھارت فائنل میچ‘ جیسے ’کھیل کا مظاہرہ (معیار برقرار)‘ رکھ پائے گی؟ کرکٹ کے منتظم ادارے ’پاکستان کرکٹ بورڈ‘ میں اعلیٰ عہدوں پر سیاسی بھرتیوں (منظورنظر افراد کو نوازنے کی پالیسی) کا خاتمہ کب ہوگا؟