Change
تبدیلی
عالمی بینک کی جانب سے ’’بدعنوانی‘‘ کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ۔۔۔ ’’کوئی فیصلہ ساز اپنے عہدے سے جڑے اختیارات کا ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرے تو ایسے عمل کو بدعنوانی کہا جائے گا۔‘‘ چند برس قبل کی بات ہے جب ورلڈ بینک نے پاکستان میں کی جانے والی سرکاری (حکومتی) خریداری سے متعلق اعدادوشمار جاری کئے تھے اور اُن کے مطابق پاکستان اپنی مجموعی آمدنی کا 19.8 فیصد یعنی قریب 60 ارب ڈالر مختلف قسم کی خریداریوں پر خرچ کرتا ہے۔ یہ امر اِس لئے لائق توجہ ہے کہ سالانہ خریداری کا حجم تیس سے ساٹھ فیصد کے درمیان ہے اور یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ خریداری کے اِس عمل میں سالانہ کم سے کم ’18 ارب ڈالر‘ اور زیادہ سے زیادہ ’36 ارب ڈالر‘ خردبرد ہوتی ہے۔
پاکستان پبلک پریکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے بانی نگران (فاؤنڈنگ منیجنگ ڈائریکٹر) کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان کو کسی بھی ملکی یا غیرملکی مالیاتی ادارے یا حکومت سے قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی اگر ہم صرف اپنی قومی سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف بنائیں اور اِس عمل میں ہونے والی بدعنوانیوں کو روک لیں۔‘‘ تصور کیجئے کہ امریکی حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر انسداد منشیات کی حکمت عملی سے متعلق (نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹیجی) رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے سالانہ 10 ارب ڈالر کے مساوی سرمایہ غیرقانونی ذرائع (منی لانڈرنگ) سے بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ کسی بھی طور معمولی رقم نہیں کیونکہ اگر ہم گذشتہ 10 برس کے دوران ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگائیں تو یہ رقم 100 ارب ڈالر بن جاتی ہے!
پاکستان سے ہونے والی سالانہ اس قدر بڑی چوری کو سمجھنے کے لئے بڑا حساب داں ہونا ضروری نہیں بلکہ ریاضی کے ابتدائی قواعد سے آشنائی رکھنے والا بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ جو سرمایہ پاکستان سے ہر سال چوری ہو رہا ہے دراصل یہی پاکستان میں پائی جانے والی غربت اور اقتصادی مسائل کا سبب ہے۔ رواں برس پاکستان کو درآمدات کے لئے 26 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے لیکن ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر اس قدر نہیں۔ دوسری طرف پاکستان اپنی قومی ضروریات کے لئے جن اشیاء کی خریداری کرتا ہے اُس میں ہونے والی خردبرد درآمدات کے مجموعی حجم سے زیادہ بنتی ہے۔ پاکستان پر بیرونی قرضے کا بوجھ 95 ارب ڈالر ہے اور 10 برس میں 100 ارب ڈالر غیرقانونی ذرائع (منی لانڈرنگ) سے بیرون ملک منتقل کیا گیا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر پاکستان سرکاری خریداریوں میں ہونے والی مالی بے قاعدگیوں کو روک لے اور غیرقانونی ذرائع (منی لانڈرنگ) کے ذریعے یہاں سے سرمائے کی بیرون ملک منتقلی نہ ہو‘ تو پاکستان کے اقتصادی مسائل ختم ہو جائیں گے اور یہ ایک ایسا ملک بن جائے گا جس کا خزانہ اُس کی ضروریات سے زیادہ سرمائے سے بھرا ہوگا۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت ایک ایسی سیاسی جماعت کو ملی ہے جو ’’نظام کی تبدیلی‘‘ اور ’’طرزحکمرانی میں اصلاح‘‘ کا عزم رکھتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف پر عزم ہے کہ وہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کرے گی اور بدعنوانی کا خاتمہ موجودہ وفاقی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ صرف سیاسی حکومت ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں یہ بات بھی پہلی مرتبہ ہو رہی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان بھی ’بدعنوانی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘ اصل تبدیلی یہی ہے کہ 71 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم اور پاکستان کا چیف جسٹس (حکومت کے دو اہم جز) ایک جیسا لائحہ عمل رکھتے ہیں کہ وہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ بات بھی پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہی ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) ملکی تاریخ کی سب سے بڑی بدعنوانی کا معمہ حل کر رہی ہے اور اب تک ایسے 77 بینک اکاونٹس کا بھانڈا پھوڑا گیا ہے‘ جن کے ذریعے پاکستان سے باہر سرمایہ منتقل کیا گیا اور یہ کام کرنے والوں میں جن بااثر افراد کا نام آ رہا ہے اُن میں سابق صدر پاکستان‘ آصف علی زرداری کا نام نامی بھی شامل ہے جنہوں نے ممکنہ اور مبینہ طور پر جعل سازی سے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کئے!
جن لوگوں کو تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی وہ کراچی کے حالات پر نظر کریں جو پاکستان کی آمدنی کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اب اِس تجارتی و صنعتی اور کاروباری مرکز کے فیصلے برطانیہ یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھنے والوں کے ہاتھ میں نہیں اور نہ ہی غنڈا راج ہے‘ جو کراچی کے وسائل اور عوام پر حکمرانی کرے۔ فیصلہ ساز تبدیلی کے خواہاں ہیں اور قومی ادارے تبدیلی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ اصل مجرم وہ ہیں جو بااثر ہیں اور جنہوں نے اپنے آپ کو سرمائے اور سیاست کے پیچھے چھپا رکھا ہے۔ عوام کی نظر میں تبدیلی اُس دن آئے گی جب مالی بدعنوانوں اور پاکستان کے مالیاتی نظام کو تباہ و برباد کرنے والوں کو سزائیں ملیں گی اور بدعنوانی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کئے گئے سرمائے سمیت پاکستان کے اندر موجود مشکوک آمدنی سے حاصل کردہ اثاثے ضبط کئے جائیں گے۔ جب قوانین سے استثنیٰ رکھنے والوں کا احتساب ہوگا جب حکومت بڑے چوروں کو سزائیں دے گی۔ عوام ایسی حقیقی اور عملی تبدیلی کے منتظر اور متمنی ہیں۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)







