Showing posts with label Saudi Arab. Show all posts
Showing posts with label Saudi Arab. Show all posts

Sunday, May 31, 2020

COLUMN: Demolition of al-Baqi

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
عالمی دن: جنت البقیع
اَٹھارہ لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلی ’سلطنت عثمانیہ‘ کا قیام سال 1299ءسے اِختتام 1923ءتک کے واقعات‘ بنیادی مقاصد اُور ہدف یہ تھا کہ ’مسلم اُمہ‘ کے مقدس ترین مقامات مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) اُور مسجد نبوی شریف (مدینہ منورہ) کو پوری مسلم اُمت کی ملکیت اُور عبادات کی طرح اسلام کے سیاسی نظام کا بھی مرکز (قبلہ) ہوں۔ متحدہ مسلم اُمہ کی کوشش و مقصد کے لئے جدوجہد‘ پہلے مرحلے میں مکہ و مدینہ پر حکمرانی اُور انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں لئے گئے اُور عثمانی خلفاءنے سال 1818ءسے 1860ءکے درمیان مقامات مقدسہ بشمول مسجد نبوی کی تعمیروتوسیع اُور تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا۔ یہ وہ ’سنہرا دور‘ تھا جب مسلمان ممالک کی اکثریت متحد اُور مسلمانوں کے خلاف کسی دوسرے مذہب کو آنکھ اُٹھانے کی جرا ¿ت نہ تھی لیکن مسلم اُمہ کا یہ اتحاد زیادہ دنوں برقرار نہ رہ سکا اُور تاریخ میں وہ سبھی واقعات (سازشیں) تفصیلاً ذکر ہیں کہ کس طرح مغربی طاقتوں نے عرب سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کرنے کے لئے مسلم ممالک کے اتحاد (خلافت عثمانیہ) کا خاتمہ کیا اُور مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات پر سیاسی و انتظامی حکمرانی ایسے حکمرانوں کو سونپ دی گئی‘ جن کے لئے اقتدار ہی پہلی اُور آخری ترجیح ہے۔ بہرحال خلافت عثمانیہ کا ذکر صرف تاریخ کی کتب تک محدود ہو کر رہ گیا جبکہ ’حجاز‘ کہلانے والی سرزمین ’سعودی عرب‘ کے نام سے ایک نئے ملک (بادشاہت) کے طور پر اُبھری۔

خلافت عثمانیہ کے عروج و زوال کا محرک کوئی ایک سازش نہیں تھی بلکہ اِس کے کئی داخلی و خارجی عوامل اُور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بیرونی سازشوں کے علاو ¿ہ دیگر محرکات بھی تھے‘ جن کے چند پہلو ماہ  رمضان المبارک سے پاکستان میں نشر ہونے والے ترک ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل (Dirilis: Ertugrul)‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اِن تاریخی حقائق کے کئی حیران کن اُور تکلیف دہ پہلوو ں میں شامل ہے کہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کرنے کے بعد (1925-26ءمیں) مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان ’جنت البقیع‘ میں موجود اصحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین‘ اُمہات المومنین اُور اہل بیت اطہار رضوان اللہ اجمعین کے مزارات کو ایک فقہی رائے کی بنیاد پر مسمار کر دیا گیا۔ جن مزارات کی نشانیاں تک نہیں چھوڑی گئیں اُن میں امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ (تیسرے خلیفہ راشد) کے مزار سے لیکر دختر رسول حضرت بی بی فاطمة الزہرا طاہرہ سلام اللہ علیہا کے روضے جیسے مقدسات شامل تھے اُور یوں جنت البقیع میں موجود قبریں دور سے دیکھنے پر مٹی کے ڈھیر اُور ٹیلے دکھائی دینے لگے‘ جہاں چھوٹے بڑے پتھروں میں چھپی قبروں کی باقیات تلاش کرنے والے زائرین کو ایک خاص حد سے آگے جانے نہیں دیا جاتا۔ اِس اقدام سے اختلاف کرنے والے مسلمانوں کے 90 برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی زخم ہرے ہیں اُور ہر سال عالمی سطح پر ”8 شوال المکرم“ کا دن ”یوم انہدام جنت البقیع“ کے طور پر منانے والے مطالبہ کر رہے ہیں کہ .... ”جنت البقیع‘ میں موجود زیارات مقدسہ کو اُن کی اَصل حالت و جگہ پر بحال کیا جائے۔“

مدینہ منورہ شریف کا ”بقیع“ نامی قبرستان کی موجودہ حالت اُور اِس مقام کے قبل اسلام و بعد اسلام (ماضی و حال کی) تاریخی اہمیت اگر کچھ ہے تو وہ کیا ہے؟ مسلمان بھلے ہی خاموش ہوں لیکن تاریخ نہیں بلکہ درجنوں کتب کے اُوراق میں ایک جیسے واقعات اُور حوالے تحریر ملتے ہیں جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے پڑپوتے عملاق کی اولاد نے مدینہ منورہ شریف آباد کیا‘ پر زراعت کے لئے زمین ہموار کی۔ درخت اُگائے۔ رہائشگاہیں اُور قلعے تعمیر کئے گئے۔ وقت کے ساتھ جب اِنسانی آبادی میں اضافہ ہوا۔ قبائل تشکیل پائے تو مدینہ منورہ شریف نہ صرف کاشتکاروں اُور شہ زوروں کا مرکز رہا بلکہ یہ اہم تجارتی گزرگاہ بھی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی یہاں وارد ہوئے۔ کچھ نے یہیں قیام کر لیا اُور کچھ کنعان یا دیگر علاقوں کی طرف چلے گئے۔ ولادت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ایک ہزار سال قبل مدینہ منورہ شریف کے رہنے والے اِس بات (پیشگوئی) سے باخبر تھے کہ یہ شہر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن قرار پائے گا۔ اِس سلسلے میں ’تبع حمیری‘ نامی بادشاہ کا تذکرہ بطور خاص ملتا ہے جو بڑی فوج کے علاو ہ کم و بیش چار ہزار کی تعداد میں علماءاُور حکماءبطور مشیر رکھتا تھا۔ ایک موقع پر جب مدینہ منورہ شریف کے کسی رہنے والے نے تبع بادشاہ کے اہل خانہ سے بدسلوکی کی تو اُس نے مجرم کی سرکوبی کے مدینہ کو تاراج کرنے کا فیصلہ کیا اُور اِس ارادے سے مدینہ کے باہر آ کر پڑاو ¿ ڈالا۔ اہل مدینہ کے علماءنے بادشاہ (تبع) سے ملاقات کی اُور مدینہ کے فضائل و مناقب کی تفصیلات کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی اُس کے گوش گزار کی کہ یہ شہر ختمی مرتبت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن ہوگا۔ یہ سننا تھا کہ اُس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اُس نے حملے کا ارادہ ترک کیا اُور روز قیامت اپنی شفاعت کی تمنا کے لئے ایک تحریر (خط) لکھا۔ یہ خط اُس کی پشت در پشت منتقل ہوتے‘ 90 واسطوں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خط کو دیکھ کر مسکرائے‘ درخواست قبول فرمائی اُور 3 مرتبہ ارشاد فرمایا ’مرحبا باخ الصالح۔‘ اِسی شہر مدینہ کا ایک مختصر حصہ “جنت البقیع“ کہلاتا ہے۔

لغت کے مطابق ”بقیع“ اُس علاقے کو کہتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں درخت پائے جائیں گویا بقیع زمانہ قدیم (قبل اسلام) یہاں کثرت سے درخت ہوا کرتے تھے۔ ’بقیع‘ کو ’بقیع الغرقد‘ یعنی کانٹے دار جھاڑیوں کا علاقہ بھی کہتے ہیں چونکہ ایک وقت میں یہاں ’عوسج‘ نامی کانٹے دار پودے پائے جاتے تھے لہٰذا روزمرہ بول چال میں اِسے ’بقیع الغرقد‘ کہا جانے لگا۔ عرب قبائل ’بقیع‘ کا لفظ کسی گنبد یا اُٹھی ہوئی (بلند) جگہ کے لئے بھی استعمال کرتے۔ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت کے تیرہویں سال مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی۔ تب سے ’یثرب‘ عرف عام میں مدینہ اُور بطور خاص مدینہ منورہ شریف کہلایا جانے لگا کیونکہ اِس عزت مآب خاص شہر کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص دعا فرمائی (ترجمہ) ”بارالہا‘ اِس شہر کو محبوب قرار دے‘ (بالکل) اُسی طرح جیسا کہ تو نے مکہ مکرمہ کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال رکھی ہے۔ یہاں کے دانے پانی (اَجناس) میں برکت عطا فرما اُور اِس شہر کو (تاقیامت) بیماریوں اُور آفات و بلیات سے محفوظ رکھ۔“
........
Editorial Page of Daily Aaj Peshawar Abbottabad  - May 31, 2020 - Sunday

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj Peshawar Islamabad Abbottabad  - May 31, 2020

Monday, January 28, 2019

Pakistan has revised it's Hajj Policy for 2019!

شبیرحسین اِمام ۔۔۔ اٹھائیس جنوری دوہزار اُنیس


حج 2019ء

وفاقی حکومت کی جانب سے حج پیکیج کے تحت دی جانے والی ’مالی رعائت (سبسڈی)‘ واپس لے لی گئی ہے‘ جس سے رواں برس اَخراجات میں ’’36 فیصد اِضافہ‘‘ یعنی گذشتہ سال کے مقابلے فی عازم ڈیرھ لاکھ روپے سے زیادہ قیمت اَدا کرنا پڑے گی۔ 

’’سرکاری حج اسکیم 2019ء‘‘ کے تحت منتخب اَفراد کو تمام اَخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ قانون ساز اِیوان بالا (سینیٹ) کی خصوصی کمیٹی اِن دنوں حج اِنتظامات کو حتمی شکل دے رہی ہے‘ جس کی سربراہی مذہبی جماعت ’’جمعیت علمائے اِسلام‘ فضل الرحمن (جے یو آئی ایف)‘‘ سے تعلق رکھنے والے ’61 سالہ‘ سینیٹر (مولانا) عبدالغفور حیدری کر رہے ہیں۔ اِسلامی تقویم (کلینڈر) کے اِعتبار سے ’’8 سے 12 ذی الحجہ 1440ہجری‘‘ بمطابق ’’9 سے 14 اگست 2019 عیسوی‘‘ مناسک سرانجام دیئے جائیں گے۔ دوران حج سفری اور قیام و طعام کے جملہ اَخراجات کے لحاظ سے پاکستان کو 2 حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک شمالی اُور دوسرا جنوبی حصہ۔ شمالی حصے کے 2 صوبوں پنجاب اُور خیبرپختونخوا سے سفر کرنے والے ہر عازم کو ’4لاکھ 26ہزار975 روپے‘ اَدا کرنا ہوں گے جبکہ جنوبی حصے کے 2 صوبوں سندھ اُور بلوچستان سے حج کے لئے جانے والے ہر حاجی (بزرگ و جوان‘ مرد یا عورت) کو ’’4لاکھ 36ہزار 975روپے‘‘ دینا ہوں گے۔ یہ قیمت سرکاری حج اسکیم کے تحت بذریعہ قرعہ اَندازی منتخب ہونے والوں کے لئے ہوگی۔ گذشتہ برس 2018ء میں شمالی ریجن (خیبرپختونخوا اُور پنجاب) کے لئے سرکاری حج پیکیج کی قیمت ’’2 لاکھ 80 ہزار روپے‘‘ جبکہ جنوبی ریجن (سندھ اُور بلوچستان) کے لئے 2 لاکھ 70 ہزار روپے تھی۔ یوں خیبرپختونخوا اُور پنجاب والوں کو ’حج 2019ء‘ کے لئے اضافی ’’1 لاکھ 46 ہزار 975 روپے‘‘ جبکہ سندھ و بلوچستان والوں کو گزشتہ سال (دوہزاراٹھارہ کے مقابلے) ’’1 لاکھ 66 ہزار 975 روپے‘‘ اضافی اَدا کرنا پڑیں گے جو قطعی معمولی اضافہ نہیں! اِس سال نجی اِداروں کے ذریعے حج کرنے والوں کو اِس کے مساوی یا زیادہ قیمت اَدا کرنا پڑے گی‘ جس کی وجہ قیام و طعام کی بہتر اُور خصوصی سہولیات ہوتی ہیں اُور ظاہر ہے کہ جہاں پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی ہے وہیں سعودی عرب میں اشیائے خوردونوش سمیت قیام اور سفر کی سہولیات کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں‘ جو سعودی عرب کے خراب مالی حالات اور داخلی و خارجی محاذوں پر اصلاحات اور توسیعی عزائم کی وجہ سے ہے۔

پاکستان نے رواں برس حج کے لئے قربانی کی ’فی حصہ‘ قیمت ’’19 ہزار 451 روپے‘‘ مقرر کی ہے جو گذشتہ برس کے مقابلے ’’6ہزار 401 روپے‘‘ زیادہ ہے۔ اِسی طرح ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب آمدورفت کا خرچ اِس مرتبہ ’’صوبہ سندھ اور بلوچستان کے لئے 93 ہزار روپے جبکہ خیبرپختونخوا اُور پنجاب کے لئے ’’1 لاکھ 10 ہزار روپے‘‘ زیادہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے نجی حج آپریٹرز کو زبانی کلامی پابند تو کیا گیا ہے کہ وہ اپنی (اِضافی و معیاری) خدمات کے لئے سرکاری حج کے مقابلے ’’10 فیصد‘‘ سے زائد وصولی نہ کریں لیکن ظاہر ہے کہ نجی حج آپریٹرز پہلے ہی دس سے سو فیصد زائد وصولی کر رہے ہیں اُور ’خاص (vip)‘ یا ’اِنتہائی خاص (vvip)‘ حج جیسے پُرکشش پیکیج بھی مرتب کئے جاتے ہیں۔ جس میں حرم المکرم اُور مسجد نبوی شریف کے قریب ترین رہائش‘ بہتر خوراک اور آمدورفت کی بہتر سفری سہولیات کے علاؤہ نسبتاً آرام دہ خیموں کی فراہمی کی وجہ سے زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے۔ ’’حج 2019ء‘‘ کے لئے ’سعودی حکومت‘ نے پاکستان کا کوٹہ ’’پانچ ہزار‘‘ حاجیوں کا غیرمعمولی اضافہ کیا ہے‘ جس کی وجہ سے رواں برس پاکستان سے ایک لاکھ 84ہزار 210 پاکستانی حج کی سعادت حاصل کریں گے۔ حکومت کی جانب سے جہاز راں کمپنیوں سے بات چیت کرنے کی ایک تجویز بھی زیرغور ہے‘ تاکہ 93 ہزار سے 1 لاکھ10 ہزار روپے سفری اخراجات میں کچھ رعائت حاصل کی جائے۔ علاؤہ ازیں رواں برس اُڈھیر عمر (بزرگ) افراد کے نام حج کی قرعہ اندازی میں شامل نہیں کئے جائیں گے اور پہلی ترجیح گزشتہ برس کے باقی ماندہ درخواست گزاروں کو دی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت صرف ’حج‘ سے متعلق اَمور کی نگرانی و منتظم ہے عمرے کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی پالیسی وضع نہیں۔ اِس سلسلے میں ایک نئی قانون سازی بنام ’’حج عمرہ سیکیور مینجمنٹ بل 2019ء‘‘ تیاری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

نجی ٹور آپریٹرز ’حج کے بنیادی مناسک‘ کی ادائیگی کے لئے چھ یا سات روزہ خصوصی پیکج مرتب کرتے ہیں‘ جبکہ حکومت کی جانب سے اِس قسم کے خصوصی پیکجز فراہم نہیں کئے جاتے۔ بنیادی طور پر ’’8 ذی الحجہ‘‘ سے حج شروع ہو جاتا ہے‘ جس کے لئے متعین ’’میقات حج (مکۃ المکرمہ سے قریب 85 کلومیٹر خاص مقام)‘‘ سے احرام باندھ کر کعبہ کی زیارت کے لئے روانہ ہوا جاتا ہے۔ احرام باندھنے کے کل 6 مقامات ہیں‘ جن میں مدینۃ المنورہ کی سمت ’’تنیم (Taneem)‘‘ مسجد الحرام سے 8 کلومیٹر‘ یمن کی سمت میں ’’عادت لابن (Adaat Laban)‘‘ 11 کلومیٹر‘ عراق کی سمت ’’وادی نخلاء (Wadi Nakhla)‘ طائف کی سمت سے عرفات (Arafat) 11 کلومیٹرز‘ جیرانہ (Ji'ranah) مسجدالحرام سے 14 کلومیٹر اُور جدہ کی سمت سے حدیبیہ (Hudaibiyah) مسجد الحرام (مکہ) سے قریب 16 کلومیٹر فاصلہ کے مقام سے ’احرام (2 سفید رنگ کی چادریں: مخصوص انداز میں ایک ’تہہ بند‘ اُور دوسری بطور ’چادر‘ کندھے پر)‘ اُوڑھ لی جاتی ہے۔ ہوائی جہاز سے سفر کرنے والے اُڑان بھرنے سے قبل اپنے اپنے ملک سے بطور احتیاط احرام باندھ لیتے ہیں۔ احرام کی حالت میں مکۃ المکرمہ کی حدود میں داخل ہونے والے ’طواف قدوم‘ کرنے کے بعد منی کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں جہاں ’’یوم الترویہ‘‘ گزار کر ’’عرفات‘‘ آیا جاتا ہے جہاں ایک دن وقوف (قیام) کے بعد اُسی دن یوم عرفہ‘ یوم سعی‘ قربانی‘ حلق و قصر کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد حجاج رمی جمار (شیطان کو کنکریاں مارنے) کے لئے جمرہ عقبہ کے بعد مسجد الحرام (مکۃ المکرمہ) واپس آتے ہیں۔ ’’طواف افاضہ‘‘ کرتے ہیں اور پھر واپس منی جاکر ایام تشریق گزارتے ہیں۔ اس کے بعد حجاج دوبارہ مکہ واپس آکر طواف وداع (آخری طواف) کرتے ہیں اور یوں حج کے جملہ مناسک کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ 

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ’خالصتاً کاروباری نکتۂ نظر‘ سے سوچنے والے نجی ٹور آپریٹرز نے اِن بنیادی مناسک حج کی ترتیب کو سمجھ لیا ہے اور وہ اِنہیں ملحوظ رکھتے ہوئے ایسے پیکجز تیار کرتے ہیں‘ جن سے کاروباری (مصروف) خواتین و حضرات یا بیمار استفادہ کر سکیں۔ عموماً ایک سے زائد حج اَدا کرنے والوں کی بڑی تعداد مختصر ایام کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ ’سرکاری حج اسکیم‘ کے تحت جانے والے ’پینتیس سے چالیس روزہ پیکج‘ کے تحت پابند ہوتے ہیں۔ 

سرکاری حج کی قیمت میں کمی کے لاتعداد امکانات موجود ہیں۔ اِس سلسلے میں زیادہ سوچ بچار اُور مختلف مختصر دورانئے کے سرکاری ’حج پیکجز‘ بھی متعارف کروائے جا سکتے ہیں‘ جن میں قیام و طعام کے زیادہ آپشنز دیئے گئے ہوں۔ حج کی عبادت صرف ’’صاحبان استطاعت‘‘ پر فرض ہے لیکن مقدس مقامات کی زیارت اور حج جیسی ’بزرگ ترین عبادت‘ کا شوق رکھنے والے ساری زندگی تیاری کرتے ہیں۔ عقیدت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایسے (کم آمدنی والے طبقات سے تعلق رکھنے والے) عبادت گزاروں کے ذوق و شوق کو مدنظر رکھا جائے تو ’خصوصی حج پیکیج‘ کے ذریعے حکومتی فیصلہ ساز عبادت کے ثواب میں برابر شریک ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔

Tuesday, February 20, 2018

Feb 2018: Controversial pics, solution is unity of Muslim Ummah

مہمان کالم
متنازعہ تصاویر!
اِسلام کے مقدس ترین شہروں میں سرفہرست ’مکہ مکرمہ‘ اُور ’مدینہ منورہ‘ میں ’غیرمسلموں‘ کے داخل ہونے کی ’شرعی پابندی‘ پر پوری اُمت مسلمہ کا اتفاق ہے بلکہ ایک سوچ تو اِن شرعی احکامات کی تشریح زیادہ سخت گیر انداز میں کرتے ہوئے پورے ’جزیرۃ العرب‘ پر غیرمسلموں کے داخلے کی مخالفت کرتی ہے‘ اِس سلسلے میں القاعدہ تنظیم کے سربراہ ’اُسامہ بن لادن‘ کی تقاریر اُور بیانات ’آن دی ریکارڈ‘ موجود ہیں‘ جن میں اُنہوں نے سعودی عرب میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ۔۔۔ ’’غیرمسلموں کا جزیرۃ العرب پر ناپاک وجود ناقابل قبول ہے۔‘‘

مسلم دنیا میں اِس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں داخلے کی ممانعت کے بارے میں اعلانات بھی آویزاں کئے گئے ہیں‘ جو حج و عمرہ کے زائرین کی اکثریت نے دیکھے (نوٹس کئے) ہوں گے لیکن نومبر دوہزار سترہ کی بات ہے جب روسی نژاد اکتیس سالہ یہودی ’بین سیون‘ نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر ’مسجد نبوی‘ کی ایسی تصاویر جاری کیں‘ جس میں وہ مقامی افراد کے ساتھ بھی کھڑا ہے اور اُس کے گلے میں آویزاں بستے پر عبرانی زبان کے الفاظ بھی تحریر ہیں۔ عبرانی اسرائیل کی سرکاری زبان ہے اور روسی نژاد ’بین سیون‘ اسرائیل کی شہریت رکھتا تھا۔ بہرحال مسجد نبوی کی صفوں پر کھڑے ہو کر لی جانے والی تصاویر اسرائیلی اخبارات میں شائع ہوئیں تو اِس گستاخی پر مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ اور مسلمان سوشل میڈیا صارفین نے شدید احتجاج کیا لیکن سعودی حکومت خاموش رہی اُور اُمید تھی کہ اِس گستاخی کے بعد سعودی حکام سیکورٹی انتظامات میں رہ جانے والی اُن خامیوں کا تدارک کریں گے جس کی وجہ سے ایک یہودی کو مسجد نبوی کے اندر تک رسائی مل گئی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مذکورہ یہودی شخص نے اپنی مذہبی حیثیت پوشیدہ نہیں رکھی بلکہ وہ ہر ملنے والے سے کہتا رہا کہ وہ یہودی ہے اور یروشلیم سے آیا ہے لیکن کسی بھی عربی و عجمی نے اُس کی اِس بات کا نوٹس نہ لیا۔ رواں ہفتے (فروری دوہزار اٹھارہ کے تیسرے ہفتے) سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ ’مسجد نبوی‘ کی ایک ایسی تصویر شائع کی گئی ہے‘ جس سے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اُنہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ مسجد نبوی کے تقدس کا خیال رکھنے کا مطالبہ کس سے کریں کیونکہ ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کی بادشاہت مسجد نبوی کی اِس بے حرمتی پر خاموش ہے۔

تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ مسجد نبوی کے صحن میں چار برقع پوش خواتین چادر بچھا کر پورے اطمینان و اہتمام سے بیٹھی ہیں اور وہ تاش کے پتے ہاتھوں میں لئے ایک ایسے مغربی کھیل میں مشغول ہے‘ جس کا تعلق جوئے سے بھی ہے‘ اور اسلامی دنیا میں اِس سمیت کسی بھی کھیل کے لئے مسجد کے استعمال کو ناپسندیدگی (گناہ) کی نظر سے دیکھا جاتا ہے بلکہ مسجد میں دنیاوی باتیں‘ ہنسی مذاق اور اونچی آواز میں بات چیت کی ممانعت کا ذکر بھی احادیث میں کثرت سے ملتا ہے۔ بہرحال چار برقعہ پوش خواتین‘ جن کی شناخت تصویر سے ظاہر نہیں ہو رہی‘ تاش کے کھیل میں مگن ہیں اور اُن کے آس پاس کئی لوگ احرام پہنے دکھائی دے رہے ہیں۔ چونکہ مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) اور مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے فن تعمیر میں ایک خاص قسم کی مماثلت پائی جاتی ہے‘ اِس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تصویر اِن دونوں مقامات میں سے کہاں لی گئی ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ تصویر کسی مسجد کے صحن ہی کی ہے‘ جسے ٹوئٹر (twitter) پر @RassdNewsN نامی عربی زبان کے نشریاتی ادارے کی جانب سے ’اٹھارہ فروری‘ کے روز جاری کیا گیا اور تصویر کے ساتھ تفصیل (کیپشن) میں لکھا گیا کہ خواتین بادشاہ فہد کے نام سے منسوب مسجد کے دروازے سامنے تاش کھیل رہی ہیں۔‘‘

بائیس لاکھ ستر ہزار سے زائد صارفین رکھنے والے ٹوئٹر اکاونٹ پر مذکورہ تصویر کو قریب ’ڈھائی سو‘ ٹوئٹر صارفین نے پسند کیا جبکہ اِس پر تبصرہ کرنے والے 159 افراد کی اکثریت نے خواتین کے اِس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ بحث چل نکلی کہ سعودی حکمرانوں نے سنگ مرمر کے چمکتے دمکتے فرش اور روشنیوں سے منور مسجدیں تو بنا دی ہیں لیکن مسجد کا احترام کرنے والے افراد کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔‘‘ کسی یہودی کے مسجد نبوی میں پہنچنے پر ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’’سعودی عرب وہ مقام ہے‘ جہاں حکومت کی رائے سے مسلکی بنیادوں پر اختلاف رکھنے والے علمائے کرام جیلوں میں بند ہیں جبکہ یہودی آزاد ہیں!‘‘

تاش یا اِس جیسا کوئی کھیل کھیلنے میں مشغول تین خواتین جواں سال جبکہ ایک ادھیڑ عمر کی دکھائی دیتی ہیں‘ جنہیں نماز کی ادائیگی کے لئے کرسی کی ضرورت پڑتی ہے اور اِس قسم کی طے ہو جانے والی (فولڈنگ) کرسیاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مارکیٹوں میں عام مل جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جن مساجد کے ہر ستون کے ساتھ نگران (سی سی ٹی وی) کیمرے نصب ہیں‘ وہاں اِس قسم کے واقعات کیونکر رونما ہو سکتے ہیں‘ جبکہ مساجد کی انتظامیہ‘ مقامی پولیس اور افراد اِس سے بے خبر رہیں؟چار خواتین کی تصویر رات کے کسی پہر میں بنائی گئی کیونکہ تصویر میں صحن کی روشنیاں دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ عام لوگوں کی آمدورفت بھی معمول کے مطابق (پس منظر میں) جاری ہے‘ جن میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں کہ جنہوں نے خاص لباس قسم کا لباس (احرام) پہن رکھا ہے۔

پشاور کی سرتاج روحانی شخصیت‘ پیرطریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ سورۂ مبارکہ ’’الشعراء‘‘ کی آیات (دوسو ایک سے دو سو سات) کا ترجمہ اُور تشریح کئی روز تک کرتے رہے تاکہ دنیاوی ترقی کی حقیقت اور رب تعالیٰ کی نافرمانی کے مضامین سمجھ میں آ سکیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ (ترجمہ): ’’وہ (نافرمان) جب تک درد دینے والا عذاب (اپنی اوپر نازل ہوتا) نہیں دیکھیں گے‘ یقین نہیں کریں گے۔ (اُن گستاخوں کو خبر دے دو کہ) وہ (عذاب) اُن پر ناگہاں (اچانک) نازل ہوگا اور انہیں (باوجود جدید ترین آلات بھی پیشگی) خبر نہیں ہو سکے گی۔ (پھر جب اللہ کا عذاب اُن منکرین پر نازل ہوگا تو) اُس وقت (وہ) کہیں گے (کہ) کیا ہمیں مہلت ملے گی؟ تو کیا (ایسا نہیں کہ) یہ (نافرمان) ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں؟ بھلا دیکھو تو اگر ہم اِن کو (دنیاوی علوم میں غوروفکر کے) برسوں فائدے دیتے رہے۔ پھر اِن (اللہ کے غیض و غضب کو آواز دینے والوں) پر وہ (عذاب) نازل ہو‘ جس کا تم سے (یہاں) وعدہ کیا جا رہا ہے۔ تو (دنیاوی مال و اسباب اور مادی ترقی سے) جو فائدے (آسائشیں) یہ اُٹھاتے رہے‘ اِن کے کس کام آئیں گی؟‘‘

کسی یہودی کی مسجد نبوی میں گھس کر ’’گستاخانہ جرأت‘‘ کا مظاہرہ کرنا ہو یا برقعہ پوش خواتین کا مسجد میں تاش کھیلنا‘ یہ دونوں اعمال کسی بھی عبادت گاہ کے احاطے میں بلاتفریق مذہب و مسلک ناپسندیدہ ہیں‘ تو کیا اِس قسم کی تصاویر کو مسلمانوں کی دل آزاری جیسی مذموم کوشش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے جیسا کہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے تیار کئے گئے تھے یا اُن کے بارے میں گستاخانہ مضامین کتابی صورت میں شائع کئے گئے یا قرآن کریم کے نسخے شہید کئے گئے۔ مسلمانوں پر اِس قسم کے مظالم اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ ’اُمت واحدہ (متحدہ)‘ نہیں بن جاتے اور تب تک جذبات کے اظہار پر کنٹرول کرنا ہوگا۔ اُمت کے اتحاد کی دعائیں کرنا ہوں گی اور سمجھنا ہوگا کہ مذکورہ سازشیں درحقیقت مقدس مقامات‘ بعداز خدا بزرگ ہستیوں اور مساجد کے تقدس کو کم کرنے کی سوچی سمجھی (دانستہ) کوشش (منظم سازش) ہیں۔
۔
اس تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بین سیون نے روایتی عرب لباس پہن رکھا ہے، جو اس کے بقول وہ یروشلم سے لے کر آیا تھا اور وہ ایک بیگ میں لکھے اپنے نام کی جانب اشارہ کررہا ہے جو کہ عبرانی زبان میں تحریر ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ تصویر میں دیگر افراد کو احرام میں آتے جاتے دیکھا جاسکتا ہے، تاہم تاش کے پتے کھیلنے والی خواتین آرام سے اپنے کھیل میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ تصویر میں دیگر نقاب اور برقع پوش خواتین و احرام میں ملبوس مرد حضرات کو بھی فرش پر بیٹھا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔

Sunday, November 26, 2017

Nov 2017: The kingdom led "Islamic Military Alliance" declared as 'suicide mission', would Pakistan like to be part of another conflict?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تیر نیم کش!
’پندرہ دسمبر دوہزار پندرہ‘ میں ’اِکتالیس اسلامی ممالک (افغانستان‘ بحرین‘ بنگلہ دیش‘ بینن‘ برونائی‘ برکینا فاسو‘ چاڈ‘ کومورس‘ کوتے ڈی لوویر‘ جبوتی‘ مصر‘ گابون‘ گمبیا‘ گونیا‘ کونیا باسو‘ اردن‘ کویت‘ لبنان‘ لیبیا‘ ملائشیا‘ مالدیپ‘ مالی‘ مارتنیا‘ مراکش‘ نائجیر‘ نائیجیریا‘ عمان‘ پاکستان‘ فلسطین‘ قطر‘ سعودی عرب‘ سینیگال‘ سری لیون‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ توگو‘ تیونسیا‘ ترکی‘ یوگینڈا‘ متحدہ عرب امارات اُور یمن) کی جانب سے ’عسکری اِتحاد‘ کے قیام پر اتفاق ہوا‘ جس کی قیادت ’پاک فوج‘ کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سپرد کی گئی تو اِس پاکستان نے اپنے لئے اعزاز قرار دیا۔ آج (چھبیس نومبر) کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض (Riyadh) میں ’عسکری اِتحاد‘ کے رکن ممالک بشمول پاکستان سے وزیردفاع کی سربراہی میں نمائندہ وفود شریک ہو رہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں اِس اتحاد سے کام لیا جا سکے جو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید کر مسلح ہو چکا ہے۔ 

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مشرق وسطیٰ نے مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد ’نیٹو (NATO)‘ کی طرز پر تنظیم قائم کی ہے لیکن اِس کے اہداف اور مقاصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکے ہیں۔ 

اسلامی ممالک کے اِس عسکری اتحاد کے قیام کا بنیادی مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکات کی تلاش ہے تاکہ کسی مشترک دشمن و ہدف (دہشت گردی) کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔ اِس مقصد کے لئے رکن ممالک کو ایک دوسرے سے نہ صرف خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنے پر رضامند ہونا پڑے گا بلکہ سعودی عرب کے بادشاہ کی بلاشرکت غیرے قیادت بھی تسلیم کرنا پڑے گی اور سعودی عرب کی نظر میں جو بھی دہشت گرد ہوگا‘ وہی اکتالیس رکن ممالک کی نظر میں بھی ممکنہ اور موجود خطرے کی علامت (مشترکہ ہدف) سمجھا جائے گا۔ مذکورہ عسکری اتحاد کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کے خلاف دیگر اتحادوں کی طرح یہ بھی ایک قسم کا فوجی اتحاد ہی ہے‘ اِس بیان کادرپردہ مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ مغربی دنیا بالخصوص اسرائیل کو یقین دلایا جائے کہ وہ چاہے کسی بھی مسلم ملک پر فوج کشی کریں یا الزامات لگانے میں جس انتہاء تک بھی جائیں‘ اِس اتحاد کے اسلحے کا رخ اُن کی جانب نہیں ہوگا۔ 

اکتالیس اسلامی ممالک کا اتحاد درحقیقت بادشاہتوں اور اقتدار پر قابض شاہی خاندانوں کے تسلط کو برقرار رکھنا اُور مستقبل میں اگر بالخصوص عرب ممالک کے عوام شاہی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو اُنہیں دہشت گرد قرار دے کر کچلنے کا جواز فراہم کرے گا۔ توقع ہے کہ عسکری اتحاد کے پہلے اجلاس میں وہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جائے گا جس کا پوری دنیا کو انتظار ہے۔ علاؤہ ازیں اِس عسکری اتحاد آپریشن کمانڈ‘ فعالیت اور ممالک کی حصہ داری بارے حساس معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے کی راہ میں کوئی اختلافی نکتہ (رکاوٹ بظاہر) حائل نہیں! مذکورہ عسکری اتحاد کے رکن ممالک کے تحفظات موجود ہیں کیونکہ تشکیل سے لیکر اِس دوسال کے دوران اِن ممالک کو خود بھی علم نہیں کہ اِس پوری کوشش کا اصل (درپردہ) مقصد کیا ہے۔ 

’’میرسپاہ ناسزا‘ لشکریاں شکستہ صف ۔۔۔ 
آہ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف (علامہ اقبالؒ )‘‘

سعودی عرب میں طلب کئے گئے ’اِسلامی اِنسداد دہشت گردی فوجی اِتحاد‘ کے سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی تقرری‘ پاکستان کی پارلیمانی سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی کے لئے ناقابل ہضم ہے کہ وہ پاکستان کا نام کسی ایسے دفاعی اِتحاد سے منسلک دیکھے جو ایک خاص اسلامی ملک کی خاص نظریاتی تعلیمات کے تابع ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے پہلے ایسے کسی اِتحاد میں شمولیت سے معذرت کرتے ہوئے اِنکار کیا‘ پھر اقرار کیا اور ایک مرتبہ پھر اِنکار کرتے ہوئے ’ہاں میں ہاں‘ ملا دی ہے۔ 

جنرل راحیل شریف اِس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’’میں پوری دیانتداری سے اِس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ‘ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی کے کئی پہلو دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں آزمائے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ممالک جو عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہیں۔ میں یہ بات واضح کرناچاہتا ہوں کہ اِتحاد اِنسداد دہشت گردی کے لئے ہے اور یہ کسی ملک‘ فرقے یا مذہب کے خلاف نہیں۔‘‘ لیکن یہ ’’معلوم تعریف‘‘ اُور تعارف کم سے کم پیپلزپارٹی کے لئے قابل قبول نہیں۔ 

چوبیس نومبر کو ایوان بالا (سینیٹ) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ’سینیٹر فرحت اللہ بابر‘ نے کہا کہ ’’اِس فوجی اتحاد کے دائرہ کار اور مستقبل کے منصوبوں پر کئی سوالات ہنوز جواب طلب ہیں۔ اِس لئے (سعودی عرب فوجی اتحاد کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لئے جانے والے) پاکستانی وزیردفاع سعودی عرب سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے پہلے اِس قانون ساز ایوان (سینیٹ کو ’’ضرور بالضرور‘‘ اعتماد میں لیں۔ فرحت اللہ بابر کا سینیٹ سے خطاب قومی نشریاتی رابطے کے ذریعے براہ راست دیکھا گیا اور یوں محسوس ہوا‘ جیسے ’ذوالفقار علی بھٹو‘ بول رہے ہوں۔ وہ گرجدار آواز میں اسپیکر (رضا ربانی) کی آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر کہہ رہے تھے اور بارہا تائید میں اسپیکر کی گردن ہلنے کے مناظر بھی دنیا نے دیکھے کہ اِس منطقی دلیل اور حقیقت حال سے اختلاف آسان نہیں۔ 

افغان جنگ کے بعد پاکستان کسی بھی ایسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اُس پر مسلط کی جائے۔ 

فرحت اللہ بابر نے کہا جو لفظ بہ لفظ کچھ یوں تھے کہ ’’مذکورہ اسلامی اتحاد کے نتائج انتہائی دور رس ہیں‘ کیونکہ اب اِس اتحاد کی حکمت عملی طے ہوگی؟ فیصلوں کااختیار کسے ہوگا؟ اس عسکری اتحاد منجملہ سرگرمیاں اور مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ جناب چیئرمین‘ اِس (معزز) ایوان کی جانب سے یہ بات اُن (سعودی حکمرانوں اُور اتحاد میں شریک ممالک) تک جانی چاہئے کہ جب ہمارا ’وزیردفاع‘ وہاں جائے اور اتنے (اہم) بنیادی مسائل کی وہاں بات ہو رہی ہو تو (پاکستان کی جانب سے تعاون کی کسی بھی یقین دہانی) کمٹمنٹ سے قبل وہ ’پلان‘ جو اِس ایوان کے سامنے رکھا جائے تاکہ بعد میں مشکلات نہ ہوں۔ سعودی عرب ہمارا دوست برادر ملک ہے لیکن جہاں تک (سعودی عرب کے) نظریات کا تعلق ہے‘ جناب چیئرمین‘ میں اِس پر بات کرنا نہیں چاہتا‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ (سعودی عرب کی) آئیڈیالوجی سے بھی اُور دہشت گردی کی ’مالی سرپرستی‘ کرنے سے متعلق بھی بڑے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔‘‘ 

فرحت اللہ بابر جس باریک نکتے کی جانب سینیٹ اِیوان‘ حکومت اُور پاکستانی قوم کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اُس جانب علامہ اقبالؒ اشارہ کر گئے ہیں‘ صرف غور کرنے اور سمجھنے کی دیر ہے۔ ’’مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی: 
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف۔۔۔ 
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ: 
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف!‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-11-26

Thursday, May 25, 2017

May2017 Muslim World: The role of leaders!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کام سے کام!
پشاور کے سرتاج علمی و روحانی گھرانے آستانہ عالیہ حسنیہ کے چراغ پیرطریقت سیّد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی سرکاررحمۃ اللہ علیہ (المتوفی چودہ سو پچیس ہجری) کی صحبت بابرکات میں ایک مرتبہ خیروشر کی بحث میں برسبیل مثال سُوال زیربحث آیا کہ ’اللہ تعالیٰ نے شیطان کو (شر کی) آزادی کیوں دی؟‘ آپؒ نے فرمایا (جس کا تلخیص یہ ہے) کہ ’’خیر کا اصطلاحی مفہوم سمجھنے سے شر کے معانی خودبخود واضح ہو جائیں گے کیونکہ ہمارے ہاں بہت سے الفاظ‘ کلمات اور اصطلاحوں کی علمی سطح پر الگ الگ تعریفات ماخوذ ہیں یعنی علمی و عرفی سطح پر لفظ کا مفہوم کچھ اُور ہوتا ہے لیکن عرف عام میں اُسے مختلف انداز میں سمجھا جاتا ہے۔ اِس لئے سب سے پہلے تو یہ بات ضروری ہے کہ علمی اور عرفی سطح پر الفاظ کے درمیان مطالب کے اِس فرق کو معمولی نہ سمجھا جائے اور دوسرا اِس بذریعہ تحقیق اِس فرق کی تہہ تک جایا جائے۔ جس کے ضروری ہے کہ جس کسی بھی علم کی بحث ہو‘ اُس کے متعلقہ ماہر (اہل) سے رائے لی جائے۔ اگر کوئی شخص چند بیماریوں کے نام سیکھ لے اور اُن بیماریوں کے بارے میں اپنے ذہن میں تصور قائم کر لے جیسا کہ عام طور پر مفہوم رائج ہوجاتا ہے اور پھر اپنے یقین کی بنیاد اُسی ناقص مفاہیم و تصورات پر رکھ لے تو وہ توہمات میں مبتلا رہے گا اور اُس کی زندگی ناپائیدار ہو جائے گی لیکن اگر یہی شخص کسی ڈاکٹر (متعلقہ شعبے کے ماہر) سے رہنمائی چاہے تو نہ صرف بہت سے مظالعے دور ہوتے چلے جائیں گے بلکہ کم سے کم یہ تو ضرور ہو گا کہ وہ شخص ’وہم میں مبتلا‘ نہ رہے۔ ممکن ہے کہ وہ خود کو کسی سنگین بیماری میں مبتلا سمجھ رہا ہو لیکن ڈاکٹر مسکرا کر کہے کہ آپ کو ایسی کوئی بیماری لاحق ہی نہیں اُور جس علامت (کیفیت و حال) کو آپ بیماری سمجھ رہے ہیں اُس کا سبب (وجہ) کچھ اُور ہی ہے۔ جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو ایسی سینکڑوں مثالیں بکھری ملتی ہیں‘ جن میں عمومی تصورات کی وجہ سے مغالطے عام ہو جاتے ہیں۔ اِسی لئے قرآن حکیم نے اکیسویں ’سورۂ انبیاء‘ کی ساتویں آیت کے ایک حصے میں یوں رہنمائی فرمائی ہے کہ (ترجمہ عرفان القرآن) ’’(لوگو!) تم اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو‘ اگر تم (خود) نہ جانتے ہو۔‘‘ لیکن یہ بات صرف دینی علوم کی حد تک ہی محدود نہ سمجھی جائے بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی ’درست رہنمائی‘ کے لئے ’اہل‘ ہی کے پاس جانا پڑے گا۔ کسی اہل ہی کی بات کو سننا پڑے گا۔ دنیا کو امن کی ضرورت ہے تو جس طرح ’خیر اور شر‘ کے اصطلاحی مفہوم کی تلاش کرنی ہے‘ اسی طرح ’امن‘ کی کھوج (ابتدأ) بھی اُس کے اصطلاحی مفہوم ہی سے ممکن ہو گی۔

الفاظ کے اصطلاحی و عرفی مفہوم اُور متعلقہ شعبے کے اہل افراد سے رجوع کرنے پر مبنی تمہید کو ذہن میں رکھتے ہوئے دوسری مثال ملاحظہ کیجئے۔ عراق میں مئی دوہزار تین سے جون دوہزار چار تک تعینات رہنے والے امریکہ کے سفارتکار ’’لوئس بال بریمر سوئم ( Lewis Paul Bremer III) جو کہ یکم نومبر دوہزار تین سے اٹھائیس جون دوہزار چار تک عراق کے نگران سربراہ (ایڈمنسٹریٹر) بھی رہے نے عراق کے حوزہ علمیہ قم (نجف اشرف) کے معلم اور روحانی پیشوا ’سیّد علی حسینی السیستانی‘ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن جب باوجود کوشش بھی وقت نہ ملا تو اُنہوں نے درجن سے زائد (پندرہ) صفحات پر مبنی تحریر میں عراق کی صورتحال اور قیام امن کے لئے امریکہ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے تبادلۂ خیال کو ناگزیر قرار دیا۔ اِس طویل خط کا جواب آقائے سیستانی نے ’بناء القابات‘ صرف تین جملوں میں دیا۔ ’’باسمہ تعالیٰ۔ آپ امریکی ہیں‘ میں اصلاً ایرانی ہوں۔ عراقیوں کا مسئلہ عراقی عوام پر چھوڑ دیں۔‘‘ اِس جواب کے بعد امریکی سفارتکار بغداد سے نجف اشرف (170 کلومیٹرز فاصلہ طے کر کے) بناء اطلاع آقائے سیستانی کے دروازے پر حاضر ہوا اور صرف ’دو منٹ‘ ملاقات کے لئے وقت مانگا لیکن اُنہیں ایک منٹ بھی نہیں دیا گیا! آخر اِس درجہ یقین واطمینان کہاں سے حاصل ہوتا ہے کہ جس کی بنیاد پر کردار و فکر مستحکم ہو جائیں اور انسان دنیا کا طلبگار ہی نہ رہے؟ دنیاوی علوم کا سراب یہ ہے کہ اکثریت ’دنیا طلبی‘ کا شکار ہو کر درخواست گزار رہتی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اُس کی جانب متوجہ رہے اور بالخصوص امریکہ کا کوئی صدر‘ وزیر‘ مشیر‘ نمائندہ شرف ملاقات دے کر عزت افزائی کرے!

کون نہیں جانتا کہ ’واحد سپرپاور‘ ہونے کے بعد سے طاقت کا نشہ امریکہ کے سر چڑھ کر بول رہا ہے اور امریکہ ہی کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں کا نشانہ یا تو ’اسلامی دنیا کی دولت اور وسائل‘ ہیں یا پھر مسلمان کہ جنہیں توہین آمیز لہجوں میں ’بنیاد پرست‘ دہشت گرد‘ انتہاء پسند‘ قرار دیا جاتا ہے۔ آج کی حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو اِن متعصبانہ امریکی پالیسیوں سے براہ راست متاثر نہ ہو رہا ہو اور اِسی وجہ سے مسلمان ممالک کو ایک ’ملت قرآن‘ ہونے کے باوجود بھی اپنے ہی ہم مذہب کے خلاف دفاعی اتحاد بنانے پر اُکسایا گیا‘ تاکہ امریکہ کی دفاعی مارکیٹ (اسلحہ ساز اداروں) کا ’بزنس‘ بڑھے۔ امریکہ کے صدر نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لئے سعودی عرب اور دوسرے کے لئے ’غاصب اسرائیل‘ کا انتخاب کرکے ایک ’ناجائز مملکت‘ کو ’جائز‘ بنانے کی کوشش کی ہے۔ 

مسلم ممالک کے سربراہوں کو ’شاطرانہ چال‘ کے درپردہ ’سازش‘ کے جملہ پہلوؤں پر مل بیٹھ کر غور کرنا چاہئے بشمول اِس نتیجہ خیز بحث پر مسلمان ممالک میں استصواب رائے عامہ (ریفرنڈم) کیوں نہیں ہوسکتا کہ ۔۔۔ ’’آج کی دنیا میں امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ کون ہے؟ 

دہشت گردی اور دہشت گردوں کا سرپرست کون ہے؟ بنیاد پرستی اُور دوستی کی آڑ میں دشمنی کرنے کی مہارت کون رکھتا ہے؟ 

مسلمان ممالک کو آپس میں اُلجھا کر سیاسی‘ کاروباری اور تجارتی فوائد کون حاصل کر رہا ہے؟ مسلم دنیا کی غربت و جہالت اُور امن و امان کی آگ بھڑکائے رکھنے کا درپردہ ذمہ دار کون ہے؟ 

عراق کے چھیاسی سالہ بزرگ آقائے سیستانی خدائی مخلوق نہیں وہ نہ تو معصوم ہیں اور نہ خطاؤں سے محفوظ لیکن اُن کے کردار کے پیچھے ’’اسلامی تعلیمات کا نور‘‘ ہے‘ جو اُن کے قول و فعل اور استحکام سے جھلک کر رہا ہے‘ یقیناًعالمی سطح پر امن کا قیام صرف اسی صورت ممکن ہے جبکہ ہر ملک اپنے کام سے کام رکھے اور سیاسی یا دفاعی سمیت جملہ معاملات میں کسی بھی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے عملاً باز (الگ) رہے۔

Saturday, September 5, 2015

Sep2015: Ruthless world

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
بے رحم دنیا
ایک بچے کی لاش جسے بعدازاں ’ایلان عبداللہ کردی (Aylan Abdullah Kurdi)‘ کے نام سے شناخت کیا گیا‘ ترکی (Turkey) کی ساحلی پولیس اہلکار کے ہاتھوں پر جھول رہا تھا۔ یہ تصویر ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر ہوئی تو گویا پوری انسانیت ہی لرز اُٹھی! کاش طاقت کے نشے میں دُھت‘ مہذب کہلانے والے مغربی سربراہ اتنے سنگدل نہ ہوتے اور اپنے ہی مرتب کردہ عالمی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے اُن پناہ گزینوں کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دیتے‘ جو جنگی جنون سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث اپنی جانیں داؤ پر لگا کر بھاگ رہے ہیں! رواں سال کم از کم تین ہزار افراد خستہ اور گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں میں سوار ہو کر بحیرۂ روم (Mediterranean) نامی سمندر عبورکرنے کی کوششوں میں ہلاک ہوچکے ہیں‘ اِن میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں‘ جن میں پاکستانی و افغانی بھی شامل ہیں لیکن تین سالہ ’ایلان‘ کی موت نے تو گویا انقلاب برپا کردیا‘ جس کا نکتۂ آغاز سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ’ٹوئیٹر (twitter)‘ پر ’شیری عزیز‘ نامی صارف کا وہ پیغام تھا جس کے ہمراہ سمندر کنارے مردہ پڑے ’ایلان‘ کی تصویر بھی شامل تھی اُور لکھا تھا ’’(اے بچے) اللہ تمہارے درجات بلند کرے اور تم جیسے اُن بہت سے کم سنوں کا مددگار ہو‘ جو (مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ ملک) شام میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے ’شام کی آزادی‘ کا ہیش ٹیگ (#FreeSyria) بھی استعمال کیا‘ جس کے تحت ’ایلان‘ سمیت شام کی صورتحال کے بارے میں جاری بحث کا مطالعہ یا اِس میں حصہ لیا جاسکتا ہے۔

’ایلان‘ کا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے ہے‘ جسے کسی مسلم یا غیرمسلم ملک نے پناہ نہیں دی اور وہ سمندر کی لہروں پر کئی ہفتوں بھوک پیاس اور موسم کی شدت برداشت کرنے کے بعد ایک ایسی اذیت ناک موت کا شکار ہوا‘ جس کے بارے میں سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں! وہ غیرقانونی یا قانونی مہاجر نہیں تھا۔ اُس کے والدین خانہ جنگی کا شکار ملک سے بھاگ کر ایسی جگہ ’پناہ گزین‘ ہونے کے خواہشمند تھے‘ جہاں وہ ’ایلان‘ کی پرورش کر سکیں‘ اُسے ایک اچھا مستقبل دے سکیں! یقیناًایلان کا جنت میں شاندار استقبال ہوا ہوگا‘ اُسے چومنے اور پیار کرنے والوں کی قطاریں لگی ہوں گی تاکہ وہ اپنے والد اور والدہ کی کمی کو محسوس نہ کرے۔ کیا خود کو مسلمان کہنے والے سربراہان مملکت سے روز قیامت ایسے بے یارومددگار مسلمانوں کے بارے میں سوال نہیں ہوگا‘ جو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر یا ڈوب ڈوب کر ہلاک ہو رہے ہیں؟ کیا جواب ہے کہ سعودی عرب‘ کویت‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے عرب ممالک ’ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کرتے ہوئے‘ انصار کا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان (مسلم و غیرمسلم) دنیا کا ایسا واحد ملک ہے جس نے اپنے ہاں دنیا کے سب سے زیادہ ’پناہ گزینوں‘کو بطور مہاجر امان دے رکھی ہے!

ایلان کی موت پر مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ خاموش جبکہ مغربی دنیا کے رہنماؤں کا ضمیر جھنجوڑ جھنجوڑ کر جگانے کی کوشش کرنے والے صحافی یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ ’’بھلا قدرت اتنی سنگدل کیسے ہوسکتی ہے کہ اُس نے ایک پھول جیسے‘ کم عمر‘ عالمی سیاست سے بے خبر اور مذہبی عقائد کا شعور نہ رکھنے والا بچے کی موت ’کھارے پانی‘ میں ڈوب کر لکھ دی ہو؟ یاد رہے کہ شام میں بشارالاسد حکومت کی عسکری و دفاعی حمایت روس کے صدر ولادیمر پوٹن جبکہ حکومت مخالف باغیوں کو اسلحہ‘ تربیت اور مالی وسائل امریکہ کے صدر باراک اوبامہ کی خصوصی اجازت سے بذریعہ داعش فراہم کی جا رہی ہے اور اِن دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان درپردہ رسہ کشی نے شام کو میدان جنگ بنا رکھا ہے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کا دوسرے بڑے انسانی المیے نے جنم لیا ہے اور جس سے متاثر شام کے کم و بیش 3 کروڑ باشندوں کے لئے کسی دوسرے ملک پناہ لینے کے سوا کوئی دوسری صورت باقی نہیں رہی!

ایلان عالمی طاقتوں کے بدنما چہرے کا عکس ہے۔ انسانیت کا راگ الاپ کر دنیا کو جنگوں میں جھونکنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے مگر اس سے بڑا طمانچہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کے لئے ہے جن کی دولت کا اثر ان کے اپنے معدے تک رہتا ہے‘ ان کے ہاں دولت کی ریل پیل انسان کی روح تک سرایت نہیں کر پاتی‘ ان کی دولت سے قربانی کے چراغ روشن نہیں ہوتے بلکہ صرف مفادات کی آگ بھڑکتی ہے۔

تیل خریدنے اور تیل فروخت کرنے والوں کے درمیان انسانیت کچلی جارہی ہے۔
وہ ایلان نہیں بلکہ ترکی کے ساحل پر عرب حکمرانوں کی خباثت زمین بوس تھی! اِیلان اَبدی نیند سو گیا ہے (اناللہ وانا علیہ راجعون)۔ پانچ ستمبر کے روز اُسے اربوں سوگواروں کی دعاؤں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا‘ حکمرانوں کی جانب سے کچھ رسمی و روائتی مذمت‘ کچھ تعزیت‘ رُونا دھونا اور بس! اللہ تعالیٰ مسلم اُمہ کی قیادت کرنے والوں کو معاف کرے‘ جو ’ایلان‘ سمیت ’امن کی تلاش‘ کرنے والے لاکھوں اَفراد کے مصائب و مشکلات اُور ہلاکتوں کے لئے ذمہ دار ہیں! ’’منزلے نیست کہ آسودہ شود بیمارے۔۔۔اے خدا‘ سایۂ دیوار بہ بیمار کشاد!‘‘

Monday, April 20, 2015

TRANSLATION Turning crisis into oppourtunity

Turning crisis into opportunity
بحران کا حل
سعودی عرب اور اُس کے ہمسایہ ملک یمن کے درمیان جاری تنازعہ میں فریق نہ بننے اور اِس پورے معاملے میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اکثریت رائے سے کیا لیکن سعودی عرب اور اُس کے اتحادی عرب ممالک نے پاکستان کی سلامتی کو داخلی سطح پر لاحق خطرات اور چیلنجز کا ادارک نہ کرتے ہوئے اِس غیرمتوقع فیصلے کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ یقیناًدوست تو وہی ہوتا ہے جو آپ کی درون خانہ حالت سے واقف ہو اور آپ سے کسی ایسی چیز یا اقدام کا مطالبہ یا توقع نہ رکھے‘ جسے سرانجام دینا آپ کے لئے کلی طور پر یا سردست ممکن نہیں ہوتا۔ جب پاکستان کی جانب سے یمن تنازعہ میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ سامنے آیا تو متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ نے کہا ’’پاکستان کو اِس فیصلے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی!‘‘ جس کاجواب دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرداخلہ نے متحدہ عرب امارات کو یاد دلایاکہ ’’پاکستان ایک باعزت قوم کا نام ہے اور ایسا بیان پاکستانی قوم کو دھمکی دینے کے مترادف ہے۔‘‘

پاکستان کی قانون ساز قومی اسمبلی نے کئی دن تک بحث و مباحثے کے بعد فیصلہ کیا لیکن سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد کے لئے پاکستان کا یہ فیصلہ ’خطرناک‘ بھی تھا اور اِسے ’غیرمتوقع‘ بھی قرار دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کا اتحاد ایک ایسے جال میں پھنس گئے ہیں جو ایک دوسرے سے کئے گئے وعدوں سے بُنا ہوا ہے اور دونوں ہی فریق حالات کا اپنے اپنے نکتۂ نظر سے جائزہ لے رہے ہیں اور ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ تو پاکستان کے حق میں ہے اور نہ ہی اِسے سعودی عرب سمیت اُس کے اتحادی ممالک کے مفاد میں قرار دیا جاسکتا ہے۔ مختلف النظریات دونوں فریقین کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کی پوزیشن کا ادراک کریں‘ اسے سمجھیں اور ایک دوسرے وابستہ توقعات کو اُس انتہا تک نہ لے جائیں جہاں فاصلے پیدا ہونے لگیں اور ایک دوسرے پر اعتماد کم ہوتا محسوس ہو۔ اس میں شک و شبہ نہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے دیرینہ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور سعودی عرب نے کئی ایک مشکل مواقعوں پر پاکستان کی مدد کی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان داخلی طور پر ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں کامیابی اُس کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک جذباتی‘ اپنے مفاد کے اسیر اور حالات کی نزاکت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اُنہیں پاکستان سے جو توقعات اور امیدیں وابستہ تھیں وہ چونکہ پوری نہیں کی گئیں اِس لئے وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوگئے۔ اُنہیں پاکستان اور ہمارے ہمسایہ ایران کے ساتھ تعلقات کی نزاکت و اہمیت اور اِس سے جڑے تقاضوں کا بھی ادراک کرنا چاہئے۔ یہ موقع پاکستان کے سفارتکاروں کو اپنی غیرمعمولی کارکردگی دکھانے کا ہے کہ وہ عرب دنیا میں پاکستان کے خلاف پائے جانے والے غصے کو غم کریں اور اُس حقیقت کا پرچار کریں جس کی وجہ سے پاکستان نے ’یمن تنازعہ‘ میں فریق کی بجائے اِس سے ’غیرجانبدار‘ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں دو خطرات ظاہر ہوئے ہیں ایک تو ہمارے انکار سے سعودی عرب کے حکمران خود کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں اور دوسرا جمہوری اسلامی ایران کی خطے میں پوزیشن مستحکم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستانی سفارتکاروں کو عرب حکمرانوں اور عرب دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان کے لئے سعودی عرب اور ایران دونوں کی اہمیت ایک جیسی ہے اور پاکستان کسی کی بھی حمایت یا مخالفت نہیں کررہا۔

امریکہ اور فلپائن کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے جس کے تحت اگر کوئی ملک فلپائن یا امریکہ پر حملہ آور ہوگا تو دونوں ممالک اپنی اپنی افواج ایک دوسرے کے دفاع کے لئے استعمال کریں گے۔ ایسا ہی ایک معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے لئے درمیان بھی ہونا چاہئے لیکن کیا یمن نے سعودی عرب پر حملہ کیا ہے؟
پاکستان اگر سعودی عرب سے ایسا کوئی مشترکہ دفاع کا معاہدہ کرتا ہے تو اس کے عوض اسے اقتصادی فوائد حاصل کرنا چاہیءں۔ مثال کے طورپر قرض پر تیل حاصل کیا جائے‘ پاکستان میں بنی ہوئی مصنوعات کی عرب ممالک کی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ کیا جائے۔ پاکستان کی افرادی قوت کو دیگر ممالک کے زیادہ عرب ممالک میں ملازمتوں کے مواقع دیئے جائیں اور تیل و گیس مارکیٹ کے نرخ سے کم قیمت پر حاصل کئے جائیں۔ جس طرح سعودی عرب کو اپنا دفاع عزیز ہے پاکستان کے حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے مضبوط دفاع اور تربیت یافتہ فوجی قوت کا استعمال کرکے ملک کو درپیش توانائی بحران کا حل اور اقتصادی مشکلات کم کرنے کو پیش نظر رکھیں اور اسے اپنی ترجیح بنا کر ایک ایسی صورتحال سے کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کریں جو بظاہر پاکستان کے حق میں نہیں۔

(بشکریہ: دِی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ:شبیر حسین اِمام)
Turning crisis into opportunity