Showing posts with label Panama Leaks. Show all posts
Showing posts with label Panama Leaks. Show all posts

Monday, December 18, 2017

Dec 2017: Verdict embedded with lessons

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
(سبق آموز) عدالتی فیصلے!
پانامہ کیس فیصلے (اَٹھائیس جولائی) کے بعد سے ’عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ آف پاکستان)‘ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا سلسلہ ’’منظم تحریک‘‘ کی صورت جاری ہے جس کی قیادت و سرپرستی وفاقی حکمراں جماعت کے سربراہ نواز شریف کر رہے ہیں۔ سولہ دسمبر کی شام برطانیہ سے پاکستان کے لئے روانہ ہونے سے قبل اور سترہ دسمبر کی صبح پاکستان پہنچنے پر اُنہوں نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے عدالتی فیصلوں پر ایک مرتبہ پھر ’عدم اطمینان‘ کا اظہار کیا جو یقیناًبناء سوچے سمجھے نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کے واحد ذریعے پر ’تنقیدی نشتر‘ چلانے اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کی مہم (کوشش) کا درپردہ مقصد عام آدمی (ہم عوام) کی زندگیوں میں غربت‘ جہالت اور محرومیوں کے بعد مایوسی بھرنا ہو اور یہ باطل یقین دلانا مقصود ہو کہ ’’پاکستان میں انصاف نہیں مل رہا؟‘‘ برسرزمین حقائق اِس کے اُلٹ ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ جن سیاسی رہنماؤں نے اپنے بچوں اور اثاثہ جات بیرون ملک (متحدہ عرب امارات و برطانیہ سمیت پانچ براعظوں میں) پھیلا رکھا ہے‘ اُن کی جانب سے پاکستان میں انصاف کی مبینہ عدم دستیابی پر بے چینی کے اظہار کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے وسائل کی لوٹ مار کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے۔

افسوس کا مقام ہے لیکن اچھا ہی ہوا کہ پاکستان میں ’انصاف اور عدالت کا دفاع‘ کرنے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار بذات خود میدان میں اُترے۔ سولہ دسمبر کے روز‘ وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جس گرمجوشی سے اپنا مؤقف اور عدالتی فیصلوں سے متعلق وضاحت پیش کی اُس کے بعد صرف اِس ایک بات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ وہ عدالت پر معترضین کے ساتھ مناظرہ ’ٹیلی ویژن‘ پر براہ راست نشر کیا جائے۔ علاؤہ ازیں مستقبل میں بدعنوانیوں (کرپشن) سے متعلق تمام مقدمات کی سماعتیں ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کرنے سے بھی ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی اور انہیں اخلاقی شکست دی جاسکتی ہے جو عدالت میں ’’بھیگی بلی‘‘ اُور بعدازاں ’’شیر‘‘ بن کر دھاڑتے دکھائی دیتے ہیں!

چیف جسٹس کے بیان کا ہر ایک لفظ قابل غور اور لائق توجہ ہے جس کی روشنی میں مستقبل کے اُس پاکستان کا منظرنامہ زیادہ واضح دکھائی دینے لگا ہے جہاں بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس نے جو کچھ کہا اُس کے بعد مزید کہنے یا اُس میں اِضافہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ چیف جسٹس نے پاکستان کی اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا ۔۔۔ ’’ریاستی اَمور ایماندار اُور صادق لوگوں کی جانب سے نہیں چلائے جارہے‘ جس کی وجہ سے عوام پریشانی کا شکار ہیں اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہیں لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ ریاست کے انفراسٹرکچر ایمانداری کے مقصد (اَصول مدنظر رکھتے ہوئے) سے بنایا جائے۔‘‘ اُنہوں نے ’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کیس سے متعلق ’اَسی صفحات‘ پر مشتمل فیصلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ۔۔۔ ’’لوگوں یہ اندازہ کرنا چاہئے کہ اقتدار میں رہنے والے اور خاص طور پر عوام کے نمائندے منتخب ہونے والے ایماندار ہونے چاہئیں کیونکہ ایمانداری کسی بھی شخصیت کی فضیلت میں ایک (اہم جز) ہے۔‘‘

چیف جسٹس ’انفرادی فضیلت‘ ایمانداری کے پیمانے اُور اہلیت کی جس ’کسوٹی‘ کا ذکر کر رہے تھے اُس کا تعلق ریاستی آئین اُور اِدارہ جاتی قواعد و ضوابط ہی سے نہیں بلکہ خوداحتسابی سے ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کسی ایک بھی سیاسی جماعت کا سربراہ اُور نائبیئن ’امانت و صداقت‘ کے اُس (کم سے کم) معیار پر پورا نہیں اُترتے جو مصلح اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قول اور عمل سے مقرر فرمایا اُور اَب قیامت تک اُس میں ردوبدل ممکن نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کا بیک وقت ’’اسلامی‘‘ اُور ’’جمہوری‘‘ ملک ہونا اپنی ذات میں گمراہ کن تصور ہے۔ اسلام اور جمہوریت ایک نہیں بلکہ دو الگ الگ تصورات (نظریئے) ہیں اور اِن کو اکٹھا کر کے ایک نیا نظام تشکیل دینا تو ممکن ہے لیکن اِن دونوں سے بیک وقت استفادہ اور فلاح کا حصول بذات خود سراب ہے! عدالت عظمیٰ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کے فیصلے میں جس غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا‘ اور جو ضمنی تصورات کھول کر بیان کئے‘ اُس سے عدالت کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہی نہیں بلکہ اِس میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’’ریاست کی پالیسیوں کو دیکھنے کے لئے سپرئم کورٹ سب سے بڑا ادارہ ہے جس کے علاؤہ ریاست کا دوسرا نگران و بااختیار ادارہ بھی اسی سے ماخوذ ہوسکتا ہے‘ اگرچہ (عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل) پارلیمان‘ قانون سازی کے عمل اُور انتظامیہ کے ایگزیٹو اقدامات کی توثیق کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے تاہم ان اقدار کو آئین کی حدود میں رہ کر قانون کے مختلف اَصولوں اورعدالتوں کی تشریح کے مطابق استعمال کیا جانا چاہئے۔‘‘ حالانکہ اِس کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن جذباتی حدوں کو چھوتے فیصلے میں اِس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ ’’عدالتی حکم نامے کو ایسے لوگوں کے ہاتھ کا آلہ نہیں بننے دیں گے جو عدالتوں میں بدنیتی کے ساتھ آتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو سر پر تلوار رکھ کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘ یہ لوگ آئین کے ’’آرٹیکل دو اے‘‘ کے تحت عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہیں۔ ریاست کو اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اپنی طاقت اور اختیارات کا استعمال کرنا چاہئے۔ اس کے علاؤہ ارکان پارلیمان کو بدنام کرنے‘ دھمکی دینے اور غیر معمولی ہراساں کرنے کی دوبارہ اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘ 

تحریک انصاف کے رہنماؤں (عمران خان اور جہانگیر ترین) کے خلاف فیصلے میں بہت کچھ ایسا بھی تحریر ہے جن کا تعلق اِس مقدمے سے ضمنی طور پر تو ہے لیکن فیصلے کے ذریعے دیگر سیاسی جماعتوں کو ’عدالت کے مزاج‘ اُور ’توقعات‘ سے آگاہ (متنبہ) کر دیا گیا ہے‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ اشارے کنائیوں کی زبان کس کس کی سمجھ میں آتی ہے اور وہ کون کون ہے جو دوسروں کی غلطیوں یا دوسروں سے متعلق سبق آموز عدالتی فیصلوں سے عبرت حاصل کرتا ہے۔
۔

Sunday, October 22, 2017

Oct 2017: Open letter, how can Pakistan describe its justice system!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کھلا خط!

تاریخ خاموش ہے کہ آج تک کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ۔۔۔ ’احتساب‘ کی خصوصی عدالت کا بطور ملزم سامنا کرنے والے سرکاری گاڑیوں اور محافظوں کے حصار میں ’تشریف‘ لائیں۔ 

عدالت عظمیٰ سے تاحیات نااہل قرار پانے والے سابق وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ (اٹھائیس جولائی دوہزار سترہ سے) جس ایک حقیقت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں وہ پاکستان میں انصاف کی بنیاد ہے اور اگر اِس ڈھانچے (نظام) پر بھی عوام کا اعتماد اُٹھ گیا تو باقی جو کچھ بھی رہے گا‘ اُس سے ملک و معاشرے کی اجتماعی بہبود نہیں ہوگی۔ موروثی سیاست ’مضبوط‘ سے ’مضبوط تر‘ ہوتی چلی جائے گی۔ تصور کیجئے کہ جب نوازشریف کی صاحبزادی کو ’وی وی آئی پی‘ پروٹوکول کے ساتھ ’احتساب عدالتوں‘ کی چند ایک سماعتوں کا سامنا کرنا پڑا تو اُن کے چہرے پر ناگواری اور بیزاری کا احساس الفاظ میں اُمڈ آیا اور بے اختیار چلا اُٹھیں کہ ’’روز روز کی پیشی سے تو بہتر ہے کہ سزا ہی سنا دی جائے۔‘‘ دست بستہ عرض ہے کہ بی بی یہ تو ’’ابتدائے عشق‘‘ ہے۔ اس ملک میں کسی غریب کی بیٹی کو عدالتوں کے دھکے کھانے پڑجائیں‘ تو وہ روز روز نہیں بلکہ سال ہا سال پیشیاں بھگتنے پر مجبور ہوتی ہے اور پھر دعا کرتی ہے کہ اے رب‘ اس ذلت آمیز نظام کے ذریعے انصاف ملنے سے تو کئی درجے بہتر ہے کہ عزت سے موت ہی آجائے‘ بلکہ ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں کہ عدالتوں کے چکر لگانے والے مرد و خواتین نے ’اُس خاص ماحول‘ کی وجہ سے خودکشیاں کیں‘ جس میں عام آدمی کے لئے نہ تو عزت ہے اور نہ ہی تکریم۔

محترمہ مریم بی بی سے قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ آپ نے کب اس قدر مشکلات جھیلی ہوں گی جس قدر ایک عام پاکستانی کے مقدر میں لکھی ہوئی ہیں! آپ تو وہ خاص لوگ ہیں کہ عدالتیں چل کر آپ کی دہلیز تک آتی رہی ہیں۔ آپ نے درست کہا کہ ’’روز روز کی سزا‘‘ ختم ہونی چاہئے لیکن کیا یہ روز روز کی سزا بناء کسی جرم نازل ہوئی ہے؟ کیا آپ کو اپنے خاندان کے بے انتہاء مالی اثاثوں کو دیکھ کر شک نہیں ہوتا کہ آخر یہ سب کہاں سے آ گیا؟ کیا آپ نے کبھی اپنے والد گرامی کو مشورہ دیا کہ وہ انصاف تک رسائی کے عدالتی نظام کی اصلاح فرمائیں کہ کس طرح ’روز روز کی پیشیاں‘ سزا سے کم نہیں ہوتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تھانہ کچہری اور عدالتوں کے نظام کو اس قدر پیچیدہ رکھا گیا ہے کہ تاکہ عوام کو سیاسی جماعتوں کا محکوم و غلام رکھا جا سکے؟ کیا ہم یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ عوام کا غم اور تکلیف کا احساس ہمارے حکمرانوں کے لئے معنوی وجود رکھتا ہے؟ اہل پاکستان کے لئے صرف انصاف کا حصول ہی بذریعہ عدالت ممکن نہیں رہا بلکہ یہاں تو تعلیم وعلاج کے لئے بھی پیشیاں (حاضریاں) بھگتنا پڑتی ہیں۔ ملازمتیں بناء پیشی نہیں مل سکتیں اور بناء جرم بھی پیشیوں پر پیشیاں پیش آ سکتی ہیں! 

کیا یہی پاکستان ہے کہ عام آدمی تاحیات عام رہے؟ 

غریب ہمیشہ غریب رہے اور حکمراں ہمیشہ حکمراں رہے؟ 

کیا سادہ لوح محترمہ مریم بی بی جانتی ہیں کہ پاکستان کی عدالتوں میں پندرہ لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتوأ ہیں اور اِس قدر بڑی تعداد میں مقدمات زیرسماعت ہونے کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں نئے مقدمات ہر ماہ درج ہو رہے ہیں!؟ 

کیا ہم ایسے نظام کو اِنصاف تک رسائی کی سبیل قرار دے سکتے ہیں جس میں انصاف ملنے کی اُمید میں نسل در نسل انتظار کرنا پڑے۔ کیا محترمہ مریم بی بی حقیقت آشنا نہیں کہ ’تاخیری اِنصاف درحقیقت انصاف تک رسائی سے انکار ہی ہوتا ہے۔‘ یہ کہا تو جا سکتا ہے کہ انصاف بکتا ہے لیکن اِس کا مطلب وکلاء کی بھاری فیسیں ہیں جن کی ادائیگی ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں ہوتیں! جتنا نامور وکیل اتنے ہی کامیابی کے امکانات! کیا مریم بی بی کو کچھ اندازہ ہے کہ عدالتوں میں اہم (وی آئی پی) اور غیر اہم (ہم عوام) سے الگ الگ سلوک کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہر پاکستانی کا یہ حق نہیں کہ اُس سے عدالتوں کا رویہ یکساں یعنی مؤدبانہ ہو؟ افسوس کہ ہم یہ بات تو جانتے ہیں کہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے نوے فیصد مجرم پکڑے نہیں جاتے جو دس فیصد گرفت میں آتے ہیں تو اُن کی اکثریت یا تو ضمانتیں کروا لیتی ہے یا پھر بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتالوں کے خصوصی وارڈز میں ’بستر‘ نشین ہو جاتی ہے! قتل اُور اقدام قتل جیسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب اگر سرمایہ دار ہوں اور سیاسی اثرورسوخ رکھتے ہوں تو ایسی کوئی بھی عدالت کم سے کم پاکستان میں تو نہیں جو اُنہیں سزا دے سکے۔ یہاں جرائم قوانین کے سہارے اپنا وجود رکھتا ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ قاتل ضمانتوں پر رہا ہوئے۔ عینی شاہدین قتل ہوئے۔ میر مرتضی‘ میر شاہنواز اور بینظیر بھٹو جیسی اہم شخصیات کے قاتل آج تک معلوم نہ ہوسکے تو اس بات پر کیا تعجب کہ اگر کسی عام آدمی کے معلوم قاتل بھی صاف بچ نکلیں! 

کیا شریف خاندان کا مقدمہ اُن سینکڑوں خاندانوں سے زیادہ سنگین ہے جن کے عزیز قتل ہو چکے ہیں؟ 

حالت یہ ہے کہ جائیدادوں اور کرایہ داروں سے بذریعہ عدالت گھر خالی کرانا بھی ممکن نہیں رہا۔ دیوانی کے مقدمات میں نسلیں رُل جاتی ہیں! نوازشریف خاندان کو صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ اِن کے اثاثے معلوم آمدنی کے ذرائع سے زیادہ کیسے ہیں اور اِن کی خریداری کے لئے مالی وسائل کن ذرائع سے اَدا کئے گئے یعنی منی ٹرائل کیا تھی۔ اِس سیدھے سادے مقدمے کو اُلجھا کر کہیں ووٹ کے تقدس یاد دلایا جاتا ہے اور کہیں انتقام کی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ عدالت اُور انصاف پر سوال اُٹھانے کی بجائے اُن دو بنیادی سوالات کا جواب کیوں نہیں دیا جارہا‘ جن کا تعلق مالی اَمور سے ہے۔ پاکستان کی اِجتماعی دانش و بصیرت کا اِمتحان ہے کہ قوم کسی ایسے خاندان کو کس طرح بطور حکمران تسلیم کر سکتی ہے جن کے مالی معاملات و اَمور مشکوک ہیں اور جو سوالات کا جواب دینے کی بجائے عدالتی معاملے کو غیرضروری طور پر طول دے رہے ہیں!
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-10-22

Saturday, July 29, 2017

July 2017: Post Panama Verdict - The bright future of Pakistan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جھوٹ معتبر نہیں ہوں گے!
پانامہ کیس نے پاکستان کی عدلیہ اور سیاست ہی نہیں بلکہ میڈیا کا ’ڈی این اے‘ بھی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ورنہ پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں عدلیہ نے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے اور وزیراعظم جیسے عہدے پر فائز سیاسی جماعت کے سربراہ سے اس قدر سخت گیر معاملہ کیا ہو کہ اُس کی نااہلی کر دی ہو۔ دیگر سیاست دان ضرور یہ بات سوچنے پر مجبور ہوئے ہوں گے کہ اُن کا ماضی اور وہ سب کچھ جسے وہ پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں زیادہ عرصہ تحقیقات کرنے والوں اور بالخصوص ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے اب مزید چھپ نہیں سکے گا۔ یہ صرف ’الیکٹرانک میڈیا‘ ہی کا نہیں بلکہ ’سوشل میڈیا‘ کا بھی دور ہے۔ آن کی آن میں دستاویزات کی تصاویر ’واٹس ایپ‘ ہو جاتی ہیں اور سبھی نیوز ٹیلی ویژن چینلوں نے اپنے ’واٹس ایپ‘ نمبر مشتہر کر رکھے ہیں جنہیں روزمرہ حالات و واقعات کی خبریں ویڈیوز اور دستاویزات ارسال کی جا سکتی ہیں! اٹھائیس جولائی کے سپرئم کورٹ فیصلے سے تو جیسے قومی سطح پر یہ ’کلیدی اصول‘ طے کر لیا گیا ہے کہ ’’جھوٹ اب معتبر نہیں ہوں گے!‘‘

’پانامہ کیس‘ پر محفوظ فیصلے کا اعلان اِس لحاظ سے بدقسمتی بھی ہے کہ پاکستان کو صداقت‘ امانت و دیانت کے اصولوں پر پورا اُترنے والی سیاسی قیادت نہیں مل سکی ہے اور قوانین و قواعد صرف کتابوں میں بند ہیں۔ سرکاری اداروں کا وجود قانون کی حاکمیت اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنا رہا لیکن یہ منظرنامہ (ناقابل تردید حقائق) تبدیل ہو چکا ہے۔ ’پانامہ کیس‘ کا فیصلہ‘ آنے کے بعد پاکستان کا نیا سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا؟ صرف ’شریف خاندان‘ کے احتساب پر بات رُک جانی چاہئے؟ پانامہ پیپرز میں جن دیگر پاکستانی شخصیات کے نام ’آف شور کمپنیاں‘ قائم ہیں‘ اُن کا احتساب کب سے شروع ہوگا؟ پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کہاں ہیں اور کیا ’اگلی باری زرداری‘ کی ہے؟ وزیراعظم اور کابینہ کے دیگر اراکین کے بیرون ملک قیام کے اجازت نامے (اقامہ) انوکھی قسم کی بدعنوانی ہے جو قومی عہدے رکھنے والوں کا ایک ایسا طرزعمل ہے جو ’مفادات سے متصادم‘ ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سعودی عرب کا ’اقامہ (قیام و کاروبار کرنے کا جواز)‘ رکھنے والے وفاقی کابینہ کے ارکان میں احسن اقبال ایسے چوتھے رکن ہیں جن کا نام ایک ایسے معاملے میں آیا ہے جو ’پانامہ کیس‘ سے زیادہ بڑا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ وفاقی وزیر احسن اقبال پچاس ارب ڈالر سے زائد مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے نگران ہیں! احسن اقبال کے علاؤہ وزیراعظم نواز شریف‘ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار متحدہ عرب امارات کا اقامہ رکھنے والوں میں شامل پائے گئے ہیں! سوال یہ ہے کہ پاکستان کا سرکاری (نیلے رنگ کا خصوصی) پاسپورٹ رکھنے والوں کو کسی بھی ملک میں عارضی قیام کے اجازت نامے (اقامے) حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ اگر یہ سوال کسی کے بھی ذہن میں بھی ہو تو جان لے کہ اقامہ کی بنیاد پر بیرون ملک بینک اکاونٹ کھولے جا سکتے ہیں اور بناء ٹیکس دیئے کاروباری سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں!

پاکستانی سیاست دانوں کے کرتوت جس طرح ایک ایک کرکے عیاں ہوئے اور مزید ہوں گے‘ اس کا سلسلہ کسی نہ کسی ندامت اور معافی پر اختتام ہو جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن بقول چوہدری نثار ’نواز لیگ‘ کو اُس کے مشیروں نے ڈبویا ہے! بگڑا کسی کا کچھ نہیں بلکہ رسوائی پاکستان کی ہوئی ہے! پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے دو روز قبل‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’’دوہزارسات سو پچاسی ایسے پاکستانیوں کو نوٹسیز جاری کر دیئے گئے ہیں‘ جنہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران تحائف کی مد میں مبینہ طور پر ایک سو دو ارب روپے کی ’منی لانڈرنگ‘ کی ہے۔‘‘ تصور کیجئے ایک ایسا پاکستان کہ جس میں سالانہ ایک سو ارب ڈالر سے زائد رقم پر ٹیکس تو اَدا نہیں ہوا لیکن عام آدمی (ہم عوام) سے ہر ایک سو روپے کے موبائل ریچارج‘ ماچس کی ڈبیہ یا ایک یونٹ بجلی خرچ کرنے پر بھی کھڑے کھڑے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے!

جشن آزادی منانے والوں کے لئے خوشخبری میں اِس بات (جواز) کا اضافہ ہو گیا ہے وہ ’’شکریہ پاکستان‘ پاکستان شکریہ‘‘ کا نعرہ لگا کر ’دلی مسرت‘ کا اِظہار کریں۔ منتخب اراکین اسمبلی کی ذہانت اُور شعور ملاحظہ کیجئے کہ جنہوں نے ایسی قانون سازی فرمائی ہے جس کے تحت ہر قسم کے تحفے تحائف ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اور بہت سے ایسے افراد جو مالی طور پر مستحکم ہیں‘ قومی آمدنی (ریونیو) میں حسب رہن سہن حصہ ڈالے بغیر ہی اپنی مالی حیثیت اور اثاثوں کی یہاں وہاں منتقلی (تحفے تحائف کے تبادلوں) کے آئینی استثنیٰ سے ’ناجائز فائدہ‘ اُٹھا رہے ہیں! قانون میں موجود اِس رعائت کو رکھنے والے ہی اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں تو تعجب حرام ہے! اگرچہ ایف بی آر نے غیرمعمولی مالیت کے تحفے تحائف وصول کرنے والوں کو نوٹسیز جاری کر دیئے ہیں لیکن چونکہ قانون ہی خاموش ہے اِس لئے یہ بے قاعدگی ایک دو سماعتوں ہی میں خارج کر دی جائے گی اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک قانون میں ترمیم نہیں کر دی جاتی! جن بااثر افراد نے انکم ٹیکس بچانے کے لئے تحائف دیئے اور اُن کے گوشواروں میں ذرائع آمدن کی توثیق نہیں ملتی کسی معروف وکیل کے ذریعے بچ جائیں گے! لیکن اگر ایف بی آر کے اہلکاروں کی اچانک ’حب الوطنی‘ جاگ اُٹھی اور پانامہ جے آئی ٹی کی طرح وہ غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر بیٹھے تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔تحائف کی مد میں منی لانڈرنگ کا الزام صرف اُن پر ہے جنہوں نے یہ بات ٹیکس ریٹرنز گوشواروں میں نہیں کی اور اپنی آمدنی پر ٹیکس بہت ہی کم ادا کیا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس آمدنی سے کم ادا کرنے کا کلچر عام ہے اور اِس بات کو ’’جرم‘‘ قرار نہیں دیا جاتا نہ ہی سمجھا جاتا ہے بلکہ کئی ایسی ’لاء فرمز (وکلاء کے ادارے)‘ قائم ہیں جو اپنی خدمات مودبانہ و فخریہ طور پر پیش کرتے ہیں کہ قانونی اَمور سے متعلق مہارت کا استعمال کرتے ہوئے کسی صارف کو کم سے کم ٹیکس ادا کرنے میں رہنمائی یا اُسے قانونی چارہ جوئی کے ذریعے سزا سے بچا سکیں! 

اربوں اور کروڑوں کے اثاثے رکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں روپے میں ٹیکس اَدا کر رہے ہیں تو اِس دھندے میں خود ایف بی آر کے ممکنہ ملوث ہونا خارج اَز امکان نہیں ہوسکتا۔ ہمیشہ اطمینان بخش نتیجہ ہوتا ہے عمل نہیں۔ اندرون ملک آمدن (اِن لینڈ ریونیو)‘ انسداد منی لانڈرنگ کے انٹلی جنس اور انویسٹی گیشن سیل نے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا ہے‘ جس کا نتیجہ ہر اُس ذی شعور کو معلوم ہوسکتا ہے جو اِس بارے میں سوچنا اور معاملے کو سمجھنا چاہے۔ ’ایف بی آر‘ کے سامنے صرف تین کیسز ہی ایسے ہیں جس میں تحائف کی مالیت ایک ارب سے زیادہ ہے اور سب سے زیادہ تحائف کی مالیت ایک ارب ستر کروڑ روپے ہے۔ علاؤہ ازیں کم سے کم آٹھ افراد نے پچاس کروڑ روپے سے ایک ارب روپے مالیت کے درمیان تحائف ظاہر کئے ہیں! 

خدا جانے وہ وقت پاکستان کے عام آدمی (ہم عوام) کی زندگیوں میں کب آئے گا جب اُسے تحفے تحائف نہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ معیاری صحت و تعلیم اور جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق ہی میسر آئیں گے۔ ’’آ کسی روز کسی دُکھ پہ اَکٹھے روئیں: جس طرح مرگِ جواں سال پہ دیہاتوں میں: بوڑھیاں روتے ہوئے بین کیا کرتی ہیں: جس طرح ایک سیاہ پوش پرند کے کہیں گرنے سے: ڈار کے ڈار زمینوں پہ اُتر آتے ہیں: چہکتے شور مچاتے ہوئے کرلاتے ہیں: اپنے محروم روئیوں کی المناکی پر: اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا: اِک نئے دُکھ کے اضافے کے سوأ کچھ نہیں: اپنی ہی ذات کے گنجال میں اُلجھ کر تنہا: اپنے گمراہ مقاصد سے وفا ٹھیک نہیں: قافلہ چھوڑ کے صحرا میں صدا ٹھیک نہیں۔ ہم پرندے ہیں نہ مقتول نہ ہوائیں پھر بھی: آ کسی روز کسی دُکھ پہ اَکٹھے روئیں۔۔۔ (فرحت عباس شاہ)۔‘‘

Sunday, July 23, 2017

TRANSLATION: Idea of "Truth [finding] Commission" by Dr. Farrukh Saleem

Truth commission
حقائق کی کھوج: نئے اِدارے کی ضرورت!
سچ کیا ہے اور سچ کی حقیقت کیا ہے؟ جھوٹ کیا ہے اور جھوٹ کی حقیقت کیا ہے؟ کون صادق و امین ہے اور کون نہیں؟ کیا یہ سیاست ہے یا کاروبار؟ سیاست اور کاروبار کے درمیان فاصلہ ہونا چاہئے؟ کون بدعنوان ہے اور کس کے ہاتھ بدعنوانی سے نہیں رنگے ہوئے؟ کیا سیاست اور اخلاقیات دو الگ چیزیں ہیں؟ کیا سیاست اور اخلاقیات میں کوئی آپسی رشتہ بھی ہے؟ سیاست میں کون اخلاقیات کے معیار پر پورا اُترتا ہے اور کون نہیں؟ کیا سیاست کاروبار ہے یا یہ عوام کی خدمت کا ذریعہ؟

9 مئی 2014ء پاکستان کے وزیر برائے خزانہ‘ آمدن‘ اقتصادی امور‘ شماریات و نج کاری اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان سے قومی دولت سوئزرلینڈ کے بینکوں میں منتقل ہوئی ہے جس کا کم سے کم حجم 200 ارب ڈالر ہے!‘‘ یاد رہے کہ پاکستان کا مجموعی قومی قرضہ 80 ارب ڈالر کے قریب ہے ایسی صورت میں وزیرخزانہ کا قومی اسمبلی ایوان میں یہ بیان کہ دوسوارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں پڑے ہیں‘ کسی بھی طرح معمولی نہیں تھا۔

مارچ 2017ء میں انسداد منشیات کے ایک امریکی ادارے نے ’’انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ‘‘ جاری کی جس کے مطابق ’’پاکستان سے سالانہ 10ارب ڈالر غیرقانونی (منی لانڈرنگ) ذرائع سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ پاکستان کے ایک تہائی بچے مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے لاغر (انڈر ویٹ) ہیں۔ 44 فیصد بچے ایسے ہیں جن کی بالیدگی رُکی ہوئی ہے۔ 15فیصد کسی کی نگرانی میں نہیں اور بچوں کی آدھی آبادی خون کی کمی یا خون میں آئرن کی کمی سے پیدا ہونے والے امراض کا شکار ہے اور دوسری طرف قومی دولت کے 10 ارب ڈالر سالانہ چوری ہو کر بیرون ملک ذاتی اثاثوں میں منتقل ہو رہے ہیں!

22فروری 2017ء جسٹس شیخ عظمت سعید نے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کے وجود اور کارکردگی کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’نیب کے چیئرمین وزیراعظم کو بچانے کی کوشش میں ہے لیکن ہماری نظر میں نیب کا ادارہ رحلت فرما چکا ہے!‘‘

17 جولائی 2017ء چیئرمین سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس اِی سی پی) ظفر حجازی کو اسلام ااباد کی خصوصی عدالت نے حکمراں شریف خاندان کی ملکیت اداروں سے متعلق ’سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل (ریکارڈ ٹیمپرنگ)‘ کے جرم میں پانچ روز کے لئے عبوری ضمانت دی۔

21 مارچ 2017ء: وزیراعظم میاں نواز شریف نے سعید احمد کو ’نیشنل بینک آف پاکستان‘ کا صدر مقرر کیا وہ قبل ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ’ڈپٹی گورنر‘ کے عہدے پر فائز تھے۔ وزیرخزانہ اِسحاق ڈار نے ’پانامہ کیس‘ سے متعلق ’جائنٹ اِنوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)‘ کو بتایا کہ ’’سعید احمد لندن (برطانیہ) میں ایک ’نرسنگ ہوم‘ چلا رہے تھے جب اُنہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ’ڈپٹی گورنر‘ مقرر کیا گیا۔‘‘
پاکستان کی ضرورت ہے کہ سوئزرلینڈ کی بینکوں میں پڑے 200 ارب ڈالر واپس لائے جائیں۔ پاکستان کی ضرورت یہ بھی ہے کہ ہرسال 10 ارب ڈالر جیسی خطیر قومی رقم‘ غیرقانونی ذرائع سے حاصل کرنے والے اُور غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقلی کا راستہ روکے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ’قومی دولت‘ لوٹنے والے لالچی کردار کون ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ معلوم ذرائع آمدنی سے بڑھ کر طرز زندگی اختیار کرنے والے کردار کون ہیں۔ سیاست دانوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے۔ سرکاری ملازمین‘ فوجی و غیرفوجی (سویلین) کرداروں کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔

پاکستان کو ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جسے اختیار حاصل ہو کہ وہ سچائی کو کھوج نکالے۔ ہر پاکستانی کو یہ حق حاصل ہے کہ اُسے سچائی کاعلم ہونا چاہئے۔ پاکستان کے اقتصادی و مالی امور میں خردبرد کرنے والے سزا سے نہیں بچنے چاہیءں۔ ملک فلپینز (Philippines) کے ’ٹرتھ کمیشن‘ نے اپنے ہاں بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانیوں کو طشت ازبام کیا۔ ملک چاڈ (Chad) نے بھی ’ٹرتھ کمیشن‘ بنایا اور اپنے سابق صدر ہیبری (Habre) اور اُن کے ساتھیوں کا احتساب کیا جو مالی بدعنوانیوں میں ملوث تھے۔
پانامہ کیس سے متعلق بنائی گئی ’جے آئی ٹی‘ نے وہ ’کارنامہ‘ سرانجام دیا جو اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں اِن ایک جیسے تحقیقاتی اور عوامی مفادات کی حفاظت کا ذمہ رکھنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کبھی نہیں کیا۔ آج پاکستان کے 6 ایسے ہیرو ہیں‘ جن کے بارے میں اگرچہ پاکستان زیادہ کچھ نہیں جانتا لیکن اِن گمنام کرداروں نے پاکستان کو بہت کچھ جاننے اور اِس نتیجے تک پہنچنے کی راہ دکھا دی ہے کہ قومی دولت کس طرح ذاتی اثاثوں میں منتقل ہوتی ہے اور کس طرح ہر ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ہر خوش قسمتی کے پیچھے ایک جرم پوشیدہ ہوتا ہے۔

پاکستان کو ایک نئے ادارے اور ایک نئے قومی بیانیئے کی ضرورت ہے۔ میری تجویز ہے کہ ’جے آئی ٹی‘ کی طرز پر ایک نیا اِدارہ تشکیل دیا جائے جو مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے والوں کی کھوج کر سکے اور اِس سلسلے میں یہ بھی تجویز ہے کہ پانامہ کیس سے متعلق ’جے آئی ٹی‘ کے اراکین پر مبنی ہی ایک مستقل ’ٹرتھ (فانڈنگ) کمیشن (Truth Commission)‘ تشکیل دیا جائے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, July 16, 2017

TRANSLATION: Criminal Finance Act by Dr Farrukh Saleem

Criminal Finances Act
انسداد بدعنوانی قانون!
چوبیس جولائی سال دوہزار دو: برطانیہ کی ملکہ الزبتھ الیکزینڈرا میری (Elizabeth Alexandra Mary) نے ’کرائم بل 2002ء‘ نامی ایک قانون کو شاہی منظوری دی اور لاگو کردیا۔ یہ قانون برطانیہ کی حکومت کو اختیار دینے کے لئے بنایا گیا کہ وہ مشکوک ذرائع آمدنی بشمول جرائم سے حاصل کئے گئے اثاثوں کو ضبط کرلے۔ برطانیہ میں یہی قانون بنیادی طورپر سرمائے کی غیرقانونی نقل و حمل (منی لانڈرنگ) کے انسداد سے متعلق بھی تھا۔

ستائیس اپریل سال دوہزار سترہ: ملکہ برطانیہ الزبتھ الیکزینڈرا میری ہی نے ’کریمینل فنانس ایکٹ 2017ء‘ نامی قانون پر شاہی منظوری کی مہر ثبت کی جس کے بارے میں کریمنل لاء کے ایک ماہر راجر ساہوتا (Roger Sahota) کا کہنا تھا کہ ’’اِس قانون سازی سے سال دوہزار دو میں کی گئی کو جامع بنایا گیا ہے جس میں ’منی لانڈرنگ‘ کرنے والوں کے اثاثے ضبط کرنے کے حکومت کے اختیارات میں توسیع ہوئی ہے۔‘‘

اپریل سال دوہزار سولہ: تحقیقاتی صحافت کی عالمی تنظیم (انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیشن جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) نے ایک کروڑ پندرہ لاکھ (11.5 ملین) دستاویزات جاری کیں جو ایک معروف ادارے ’’موسیک فونیسکا (Mosack Fonseca)‘‘ کی ملکیت تھیں۔ یہ ادارہ خفیہ ناموں سے سرمایہ کاری کی امکانات‘ معلومات اور سہولیات کی فراہمی میں دنیا کا چوتھا ایسا بڑا اِدارہ ہے اور اِس کے ذریعے ’آف شور سرمایہ کاری‘ کی جا سکتی ہے۔ ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات جنہیں دنیا ’پانامہ لیکس‘ کے نام سے جانتی ہے کے منظرعام پر آنے کے بعد برطانیہ حکومت نے قانون نافذ کرنے والوں کو نئے اختیارات دے دیئے کہ وہ مشکوک ذرائع آمدنی سے حاصل کردہ اثاثوں کو بناء کسی عدالتی کاروائی یا قانونی چارہ جوئی کا اختیار دیئے ضبط کرلیں!
برطانیہ کے ’’کریمینل فنانس ایکٹ دوہزارسترہ‘‘ کے تحت اگر کسی ایسے شخص کے اثاثے مشکوک پائے گئے جو سیاست سے وابستہ ہو تو ایسی صورت میں کسی عدالتی سماعت یا مزید تحقیقات کی ضرورت باقی نہیں رہے گی کہ آیا اِن اثاثوں کے پیچھے کوئی جرم چھپا ہے یا نہیں۔ چونکہ مذکورہ اثاثے معلوم ذرائع آمدنی سے الگ اور زیادہ ہوں گے گے اِس لئے انہیں انسداد بدعنوانی کے قانون کے تحت بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا۔

دس جولائی سال دوہزارسترہ: سپرئم کورٹ آف پاکستان نے ’چھ رکنی جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)‘ تشکیل دی تاکہ وہ ’پانامہ لیکس‘ کی روشنی میں ’مشکوک ذرائع آمدنی اور بیرون ملک اثاثوں‘ کی چھان بین اور ’پانامہ لیکس‘ کے بقول اِس سرمایہ کاری میں ملوث حکمراں ’شریف خاندان‘ کی ملکیت اور اُن ذرائع کی کھوج کرے‘ جس سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔ مذکورہ ’جے آئی ٹی‘ کو ساٹھ روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا اور وقت مقررہ پر رپورٹ سپرئم کورٹ میں جمع کرا دی گئی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ’’جے آئی ٹی اِس نتیجے پر پہنچی کہ شریف خاندان کے ذرائع آمدنی اُن کے رہن سہن اور اثاثوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘ 

جے آئی ٹی رپورٹ کے خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی دسویں جلد خفیہ رکھی جائے جس میں بیرون ملک اثاثہ جات کے بارے قانونی مشاورت کی درخواست و امکانات کا ذکر کیا گیا ہے اور اِس سلسلے میں برطانیہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ جب سے ’پانامہ لیکس‘ کا ہنگامہ برپا ہوا ہے عالمی سطح پر سرمائے کی غیرقانونی نقل و حمل پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے اور پاکستان میں جاری ’پانامہ کیس‘ پر بھی عالمی اداروں کی نظریں ہیں۔ برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ ہر سال برطانیہ کے ذریعے 100 ارب پونڈز کا مشکوک سرمایہ یہاں وہاں جاتا ہے جس کا بیشتر حصے کی جائیداد کی صورت سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ 

رواں برس (دوہزار سترہ) منظور ہونے والے ’کریمنل فنانس ایکٹ‘ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مشکوک ذرائع آمدنی سے حاصل اندرون یا بیرون (آف شور) سرمایہ کاری کے بارے میں سوال کریں اور آمدنی کے ذرائع قانونی ثابت نہ ہونے کی صورت میں انہیں ضبط کر لیا جائے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے مذکورہ قانون اُور ’جے آئی ٹی‘ کے پیش کردہ نتیجۂ خیال کے بیان میں الفاظ کی (حیرت انگیز) مماثلت پائی جاتی ہے! برطانوی قانون کا اطلاق غیرملکی سیاست دانوں یا سرکاری حکام یا اُن کے معاونین پر ہوتا ہے جس کے ذریعے برطانیہ کو یہ قانون اختیار حاصل ہے کہ وہ روسی صدر ولادمیر پوٹن سے وابستہ سہولت کار کے خلاف بھی کاروائی کرے جنہوں نے برطانیہ کا استعمال ذاتی سرمائے کو خفیہ رکھنے کے لئے کیا یا برطانیہ افریقہ کے آمروں سمیت اُن تمام بااثر کہلانے والوں کے خلاف کاروائی کرے جنہوں نے اپنے ممالک کی بجائے بیرون ملک اور خفیہ طور سے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے! 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Tuesday, May 2, 2017

May2017: The 10 billion offer!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
دس اَرب ۔۔۔ زیادہ بڑا سوال!
پاکستان تحریک انصاف نہ صرف ملک کی واحد ’حزب اختلاف‘ ہونے کا کردار ادا کر رہی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک جیسا دلیرانہ کردار پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی ایک بھی سیاسی جماعت یا سیاسی جماعت کے سربراہ نے ادا نہیں کیا جیسا کہ عمران خان ادا کر رہے ہیں جو چاہتے ہیں کہ مالی و انتظامی شعبوں ہی میں نہیں بلکہ طرزحکمرانی پر مسلط ہونے والے مفاد پرستوں کا کھیل ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ عام انتخابات میں دھونس دھاندلی اور سرمایہ کاری کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کی بھاری قیمت خود تحریک انصاف کو بھی ادا کرنا پڑے گی لیکن وہ ملک کے مستقبل کے لئے ایسا کرنے کو تیار (پرعزم) دکھائی دے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پانامہ کیس پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض ’دس ارب روپے‘ کی ابتدائی پیشکش ٹھکرانے اور ڈان لیکس کے اصل مجرموں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے جو کچھ بھی کہا جاتا ہے عوام کی اکثریت اُس کی صداقت پر یقین رکھتی ہے! جیسا کہ ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ عوامی سطح پر اپنے ذریعے کا نام بتانا کچھ مسائل کو جنم دے سکتا ہے مگر پھر بھی لوگوں میں اس حوالے سے تجسس ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو پاناما پیپرز سکینڈل کی پیروی نہ کرنے کے لئے وزیرِ اعظم نواز شریف کی جانب سے دس ارب روپے کی پیشکش لانے والا شخص آخر کون ہے؟ 

ملکی تاریخ کی سب سے بڑی نہ سہی لیکن سب سے ’’پیچیدہ پیشکش‘‘ ضرور ہے۔ جس احتساب کا نعرہ عمران خان لگاتے ہیں اگر وہ شکنجہ خود ان کے دروازے پر آ کھڑا ہو تو وہ بہت مشکل صورتحال میں پڑ جائیں گے‘ اسی لئے ان کے خلاف تمام الزامات ایک طرف مگر کبھی بھی ان پر کرپشن یا رشوت کا الزام نہیں لگا ہے۔ درحقیقت ہمیں عمران خان کو کریڈٹ دینا چاہئے کہ سابق کھلاڑی نے عوامی عطیات سے ایک بہت نامور ہسپتال قائم کیا ہے مگر اس سے بھی زیادہ الجھن اس بات کی ہے کہ آخر کون بے وقوف ہوگا جو ایک اپوزیشن رہنما کو اس کے سیاسی کریئر کے عروج پر ایسی پیشکش دے گا۔ اس کے علاؤہ اس پوری کہانی میں سے کافی ساری تفصیلات غائب ہیں‘ جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے شاید ایک بار پھر غلط بازی کھیلی ہے۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ بھلے ہی عمران خان الفاظ اور ناموں کے بارے میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا سیکھ چکے ہیں مگر وہ اعداد و شمار کو اب بھی آسانی سے بڑھا چڑھا کر پیش کر دیتے ہیں۔ ان کی پارٹی اور خود ان کی اپنی شہرت کو بدنامِ زمانہ پینتیس پنکچرز کی کہانی بار بار دہرائے جانے سے نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق سال دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کم از کم پینتیس سیٹوں پر دھاندلی کی وجہ سے ہی نوازلیگ کامیاب ہوئی تھی۔ لب لباب یہ ہے کہ عمران خان کا مذاق اڑانا آسان لیکن اُن کی طرح دلیرانہ اور بے لوث و امتیاز قومی سیاست کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

تحریک انصاف کے دم کرم سے دوسرا معاملہ جس پر حزب اختلاف کا ڈٹ کر مؤقف سامنے آیا ہے وہ ڈان لیکس کا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پاناما کیس فیصلے کے بعد کافی دباؤ میں ہے مگر عمران خان کا یہ خطرناک شاٹ کسی اور کے بجائے خود انہیں ہی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جس چیز کو سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کے ایک دور کا خاتمہ ہونا چاہئے تھا‘ وہ خاتمے کے بجائے ایک تازہ اور غیر ضروری بحران میں بدل گئی ہے۔ سیاست کی دھندلی دنیا میں اداروں کے درمیان تعلقات کے بارے میں حقائق جاننا ویسے تو بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی آگے بڑھنے کا راستہ تقریباً تلاش کر لیا گیا تھا۔ 

کم وبیش آٹھ ماہ بعد ایک انکوائری کمیٹی‘ جس میں فوج اور سویلین دونوں ہی کے نمائندے شامل تھے‘ نے متفقہ رپورٹ اور سفارشات تیار کیں جنہیں وزیرِ اعظم نواز شریف کو پیش کیا گیا۔ حکومت نے عوامی سطح پر وعدہ کیا تھا کہ وہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات قبول بھی کرے گی اور نافذ بھی کرے گی۔ معلوم ہونے لگا تھا کہ معاملہ اب اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے مگر پریشان کن طور پر حکومت نے کمیٹی کی سفارشات کے اعلان کو غیرمناسب انداز میں طے کرنے کی کوشش کی۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ فوج نے اس معاملے پر حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف اور نئے آرمی چیف جنرل باجوہ پانچ ماہ قبل قیادت سنبھالنے سے اب تک اس قومی سطح کے مسئلے میں مرکزی کردار کے طور پر تھے۔ یہاں سے آگے ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہئے اور اس کے لئے دونوں فریقوں کو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ یقینی بنانا چاہئے کہ یہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔ حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کو عوام میں لانے سے اس پر چھائے شکوک اور بدگمانی کے بادل ہٹ سکتے ہیں۔ حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ایک دوسرے سے متصادم پیغامات مزید عدم استحکام یا اس سے بھی خطرناک صورتحال کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب بحران پیدا ہوا تو وزیرِ داخلہ نثار علی خان کی پریس کانفرنس نے صرف شش و پنج میں اضافہ کیا۔ ایک موقع پر تو یہ بھی محسوس ہوا کہ شاید وزیرِ داخلہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان کی وزارت انتظامی طور پر وزیرِ اعظم کے دفتر سے بالاتر ہے۔ 

تکنیکی باتیں جو کچھ بھی ہوں لیکن ضرورت تھی کہ معاملے کو سلجھایا جاتا! لمحۂ فکریہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سادہ لوحی یا جذبات یا باہمی اختلافات کی وجہ سے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتیں جمہوریت کے تسلسل ہی کو نقصان پہنچانے جا رہی ہیں؟ دس ارب کی پیشکش سے بھی زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پانامہ کیس پر سپرئم کورٹ کے فیصلے اور تیزی سے گزرتے ہوئے وقت میں نواز لیگ کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں تو کہیں وفاقی حکومت کو اقتدار سے الگ کرنے کے لئے کوئی ایسا باعزت راستہ تو نہیں دیا جا رہا‘ جس میں اُس کے بعد کم سے کم حکومت ’تحریک انصاف‘ کے حصے میں نہ آئے؟

Sunday, April 23, 2017

Apr2017: Panama Case Verdict - The Fact sheet!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تاریخی فیصلہ: حقائق نامہ!
اَلفاظ کے ’ہیرپھیر‘ سے معنی و مفہوم بدل جاتے ہیں۔ ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ کی جانب سے ’تاریخی فیصلہ‘ صادر کرنے کی بجائے یہی ’بہتر‘ سمجھا گیا کہ وہ جو تاریخی ہو‘ وہی فیصلہ ہو! کیا پانچ ’اَذہان عالیہ‘ بشمول ’چیف جسٹس‘ کی فہم و بصیرت‘ یعنی ’پوسٹ پانامہ کیس ورڈکٹ‘ پاکستان مالی و اِنتظامی بدعنوانی سے زیادہ محفوظ و مامون ہو گیا ہے؟ اِس سوال سے جنم لینے والے ضمنی سوالات ایک ’حقائق نامے‘ کی صورت غوروخوض کے متاضی ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت کے موقع پر کفار سے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اِس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر چھپا ہوا ہے تو سب نے کہا کہ ہم یقین کریں گے کیونکہ آپ ’صادق و امین‘ ہیں تو معلوم ہوا کہ قیادت کی پہلی شرط ’صداقت و امانت‘ ہے جس کے بغیر ’صداقت و امانت‘ قیادت (رہبری) ایک لفظ تو ہو سکتا ہے لیکن ہرگز ہرگز ’انقلابی تصور‘ نہیں۔

پہلی حقیقت: ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت بیرون ملک خفیہ طریقوں سے سرمایہ کاری کرنے والے کسی نہ کسی صورت حکمرانی یا فیصلہ سازی کے منصب پر فائز یا فائز رہے ہیں اور کوئی بھی عام آدمی (ہم عوام) نہیں بلکہ مراعات یافتہ خواص طبقے سے تعلق رکھنے والے اُن افراد کے مالی معاملات مشکوک ہیں‘ جنہوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف لیا۔ جنہیں پاکستان نے قیادت‘ عزت‘ تکریم اور رہنمائی جیسے منصب دیئے۔ اَنگریزی زبان کا لفظ ’ٹریژن treason‘ (غداری) کا ماخذ ’ٹریژ‘ (خزانہ) ہے یعنی کسی ملک سے غداری ’ٹریژن‘ کا مرتکب وہ ہوتا ہے جو اُس کے مالی اَمور کو بطور ’صادق و امین‘ سرانجام نہیں دیتا۔ عام آدمی (ہم عوام) کی نظر میں ’اختلافی نوٹ‘ یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہو چکا ہے کہ ’’ہر ’اختلافی نوٹ‘ کے پیچھے ’قانون کے علم‘ سے زیادہ فلموں‘ ڈراموں‘ شاعری اُور دیگر ادبی تخلیقات کے مطالعے کا عمل دخل ہوتا ہے۔‘ پہلے کہا جاتا تھا کہ جج نہیں فیصلے بولتے ہیں‘ پھر کہا گیا کہ ججوں کو نہیں اُن کے فیصلوں کو بولنا چاہئے اور اب عام آدمی (ہم عوام) چاہتے ہیں کہ ’ججوں کے فیصلوں میں قانون بھی نظر آنا چاہئے۔‘ 

دوسری حقیقت: ’پانامہ پیپرز‘ کے ذریعے بیرون ملک اُور خفیہ ناموں سے سرمایہ کاری کے اِنکشافات کو پاکستان کے علاؤہ کسی دوسرے ملک کے سیاسی حکمرانوں اُور فیصلہ سازوں نے ’جھوٹ کا پلندہ‘ اُور ’مفروضہ‘ قرار نہیں دیا۔ 

تیسری حقیقت: ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت ’حقائق‘ منظرعام پر لانے والے صحافیوں کو ’اعزازات‘ سے نوازہ گیا لیکن پاکستان میں اُن کے ماضی و ادارہ جاتی وابستگیوں کے بارے سوالات اُٹھائے گئے۔ 

چوتھی حقیقت: پانامہ پیپرز نے ’ترقی یافتہ‘ اُور ’ترقی پذیر‘ ممالک کے فیصلہ سازوں کو ہلا کر رکھ دیا لیکن جب اِن حقائق کے بارے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں تحقیقات کی گئیں تو دستاویزی ثبوت ’’ناکافی‘‘ قرار پائے گئے۔ 

پانچویں حقیقت: پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ’پانامہ پیپرز‘ کے منظرعام پر آنے کے بعد ملوث کرداروں نے ’اخلاقی اقدار‘ کا ثبوت دیتے ہوئے ’قوم سے معافی‘ نہیں مانگی۔ 

چھٹی حقیقت: پاکستان ایسی اکلوتی مثال ہے جہاں ’پانامہ پیپرز‘ کے حوالے سے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے برسرزمین حقائق اُور ناقابل تردید شواہد کی موجودگی کے علاؤہ قانون ساز قومی اسمبلی میں دیئے گئے وزیراعظم کے ’آن دی ریکارڈ‘ بیانات‘ اُن کے اہل خانہ کے ملکی و غیرملکی مختلف ٹیلی ویژن چینلز کو دیئے گئے انٹرویوز کو ’ناقابل بھروسہ‘ سمجھا۔ 

ساتویں حقیقت: دنیا کے کسی دوسرے ملک کو یہ اعزاز حاصل نہیں کہ جہاں مشکوک ذرائع آمدنی کے بارے سوال کرنے کو ’’صرف ایک‘‘ سیاسی خاندان کے احتساب کی کوشش اور اِسے ’جمہوریت و پاکستان کی ترقی کے خلاف‘ سازش قرار دیا جاتا ہے۔ 

آٹھویں حقیقت: پانامہ مقدمے میں بیس اپریل کے روز ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ نے جو ’فیصلہ‘ دیا اُس سے صرف پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی قیادت ہی نہیں بلکہ اُن سبھی کرداروں نے سکھ کا سانس لیا ہے جن کے سروں پر ’نااہلی کی تلوار‘ لٹک رہی تھی! 

نویں حقیقت: ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت انکشافات اُس پاکستان سے باہر (بیرون ملک) دولت (اثاثوں) کا عشرعشیر بھی نہیں جو ’پانامہ‘ کے علاؤہ کئی دیگر ممالک میں پاکستانی حکمرانوں نے ’’خفیہ ذرائع‘‘ سے بنا رکھی ہیں۔ 

دسویں حقیقت: بیرون ملک خفیہ بینک اکاونٹس اور جائیدادیں رکھنے والوں کا تعلق صرف ’پاکستان مسلم لیگ نواز‘ ہی سے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی اور جماعتی وابستگیاں بدل بدل کر حکمرانی کرنے والے سینکڑوں ایسے پاکستانیوں کے ناموں پر مشتمل فہرست (پلندے) ذرائع ابلاغ میں شائع یا زیربحث آ چکے ہیں‘ جن کی وضاحت اُور حقیقت کے بارے کیا الگ الگ آئینی سماعتوں کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا؟ 

گیارہویں حقیقت: خفیہ ذرائع سے بیرون ملک مالی و کاروباری مفادات رکھنے والوں کی ’’معلوم و نامعلوم تعداد‘‘ میں قطر‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ برطانیہ‘ فرانس‘ اَمریکہ اُور جن یورپی (دوست) ممالک کے نام آتے ہیں‘ اُنہیں اجتماعی طور پر ناجائز قرار دیئے بناء (آئندہ) ایسی مالی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کے امکانات کم نہیں کئے جا سکیں گے۔ 

بارہویں حقیقت: ریاست کے چاروں ستونوں کو اپنی ذات میں ’قول و فعل کے تضادات‘ ختم کرنا ہوں اُور ایثار و قربانی کی عملی مثالیں بننا ہوگا کیونکہ اگر پاکستان کی ساکھ ایک ایسے ملک کی ہوتی ہے جہاں کھربوں روپے کی بدعنوانی کرنے والوں کی پکڑ نہیں ہوتی‘ جہاں قانون نافذ کرنے والے ریاستی ادارے اداروں سمیت احتساب کا عمل اِس حد تک مفلوج (ناکارہ) ہو چکا ہے کہ ’صاحبان اختیار‘ کا احتساب نہیں کیا جاتا‘ جہاں ’سوچ اور فکروعمل کی(ترجیح) پاکستان‘ نہیں تو وہاں صنعتی و معاشی ترقی‘ بے روزگار اَفرادی قوت جیسی نعمت سے اِستفادہ‘ قدرتی وسائل‘ ترقی کے امکانات اور برآمدات میں اِضافے سمیت توانائی جیسے بحرانی مسئلے کا حل کیونکر ممکن ہو سکے گا؟ 

TRANSLATION: The judgment by Dr Farrukh Saleem

The judegment
تذکرہ ایک فیصلے کا
بیس اپریل کے روز ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ نے ’پانامہ کیس‘ میں جو فیصلہ دیا اُس کا آغاز 1969ء میں لکھے گئے ناول ’دی گاڈ فادر‘ سے لئے ’قول زریں‘ سے لے کر ’بین السطور‘ بہت کچھ ایسا سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کی روشنی میں پاکستان کی سیاست کے محور اور مقصود کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ ’’ہر خوش قسمتی ہے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے۔‘‘ اِس جملے کے بعد فیصلے میں آگے چل کر لکھا گیا کہ ’’حیران کن اور عجیب حسن اتفاق ہے کہ یہ پورا مقدمہ اِس ایک جملے ہی کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے!‘‘
سپرئم کورٹ فیصلے کا بہ نظرغائر جائزہ لینے سے کئی حقائق معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ اِس فیصلے میں جن جن شخصیات کے نام کتنی بار آئے اُن میں لفظ ’نواز‘ 235مرتبہ‘ لفظ قطری شہزادے ’ثانی‘ کا نام 123 مرتبہ‘ لفظ ’حسین‘ 111 مرتبہ‘ لفظ ’حسن‘ 43مرتبہ اور لفظ ’مریم‘ 24مربتہ آیا ہے جس سے یہ ضمنی پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ مریم (وزیراعظم کی صاحبزادی) کا کردار فیصلہ سازوں کے ذہن میں شروع دن سے نہیں تھا لیکن فیصلہ سازوں پاکستان کے موجودہ وزیرخزانہ اور وزیراعظم کے سمدھی اسحاق ڈار کو نہیں بھول سکے جن کا نام فیصلے میں 23مرتبہ‘ جبکہ دلچسپ امر ہے کہ ’سمدھی‘ کا لفظ 5 مرتبہ دہرایا گیا۔ اِسی طرح شہباز شریف بھی اُن کی یاداشت میں رہا جن کا نام فیصلے کی ضخیم دستاویز میں 14مقامات پر تحریر ملتا ہے۔
سپرئم کورٹ کے معزز فیصلہ سازوں کے ذہن پر جو پہلو حاوی تھا اُس کا عکس الفاظ کے چناؤ اور استعمال سے بخوبی واضح ہے جیسا کہ لفظ ’پراپرٹی (جائیداد)‘ کا لفظ 483 مرتبہ‘ لندن 333 مرتبہ‘ قطر 192مرتبہ‘ جدہ 109مرتبہ اُور پانامہ 60مرتبہ استعمال ہوا۔ اِسی طرح ’آف شور (بیرون ملک خفیہ ادارے)‘ کا اصطلاحی لفظ 96 مرتبہ استعمال پایا گیا۔ منی (سرمایہ) 195 مرتبہ‘ کرپشن (بدعنوانی) 107مرتبہ‘ لانڈرنگ 57 مرتبہ جبکہ فیصلہ سازوں کی نظریں اور توجہات ذرائع ابلاغ پر بھی رہیں جنہوں نے ’ٹیلی ویژن‘ کا لفظ 33 مرتبہ مختلف مقامات پر بحوالہ استعمال کیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ لفظ ’بوگس‘ پانچ مرتبہ‘ ہوا۔ جس مقام پر ’بوگس‘ کا لفظ پہلی مرتبہ استعمال ہوا اُس جملے میں کہا گیا کہ ’’میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ یا تو میرے سامنے جائیداد کی فروخت کا جو معاہدہ (دستاویزی ثبوت) پیش کیا گیا وہ ’بوگس‘ تھا یا پھر جناب طارق شفیع کی جانب سے جو متعلقہ حلف نامہ دیا گیا وہ جنوئن (اصل) نہیں ہے۔‘‘ قطری شہزادے کا ذکر بھی فیصلے میں ملتا ہے جن کے بارے میں ایک مقام پر لکھا ہے کہ ’’میری رائے میں‘ دستاویز بوگس ہے‘ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور ہمیں اِس بات میں کوئی امر مانع (حیل و حجت) نہیں کہ ہم اِس دستاویز کو رد (ریجیکٹ) کردیں۔‘‘

سپرئم کورٹ کے فیصلے میں ’حدیبیہ(Hudaibiya)‘ کا ذکر بھی پانچ مرتبہ ملتا ہے‘ جس کی وجہ سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار یقیناًایک مشکل میں پڑ گئے ہیں کیونکہ اُن کا کوئی نہ کوئی تعلق اِس پورے معاملے سے بنتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے لئے ایک اچھی خبر ہے کہ اُن کی صاحبزادی مریم نواز اِس پورے مقدمے میں مجرم نامزد ہونے سے صاف بچ گئی ہیں لیکن پر قانونی و اخلاقی دباؤ بدستور موجود ہے۔ وہ تین جج صاحبان جنہوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے جیسا نتیجہ پیش نہیں کیا لیکن اُنہوں نے ایسی مشکلات کے پہاڑ کھرے کر دیئے ہیں‘ جن سے نمٹنا‘ اُور خود کو ’بے قصور‘ ثابت کرنا وزیراعظم کے لئے آسان نہیں ہوگا۔
آئندہ 60دن میں‘ وزیراعظم کا مستقبل ’جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)‘ طے کرے گی اور اِس ’جے آئی ٹی‘ اصطلاح کا استعمال فیصلے میں 32مرتبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ’جے آئی ٹی‘ تشکیل دینے اور اس کے ذریعے کسی معاملے کی تہہ تک پہنچ کر ذمہ داروں یا حقائق کا تعین کرنے کی تاریخ زیادہ روشن نہیں لیکن اِس کے باوجود اگر ساکھ کے باوجود ’جے آئی ٹی‘ تشکیل دی گئی ہے تو اِس کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ اِس معاملے میں فوج کے ادارے کو بھی شامل کر لیا جائے اور اُن کی کارکردگی کے احتساب کا موقع بھی ہاتھ آئے۔ فیصلہ سازوں کے ذہن میں آرمی اور ملٹری جیسی اصطلاحات بھی گردش کر رہی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ اِن دونوں اصطلاحات کا استعمال 16مرتبہ پڑھنے کو ملتا ہے۔

قانونی پیچیدگیاں اور باریکیاں اپنی جگہ‘ اگر ہم پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے اُس ردعمل کو دیکھیں کہ انہوں نے پانامہ مقدمے کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کاماحول احتجاج سے گرما دیا ہے۔ اِس لمحۂ موجود میں وزیراعظم سیاسی طور پر تنہا دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ اُن کے واحد اتحادی مولانا فضل الرحمن ہی باقی بچے ہیں اور یہ صورتحال اُن 5 درجن تجربہ کار سیاستدانوں کے لئے مایوس کن ہے جو ایک معمول کے مطابق قومی اسمبلی کی اُن 148نشستوں پر تواتر سے کامیاب ہوتے رہتے ہیں جو صوبہ پنجاب کے اضلاع روالپنڈی اور رحیم یار خان پر مشتمل ہیں۔

تین مرتبہ ملک کا وزیراعظم رہنے والے شخص کے سامنے تین محاذ کھلے ہیں جن پر اُسے اپنا دفاع کرنا ہے۔ پہلا محاذ ’جے آئی ٹی‘ ہے۔ دوسرا محاذ اُن کی سیاسی تنہائی کا ماحول ہے اور تیسرا محاذ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف اُن کی ناکامی ہے۔ جہاں تک اِن محاذوں پر کامیابی کا تعلق ہے تو ’جے آئی ٹی‘ کے ذریعے سرخروئی حاصل کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ کسی صورت اِس معاملے کو طول دیا جائے اور حکومتی اختیارات کے ذریعے ’جے آئی ٹی‘ کی تشکیل پر اثرانداز ہونے کے ساتھ اِس کے کام کرنے کے آغاز میں تاخیری حربے اختیار کئے جائیں۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Saturday, April 22, 2017

Apr2017: Ethical side of the Panama Case verdict!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاسی اخلاقیات!
پاکستان مزید سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مریم اورنگزیب کا قول سلیم ہے کہ ’’اگر اُور مگر ختم ہونا چاہئے۔‘‘ کاش کہ ایسا ہی ہوتا اور عدالتی فیصلے کے فوراً بعد سے رات گئے تک نہ تو مٹھائیاں تقسیم جاتی اور نہ مبارک بادوں کا تبادلہ کرنے والے تصاویر ’سوشل میڈیا‘ پر جاری کرتے۔ عدالتی فیصلے سے اپنے مطلب کے معانی اخذ کرنے اور سیاق و سباق پر غور کرنے والے ’غیرآئینی امور‘ کے ماہرین کے شکوک و شبہات اور تحفظات بدسور موجود ہیں۔ 20 اپریل کی طرح 21 اپریل کا دن بھی پاکستان پر بھاری رہا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے جاری اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین کو بات کرنے کا موقع نہ دیتے ہوئے اجلاس ختم کرنے کی روایت ’عدم برداشت‘ اور اختیارات کے غلط استعمال کی عکاس ہے۔ عدالتی فیصلہ وہی کا وہی رہنا تھا اگر تحریک انصاف کے سربراہ کو قومی اسمبلی سے خطاب کی اجازت دے دی جاتی اور برہمی پر مبنی ردعمل منطقی تھا کیونکہ عمران خان بہت کچھ ’’فلور آف دی ہاؤس (آن ریکارڈ)‘‘ کہنے کی خواہش رکھتے تھے اور یقیناًاُن کا مقصود یہی تھا کہ قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر بھی وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں‘ جو اُن سمیت پیپلزپارٹی کی جانب سے ’جلدبازی‘ میں اگر یہ اعلان پہلے ہی سامنے نہ آتا تو ’وفاقی حکومت‘ ہوشیار نہ ہوتی جو اتنی بھی سادہ نہیں کہ اپنے خلاف محاذ پر محاذ کھولنے دے جو پہلے ہی بیس اپریل کے ’عدالتی فیصلے اور حزب اختلاف کی جانب سے جوش خطابت میں ’کڑے تنقیدی حملوں‘ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

پانامہ کیس میں تحریک اِنصاف کے شانہ بشانہ کھڑی ’جماعت اِسلامی پاکستان‘ بھی خود کو ’سرخرو‘ سمجھ رہی ہے۔ گویا ایک ایسا عدالتی فیصلہ آیا ہے جس سے سب کی دلی مرادیں پوری ہو گئیں ہوں! جماعت کے مرکزی اَمیر (سربراہ) سراج الحق کا مؤقف اُور مطالبہ معمولی نہیں۔ کیا ہوا اگر وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین کو بولنے نہیں دیا کیونکہ اُسی قومی اسمبلی کے باہر ’یکے بعد دیگرے‘ سبھی جماعتوں کے رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کے سامنے ’’دل کے پھپھولے‘‘ کھول کھول کر بیان کر دیئے۔ 

تاریخ تو بہرحال رقم ہو رہی ہے‘ بیس اپریل کا دن اتنا تاریخی (ناقابل فراموش) تھا‘ کہ اس کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اب ہر دن ’تاریخی‘ ثابت ہو رہا۔ ’جلدباز‘ فریقین غلطیوں پر غلطیاں کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہے ہیں۔ سراج الحق کا کہنا ہے کہ سپرئم کورٹ کے کہے کو سمجھا جائے کہ ’’وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ کے بیانات درست نہیں پائے گے۔ دو ججز نے کہا کہ وزیراعظم نااہل جبکہ باقی تین نے ایک عدد تفتیش کی ضرورت محسوس کی ہے تو یہ کس طرح حکمراں جماعت کی کامیابی ہو سکتی ہے!؟ جماعت اسلامی ایک عرصے سے کرپشن کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ ٹرین مارچ‘ سڑکوں سے ایوانوں تک جلسے جلوس اور احتجاج کے بعد عدالت کا دروازہ بھی کٹھکٹھانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کم سے کم اخلاقی طور پر ’پیپلزپارٹی‘ سے بلند ہیں اور مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے سدباب کے لئے قول و فعل کے تضاد کا شکار نہیں!

پانامہ کیس کا فیصلہ منزل نہیں لیکن کامیابی کی جانب پیش قدمی ہے۔ کیا سپرئم کورٹ کے دو جج صاحبان کا فیصلہ معمولی قرار دی جاسکتی ہے؟ 

ضرورت اِس امر کی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کا ایک ہی مطالبہ ہونا چاہئے کہ وزیراعظم اخلاقی طور پر استعفی دے اس لئے کہ اگر وہ بڑی کرسی پر موجود رہتے ہیں تو اس سے تفتیشی و تحقیقاتی عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ بقول سراج الحق ’’موجودہ اور سابق حکمرانوں نے اداروں کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ قوم کو اُن سے یہ توقع ہی نہیں کہ ایک کم گریڈ کا افسر اپنے سے اعلیٰ گریڈ کے افسر کا احتساب کرے گا‘ لہٰذا وزیراعظم ’نواز شریف‘ کی عزت اسی میں ہے کہ وہ استعفی دے کر ایک آزادانہ تفتیش کا ماحول فراہم کریں۔ جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے اراکین کون ہونے چاہیءں اِس پر بھی حزب اختلاف کا مؤقف صرف اور صرف اُس صورت تسلیم کیا جاسکتا ہے جبکہ وہ متحد رہیں! کیونکہ ماضی میں بننے والی ایسی ہی کئی مشترکہ تفتیشی ٹیموں کی کارکردگی اور حاصل ہونے والے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کرنے کی بجائے رائٹ کو دائیں کی بجائے صحیح (حق) اور لیٖفٹ بائیں کی بجائے غلط سمجھنے کے اصولوں پر سیاست ہونی چاہئے تاکہ ملک میں کم سے کم اُن اخلاق قدروں کو حکمرانی کا موقع مل سکے جن میں نمو (ارتقاء) کی طاقت چھپی ہوئی ہے۔ 

لوگوں کے دین اور مسلک جدا (الگ الگ) ہو سکتے ہیں لیکن اخلاق ایک ایسا اصول (معیار) ہے جو پوری دنیا کو جوڑ اور اِسی کی عدم موجودگی میں پیدا ہونے والی تفریق کی وجہ سے ممالک اور اقوام تقسیم (ٹکڑے) بھی سکتی ہیں! 

حق‘ عدل اور اخلاق کا تقاضا یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم اپنے عہدے سے علیحدہ رہیں۔ پارلیمینٹ میں اکثریت رکھنے والی مسلم لیگ (نواز) کسی دوسرے رکن کو وزیراعظم نامزد کر سکتی ہے۔ جمہوریت رواں دواں رہ سکتی ہے اور جمہوریت کو رواں دواں ہی رہنا چاہئے! 

Friday, April 21, 2017

Apr21: Aftermath of the Panama Case verdict!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
منظر‘ پس منظر‘ پیش منظر!

بڑے کیس کی بڑی بھی گھڑی گزر گئی! 

پانامہ کیس میں ’سپرئم کورٹ‘ فیصلے سے ’پاکستان مسلم لیگ‘ کی جیت اور حکمراں جماعت کو حسب دعویٰ ’سرخرو‘ ملی ہے۔ اصولی طور پر پانامہ پیپرز کے بارے میں تفتیش پہلے اور اِس سلسلے میں سپرئم کورٹ سے بعد میں انصاف کا مطالبہ کیا جاتا تاکہ حقائق و شواہد کا جائزہ لینے کی یوں کمی محسوس نہ ہوتی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت سیاسی قائدین جلدبازی نہ کرتے اور ابتدأ میں کمیشن قائم کرنے کی جس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اب اُسی کو تسلیم کرنے کے سوأ چارہ نہیں پا رہے تو آج صورتحال اور فیصلہ مختلف آ سکتا تھا لیکن حزب اختلاف نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ وقت اور حالات دونوں پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے! سپرئم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آئندہ دو ماہ ’کریمنل انویسٹی گیشن‘ کی طرح تفتیش ہو گی۔ شواہد اکٹھے کئے جائیں گے جن کی بنیاد پر سپرئم کورٹ ہی حتمی فیصلہ سنائے گی‘ جس سے وابستہ اُمیدوں کی سانسیں چلتی رہنی چاہیئں۔ 

سپرئم کورٹ کے حکم پر جو افسران تفتیش کے لئے نامزد ہوں گے اگر وہ کمزوری دکھائیں اور چاہیں بھی تو حقائق کو چھپا نہیں سکیں گے یقیناًسپرئم کورٹ کا فیصلہ اُس نوعیت سے واضح نہیں جیسا کہ ہونا چاہئے تھا لیکن ملک کے وسیع تر مفاد اور سسٹم کو بچانے کے لئے ’مزید تفتیش اور تحقیقات‘ کی اجازت دیتے ہوئے وزیراعظم کو اگر ایک اُور موقع دیا گیا ہے تو اِس میں کوئی حرج بھی نہیں کیونکہ ملک کا نظام اور معاملات بھی اہمیت رکھتے ہیں جنہیں جذبات کی عینک لگا کر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

پانامہ کیس کے فیصلے کا لب لباب یہ ہے کہ پانچ جج صاحبان نے جو ایک بات مشترک طور پر کہی ہے اور جس پر اُن میں اختلاف رائے نہیں وہ یہ ہے کہ ’’وزیراعظم اُور اُن کے اہل خانہ کی جانب سے دیا جانے والا جواب تسلی بخش نہیں تھا‘‘ اِسی وجہ سے ’تفتیشی کمیشن‘ قائم کیا گیا تاکہ بادی النظر میں جو کام سپرئم کورٹ نہیں کر سکی اب وہی کام 2 خفیہ ادارے (آئی ایس آئی اور ایم آئی) پر مبنی تین رکنی ٹیم کرے گی جس کی قیادت وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کو سونپی گئی ہے جو وفاقی حکومت کا ماتحت ادارہ ہے اور جس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اُنیس گریڈ عہدے والے آفیسر) کو تفتیش سونپ کر یہ نہیں سوچا گیا کہ اگر اُس سرکاری ملازم کی مدت ملازمت تیس سال سے کم ہوئی تو موصوف اِسی حکومت کے تعینات کردہ (احسان مند) ہوں گے! سوال (جواز) اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا بیس اپریل کا یہی وہ فیصلہ تھا جسے ’’بیس برس‘‘ یاد رکھنے کی قوم کو اُمید دلائی گئی تھی؟ 

سوال یہ بھی ہے کہ جب سپرئم کورٹ کے سامنے باوجود بار بار استفسار کے بھی شواہد (جوابات) پیش نہیں کئے گئے تو کس طرح اُمید رکھی جا سکتی ہے کہ ایک ’ایڈیشنل ڈائریکٹر‘ کی صدارت میں جو ٹیم تشکیل ہو گی اُس کے سامنے وزیراعظم بمعہ اہل و عیال پیش بھی ہوں گے اور سچ بول کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی بھی مار دیں گے؟ گنتی پھر سے شروع ہو گئی ہے‘ قوم کو ایک اُور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والوں کو بہرصورت یقینی بنانا ہوگا کہ تفتیش کا عمل ’ساٹھ دن‘ ہی میں مکمل کیا جائے اور اگر وزیراعظم یا اُن کے اہل خانہ اچانک بیمار ہو بھی جائیں تو تفتیش کا عمل آئندہ عام انتخابات تک طول پکڑنے نہ پائے۔ 

تفتیش کا معیار بھی ہونا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ سیکورٹی خدشات کو جواز بنا کر مذکورہ ٹیم ’وزیراعظم ہاؤس‘ جا کر رسمی کاروائی (بیان ریکارڈ) کر کے ایک ایسی تفتیشی رپورٹ سپرئم کورٹ کے سامنے پیش کرے جس کی روشنی میں اختلافی نوٹ لکھنے والے دو جسٹس صاحبان بھی ایک دوسرے کا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں! 

بیس اپریل پاکستان کے اُن غریبوں (ہم عوام) کی توہین ہوئی ہے‘ جن کی جان و مال‘ جن کے نام پر لئے جانے والے قرضہ جات اور جن کے ادا ہونے ٹیکس کی کوئی وقعت نہیں! سچ تو یہ ہے کہ سچ تک رسائی کے لئے ہم عوام کو ابھی مزید کچھ دن‘ کچھ ہفتے‘ کچھ سال‘ کچھ دہائیاں اور شاید صدیوں انتظار کرنا پڑے گا۔عربی زبان کا محاورہ ہے کہ ’’انتظار موت سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔‘‘ 

Thursday, April 20, 2017

Apr2017: The judgement day!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

دائمی فیصلہ!


پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ’پانامہ انکشافات‘ سے متعلق مقدمے کا فیصلہ نہ صرف ’عہدساز‘ ثابت ہوگا بلکہ اِس سے ملک میں ’’طرز حکمرانی‘‘ کی سمت بھی متعین ہو جائے گی جیسا کہ پاکستان کی پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کا عدالتی فیصلہ اہم تھا‘ اور جس طرح آج بھی پاکستان ’4 اپریل 1979ء‘ کے اُس ایک دن کے حصار سے نہیں نکل سکا‘ جب 1973ء سے 1977ء تک ملک کے 10ویں وزیراعظم اور قبل ازیں 1971ء سے 1973ء تک ملک کے چوتھے صدر رہنے والے ایک مدبر سیاستدان کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ 

بھٹو کا خون ایک ایسا داغ ثابت ہوا‘ جو باوجود کوشش بھی دھل نہ سکا اور اِسی ’آمرانہ اقدام‘ نے پاکستان کی سیاسی سوچ اور انتخابی عمل کو دو واضح حصوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا۔ دنیا اِس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ’سیاست دان‘ ہونے کے معنوی اور اصطلاحی مفہوم پر ہرلحاظ سے پورا اُترتے تھے اور اُن کی سزائے موت کے بعد پاکستان کا طرز حکمرانی مالی وانتظامی بدعنوانیوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا‘ جس سے نکلنے یا اِس میں دھنسے رہنے کا انتخاب ’پانامہ مقدمے کے فیصلہ‘ سے ثابت ہوگا۔ قیام پاکستان کے بعد‘ ذوالفقار علی بھٹو کا بذریعہ عدالت قتل اور عدالت ہی دانش و بصیرت میں ’پانامہ کیس کے فیصلے‘ سے سمجھنا ہوگا کہ سپرئم کورٹ آئندہ حکمرانوں یا اُن کے اہل خانہ کو کتنی ہی کڑی سے کڑی سزا‘ اور نااہل قرار دے بھی دے تو اِس سے آسمان نہیں ٹوٹے گا‘ نہ پاکستان کو لوٹا ہوا سرمایہ واپس ملے گا‘ لیکن بدعنوانی کے ارتکاب میں ’خاص و عام‘ کا امتیاز ختم یا پھر ہمیشہ کے لئے برقرار رہے گا۔ 

ایک بات تو طے ہے کہ پانامہ مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد (post-panama) پاکستان بہرصورت تبدیل ہوگا کیونکہ سپرئم کورٹ میں ایک مرتبہ پھر صرف کسی ایک شخص یا سیاسی جماعت کے ’سیاسی مستقبل‘ کا نہیں بلکہ یہ پاکستان کی قسمت کا ’ہمیشہ ہمیشہ کے لئے (دائمی) فیصلہ‘ ہونے جا رہا ہے۔ کیا ہمیں ایک ایسے طرز حکمرانی کی ضرورت ہے جس میں حکمران خاندانوں کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ جب چاہیں اور جس طرح سے چاہیں ملکی قوانین و قواعد کو پائمال کریں؟ اداروں پر نااہل اور منظورنظر افراد مسلط کرنے کا اختیار حکمرانوں کو ملنا چاہئے؟ 

کیا عہدے اختیارات اور سرکاری وسائل سے ذاتی اثاثے میں اضافہ یا مشکوک ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کی غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک منتقلی یا حسب آمدن ٹیکس کی اَدائیگی سے گریز اور کسی قومی اِدارے سے حلیفہ بیانات کے باوجود بھی اثاثے پوشیدہ رکھنے (دروغ گوئی) کا ارتکاب جائز سمجھا جائے؟ 

پانامہ کیس کے فیصلے پر صرف ایک خاندان ہی کا نہیں بلکہ اُن تمام پاکستانی خاندانوں کی ساکھ اُور مستقبل کے سیاسی و سماجی کردار کا بھی اِنحصار ہے‘ جن کی سانسیں ’’اپریل دوہزارسولہ‘‘ میں منظرعام پر آنے والے ’’ایک کروڑ ساڑھے گیارہ لاکھ‘‘ سے زائد دستاویزات منظرعام پر آنے کے بعد سے اٹکی ہوئی ہیں! جن پاکستانیوں کا یہ خیال ہے کہ صرف ’پانامہ لیکس‘ کے ذریعے ماضی و حال کے حکمرانوں کے کرتوتوں کا بھانڈا پھوٹا ہے تو وہ غلطی پر ہیں کیونکہ ابھی تو متحدہ عرب امارات میں اثاثے اور سوئزرلینڈ کی بینکوں میں خفیہ طور پر اکاونٹس رکھنے والوں سے بھی نمٹنا باقی ہے لیکن یہ سب صرف اور صرف اُسی صورت ممکن ہوگا‘ جبکہ ’پانامہ مقدمے‘ کا فیصلہ کا آج (بیس اپریل) سنائے جانے کا اعلان کردیا گیا ہے لیکن اِس فیصلے کو سیاسی مفادات کی عینک لگا کر (تنگ نظری سے) نہیں بلکہ وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

رواں برس بائیس فروری سے محفوظ ہونے والا پانامہ کیس کا فیصلہ کسی سیاسی جماعت کی مخالفت یا مؤقف کو درست ثابت کرنے کا جواز نہیں بلکہ ایک نیا دن بن کر طلوع ہونا چاہئے۔ ایک مرتبہ پھر نظریں سپرئم کورٹ پر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی یاد آ رہی ہے یقیناًآج پاکستان کی اُس ساٹھ فیصد آبادی کی قسمت کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے‘ جن کے بنیادی حقوق ادا نہیں ہوئے۔ جنہیں انصاف نہیں ملا اُور جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں!

Saturday, April 15, 2017

Apr2017: Confusion over the pending verdict!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پہیلیاں!
پاناما اسکینڈل کیس کی طویل سماعتوں کے بعد سپرئم کورٹ کی جانب سے فیصلہ محفوظ کئے ’’ڈیڑھ ماہ‘‘ سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے اور سب کو فیصلے کا بے چینی اور بے صبری سے انتظار ہے۔ فیصلہ کیا ہوگا چونکہ اِس حوالے سے کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی‘ اِس لئے ہر گھڑی تجسس بڑھ رہا ہے کہ یہ فیصلہ کب اور کیا سامنے آئے گا؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم سپرئم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کئی سماعتوں کے بعد رواں برس تیئس فروری کو پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اِسے مناسب وقت پر سنایا جائے گا اور بیس سال کے بعد بھی لوگ کہیں گے کہ یہ فیصلہ قانون کے عین مطابق تھا۔‘‘ پاناما کیس کے سلسلے میں مختلف درخواست گزاروں نے پٹیشنز دائر کی تھیں‘ جن میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان‘ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور شیخ رشید احمد شامل ہیں‘ جو وزیر اعظم کی جانب سے پانچ اپریل دوہزار سولہ کو قوم سے خطاب اور سولہ مئی دوہزار کو قومی اسمبلی میں کئے گئے خطاب میں مبینہ طور پر غلط بیانی کی بنیاد پر اُن کی نااہلی کے خواہاں ہیں لیکن اگر اختیارات کے ناجائز استعمال اور وسائل کی لوٹ مار پر اگر کوئی ایک بھی نااہل قرار پایا تو یہ سلسلہ رکے گا نہیں اور نہ ہی بات ختم ہوگی۔

قبل اَز وقت ’ممکنہ عام انتخابات‘ کی تیاریاں کرنے والی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ ’پانامہ کیس‘ کا فیصلہ عنقریب لگنے والا ہے جس کی بنیاد پر وہ آئندہ عام انتخاب ’لوٹنے‘ کی خواہش میں پیشگی مبارکبادوں کا تبادلہ (اظہار مسرت) بھی کر رہی ہیں لیکن کیا آج کی تاریخ میں‘ پاکستان کی کوئی ایک بھی سیاسی جماعت ایسی ہے جس کی مرکزی یا صوبوں میں قیادت کے ستون ’صادق و امین‘ کے اُس کم سے کم ’آئینی معیار‘ پر پورا اُترتے ہوں‘ جس کے بارے میں انکم ٹیکس گوشواروں کی طرح الیکشن کمیشن کو دیئے جانے والے ’تحریری حلفیہ دروغ گوئی‘ پر مبنی بیانات معمول بن چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمرانی پر فائز سیاسی جماعتوں کے نام بدلتے رہتے ہیں لیکن حکمراں خاندانوں کا تسلط برقرار ہے جو اُس وقت تک قائم و دائم (لازوال) رہے گا جب تک عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد اور الیکشن قواعد و ضوابط کی ہر ایک شق پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد ممکن نہیں ہوجاتا یا عملاً ممکن نہیں بنایا جاتا۔ پاکستان میں شفاف عام انتخابات ہی جمہوریت کے قیام اور طرزحکمرانی کی اصلاح کی واحد صورت ہیں۔ جب تک ہمارا انتخابی نظام اور انتخابی اصلاحات کے ذریعے ایسے ’شفاف چناؤ‘ عملاً ممکن نہیں ہوتے کہ جن کے ذریعے ’’بالغ حق رائے دہی‘‘ کا تناسب اُور معیار‘ دھونس دھاندلی یا نسلی و لسانی اور مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہوں‘ اُس وقت تک ’قسمت نہیں بدلے گی!‘ یہ اَمر بھی ذہن نشین رہے کہ جب تک خودمختار ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ اپنے فرائض کی ادائیگی میں خودمختار ہونے کا اپنے عمل سے ثبوت نہیں دے گا‘ اُس وقت تک عہدوں اُور اِختیارات سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی روش اور غاصب طبقات کا تسلط قائم رہے گی اور ایک نہیں بلکہ مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے مزید کئی ایک پانامہ کیسیز سے اُس طبقے کی صحت و حیثیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا‘ جس کے مالی مفادات پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں!

پاکستان کی سیاست کو تغیرپذیر ملکی اور عالمی تناظر میں بھی دیکھنا چاہئے کہ کس طرح اسلامی ممالک پر عالمی طاقتوں کا دباؤ ہے اور ایک ایسی صورت میں قبل ازوقت عام انتخابات کی پیش گوئی کرتے ہوئے یہ اُمید (تصور) رکھنا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وجہ سے الیکشن فوج کی نگرانی میں شفاف انداز میں ہوں گے‘ الجھنوں میں اضافے کا باعث امر ہوگا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا ماننا ہے کہ ’’فوج کی زیرنگرانی آئندہ عام انتخابات ’’تاریخی‘‘ ہوں گے‘ جن میں دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا‘‘ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ انتخابی دھاندلی سے زیادہ تو عام انتخابات پر سرمایہ‘ ذات برادری اُور تھانہ کچہری کے معاملات اثرانداز ہوتے ہیں! ماضی میں بھی پولنگ اسٹیشنوں پر فوجی دستے موجود رہے‘ تاہم پاناما لیکس کے متوقع فیصلے پر مرکوز نظروں میں فوج بھی شامل ہے جو یکساں بے چین ہے اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال ’’سول اور فوجی تعلقات‘‘ کے لئے سابق آرمی چیف راحیل شریف سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوسکتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے راحیل شریف کو سیاسی جماعتوں کے درمیان آنا پڑا لیکن یہی کام موجودہ آرمی چیف نے باآسانی و خوش اسلوبی سے حسب خواہش و ضرورت کر لیا اور یہی سبب ہے کہ سیاسی تجزیہ کار پورے یقین سے کہہ رہے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف سخت گیر مؤقف رکھنے والے جنرل قمر باجوہ‘ آنے والے دنوں میں راحیل شریف سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے جو ’’شور‘‘ کم اور ’’کاروائی‘‘ زیادہ کرنے کے قائل ہیں۔

سپرئم کورٹ پاناما لیکس کی روشنی میں فیصلہ لکھتے ہوئے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر رہی ہو گی کیونکہ اِس سے صرف ایک حکمراں خاندان کی نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں دیگر افراد کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو جائے گا‘ جنہوں نے 1: پاکستان میں حسب آمدنی ٹیکس ادا نہیں کیا‘ 2: مشکوک ذرائع آمدنی سے مالی وسائل میں اضافہ کرتے چلے گئے‘ 3: غلط بیانی کے ذریعے آمدنی اور اثاثوں کو قومی اداروں سے پوشیدہ رکھا‘ 4: مالی وسائل غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک منتقل کئے‘ 5: بیرون ملک اپنے اہل خانہ کے ناموں یا فرضی اِداروں کے ذریعے سرمایہ کاری کی گئی۔ یہ پانچوں جرائم اِس قدر سنجیدہ نوعیت کے ہیں کہ اگر اِن میں ایک کا اطلاق بھی‘ کسی فرد‘ خاندان یا ادارے پر ہوا‘ تو وہ ’تاحیات نااہلی‘ سے نہیں بچ سکے گا۔ علاؤہ ازیں بیرون ملک‘ چوری چھپے سرمایہ کاری کرنے والوں پر ’غداری‘ کی دفعات بھی لاگو ہوں گی جنہوں نے اپنے مالی مفادات کے لئے ملکی اداروں‘ قوانین اور قواعد کو حقیر سمجھا اور ہر ادارے کو بدعنوان بنا کر پاکستان کو اُس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں ملکی ادارے بوجھ بن چکے ہیں‘ برآمدات روبہ زوال ہیں‘ توانائی بحران کی صورت ڈھل چکے ہیں اور نہ صرف قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے بلکہ قرض کی اقساط و سود ادا کرنے کے لئے بھی مزید قرض حاصل کرنے کے سوا چارہ بھی نہیں رہا تو وقت ہے کہ پاکستان کی قومی آمدنی اور قرضوں سے حاصل ہونے والے مالی وسائل لوٹنے والوں کی نشاندہی (احتساب) بذریعہ عام اِنتخاب (الیکشن) نہیں بلکہ ’بمطابق قانون‘ ہونا چاہئے۔

Sunday, September 4, 2016

Sept2016: Cold response on Panama Papers

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
دیانت و صداقت: دوغلے معیار!
وفاقی کابینہ نے بیرون ملک سرمایہ کاری کے انکشافات (پانامہ دستاویزات) کے بارے تحقیقات کے حوالے سے ’’پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2016ء‘‘ کی منظوری دی ہے‘ جو ’’انکوائری کمیشن ایکٹ 1956ء‘‘ کا متبادل ہوگا اُور اِس کے تحت تحقیقاتی کمیشن کتنا بااختیار ہو گا‘ یا کس قدر تحقیقات کے حوالے سے بااختیار ہوگا اُور جسے چاہے طلب کر سکے گا اِس بارے میں زیادہ کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان میں قوانین کی روح کے مطابق اگر بلاامتیاز عمل درآمد ہوتا تو کسی نئے قانون کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے پانامہ پیپرز (انکشافات) کے معاملے پر وفاقی کابینہ میں منظور ’انکوائری کمیشن ایکٹ مسترد کرتے ہوئے ’’ بااختیار اعلیٰ عدالتی کمیشن‘‘ کے قیام کے لئے ’پرائیویٹ ممبر‘ بل سینٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ بل کا عنوان ’’دی پانامہ پیپرز انکوائری بل2016ء رکھا گیا ہے۔اپوزیشن کے اس بل پر پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف‘ مسلم لیگ (قائداعظم)‘ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے ارکان نے دستخط کئے ہیں۔ 


پاکستان کو دہشت گردی‘ لاقانونیت اور توانائی جیسے بحرانوں کا سامنا ہے مگر بدعنوانی (کرپشن) کے ناسور کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ توانائی بحران اور کرپشن پاکستان پیپلزپارٹی کی 2013ء کے عام انتخابات میں بدترین شکست کا سبب بنی۔ اچھی بات ہے کہ پیپلزپارٹی کے قائدین کرپشن کے خاتمے کا پرچم بلند کررہے ہیں۔ پاکستان میں پانامہ پیپرز کے بعد پیدا ہونے والی گرمجوشی ’ہلکی آنچ‘ کے باعث خاطرخواہ نتائج سے محروم ہے‘ سینکڑوں لوگوں کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہونے کے باوجود نہ تو گرفتاریاں ہوئیں اور نہ ہی قوم کے سامنے حقائق آ سکے! تیرہ مئی کو چیف جسٹس سپرئم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی نے پانامہ لیکس پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے وفاقی وزارت قانون کے پانچ اپریل کو بھجوائے گئے مراسلہ کا جواب دیتے ہوئے حکومتی ٹرمز آف ریفرنس پر کمیشن کی تشکیل سے معذرت کر لی اور باور کرایا کہ حکومت کی جانب سے بھجوائی گئی ٹرمز آف ریفرنس کے مطابق تحقیقات میں کئی سال لگ جائیں گے۔ جب تک فریقین کے مابین ٹی او آرز طے (متفقہ) نہیں ہو جاتے‘ اس وقت تک جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا جا سکتا! جوابی مراسلہ میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ باقاعدہ قانون سازی کرکے تحقیقات کے متقاضی انفرادی ناموں‘ خاندانوں اور گروپوں کی فہرست مہیا کر دی جائے تو سپرئم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے پر غور کر سکتی ہے۔ کیونکہ حکومت کی جانب سے بھیجی گئی ٹی او آرز میں تحقیقات کے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس کے بعد حکومت اور اپوزیشن نے مل کر ٹی او آر طے کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی لیکن بے سود معاملہ اب تک لٹکا ہوا ہے۔ الزام تراشی سے بھی معاملہ آگے بڑھ کر دشنام طرازی تک پہنچ گیا۔ اس دوران مزید آف شور کمپنیوں‘ قرضوں کی معافی اور کرپشن کے کیسز سامنے آئے۔ جن میں کم و بیش تمام حکومتی اتحادی اور مخالف پارٹیوں کی کئی سرکردہ شخصیات کے ساتھ سرمایہ کاروں اور بیوروکریٹس کے نام بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں کے بیرون ممالک کھربوں ڈالر کے اثاثے موجود ہیں۔ پانامہ لیکس کے سامنے آنے پر یہ دولت پاکستان لائے جانے کی ایک امید ضرور بندھی ہے۔ 


تحریک انصاف پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے سڑکوں پر ہے۔ پیپلزپارٹی کبھی اس کے ساتھ اور کبھی الگ کھڑی نظر آتی ہے۔ کرپشن کا حساب ہوگا تو پیپلزپارٹی کے لوگ شاید دیگر پارٹیوں کی نسبت زیادہ تعداد میں قابل احتساب قرار پائیں۔ تحریک انصاف میں بھی کئی اصحاب قابل احتساب ہیں‘کوئی بھی پارٹی کرپشن سے کلی طور پر مبرا نہیں ہے۔ اسی لئے غیرجانبدارانہ احتساب کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے۔ حزب اختلاف وزیراعظم کے احتساب پر مصر ہے تو مسلم لیگ (نواز) اور اس کے اتحادی وزیراعظم کو بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ ایسے ’ٹی او آرز‘ سامنے لے آئی کہ سپرئم کورٹ کو بھی کہنا پڑا کہ تحقیقات میں برسوں لگ جائیں گے۔ پارلیمنٹ کو قوم کی مجموعی دانش کا ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر پارلیمٹیرین کی آج دانش بھی بکھری ہوئی اور بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر حکومت اپنی مرضی کا جوڈیشل کمیشن تشکیل دینا چاہتی ہے۔ 

اپوزیشن یہی کچھ سینٹ میں کررہی ہے۔ گویا حتمی طور پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے ’’پلان‘‘ میں کامیاب نہیں ہوں گی اس کا یقیناًفریقین کو ادراک ہے۔ شاید دونوں کا مفاد معاملے کو طول دینے اور عوام کے سامنے سرخرو ہونے میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن انتہاؤں پر رہی تو احتساب کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ احتساب پر پارلیمنٹیرین کا رویہ غیرسنجیدہ اور جمہوریت اور قومی مفاد کے منافی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کو اپنے اپنے روئیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ مزید ہڑتالوں اور احتجاج سے عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے پارلیمانی ذرائع اور سنجیدگی سے بیرون ملک پڑی پاکستانیوں کی ناجائز دولت پاکستان لانے کی عملی کوششیں کی جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, May 8, 2016

May2016: TRANSLATION: Deadlock

Deadlock
مہلت کا اِختتام!
عالمی بینک کے مرتب کردہ اعدادوشمار میں تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف سرکاری ادارے ہی سالانہ کم و بیش 8 ارب ڈالر کی بدعنوانی (کرپشن) کے لئے ذمہ دار ہیں۔ اگر ہم عالمی بینک کے اِن اعدادوشمار کو درست تسلیم کرلیں کہ جنہیں رد کرنے کی کوئی منطقی وجہ یا جواز بھی ہمارے ہاتھ نہیں تو پاکستان میں ہر دن سرکاری محکمے 2.2 ارب روپے خردبرد کرتے ہیں اور یہ عمل پورا سال‘ ہر دن باقاعدگی سے جاری رہتا ہے۔ 14 اگست 1947ء سے 2 اپریل 2016ء تک سرکاری اداروں کا یہ منفی کرداار کبھی بھی اس قدر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ پاناما پیپرز کے ذریعے ملک کی سیاسی قیادت و دیگر فیصلہ سازوں بیرون ملک اثاثہ جات کے راز افشاء ہونے کے بعد پورے پاکستان اور دنیا میں جہاں کہیں بھی پاکستانی بستے ہیں اُن کی توجہ قومی سطح پر رائج بدعنوانی کی جانب مبذول ہوئی ہے۔
آٹھ ارب روپے سالانہ کی بدعنوانی کو دو درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک بدعنوانی حسب ضرورت جبکہ دوسری بوجہ حرص و طمع ہے۔ سرکاری محکموں میں حسب ضرورت بدعنوانی اِس لئے ہوتی ہے کیونکہ نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کی ضروریات تنخواہ سے پوری نہیں ہوتی اور وہ کسی جائز کام کے لئے بھی فائل آگے بڑھانے کے لئے پیسوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ مہنگائی کی شرح اور تناسب کے حساب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ ہونا ایسی حسب ضرورت بدعنوانی کی بنیادی وجہ ہے کیونکہ جب کی سرکاری ملازم کے پاس اپنے بچے کی ماہوار سکول فیس جمع کرانے کے لئے پیسے نہیں ہوتے تو وہ بدعنوانی کا راستہ اختیار کرتا ہے لیکن اعلیٰ انتظامی عہدوں اور کلیدی فیصلہ سازی جیسے منصب پر فائز کردار جب بدعنوانی کرتے ہیں تو وہ اپنی ضروریات سے زیادہ جمع کرنے کی لالچ اور حرص جیسے محرکات کی سبب ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ اگرچہ بدعنوانی کسی بھی شکل اور کسی بھی وجہ سے قابل مذمت ہے لیکن جو لوگ زیادہ سے زیادہ مالی وسائل جمع کرنے کے لئے بدعنوانی کر رہے ہوتے ہیں تو وہ درحقیقت پورے انتظامی نظام کو تہس نہس کر رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف ملک کی اہم سیاسی جماعتیں متحد ہو گئیں ہیں۔ ان میں پاکستان پیپلزپارٹی‘ پاکستان تحریک انصاف‘ متحدہ قومی موومنٹ‘ جماعت اسلامی‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم)‘ قومی وطن پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی اور عوامی مسلم لیگ شامل ہیں۔ یہ سبھی سیاسی جماعتیں ایک ’پلیٹ فارم‘ پر متحد ہوکر بدعنوانی سے پاک پاکستان کے لئے تحریک کا حصہ ہیں جو بدعنوانوں کا احتساب کرنے کا مطالبہ اور اِس مطالبے پر زور دینے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 9 سیاسی جماعتوں پر مشتمل ’بدعنوانوں کے احتساب‘ کا مطالبہ کرنے والے اتحاد سے 114 اراکین قومی اسمبلی وابستہ ہیں اور اِن کی کوشش ہے کہ عوامی سطح پر اُن کی جدوجہد بارے زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرکے مطالبے کا وزن بڑھایا جائے۔

ایک طرف بدعنوانی سے اظہار بیزاری کرنے والے ہیں اور دوسری طرف احتساب کے شکل حکومت مخالف تحریک کا رخ موڑنے کے لئے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی قیادت میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جس میں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی شامل ہیں۔ 9 جماعتوں کے مقابلے اِن 4 جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کی تعداد 206 ہے جن کی کوشش ہے کہ احتساب کے مطالبے کی آندھی کا رخ موڑ دیا جائے۔ احتساب کا عمل تاخیری حربوں کے ذریعے مؤخر رہے۔ اِس پورے سیاسی منظرنامے کی وجہ سے انسداد بدعنوانی کے خلاف تحریک اور احتساب کا مطالبہ کرنے والوں کی جدوجہد بندگلی میں جا کھڑی ہوئی ہے‘ جس سے نکلنے کی راہ آگے بڑھنے کی صورت دکھائی (سجھائی) نہیں دے رہی!
9
سیاسی جماعتوں کا اتحاد چاہتا ہے کہ ہر کسی کی آمدن و اثاثوں کے درمیان تفریق معلوم ہونی چاہئے اور حساب و کتاب پر مبنی اِس سیدھے سادے احتساب کی ابتدأ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور حکمراں خاندان کے دیگر افراد کے اثاثوں و آمدنی بارے تحقیقات سے ہونا چاہئے جس کا جواب دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے ذرائع ابلاغ میں اربوں روپے کے اشتہارات جاری کئے ہیں اور وزیر اعظم خود عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے یہاں وہاں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو بانٹ رہے ہیں۔ اگر پاکستان سے بدعنوانی ختم کرنے کی موجودہ مہم اور قومی وسائل لوٹنے والوں کا احتساب اِس مرحلے پر بھی نہیں ہوتا تو اِس سے دہشت گردی کے خلاف جاری عزم و جدوجہد کو دھچکا لگے گا۔

اگر حکومت تمام سرکاری وسائل اور اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف احتساب کی تحریک کو ناکام بناتی ہے تو اِس صورتحال میں 9 سیاسی جماعتوں کے پاس کون کون سے راستے باقی رہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لا کر وزیراعظم کو رخصت کرسکتے ہیں لیکن عددی اعتبار سے ایسا کرنے کی صورت کامیابی حاصل کرنا اُن کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ حکمراں جماعت ’پاکستان مسلم لیگ(نواز)‘ سے سخت و نیم سخت شرائط پر مصلحت کرلیں اور تیسرا یہ کہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں اور عوام کو لیکر ایک احتجاجی مہم کا آغاز کردیں۔ اگر ہم 9 سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا ذکر کریں تو عوام کے دباؤ کی وجہ سے کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے ممکن نہیں رہے گا کہ وہ احتساب کے خلاف مہم و اتحاد سے الگ ہو۔

حزب اختلاف کی جماعتیں آمدن و اثاثہ جات کے درمیان فرق کی وضاحت چاہتے ہیں تو اِس کا جواب حکمراں مسلم لیگ کے پاس نہیں جس کی وجہ سے وہ حیلے بہانوں کا آسرا لے رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت خرچ کرنا چاہتے ہیں تاکہ احتساب کے مطالبے کا جوش کم ہو جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالات کی لہریں 9 سیاسی جماعتوں کے حق میں ہیں۔ وزیراعظم کے پاس یہی راستہ باقی ہے کہ وہ تحقیقات بذریعہ جوڈیشل کمیشن کرائیں چاہے یہ کام جلد ہو یا بدیر لیکن تحقیقات کرانے کے سوا چارہ نہیں رہا۔ راقم اِس بات پر شرط لگانے کے لئے تیار ہے کہ اگر وزیراعظم برسراقتدار بھی رہتے ہیں اور اُن ہی کے بارے تحقیقات کرنے کے لئے کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وزیراعظم بے قصور قرار پائیں گے!

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Corruption and Terrorism

Corruption and terrorism
بدعنوانی اور دہشت گردی
پہلی قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بدعنوانی کے خلاف روایت شکن طرز عمل اختیار کیا اور اس سلسلے میں اُنہوں نے 21اپریل کو واضح انداز میں جو بیان دیا اُس سے اُمید ہو چلی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی طرح بدعنوانی سے بھی پاک کرنے کا وہ پختہ عزم کئے ہوئے ہیں۔ یادش بخیر یہ وہی جنرل راحیل شریف ہیں جنہوں نے 11 مارچ 2015ء کو کراچی میں امن و امان کے حالات معمول پر لانے کے لئے غیرمعمولی عزم و ارادے سے کاروائی کا آغاز کیا۔ 15 جون 2014ء کا دن بھی آپ ہی سے منسوب ہے جب شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں فوجی کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایک روائتی طرزعمل اور سوچ کو سب سے پہلے شکست دی گئی۔ تصور کیجئے ایک ایسے فوجی سربراہ کا جو بناء کسی لالچ و طمع اور بہترین ساکھ کے ساتھ ہر محاذ پر ڈٹ کر لڑنے کا عزم رکھتا ہو!

بائیس اپریل کے دن دیا گیا وزیراعظم کا یہ بیان سبھی کو یاد ہوگا جس میں انہوں نے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی بجائے قدرے خوداعتمادی کے ساتھ یہ پہلی بات تو یہ کہی کہ ’’کوئی بھی اخلاقیات کا درس نہ دے۔‘‘ دوسری بات یہ کہی کہ احتساب کا عمل 1947ء (قیام پاکستان) سے شروع ہونا چاہئے۔ تیسرا یہ کہ عوام عمران خان کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں۔ چوتھا اشارہ فوج کی جانب تھا کہ اِس ادارے کے اعلیٰ عہدیداروں کا بھی احتساب ہونا چاہئے اور پانچواں وزیراعظم نے ذرائع ابلاغ کے احتساب کی ضرورت بھی یکساں قوم کو یاد دلائی۔

پاکستان میں یہ بحث ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے کہ دہشت گردی اور مالی بدعنوانی کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں صدر دفتر رکھنے والی ایک اقتصادی تنظیم ’’اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ‘‘ کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ ’’مالی بدعنوانی سے دہشت گردوں کی مدد بھی ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ نتیجۂ خیال بھی دیا تھا کہ بدعنوانی کو برداشت کرنے جیسے بوجھ کی وجہ سے ممالک کی کشتیاں ڈوب جاتیں ہیں!‘‘

چودہ اپریل کے روز امریکہ ترجمان برائے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ ایڈمرل (ریٹائرڈ) جان کربائی (John Kirby) سے ایک سوال پوچھا گیا کہ پاناما پیپرز کی صورت بدعنوانی کے شواہد منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان میں سیاسی جماعتیں وزیراعظم (نواز شریف) کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں کیا ہمیں (امریکہ) کو ملک کے منتخب وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہئے یا پھر بدعنوان رہنما کو رخصت ہوتے دیکھنا چاہئے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ ’’سیکرٹری اس معاملے میں بہت واضح مؤقف رکھتے ہیں کہ بدعنوانی سے خطرات جڑے ہیں اور اسی کی وجہ سے انتہاء پسندی کو فروغ ملتا ہے اور یہی محرک اقتصادی عدم استحکام کا سبب بھی بنتا ہے۔ لہٰذا بدعنوانی ایک ایسا ناسور ہے جس سے پوشیدہ نہیں بلکہ ظاہراً ہمیں اظہار بیزاری بھی کرنی ہے اور اس کے بارے میں سنجیدہ ردعمل کا مظاہرہ بھی کرنا چاہئے۔‘‘

19 اپریل کے روز جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’’اُس وقت امن و استحکام نہیں آ سکتا جب تک ہم بدعنوانی سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں نیچے سے اوپر تک احتساب کرنا ہوگاجو کہ پاکستان کی یک جہتی‘ ساکھ اور خوشحالی کے ضروری ہے۔‘‘

لبنان کے وزیربرائے انصاف اشرف رفیع جو کہ ’عرب نیٹ ورک برائے اسٹریتھنگ دی انٹیگریٹی اینڈ دی فائٹ ایگنسٹ کرپشن‘ نامی تنظیم کے صدر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ ’’دہشت گرد کسی ملک میں پائی جانے والی بدعنوانی سے پیدا ہونے والے ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہی بدعنوانی کا پیسہ (درحقیقت) دہشت گردی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ دہشت گردی اور بدعنوانی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم اور ایک دوسرے کی حیات کے ضامن ہیں۔‘‘

اُو ای سی ڈی (OECD) کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ’’بدعنوانی اور دہشت گردی کے درمیان تعاون کے امور کی نشاندہی اور اُن کے تعاون کو ختم کرنا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے ایک نہایت ہی کلیدی اہمیت کی حامل حکمت عملی ہے۔‘‘ سیکرٹری جنرل کے بقول بدعنوانی اور دہشت گردی میں چار قسم کے تعلق (مماثلتیں) پائی جاتی ہیں۔ پہلا یہ کہ بدعنوانی سے دہشت گردوں کو مالی وسائل ملتے ہیں۔ دوسرا بدعنوانی سے دہشت گردوں کو اپنی کاروائیاں کرنے کا مواقع (سہولیات) ملتے ہیں۔ تیسرا بدعنوانی اور دہشت گردی میں قدر مشترک یہ پائی جاتی ہے کہ یہ دونوں ہی اپنی آمدن کے ذرائع پوشیدہ رکھتے ہیں اور چوتھا بدعنوانی و انتظامی معاملات میں کمزوریوں کی وجہ سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتیں۔

اُو ای سی ڈی (OECD) کا بیرون ملک (آف شور) کمپنیوں کے بارے تجزیہ ہے کہ ’’مختلف جرائم بشمول بدعنوان سیاست دان‘ اِنسانی اِسمگلنگ کرنے والے اُور دہشت گردوں کو اَیسے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ اپنے مالی وسائل پوشیدہ رکھ سکیں۔ اُن میں اضافہ کرسکیں اور خفیہ ذرائع ہی سے خرچ بھی کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں ایسے اداروں (کمپنیوں) کی ضرورت ہوتی ہے جو معاون ثابت ہوں۔ سیکورٹی امور کے ماہرین کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ آمدنی پوشیدہ رکھنے کے لئے ایسے اداروں کا قیام‘ وجود اور استعمال قومی سلامتی کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردی و انتہاء پسندی کو شکست دینے کے لئے کوششیں ہورہی ہیں اُن میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ دہشت گردی کو مالی وسائل فراہم کرنے والوں کی آمدنی کا ذریعہ موجود رہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کس طرح بدعنوانی سے حاصل کیا گیا سرمایہ دہشت گردی کے لئے استعمال ہوتا ہے؟ اس سلسلے میں ’اُو ای سی ڈی‘کا کہنا ہے کہ اگرچہ بدعنوانی‘ منظم جرائم اور دہشت گردوں کی مالی سرپرستی جیسے موضوعات ماضی کے مقابلے زیادہ زیربحث آنے لگے ہیں اور اِس سلسلے عوامی شعور و آگہی میں بھی کافی حد تک اضافہ ہوا ہے لیکن مالی بدعنوانوں اور دہشت گردوں کے درمیان تعلق کا کوئی ایک ذریعہ‘ راستہ یا وسیلہ نہیں جسے کلی طور پر پیش کرکے اس پر حد لگائی جا سکے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بدعنوانی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہوتی ہے۔ دوسرا جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد اپنی کاروائیوں کے لئے ایک جیسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ تیسرا جرائم پیشہ عناصر کی طرح دہشت گرد بھی ایسی کئی ایک سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں جنہیں بدعنوانی سے تقویت یا زندگی ملتی ہے۔ چوتھا لائق توجہ عنصر یہ ہے کہ بدعنوانی ایک ایسے سازگار ماحول کو جنم دیتی ہے جس میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد پروان چڑھتے ہیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)