Showing posts with label Supreme Court of Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Supreme Court of Pakistan. Show all posts

Sunday, October 7, 2018

Translation: Change by Dr. Farrukh Saleem

Change
تبدیلی
عالمی بینک کی جانب سے ’’بدعنوانی‘‘ کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ۔۔۔ ’’کوئی فیصلہ ساز اپنے عہدے سے جڑے اختیارات کا ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرے تو ایسے عمل کو بدعنوانی کہا جائے گا۔‘‘ چند برس قبل کی بات ہے جب ورلڈ بینک نے پاکستان میں کی جانے والی سرکاری (حکومتی) خریداری سے متعلق اعدادوشمار جاری کئے تھے اور اُن کے مطابق پاکستان اپنی مجموعی آمدنی کا 19.8 فیصد یعنی قریب 60 ارب ڈالر مختلف قسم کی خریداریوں پر خرچ کرتا ہے۔ یہ امر اِس لئے لائق توجہ ہے کہ سالانہ خریداری کا حجم تیس سے ساٹھ فیصد کے درمیان ہے اور یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ خریداری کے اِس عمل میں سالانہ کم سے کم ’18 ارب ڈالر‘ اور زیادہ سے زیادہ ’36 ارب ڈالر‘ خردبرد ہوتی ہے۔

پاکستان پبلک پریکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے بانی نگران (فاؤنڈنگ منیجنگ ڈائریکٹر) کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان کو کسی بھی ملکی یا غیرملکی مالیاتی ادارے یا حکومت سے قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی اگر ہم صرف اپنی قومی سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف بنائیں اور اِس عمل میں ہونے والی بدعنوانیوں کو روک لیں۔‘‘ تصور کیجئے کہ امریکی حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر انسداد منشیات کی حکمت عملی سے متعلق (نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹیجی) رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے سالانہ 10 ارب ڈالر کے مساوی سرمایہ غیرقانونی ذرائع (منی لانڈرنگ) سے بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ کسی بھی طور معمولی رقم نہیں کیونکہ اگر ہم گذشتہ 10 برس کے دوران ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگائیں تو یہ رقم 100 ارب ڈالر بن جاتی ہے!

پاکستان سے ہونے والی سالانہ اس قدر بڑی چوری کو سمجھنے کے لئے بڑا حساب داں ہونا ضروری نہیں بلکہ ریاضی کے ابتدائی قواعد سے آشنائی رکھنے والا بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ جو سرمایہ پاکستان سے ہر سال چوری ہو رہا ہے دراصل یہی پاکستان میں پائی جانے والی غربت اور اقتصادی مسائل کا سبب ہے۔ رواں برس پاکستان کو درآمدات کے لئے 26 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے لیکن ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر اس قدر نہیں۔ دوسری طرف پاکستان اپنی قومی ضروریات کے لئے جن اشیاء کی خریداری کرتا ہے اُس میں ہونے والی خردبرد درآمدات کے مجموعی حجم سے زیادہ بنتی ہے۔ پاکستان پر بیرونی قرضے کا بوجھ 95 ارب ڈالر ہے اور 10 برس میں 100 ارب ڈالر غیرقانونی ذرائع (منی لانڈرنگ) سے بیرون ملک منتقل کیا گیا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر پاکستان سرکاری خریداریوں میں ہونے والی مالی بے قاعدگیوں کو روک لے اور غیرقانونی ذرائع (منی لانڈرنگ) کے ذریعے یہاں سے سرمائے کی بیرون ملک منتقلی نہ ہو‘ تو پاکستان کے اقتصادی مسائل ختم ہو جائیں گے اور یہ ایک ایسا ملک بن جائے گا جس کا خزانہ اُس کی ضروریات سے زیادہ سرمائے سے بھرا ہوگا۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت ایک ایسی سیاسی جماعت کو ملی ہے جو ’’نظام کی تبدیلی‘‘ اور ’’طرزحکمرانی میں اصلاح‘‘ کا عزم رکھتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف پر عزم ہے کہ وہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کرے گی اور بدعنوانی کا خاتمہ موجودہ وفاقی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ صرف سیاسی حکومت ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں یہ بات بھی پہلی مرتبہ ہو رہی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان بھی ’بدعنوانی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘ اصل تبدیلی یہی ہے کہ 71 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم اور پاکستان کا چیف جسٹس (حکومت کے دو اہم جز) ایک جیسا لائحہ عمل رکھتے ہیں کہ وہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ بات بھی پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہی ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) ملکی تاریخ کی سب سے بڑی بدعنوانی کا معمہ حل کر رہی ہے اور اب تک ایسے 77 بینک اکاونٹس کا بھانڈا پھوڑا گیا ہے‘ جن کے ذریعے پاکستان سے باہر سرمایہ منتقل کیا گیا اور یہ کام کرنے والوں میں جن بااثر افراد کا نام آ رہا ہے اُن میں سابق صدر پاکستان‘ آصف علی زرداری کا نام نامی بھی شامل ہے جنہوں نے ممکنہ اور مبینہ طور پر جعل سازی سے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کئے!

جن لوگوں کو تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی وہ کراچی کے حالات پر نظر کریں جو پاکستان کی آمدنی کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اب اِس تجارتی و صنعتی اور کاروباری مرکز کے فیصلے برطانیہ یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھنے والوں کے ہاتھ میں نہیں اور نہ ہی غنڈا راج ہے‘ جو کراچی کے وسائل اور عوام پر حکمرانی کرے۔ فیصلہ ساز تبدیلی کے خواہاں ہیں اور قومی ادارے تبدیلی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ اصل مجرم وہ ہیں جو بااثر ہیں اور جنہوں نے اپنے آپ کو سرمائے اور سیاست کے پیچھے چھپا رکھا ہے۔ عوام کی نظر میں تبدیلی اُس دن آئے گی جب مالی بدعنوانوں اور پاکستان کے مالیاتی نظام کو تباہ و برباد کرنے والوں کو سزائیں ملیں گی اور بدعنوانی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کئے گئے سرمائے سمیت پاکستان کے اندر موجود مشکوک آمدنی سے حاصل کردہ اثاثے ضبط کئے جائیں گے۔ جب قوانین سے استثنیٰ رکھنے والوں کا احتساب ہوگا جب حکومت بڑے چوروں کو سزائیں دے گی۔ عوام ایسی حقیقی اور عملی تبدیلی کے منتظر اور متمنی ہیں۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Tuesday, August 21, 2018

Aug 2018: Monopoly of Private Medical Colleges & an ugly role of PMDC!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

میڈیکل کالجز: فیسوں میں اضافہ!

طب کی اعلیٰ تعلیم پر ’نجی شعبے‘ کی حکمرانی کے جاری دور کا خاتمہ کسی صورت (بذریعہ تدبیر و تدبر) نہیں ہو رہا۔ حتیٰ کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان‘ کی جانب سے مالی و اِنتظامی ’بے قاعدگیوں‘ کا نوٹس لیا گیا لیکن اِس کے باوجود بھی نگران ادارہ (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ’پی ایم ڈی سی‘) اُور ’نجی میڈیکل کالجز‘ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ پرائمری سے مڈل‘ سیکنڈری‘ ہائر سیکنڈری اور گریجویشن تک ’تعلیم‘ کے ہر شعبے پر ایسے ہی سرمایہ کاروں کی اجارہ داری ہے جنہوں نے ایک پاؤں نجی کاروبار اور دوسرا پاؤں سیاست میں گھسا رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قانونی اور عدالتی چارہ جوئی کے باوجود بھی صورتحال میں تبدیل نہیں ہو رہی۔19 اگست کو قوم سے پہلے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’وہ وزارت عظمیٰ کے دوران نجی کاروبار نہیں کریں گے۔‘‘ لیکن کیا وہ اپنی جماعت کے دیگر اراکین کو بھی روک سکیں گے جو انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے قومی فیصلہ سازی پر مسلط ہیں!؟

کیا یہ اَمر باعث تشویش نہیں کہ پاکستان کی سب بڑی عدالت (سپرئم کورٹ) کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی مداخلت کے باوجود بھی میڈیکل کالجوں کے نگران ادارے ’’پی ایم ڈی سی‘‘ اور ’’پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹیٹیویشن (پی اے ایم آئی)‘‘ نے مل بیٹھ کر فیصلہ کر لیا کہ ۔۔۔ ’’داخلہ فیسوں کی شرح میں اضافہ کر دیا جائے۔‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ جن قومی اداروں کو عوام کے مفادات کا محافظ ہونا چاہئے‘ لیکن وہ نجی اداروں کے کاروباری مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں! اِس صورت میں عدالت کی جانب سے دباؤ اور تشویش کا اظہار بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ میڈیکل کالجز کی سالانہ فیس 8لاکھ سے 9لاکھ 50ہزار تک بڑھادی گئی ہے‘ جس کے بعد ہر طالب علم کو (تعلیمی سیشن 2019ء) سے داخلے کی مد میں (اضافی) پچاس ہزار روپے اور پانچ فیصد ٹیکس اَدا کرنا ہوگا یعنی نہ صرف میڈیکل کالجز کو مقررہ فیس پر پچاس ہزار روپے اضافی وصول کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے بلکہ طلباء و طالبات پر پانچ فیصد ٹیکس کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے جس کی رقم بھی قریب پچاس ہزار روپے ہی بنتی ہے! ٹیکس اور وہ بھی تعلیم پر ٹیکس‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ 

اِس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ میڈیکل کالجز میں زیرتعلیم طلباء و طالبات کے والدین یا سرپرستوں کے پانچ سال پر مشتمل مالی استعداد سے متعلق اسناد بھی طلب کی جائیں اور انشورنس سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا لازمی ہوگا۔ نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لئے والدین کی ’مالی استعداد‘ معلوم کرنے کا تعلق قطعی طور پر فیسوں میں اضافے سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ تو ایک الگ ضرورت ہے۔ صرف نجی میڈیکل کالجز ہی نہیں بلکہ دیگر ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں عمومی درس و تدریس سے لیکر پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم تک لاکھوں روپے فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور اصولی طور پر اِن معاملات کا ’ایف بی آر(FBR)‘ کو جائزہ لینا چاہئے کہ بھاری فیسیں ادا کرنے والے والدین کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ پاکستان میں بدعنوانی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے صارفین کے اخراجات اور اثاثہ جات معلوم لیکن ’ذرائع آمدن‘ نامعلوم ہیں!

خودمختار’پی ایم ڈی سی ‘کی جانب سے فیسوں میں اضافے کو دیگر فیصلوں کی آڑ میں پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ والدین کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ اضافی پانچ فیصد ٹیکس دیا جائے اور سنٹرل پالیسی نظام کے تحت آئندہ سے داخلے دیئے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ نجی میڈیکل کالجز کے معاملات گزشتہ برس (2018ء) دسمبر سے موجودہ چیف جسٹس پاکستان کی عدالت میں زیرسماعت ہیں‘ جنہوں نے ’نجی میڈیکل کالجز‘ کی جانب سے داخلہ وصولیوں اور ایڈمیشن پالیسی سے متعلق خبروں اور والدین کی شکایات کا ’’ازخود نوٹس‘‘ لیا تھا‘ جس کے بعد اُمید ہو چلی تھی کہ صورتحال تبدیل ہوگی۔ توقع تھی کہ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم خطے کے دیگر ممالک (بھارت‘ چین‘ روس اور ایران) کے مقابلے صرف زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے تو اِس میں کمی ہو گی اور غیرمعیاری نجی میڈیکل کالجز کا خاتمہ عملاً ممکن ہوگا۔ اخبارات میں خبروں اور تجزئیات کی اشاعت اور عوام کو اُمید دلانے کی حد تک تو سپرئم کورٹ نے یقیناًاپنا ہدف حاصل کر لیا لیکن نئے تعلیمی سیشن (دو ہزار اُنیس) کے لئے جب والدین کو ایک لاکھ روپے اضافی ادا کرنا پڑیں گے تو اُن پر ’سپرئم کورٹ‘ اور ’انصاف و قانون‘ کی حقیقت واضح ہو جائے گی! 

عدالت عظمیٰ نے ’پی ایم ڈی سی‘ رجسٹرار سے رپورٹ طلب کی تھی اور ریمارکس دیئے تھے کہ بغیر جواز فیسوں میں اضافے کی اجازت نہ دی جائے چونکہ ’’جواز‘‘ کے امکان کو رکھا گیا تھا جس کا فائدہ ’رجسٹرار‘ نے بخوبی اٹھایا ہے اور وکلاء ثابت کردیں گے کہ اُس نے توہین عدالت بھی نہیں کی! 

آٹھ سال گزرنے کو ہیں اور موضوع ہے کہ پرانا نہیں ہورہا۔ مجموعی طور پر سپریم کورٹ نے 2010ء میں میڈیکل کالج کی فیسوں سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا اور بعدازاں فیصلہ سامنے آیا کہ ہر طالب علم سالانہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے ادا کرے گا ‘جس میں زیادہ سے زیادہ 7فیصد سالانہ اضافے کی اجازت ہو گی۔2013ء میں نجی میڈیکل کالجز 6لاکھ 42ہزار تک فیس وصول کر رہے تھے اور قانونی ضرورت تھی کہ میڈیکل کالج تدریس کے ساتھ 150بیڈز کا ’’مفت تدریسی (ٹیچنگ) ہسپتال‘‘ کی سہولت بھی فراہم کرے گا‘ جس سے طلباء و طالبات کو عملی تربیت کے ساتھ عوام کو صحت کی سہولیات میسر آئیں گی لیکن نجی میڈیکل کالجز کی بڑی تعداد سرکاری علاج گاہوں سے استفادہ کر رہی ہے‘ جہاں پہلے ہی حکومت کی جانب سے سالانہ بجٹ دیا جاتا ہے۔ سال 2016ء میں میں ’پی ایم ڈی سی‘ نے داخلوں کا ’’سنٹرل انڈکشن نظام‘‘ متعارف کرایا تھا تاکہ نجی کالجز کو طالب علموں سے من مانی وصولیاں روکی جا سکیں لیکن نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے ’پی ایم ڈی سی‘ کا اِس نظام کو مسترد کرتے ہوئے عدالت سے حکم امتناعی (اسٹے آرڈر) حاصل کرلیا گیا۔

2017ء میں ایک مرتبہ پھر ’پی ایم ڈی سی‘ نے نجی میڈیکل کالجز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا اور فیصلہ سامنے آیا کہ سالانہ فیس 6لاکھ 42ہزار سے بڑھا کر 8لاکھ روپے کردی جائے اور اسی رقم میں طالب علم کو قیام و طعام‘ ٹرانسپورٹ اور لائبریری سمیت درس و تدریس سے جڑی جملہ سہولیات فراہم کی جائیںیعنی 8 لاکھ روپے سے اضافی فنڈز طلب نہ کئے جائیں۔ ساتھ ہی نجی کالجز کو ہدایت کی گئی کہ طلباء و طالبات کو ’’سنٹرل انڈکشن نظام‘‘ کے تحت ہی داخلہ دیں۔ نئی شرح داخلہ فیسوں کے مطابق نجی میڈیکل کالج کے ہر طالب علم کو سالانہ 9لاکھ 50روپے ادائیگی کرنا ہوگی جبکہ اِس کے علاؤہ الگ سے (ایک مرتبہ) 50ہزار روپے داخلہ فیس اور ایک ہی مرتبہ داخلہ فیس پر پانچ فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ گویا میڈیکل کالجز بیٹھے بٹھائے فی طالب علم پچاس ہزار روپے مقررہ فیس کے علاؤہ وصولی کریں گے جبکہ وہ پہلے ہی داخلہ فارم کی فروخت سے لاکھوں روپے کما چکے ہوتے ہیں! 

نئی داخلہ پالیسی ’اکتوبر 2018ء‘ سے فعال تصور ہوگی اور اس کا اطلاق اُن تمام ’طلباء و طالبات پر یکساں‘ پر ہوگا جنہوں نے ماضی میں بھی داخلہ لے رکھا ہے لیکن تاحال ’ایم بی بی ایس‘ اور ’بی ڈی ایس‘ کی تعلیم مکمل نہیں کی! طب کی اعلیٰ تعلیم ’’حکیمانہ فعل ‘‘ہے‘ جسے نجی شعبے کے حوالے کرنے جیسے ’’ظالمانہ‘ اقدام ‘‘کی اصلاح اب اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ ’وزیراعظم عمران خان‘ ہیں! جنہیں عدالت عظمیٰ جیسی بلندمرتبت ’’اتھارٹی ‘‘کی ناکامی کے بعد ’’اُمید کی آخری کرن‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے!

Wednesday, May 9, 2018

May 2018: Supreme Court of Bahria Town, effort to reform the real estate business!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
عوامی مفاد: متضاد کردار!
پاکستان میں جائیداد کی خریدوفروخت کے سلسلے کو نئے اِمکانات سے روشناس کرانے والے ایک اِدارے نے ’بحریہ ٹاؤن‘ کے نام سے ’اُنیس سو چھیانوے‘ میں رہائشی و تجارتی منصوبے کا آغاز کیا جو پھلتے پھولتے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے ایشیاء میں جائیداد کی خریدوفروخت کا سب سے بڑا نجی اِدارہ اُور فقیدالمثال بن گیا۔ کون نہیں جانتا کہ ’اُنیس سو نوے‘ میں چھوٹے پیمانے پر جائیداد کی خریدوفروخت کرنے والے ’ملک ریاض حسین‘ نے کس طرح ملکی اداروں‘ قوانین اور قواعد کو ذاتی مفاد کے لئے پائمال کرتے ہوئے اپنے اثاثہ جات میں اضافہ کیا۔ جس طرح ہر خوش بختی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے بالکل اِسی طرح پاکستان میں ہر کامیاب کاروبار کے درپردہ لازمی کوئی نہ کوئی قانون شکنی ہوتی ہے اُور ’بحریہ ٹاؤن‘ کے معاملے میں یہ قانون شکنی ہر حد کو عبور کر گئی!

بحریہ ٹاؤن منصوبے کے لئے اراضی کے حصول میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے بارے میں جب پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے معاملہ زیرغور آیا تو اُن تمام اطلاعات کی تصدیق ہو گئی جن میں کہا گیا تھا کہ بلاتفریق و امتیاز سیاسی فیصلہ سازوں نے اِس نجی ادارے کو فائدہ پہنچایا جس پر ملک کی سب سے بڑی عدالت کا ردعمل منطقی ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ’بحریہ ٹاؤن‘ سے متعلق تین الگ الگ فیصلے سنائے۔ اکثیریتی فیصلے کے مطابق ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز میں بڑا نام رکھنے والے ’بحریہ ٹاؤن‘ نے غیرقانونی طور پر اراضی حاصل کی جو کالعدم قرار دے دی گئیں اُور بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس پر عدالتی فیصلے کے مطابق ’پلاٹ‘ عمارت‘ اپارٹمنٹ وغیرہ‘ کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ریئل اسٹیٹ کی یہ زبردست اسکیم ’’تیس ہزار ایکڑ‘‘ تک پھیلی ہے۔ دوسرے فیصلے میں عدالت نے بحریہ ٹاؤن اور محکمۂ جنگلات کے درمیان ہونے والے معاہدے کو غیر قانونی ٹھہرایا‘ جس کے نتیجے میں اسلام آباد کی تقریباً دو ہزار کنال جنگل کی زمین پر قبضہ کیا گیا۔ اسی طرح‘ عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق ’’نیو مری دویلپمنٹ اسکیم‘‘ کے لئے حاصل کی گئی اراضی بھی قانون کے منافی ہے۔ اِس فیصلے میں اُن تمام سرکاری محکموں کی سرزنش کی گئی ہے جنہوں نے خاموشی کے ساتھ بحریہ کو بڑے بڑے فوائد دیکھ کر سرکاری زمین کو تھوک کے حساب سے ناجائز طور پر فراہم کرنے میں سہولیات فراہم کیں۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں‘ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کردار کی مذمت شامل ہے جس نے ’’ریاست اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی‘‘ جبکہ سندھ حکومت کو اِن بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا ’مددگار‘ قرار دیا گیا۔ منافع بخش بحریہ کو کم قیمت والی ہاؤسنگ اسکیم کی قیمت کے برابر کم ترین داموں میں سرکاری زمین فروخت کی گئی‘ جس میں شامل افراد کی رشوت خوری کا اندازہ کرنا مشکل نہیں!

خیبرپختونخوا کو ’بحریہ ٹاؤن‘ کیس عدالتی فیصلے پر نظر رکھنی چاہئے کیونکہ بحریہ سے ملتی جلتی کئی رہائشی اسکیمیں اُنہی کاروباری اصولوں پر یہاں بھی پھل پھول رہی ہیں! بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں جن اہم نکات پر بات کی گئی‘ ان میں سے چند تشویش کا باعث ہیں۔ اربوں روپے کے مذکورہ تعمیراتی منصوبے نے دیہی علاقوں میں نسلوں سے آباد لوگوں سے اُن کا حق چھینا۔ اس ظلم میں شریک اسٹیبلشمنٹ‘ سیاسی اَشرافیہ اُور سرکاری اَفسران میں شامل بااثر افراد نے پہلے سے دیوار سے لگے حقیقی رہائیشیوں کو اُن کی جگہوں سے جبری طور پر ہٹانے کے لئے ریاستی جابرانہ اختیارات استعمال کئے تاہم مقامی لوگوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی میں شامل افراد کے خلاف کاروائی کے لئے قومی احتساب بیور (نیب) کو حکم تو دیا گیا ہے مگر اس کے ساتھ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں پیدا ہونے والے تھرڈ پارٹی انٹرسٹ کو تسلیم کرتے ہوئے‘ کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے سرمایہ کاری کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے۔ عدالت بھی کیا سادا ہے اگر نیب کا اِدارہ ’’زندہ (فعال)‘‘ ہوتا تو کیا بحریہ ٹاؤن کی اس قدر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ممکن ہوتیں؟

آخر ہم نے بحریہ ٹاؤن کو کیوں واحد ادارہ سمجھ لیا ہے؟

عدالت نے ’نیب‘ کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے جن سرمایہ کاروں کے حقوق کو محفوظ بنانے کا حکم دیا ہے تو اِس سے عدالتی کاروائی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ اس طرح سے غیر قانونی طریقوں پر محیط بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے کو قانونی تحفظ اور جواز مل جائے گا۔ یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ جن مقامی افراد کو اُن کی اراضی سے بیدخل کیا گیا‘ جن کا زمین پر پہلا حق ہے تو اُنہیں اِس پورے معاملے سے کیا ملے گا؟

کیا پاکستانی ’نیب‘ کے ماضی (خراب ٹریک ریکارڈ) سے واقف نہیں مگر اس کے باوجود ایک بار پھر اس معاملے پر تحقیقات کا کام اُسی ادارے کو سونپا گیا ہے جو ریاست اور عوام کی بجائے بااثر افراد کے مفادات کا محافظ رہا ہے!

بحریہ ٹاؤن کراچی کا معاملہ صرف کراچی کی حد تک ہی محدود نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ’’ٹیسٹ کیس (کسوٹی)‘‘ ہے اُور پاکستان میں جائیداد کی خریدوفروخت کے کاروبار میں اربوں کی سرمایہ کاری کرکے کھربوں کمانے والوں کے ’’کاروباری طریقۂ واردات‘‘ پر ہاتھ ڈالا جائے۔ بحریہ ٹاؤن میں ریٹائرڈ فوجی اُور پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز اَفسروں کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اُور پُرکشش دیگر مراعات کے عوض ملازم کیوں رکھا گیا؟ بحریہ ٹاؤن کے پیپلزپارٹی‘ مسلم لیگ نواز اُور تحریک اِنصاف کے سربراہ سمیت ملک کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ذرائع ابلاغ کے لئے کام کرنے والوں سے قریبی تعلقات ہیں‘ جنہیں مالی مراعات کے علاؤہ پلاٹ اور گھر بھی دیئے گئے۔ حتی کہ پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس کے بیٹے کو بیرون ملک قیام و طعام اور خریداری کا معاملہ بھی سامنے آیا‘ جس کے اخراجات بحریہ ٹاؤن نے برداشت کئے تھے! بحریہ ٹاؤن کے معاملے پر میڈیا کا کردار اَفسوسناک ہے‘ جنہوں نے اپنا فرض نبھانے اُور عوامی مفاد کا محافظ بننے کی بجائے ’’بزنس ٹائیکون‘‘ سے مراسم بڑھائے اُور ذاتی فائدے اُٹھانے کو ترجیح دی! لیکن ’’عوامی اعتماد کو ٹھیس‘‘ صرف میڈیا ہی نے نہیں بلکہ سیاستدانوں اُور سرکاری اِداروں کے اعلیٰ انتظامی اِہلکاروں نے بھی پہنچائی ہے!

چونسٹھ سالہ ملک ریاض خالی ہاتھ ہیں‘ اُن کی دولت اور عزت داؤ پر لگی ہے۔ کاش وہ خود ہی سے پوچھیں کہ جس وسیع و عریض بدعنوانی کے ذریعے پیپلزپارٹی‘ نواز لیگ اُور تحریک اِنصاف کے سربراہوں کو وہ خوش کرتے رہے‘ جس طرح قومی اِداروں اُور ذرائع ابلاغ کی قیمت لگائی تو ذاتی طور پر اُنہیں کیا حاصل ہوا کیونکہ ذلت و رسوائی میں تو اُن کا کوئی بھی شراکت دار نہیں!؟

عدالت نے جہاں ملک ریاض کے ’بحریہ دسترخوان‘ کی تعریف کی ہے وہیں یہ بھی کہا ہے کہ ’’عوام کو لوٹنے اُور دو متضاد کردار رکھنے والے شخص کو معاف نہیں کیا جاسکتا!‘‘
۔

Saturday, January 13, 2018

Jan 2018: Medical Education Standard in Pakistan, a road to nowhere!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
مستقبل کی سوچ!
پاکستان میں جس طرح رہائشی اور کاروباری علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہے بالکل اِسی طرح خالصتاً کاروباری نکتۂ نظر سے نجی اِداروں کی حاکمیت کے خلاف ریاست کا وجود بھی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ طب (میڈیکل) جیسے حساس شعبے میں ’اعلیٰ تعلیم‘ کی صورتحال بھی ناقابل بیان ہے جس کا ’اَزخودنوٹس‘ کی سماعت کے دوران (بارہ جنوری کے روز) سپرئم کورٹ نے ’’پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی)‘‘ نامی نگران ادارے کو تحلیل کرتے ہوئے ’’سات رکنی عبوری کمیٹی‘‘ تشکیل دی ہے جو آئندہ کسی حکمنامے تک روزمرہ امور کی انجام دہی کرے گی۔ 

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ایم ڈی سی کے وجود اور ’سنٹرل ایڈمیشن پالیسی‘ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جو سات رکنی عبوری کمیٹی تشکیل دی اُس کی سربراہی جسٹس شاکر اللہ جان کریں گے جبکہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ’پی ایم ڈی سی‘ سے متعلق قانون سازی میں معاونت کی غرض سے کمیٹی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ اِس اعلیٰ اختیاراتی عبوری کمیٹی کو نجی میڈیکل کالجوں کی جانچ پڑتال (انسپکشن) کا اختیار بھی حاصل ہوگا‘ جو خوش آئند اقدام ہے اُور اُمید ہے کہ سپرئم کورٹ کی اِس دلچسپی اور باریک بین خلوص نیت کوشش سے خاطرخواہ بہتری آئے گی۔ ’’سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے۔۔۔ پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے۔ (جان ایلیا)۔‘‘

پاکستان میں رجسٹرڈ طبی معالجین کی تعداد ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اور ماہر (اسپیشلسٹ) ڈاکٹروں کی تعداد سینتالیس ہزار ہے جبکہ پچیس ہزار ماہر ڈاکٹر پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں! 

زوال نہیں تو کیا ہے کہ معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے‘ ذہین‘ باشعور‘ مفید اور زمینی حقائق کو سمجھنے والوں نے خود کو انجان بنا رکھا ہے اور وہ ایک ایسے ماحول سے دل برداشتہ ہیں جسے ٹھیک کرنا خود اُنہی کی ذمہ داری ہے۔ ’طب کی تعلیم کا انتظام اور اِس کا معیار برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ اِس سے آئینی فرض سے انکار ممکن نہیں لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے سب کچھ حکومت پر ڈال دیا ہے۔ سرکاری خرچ پر ڈاکٹری کی عملی تربیت اور مہارت حاصل کرنے کے بعد جو ڈاکٹر پاکستان کو چھوڑ کر جاتے ہیں‘ انہیں اپنے ضمیر کے سامنے بھی جواب دینا چاہئے کہ اُن پر مٹی کا کتنا قرض واجب الاداء ہے۔ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ پچیس ہزار سے زائد ڈاکٹر بیرون مل جانے کے باوجود بھی حکومت کو نہیں بلکہ عدالت عظمی کو لاحق تشویش سامنے آئی ہے۔ اگر مذکورہ پچیس ہزار ڈاکٹر بیرون ملک نہ بھی گئے ہوتے تب بھی پاکستان میں ماہر ڈاکٹروں کی تعداد حسب آبادی کم ہے جس پر قابو پانے کے لئے حکومت کے پاس منصوبہ بندی نہیں۔ ڈاکٹر اگر بیرون ملک جا رہے ہیں تو اس کی وجہ وہاں کے بہتر ملازمتی طریقۂ کار اور حالات کار ہیں جن میں اُنہیں مالی طور پر کشش دکھائی دیتی ہے۔ 

پاکستان میں ڈاکٹروں کو جان و مال اور ملازمتی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ اہلیت کی بنیاد پر اگر محکمانہ ترقی کا نظام وضع کر دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ کوئی اپنا ملک اور آبائی شہر چھوڑ کر چلا جائے۔
سپرئم کورٹ کے سامنے زیرغور معاملہ ’طب کی تعلیم‘ اور ’نجی اداروں کی من مانیوں‘ کا ہے۔ عدالت عظمی نے بظاہر عزم کر رکھا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم دینے کے لئے مقرر کردہ فیسوں سے زائد وصولیاں کرنے اور ایڈمیشنز دینے کے لئے عطیات پر عائد پابندی کا کھلم کھلا مذاق اڑانے والوں سے نمٹا جائے گا اُور اِس عدالتی مؤقف کی حمایت خود ’پی ایم ڈی سی‘ کے وکیل نے بھی کی ہے کہ ’نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے مقررہ شرح کے مطابق داخلہ فیسیوں اور اِن کے علاؤہ عطیات کے نام پر وصولیاں غلط اقدام ہے۔‘ پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل کی سالانہ فیس 6 لاکھ 42 ہزار روپے مقرر ہے جبکہ نجی میڈیکل کالجز فی طالب علم سالانہ فیس کی مد میں 9 سے 15 لاکھ روپے وصول کر رہے ہیں۔ سالانہ فیسوں اور دیگر مدوں میں اضافی وصولیاں کرنے والے باقاعدہ رسیدیں دی جاتی ہیں۔ 

پاکستان میں طب کی تعلیم کا معیار اُور نجی اداروں کی حاکمیت و سرپرستی بدقسمتی سے دانستہ طور پر کی جا رہی ہے اور حکومتوں نے ہمیشہ عوام کے مقابلے سرمایہ داروں کے مفادات کا زیادہ تحفظ کیا ہے۔ یہ طرزعمل ناقابل قبول ہے۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والوں کو عملی زندگی میں جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے نجی میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات اُن کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر پاکستان میں ڈاکٹروں اور ماہر ڈاکٹروں سمیت آبادی کے تناسب سے طبی سہولیات کی کمی ہے تو اِس میں اضافہ حکومتی وسائل سے خود حکومت ہی کو کرنا چاہئے۔ 

عمومی تعلیم کی طرح طب کی پیشہ وارانہ تعلیم بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پیدا ہونے والی خرابیوں پر تعجب کا اظہار کرنے کی بجائے غلطی سے رجوع ضروری ہے اور ایسے تمام نجی میڈیکل کالجز جو ’پی ایم ڈی سی‘ کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اُترتے اُنہیں بناء رعایت ختم میں تاخیر و کوتاہی کا ازالہ ہونا چاہئے! معاملہ سالانہ فیسوں کی زائد وصولی سے زیادہ گھمبیر ہے کیونکہ طب کی تعلیم کا معیار بھی گر رہا ہے۔ 

ذرائع ابلاغ میڈیکل کی تعلیم سے جڑی بے قاعدگیوں کی مسلسل رپورٹ کرتے آ رہے ہیں لیکن ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی (پارلیمینیٹرین) سے تعلق رکھنے والے اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دست راست (ڈاکٹر) عاصم حسین اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی موجودہ میں کسی کا احتساب کا خوف نہیں۔ جب تک اربوں کی اِس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی جڑ تک نہیں پہنچا جائے گا اور ماضی و حال میں کی گئی خردبرد (فنانشیل کک بیکس) ضبط نہیں کئے جائیں گے‘ اُس وقت تک معاملات کی درستگی محض عدالتی سماعتوں اور عبوری انتظامیہ تعینات کرنے سے ممکن نہیں ہوگی۔ 

سمجھ لیجئے کہ خواہش اور عدالت چاہے جتنی اور جس قدر بھی بڑی ہو لیکن بناء ’سزا و جزا‘ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے کڑے احتساب‘ مالی بدعنوانیوں اور انتظامی بے قاعدگیوں کے جاری سلسلے روکے نہیں جا سکیں گے۔
۔

Monday, December 18, 2017

Dec 2017: Verdict embedded with lessons

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
(سبق آموز) عدالتی فیصلے!
پانامہ کیس فیصلے (اَٹھائیس جولائی) کے بعد سے ’عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ آف پاکستان)‘ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا سلسلہ ’’منظم تحریک‘‘ کی صورت جاری ہے جس کی قیادت و سرپرستی وفاقی حکمراں جماعت کے سربراہ نواز شریف کر رہے ہیں۔ سولہ دسمبر کی شام برطانیہ سے پاکستان کے لئے روانہ ہونے سے قبل اور سترہ دسمبر کی صبح پاکستان پہنچنے پر اُنہوں نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے عدالتی فیصلوں پر ایک مرتبہ پھر ’عدم اطمینان‘ کا اظہار کیا جو یقیناًبناء سوچے سمجھے نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کے واحد ذریعے پر ’تنقیدی نشتر‘ چلانے اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کی مہم (کوشش) کا درپردہ مقصد عام آدمی (ہم عوام) کی زندگیوں میں غربت‘ جہالت اور محرومیوں کے بعد مایوسی بھرنا ہو اور یہ باطل یقین دلانا مقصود ہو کہ ’’پاکستان میں انصاف نہیں مل رہا؟‘‘ برسرزمین حقائق اِس کے اُلٹ ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ جن سیاسی رہنماؤں نے اپنے بچوں اور اثاثہ جات بیرون ملک (متحدہ عرب امارات و برطانیہ سمیت پانچ براعظوں میں) پھیلا رکھا ہے‘ اُن کی جانب سے پاکستان میں انصاف کی مبینہ عدم دستیابی پر بے چینی کے اظہار کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے وسائل کی لوٹ مار کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے۔

افسوس کا مقام ہے لیکن اچھا ہی ہوا کہ پاکستان میں ’انصاف اور عدالت کا دفاع‘ کرنے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار بذات خود میدان میں اُترے۔ سولہ دسمبر کے روز‘ وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جس گرمجوشی سے اپنا مؤقف اور عدالتی فیصلوں سے متعلق وضاحت پیش کی اُس کے بعد صرف اِس ایک بات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ وہ عدالت پر معترضین کے ساتھ مناظرہ ’ٹیلی ویژن‘ پر براہ راست نشر کیا جائے۔ علاؤہ ازیں مستقبل میں بدعنوانیوں (کرپشن) سے متعلق تمام مقدمات کی سماعتیں ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کرنے سے بھی ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی اور انہیں اخلاقی شکست دی جاسکتی ہے جو عدالت میں ’’بھیگی بلی‘‘ اُور بعدازاں ’’شیر‘‘ بن کر دھاڑتے دکھائی دیتے ہیں!

چیف جسٹس کے بیان کا ہر ایک لفظ قابل غور اور لائق توجہ ہے جس کی روشنی میں مستقبل کے اُس پاکستان کا منظرنامہ زیادہ واضح دکھائی دینے لگا ہے جہاں بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس نے جو کچھ کہا اُس کے بعد مزید کہنے یا اُس میں اِضافہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ چیف جسٹس نے پاکستان کی اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا ۔۔۔ ’’ریاستی اَمور ایماندار اُور صادق لوگوں کی جانب سے نہیں چلائے جارہے‘ جس کی وجہ سے عوام پریشانی کا شکار ہیں اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہیں لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ ریاست کے انفراسٹرکچر ایمانداری کے مقصد (اَصول مدنظر رکھتے ہوئے) سے بنایا جائے۔‘‘ اُنہوں نے ’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کیس سے متعلق ’اَسی صفحات‘ پر مشتمل فیصلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ۔۔۔ ’’لوگوں یہ اندازہ کرنا چاہئے کہ اقتدار میں رہنے والے اور خاص طور پر عوام کے نمائندے منتخب ہونے والے ایماندار ہونے چاہئیں کیونکہ ایمانداری کسی بھی شخصیت کی فضیلت میں ایک (اہم جز) ہے۔‘‘

چیف جسٹس ’انفرادی فضیلت‘ ایمانداری کے پیمانے اُور اہلیت کی جس ’کسوٹی‘ کا ذکر کر رہے تھے اُس کا تعلق ریاستی آئین اُور اِدارہ جاتی قواعد و ضوابط ہی سے نہیں بلکہ خوداحتسابی سے ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کسی ایک بھی سیاسی جماعت کا سربراہ اُور نائبیئن ’امانت و صداقت‘ کے اُس (کم سے کم) معیار پر پورا نہیں اُترتے جو مصلح اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قول اور عمل سے مقرر فرمایا اُور اَب قیامت تک اُس میں ردوبدل ممکن نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کا بیک وقت ’’اسلامی‘‘ اُور ’’جمہوری‘‘ ملک ہونا اپنی ذات میں گمراہ کن تصور ہے۔ اسلام اور جمہوریت ایک نہیں بلکہ دو الگ الگ تصورات (نظریئے) ہیں اور اِن کو اکٹھا کر کے ایک نیا نظام تشکیل دینا تو ممکن ہے لیکن اِن دونوں سے بیک وقت استفادہ اور فلاح کا حصول بذات خود سراب ہے! عدالت عظمیٰ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کے فیصلے میں جس غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا‘ اور جو ضمنی تصورات کھول کر بیان کئے‘ اُس سے عدالت کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہی نہیں بلکہ اِس میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’’ریاست کی پالیسیوں کو دیکھنے کے لئے سپرئم کورٹ سب سے بڑا ادارہ ہے جس کے علاؤہ ریاست کا دوسرا نگران و بااختیار ادارہ بھی اسی سے ماخوذ ہوسکتا ہے‘ اگرچہ (عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل) پارلیمان‘ قانون سازی کے عمل اُور انتظامیہ کے ایگزیٹو اقدامات کی توثیق کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے تاہم ان اقدار کو آئین کی حدود میں رہ کر قانون کے مختلف اَصولوں اورعدالتوں کی تشریح کے مطابق استعمال کیا جانا چاہئے۔‘‘ حالانکہ اِس کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن جذباتی حدوں کو چھوتے فیصلے میں اِس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ ’’عدالتی حکم نامے کو ایسے لوگوں کے ہاتھ کا آلہ نہیں بننے دیں گے جو عدالتوں میں بدنیتی کے ساتھ آتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو سر پر تلوار رکھ کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘ یہ لوگ آئین کے ’’آرٹیکل دو اے‘‘ کے تحت عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہیں۔ ریاست کو اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اپنی طاقت اور اختیارات کا استعمال کرنا چاہئے۔ اس کے علاؤہ ارکان پارلیمان کو بدنام کرنے‘ دھمکی دینے اور غیر معمولی ہراساں کرنے کی دوبارہ اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘ 

تحریک انصاف کے رہنماؤں (عمران خان اور جہانگیر ترین) کے خلاف فیصلے میں بہت کچھ ایسا بھی تحریر ہے جن کا تعلق اِس مقدمے سے ضمنی طور پر تو ہے لیکن فیصلے کے ذریعے دیگر سیاسی جماعتوں کو ’عدالت کے مزاج‘ اُور ’توقعات‘ سے آگاہ (متنبہ) کر دیا گیا ہے‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ اشارے کنائیوں کی زبان کس کس کی سمجھ میں آتی ہے اور وہ کون کون ہے جو دوسروں کی غلطیوں یا دوسروں سے متعلق سبق آموز عدالتی فیصلوں سے عبرت حاصل کرتا ہے۔
۔

Saturday, July 29, 2017

July 2017: Post Panama Verdict - The bright future of Pakistan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جھوٹ معتبر نہیں ہوں گے!
پانامہ کیس نے پاکستان کی عدلیہ اور سیاست ہی نہیں بلکہ میڈیا کا ’ڈی این اے‘ بھی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ورنہ پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں عدلیہ نے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے اور وزیراعظم جیسے عہدے پر فائز سیاسی جماعت کے سربراہ سے اس قدر سخت گیر معاملہ کیا ہو کہ اُس کی نااہلی کر دی ہو۔ دیگر سیاست دان ضرور یہ بات سوچنے پر مجبور ہوئے ہوں گے کہ اُن کا ماضی اور وہ سب کچھ جسے وہ پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں زیادہ عرصہ تحقیقات کرنے والوں اور بالخصوص ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے اب مزید چھپ نہیں سکے گا۔ یہ صرف ’الیکٹرانک میڈیا‘ ہی کا نہیں بلکہ ’سوشل میڈیا‘ کا بھی دور ہے۔ آن کی آن میں دستاویزات کی تصاویر ’واٹس ایپ‘ ہو جاتی ہیں اور سبھی نیوز ٹیلی ویژن چینلوں نے اپنے ’واٹس ایپ‘ نمبر مشتہر کر رکھے ہیں جنہیں روزمرہ حالات و واقعات کی خبریں ویڈیوز اور دستاویزات ارسال کی جا سکتی ہیں! اٹھائیس جولائی کے سپرئم کورٹ فیصلے سے تو جیسے قومی سطح پر یہ ’کلیدی اصول‘ طے کر لیا گیا ہے کہ ’’جھوٹ اب معتبر نہیں ہوں گے!‘‘

’پانامہ کیس‘ پر محفوظ فیصلے کا اعلان اِس لحاظ سے بدقسمتی بھی ہے کہ پاکستان کو صداقت‘ امانت و دیانت کے اصولوں پر پورا اُترنے والی سیاسی قیادت نہیں مل سکی ہے اور قوانین و قواعد صرف کتابوں میں بند ہیں۔ سرکاری اداروں کا وجود قانون کی حاکمیت اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنا رہا لیکن یہ منظرنامہ (ناقابل تردید حقائق) تبدیل ہو چکا ہے۔ ’پانامہ کیس‘ کا فیصلہ‘ آنے کے بعد پاکستان کا نیا سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا؟ صرف ’شریف خاندان‘ کے احتساب پر بات رُک جانی چاہئے؟ پانامہ پیپرز میں جن دیگر پاکستانی شخصیات کے نام ’آف شور کمپنیاں‘ قائم ہیں‘ اُن کا احتساب کب سے شروع ہوگا؟ پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کہاں ہیں اور کیا ’اگلی باری زرداری‘ کی ہے؟ وزیراعظم اور کابینہ کے دیگر اراکین کے بیرون ملک قیام کے اجازت نامے (اقامہ) انوکھی قسم کی بدعنوانی ہے جو قومی عہدے رکھنے والوں کا ایک ایسا طرزعمل ہے جو ’مفادات سے متصادم‘ ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سعودی عرب کا ’اقامہ (قیام و کاروبار کرنے کا جواز)‘ رکھنے والے وفاقی کابینہ کے ارکان میں احسن اقبال ایسے چوتھے رکن ہیں جن کا نام ایک ایسے معاملے میں آیا ہے جو ’پانامہ کیس‘ سے زیادہ بڑا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ وفاقی وزیر احسن اقبال پچاس ارب ڈالر سے زائد مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے نگران ہیں! احسن اقبال کے علاؤہ وزیراعظم نواز شریف‘ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار متحدہ عرب امارات کا اقامہ رکھنے والوں میں شامل پائے گئے ہیں! سوال یہ ہے کہ پاکستان کا سرکاری (نیلے رنگ کا خصوصی) پاسپورٹ رکھنے والوں کو کسی بھی ملک میں عارضی قیام کے اجازت نامے (اقامے) حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ اگر یہ سوال کسی کے بھی ذہن میں بھی ہو تو جان لے کہ اقامہ کی بنیاد پر بیرون ملک بینک اکاونٹ کھولے جا سکتے ہیں اور بناء ٹیکس دیئے کاروباری سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں!

پاکستانی سیاست دانوں کے کرتوت جس طرح ایک ایک کرکے عیاں ہوئے اور مزید ہوں گے‘ اس کا سلسلہ کسی نہ کسی ندامت اور معافی پر اختتام ہو جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن بقول چوہدری نثار ’نواز لیگ‘ کو اُس کے مشیروں نے ڈبویا ہے! بگڑا کسی کا کچھ نہیں بلکہ رسوائی پاکستان کی ہوئی ہے! پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے دو روز قبل‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’’دوہزارسات سو پچاسی ایسے پاکستانیوں کو نوٹسیز جاری کر دیئے گئے ہیں‘ جنہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران تحائف کی مد میں مبینہ طور پر ایک سو دو ارب روپے کی ’منی لانڈرنگ‘ کی ہے۔‘‘ تصور کیجئے ایک ایسا پاکستان کہ جس میں سالانہ ایک سو ارب ڈالر سے زائد رقم پر ٹیکس تو اَدا نہیں ہوا لیکن عام آدمی (ہم عوام) سے ہر ایک سو روپے کے موبائل ریچارج‘ ماچس کی ڈبیہ یا ایک یونٹ بجلی خرچ کرنے پر بھی کھڑے کھڑے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے!

جشن آزادی منانے والوں کے لئے خوشخبری میں اِس بات (جواز) کا اضافہ ہو گیا ہے وہ ’’شکریہ پاکستان‘ پاکستان شکریہ‘‘ کا نعرہ لگا کر ’دلی مسرت‘ کا اِظہار کریں۔ منتخب اراکین اسمبلی کی ذہانت اُور شعور ملاحظہ کیجئے کہ جنہوں نے ایسی قانون سازی فرمائی ہے جس کے تحت ہر قسم کے تحفے تحائف ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اور بہت سے ایسے افراد جو مالی طور پر مستحکم ہیں‘ قومی آمدنی (ریونیو) میں حسب رہن سہن حصہ ڈالے بغیر ہی اپنی مالی حیثیت اور اثاثوں کی یہاں وہاں منتقلی (تحفے تحائف کے تبادلوں) کے آئینی استثنیٰ سے ’ناجائز فائدہ‘ اُٹھا رہے ہیں! قانون میں موجود اِس رعائت کو رکھنے والے ہی اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں تو تعجب حرام ہے! اگرچہ ایف بی آر نے غیرمعمولی مالیت کے تحفے تحائف وصول کرنے والوں کو نوٹسیز جاری کر دیئے ہیں لیکن چونکہ قانون ہی خاموش ہے اِس لئے یہ بے قاعدگی ایک دو سماعتوں ہی میں خارج کر دی جائے گی اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک قانون میں ترمیم نہیں کر دی جاتی! جن بااثر افراد نے انکم ٹیکس بچانے کے لئے تحائف دیئے اور اُن کے گوشواروں میں ذرائع آمدن کی توثیق نہیں ملتی کسی معروف وکیل کے ذریعے بچ جائیں گے! لیکن اگر ایف بی آر کے اہلکاروں کی اچانک ’حب الوطنی‘ جاگ اُٹھی اور پانامہ جے آئی ٹی کی طرح وہ غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر بیٹھے تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔تحائف کی مد میں منی لانڈرنگ کا الزام صرف اُن پر ہے جنہوں نے یہ بات ٹیکس ریٹرنز گوشواروں میں نہیں کی اور اپنی آمدنی پر ٹیکس بہت ہی کم ادا کیا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس آمدنی سے کم ادا کرنے کا کلچر عام ہے اور اِس بات کو ’’جرم‘‘ قرار نہیں دیا جاتا نہ ہی سمجھا جاتا ہے بلکہ کئی ایسی ’لاء فرمز (وکلاء کے ادارے)‘ قائم ہیں جو اپنی خدمات مودبانہ و فخریہ طور پر پیش کرتے ہیں کہ قانونی اَمور سے متعلق مہارت کا استعمال کرتے ہوئے کسی صارف کو کم سے کم ٹیکس ادا کرنے میں رہنمائی یا اُسے قانونی چارہ جوئی کے ذریعے سزا سے بچا سکیں! 

اربوں اور کروڑوں کے اثاثے رکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں روپے میں ٹیکس اَدا کر رہے ہیں تو اِس دھندے میں خود ایف بی آر کے ممکنہ ملوث ہونا خارج اَز امکان نہیں ہوسکتا۔ ہمیشہ اطمینان بخش نتیجہ ہوتا ہے عمل نہیں۔ اندرون ملک آمدن (اِن لینڈ ریونیو)‘ انسداد منی لانڈرنگ کے انٹلی جنس اور انویسٹی گیشن سیل نے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا ہے‘ جس کا نتیجہ ہر اُس ذی شعور کو معلوم ہوسکتا ہے جو اِس بارے میں سوچنا اور معاملے کو سمجھنا چاہے۔ ’ایف بی آر‘ کے سامنے صرف تین کیسز ہی ایسے ہیں جس میں تحائف کی مالیت ایک ارب سے زیادہ ہے اور سب سے زیادہ تحائف کی مالیت ایک ارب ستر کروڑ روپے ہے۔ علاؤہ ازیں کم سے کم آٹھ افراد نے پچاس کروڑ روپے سے ایک ارب روپے مالیت کے درمیان تحائف ظاہر کئے ہیں! 

خدا جانے وہ وقت پاکستان کے عام آدمی (ہم عوام) کی زندگیوں میں کب آئے گا جب اُسے تحفے تحائف نہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ معیاری صحت و تعلیم اور جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق ہی میسر آئیں گے۔ ’’آ کسی روز کسی دُکھ پہ اَکٹھے روئیں: جس طرح مرگِ جواں سال پہ دیہاتوں میں: بوڑھیاں روتے ہوئے بین کیا کرتی ہیں: جس طرح ایک سیاہ پوش پرند کے کہیں گرنے سے: ڈار کے ڈار زمینوں پہ اُتر آتے ہیں: چہکتے شور مچاتے ہوئے کرلاتے ہیں: اپنے محروم روئیوں کی المناکی پر: اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا: اِک نئے دُکھ کے اضافے کے سوأ کچھ نہیں: اپنی ہی ذات کے گنجال میں اُلجھ کر تنہا: اپنے گمراہ مقاصد سے وفا ٹھیک نہیں: قافلہ چھوڑ کے صحرا میں صدا ٹھیک نہیں۔ ہم پرندے ہیں نہ مقتول نہ ہوائیں پھر بھی: آ کسی روز کسی دُکھ پہ اَکٹھے روئیں۔۔۔ (فرحت عباس شاہ)۔‘‘

Sunday, July 9, 2017

TRANSLATION: The JIT by Dr. Farrukh Saleem

The JIT
پانامہ کیس: جے آئی ٹی!
سپرئم کورٹ آف پاکستان نے پانامہ پیپرز کی صورت منظرعام پر آنے والی فرضی ناموں سے بیرون ملک سرمایہ کاری اور اثاثوں کے بارے میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لئے چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی‘ جسے بہرصورت 60 روز (دو ماہ) میں اِس معاملے سے متعلق حقائق کھوج نکالنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اگر ہم سپرئم کورٹ میں زیرسماعت ’پانامہ کیس‘ کو ایک ہوائی سفر سے تشبیہہ دیں تو اِس پرواز کی منزل ’پانامہ‘ ہے جس کے لئے 60 دن کا وقت اور پانامہ تک رسائی براستہ حدیبیہ مقرر کیا گیا۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد سے پانامہ کا فاصلہ 14 ہزار 557 کلومیٹر ہے جسے طے کرنے کے لئے صرف ساٹھ دن کا وقت دیا گیا جبکہ اِس کے مقابلے ’حدیبیہ‘ (کیس) قرب و جوار ہی کا معاملہ ہے اور یہی وجہ رہی ہو گی کہ ’جے آئی ٹی‘ نے ’حدیبیہ‘ کے راستے ہوتے ہوئے پانامہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔

جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ 10جولائی کو پیش کی جائے گی جس کے بعد ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ کا عمل درآمد بینچ اپنی صوابدید پر فیصلہ سنائے گا اور اِس فیصلے کے تین امکانات ہو سکتے ہیں۔ پہلا امکان تو یہ ہے کہ سپرئم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر تمام مقدمات خارج کردے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ سپرئم کورٹ قومی احتساب بیورو (نیب) یا کسی ایسی عدالت کو مقدمہ ارسال کرے جہاں اِس کی سماعت ہو سکے اُور تیسرا امکان یہ ہے کہ سپرئم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں سپرئم کورٹ کا پہلے امکان کے تحت نواز شریف کے خلاف تمام درخواستیں (پٹیشنز) خارج کرنے کے امکانات کم ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کو ’پانامہ کیس‘ کی صورت دو قسم کے مقدمات کا سامنا ہے ایک آئینی اور دوسرا سیاسی۔ آئینی محاذ پر وزیراعظم کے دفاع کی واحد صورت قطری شہزادے کا خط ہے۔ سیاسی محاذ پر تاریخ گواہ ہے کہ نواز لیگ کا ماضی رہا ہے کہ وہ اپنے خلاف سیاسی حکمت عملیوں کو ناکام بناتے ہوئے ہمیشہ سرخرو رہے ہیں لیکن اِس وقت مشکل یہ درپیش ہے کہ نوازلیگ کا کسی سیاسی حریف سے نہیں بلکہ سپرئم کورٹ (ایک ریاستی ادارے) سے ٹکراؤ ہو رہا ہے۔

سردست نواز شریف کی بھلائی اِسی میں ہے کہ وہ ’جے آئی ٹی‘ کو اپنا مرضی سے آگے بڑھنے سے روکیں اور ’جے آئی ٹی‘ جس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے اُس منزل کو اوجھل رکھیں۔ جس کے لئے اُس کے پاس سیاسی آپشنز میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ ’جے آئی ٹی‘ کو متنازعہ بنائے۔ دوسرا وہ ’جے آئی ٹی‘ سے علیحدگی (بائیکاٹ) کا اعلان کردے۔ تیسرا سپرئم کورٹ میں فیصلہ کرنے والوں کے درمیان کسی نتیجے پر پہنچنے میں اختلافات پیدا کرے اور پھر ججوں کی رائے میں پیدا ہونے والے باہمی اختلافات کا فائدہ اُٹھائے۔ چوتھا قومی اسمبلی تحلیل کردے۔ پانچواں عوام کو ’جے آئی ٹی‘ اور پانامہ کیس کے خلاف سڑکوں پر لے آئے اُور چھٹا حل یہ ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت کے لئے ملک کی دیگر تمام جماعتوں کو اِس بات پر ہم خیال کر لے کہ ’پانامہ کیس‘ کو بھول کر آگے بڑھا جائے۔

’جے آئی ٹی‘ کی راہ میں روڑے اٹکانے کا حربہ استعمال کرکے دیکھ لیا گیا جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ ’جے آئی ٹی‘ کے بائیکاٹ سے نوازلیگ کو فائدہ ہونے کے امکانات بھی کم رہے گئے ہیں۔ اگر سپرئم کورٹ کے فیصلہ سازوں کی رائے تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یقینی طور پر ایسا کرنے کے زیادہ منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اگر قومی اسمبلی تحلیل کر دی جاتی تو بھی ’جے آئی ٹی‘ کا عمل متاثر نہیں ہوسکتا۔ عوام کو سڑکوں پر لانے کا ’آپشن‘ موجود ہے لیکن ایسا کرنے کی صورت میں وہ عوام کو کس کے مخالفت میں اکسائیں گے!؟

پانامہ کیس کی صورت پاکستان میں طرزحکمرانی کی اصلاح اور اختیارات و عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی روایت ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کا ’نادر موقع‘ تحریک انصاف‘ کے ہاتھ آ گیا ہے جو کسی بھی صورت اپنے مطالبات‘ مؤقف اور مقدمے (پٹینشن) سے دستبردار ہونا تو دور کی بات ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے (مصلحت سے کام لینے) کے لئے تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نواز لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ ’’چوری‘ بدعنوانی‘ خردبرد کے ذریعے حاصل کیا گیا پاکستان کا سرمایہ غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقل کیا گیا ہے۔‘‘ جبکہ ’نوازلیگ‘ کا کہنا ہے کہ ’جے آئی ٹی‘ کو اِس بات کا استحقاق یا دائرہ اختیار ہی حاصل نہیں کہ وہ اِس کی قیادت کا احتساب کرے۔ نواز لیگ کی نظر میں ’جے آئی ٹی‘ اُن کے خلاف ایک خفیہ سازش کا نتیجہ ہے لیکن ’نواز لیگ‘ کے اِس مؤقف کو اُس وقت تک تسلیم یا قابل اعتماد نہیں سمجھا جائے گا جب تک اُن کے بقول ’پانامہ کیس‘ کی صورت سازش کرنے والے کردار یا کرداروں کو بے نقاب نہیں کیا جاتا۔

’نواز لیگ‘ کے لئے موجودہ وقت سب سے زیادہ مشکلات بھرا ہے۔ اگر وہ سپرئم کورٹ کے حسب حکم ’جے آئی ٹی‘ سے تعاون برقرار رکھتی ہے تو بھی یہ بات ضمانت نہیں کہ اُسے سرخروئی نصیب ہو گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ تصادم کی راہ اختیار کرے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اقتدار کی منتقلی ہے یعنی نوازشریف کی بجائے اقتدار شہباز شریف کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے لیکن پورا ’شریف خاندان‘ پانامہ کیس کی زد میں دکھائی دیتا ہے اور جس طرح اِس خاندان نے تیس برس سے ہر اچھے بُرے دن اور ہر اونچ نیچ کا مقابلہ کیا ہے ’جے آئی ٹی‘ سے نمٹنے میں وہ حکمت عملی (حربے) کام نہیں آسکے۔ کون سمجھتا ہے کہ ’’پیشگوئی مشکل ہوتی ہے خصوصاً جب یہ مستقبل کے بارے میں ہو۔‘‘ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, April 23, 2017

Apr2017: Panama Case Verdict - The Fact sheet!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تاریخی فیصلہ: حقائق نامہ!
اَلفاظ کے ’ہیرپھیر‘ سے معنی و مفہوم بدل جاتے ہیں۔ ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ کی جانب سے ’تاریخی فیصلہ‘ صادر کرنے کی بجائے یہی ’بہتر‘ سمجھا گیا کہ وہ جو تاریخی ہو‘ وہی فیصلہ ہو! کیا پانچ ’اَذہان عالیہ‘ بشمول ’چیف جسٹس‘ کی فہم و بصیرت‘ یعنی ’پوسٹ پانامہ کیس ورڈکٹ‘ پاکستان مالی و اِنتظامی بدعنوانی سے زیادہ محفوظ و مامون ہو گیا ہے؟ اِس سوال سے جنم لینے والے ضمنی سوالات ایک ’حقائق نامے‘ کی صورت غوروخوض کے متاضی ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت کے موقع پر کفار سے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اِس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر چھپا ہوا ہے تو سب نے کہا کہ ہم یقین کریں گے کیونکہ آپ ’صادق و امین‘ ہیں تو معلوم ہوا کہ قیادت کی پہلی شرط ’صداقت و امانت‘ ہے جس کے بغیر ’صداقت و امانت‘ قیادت (رہبری) ایک لفظ تو ہو سکتا ہے لیکن ہرگز ہرگز ’انقلابی تصور‘ نہیں۔

پہلی حقیقت: ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت بیرون ملک خفیہ طریقوں سے سرمایہ کاری کرنے والے کسی نہ کسی صورت حکمرانی یا فیصلہ سازی کے منصب پر فائز یا فائز رہے ہیں اور کوئی بھی عام آدمی (ہم عوام) نہیں بلکہ مراعات یافتہ خواص طبقے سے تعلق رکھنے والے اُن افراد کے مالی معاملات مشکوک ہیں‘ جنہوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف لیا۔ جنہیں پاکستان نے قیادت‘ عزت‘ تکریم اور رہنمائی جیسے منصب دیئے۔ اَنگریزی زبان کا لفظ ’ٹریژن treason‘ (غداری) کا ماخذ ’ٹریژ‘ (خزانہ) ہے یعنی کسی ملک سے غداری ’ٹریژن‘ کا مرتکب وہ ہوتا ہے جو اُس کے مالی اَمور کو بطور ’صادق و امین‘ سرانجام نہیں دیتا۔ عام آدمی (ہم عوام) کی نظر میں ’اختلافی نوٹ‘ یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہو چکا ہے کہ ’’ہر ’اختلافی نوٹ‘ کے پیچھے ’قانون کے علم‘ سے زیادہ فلموں‘ ڈراموں‘ شاعری اُور دیگر ادبی تخلیقات کے مطالعے کا عمل دخل ہوتا ہے۔‘ پہلے کہا جاتا تھا کہ جج نہیں فیصلے بولتے ہیں‘ پھر کہا گیا کہ ججوں کو نہیں اُن کے فیصلوں کو بولنا چاہئے اور اب عام آدمی (ہم عوام) چاہتے ہیں کہ ’ججوں کے فیصلوں میں قانون بھی نظر آنا چاہئے۔‘ 

دوسری حقیقت: ’پانامہ پیپرز‘ کے ذریعے بیرون ملک اُور خفیہ ناموں سے سرمایہ کاری کے اِنکشافات کو پاکستان کے علاؤہ کسی دوسرے ملک کے سیاسی حکمرانوں اُور فیصلہ سازوں نے ’جھوٹ کا پلندہ‘ اُور ’مفروضہ‘ قرار نہیں دیا۔ 

تیسری حقیقت: ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت ’حقائق‘ منظرعام پر لانے والے صحافیوں کو ’اعزازات‘ سے نوازہ گیا لیکن پاکستان میں اُن کے ماضی و ادارہ جاتی وابستگیوں کے بارے سوالات اُٹھائے گئے۔ 

چوتھی حقیقت: پانامہ پیپرز نے ’ترقی یافتہ‘ اُور ’ترقی پذیر‘ ممالک کے فیصلہ سازوں کو ہلا کر رکھ دیا لیکن جب اِن حقائق کے بارے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں تحقیقات کی گئیں تو دستاویزی ثبوت ’’ناکافی‘‘ قرار پائے گئے۔ 

پانچویں حقیقت: پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ’پانامہ پیپرز‘ کے منظرعام پر آنے کے بعد ملوث کرداروں نے ’اخلاقی اقدار‘ کا ثبوت دیتے ہوئے ’قوم سے معافی‘ نہیں مانگی۔ 

چھٹی حقیقت: پاکستان ایسی اکلوتی مثال ہے جہاں ’پانامہ پیپرز‘ کے حوالے سے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے برسرزمین حقائق اُور ناقابل تردید شواہد کی موجودگی کے علاؤہ قانون ساز قومی اسمبلی میں دیئے گئے وزیراعظم کے ’آن دی ریکارڈ‘ بیانات‘ اُن کے اہل خانہ کے ملکی و غیرملکی مختلف ٹیلی ویژن چینلز کو دیئے گئے انٹرویوز کو ’ناقابل بھروسہ‘ سمجھا۔ 

ساتویں حقیقت: دنیا کے کسی دوسرے ملک کو یہ اعزاز حاصل نہیں کہ جہاں مشکوک ذرائع آمدنی کے بارے سوال کرنے کو ’’صرف ایک‘‘ سیاسی خاندان کے احتساب کی کوشش اور اِسے ’جمہوریت و پاکستان کی ترقی کے خلاف‘ سازش قرار دیا جاتا ہے۔ 

آٹھویں حقیقت: پانامہ مقدمے میں بیس اپریل کے روز ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ نے جو ’فیصلہ‘ دیا اُس سے صرف پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی قیادت ہی نہیں بلکہ اُن سبھی کرداروں نے سکھ کا سانس لیا ہے جن کے سروں پر ’نااہلی کی تلوار‘ لٹک رہی تھی! 

نویں حقیقت: ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت انکشافات اُس پاکستان سے باہر (بیرون ملک) دولت (اثاثوں) کا عشرعشیر بھی نہیں جو ’پانامہ‘ کے علاؤہ کئی دیگر ممالک میں پاکستانی حکمرانوں نے ’’خفیہ ذرائع‘‘ سے بنا رکھی ہیں۔ 

دسویں حقیقت: بیرون ملک خفیہ بینک اکاونٹس اور جائیدادیں رکھنے والوں کا تعلق صرف ’پاکستان مسلم لیگ نواز‘ ہی سے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی اور جماعتی وابستگیاں بدل بدل کر حکمرانی کرنے والے سینکڑوں ایسے پاکستانیوں کے ناموں پر مشتمل فہرست (پلندے) ذرائع ابلاغ میں شائع یا زیربحث آ چکے ہیں‘ جن کی وضاحت اُور حقیقت کے بارے کیا الگ الگ آئینی سماعتوں کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا؟ 

گیارہویں حقیقت: خفیہ ذرائع سے بیرون ملک مالی و کاروباری مفادات رکھنے والوں کی ’’معلوم و نامعلوم تعداد‘‘ میں قطر‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ برطانیہ‘ فرانس‘ اَمریکہ اُور جن یورپی (دوست) ممالک کے نام آتے ہیں‘ اُنہیں اجتماعی طور پر ناجائز قرار دیئے بناء (آئندہ) ایسی مالی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کے امکانات کم نہیں کئے جا سکیں گے۔ 

بارہویں حقیقت: ریاست کے چاروں ستونوں کو اپنی ذات میں ’قول و فعل کے تضادات‘ ختم کرنا ہوں اُور ایثار و قربانی کی عملی مثالیں بننا ہوگا کیونکہ اگر پاکستان کی ساکھ ایک ایسے ملک کی ہوتی ہے جہاں کھربوں روپے کی بدعنوانی کرنے والوں کی پکڑ نہیں ہوتی‘ جہاں قانون نافذ کرنے والے ریاستی ادارے اداروں سمیت احتساب کا عمل اِس حد تک مفلوج (ناکارہ) ہو چکا ہے کہ ’صاحبان اختیار‘ کا احتساب نہیں کیا جاتا‘ جہاں ’سوچ اور فکروعمل کی(ترجیح) پاکستان‘ نہیں تو وہاں صنعتی و معاشی ترقی‘ بے روزگار اَفرادی قوت جیسی نعمت سے اِستفادہ‘ قدرتی وسائل‘ ترقی کے امکانات اور برآمدات میں اِضافے سمیت توانائی جیسے بحرانی مسئلے کا حل کیونکر ممکن ہو سکے گا؟ 

TRANSLATION: The judgment by Dr Farrukh Saleem

The judegment
تذکرہ ایک فیصلے کا
بیس اپریل کے روز ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ نے ’پانامہ کیس‘ میں جو فیصلہ دیا اُس کا آغاز 1969ء میں لکھے گئے ناول ’دی گاڈ فادر‘ سے لئے ’قول زریں‘ سے لے کر ’بین السطور‘ بہت کچھ ایسا سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کی روشنی میں پاکستان کی سیاست کے محور اور مقصود کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ ’’ہر خوش قسمتی ہے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے۔‘‘ اِس جملے کے بعد فیصلے میں آگے چل کر لکھا گیا کہ ’’حیران کن اور عجیب حسن اتفاق ہے کہ یہ پورا مقدمہ اِس ایک جملے ہی کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے!‘‘
سپرئم کورٹ فیصلے کا بہ نظرغائر جائزہ لینے سے کئی حقائق معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ اِس فیصلے میں جن جن شخصیات کے نام کتنی بار آئے اُن میں لفظ ’نواز‘ 235مرتبہ‘ لفظ قطری شہزادے ’ثانی‘ کا نام 123 مرتبہ‘ لفظ ’حسین‘ 111 مرتبہ‘ لفظ ’حسن‘ 43مرتبہ اور لفظ ’مریم‘ 24مربتہ آیا ہے جس سے یہ ضمنی پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ مریم (وزیراعظم کی صاحبزادی) کا کردار فیصلہ سازوں کے ذہن میں شروع دن سے نہیں تھا لیکن فیصلہ سازوں پاکستان کے موجودہ وزیرخزانہ اور وزیراعظم کے سمدھی اسحاق ڈار کو نہیں بھول سکے جن کا نام فیصلے میں 23مرتبہ‘ جبکہ دلچسپ امر ہے کہ ’سمدھی‘ کا لفظ 5 مرتبہ دہرایا گیا۔ اِسی طرح شہباز شریف بھی اُن کی یاداشت میں رہا جن کا نام فیصلے کی ضخیم دستاویز میں 14مقامات پر تحریر ملتا ہے۔
سپرئم کورٹ کے معزز فیصلہ سازوں کے ذہن پر جو پہلو حاوی تھا اُس کا عکس الفاظ کے چناؤ اور استعمال سے بخوبی واضح ہے جیسا کہ لفظ ’پراپرٹی (جائیداد)‘ کا لفظ 483 مرتبہ‘ لندن 333 مرتبہ‘ قطر 192مرتبہ‘ جدہ 109مرتبہ اُور پانامہ 60مرتبہ استعمال ہوا۔ اِسی طرح ’آف شور (بیرون ملک خفیہ ادارے)‘ کا اصطلاحی لفظ 96 مرتبہ استعمال پایا گیا۔ منی (سرمایہ) 195 مرتبہ‘ کرپشن (بدعنوانی) 107مرتبہ‘ لانڈرنگ 57 مرتبہ جبکہ فیصلہ سازوں کی نظریں اور توجہات ذرائع ابلاغ پر بھی رہیں جنہوں نے ’ٹیلی ویژن‘ کا لفظ 33 مرتبہ مختلف مقامات پر بحوالہ استعمال کیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ لفظ ’بوگس‘ پانچ مرتبہ‘ ہوا۔ جس مقام پر ’بوگس‘ کا لفظ پہلی مرتبہ استعمال ہوا اُس جملے میں کہا گیا کہ ’’میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ یا تو میرے سامنے جائیداد کی فروخت کا جو معاہدہ (دستاویزی ثبوت) پیش کیا گیا وہ ’بوگس‘ تھا یا پھر جناب طارق شفیع کی جانب سے جو متعلقہ حلف نامہ دیا گیا وہ جنوئن (اصل) نہیں ہے۔‘‘ قطری شہزادے کا ذکر بھی فیصلے میں ملتا ہے جن کے بارے میں ایک مقام پر لکھا ہے کہ ’’میری رائے میں‘ دستاویز بوگس ہے‘ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور ہمیں اِس بات میں کوئی امر مانع (حیل و حجت) نہیں کہ ہم اِس دستاویز کو رد (ریجیکٹ) کردیں۔‘‘

سپرئم کورٹ کے فیصلے میں ’حدیبیہ(Hudaibiya)‘ کا ذکر بھی پانچ مرتبہ ملتا ہے‘ جس کی وجہ سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار یقیناًایک مشکل میں پڑ گئے ہیں کیونکہ اُن کا کوئی نہ کوئی تعلق اِس پورے معاملے سے بنتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے لئے ایک اچھی خبر ہے کہ اُن کی صاحبزادی مریم نواز اِس پورے مقدمے میں مجرم نامزد ہونے سے صاف بچ گئی ہیں لیکن پر قانونی و اخلاقی دباؤ بدستور موجود ہے۔ وہ تین جج صاحبان جنہوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے جیسا نتیجہ پیش نہیں کیا لیکن اُنہوں نے ایسی مشکلات کے پہاڑ کھرے کر دیئے ہیں‘ جن سے نمٹنا‘ اُور خود کو ’بے قصور‘ ثابت کرنا وزیراعظم کے لئے آسان نہیں ہوگا۔
آئندہ 60دن میں‘ وزیراعظم کا مستقبل ’جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)‘ طے کرے گی اور اِس ’جے آئی ٹی‘ اصطلاح کا استعمال فیصلے میں 32مرتبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ’جے آئی ٹی‘ تشکیل دینے اور اس کے ذریعے کسی معاملے کی تہہ تک پہنچ کر ذمہ داروں یا حقائق کا تعین کرنے کی تاریخ زیادہ روشن نہیں لیکن اِس کے باوجود اگر ساکھ کے باوجود ’جے آئی ٹی‘ تشکیل دی گئی ہے تو اِس کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ اِس معاملے میں فوج کے ادارے کو بھی شامل کر لیا جائے اور اُن کی کارکردگی کے احتساب کا موقع بھی ہاتھ آئے۔ فیصلہ سازوں کے ذہن میں آرمی اور ملٹری جیسی اصطلاحات بھی گردش کر رہی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ اِن دونوں اصطلاحات کا استعمال 16مرتبہ پڑھنے کو ملتا ہے۔

قانونی پیچیدگیاں اور باریکیاں اپنی جگہ‘ اگر ہم پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے اُس ردعمل کو دیکھیں کہ انہوں نے پانامہ مقدمے کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کاماحول احتجاج سے گرما دیا ہے۔ اِس لمحۂ موجود میں وزیراعظم سیاسی طور پر تنہا دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ اُن کے واحد اتحادی مولانا فضل الرحمن ہی باقی بچے ہیں اور یہ صورتحال اُن 5 درجن تجربہ کار سیاستدانوں کے لئے مایوس کن ہے جو ایک معمول کے مطابق قومی اسمبلی کی اُن 148نشستوں پر تواتر سے کامیاب ہوتے رہتے ہیں جو صوبہ پنجاب کے اضلاع روالپنڈی اور رحیم یار خان پر مشتمل ہیں۔

تین مرتبہ ملک کا وزیراعظم رہنے والے شخص کے سامنے تین محاذ کھلے ہیں جن پر اُسے اپنا دفاع کرنا ہے۔ پہلا محاذ ’جے آئی ٹی‘ ہے۔ دوسرا محاذ اُن کی سیاسی تنہائی کا ماحول ہے اور تیسرا محاذ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف اُن کی ناکامی ہے۔ جہاں تک اِن محاذوں پر کامیابی کا تعلق ہے تو ’جے آئی ٹی‘ کے ذریعے سرخروئی حاصل کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ کسی صورت اِس معاملے کو طول دیا جائے اور حکومتی اختیارات کے ذریعے ’جے آئی ٹی‘ کی تشکیل پر اثرانداز ہونے کے ساتھ اِس کے کام کرنے کے آغاز میں تاخیری حربے اختیار کئے جائیں۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Saturday, April 22, 2017

Apr2017: Ethical side of the Panama Case verdict!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاسی اخلاقیات!
پاکستان مزید سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مریم اورنگزیب کا قول سلیم ہے کہ ’’اگر اُور مگر ختم ہونا چاہئے۔‘‘ کاش کہ ایسا ہی ہوتا اور عدالتی فیصلے کے فوراً بعد سے رات گئے تک نہ تو مٹھائیاں تقسیم جاتی اور نہ مبارک بادوں کا تبادلہ کرنے والے تصاویر ’سوشل میڈیا‘ پر جاری کرتے۔ عدالتی فیصلے سے اپنے مطلب کے معانی اخذ کرنے اور سیاق و سباق پر غور کرنے والے ’غیرآئینی امور‘ کے ماہرین کے شکوک و شبہات اور تحفظات بدسور موجود ہیں۔ 20 اپریل کی طرح 21 اپریل کا دن بھی پاکستان پر بھاری رہا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے جاری اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین کو بات کرنے کا موقع نہ دیتے ہوئے اجلاس ختم کرنے کی روایت ’عدم برداشت‘ اور اختیارات کے غلط استعمال کی عکاس ہے۔ عدالتی فیصلہ وہی کا وہی رہنا تھا اگر تحریک انصاف کے سربراہ کو قومی اسمبلی سے خطاب کی اجازت دے دی جاتی اور برہمی پر مبنی ردعمل منطقی تھا کیونکہ عمران خان بہت کچھ ’’فلور آف دی ہاؤس (آن ریکارڈ)‘‘ کہنے کی خواہش رکھتے تھے اور یقیناًاُن کا مقصود یہی تھا کہ قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر بھی وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں‘ جو اُن سمیت پیپلزپارٹی کی جانب سے ’جلدبازی‘ میں اگر یہ اعلان پہلے ہی سامنے نہ آتا تو ’وفاقی حکومت‘ ہوشیار نہ ہوتی جو اتنی بھی سادہ نہیں کہ اپنے خلاف محاذ پر محاذ کھولنے دے جو پہلے ہی بیس اپریل کے ’عدالتی فیصلے اور حزب اختلاف کی جانب سے جوش خطابت میں ’کڑے تنقیدی حملوں‘ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

پانامہ کیس میں تحریک اِنصاف کے شانہ بشانہ کھڑی ’جماعت اِسلامی پاکستان‘ بھی خود کو ’سرخرو‘ سمجھ رہی ہے۔ گویا ایک ایسا عدالتی فیصلہ آیا ہے جس سے سب کی دلی مرادیں پوری ہو گئیں ہوں! جماعت کے مرکزی اَمیر (سربراہ) سراج الحق کا مؤقف اُور مطالبہ معمولی نہیں۔ کیا ہوا اگر وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین کو بولنے نہیں دیا کیونکہ اُسی قومی اسمبلی کے باہر ’یکے بعد دیگرے‘ سبھی جماعتوں کے رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کے سامنے ’’دل کے پھپھولے‘‘ کھول کھول کر بیان کر دیئے۔ 

تاریخ تو بہرحال رقم ہو رہی ہے‘ بیس اپریل کا دن اتنا تاریخی (ناقابل فراموش) تھا‘ کہ اس کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اب ہر دن ’تاریخی‘ ثابت ہو رہا۔ ’جلدباز‘ فریقین غلطیوں پر غلطیاں کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہے ہیں۔ سراج الحق کا کہنا ہے کہ سپرئم کورٹ کے کہے کو سمجھا جائے کہ ’’وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ کے بیانات درست نہیں پائے گے۔ دو ججز نے کہا کہ وزیراعظم نااہل جبکہ باقی تین نے ایک عدد تفتیش کی ضرورت محسوس کی ہے تو یہ کس طرح حکمراں جماعت کی کامیابی ہو سکتی ہے!؟ جماعت اسلامی ایک عرصے سے کرپشن کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ ٹرین مارچ‘ سڑکوں سے ایوانوں تک جلسے جلوس اور احتجاج کے بعد عدالت کا دروازہ بھی کٹھکٹھانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کم سے کم اخلاقی طور پر ’پیپلزپارٹی‘ سے بلند ہیں اور مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے سدباب کے لئے قول و فعل کے تضاد کا شکار نہیں!

پانامہ کیس کا فیصلہ منزل نہیں لیکن کامیابی کی جانب پیش قدمی ہے۔ کیا سپرئم کورٹ کے دو جج صاحبان کا فیصلہ معمولی قرار دی جاسکتی ہے؟ 

ضرورت اِس امر کی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کا ایک ہی مطالبہ ہونا چاہئے کہ وزیراعظم اخلاقی طور پر استعفی دے اس لئے کہ اگر وہ بڑی کرسی پر موجود رہتے ہیں تو اس سے تفتیشی و تحقیقاتی عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ بقول سراج الحق ’’موجودہ اور سابق حکمرانوں نے اداروں کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ قوم کو اُن سے یہ توقع ہی نہیں کہ ایک کم گریڈ کا افسر اپنے سے اعلیٰ گریڈ کے افسر کا احتساب کرے گا‘ لہٰذا وزیراعظم ’نواز شریف‘ کی عزت اسی میں ہے کہ وہ استعفی دے کر ایک آزادانہ تفتیش کا ماحول فراہم کریں۔ جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے اراکین کون ہونے چاہیءں اِس پر بھی حزب اختلاف کا مؤقف صرف اور صرف اُس صورت تسلیم کیا جاسکتا ہے جبکہ وہ متحد رہیں! کیونکہ ماضی میں بننے والی ایسی ہی کئی مشترکہ تفتیشی ٹیموں کی کارکردگی اور حاصل ہونے والے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کرنے کی بجائے رائٹ کو دائیں کی بجائے صحیح (حق) اور لیٖفٹ بائیں کی بجائے غلط سمجھنے کے اصولوں پر سیاست ہونی چاہئے تاکہ ملک میں کم سے کم اُن اخلاق قدروں کو حکمرانی کا موقع مل سکے جن میں نمو (ارتقاء) کی طاقت چھپی ہوئی ہے۔ 

لوگوں کے دین اور مسلک جدا (الگ الگ) ہو سکتے ہیں لیکن اخلاق ایک ایسا اصول (معیار) ہے جو پوری دنیا کو جوڑ اور اِسی کی عدم موجودگی میں پیدا ہونے والی تفریق کی وجہ سے ممالک اور اقوام تقسیم (ٹکڑے) بھی سکتی ہیں! 

حق‘ عدل اور اخلاق کا تقاضا یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم اپنے عہدے سے علیحدہ رہیں۔ پارلیمینٹ میں اکثریت رکھنے والی مسلم لیگ (نواز) کسی دوسرے رکن کو وزیراعظم نامزد کر سکتی ہے۔ جمہوریت رواں دواں رہ سکتی ہے اور جمہوریت کو رواں دواں ہی رہنا چاہئے! 

Friday, April 21, 2017

Apr21: Aftermath of the Panama Case verdict!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
منظر‘ پس منظر‘ پیش منظر!

بڑے کیس کی بڑی بھی گھڑی گزر گئی! 

پانامہ کیس میں ’سپرئم کورٹ‘ فیصلے سے ’پاکستان مسلم لیگ‘ کی جیت اور حکمراں جماعت کو حسب دعویٰ ’سرخرو‘ ملی ہے۔ اصولی طور پر پانامہ پیپرز کے بارے میں تفتیش پہلے اور اِس سلسلے میں سپرئم کورٹ سے بعد میں انصاف کا مطالبہ کیا جاتا تاکہ حقائق و شواہد کا جائزہ لینے کی یوں کمی محسوس نہ ہوتی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت سیاسی قائدین جلدبازی نہ کرتے اور ابتدأ میں کمیشن قائم کرنے کی جس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اب اُسی کو تسلیم کرنے کے سوأ چارہ نہیں پا رہے تو آج صورتحال اور فیصلہ مختلف آ سکتا تھا لیکن حزب اختلاف نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ وقت اور حالات دونوں پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے! سپرئم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آئندہ دو ماہ ’کریمنل انویسٹی گیشن‘ کی طرح تفتیش ہو گی۔ شواہد اکٹھے کئے جائیں گے جن کی بنیاد پر سپرئم کورٹ ہی حتمی فیصلہ سنائے گی‘ جس سے وابستہ اُمیدوں کی سانسیں چلتی رہنی چاہیئں۔ 

سپرئم کورٹ کے حکم پر جو افسران تفتیش کے لئے نامزد ہوں گے اگر وہ کمزوری دکھائیں اور چاہیں بھی تو حقائق کو چھپا نہیں سکیں گے یقیناًسپرئم کورٹ کا فیصلہ اُس نوعیت سے واضح نہیں جیسا کہ ہونا چاہئے تھا لیکن ملک کے وسیع تر مفاد اور سسٹم کو بچانے کے لئے ’مزید تفتیش اور تحقیقات‘ کی اجازت دیتے ہوئے وزیراعظم کو اگر ایک اُور موقع دیا گیا ہے تو اِس میں کوئی حرج بھی نہیں کیونکہ ملک کا نظام اور معاملات بھی اہمیت رکھتے ہیں جنہیں جذبات کی عینک لگا کر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

پانامہ کیس کے فیصلے کا لب لباب یہ ہے کہ پانچ جج صاحبان نے جو ایک بات مشترک طور پر کہی ہے اور جس پر اُن میں اختلاف رائے نہیں وہ یہ ہے کہ ’’وزیراعظم اُور اُن کے اہل خانہ کی جانب سے دیا جانے والا جواب تسلی بخش نہیں تھا‘‘ اِسی وجہ سے ’تفتیشی کمیشن‘ قائم کیا گیا تاکہ بادی النظر میں جو کام سپرئم کورٹ نہیں کر سکی اب وہی کام 2 خفیہ ادارے (آئی ایس آئی اور ایم آئی) پر مبنی تین رکنی ٹیم کرے گی جس کی قیادت وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کو سونپی گئی ہے جو وفاقی حکومت کا ماتحت ادارہ ہے اور جس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اُنیس گریڈ عہدے والے آفیسر) کو تفتیش سونپ کر یہ نہیں سوچا گیا کہ اگر اُس سرکاری ملازم کی مدت ملازمت تیس سال سے کم ہوئی تو موصوف اِسی حکومت کے تعینات کردہ (احسان مند) ہوں گے! سوال (جواز) اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا بیس اپریل کا یہی وہ فیصلہ تھا جسے ’’بیس برس‘‘ یاد رکھنے کی قوم کو اُمید دلائی گئی تھی؟ 

سوال یہ بھی ہے کہ جب سپرئم کورٹ کے سامنے باوجود بار بار استفسار کے بھی شواہد (جوابات) پیش نہیں کئے گئے تو کس طرح اُمید رکھی جا سکتی ہے کہ ایک ’ایڈیشنل ڈائریکٹر‘ کی صدارت میں جو ٹیم تشکیل ہو گی اُس کے سامنے وزیراعظم بمعہ اہل و عیال پیش بھی ہوں گے اور سچ بول کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی بھی مار دیں گے؟ گنتی پھر سے شروع ہو گئی ہے‘ قوم کو ایک اُور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والوں کو بہرصورت یقینی بنانا ہوگا کہ تفتیش کا عمل ’ساٹھ دن‘ ہی میں مکمل کیا جائے اور اگر وزیراعظم یا اُن کے اہل خانہ اچانک بیمار ہو بھی جائیں تو تفتیش کا عمل آئندہ عام انتخابات تک طول پکڑنے نہ پائے۔ 

تفتیش کا معیار بھی ہونا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ سیکورٹی خدشات کو جواز بنا کر مذکورہ ٹیم ’وزیراعظم ہاؤس‘ جا کر رسمی کاروائی (بیان ریکارڈ) کر کے ایک ایسی تفتیشی رپورٹ سپرئم کورٹ کے سامنے پیش کرے جس کی روشنی میں اختلافی نوٹ لکھنے والے دو جسٹس صاحبان بھی ایک دوسرے کا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں! 

بیس اپریل پاکستان کے اُن غریبوں (ہم عوام) کی توہین ہوئی ہے‘ جن کی جان و مال‘ جن کے نام پر لئے جانے والے قرضہ جات اور جن کے ادا ہونے ٹیکس کی کوئی وقعت نہیں! سچ تو یہ ہے کہ سچ تک رسائی کے لئے ہم عوام کو ابھی مزید کچھ دن‘ کچھ ہفتے‘ کچھ سال‘ کچھ دہائیاں اور شاید صدیوں انتظار کرنا پڑے گا۔عربی زبان کا محاورہ ہے کہ ’’انتظار موت سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔‘‘ 

Thursday, April 20, 2017

Apr2017: The judgement day!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

دائمی فیصلہ!


پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ’پانامہ انکشافات‘ سے متعلق مقدمے کا فیصلہ نہ صرف ’عہدساز‘ ثابت ہوگا بلکہ اِس سے ملک میں ’’طرز حکمرانی‘‘ کی سمت بھی متعین ہو جائے گی جیسا کہ پاکستان کی پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کا عدالتی فیصلہ اہم تھا‘ اور جس طرح آج بھی پاکستان ’4 اپریل 1979ء‘ کے اُس ایک دن کے حصار سے نہیں نکل سکا‘ جب 1973ء سے 1977ء تک ملک کے 10ویں وزیراعظم اور قبل ازیں 1971ء سے 1973ء تک ملک کے چوتھے صدر رہنے والے ایک مدبر سیاستدان کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ 

بھٹو کا خون ایک ایسا داغ ثابت ہوا‘ جو باوجود کوشش بھی دھل نہ سکا اور اِسی ’آمرانہ اقدام‘ نے پاکستان کی سیاسی سوچ اور انتخابی عمل کو دو واضح حصوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا۔ دنیا اِس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ’سیاست دان‘ ہونے کے معنوی اور اصطلاحی مفہوم پر ہرلحاظ سے پورا اُترتے تھے اور اُن کی سزائے موت کے بعد پاکستان کا طرز حکمرانی مالی وانتظامی بدعنوانیوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا‘ جس سے نکلنے یا اِس میں دھنسے رہنے کا انتخاب ’پانامہ مقدمے کے فیصلہ‘ سے ثابت ہوگا۔ قیام پاکستان کے بعد‘ ذوالفقار علی بھٹو کا بذریعہ عدالت قتل اور عدالت ہی دانش و بصیرت میں ’پانامہ کیس کے فیصلے‘ سے سمجھنا ہوگا کہ سپرئم کورٹ آئندہ حکمرانوں یا اُن کے اہل خانہ کو کتنی ہی کڑی سے کڑی سزا‘ اور نااہل قرار دے بھی دے تو اِس سے آسمان نہیں ٹوٹے گا‘ نہ پاکستان کو لوٹا ہوا سرمایہ واپس ملے گا‘ لیکن بدعنوانی کے ارتکاب میں ’خاص و عام‘ کا امتیاز ختم یا پھر ہمیشہ کے لئے برقرار رہے گا۔ 

ایک بات تو طے ہے کہ پانامہ مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد (post-panama) پاکستان بہرصورت تبدیل ہوگا کیونکہ سپرئم کورٹ میں ایک مرتبہ پھر صرف کسی ایک شخص یا سیاسی جماعت کے ’سیاسی مستقبل‘ کا نہیں بلکہ یہ پاکستان کی قسمت کا ’ہمیشہ ہمیشہ کے لئے (دائمی) فیصلہ‘ ہونے جا رہا ہے۔ کیا ہمیں ایک ایسے طرز حکمرانی کی ضرورت ہے جس میں حکمران خاندانوں کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ جب چاہیں اور جس طرح سے چاہیں ملکی قوانین و قواعد کو پائمال کریں؟ اداروں پر نااہل اور منظورنظر افراد مسلط کرنے کا اختیار حکمرانوں کو ملنا چاہئے؟ 

کیا عہدے اختیارات اور سرکاری وسائل سے ذاتی اثاثے میں اضافہ یا مشکوک ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کی غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک منتقلی یا حسب آمدن ٹیکس کی اَدائیگی سے گریز اور کسی قومی اِدارے سے حلیفہ بیانات کے باوجود بھی اثاثے پوشیدہ رکھنے (دروغ گوئی) کا ارتکاب جائز سمجھا جائے؟ 

پانامہ کیس کے فیصلے پر صرف ایک خاندان ہی کا نہیں بلکہ اُن تمام پاکستانی خاندانوں کی ساکھ اُور مستقبل کے سیاسی و سماجی کردار کا بھی اِنحصار ہے‘ جن کی سانسیں ’’اپریل دوہزارسولہ‘‘ میں منظرعام پر آنے والے ’’ایک کروڑ ساڑھے گیارہ لاکھ‘‘ سے زائد دستاویزات منظرعام پر آنے کے بعد سے اٹکی ہوئی ہیں! جن پاکستانیوں کا یہ خیال ہے کہ صرف ’پانامہ لیکس‘ کے ذریعے ماضی و حال کے حکمرانوں کے کرتوتوں کا بھانڈا پھوٹا ہے تو وہ غلطی پر ہیں کیونکہ ابھی تو متحدہ عرب امارات میں اثاثے اور سوئزرلینڈ کی بینکوں میں خفیہ طور پر اکاونٹس رکھنے والوں سے بھی نمٹنا باقی ہے لیکن یہ سب صرف اور صرف اُسی صورت ممکن ہوگا‘ جبکہ ’پانامہ مقدمے‘ کا فیصلہ کا آج (بیس اپریل) سنائے جانے کا اعلان کردیا گیا ہے لیکن اِس فیصلے کو سیاسی مفادات کی عینک لگا کر (تنگ نظری سے) نہیں بلکہ وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

رواں برس بائیس فروری سے محفوظ ہونے والا پانامہ کیس کا فیصلہ کسی سیاسی جماعت کی مخالفت یا مؤقف کو درست ثابت کرنے کا جواز نہیں بلکہ ایک نیا دن بن کر طلوع ہونا چاہئے۔ ایک مرتبہ پھر نظریں سپرئم کورٹ پر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی یاد آ رہی ہے یقیناًآج پاکستان کی اُس ساٹھ فیصد آبادی کی قسمت کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے‘ جن کے بنیادی حقوق ادا نہیں ہوئے۔ جنہیں انصاف نہیں ملا اُور جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں!

Saturday, April 15, 2017

Apr2017: Confusion over the pending verdict!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پہیلیاں!
پاناما اسکینڈل کیس کی طویل سماعتوں کے بعد سپرئم کورٹ کی جانب سے فیصلہ محفوظ کئے ’’ڈیڑھ ماہ‘‘ سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے اور سب کو فیصلے کا بے چینی اور بے صبری سے انتظار ہے۔ فیصلہ کیا ہوگا چونکہ اِس حوالے سے کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی‘ اِس لئے ہر گھڑی تجسس بڑھ رہا ہے کہ یہ فیصلہ کب اور کیا سامنے آئے گا؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم سپرئم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کئی سماعتوں کے بعد رواں برس تیئس فروری کو پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اِسے مناسب وقت پر سنایا جائے گا اور بیس سال کے بعد بھی لوگ کہیں گے کہ یہ فیصلہ قانون کے عین مطابق تھا۔‘‘ پاناما کیس کے سلسلے میں مختلف درخواست گزاروں نے پٹیشنز دائر کی تھیں‘ جن میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان‘ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور شیخ رشید احمد شامل ہیں‘ جو وزیر اعظم کی جانب سے پانچ اپریل دوہزار سولہ کو قوم سے خطاب اور سولہ مئی دوہزار کو قومی اسمبلی میں کئے گئے خطاب میں مبینہ طور پر غلط بیانی کی بنیاد پر اُن کی نااہلی کے خواہاں ہیں لیکن اگر اختیارات کے ناجائز استعمال اور وسائل کی لوٹ مار پر اگر کوئی ایک بھی نااہل قرار پایا تو یہ سلسلہ رکے گا نہیں اور نہ ہی بات ختم ہوگی۔

قبل اَز وقت ’ممکنہ عام انتخابات‘ کی تیاریاں کرنے والی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ ’پانامہ کیس‘ کا فیصلہ عنقریب لگنے والا ہے جس کی بنیاد پر وہ آئندہ عام انتخاب ’لوٹنے‘ کی خواہش میں پیشگی مبارکبادوں کا تبادلہ (اظہار مسرت) بھی کر رہی ہیں لیکن کیا آج کی تاریخ میں‘ پاکستان کی کوئی ایک بھی سیاسی جماعت ایسی ہے جس کی مرکزی یا صوبوں میں قیادت کے ستون ’صادق و امین‘ کے اُس کم سے کم ’آئینی معیار‘ پر پورا اُترتے ہوں‘ جس کے بارے میں انکم ٹیکس گوشواروں کی طرح الیکشن کمیشن کو دیئے جانے والے ’تحریری حلفیہ دروغ گوئی‘ پر مبنی بیانات معمول بن چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمرانی پر فائز سیاسی جماعتوں کے نام بدلتے رہتے ہیں لیکن حکمراں خاندانوں کا تسلط برقرار ہے جو اُس وقت تک قائم و دائم (لازوال) رہے گا جب تک عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد اور الیکشن قواعد و ضوابط کی ہر ایک شق پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد ممکن نہیں ہوجاتا یا عملاً ممکن نہیں بنایا جاتا۔ پاکستان میں شفاف عام انتخابات ہی جمہوریت کے قیام اور طرزحکمرانی کی اصلاح کی واحد صورت ہیں۔ جب تک ہمارا انتخابی نظام اور انتخابی اصلاحات کے ذریعے ایسے ’شفاف چناؤ‘ عملاً ممکن نہیں ہوتے کہ جن کے ذریعے ’’بالغ حق رائے دہی‘‘ کا تناسب اُور معیار‘ دھونس دھاندلی یا نسلی و لسانی اور مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہوں‘ اُس وقت تک ’قسمت نہیں بدلے گی!‘ یہ اَمر بھی ذہن نشین رہے کہ جب تک خودمختار ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ اپنے فرائض کی ادائیگی میں خودمختار ہونے کا اپنے عمل سے ثبوت نہیں دے گا‘ اُس وقت تک عہدوں اُور اِختیارات سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی روش اور غاصب طبقات کا تسلط قائم رہے گی اور ایک نہیں بلکہ مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے مزید کئی ایک پانامہ کیسیز سے اُس طبقے کی صحت و حیثیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا‘ جس کے مالی مفادات پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں!

پاکستان کی سیاست کو تغیرپذیر ملکی اور عالمی تناظر میں بھی دیکھنا چاہئے کہ کس طرح اسلامی ممالک پر عالمی طاقتوں کا دباؤ ہے اور ایک ایسی صورت میں قبل ازوقت عام انتخابات کی پیش گوئی کرتے ہوئے یہ اُمید (تصور) رکھنا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وجہ سے الیکشن فوج کی نگرانی میں شفاف انداز میں ہوں گے‘ الجھنوں میں اضافے کا باعث امر ہوگا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا ماننا ہے کہ ’’فوج کی زیرنگرانی آئندہ عام انتخابات ’’تاریخی‘‘ ہوں گے‘ جن میں دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا‘‘ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ انتخابی دھاندلی سے زیادہ تو عام انتخابات پر سرمایہ‘ ذات برادری اُور تھانہ کچہری کے معاملات اثرانداز ہوتے ہیں! ماضی میں بھی پولنگ اسٹیشنوں پر فوجی دستے موجود رہے‘ تاہم پاناما لیکس کے متوقع فیصلے پر مرکوز نظروں میں فوج بھی شامل ہے جو یکساں بے چین ہے اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال ’’سول اور فوجی تعلقات‘‘ کے لئے سابق آرمی چیف راحیل شریف سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوسکتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے راحیل شریف کو سیاسی جماعتوں کے درمیان آنا پڑا لیکن یہی کام موجودہ آرمی چیف نے باآسانی و خوش اسلوبی سے حسب خواہش و ضرورت کر لیا اور یہی سبب ہے کہ سیاسی تجزیہ کار پورے یقین سے کہہ رہے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف سخت گیر مؤقف رکھنے والے جنرل قمر باجوہ‘ آنے والے دنوں میں راحیل شریف سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے جو ’’شور‘‘ کم اور ’’کاروائی‘‘ زیادہ کرنے کے قائل ہیں۔

سپرئم کورٹ پاناما لیکس کی روشنی میں فیصلہ لکھتے ہوئے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر رہی ہو گی کیونکہ اِس سے صرف ایک حکمراں خاندان کی نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں دیگر افراد کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو جائے گا‘ جنہوں نے 1: پاکستان میں حسب آمدنی ٹیکس ادا نہیں کیا‘ 2: مشکوک ذرائع آمدنی سے مالی وسائل میں اضافہ کرتے چلے گئے‘ 3: غلط بیانی کے ذریعے آمدنی اور اثاثوں کو قومی اداروں سے پوشیدہ رکھا‘ 4: مالی وسائل غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک منتقل کئے‘ 5: بیرون ملک اپنے اہل خانہ کے ناموں یا فرضی اِداروں کے ذریعے سرمایہ کاری کی گئی۔ یہ پانچوں جرائم اِس قدر سنجیدہ نوعیت کے ہیں کہ اگر اِن میں ایک کا اطلاق بھی‘ کسی فرد‘ خاندان یا ادارے پر ہوا‘ تو وہ ’تاحیات نااہلی‘ سے نہیں بچ سکے گا۔ علاؤہ ازیں بیرون ملک‘ چوری چھپے سرمایہ کاری کرنے والوں پر ’غداری‘ کی دفعات بھی لاگو ہوں گی جنہوں نے اپنے مالی مفادات کے لئے ملکی اداروں‘ قوانین اور قواعد کو حقیر سمجھا اور ہر ادارے کو بدعنوان بنا کر پاکستان کو اُس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں ملکی ادارے بوجھ بن چکے ہیں‘ برآمدات روبہ زوال ہیں‘ توانائی بحران کی صورت ڈھل چکے ہیں اور نہ صرف قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے بلکہ قرض کی اقساط و سود ادا کرنے کے لئے بھی مزید قرض حاصل کرنے کے سوا چارہ بھی نہیں رہا تو وقت ہے کہ پاکستان کی قومی آمدنی اور قرضوں سے حاصل ہونے والے مالی وسائل لوٹنے والوں کی نشاندہی (احتساب) بذریعہ عام اِنتخاب (الیکشن) نہیں بلکہ ’بمطابق قانون‘ ہونا چاہئے۔