Showing posts with label Dr Asim. Show all posts
Showing posts with label Dr Asim. Show all posts

Saturday, January 13, 2018

Jan 2018: Medical Education Standard in Pakistan, a road to nowhere!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
مستقبل کی سوچ!
پاکستان میں جس طرح رہائشی اور کاروباری علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہے بالکل اِسی طرح خالصتاً کاروباری نکتۂ نظر سے نجی اِداروں کی حاکمیت کے خلاف ریاست کا وجود بھی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ طب (میڈیکل) جیسے حساس شعبے میں ’اعلیٰ تعلیم‘ کی صورتحال بھی ناقابل بیان ہے جس کا ’اَزخودنوٹس‘ کی سماعت کے دوران (بارہ جنوری کے روز) سپرئم کورٹ نے ’’پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی)‘‘ نامی نگران ادارے کو تحلیل کرتے ہوئے ’’سات رکنی عبوری کمیٹی‘‘ تشکیل دی ہے جو آئندہ کسی حکمنامے تک روزمرہ امور کی انجام دہی کرے گی۔ 

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ایم ڈی سی کے وجود اور ’سنٹرل ایڈمیشن پالیسی‘ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جو سات رکنی عبوری کمیٹی تشکیل دی اُس کی سربراہی جسٹس شاکر اللہ جان کریں گے جبکہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ’پی ایم ڈی سی‘ سے متعلق قانون سازی میں معاونت کی غرض سے کمیٹی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ اِس اعلیٰ اختیاراتی عبوری کمیٹی کو نجی میڈیکل کالجوں کی جانچ پڑتال (انسپکشن) کا اختیار بھی حاصل ہوگا‘ جو خوش آئند اقدام ہے اُور اُمید ہے کہ سپرئم کورٹ کی اِس دلچسپی اور باریک بین خلوص نیت کوشش سے خاطرخواہ بہتری آئے گی۔ ’’سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے۔۔۔ پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے۔ (جان ایلیا)۔‘‘

پاکستان میں رجسٹرڈ طبی معالجین کی تعداد ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اور ماہر (اسپیشلسٹ) ڈاکٹروں کی تعداد سینتالیس ہزار ہے جبکہ پچیس ہزار ماہر ڈاکٹر پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں! 

زوال نہیں تو کیا ہے کہ معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے‘ ذہین‘ باشعور‘ مفید اور زمینی حقائق کو سمجھنے والوں نے خود کو انجان بنا رکھا ہے اور وہ ایک ایسے ماحول سے دل برداشتہ ہیں جسے ٹھیک کرنا خود اُنہی کی ذمہ داری ہے۔ ’طب کی تعلیم کا انتظام اور اِس کا معیار برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ اِس سے آئینی فرض سے انکار ممکن نہیں لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے سب کچھ حکومت پر ڈال دیا ہے۔ سرکاری خرچ پر ڈاکٹری کی عملی تربیت اور مہارت حاصل کرنے کے بعد جو ڈاکٹر پاکستان کو چھوڑ کر جاتے ہیں‘ انہیں اپنے ضمیر کے سامنے بھی جواب دینا چاہئے کہ اُن پر مٹی کا کتنا قرض واجب الاداء ہے۔ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ پچیس ہزار سے زائد ڈاکٹر بیرون مل جانے کے باوجود بھی حکومت کو نہیں بلکہ عدالت عظمی کو لاحق تشویش سامنے آئی ہے۔ اگر مذکورہ پچیس ہزار ڈاکٹر بیرون ملک نہ بھی گئے ہوتے تب بھی پاکستان میں ماہر ڈاکٹروں کی تعداد حسب آبادی کم ہے جس پر قابو پانے کے لئے حکومت کے پاس منصوبہ بندی نہیں۔ ڈاکٹر اگر بیرون ملک جا رہے ہیں تو اس کی وجہ وہاں کے بہتر ملازمتی طریقۂ کار اور حالات کار ہیں جن میں اُنہیں مالی طور پر کشش دکھائی دیتی ہے۔ 

پاکستان میں ڈاکٹروں کو جان و مال اور ملازمتی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ اہلیت کی بنیاد پر اگر محکمانہ ترقی کا نظام وضع کر دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ کوئی اپنا ملک اور آبائی شہر چھوڑ کر چلا جائے۔
سپرئم کورٹ کے سامنے زیرغور معاملہ ’طب کی تعلیم‘ اور ’نجی اداروں کی من مانیوں‘ کا ہے۔ عدالت عظمی نے بظاہر عزم کر رکھا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم دینے کے لئے مقرر کردہ فیسوں سے زائد وصولیاں کرنے اور ایڈمیشنز دینے کے لئے عطیات پر عائد پابندی کا کھلم کھلا مذاق اڑانے والوں سے نمٹا جائے گا اُور اِس عدالتی مؤقف کی حمایت خود ’پی ایم ڈی سی‘ کے وکیل نے بھی کی ہے کہ ’نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے مقررہ شرح کے مطابق داخلہ فیسیوں اور اِن کے علاؤہ عطیات کے نام پر وصولیاں غلط اقدام ہے۔‘ پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل کی سالانہ فیس 6 لاکھ 42 ہزار روپے مقرر ہے جبکہ نجی میڈیکل کالجز فی طالب علم سالانہ فیس کی مد میں 9 سے 15 لاکھ روپے وصول کر رہے ہیں۔ سالانہ فیسوں اور دیگر مدوں میں اضافی وصولیاں کرنے والے باقاعدہ رسیدیں دی جاتی ہیں۔ 

پاکستان میں طب کی تعلیم کا معیار اُور نجی اداروں کی حاکمیت و سرپرستی بدقسمتی سے دانستہ طور پر کی جا رہی ہے اور حکومتوں نے ہمیشہ عوام کے مقابلے سرمایہ داروں کے مفادات کا زیادہ تحفظ کیا ہے۔ یہ طرزعمل ناقابل قبول ہے۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والوں کو عملی زندگی میں جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے نجی میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات اُن کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر پاکستان میں ڈاکٹروں اور ماہر ڈاکٹروں سمیت آبادی کے تناسب سے طبی سہولیات کی کمی ہے تو اِس میں اضافہ حکومتی وسائل سے خود حکومت ہی کو کرنا چاہئے۔ 

عمومی تعلیم کی طرح طب کی پیشہ وارانہ تعلیم بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پیدا ہونے والی خرابیوں پر تعجب کا اظہار کرنے کی بجائے غلطی سے رجوع ضروری ہے اور ایسے تمام نجی میڈیکل کالجز جو ’پی ایم ڈی سی‘ کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اُترتے اُنہیں بناء رعایت ختم میں تاخیر و کوتاہی کا ازالہ ہونا چاہئے! معاملہ سالانہ فیسوں کی زائد وصولی سے زیادہ گھمبیر ہے کیونکہ طب کی تعلیم کا معیار بھی گر رہا ہے۔ 

ذرائع ابلاغ میڈیکل کی تعلیم سے جڑی بے قاعدگیوں کی مسلسل رپورٹ کرتے آ رہے ہیں لیکن ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی (پارلیمینیٹرین) سے تعلق رکھنے والے اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دست راست (ڈاکٹر) عاصم حسین اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی موجودہ میں کسی کا احتساب کا خوف نہیں۔ جب تک اربوں کی اِس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی جڑ تک نہیں پہنچا جائے گا اور ماضی و حال میں کی گئی خردبرد (فنانشیل کک بیکس) ضبط نہیں کئے جائیں گے‘ اُس وقت تک معاملات کی درستگی محض عدالتی سماعتوں اور عبوری انتظامیہ تعینات کرنے سے ممکن نہیں ہوگی۔ 

سمجھ لیجئے کہ خواہش اور عدالت چاہے جتنی اور جس قدر بھی بڑی ہو لیکن بناء ’سزا و جزا‘ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے کڑے احتساب‘ مالی بدعنوانیوں اور انتظامی بے قاعدگیوں کے جاری سلسلے روکے نہیں جا سکیں گے۔
۔

Wednesday, September 23, 2015

Sep2015: Political criminals!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
چور دروازے‘ کھڑکیاں‘ روشندان!
کیا معاملات طے پا چکے ہیں؟ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن آصف علی زرداری کے ایک قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کو مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے جن درجنوں مقدمات کا سامنا ہے اگر اُن کے ’شریک جرم‘ پر ہاتھ ڈالے بغیر ڈاکٹر عاصم کو پہلے مرحلے میں علیل اور دوسرے مرحلے میں ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے‘ تو پاکستان کی اس سے زیادہ بڑی بدقسمتی نہیں ہو گی۔ بنیادی خرابی یہ ہے کہ ہمارے ہاں خائن و بددیانتی کرنے والوں کے لئے قانون کے اطلاق اور انصاف تک رسائی کے مراحل میں ’چور دروازے‘ موجود ہیں جنہیں خود سیاست دانوں ہی نے قوانین بناتے ہوئے چھوڑا ہے اور ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِن چور دروازوں‘ کھڑکیوں اُور روشندانوں کو ختم کرنے کے لئے آئین کی اصلاحات بلکہ تطہیر کی جائے بصورت دیگر چاہے ’نیشنل ایکشن پلان‘ کتنا ہی جامع کیوں نہ ہوں اس کے ذریعے سیاست اور دہشت گردی و جرائم کے درمیان گہرے تعلق کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

بائیس ستمبر کے روز سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کو اچانک دل کی تکلیف کے باعث نجی ہسپتال منتقل کیا گیا‘ جہاں انہیں مختصر وقت کے لئے اپنی بیوی سے ملنے کی اجازت بھی دی گئی۔ یاد رہے کہ اِس سے قبل بھی ڈاکٹر عاصم طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے ہسپتال منتقل ہونے کی درخواست کر چکے ہیں لیکن اُن کے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وہ تندرست ہیں! منگل کی سہ پہر ہسپتال منتقلی کے بعد سرکاری خرچ پر ڈاکٹرعاصم کا ایکو‘ اِی سی جی اُور سینے کے اَیکسرے کئے گئے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہمارے ہاں جھوٹے بیماروں اور بالخصوص ’اعلیٰ و بالا شخصیات‘ کو ایسے امراض لاحق ہوتے ہیں‘ جن کا علاج سرکاری خرچ پر بیرون ملک سے کروایا جاتا ہے اور اگر اپنے ملک میں بھی علاج کیا جائے تو انہیں بہترین سہولیات مہیا کی جاتی ہیں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کیا ’قومی ادارہ برائے امراض قلب‘ سے رجوع کرنے والے کسی عام شخص کا علاج بھی اسی مستعدی‘ توجہ اور اِسی قدر نگہداشت کے ساتھ کیا جاتا؟

پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کھرب پتی بننے والے دس افراد میں شامل ڈاکٹر عاصم پر صرف یہ الزام نہیں کہ اُنہوں نے مشیر پیٹرولیم کے عہدے پر فائز عرصے کے دوران اپنے اختیارات کی وجہ سے ہزاروں ارب روپے کے مالی فوائد حاصل کئے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا بلکہ ’سندھ رینجرز‘ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’مالی بدعنوانی میں ملوث سیاسی کرداروں نے کراچی (شہر) سمیت سندھ کے جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے ساتھ روابط قائم کر رکھے ہیں اور سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو ختم کرنے میں ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری ایک اہم پیشرفت ہے‘ جس پر پیپلزپارٹی کی قیادت کا آگ بگولہ ہونا ایک فطری عمل ہے۔ وہ پھندا جو ڈاکٹر عاصم کے سر پر تلوار کی صورت لٹک رہا ہے اُس کی گرفت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری بھی محسوس کر رہے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ بوکھلاہٹ میں اُنہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ قبائلی علاقوں (فاٹا) سے کراچی تک پورا ملک بند کروا دیں گے اور فوج کا نام لئے بغیر بطور اشارہ یہ بھی کہا کہ اُن کی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی صلاحیت رکھتی ہے‘‘ لیکن یہ بیان داغنے کے بعد اُنہیں متحدہ عرب امارات منتقل ہونا پڑا۔ خود کو عوام کی پارٹی کہنے والی سیاسی جماعت کے کئی اراکین کو اُن کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’’زرداری صاحب کے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ فوج کی اینٹ سے اینٹ بجائیں گے اور نہ ہی وہ احتساب کے عمل سے خوفزدہ ہیں۔‘‘ حقیقت یہی ہے کہ اگرچہ احتساب کی گرفت میں صرف چند سیاسی کردار ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن بات کہیں نہ کہیں سے تو شروع کرنا ہی تھی۔ جب سندھ رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے جرائم میں ملوث کارکنوں (سیکٹر اراکین) پر ہاتھ ڈالا گیا اور متحدہ کے صدر دفتر (نائن زیرو) کی تلاشی کے دوران انتہائی مطلوب جرائم پیشہ افراد اور غیرملکی اسلحے کے انبار برآمد ہوئے‘ تو یہ عوامی دباؤ سامنے آیا تھا کہ کراچی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے اور یہی وجہ تھی کہ چھبیس اگست کے روز گرفتاری اُور ستائیس اگست کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے انہیں 90روز کے لئے ’رینجرز‘ کے حوالے کیا تاکہ اُن سے شریک جرم افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہو سکے۔ ابھی ڈاکٹرعاصم بمشکل ایک مہینہ بھی کاٹ نہیں پائے کہ اُنہیں بیماریاں لاحق ہونے لگی ہیں! جب قومی خزانہ لوٹ رہے تھے تو تندرست و توانا تھے۔ جب نجی میڈیکل کالجوں کے قیام کی اجازت اُور اُن کے قواعد میں نرمی کے عوض اربوں روپے بطور رشوت لے رہے تھے‘ اُس وقت اُنہیں کوئی بیماری لاحق نہیں تھی! رینجرز کے بقول ۔۔۔’’ڈاکٹر عاصم کراچی کے میٹھا رام ہسپتال کی ذیلی جیل میں زیرِ حراست تھے جہاں چوبیس گھنٹے ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں اُن کی دیکھ بھال کرتے رہے لہٰذا اُنہیں کسی اضافی طبی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر عاصم کی تمام اراضی کے ماسٹر پلان اور ان اراضیوں پرتعمیرات کی قانونی حیثیت کی جانچ پڑتال جاری ہے اور کراچی میں ان کے ہسپتالوں کی تفصیلات بھی کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے طلب کر لی گئیں ہیں۔‘‘ ڈاکٹر عاصم ایک پیچیدہ معمہ ہے‘ جسے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن اُن کی لالچ و حرص صرف انفرادی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اِس سے حصہ داری پانے والوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے۔ سال 2009ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سندھ سے سینیٹر (قانون ساز ایوان بالا کے رکن) منتخب ہونے کے بعد اُنہیں سال 2012 ء میں ’’وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل‘‘ اُور ’’وزیراعظم کا مشیر برائے پیٹرولیم‘‘ جیسے اہم عہدوں پر فائز کیا گیا۔ 2012ء میں انہیں سینیٹ سے اس وقت مستعفی ہونا پڑا جب سپرئم کورٹ نے دہری شہریت پر اراکین پارلیمان کو نا اہل قرار دیا تھا کیونکہ وہ ’کینیڈا کی شہریت‘ بھی رکھتے ہیں! پیپلز پارٹی نے انہیں سال 2013ئکے عام انتخابات کے بعد صوبہ سندھ کے ’’ہائر ایجوکیشن کمیشن‘‘ کا چیئرمین مقرر کیا اور جب اُنہیں گرفتار کیا گیا تو وہ اِسی ہائرایجوکیشن کمیشن کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے!

تصویر کا دوسرا‘ زیادہ بھیانک رُخ ملاحظہ کیجئے کہ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے بعد پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکی ہے اور پارٹی و صوبائی کابینہ کے اجلاس بھی وہیں طلب کئے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ’متحدہ عرب امارات‘ کا ہی اِنتخاب کیوں کیا گیا؟ سندھ رینجرز کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق امریکہ حکومت کے خفیہ اِدارے ’سی آئی اے‘ کا دفتر متحدہ عرب امارات میں قائم ہے اُور پیپلزپارٹی اپنے امریکی تعلقات کے بل بوتے پر ڈاکٹر عاصم کا معاملہ رفع دفع کرنا چاہتی ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال ہے کہ جب پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمینٹ کے سامنے اپنا احتجاجی دھرنا کسی صورت ختم کرنے سے انکار کردیا تو پشاور کے ایک سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے ایک سو پچاس سے زائد زندگیاں ختم کردی جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے اور تحریک انصاف کی قیادت کو مجبوراً 126دن جاری رہنے والے اجتجاجی دھرنے کو ختم کرنا پڑا۔ ڈاکٹرعاصم کی ایک کڑی سے پیپلزپارٹی کی شریک جرم قیادت‘ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین اور معروف کاروباری شخصیات کی بدعنوانیاں جڑی ہوئی ہیں! جنہوں نے قومی وسائل اور امن وامان کو جھکڑ رکھا ہے۔ رینجرز کے اعلیٰ عہدیدار کے لہجے میں تلخی امنڈ آئی جب اُنہوں نے کہا کہ ’’روپوش ملک دشمنوں سے چھٹکارہ حاصل کئے بناء چارہ نہیں رہا‘ چاہے (خدانخواستہ) اِس کی ’آرمی پبلک سکول پشاور‘ سے بھی زیادہ بڑی قیمت ہی کیوں نہ اَدا کرنی پڑے‘ یہ فیصلہ کن گھڑی ہے۔ ایسے تمام چور دروازوں‘ کھڑکیوں اور روشندانوں کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہی پڑے گا۔ قومی وسائل کو لوٹنے اور قومی اِداروں کی تباہی اور اٹھارہ کروڑ عوام کی غربت و اقتصادی مشکلات کا سبب بننے والے کسی رو رعائت یا آئینی حقوق یا انسانی ہمدردی کے مستحق نہیں ہونے چاہیئں
PPPP using America pressure to get release of Dr.Asim, arrested on corruption charges