Showing posts with label COAS. Show all posts
Showing posts with label COAS. Show all posts

Wednesday, December 20, 2017

Dec 2017: Democracy without power & power without accountability!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ڈُوبتا یقین!
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایوان بالا (سینیٹ) اراکین کو پاکستان کی داخلی اور خطے (جنوب مشرق ایشیاء میں آنے والی تبدیلیوں سے متعلق) صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی ہے‘ جس سے اُمید ہے کہ ابہام دور اُور دونوں اہم ادارے (پارلیمان اور فوج) کے درمیان فاصلے کم ہوں گے۔ سردست اراکین اسمبلی میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاک فوج قومی فیصلے بلاشرکت غیرے (بناء مشاورت) کرتی ہے اور جب فوجی مداخلت سے داخلی و خارجی معاملات انتہاء تک خراب ہو جاتے ہیں تو اُسے سیاست دانوں کو سونپنا پڑتا ہے جو مشکل کی اُس گھڑی ’سودا بازی‘ کرتے ہیں اور اپنی بدعنوانیوں اور قوانین سے خود کو مستثنیٰ قرار دلواتے ہیں۔ سینیٹ میں ایسی کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں جن میں سب سے توانا پاکستان پیپلزپارٹی (پارلیمینٹرین) کی جانب سے ہے کہ ’’پاکستان کے سیاسی اور انتظامی معاملات سے فوج کے ادارے کو الگ ہونا چاہئے اور قومی پالیسیوں سے متعلق اُس کا ’فیصلہ کن کردار‘ بھی محدود بلکہ پارلیمان کے تابع ہونا چاہئے۔‘‘ پاکستان میں قومی اداروں کے درمیان پائی جانے والی ’بداعتمادی‘ ماضی میں بھی رہی لیکن جس انداز میں اِس کا کھل کا اظہار فی الوقت دیکھنے میں آرہا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ 

قومی ادارے جب ایک دوسرے سے مربوط (ہم آہنگ) نہ ہوں تو اُن کی وضع کردہ پالیسیاں کس طرح قومی مفاد میں ’جامع (وسیع تر حجم) کی مالک ہو سکتی ہیں؟

پاکستان کی داخلی افراتفری پر مبنی صورتحال سے فائدہ اٹھانے والوں میں امریکہ سرفہرست ہے جس نے جنوب مشرق ایشیاء کے لئے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے اور وہ اب نہ صرف بھارت کو خطے میں کلیدی کردار (اہمیت) دے رہا ہے بلکہ پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں اور دہشت گردی کے بارے میں اُسے تشویش نہیں! بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے تو اِس کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال کر اُسے ’عالمی عدالت میں باعزت بری‘ کردیا جاتا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ جب اَجمل قصاب نے بھارت میں دہشت گرد حملہ کیا تو اُس حملے یا سازش میں پاکستان کی ریاست شامل نہیں تھی اُور نہ ہی پاکستان کی ریاست یا کسی ریاستی ادارے نے اجمل قصاب یا اُس دہشت گرد حملے کی حمایت کی لیکن جب کلبھوشن یادیو نامی بھارتی جاسوس پاکستان سے گرفتار ہوا تو بھارت اِس معاملے کو عالمی عدالت اِنصاف تک لیجا چکا ہے‘ اُور اُسے رتی بھر بھی خفت نہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہے اور اِس بات کے ناقابل تردید ثبوت و زندہ شواہد موجود ہیں! 

بھارت کی اِس جرأت (ہٹ دھرمی) کی پشت پناہی یقیناًامریکہ کر رہا ہے جس نے پاکستان پر اقتصادی جنگ مسلط کر رکھی ہے اور بات صرف ’سرد جنگ‘ کی حد تک محدود نہیں بلکہ امریکی قیادت کی جانب سے الفاظ اور کردار بدل بدل کر پاکستان کو ’ڈومور‘ کرنے کے ساتھ باقاعدہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ اِس پورے منظرنامے میں تین محرکات بالخصوص لائق توجہ ہیں: (1: پاکستان عالمی سطح پر اپنے خلاف بھارتی سازشوں کا دفاع (مقابلہ) کامیابی سے نہیں کر پا رہا۔ 2: پاکستان امریکہ اور عالمی برادری کو مطمئن نہیں کر پا رہا کہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ بذات خود دہشت گردی کا شکار (دوچار) ہے اُور 3: پاکستان کی مشرقی و مغربی سرحدیں پہلے سے زیادہ ’غیرمحفوظ‘ ہو چکی ہیں تو پاکستان عالمی برادری سے کس قسم یعنی دفاعی‘ سیاسی اور سفارتی تعاون کا طلبگار ہے؟ اِن سبھی امور کے بارے میں ’پاک فوج‘ کی سوچ‘ لائحہ عمل اور اب تک کا عمل درآمد کس مقام پر کھڑا ہے‘ اِس کا تعین بہرحال ضروری ہے‘ یقیناًہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں لیکن امریکہ کی جانب سے ’ڈومور‘ کے مطالبے میں تیزی آ رہی ہے تو اِس کی وجہ ہماری سیاسی و سفارتی کمزوریاں کا علاج بھی ضروری ہے۔ 

پاکستان کو دباؤ میں لانے کے منجملہ مقاصد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے درمیانہ راستہ اختیار کیا جائے اور پاکستان امریکی پالیسیوں کی مخالفت میں اُس حد سے آگے نہ بڑھے جہاں اُس پر ایران کا گمان ہونے لگے کیونکہ امریکہ دنیا میں صرف ایک ہی ایران چاہتا ہے اور کسی دوسرے ملک (بالخصوص ترکی اور پاکستان) کی سیاسی قیادت کو اتنی ’چھوٹ‘ نہیں دے سکتا کہ وہ اُس کے لئے پہلے سے موجود‘ دردسر کی شدت میں اضافے کا باعث بنیں۔

اُنیس دسمبر کے روز پاک فوج کے سربراہ (چیف آف آرمی سٹاف) جنرل قمر جاوید باجوہ کی سینیٹ آمد اور یریفنگ سے غیرمتوقع طور پر ایوان بالا میں فوج کو کاروباری سرگرمیوں سے روکنے اور انہیں دفاعی معاملوں تک محدود کرنے کے لئے تحریک پیش کی گئی۔ ’’روح بے چین ہے اِک دل کی اذیت کیا ہے ۔۔۔ دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوزِمحبت کیا ہے!‘‘ سینیٹ میں پیش کردہ مذکورہ تحریک پر بحث کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز اور پاکستان پیپلز پارٹی (پارلیمینٹرین) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے دوران اجلاس (آن دی ریکارڈ) کہا کہ ’’فوج سے کاروباری اور کمرشل سرگرمیوں کے منصوبے واپس لے کر انہیں نجی شعبوں کو دیا جانا چاہئے تاکہ نجی شعبوں کو زیادہ سے زیادہ کاروبار کرنے کے مواقع مل سکیں۔‘‘ انہوں نے سینیٹ میں فوج کے زیرنگرانی پچاس سے زائد ذیلی اِداروں کی تفصیلات پیش کیں‘ جن میں سیمنٹ‘ زرعی کھادیں (فرٹیلائزر)‘ چینی کی پیداوار‘ مالیاتی اِدارے (بینکنگ) اُور تجارتی و رہائشی جائیداد کی خریدوفروخت (رئیل اسٹیٹ) سمیت دیگر کئی اداروں کو فہرست کیا گیا ہے۔ تحریک میں کہا گیا ہے کہ ’’فوج کے زیرنگرانی اداروں میں شفافیت کا فقدان پایا جاتا ہے اور معاہدوں (کنٹریکٹس)کو بغیر بولی جاری کرنا اور فوجی اِداروں کا آپس میں ایک دوسرے کو قرض دینے سے متعلق سوالات کا جواب (جواز) چاہتا ہے۔‘‘ 

سینیٹ اجلاس میں حکومت کی جانب سے امریکہ کو پاکستان کی حدود میں سال دوہزار کے بعد سے ہونے والے ڈرون حملوں سے معصوم شہریوں کو ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنے پر بھی قرارداد منظور کی گئی لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ایسے موقع پر جبکہ پاک فوج کا سربراہ کی سینیٹ آمد ہونے والی تھی اور اُس سے صرف ایک دن پہلے اِس قسم کی بحث سے کیا یہ تاثر نہیں دیا گیا کہ پارلیمان فوج کے ادارے پر اعتماد نہیں کرتی اور اُس کے معاملات کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پاکستان میں اِداروں کے درمیان پایا جانے والا یہ ’ڈوبتا یقین‘ کسی بھی طرح خوش آئند نہیں اور نہ ہی اِس کے اظہار سے کسی بھی قسم کی قومی خدمت ہو رہی ہے بلکہ پہلے سے سنجیدہ و پیچیدہ معاملات کو مزید اُلجھایا جا رہا ہے جس کا فائدہ دہشت گرد اُٹھا رہے ہیں۔ 

سترہ دسمبر کے روز کوئٹہ کے ’مرکزی گرجاگھر‘ پر حملہ اِس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد کی طاقت کے مراکز منتشر تو ہو چکے ہیں لیکن وہ آج بھی اپنی (ضمیرفروش) قیادت پر انتہاء درجے کا اِعتماد اُور ’غیرمتزلزل یقین‘ رکھتے ہیں‘ جس کا (بدقسمتی سے) قومی اِداروں میں فقدان پایا جاتا ہے!
۔

Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Corruption and Terrorism

Corruption and terrorism
بدعنوانی اور دہشت گردی
پہلی قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بدعنوانی کے خلاف روایت شکن طرز عمل اختیار کیا اور اس سلسلے میں اُنہوں نے 21اپریل کو واضح انداز میں جو بیان دیا اُس سے اُمید ہو چلی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی طرح بدعنوانی سے بھی پاک کرنے کا وہ پختہ عزم کئے ہوئے ہیں۔ یادش بخیر یہ وہی جنرل راحیل شریف ہیں جنہوں نے 11 مارچ 2015ء کو کراچی میں امن و امان کے حالات معمول پر لانے کے لئے غیرمعمولی عزم و ارادے سے کاروائی کا آغاز کیا۔ 15 جون 2014ء کا دن بھی آپ ہی سے منسوب ہے جب شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں فوجی کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایک روائتی طرزعمل اور سوچ کو سب سے پہلے شکست دی گئی۔ تصور کیجئے ایک ایسے فوجی سربراہ کا جو بناء کسی لالچ و طمع اور بہترین ساکھ کے ساتھ ہر محاذ پر ڈٹ کر لڑنے کا عزم رکھتا ہو!

بائیس اپریل کے دن دیا گیا وزیراعظم کا یہ بیان سبھی کو یاد ہوگا جس میں انہوں نے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی بجائے قدرے خوداعتمادی کے ساتھ یہ پہلی بات تو یہ کہی کہ ’’کوئی بھی اخلاقیات کا درس نہ دے۔‘‘ دوسری بات یہ کہی کہ احتساب کا عمل 1947ء (قیام پاکستان) سے شروع ہونا چاہئے۔ تیسرا یہ کہ عوام عمران خان کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں۔ چوتھا اشارہ فوج کی جانب تھا کہ اِس ادارے کے اعلیٰ عہدیداروں کا بھی احتساب ہونا چاہئے اور پانچواں وزیراعظم نے ذرائع ابلاغ کے احتساب کی ضرورت بھی یکساں قوم کو یاد دلائی۔

پاکستان میں یہ بحث ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے کہ دہشت گردی اور مالی بدعنوانی کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں صدر دفتر رکھنے والی ایک اقتصادی تنظیم ’’اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ‘‘ کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ ’’مالی بدعنوانی سے دہشت گردوں کی مدد بھی ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ نتیجۂ خیال بھی دیا تھا کہ بدعنوانی کو برداشت کرنے جیسے بوجھ کی وجہ سے ممالک کی کشتیاں ڈوب جاتیں ہیں!‘‘

چودہ اپریل کے روز امریکہ ترجمان برائے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ ایڈمرل (ریٹائرڈ) جان کربائی (John Kirby) سے ایک سوال پوچھا گیا کہ پاناما پیپرز کی صورت بدعنوانی کے شواہد منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان میں سیاسی جماعتیں وزیراعظم (نواز شریف) کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں کیا ہمیں (امریکہ) کو ملک کے منتخب وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہئے یا پھر بدعنوان رہنما کو رخصت ہوتے دیکھنا چاہئے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ ’’سیکرٹری اس معاملے میں بہت واضح مؤقف رکھتے ہیں کہ بدعنوانی سے خطرات جڑے ہیں اور اسی کی وجہ سے انتہاء پسندی کو فروغ ملتا ہے اور یہی محرک اقتصادی عدم استحکام کا سبب بھی بنتا ہے۔ لہٰذا بدعنوانی ایک ایسا ناسور ہے جس سے پوشیدہ نہیں بلکہ ظاہراً ہمیں اظہار بیزاری بھی کرنی ہے اور اس کے بارے میں سنجیدہ ردعمل کا مظاہرہ بھی کرنا چاہئے۔‘‘

19 اپریل کے روز جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’’اُس وقت امن و استحکام نہیں آ سکتا جب تک ہم بدعنوانی سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں نیچے سے اوپر تک احتساب کرنا ہوگاجو کہ پاکستان کی یک جہتی‘ ساکھ اور خوشحالی کے ضروری ہے۔‘‘

لبنان کے وزیربرائے انصاف اشرف رفیع جو کہ ’عرب نیٹ ورک برائے اسٹریتھنگ دی انٹیگریٹی اینڈ دی فائٹ ایگنسٹ کرپشن‘ نامی تنظیم کے صدر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ ’’دہشت گرد کسی ملک میں پائی جانے والی بدعنوانی سے پیدا ہونے والے ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہی بدعنوانی کا پیسہ (درحقیقت) دہشت گردی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ دہشت گردی اور بدعنوانی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم اور ایک دوسرے کی حیات کے ضامن ہیں۔‘‘

اُو ای سی ڈی (OECD) کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ’’بدعنوانی اور دہشت گردی کے درمیان تعاون کے امور کی نشاندہی اور اُن کے تعاون کو ختم کرنا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے ایک نہایت ہی کلیدی اہمیت کی حامل حکمت عملی ہے۔‘‘ سیکرٹری جنرل کے بقول بدعنوانی اور دہشت گردی میں چار قسم کے تعلق (مماثلتیں) پائی جاتی ہیں۔ پہلا یہ کہ بدعنوانی سے دہشت گردوں کو مالی وسائل ملتے ہیں۔ دوسرا بدعنوانی سے دہشت گردوں کو اپنی کاروائیاں کرنے کا مواقع (سہولیات) ملتے ہیں۔ تیسرا بدعنوانی اور دہشت گردی میں قدر مشترک یہ پائی جاتی ہے کہ یہ دونوں ہی اپنی آمدن کے ذرائع پوشیدہ رکھتے ہیں اور چوتھا بدعنوانی و انتظامی معاملات میں کمزوریوں کی وجہ سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتیں۔

اُو ای سی ڈی (OECD) کا بیرون ملک (آف شور) کمپنیوں کے بارے تجزیہ ہے کہ ’’مختلف جرائم بشمول بدعنوان سیاست دان‘ اِنسانی اِسمگلنگ کرنے والے اُور دہشت گردوں کو اَیسے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ اپنے مالی وسائل پوشیدہ رکھ سکیں۔ اُن میں اضافہ کرسکیں اور خفیہ ذرائع ہی سے خرچ بھی کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں ایسے اداروں (کمپنیوں) کی ضرورت ہوتی ہے جو معاون ثابت ہوں۔ سیکورٹی امور کے ماہرین کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ آمدنی پوشیدہ رکھنے کے لئے ایسے اداروں کا قیام‘ وجود اور استعمال قومی سلامتی کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردی و انتہاء پسندی کو شکست دینے کے لئے کوششیں ہورہی ہیں اُن میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ دہشت گردی کو مالی وسائل فراہم کرنے والوں کی آمدنی کا ذریعہ موجود رہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کس طرح بدعنوانی سے حاصل کیا گیا سرمایہ دہشت گردی کے لئے استعمال ہوتا ہے؟ اس سلسلے میں ’اُو ای سی ڈی‘کا کہنا ہے کہ اگرچہ بدعنوانی‘ منظم جرائم اور دہشت گردوں کی مالی سرپرستی جیسے موضوعات ماضی کے مقابلے زیادہ زیربحث آنے لگے ہیں اور اِس سلسلے عوامی شعور و آگہی میں بھی کافی حد تک اضافہ ہوا ہے لیکن مالی بدعنوانوں اور دہشت گردوں کے درمیان تعلق کا کوئی ایک ذریعہ‘ راستہ یا وسیلہ نہیں جسے کلی طور پر پیش کرکے اس پر حد لگائی جا سکے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بدعنوانی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہوتی ہے۔ دوسرا جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد اپنی کاروائیوں کے لئے ایک جیسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ تیسرا جرائم پیشہ عناصر کی طرح دہشت گرد بھی ایسی کئی ایک سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں جنہیں بدعنوانی سے تقویت یا زندگی ملتی ہے۔ چوتھا لائق توجہ عنصر یہ ہے کہ بدعنوانی ایک ایسے سازگار ماحول کو جنم دیتی ہے جس میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد پروان چڑھتے ہیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)