Showing posts with label Gen Raheel Sharif. Show all posts
Showing posts with label Gen Raheel Sharif. Show all posts

Sunday, November 26, 2017

Nov 2017: The kingdom led "Islamic Military Alliance" declared as 'suicide mission', would Pakistan like to be part of another conflict?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تیر نیم کش!
’پندرہ دسمبر دوہزار پندرہ‘ میں ’اِکتالیس اسلامی ممالک (افغانستان‘ بحرین‘ بنگلہ دیش‘ بینن‘ برونائی‘ برکینا فاسو‘ چاڈ‘ کومورس‘ کوتے ڈی لوویر‘ جبوتی‘ مصر‘ گابون‘ گمبیا‘ گونیا‘ کونیا باسو‘ اردن‘ کویت‘ لبنان‘ لیبیا‘ ملائشیا‘ مالدیپ‘ مالی‘ مارتنیا‘ مراکش‘ نائجیر‘ نائیجیریا‘ عمان‘ پاکستان‘ فلسطین‘ قطر‘ سعودی عرب‘ سینیگال‘ سری لیون‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ توگو‘ تیونسیا‘ ترکی‘ یوگینڈا‘ متحدہ عرب امارات اُور یمن) کی جانب سے ’عسکری اِتحاد‘ کے قیام پر اتفاق ہوا‘ جس کی قیادت ’پاک فوج‘ کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سپرد کی گئی تو اِس پاکستان نے اپنے لئے اعزاز قرار دیا۔ آج (چھبیس نومبر) کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض (Riyadh) میں ’عسکری اِتحاد‘ کے رکن ممالک بشمول پاکستان سے وزیردفاع کی سربراہی میں نمائندہ وفود شریک ہو رہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں اِس اتحاد سے کام لیا جا سکے جو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید کر مسلح ہو چکا ہے۔ 

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مشرق وسطیٰ نے مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد ’نیٹو (NATO)‘ کی طرز پر تنظیم قائم کی ہے لیکن اِس کے اہداف اور مقاصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکے ہیں۔ 

اسلامی ممالک کے اِس عسکری اتحاد کے قیام کا بنیادی مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکات کی تلاش ہے تاکہ کسی مشترک دشمن و ہدف (دہشت گردی) کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔ اِس مقصد کے لئے رکن ممالک کو ایک دوسرے سے نہ صرف خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنے پر رضامند ہونا پڑے گا بلکہ سعودی عرب کے بادشاہ کی بلاشرکت غیرے قیادت بھی تسلیم کرنا پڑے گی اور سعودی عرب کی نظر میں جو بھی دہشت گرد ہوگا‘ وہی اکتالیس رکن ممالک کی نظر میں بھی ممکنہ اور موجود خطرے کی علامت (مشترکہ ہدف) سمجھا جائے گا۔ مذکورہ عسکری اتحاد کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کے خلاف دیگر اتحادوں کی طرح یہ بھی ایک قسم کا فوجی اتحاد ہی ہے‘ اِس بیان کادرپردہ مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ مغربی دنیا بالخصوص اسرائیل کو یقین دلایا جائے کہ وہ چاہے کسی بھی مسلم ملک پر فوج کشی کریں یا الزامات لگانے میں جس انتہاء تک بھی جائیں‘ اِس اتحاد کے اسلحے کا رخ اُن کی جانب نہیں ہوگا۔ 

اکتالیس اسلامی ممالک کا اتحاد درحقیقت بادشاہتوں اور اقتدار پر قابض شاہی خاندانوں کے تسلط کو برقرار رکھنا اُور مستقبل میں اگر بالخصوص عرب ممالک کے عوام شاہی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو اُنہیں دہشت گرد قرار دے کر کچلنے کا جواز فراہم کرے گا۔ توقع ہے کہ عسکری اتحاد کے پہلے اجلاس میں وہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جائے گا جس کا پوری دنیا کو انتظار ہے۔ علاؤہ ازیں اِس عسکری اتحاد آپریشن کمانڈ‘ فعالیت اور ممالک کی حصہ داری بارے حساس معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے کی راہ میں کوئی اختلافی نکتہ (رکاوٹ بظاہر) حائل نہیں! مذکورہ عسکری اتحاد کے رکن ممالک کے تحفظات موجود ہیں کیونکہ تشکیل سے لیکر اِس دوسال کے دوران اِن ممالک کو خود بھی علم نہیں کہ اِس پوری کوشش کا اصل (درپردہ) مقصد کیا ہے۔ 

’’میرسپاہ ناسزا‘ لشکریاں شکستہ صف ۔۔۔ 
آہ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف (علامہ اقبالؒ )‘‘

سعودی عرب میں طلب کئے گئے ’اِسلامی اِنسداد دہشت گردی فوجی اِتحاد‘ کے سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی تقرری‘ پاکستان کی پارلیمانی سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی کے لئے ناقابل ہضم ہے کہ وہ پاکستان کا نام کسی ایسے دفاعی اِتحاد سے منسلک دیکھے جو ایک خاص اسلامی ملک کی خاص نظریاتی تعلیمات کے تابع ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے پہلے ایسے کسی اِتحاد میں شمولیت سے معذرت کرتے ہوئے اِنکار کیا‘ پھر اقرار کیا اور ایک مرتبہ پھر اِنکار کرتے ہوئے ’ہاں میں ہاں‘ ملا دی ہے۔ 

جنرل راحیل شریف اِس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’’میں پوری دیانتداری سے اِس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ‘ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی کے کئی پہلو دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں آزمائے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ممالک جو عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہیں۔ میں یہ بات واضح کرناچاہتا ہوں کہ اِتحاد اِنسداد دہشت گردی کے لئے ہے اور یہ کسی ملک‘ فرقے یا مذہب کے خلاف نہیں۔‘‘ لیکن یہ ’’معلوم تعریف‘‘ اُور تعارف کم سے کم پیپلزپارٹی کے لئے قابل قبول نہیں۔ 

چوبیس نومبر کو ایوان بالا (سینیٹ) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ’سینیٹر فرحت اللہ بابر‘ نے کہا کہ ’’اِس فوجی اتحاد کے دائرہ کار اور مستقبل کے منصوبوں پر کئی سوالات ہنوز جواب طلب ہیں۔ اِس لئے (سعودی عرب فوجی اتحاد کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لئے جانے والے) پاکستانی وزیردفاع سعودی عرب سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے پہلے اِس قانون ساز ایوان (سینیٹ کو ’’ضرور بالضرور‘‘ اعتماد میں لیں۔ فرحت اللہ بابر کا سینیٹ سے خطاب قومی نشریاتی رابطے کے ذریعے براہ راست دیکھا گیا اور یوں محسوس ہوا‘ جیسے ’ذوالفقار علی بھٹو‘ بول رہے ہوں۔ وہ گرجدار آواز میں اسپیکر (رضا ربانی) کی آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر کہہ رہے تھے اور بارہا تائید میں اسپیکر کی گردن ہلنے کے مناظر بھی دنیا نے دیکھے کہ اِس منطقی دلیل اور حقیقت حال سے اختلاف آسان نہیں۔ 

افغان جنگ کے بعد پاکستان کسی بھی ایسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اُس پر مسلط کی جائے۔ 

فرحت اللہ بابر نے کہا جو لفظ بہ لفظ کچھ یوں تھے کہ ’’مذکورہ اسلامی اتحاد کے نتائج انتہائی دور رس ہیں‘ کیونکہ اب اِس اتحاد کی حکمت عملی طے ہوگی؟ فیصلوں کااختیار کسے ہوگا؟ اس عسکری اتحاد منجملہ سرگرمیاں اور مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ جناب چیئرمین‘ اِس (معزز) ایوان کی جانب سے یہ بات اُن (سعودی حکمرانوں اُور اتحاد میں شریک ممالک) تک جانی چاہئے کہ جب ہمارا ’وزیردفاع‘ وہاں جائے اور اتنے (اہم) بنیادی مسائل کی وہاں بات ہو رہی ہو تو (پاکستان کی جانب سے تعاون کی کسی بھی یقین دہانی) کمٹمنٹ سے قبل وہ ’پلان‘ جو اِس ایوان کے سامنے رکھا جائے تاکہ بعد میں مشکلات نہ ہوں۔ سعودی عرب ہمارا دوست برادر ملک ہے لیکن جہاں تک (سعودی عرب کے) نظریات کا تعلق ہے‘ جناب چیئرمین‘ میں اِس پر بات کرنا نہیں چاہتا‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ (سعودی عرب کی) آئیڈیالوجی سے بھی اُور دہشت گردی کی ’مالی سرپرستی‘ کرنے سے متعلق بھی بڑے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔‘‘ 

فرحت اللہ بابر جس باریک نکتے کی جانب سینیٹ اِیوان‘ حکومت اُور پاکستانی قوم کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اُس جانب علامہ اقبالؒ اشارہ کر گئے ہیں‘ صرف غور کرنے اور سمجھنے کی دیر ہے۔ ’’مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی: 
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف۔۔۔ 
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ: 
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف!‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-11-26

Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Corruption and Terrorism

Corruption and terrorism
بدعنوانی اور دہشت گردی
پہلی قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بدعنوانی کے خلاف روایت شکن طرز عمل اختیار کیا اور اس سلسلے میں اُنہوں نے 21اپریل کو واضح انداز میں جو بیان دیا اُس سے اُمید ہو چلی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی طرح بدعنوانی سے بھی پاک کرنے کا وہ پختہ عزم کئے ہوئے ہیں۔ یادش بخیر یہ وہی جنرل راحیل شریف ہیں جنہوں نے 11 مارچ 2015ء کو کراچی میں امن و امان کے حالات معمول پر لانے کے لئے غیرمعمولی عزم و ارادے سے کاروائی کا آغاز کیا۔ 15 جون 2014ء کا دن بھی آپ ہی سے منسوب ہے جب شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں فوجی کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایک روائتی طرزعمل اور سوچ کو سب سے پہلے شکست دی گئی۔ تصور کیجئے ایک ایسے فوجی سربراہ کا جو بناء کسی لالچ و طمع اور بہترین ساکھ کے ساتھ ہر محاذ پر ڈٹ کر لڑنے کا عزم رکھتا ہو!

بائیس اپریل کے دن دیا گیا وزیراعظم کا یہ بیان سبھی کو یاد ہوگا جس میں انہوں نے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی بجائے قدرے خوداعتمادی کے ساتھ یہ پہلی بات تو یہ کہی کہ ’’کوئی بھی اخلاقیات کا درس نہ دے۔‘‘ دوسری بات یہ کہی کہ احتساب کا عمل 1947ء (قیام پاکستان) سے شروع ہونا چاہئے۔ تیسرا یہ کہ عوام عمران خان کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں۔ چوتھا اشارہ فوج کی جانب تھا کہ اِس ادارے کے اعلیٰ عہدیداروں کا بھی احتساب ہونا چاہئے اور پانچواں وزیراعظم نے ذرائع ابلاغ کے احتساب کی ضرورت بھی یکساں قوم کو یاد دلائی۔

پاکستان میں یہ بحث ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے کہ دہشت گردی اور مالی بدعنوانی کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں صدر دفتر رکھنے والی ایک اقتصادی تنظیم ’’اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ‘‘ کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ ’’مالی بدعنوانی سے دہشت گردوں کی مدد بھی ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ نتیجۂ خیال بھی دیا تھا کہ بدعنوانی کو برداشت کرنے جیسے بوجھ کی وجہ سے ممالک کی کشتیاں ڈوب جاتیں ہیں!‘‘

چودہ اپریل کے روز امریکہ ترجمان برائے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ ایڈمرل (ریٹائرڈ) جان کربائی (John Kirby) سے ایک سوال پوچھا گیا کہ پاناما پیپرز کی صورت بدعنوانی کے شواہد منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان میں سیاسی جماعتیں وزیراعظم (نواز شریف) کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں کیا ہمیں (امریکہ) کو ملک کے منتخب وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہئے یا پھر بدعنوان رہنما کو رخصت ہوتے دیکھنا چاہئے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ ’’سیکرٹری اس معاملے میں بہت واضح مؤقف رکھتے ہیں کہ بدعنوانی سے خطرات جڑے ہیں اور اسی کی وجہ سے انتہاء پسندی کو فروغ ملتا ہے اور یہی محرک اقتصادی عدم استحکام کا سبب بھی بنتا ہے۔ لہٰذا بدعنوانی ایک ایسا ناسور ہے جس سے پوشیدہ نہیں بلکہ ظاہراً ہمیں اظہار بیزاری بھی کرنی ہے اور اس کے بارے میں سنجیدہ ردعمل کا مظاہرہ بھی کرنا چاہئے۔‘‘

19 اپریل کے روز جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’’اُس وقت امن و استحکام نہیں آ سکتا جب تک ہم بدعنوانی سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں نیچے سے اوپر تک احتساب کرنا ہوگاجو کہ پاکستان کی یک جہتی‘ ساکھ اور خوشحالی کے ضروری ہے۔‘‘

لبنان کے وزیربرائے انصاف اشرف رفیع جو کہ ’عرب نیٹ ورک برائے اسٹریتھنگ دی انٹیگریٹی اینڈ دی فائٹ ایگنسٹ کرپشن‘ نامی تنظیم کے صدر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ ’’دہشت گرد کسی ملک میں پائی جانے والی بدعنوانی سے پیدا ہونے والے ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہی بدعنوانی کا پیسہ (درحقیقت) دہشت گردی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ دہشت گردی اور بدعنوانی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم اور ایک دوسرے کی حیات کے ضامن ہیں۔‘‘

اُو ای سی ڈی (OECD) کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ’’بدعنوانی اور دہشت گردی کے درمیان تعاون کے امور کی نشاندہی اور اُن کے تعاون کو ختم کرنا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے ایک نہایت ہی کلیدی اہمیت کی حامل حکمت عملی ہے۔‘‘ سیکرٹری جنرل کے بقول بدعنوانی اور دہشت گردی میں چار قسم کے تعلق (مماثلتیں) پائی جاتی ہیں۔ پہلا یہ کہ بدعنوانی سے دہشت گردوں کو مالی وسائل ملتے ہیں۔ دوسرا بدعنوانی سے دہشت گردوں کو اپنی کاروائیاں کرنے کا مواقع (سہولیات) ملتے ہیں۔ تیسرا بدعنوانی اور دہشت گردی میں قدر مشترک یہ پائی جاتی ہے کہ یہ دونوں ہی اپنی آمدن کے ذرائع پوشیدہ رکھتے ہیں اور چوتھا بدعنوانی و انتظامی معاملات میں کمزوریوں کی وجہ سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتیں۔

اُو ای سی ڈی (OECD) کا بیرون ملک (آف شور) کمپنیوں کے بارے تجزیہ ہے کہ ’’مختلف جرائم بشمول بدعنوان سیاست دان‘ اِنسانی اِسمگلنگ کرنے والے اُور دہشت گردوں کو اَیسے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ اپنے مالی وسائل پوشیدہ رکھ سکیں۔ اُن میں اضافہ کرسکیں اور خفیہ ذرائع ہی سے خرچ بھی کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں ایسے اداروں (کمپنیوں) کی ضرورت ہوتی ہے جو معاون ثابت ہوں۔ سیکورٹی امور کے ماہرین کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ آمدنی پوشیدہ رکھنے کے لئے ایسے اداروں کا قیام‘ وجود اور استعمال قومی سلامتی کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردی و انتہاء پسندی کو شکست دینے کے لئے کوششیں ہورہی ہیں اُن میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ دہشت گردی کو مالی وسائل فراہم کرنے والوں کی آمدنی کا ذریعہ موجود رہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کس طرح بدعنوانی سے حاصل کیا گیا سرمایہ دہشت گردی کے لئے استعمال ہوتا ہے؟ اس سلسلے میں ’اُو ای سی ڈی‘کا کہنا ہے کہ اگرچہ بدعنوانی‘ منظم جرائم اور دہشت گردوں کی مالی سرپرستی جیسے موضوعات ماضی کے مقابلے زیادہ زیربحث آنے لگے ہیں اور اِس سلسلے عوامی شعور و آگہی میں بھی کافی حد تک اضافہ ہوا ہے لیکن مالی بدعنوانوں اور دہشت گردوں کے درمیان تعلق کا کوئی ایک ذریعہ‘ راستہ یا وسیلہ نہیں جسے کلی طور پر پیش کرکے اس پر حد لگائی جا سکے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بدعنوانی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہوتی ہے۔ دوسرا جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد اپنی کاروائیوں کے لئے ایک جیسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ تیسرا جرائم پیشہ عناصر کی طرح دہشت گرد بھی ایسی کئی ایک سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں جنہیں بدعنوانی سے تقویت یا زندگی ملتی ہے۔ چوتھا لائق توجہ عنصر یہ ہے کہ بدعنوانی ایک ایسے سازگار ماحول کو جنم دیتی ہے جس میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد پروان چڑھتے ہیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)