Showing posts with label Panama Verdict. Show all posts
Showing posts with label Panama Verdict. Show all posts

Monday, December 18, 2017

Dec 2017: Verdict embedded with lessons

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
(سبق آموز) عدالتی فیصلے!
پانامہ کیس فیصلے (اَٹھائیس جولائی) کے بعد سے ’عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ آف پاکستان)‘ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا سلسلہ ’’منظم تحریک‘‘ کی صورت جاری ہے جس کی قیادت و سرپرستی وفاقی حکمراں جماعت کے سربراہ نواز شریف کر رہے ہیں۔ سولہ دسمبر کی شام برطانیہ سے پاکستان کے لئے روانہ ہونے سے قبل اور سترہ دسمبر کی صبح پاکستان پہنچنے پر اُنہوں نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے عدالتی فیصلوں پر ایک مرتبہ پھر ’عدم اطمینان‘ کا اظہار کیا جو یقیناًبناء سوچے سمجھے نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کے واحد ذریعے پر ’تنقیدی نشتر‘ چلانے اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کی مہم (کوشش) کا درپردہ مقصد عام آدمی (ہم عوام) کی زندگیوں میں غربت‘ جہالت اور محرومیوں کے بعد مایوسی بھرنا ہو اور یہ باطل یقین دلانا مقصود ہو کہ ’’پاکستان میں انصاف نہیں مل رہا؟‘‘ برسرزمین حقائق اِس کے اُلٹ ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ جن سیاسی رہنماؤں نے اپنے بچوں اور اثاثہ جات بیرون ملک (متحدہ عرب امارات و برطانیہ سمیت پانچ براعظوں میں) پھیلا رکھا ہے‘ اُن کی جانب سے پاکستان میں انصاف کی مبینہ عدم دستیابی پر بے چینی کے اظہار کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے وسائل کی لوٹ مار کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے۔

افسوس کا مقام ہے لیکن اچھا ہی ہوا کہ پاکستان میں ’انصاف اور عدالت کا دفاع‘ کرنے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار بذات خود میدان میں اُترے۔ سولہ دسمبر کے روز‘ وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جس گرمجوشی سے اپنا مؤقف اور عدالتی فیصلوں سے متعلق وضاحت پیش کی اُس کے بعد صرف اِس ایک بات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ وہ عدالت پر معترضین کے ساتھ مناظرہ ’ٹیلی ویژن‘ پر براہ راست نشر کیا جائے۔ علاؤہ ازیں مستقبل میں بدعنوانیوں (کرپشن) سے متعلق تمام مقدمات کی سماعتیں ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کرنے سے بھی ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی اور انہیں اخلاقی شکست دی جاسکتی ہے جو عدالت میں ’’بھیگی بلی‘‘ اُور بعدازاں ’’شیر‘‘ بن کر دھاڑتے دکھائی دیتے ہیں!

چیف جسٹس کے بیان کا ہر ایک لفظ قابل غور اور لائق توجہ ہے جس کی روشنی میں مستقبل کے اُس پاکستان کا منظرنامہ زیادہ واضح دکھائی دینے لگا ہے جہاں بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس نے جو کچھ کہا اُس کے بعد مزید کہنے یا اُس میں اِضافہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ چیف جسٹس نے پاکستان کی اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا ۔۔۔ ’’ریاستی اَمور ایماندار اُور صادق لوگوں کی جانب سے نہیں چلائے جارہے‘ جس کی وجہ سے عوام پریشانی کا شکار ہیں اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہیں لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ ریاست کے انفراسٹرکچر ایمانداری کے مقصد (اَصول مدنظر رکھتے ہوئے) سے بنایا جائے۔‘‘ اُنہوں نے ’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کیس سے متعلق ’اَسی صفحات‘ پر مشتمل فیصلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ۔۔۔ ’’لوگوں یہ اندازہ کرنا چاہئے کہ اقتدار میں رہنے والے اور خاص طور پر عوام کے نمائندے منتخب ہونے والے ایماندار ہونے چاہئیں کیونکہ ایمانداری کسی بھی شخصیت کی فضیلت میں ایک (اہم جز) ہے۔‘‘

چیف جسٹس ’انفرادی فضیلت‘ ایمانداری کے پیمانے اُور اہلیت کی جس ’کسوٹی‘ کا ذکر کر رہے تھے اُس کا تعلق ریاستی آئین اُور اِدارہ جاتی قواعد و ضوابط ہی سے نہیں بلکہ خوداحتسابی سے ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کسی ایک بھی سیاسی جماعت کا سربراہ اُور نائبیئن ’امانت و صداقت‘ کے اُس (کم سے کم) معیار پر پورا نہیں اُترتے جو مصلح اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قول اور عمل سے مقرر فرمایا اُور اَب قیامت تک اُس میں ردوبدل ممکن نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کا بیک وقت ’’اسلامی‘‘ اُور ’’جمہوری‘‘ ملک ہونا اپنی ذات میں گمراہ کن تصور ہے۔ اسلام اور جمہوریت ایک نہیں بلکہ دو الگ الگ تصورات (نظریئے) ہیں اور اِن کو اکٹھا کر کے ایک نیا نظام تشکیل دینا تو ممکن ہے لیکن اِن دونوں سے بیک وقت استفادہ اور فلاح کا حصول بذات خود سراب ہے! عدالت عظمیٰ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کے فیصلے میں جس غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا‘ اور جو ضمنی تصورات کھول کر بیان کئے‘ اُس سے عدالت کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہی نہیں بلکہ اِس میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’’ریاست کی پالیسیوں کو دیکھنے کے لئے سپرئم کورٹ سب سے بڑا ادارہ ہے جس کے علاؤہ ریاست کا دوسرا نگران و بااختیار ادارہ بھی اسی سے ماخوذ ہوسکتا ہے‘ اگرچہ (عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل) پارلیمان‘ قانون سازی کے عمل اُور انتظامیہ کے ایگزیٹو اقدامات کی توثیق کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے تاہم ان اقدار کو آئین کی حدود میں رہ کر قانون کے مختلف اَصولوں اورعدالتوں کی تشریح کے مطابق استعمال کیا جانا چاہئے۔‘‘ حالانکہ اِس کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن جذباتی حدوں کو چھوتے فیصلے میں اِس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ ’’عدالتی حکم نامے کو ایسے لوگوں کے ہاتھ کا آلہ نہیں بننے دیں گے جو عدالتوں میں بدنیتی کے ساتھ آتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو سر پر تلوار رکھ کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘ یہ لوگ آئین کے ’’آرٹیکل دو اے‘‘ کے تحت عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہیں۔ ریاست کو اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اپنی طاقت اور اختیارات کا استعمال کرنا چاہئے۔ اس کے علاؤہ ارکان پارلیمان کو بدنام کرنے‘ دھمکی دینے اور غیر معمولی ہراساں کرنے کی دوبارہ اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘ 

تحریک انصاف کے رہنماؤں (عمران خان اور جہانگیر ترین) کے خلاف فیصلے میں بہت کچھ ایسا بھی تحریر ہے جن کا تعلق اِس مقدمے سے ضمنی طور پر تو ہے لیکن فیصلے کے ذریعے دیگر سیاسی جماعتوں کو ’عدالت کے مزاج‘ اُور ’توقعات‘ سے آگاہ (متنبہ) کر دیا گیا ہے‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ اشارے کنائیوں کی زبان کس کس کی سمجھ میں آتی ہے اور وہ کون کون ہے جو دوسروں کی غلطیوں یا دوسروں سے متعلق سبق آموز عدالتی فیصلوں سے عبرت حاصل کرتا ہے۔
۔

Sunday, October 22, 2017

Oct 2017: Open letter, how can Pakistan describe its justice system!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کھلا خط!

تاریخ خاموش ہے کہ آج تک کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ۔۔۔ ’احتساب‘ کی خصوصی عدالت کا بطور ملزم سامنا کرنے والے سرکاری گاڑیوں اور محافظوں کے حصار میں ’تشریف‘ لائیں۔ 

عدالت عظمیٰ سے تاحیات نااہل قرار پانے والے سابق وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ (اٹھائیس جولائی دوہزار سترہ سے) جس ایک حقیقت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں وہ پاکستان میں انصاف کی بنیاد ہے اور اگر اِس ڈھانچے (نظام) پر بھی عوام کا اعتماد اُٹھ گیا تو باقی جو کچھ بھی رہے گا‘ اُس سے ملک و معاشرے کی اجتماعی بہبود نہیں ہوگی۔ موروثی سیاست ’مضبوط‘ سے ’مضبوط تر‘ ہوتی چلی جائے گی۔ تصور کیجئے کہ جب نوازشریف کی صاحبزادی کو ’وی وی آئی پی‘ پروٹوکول کے ساتھ ’احتساب عدالتوں‘ کی چند ایک سماعتوں کا سامنا کرنا پڑا تو اُن کے چہرے پر ناگواری اور بیزاری کا احساس الفاظ میں اُمڈ آیا اور بے اختیار چلا اُٹھیں کہ ’’روز روز کی پیشی سے تو بہتر ہے کہ سزا ہی سنا دی جائے۔‘‘ دست بستہ عرض ہے کہ بی بی یہ تو ’’ابتدائے عشق‘‘ ہے۔ اس ملک میں کسی غریب کی بیٹی کو عدالتوں کے دھکے کھانے پڑجائیں‘ تو وہ روز روز نہیں بلکہ سال ہا سال پیشیاں بھگتنے پر مجبور ہوتی ہے اور پھر دعا کرتی ہے کہ اے رب‘ اس ذلت آمیز نظام کے ذریعے انصاف ملنے سے تو کئی درجے بہتر ہے کہ عزت سے موت ہی آجائے‘ بلکہ ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں کہ عدالتوں کے چکر لگانے والے مرد و خواتین نے ’اُس خاص ماحول‘ کی وجہ سے خودکشیاں کیں‘ جس میں عام آدمی کے لئے نہ تو عزت ہے اور نہ ہی تکریم۔

محترمہ مریم بی بی سے قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ آپ نے کب اس قدر مشکلات جھیلی ہوں گی جس قدر ایک عام پاکستانی کے مقدر میں لکھی ہوئی ہیں! آپ تو وہ خاص لوگ ہیں کہ عدالتیں چل کر آپ کی دہلیز تک آتی رہی ہیں۔ آپ نے درست کہا کہ ’’روز روز کی سزا‘‘ ختم ہونی چاہئے لیکن کیا یہ روز روز کی سزا بناء کسی جرم نازل ہوئی ہے؟ کیا آپ کو اپنے خاندان کے بے انتہاء مالی اثاثوں کو دیکھ کر شک نہیں ہوتا کہ آخر یہ سب کہاں سے آ گیا؟ کیا آپ نے کبھی اپنے والد گرامی کو مشورہ دیا کہ وہ انصاف تک رسائی کے عدالتی نظام کی اصلاح فرمائیں کہ کس طرح ’روز روز کی پیشیاں‘ سزا سے کم نہیں ہوتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تھانہ کچہری اور عدالتوں کے نظام کو اس قدر پیچیدہ رکھا گیا ہے کہ تاکہ عوام کو سیاسی جماعتوں کا محکوم و غلام رکھا جا سکے؟ کیا ہم یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ عوام کا غم اور تکلیف کا احساس ہمارے حکمرانوں کے لئے معنوی وجود رکھتا ہے؟ اہل پاکستان کے لئے صرف انصاف کا حصول ہی بذریعہ عدالت ممکن نہیں رہا بلکہ یہاں تو تعلیم وعلاج کے لئے بھی پیشیاں (حاضریاں) بھگتنا پڑتی ہیں۔ ملازمتیں بناء پیشی نہیں مل سکتیں اور بناء جرم بھی پیشیوں پر پیشیاں پیش آ سکتی ہیں! 

کیا یہی پاکستان ہے کہ عام آدمی تاحیات عام رہے؟ 

غریب ہمیشہ غریب رہے اور حکمراں ہمیشہ حکمراں رہے؟ 

کیا سادہ لوح محترمہ مریم بی بی جانتی ہیں کہ پاکستان کی عدالتوں میں پندرہ لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتوأ ہیں اور اِس قدر بڑی تعداد میں مقدمات زیرسماعت ہونے کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں نئے مقدمات ہر ماہ درج ہو رہے ہیں!؟ 

کیا ہم ایسے نظام کو اِنصاف تک رسائی کی سبیل قرار دے سکتے ہیں جس میں انصاف ملنے کی اُمید میں نسل در نسل انتظار کرنا پڑے۔ کیا محترمہ مریم بی بی حقیقت آشنا نہیں کہ ’تاخیری اِنصاف درحقیقت انصاف تک رسائی سے انکار ہی ہوتا ہے۔‘ یہ کہا تو جا سکتا ہے کہ انصاف بکتا ہے لیکن اِس کا مطلب وکلاء کی بھاری فیسیں ہیں جن کی ادائیگی ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں ہوتیں! جتنا نامور وکیل اتنے ہی کامیابی کے امکانات! کیا مریم بی بی کو کچھ اندازہ ہے کہ عدالتوں میں اہم (وی آئی پی) اور غیر اہم (ہم عوام) سے الگ الگ سلوک کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہر پاکستانی کا یہ حق نہیں کہ اُس سے عدالتوں کا رویہ یکساں یعنی مؤدبانہ ہو؟ افسوس کہ ہم یہ بات تو جانتے ہیں کہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے نوے فیصد مجرم پکڑے نہیں جاتے جو دس فیصد گرفت میں آتے ہیں تو اُن کی اکثریت یا تو ضمانتیں کروا لیتی ہے یا پھر بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتالوں کے خصوصی وارڈز میں ’بستر‘ نشین ہو جاتی ہے! قتل اُور اقدام قتل جیسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب اگر سرمایہ دار ہوں اور سیاسی اثرورسوخ رکھتے ہوں تو ایسی کوئی بھی عدالت کم سے کم پاکستان میں تو نہیں جو اُنہیں سزا دے سکے۔ یہاں جرائم قوانین کے سہارے اپنا وجود رکھتا ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ قاتل ضمانتوں پر رہا ہوئے۔ عینی شاہدین قتل ہوئے۔ میر مرتضی‘ میر شاہنواز اور بینظیر بھٹو جیسی اہم شخصیات کے قاتل آج تک معلوم نہ ہوسکے تو اس بات پر کیا تعجب کہ اگر کسی عام آدمی کے معلوم قاتل بھی صاف بچ نکلیں! 

کیا شریف خاندان کا مقدمہ اُن سینکڑوں خاندانوں سے زیادہ سنگین ہے جن کے عزیز قتل ہو چکے ہیں؟ 

حالت یہ ہے کہ جائیدادوں اور کرایہ داروں سے بذریعہ عدالت گھر خالی کرانا بھی ممکن نہیں رہا۔ دیوانی کے مقدمات میں نسلیں رُل جاتی ہیں! نوازشریف خاندان کو صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ اِن کے اثاثے معلوم آمدنی کے ذرائع سے زیادہ کیسے ہیں اور اِن کی خریداری کے لئے مالی وسائل کن ذرائع سے اَدا کئے گئے یعنی منی ٹرائل کیا تھی۔ اِس سیدھے سادے مقدمے کو اُلجھا کر کہیں ووٹ کے تقدس یاد دلایا جاتا ہے اور کہیں انتقام کی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ عدالت اُور انصاف پر سوال اُٹھانے کی بجائے اُن دو بنیادی سوالات کا جواب کیوں نہیں دیا جارہا‘ جن کا تعلق مالی اَمور سے ہے۔ پاکستان کی اِجتماعی دانش و بصیرت کا اِمتحان ہے کہ قوم کسی ایسے خاندان کو کس طرح بطور حکمران تسلیم کر سکتی ہے جن کے مالی معاملات و اَمور مشکوک ہیں اور جو سوالات کا جواب دینے کی بجائے عدالتی معاملے کو غیرضروری طور پر طول دے رہے ہیں!
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-10-22

Sunday, August 6, 2017

TRANSLATION: Alarm bells by Dr. Farrukh Saleem

Alarm bells
خطرے کی گھنٹیاں
پانامہ پیپرز کی صورت منظرعام پر آنے والی دستاویزات کے بعد سے پورا پاکستان گزشتہ پندرہ ماہ سے حقائق کی کھوج اور سیاست میں ذاتی مفادات پر مبنی ترجیحات پر بحث کر رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ’کاروبارِ حیات‘ رُک گیا ہو اور ماسوائے پانامہ پاکستان میں کچھ بھی نہ ہو رہا ہو لیکن توجہ طلب یہ امر ہے کہ جب ہم ’پانامہ کھیل‘ میں مصروف ہیں تو پس پردہ پاکستان کی اقتصادیات تیزی سے روبہ زوال ہیں! ہمارے سامنے یورپی ملک اٹلی کی مثال موجود ہے جہاں وزیراعظم کو یوں تبدیل کیا جاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنی جرابوں کے جوڑے تبدیل کرتا ہے اور یہی صورتحال جاپان کے سیاسی نظام کی بھی ہے کہ وہاں حکمرانی کسی ایک خاندان یا فرد کی میراث نہیں ہے۔ اِن ممالک میں سیاسی حکمرانوں کی ’آمدورفت‘ سے ملک کی اقتصادی ترقی کا عمل متاثر نہیں ہوتا کیونکہ ادارے پالیسیوں کے تابع ہوتے ہیں اور پالیسیاں مرتب کرنے خودمختار ہونے کے ساتھ قومی اداروں میں سیاسی مداخلت نہیں کی جاتی۔ سیاست دانوں کو اپنی حدود کا علم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ قومی اِداروں کی مضبوطی حد درجہ ضروری ہے لیکن ہمارے (بدقسمتی سے) ہاں ایسا نہیں ہے۔ جب کوئی وزیراعظم یا سیاسی حکومت مشکل میں پھنستی ہے تو ملک کا ہر ادارہ اُس کے حق یا مخالف ہو کر اپنی بنیادی ذمہ داریاں پس پشت ڈال دیتا ہے اور اِس طرزعمل سے برآمد ہونے والا نتیجہ‘ 
پانامہ کیس کی ذیل میں ملک کی صورتحال سے واضح ہے۔

تجارتی خسارہ: پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ملک کی درآمدات ’52 ارب ڈالر‘ تک جا پہنچی ہوں۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ پاکستان کی برآمدات اِس تیزی سے کم ہوئی ہوں جیسا کہ گذشتہ 6 سال کے دوران ہوئی ہیں! پاکستان کی تاریخ میں یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اقتصادی خسارہ 32 ارب ڈالر کو چھو رہا ہو! اِس قومی اقتصادی خسارے کو کم کرنے کے لئے ہمارے پاس یہی صورتیں باقی رہ گئی ہیں کہ ہم مزید قرضوں کی صورت بھیک مانگیں۔ ادھار لیں یا پھر چوری کر کے کہیں نہ کہیں سے مالی ضروریات کو پورا اور اقتصادی خسارہ کم کرنے کی تدبیر کریں۔ ذہن نشین رہے کہ ’’اقتصادی خسارہ‘‘ ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک کی برآمدات (باہر سے آنے والی اشیاء) اُس کی درآمدات (اُس کی پیداوار کی بیرون ملک فروخت) سے زیادہ ہو جائیں! موجودہ حالات میں پاکستان میں اشیاء و اجناس کی پیداوار کے مقابلے بیرون ملک سے اشیاء و اجناس کی درآمدات زیادہ ہو رہی ہیں۔

اقتصادی بحران کا ایک رخ ’پاکستانی روپے (کرنسی)‘ پر برقرار اور بڑھتا ہوا دباؤ بھی ہے۔ ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی شرح پھر سے نظرثانی کی متقاضی ہے۔ کیا ہم اِس ناکام حکمت عملی سے کام لیتے رہیں گے کہ باہر سے درآمدات کرتے رہیں؟ آخر ہم کیسے 32 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم اور اِس قدر سرمائے کا بندوبست کریں گے کیونکہ درآمدات و برآمدات کے درمیان فرق کا موجودہ تناسب زیادہ عرصہ برقرار رکھنا (جھیلنا) ممکن نہیں ہوگا۔ اقتصادی بحران کی شدت میں بڑھتے ہوئے اضافے سے نمٹنے کے لئے سوچ بچار کا عمل کس کی ذمہ داری ہے اُور اِس میں اِضافہ ہماری سوچ سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے تو درست اقتصادی فیصلے کون کرے گا۔

بجٹ خسارہ: وزارت خزانہ کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی آمدن و اخراجات عدم توازن کا شکار ہے اور وفاقی بجٹ کا خسارہ 1.5(ڈیڑھ کھرب) ٹریلین روپے ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وزارت خزانہ (ایف بی آر) جائز قابل واپسی محاصل جن کی مالیت 300 ارب روپے ہے ادا نہیں کر رہی۔ ہم جانتے ہیں کہ حکومت کے ذمے بجلی پیدا کرنے والے نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے 400 ارب روپے واجب الادأ ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایف بی آر چاہتا ہے کہ لوگ اپنی آمدنی کا پیشگی ٹیکس ادا کریں! ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی ادارے جیسا کہ پی آئی اے‘ پاکستان سٹیل اور پاکستان ریلویز خسارے میں ہیں اور ہرسال سینکڑوں ارب روپے اِن اداروں کو فعال رکھنے پر خرچ ہو رہے ہیں!

لمحہ فکریہ ہے کہ ہماری حکومت کھربوں روپے کے اقتصادی خسارے کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے یہ بالکل ایسی ہی کوشش ہے کہ جیسے کوئی ہاتھی کمرے میں گھس آیا ہو اور کوئی اُسے چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔ پاکستان کا خسارہ مجمومی قومی آمدنی کے آٹھ فیصد کے قریب ہے لیکن حکومت اِسے چار فیصد کے قریب ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ قومی آمدنی اور قومی اخراجات زیادہ عرصہ تک برقرار رکھنا عملاً ممکن نہیں ہوگا۔

ملکی قرضہ جات: 1971ء میں (قریب 46 برس قبل) پاکستان کا قومی قرض 30 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 22 ہزار ارب روپے ہو چکا ہے۔ ہم قرض کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ گذشتہ چار برس کے دوران حکومت نے 35 ارب ڈالر مالیت کے نئے غیرملکی قرضے حاصل کئے اِن میں 17 ارب ڈالر مالیت کے نئے قرضے اِس لئے حاصل کئے گئے تاکہ پرانے قرضہ جات کی اقساط ادا کی جائیں! علاؤہ ازیں حکومت نے مقامی مالیاتی اداروں سے اضافی 3 کھرب روپے کے نئے قرضے لئے۔ وزارت خزانہ نے قومی ضروریات کے لئے حاصل کئے جانے والے قرضہ جات کی اصطلاح تبدیل کرکے عوام کو نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے! اگر ’اقتصادی خسارہ‘ بے قابو رہتا ہے تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر وفاقی بجٹ کا خسارہ بھی بڑھتا چلا گیا تو اِس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر قومی قرضے می

Tuesday, August 1, 2017

July 2017: The uncertainty after the Panama Verdict.

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

بے یقینی سے یقین کا سفر!

اب کیا ہوگا؟ 
عبوری وزیراعظم کے لئے نامزد امیدوار کا نام نامی اسم گرامی بھی اُس فہرست میں شامل ہے جس میں ’دوسوبیس ارب روپے جیسی خطیر ’مالی بدانتظامی‘ کی ہوئی اور یہ معاملہ سال دوہزار پندرہ میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے زیرغور ہے بطور وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے قطر سے’’لیکویفائڈ نیچرل گیس (ایل این جی)‘‘ درآمد کرنے کا معاہدہ کیا اور وہ اِس معاملے میں ’مرکزی ملزم‘ ہیں! جبکہ دیگر ملزمان میں سابق سیکریٹری پٹرولیم عابد سعید‘ انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم (آئی ایس جی ایس) کے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) مبین صولت‘ نجی کمپنی اینگرو کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر عمران الحق اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر ظہیر احمد صدیقی شامل ہیں۔ 

سوشل میڈیا پر زیرگردش نیب دستاویزات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سال دوہزار تیرہ کے دوران ایل این جی کی درآمد اور تقسیم کا معاہدہ ’اینگرو‘ کی ذیلی کمپنی ‘ایلینجی ٹرمینل‘ کو دیا گیا تھا اور یہ معاہدہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے ضوابط اور متعلقہ قوانین کے خلاف تھا۔ اس معاہدے کے خلاف ’نیب‘ نے ’اُنتیس جون دوہزارپندرہ‘ کو کیس رجسٹر کیا‘ جس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں‘ جو چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ ان کی متعارف کروائی گئی حکمت عملی کے تحت شکایت کی تصدیق‘ انکوائری اور ریفرنس دائر ہونے کا عمل ’دس ماہ‘ میں مکمل ہوجاتا ہے۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف دیگر کئی مقدمات کی طرح نیب اس کیس کو بھی نظرانداز کرچکی ہے۔ یہ مقدمہ ماہر توانائی اور پلاننگ کمیشن کے سابق رکن شاہد ستار و دیگر کی شکایت پر درج کیا گیا تھا‘ جس میں شاہد خاقان عباسی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے پندرہ سال میں قومی خزانے کو دو ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ نیب دستاویزات میں یہ بھی تحریر ہے کہ ’ایل این جی‘ معاہدے کے حوالے سے جاری اس کیس کے تمام ملزمان کے نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)‘ میں ڈالنے کی تجویز دی جاچکی ہے جس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں تحریک انصاف کی ہم آواز ہو کر جب یہ کہتی ہیں کہ قومی اداروں کو کمزور کیا گیا تو ایسی مثالوں سے بات کا ’سیاق و سباق‘ سمجھ میں آ جاتا ہے۔


حزب اختلاف کی جماعتیں ’نواز لیگ‘ پر سیاسی و آئینی دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ حکمت عملی یہی ہے کہ مزید مقدمات درج کئے جائیں۔ ’نیب‘ کے تحت درج ہونے والے نئے اور ماضی کے مقدمات سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ عدالتیں اِس وقت مرکز نگاہ بنی ہوئی ہیں۔ نواز لیگ کے لئے شہباز شریف کو وزیراعظم نامزد کرنے کے پیچھے کارفرما محرک یہ ہوگا کہ 2018ء کے عام انتخابات میں واپسی اور نوازلیگ کو بچایا جا سکے۔ حکمت عملی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ’پانامہ کیس‘ کے فیصلے پر شکوک و شبہات اُٹھائے جائیں اور اِسے عوام کی نظروں میں مشکوک بنا دیا جائے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جب پرویز مشرف نے ملک سے باہر جانے کے بعد راحیل شریف اور عدالتوں کا شکریہ ادا کیا اور انٹرویو میں کہا کہ ’’پاکستان میں عدالت جھکاؤ رکھتی ہے۔‘‘ پرویز مشرف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے نواز لیگ کا مؤقف ہے کہ فوج پانامہ کیس کے فیصلے پیچھے ہے لیکن ماضی میں فوج کے ادارے اور آج کی عسکری قیادت کو ایک عینک لگا کر نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ عدلیہ پر اندھا اعتماد کرنے نواز لیگ کے منہ سے پشیمانی کے الفاظ سن کر حیرانی سے زیادہ افسوس ہوتا ہے کہ سیاسی مفادات کے لئے قومی اداروں کی ساکھ کو خاطر میں نہیں لایا جاتا!


پانامہ کیس کے فیصلے کو ’عدالتی بغاوت‘ قرار دینے والے اگر اپنے ہی ماضی کو دیکھیں تو خاموشی اختیار کر لیں گے۔ جسٹس ثاقب نثار وہی ’محترم‘ ہیں جو ماضی میں نواز شریف کے لئے بااعتماد وکالت کرنے کا شرف رکھتے ہیں اور جب (31دسمبر2016ء) ثاقب نثار 25ویں چیف جسٹس بنے تو تحریک انصاف کے چند وکلاء (جن کے کسی سبب عدلیہ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں تھے) اُنہوں نے عمران خان کو اُکسایا کہ چیف جسٹس کی تعیناتی کی مخالفت کریں لیکن وہ باتوں میں نہ آئے اور درحقیقت بال بال بچ گئے۔ نواز لیگ کو چاہئے کہ شہباز شریف کو اگر وزارت عظمی کا اُمیدوار بنا دیا گیا ہے تو اب اُن کے لئے داخلی اور خارجی محاذ پر مشکلات کھڑی نہ کریں۔ ایسے بیانات تو ہرگز ہرگز نہ دیں جس سے اداروں یا اُن کے فیصلوں کی توہین کا پہلو نکلتا ہو کیونکہ اداروں سے محاذ آرائی کی سیاست کسی کے لئے مفید نہیں ہوگی۔ نواز شریف کو چاہئے کہ باقی ماندہ پارٹی کو ناعاقبت اندیش ساتھیوں کے ’شر سے محفوظ‘ رکھیں اور جملہ پارٹی رہنماؤں کو اِس بات کا پابند بنائیں کہ صرف اُس وقت لب کشائی کریں جبکہ اُن کے الفاظ خاموشی سے بہتر ہوں اور یہ بھی لازم بنائیں کہ پارٹی رہنماؤں کو پریس کانفرنس کی صورت مؤقف کی پیشگی اجازت لینا ہوگی۔



پانامہ کیس فیصلہ آنے سے پہلے اور بعد میں پاک فوج کا ادارہ خود کو سیاست سے الگ رکھے ہوئے ہے۔ آخری کور کمانڈر میٹنگ میں بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ عدلیہ کی بہرحال و بہرصورت حمایت کی جائے گی۔ پانامہ کیس کے فیصلے پر سازش کا الزام تو عائد کیا جاتا ہے لیکن اِس کے ثبوت نہیں دیئے جاتے۔ اگر چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) سازش تھی تو یہ فیصلہ سپرئم کورٹ کا تھا۔ 

آئی ایس آئی اور ایم آئی کی شمولیت پر فوج کے کچھ حلقوں نے تحفظات اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ اگر فیصلہ نواز شریف کے حق پر آیا تو بھی فوج مشکل میں ہوگی لیکن جب بعدازاں انہیں بتایا گیا کہ سپرئم کورٹ فیصلے کے سامنے شرکت کرنے یا نہ کرنے کا اختیار باقی نہیں رہا تو پاک فوج کے سربراہ کی منظوری سے ’ڈان لیکس‘ معاملے کی تحقیقات کرنے اُور مریم نواز کو بے گناہ قرار دینے والے دو افسروں کو منتخب کیا گیا۔ اگر کسی کو ’جے آئی ٹی‘ پر اعتراض ہے تو وہ سوچ لے کہ ہر انگلی اور ہر لفظ کا نشانہ سپرئم کورٹ ہو گی جو پہلے ہی حد سے زیادہ صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے! سپرئم کورٹ بشمول ’جے آئی ٹی‘ جس طرح ایک امتحان میں پوری اُتری ہے اسی طرح اب احتساب عدالتوں اور ’نیب‘ کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔ 

احتساب اہم لیکن احتساب پر سمجھوتہ نہ کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ خود فریبی کی بجائے حقیقت پسندی سے کام لیا جائے۔ اقوام کے لئے افراد کبھی بھی ناگزیر نہیں ہوتے۔ اگر کوئی مالی معاملات میں ’امانت و دیانت کے اَصولوں (کم سے کم آئینی تقاضوں)‘ پر پورا نہیں اُترتا‘ تو ایسے کردار یا کرداروں کو کس طرح قومی فیصلہ سازی اور دیگر اَہم بشمول مالی ذمہ داریاں سونپ کر اِطمینان حاصل کیا جاسکتا ہے کہ وہ قوم کی توقعات پر پورا اُتریں گے؟

Monday, July 31, 2017

July 2017: Mission Accomplished

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
دِلی مُرادیں!
پانامہ کیس کا فیصلہ نہ تو ’اَنجام‘ ہے اور نہ ہی ’سرانجام‘ بلکہ نئے مقدمات و تحقیقات کا ’نکتۂ آغاز‘ اور ’پاکستان‘ کی ’تشکیل نو‘ کا ’نادر موقع‘ قرار دیا جا رہا ہے جس کے بارے عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اِس سے آئین کی بالادستی زیادہ واضح ہوئی ہے لیکن اِس تاریخی فیصلے کے حقیقی ثمرات (نتائج) مارچ دوہزار اٹھارہ تک اُن ریفرنسیز (مقدمات) کے فیصلوں کی صورت سامنے آئیں گے‘ جنہیں عدالت عظمیٰ نے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو اِرسال کیا ہے۔ 

بدعنوانی کے خلاف جماعت اسلامی پاکستان کی جدوجہد کا آغاز مرحوم قاضی حسین احمد نے 31 سال قبل کیا جبکہ تحریک انصاف کی 21 سال سیاسی سرگرمیوں کا بنیادی نکتہ بھی یہی رہا کہ ’آزاد و شفاف عام انتخابات کے انعقاد اور بدعنوانیوں سے پاک طرزحکمرانی کے بناء پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔‘ پانامہ کیس فیصلے کو سیاسی فتح سمجھنے اور ’اِظہار تشکر‘ کرنے سے ایک قدم آگے‘ کیا تحریک انصاف اِس فیصلے کا استقبال اُور اِس سے ’بھرپور سیاسی فائدہ‘ اُٹھانے کی منصوبہ بندی رکھتی تھی؟ پانامہ کیس فیصلے کے بعد ’تحریک اِنصاف‘ کی سوچ آئندہ عام انتخابات کے لئے لائحہ عمل کیا ہے؟ 

سابق وزیراعظم کی نااہلی سے ’این اے ایک سو بیس (لاہور)‘ پر ہونے والے ’ضمنی انتخاب‘ کی تیاریاں کن مراحل سے گزر رہی ہیں! لیکن جب اِس بنیادی سوال کے ساتھ کہ ’کیا شمولیت اختیار کرنے والوں کا ماضی بھی دیکھا جاتا ہے‘ تو چیئرمین (سربراہ) ’پاکستان تحریک انصاف‘ نے ’ورچوئل اپوئٹمنٹ‘ میں سوال کا جواب سوال سے دیتے ہوئے کہا کہ ’’آئندہ عام انتخابات میں کم وبیش ایک ہزار تک نامزدگیاں (پارٹی ٹکٹ) تقسیم کئے جائیں گے۔ اچھی ساکھ اور بے داغ ماضی والے سیاسی افراد کہاں سے لائے جائیں بالخصوص کیا ایک ایسے ملک میں ’سوفیصد ایماندار‘ صاحبان کردار اور ہرلحاظ سے قابل بھروسہ رہنما کیسے میسر آ سکتے ہیں جبکہ قومی اداروں کو کمزور اور ذاتی و سیاسی ترجیحات توانا کر دی گئیں ہوں؟‘‘ تاہم عمران خان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ’قومی اداروں کو مضبوط‘ بنائیں گے تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کا اگر کوئی بھی رکن مالی و انتظامی بدعنوانی میں ملوث پایا جائے تو اُس کا فوراً محاسبہ ممکن ہو۔ تحریک انصاف کی ’سیاسی حکمت عملی‘ یہ ہے کہ سپرئم کورٹ کا دباؤ برقرار رکھا جائے۔ شریف خاندان کے جن ناموں کا ذکر پہلے ہی ’حدیبیہ پیپر ملز‘ کی ذیل میں ’پانامہ کیس فیصلے‘ کا حصہ ہے اُنہیں اور باقی ماندہ افراد کو ’’التوفیق‘‘ کے مقدمے میں آئینی طور پر نااہل قرار دیا جائے۔ اِس سلسلے میں شہباز شریف کے خلاف بدعنوانی کا ایک اُور ریفرنس (مقدمہ) جلد ہی دائر کر دیا جائے گا۔ عمران خان پراُمید ہیں کہ ’’اللہ نے موقع دیا تو وہ جو ’’ایک ناممکن کام‘‘ عملاً کرکے دکھائیں گے وہ یہ ہوگا کہ پاکستان میں بدعنوانی میں آخری حد تک کمی لائی جائے گی۔ قانون کے نفاذ اور احتساب سے متعلق اداروں کو مضبوط ہوں اُور وزارت خزانہ کو خودمختار کیا جائے تاکہ حسب آمدنی محصولات (انکم ٹیکس) کی وصولی مہنگائی میں کمی ممکن ہو۔‘‘ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست ’الزام تراشیوں‘ کا مجموعہ ہے۔ جس میں بناء ثبوت و صداقت الزامات عائد کئے جاتے ہیں لیکن ’پانامہ کیس فیصلے‘ کے بعد صورتحال یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں ’تحریک انصاف‘ نے ایک مرتبہ پھر ’قومی وطن پارٹی‘ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور عمران خان اِسے ’صوبائی قیادت کا فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’وہ ’مائیکرو منیجمنٹ‘ نہیں کرتے۔ قومی وطن پارٹی سے علیحدگی‘ دوبارہ شمولیت اور اب پھر سے علیحدگی کا فیصلہ صوبائی حکومت نے خود کیا کیونکہ مذکورہ قوم پرست جماعت نواز لیگ کا دفاع کر رہی تھی اور اگرچہ ’قومی وطن پارٹی‘ سے علیحدگی کے سبب خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت باقی نہیں رہی اور صوبائی حکومت چھن جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ آج پاکستان اُس مرحلے تک آ پہنچا ہے جہاں کم سے کم بدعنوانی کے لئے ’’فکروعمل اُور نیت‘‘ مصلحت پر مبنی نہیں ہونی چاہئیں۔‘‘ 

قومی وطن پارٹی کے لئے تحریک انصاف کا ’ردعمل‘ اُور تحریک انصاف کے لئے قومی وطن پارٹی کا ’طرزعمل‘ ’غیرمتوقع‘ نہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو بخوبی جانتے ہیں لیکن اِس مرحلے پر تحریک انصاف سے علیحدگی اور خود پر ’کرپشن کی چھاپ‘ لینا نہ تو ’سیاسی دانشمندی‘ ہے اور نہ ہی اِس بات کی ضمانت (کلین چٹ) ہو سکتی ہے کہ قومی وطن پارٹی اُس (اَندرون و بیرون ملک سرمایہ کاری‘ اَثاثوں اُور بینک بیلنس پر مبنی) ماضی سے چھٹکارہ حاصل کر لے گی‘ جس کی ملکیت کا اعتراف رکھنے کے باوجود بھی اُس کے خلاف مقدمات ’سیاسی مفاہمت اور جمہوریت‘ کے نام پر نمٹا دیئے گئے۔ 

دانستہ بھول ہو گی اگر کسی نے احتساب کے جاری عمل کو صرف اور صرف ’شریف خاندان‘ کی حد تک محدود سمجھا۔ بقول چیئرمین ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے‘‘ سمیت بیرونی سرمایہ کاری سے ’اقتصادی فوائد‘ صرف اُسی صورت حاصل کئے جا سکیں گے‘ جبکہ پاکستان سے مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو جائے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کی ’دلی خواہشات‘ گنتے گنتے یہی بات سمجھ آئی ہے کہ ’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘ ۔۔۔ اے کاش ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ سکیں کہ ہر پاکستانی بشمول اعلیٰ و ادنیٰ سرکاری ملازمین سیاسی جماعتوں کے نہیں بلکہ صرف اور صرف ملک کے خادم‘ وفادار اور پاکستان کے مشکور و ممنون ہو کر فرض شناسی سے فرائض منصبی سرانجام دیں۔

Sunday, July 30, 2017

July 2017: Panama verdict is clear but on the same time unclear about the disqualification time frame!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تاحیات نااہلی؟
کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن ’پانامہ کیس فیصلے‘ کے بارے میں اَمریکہ کی جانب سے تبصرہ معنی خیز بھی ہے اور شاید ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اقتدار کے آئینی طریقے سے خاتمے میں امریکہ کا براہ راست عمل دخل نہیں رہا لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ ایک اسلامی جوہری اور چین ایران و افغانستان سے جٖغرافیائی زمینی سرحدی تعلق رکھنے والے پاکستان کے داخلی معاملات سے اَمریکہ خود کو الگ رکھے؟

محتاط امریکی مؤقف یہ ہے کہ ’’پانامہ کیس پاکستان کا اَندرونی معاملہ ہے۔ پاکستانی عوام کی منتخب پارلیمنٹ نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی تو ہم اقتدار کی ہموار (پرامن) منتقلی کے خواہش مند ہیں۔‘‘ درحقیقت پاکستان کی خواہش صرف ’اقتدار کی ہموار منتقلی‘ کی حد تک محدود نہیں بلکہ عوام یہ بھی چاہتی ہے کہ ایک اسلامی ریاست کے حکمران اپنے ملک اور دنیا کے لئے کردار کی عملی مثال بھی ہوں۔ پاکستان اور پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بحال ہو یقیناًعالمی سطح پر ’سیاسی تنہائی‘ خودکشی ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے سوأ آج کی دنیا میں اپنا قومی و عالمی اہداف و مفادات حاصل کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تو صرف حکمران نہیں بلکہ ایک ایسا طرز حکمرانی چاہئے جو مشکوک نہ ہو۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ جمہوریت کو کمزور کرنے اور اِسے نقصان پہنچانے میں سب سے زیادہ ہاتھ ’سیاسی جماعتوں کے اُن شرمناک کرتوتوں کا ہے‘ جو پانامہ کیس اور اِس سے متعلق ضمنی تحقیقات کے دوران سامنے آئے! اقتدار ملنے کے بعد عوام کے خادم ’بادشاہ‘ بن جاتے ہیں۔ قانون اور قواعد کو جوتے کی نوک اور قومی اداروں کو کمزور کیا جاتا ہے تاکہ اُن سیاست کی آڑ میں بدعنوانی کا دھندا چلتا رہے۔ یہی سبب ہے کہ نہ تو عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لینا کسی عام آدمی (ہم عوام) کے لئے ممکن رہا ہے اور نہ ہی سیاست شرفاء کو زیب دیتی ہے کہ جس کسی کو اپنا شجرہ (حسب نسب) معلوم کرنا ہو‘ وہ عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لے!

بنیادی سوال یہ ہے کہ سپرئم کورٹ (عدالت عظمیٰ) کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل باسٹھ ایک کی ذیلی شق ’ایف‘ کے تحت نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیئے جانے کے بعد ’’کیا سابق وزیراعظم ’’تاحیات نااہل‘‘ ہوگئے یا کچھ عرصے بعد وہ پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے دوبارہ ملک کی سیاسی برادری کا حصہ بن سکتے ہیں؟‘‘ 

اِس سوال سے متعلق اندرون و بیرون ملک معاشرے کی ہر سطح پر بحث جاری ہے اور اظہار خیال کرنے والوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ سب کے سب اُلجھن کا شکار نظر آتے ہیں اور قانونی ماہرین بھی دو واضح حصوں میں تقسیم ہیں‘ اتفاق اگر ہے تو اِس بات پر کہ یہ معاملے طویل عرصے سے ملتوی کیا جارہا ہے‘ جس کا تعین بہرحال ضروری ہے۔ دیکھا جائے تو سپرئم کورٹ کے لارجر بینچ کے سامنے کئی ایسے مقدمات موجود تھے جن میں اہم نکتہ اس بات کا تعین کرنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ کے تحت ہونے والی ’’نااہلی‘‘ کیا ہمیشہ برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ ان مقدمات میں ثمینہ خاور حیات اور محمد حنیف کا مقدمہ بھی شامل تھا۔ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی اسی نوعیت کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ’’حیرت کا اظہار‘‘ کیا تھا کہ آئین کی شقیں باسٹھ اور تریسٹھ کی بنیاد پر کسی شخص کو عمر بھر کے لئے عام انتخابات کا حصہ بننے سے ’’نااہل (الگ)‘‘ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اگر کسی سے غلطی ہوئی اور وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے نہ صرف جرمانہ بلکہ لوٹی ہوئی قومی دولت بھی واپس کرنے کے لئے تیار (آمادہ) ہو تو ایسے نااہل فرد کے لئے دوبارہ عام انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت ہونی چاہئے چونکہ یہ ایک قانونی و آئینی مسئلہ ہے اور اِس کے لئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی جو سپرئم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں۔ سپرئم کورٹ آئین کے مطابق فیصلہ بطور حکم صادر سکتی ہے وہ عوام یا کسی سیاسی جماعت کا مستقبل بچانے کے لئے اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتی! اگر ہم پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے (سابق وزیراعظم) یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو سامنے رکھیں جو کہ اُنیس جون دوہزار بارہ کو توہینِ عدالت کے جرم میں آرٹیکل تریسٹھ کے تحت نااہل ہوئے تھے تو اُن کی نااہلی (سزا) کی مدت پانچ برس تھی۔ آئین کی شق باسٹھ اِس بارے میں خاموش ہے اور عجب ہے کہ اِس کے تحت کوئی بھی شخص ’نااہل‘ قرار تو دیا جاسکتا ہے لیکن نااہلی کی مدت کا ذکر آئین میں واضح یا ضمنی طور پر نہیں کیا گیا۔ اِسی لئے وکلاء اپنی اپنی مہارت (قانونی موشگافیوں) کا استعمال کرتے ہوئے ماضی کے اُن فیصلوں کو کھوج کھوج اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہے ہیں جن کے تحت ’نواز لیگ‘ کی قیادت اور شریف خاندان کو تاحیات نااہلی سے بچایا جا سکے۔ خود عدالت عظمیٰ کے سامنے ایسے کئی مقدمات التوأ کا شکار ہیں‘ جن میں تعین کرنا ہے کہ آئین کی شق باسٹھ کا اطلاق صرف موجودہ ضمنی عام انتخاب پر ہوگا یا یہ نااہلی ہمیشہ برقرار رہے گی!

اٹھائیس جولائی دوہزار سترہ کے تاریخی دن ’پانامہ کیس‘ کے فیصلہ میں سپرئم کورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کی وجوہات پیش کرکے منتخب نمائندوں کی نااہلی کی حد کو اس حد تک نیچے کردیا ہے کہ اِس سے مستقبل کی سیاست میں سوائے صداقت و امانت کسی دوسری شے کی گنجائش نہیں رہی! 
دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد عدلیہ مضبوط ہوئی ہے اور اُس عوامی منتخب پارلیمینٹ کے اکثریتی اراکین کے چہروں کا رنگ اُڑ گیا ہے جن کا ماضی و حال اور ہاتھ صاف نہیں۔ خود کئی پارلیمانی رہنما ایسے ہیں جن کی اہلیت (پانامہ کیس کے فیصلے کی روشنی میں) خطرے میں پڑ گئی ہے! 

آئین کی شق باسٹھ اگر خاموش ہے تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ نااہلی تاحیات تصور کی جائے اُور اِس نتیجۂ خیال کے لئے ’’عبدالغفور لہری کیس‘‘ کی مثال موجود ہے جس میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے واضح کیا تھا کہ کچھ نااہلیوں کی نوعیت وقتی ہوتی ہے اور آرٹیکل تریسٹھ کے تحت نااہل ہونے والا شخص کچھ وقت بعد واپس اہل ہوسکتا ہے لیکن (تاہم) آرٹیکل باسٹھ کے تحت نااہلی دائمی ہوتی ہے۔ آرٹیکل باسٹھ کے تحت نااہل ہونے والے شخص کی نااہلی کی مدت متعین نہیں جس کے بعد وہ پارلیمانی انتخابات کا اہل ہوسکتا ہو۔ پانامہ کیس میں چونکہ نواز شریف ’’صادق اور امین‘‘ نہ ہونے کی بنیاد پر ’نااہل‘ ہوئے ہیں اِس لئے یہ نااہلی تاحیات رہے گی اُور اُمید ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما سمجھ لیں گے کہ پاکستان میں اِحتساب (شفاف طرز حکمرانی) پر سمجھوتہ نہیں ہوگا اُور بالخصوص ’پانامہ کیس فیصلے کے بعد‘ صادق و امین رہنے کے سوأ ’سیاست دانوں‘ سمیت کسی بھی سطح پر قومی وسائل اور فیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والوں کے پاس دوسرا کوئی چارہ (راستہ) نہیں رہا۔

TRANSLATION: Working courts by Dr. Farrukh Saleem

Working courts
فعال عدالتی نظام
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے بانی اراکین میں شامل چوہدری نثار علی خان کا شمار اُن چند منجھے ہوئے سیاستدانوں میں ہوتا ہے جن کے سیاسی قدکاٹھ میں یہ تعارفی جملے اضافہ کرتے ہیں کہ وہ حاضر دماغ رہتے ہیں اور اُن کی عملی و سیاسی زندگی بڑی حد تک شفاف ہے۔ وہ اپنے قول و فعل سے بھی ’صائب الرائے‘ اُور ’صاف گو‘ ہونا ثابت کرتے ہیں۔ اُن کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو قطعی طور پر غلط نہیں ہوگا کہ وہ کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں اور دیانت داری کی روشنی میں وضع کردہ اصولوں پر اکثر کاربند دکھائی دیتے ہیں۔

یادش بخیر کم و بیش 77 سال قبل جرمن فضائیہ نے لندن (برطانیہ) پر بمباری کی‘ اُس وقت برطانیہ کے وزیراعظم سر ونسٹن لیونارڈ سپینسر چرچل (Sir Winston Leonard Spencer-Churchill) تھے جنہیں بتایا گیا کہ ’’جرمنی کے فضائی حملے کی وجہ سے اِس قدر بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں کہ قریب سبھی اقتصادی سرگرمیاں تباہ ہو گئی ہیں۔‘‘ چرچل نے جواباً پوچھا: کیا عدالتیں فعال ہیں؟ جواب ملا کہ ’’جج عدالتوں میں موجود ہیں اور انصاف کی فراہمی (بلاتعطل) جاری ہے۔‘‘ چرچل نے اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ ’’خدا کا شکر ہے‘ اگر عدالتیں فعال ہیں تو (سمجھو) کچھ نہیں بگڑا۔‘‘

سردست پاکستان کو ’داخلی و خارجی محاذوں پر‘ کئی ایک سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ داخلی طور پر دہشت گردی‘ عسکریت پسندی اور انتہاء پسندی کو کچلنے کے لئے ’رد الفساد‘ نامی فوجی حکمت عملی وضع کی گئی ہے جس کے تحت حال ہی میں ’’آپریشن خیبر فور‘‘ کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ خارجی طور پر خطرات میں ملک کی مشرقی و مغربی سرحدیں محفوظ نہیں۔ مشرق کی جانب سے بھارت اور مغرب کی سمت سے افغانستان پاکستان کے استحکام و سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافے کا محرک بنا ہوا ہے۔ اِن حالات میں اگر ہم عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ آف پاکستان) کی جانب دیکھیں تو اُس کے پاس اختیار کرنے کے لئے 2 ہی راستے باقی بچے تھے۔ پہلا راستہ تو یہ تھا کہ وہ عدلیہ کی تاریخ دہراتے ہوئے ماضی ہی کی طرح فیصلے کرتی اور دوسرا امکانی راستہ یہ تھا کہ وہ تاریخ ساز فیصلوں کے ذریعے اپنا معنوی وجود بطور حقیقت ثابت کرتی۔ سپرئم کورٹ آف پاکستان نے ایک نئے آئینی عہد کی بنیاد رکھتے ہوئے ’تاریخی ساز فیصلہ‘ کیا ہے۔ خوش آئند (اچھی خبر یہ) ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے اپنے آئینی کردار سے جڑی ذمہ داریوں کا احساس کر لیا ہے اور اپنے آئینی حدود و کردار کے اندر رہتے ہوئے ’احتساب یا سزأ و جزأ (چیک اینڈ بیلنس)‘ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ خوشخبری یہ بھی ہے کہ سپرئم کورٹ کے آئینی کردار سے ایک ایسے دور کا خاتمہ ممکن ہوا ہے جو اوّل تا آخر ’بدعنوانی‘ پر مبنی تھا۔ سپرئم کورٹ نے اب ایک موقع (پلیٹ فارم) مہیا کر دیا ہے جو ملک میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بجا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ فعال ہے اور بقول برطانوی وزیراعظم ’’جب تک عدلیہ فعال (انصاف کی فراہمی ہوتی) رہے گی‘ کچھ بھی نہیں بگڑنے والا۔‘‘

آئین پاکستان کی رو سے‘ امور مملکت چلانے میں کسی بھی شخص یا حکومتی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز (من مانی) کرے۔‘‘ امور مملکت طے کرنے اور قومی وسائل سے متعلق فیصلہ سازی جیسا اختیار رکھنے والوں کی کارکردگی پر نظر (چیک اینڈ بیلنس) طاقت کے بیجا استعمال‘ مالی و انتظامی بدعنوانیوں اُور استحصال کے اِمکانات کم کرتا ہے۔

ستائیس جولائی (دوہزارسترہ) ایک پاکستانی سیاستدان کو سننے کا موقع ملا اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اِس سے قبل کبھی بھی (کم سے کم) کسی پاکستانی سیاستدان کو اِس قدر ’راست گو‘ اور ’اخلاص و دردمندی‘ سے بولتے ہوئے نہیں پایا گیا۔ چوہدری نثار علی خان کے بیان پر صداقت کی وجہ سے وزن اور تاثیر حاوی تھی۔ وہ شفاف طرزعمل کے مالک ہیں۔ انہوں نے ایک تصور (ویژن) پیش کیا۔ اُن کی فی البدیہ تقریر ناقابل تردید واضح حقائق اور مضبوط دلائل پر مبنی تھی۔ اُنہوں نے اپنی سوچ کے واضح ہونے کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ وہ بدنام زمانہ پاکستانی سیاست کرنے کے باوجود بھی کردار‘ اُور اصولوں‘ کے مالک ہیں۔ اُن کی تقریر کی تین خصوصیات مندرج جات‘ ادائیگی اور الفاظ کا چناؤ اپنی جگہ اہمیت و توجہ کا حامل تھا۔

پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے اِس قسم کے طرزعمل کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے قوم کو بتایا کہ کس طرح ’خوشامد ‘ کاسہ لیسی‘ مطلب پرستی (sycophancy)‘ پاکستان کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ چوہدری نثار علی خان کی تقریر کا سب سے اہم حصہ وہ تھا جس میں انہوں نے ملک کو لاحق داخلی و خارجی خطرات کا ذکر کیا اور کسی سیاستدان کے منہ سے ملک کو عسکری‘ جوہری‘ دہشت گردی‘ سائبر اور اقتصادی خطرات کا ذکر اِس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ذاتی مفادات کے اسیر نہیں بلکہ گردوپیش پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے شخص کے طور پر اُبھرے ہیں جو ملک کے دو اہم فیصلہ سازوں ’سیاسی و عسکری فیصلہ سازوں‘ کے درمیان شراکت عمل (Synthesis) کا تصور رکھتے ہیں۔

بشری کمزوریاں ہر بشر کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہیں۔ کم یا زیادہ غلطی سرزد ہونا ہم انسانوں کا خاصہ ہے اور میرا خیال ہے کہ چوہدری نثار سے عملی سیاست سے الگ ہونے کا فیصلہ ایسی ہی غلطیوں کی اصلاح کرنے کے جذبے و ضرورت کے تحت کیا ہے۔ وہ پرعزم ہیں اور سیاست کی سیڑھی پر مزید آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ ایسے رازوں کا ایک خزانہ بھی رکھتے ہیں جن میں انہوں نے سیاستدانوں کو قریب سے دیکھا جو جرائم پیشہ و دہشت گرد عناصر سے تعلق رکھنے کو حکمت عملی کا حصہ (جائز) سمجھتے ہیں۔
مقام صدشکر ہے کہ عدالتیں فعال ہیں۔ یہ ایکنئے دور کا آغاز ہے اور اب پاکستان میں صرف جائز حکمراں ہی حکومت کریں گے۔ طرزحکمرانی کی اصلاح اور بہتر طرز حکمرانی کے قیام کو موقع ملنا چاہئے۔ سیاسی طاقت و اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے اُور پاکستان سے ہرقسم کی بدعنوانیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Saturday, July 29, 2017

July 2017: Post Panama Verdict - The bright future of Pakistan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جھوٹ معتبر نہیں ہوں گے!
پانامہ کیس نے پاکستان کی عدلیہ اور سیاست ہی نہیں بلکہ میڈیا کا ’ڈی این اے‘ بھی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ورنہ پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں عدلیہ نے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے اور وزیراعظم جیسے عہدے پر فائز سیاسی جماعت کے سربراہ سے اس قدر سخت گیر معاملہ کیا ہو کہ اُس کی نااہلی کر دی ہو۔ دیگر سیاست دان ضرور یہ بات سوچنے پر مجبور ہوئے ہوں گے کہ اُن کا ماضی اور وہ سب کچھ جسے وہ پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں زیادہ عرصہ تحقیقات کرنے والوں اور بالخصوص ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے اب مزید چھپ نہیں سکے گا۔ یہ صرف ’الیکٹرانک میڈیا‘ ہی کا نہیں بلکہ ’سوشل میڈیا‘ کا بھی دور ہے۔ آن کی آن میں دستاویزات کی تصاویر ’واٹس ایپ‘ ہو جاتی ہیں اور سبھی نیوز ٹیلی ویژن چینلوں نے اپنے ’واٹس ایپ‘ نمبر مشتہر کر رکھے ہیں جنہیں روزمرہ حالات و واقعات کی خبریں ویڈیوز اور دستاویزات ارسال کی جا سکتی ہیں! اٹھائیس جولائی کے سپرئم کورٹ فیصلے سے تو جیسے قومی سطح پر یہ ’کلیدی اصول‘ طے کر لیا گیا ہے کہ ’’جھوٹ اب معتبر نہیں ہوں گے!‘‘

’پانامہ کیس‘ پر محفوظ فیصلے کا اعلان اِس لحاظ سے بدقسمتی بھی ہے کہ پاکستان کو صداقت‘ امانت و دیانت کے اصولوں پر پورا اُترنے والی سیاسی قیادت نہیں مل سکی ہے اور قوانین و قواعد صرف کتابوں میں بند ہیں۔ سرکاری اداروں کا وجود قانون کی حاکمیت اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنا رہا لیکن یہ منظرنامہ (ناقابل تردید حقائق) تبدیل ہو چکا ہے۔ ’پانامہ کیس‘ کا فیصلہ‘ آنے کے بعد پاکستان کا نیا سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا؟ صرف ’شریف خاندان‘ کے احتساب پر بات رُک جانی چاہئے؟ پانامہ پیپرز میں جن دیگر پاکستانی شخصیات کے نام ’آف شور کمپنیاں‘ قائم ہیں‘ اُن کا احتساب کب سے شروع ہوگا؟ پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کہاں ہیں اور کیا ’اگلی باری زرداری‘ کی ہے؟ وزیراعظم اور کابینہ کے دیگر اراکین کے بیرون ملک قیام کے اجازت نامے (اقامہ) انوکھی قسم کی بدعنوانی ہے جو قومی عہدے رکھنے والوں کا ایک ایسا طرزعمل ہے جو ’مفادات سے متصادم‘ ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سعودی عرب کا ’اقامہ (قیام و کاروبار کرنے کا جواز)‘ رکھنے والے وفاقی کابینہ کے ارکان میں احسن اقبال ایسے چوتھے رکن ہیں جن کا نام ایک ایسے معاملے میں آیا ہے جو ’پانامہ کیس‘ سے زیادہ بڑا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ وفاقی وزیر احسن اقبال پچاس ارب ڈالر سے زائد مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے نگران ہیں! احسن اقبال کے علاؤہ وزیراعظم نواز شریف‘ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار متحدہ عرب امارات کا اقامہ رکھنے والوں میں شامل پائے گئے ہیں! سوال یہ ہے کہ پاکستان کا سرکاری (نیلے رنگ کا خصوصی) پاسپورٹ رکھنے والوں کو کسی بھی ملک میں عارضی قیام کے اجازت نامے (اقامے) حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ اگر یہ سوال کسی کے بھی ذہن میں بھی ہو تو جان لے کہ اقامہ کی بنیاد پر بیرون ملک بینک اکاونٹ کھولے جا سکتے ہیں اور بناء ٹیکس دیئے کاروباری سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں!

پاکستانی سیاست دانوں کے کرتوت جس طرح ایک ایک کرکے عیاں ہوئے اور مزید ہوں گے‘ اس کا سلسلہ کسی نہ کسی ندامت اور معافی پر اختتام ہو جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن بقول چوہدری نثار ’نواز لیگ‘ کو اُس کے مشیروں نے ڈبویا ہے! بگڑا کسی کا کچھ نہیں بلکہ رسوائی پاکستان کی ہوئی ہے! پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے دو روز قبل‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’’دوہزارسات سو پچاسی ایسے پاکستانیوں کو نوٹسیز جاری کر دیئے گئے ہیں‘ جنہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران تحائف کی مد میں مبینہ طور پر ایک سو دو ارب روپے کی ’منی لانڈرنگ‘ کی ہے۔‘‘ تصور کیجئے ایک ایسا پاکستان کہ جس میں سالانہ ایک سو ارب ڈالر سے زائد رقم پر ٹیکس تو اَدا نہیں ہوا لیکن عام آدمی (ہم عوام) سے ہر ایک سو روپے کے موبائل ریچارج‘ ماچس کی ڈبیہ یا ایک یونٹ بجلی خرچ کرنے پر بھی کھڑے کھڑے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے!

جشن آزادی منانے والوں کے لئے خوشخبری میں اِس بات (جواز) کا اضافہ ہو گیا ہے وہ ’’شکریہ پاکستان‘ پاکستان شکریہ‘‘ کا نعرہ لگا کر ’دلی مسرت‘ کا اِظہار کریں۔ منتخب اراکین اسمبلی کی ذہانت اُور شعور ملاحظہ کیجئے کہ جنہوں نے ایسی قانون سازی فرمائی ہے جس کے تحت ہر قسم کے تحفے تحائف ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اور بہت سے ایسے افراد جو مالی طور پر مستحکم ہیں‘ قومی آمدنی (ریونیو) میں حسب رہن سہن حصہ ڈالے بغیر ہی اپنی مالی حیثیت اور اثاثوں کی یہاں وہاں منتقلی (تحفے تحائف کے تبادلوں) کے آئینی استثنیٰ سے ’ناجائز فائدہ‘ اُٹھا رہے ہیں! قانون میں موجود اِس رعائت کو رکھنے والے ہی اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں تو تعجب حرام ہے! اگرچہ ایف بی آر نے غیرمعمولی مالیت کے تحفے تحائف وصول کرنے والوں کو نوٹسیز جاری کر دیئے ہیں لیکن چونکہ قانون ہی خاموش ہے اِس لئے یہ بے قاعدگی ایک دو سماعتوں ہی میں خارج کر دی جائے گی اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک قانون میں ترمیم نہیں کر دی جاتی! جن بااثر افراد نے انکم ٹیکس بچانے کے لئے تحائف دیئے اور اُن کے گوشواروں میں ذرائع آمدن کی توثیق نہیں ملتی کسی معروف وکیل کے ذریعے بچ جائیں گے! لیکن اگر ایف بی آر کے اہلکاروں کی اچانک ’حب الوطنی‘ جاگ اُٹھی اور پانامہ جے آئی ٹی کی طرح وہ غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر بیٹھے تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔تحائف کی مد میں منی لانڈرنگ کا الزام صرف اُن پر ہے جنہوں نے یہ بات ٹیکس ریٹرنز گوشواروں میں نہیں کی اور اپنی آمدنی پر ٹیکس بہت ہی کم ادا کیا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس آمدنی سے کم ادا کرنے کا کلچر عام ہے اور اِس بات کو ’’جرم‘‘ قرار نہیں دیا جاتا نہ ہی سمجھا جاتا ہے بلکہ کئی ایسی ’لاء فرمز (وکلاء کے ادارے)‘ قائم ہیں جو اپنی خدمات مودبانہ و فخریہ طور پر پیش کرتے ہیں کہ قانونی اَمور سے متعلق مہارت کا استعمال کرتے ہوئے کسی صارف کو کم سے کم ٹیکس ادا کرنے میں رہنمائی یا اُسے قانونی چارہ جوئی کے ذریعے سزا سے بچا سکیں! 

اربوں اور کروڑوں کے اثاثے رکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں روپے میں ٹیکس اَدا کر رہے ہیں تو اِس دھندے میں خود ایف بی آر کے ممکنہ ملوث ہونا خارج اَز امکان نہیں ہوسکتا۔ ہمیشہ اطمینان بخش نتیجہ ہوتا ہے عمل نہیں۔ اندرون ملک آمدن (اِن لینڈ ریونیو)‘ انسداد منی لانڈرنگ کے انٹلی جنس اور انویسٹی گیشن سیل نے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا ہے‘ جس کا نتیجہ ہر اُس ذی شعور کو معلوم ہوسکتا ہے جو اِس بارے میں سوچنا اور معاملے کو سمجھنا چاہے۔ ’ایف بی آر‘ کے سامنے صرف تین کیسز ہی ایسے ہیں جس میں تحائف کی مالیت ایک ارب سے زیادہ ہے اور سب سے زیادہ تحائف کی مالیت ایک ارب ستر کروڑ روپے ہے۔ علاؤہ ازیں کم سے کم آٹھ افراد نے پچاس کروڑ روپے سے ایک ارب روپے مالیت کے درمیان تحائف ظاہر کئے ہیں! 

خدا جانے وہ وقت پاکستان کے عام آدمی (ہم عوام) کی زندگیوں میں کب آئے گا جب اُسے تحفے تحائف نہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ معیاری صحت و تعلیم اور جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق ہی میسر آئیں گے۔ ’’آ کسی روز کسی دُکھ پہ اَکٹھے روئیں: جس طرح مرگِ جواں سال پہ دیہاتوں میں: بوڑھیاں روتے ہوئے بین کیا کرتی ہیں: جس طرح ایک سیاہ پوش پرند کے کہیں گرنے سے: ڈار کے ڈار زمینوں پہ اُتر آتے ہیں: چہکتے شور مچاتے ہوئے کرلاتے ہیں: اپنے محروم روئیوں کی المناکی پر: اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا: اِک نئے دُکھ کے اضافے کے سوأ کچھ نہیں: اپنی ہی ذات کے گنجال میں اُلجھ کر تنہا: اپنے گمراہ مقاصد سے وفا ٹھیک نہیں: قافلہ چھوڑ کے صحرا میں صدا ٹھیک نہیں۔ ہم پرندے ہیں نہ مقتول نہ ہوائیں پھر بھی: آ کسی روز کسی دُکھ پہ اَکٹھے روئیں۔۔۔ (فرحت عباس شاہ)۔‘‘