Showing posts with label Iraq. Show all posts
Showing posts with label Iraq. Show all posts

Thursday, May 25, 2017

May2017 Muslim World: The role of leaders!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کام سے کام!
پشاور کے سرتاج علمی و روحانی گھرانے آستانہ عالیہ حسنیہ کے چراغ پیرطریقت سیّد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی سرکاررحمۃ اللہ علیہ (المتوفی چودہ سو پچیس ہجری) کی صحبت بابرکات میں ایک مرتبہ خیروشر کی بحث میں برسبیل مثال سُوال زیربحث آیا کہ ’اللہ تعالیٰ نے شیطان کو (شر کی) آزادی کیوں دی؟‘ آپؒ نے فرمایا (جس کا تلخیص یہ ہے) کہ ’’خیر کا اصطلاحی مفہوم سمجھنے سے شر کے معانی خودبخود واضح ہو جائیں گے کیونکہ ہمارے ہاں بہت سے الفاظ‘ کلمات اور اصطلاحوں کی علمی سطح پر الگ الگ تعریفات ماخوذ ہیں یعنی علمی و عرفی سطح پر لفظ کا مفہوم کچھ اُور ہوتا ہے لیکن عرف عام میں اُسے مختلف انداز میں سمجھا جاتا ہے۔ اِس لئے سب سے پہلے تو یہ بات ضروری ہے کہ علمی اور عرفی سطح پر الفاظ کے درمیان مطالب کے اِس فرق کو معمولی نہ سمجھا جائے اور دوسرا اِس بذریعہ تحقیق اِس فرق کی تہہ تک جایا جائے۔ جس کے ضروری ہے کہ جس کسی بھی علم کی بحث ہو‘ اُس کے متعلقہ ماہر (اہل) سے رائے لی جائے۔ اگر کوئی شخص چند بیماریوں کے نام سیکھ لے اور اُن بیماریوں کے بارے میں اپنے ذہن میں تصور قائم کر لے جیسا کہ عام طور پر مفہوم رائج ہوجاتا ہے اور پھر اپنے یقین کی بنیاد اُسی ناقص مفاہیم و تصورات پر رکھ لے تو وہ توہمات میں مبتلا رہے گا اور اُس کی زندگی ناپائیدار ہو جائے گی لیکن اگر یہی شخص کسی ڈاکٹر (متعلقہ شعبے کے ماہر) سے رہنمائی چاہے تو نہ صرف بہت سے مظالعے دور ہوتے چلے جائیں گے بلکہ کم سے کم یہ تو ضرور ہو گا کہ وہ شخص ’وہم میں مبتلا‘ نہ رہے۔ ممکن ہے کہ وہ خود کو کسی سنگین بیماری میں مبتلا سمجھ رہا ہو لیکن ڈاکٹر مسکرا کر کہے کہ آپ کو ایسی کوئی بیماری لاحق ہی نہیں اُور جس علامت (کیفیت و حال) کو آپ بیماری سمجھ رہے ہیں اُس کا سبب (وجہ) کچھ اُور ہی ہے۔ جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو ایسی سینکڑوں مثالیں بکھری ملتی ہیں‘ جن میں عمومی تصورات کی وجہ سے مغالطے عام ہو جاتے ہیں۔ اِسی لئے قرآن حکیم نے اکیسویں ’سورۂ انبیاء‘ کی ساتویں آیت کے ایک حصے میں یوں رہنمائی فرمائی ہے کہ (ترجمہ عرفان القرآن) ’’(لوگو!) تم اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو‘ اگر تم (خود) نہ جانتے ہو۔‘‘ لیکن یہ بات صرف دینی علوم کی حد تک ہی محدود نہ سمجھی جائے بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی ’درست رہنمائی‘ کے لئے ’اہل‘ ہی کے پاس جانا پڑے گا۔ کسی اہل ہی کی بات کو سننا پڑے گا۔ دنیا کو امن کی ضرورت ہے تو جس طرح ’خیر اور شر‘ کے اصطلاحی مفہوم کی تلاش کرنی ہے‘ اسی طرح ’امن‘ کی کھوج (ابتدأ) بھی اُس کے اصطلاحی مفہوم ہی سے ممکن ہو گی۔

الفاظ کے اصطلاحی و عرفی مفہوم اُور متعلقہ شعبے کے اہل افراد سے رجوع کرنے پر مبنی تمہید کو ذہن میں رکھتے ہوئے دوسری مثال ملاحظہ کیجئے۔ عراق میں مئی دوہزار تین سے جون دوہزار چار تک تعینات رہنے والے امریکہ کے سفارتکار ’’لوئس بال بریمر سوئم ( Lewis Paul Bremer III) جو کہ یکم نومبر دوہزار تین سے اٹھائیس جون دوہزار چار تک عراق کے نگران سربراہ (ایڈمنسٹریٹر) بھی رہے نے عراق کے حوزہ علمیہ قم (نجف اشرف) کے معلم اور روحانی پیشوا ’سیّد علی حسینی السیستانی‘ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن جب باوجود کوشش بھی وقت نہ ملا تو اُنہوں نے درجن سے زائد (پندرہ) صفحات پر مبنی تحریر میں عراق کی صورتحال اور قیام امن کے لئے امریکہ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے تبادلۂ خیال کو ناگزیر قرار دیا۔ اِس طویل خط کا جواب آقائے سیستانی نے ’بناء القابات‘ صرف تین جملوں میں دیا۔ ’’باسمہ تعالیٰ۔ آپ امریکی ہیں‘ میں اصلاً ایرانی ہوں۔ عراقیوں کا مسئلہ عراقی عوام پر چھوڑ دیں۔‘‘ اِس جواب کے بعد امریکی سفارتکار بغداد سے نجف اشرف (170 کلومیٹرز فاصلہ طے کر کے) بناء اطلاع آقائے سیستانی کے دروازے پر حاضر ہوا اور صرف ’دو منٹ‘ ملاقات کے لئے وقت مانگا لیکن اُنہیں ایک منٹ بھی نہیں دیا گیا! آخر اِس درجہ یقین واطمینان کہاں سے حاصل ہوتا ہے کہ جس کی بنیاد پر کردار و فکر مستحکم ہو جائیں اور انسان دنیا کا طلبگار ہی نہ رہے؟ دنیاوی علوم کا سراب یہ ہے کہ اکثریت ’دنیا طلبی‘ کا شکار ہو کر درخواست گزار رہتی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اُس کی جانب متوجہ رہے اور بالخصوص امریکہ کا کوئی صدر‘ وزیر‘ مشیر‘ نمائندہ شرف ملاقات دے کر عزت افزائی کرے!

کون نہیں جانتا کہ ’واحد سپرپاور‘ ہونے کے بعد سے طاقت کا نشہ امریکہ کے سر چڑھ کر بول رہا ہے اور امریکہ ہی کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں کا نشانہ یا تو ’اسلامی دنیا کی دولت اور وسائل‘ ہیں یا پھر مسلمان کہ جنہیں توہین آمیز لہجوں میں ’بنیاد پرست‘ دہشت گرد‘ انتہاء پسند‘ قرار دیا جاتا ہے۔ آج کی حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو اِن متعصبانہ امریکی پالیسیوں سے براہ راست متاثر نہ ہو رہا ہو اور اِسی وجہ سے مسلمان ممالک کو ایک ’ملت قرآن‘ ہونے کے باوجود بھی اپنے ہی ہم مذہب کے خلاف دفاعی اتحاد بنانے پر اُکسایا گیا‘ تاکہ امریکہ کی دفاعی مارکیٹ (اسلحہ ساز اداروں) کا ’بزنس‘ بڑھے۔ امریکہ کے صدر نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لئے سعودی عرب اور دوسرے کے لئے ’غاصب اسرائیل‘ کا انتخاب کرکے ایک ’ناجائز مملکت‘ کو ’جائز‘ بنانے کی کوشش کی ہے۔ 

مسلم ممالک کے سربراہوں کو ’شاطرانہ چال‘ کے درپردہ ’سازش‘ کے جملہ پہلوؤں پر مل بیٹھ کر غور کرنا چاہئے بشمول اِس نتیجہ خیز بحث پر مسلمان ممالک میں استصواب رائے عامہ (ریفرنڈم) کیوں نہیں ہوسکتا کہ ۔۔۔ ’’آج کی دنیا میں امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ کون ہے؟ 

دہشت گردی اور دہشت گردوں کا سرپرست کون ہے؟ بنیاد پرستی اُور دوستی کی آڑ میں دشمنی کرنے کی مہارت کون رکھتا ہے؟ 

مسلمان ممالک کو آپس میں اُلجھا کر سیاسی‘ کاروباری اور تجارتی فوائد کون حاصل کر رہا ہے؟ مسلم دنیا کی غربت و جہالت اُور امن و امان کی آگ بھڑکائے رکھنے کا درپردہ ذمہ دار کون ہے؟ 

عراق کے چھیاسی سالہ بزرگ آقائے سیستانی خدائی مخلوق نہیں وہ نہ تو معصوم ہیں اور نہ خطاؤں سے محفوظ لیکن اُن کے کردار کے پیچھے ’’اسلامی تعلیمات کا نور‘‘ ہے‘ جو اُن کے قول و فعل اور استحکام سے جھلک کر رہا ہے‘ یقیناًعالمی سطح پر امن کا قیام صرف اسی صورت ممکن ہے جبکہ ہر ملک اپنے کام سے کام رکھے اور سیاسی یا دفاعی سمیت جملہ معاملات میں کسی بھی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے عملاً باز (الگ) رہے۔

Thursday, August 14, 2014

Aug2014: Iraq & International standards

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آتش فشانیاں
امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’’شمالی عراق کے پہاڑ میں پناہ لئے افراد کی تعداد اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ’’زیادہ امکان ہے‘‘ کہ ان لوگوں کو وہاں سے نکالا جائے۔ داعش نامی تنظیم کے خلاف امریکہ کی فضائی کارروائیوں اور جبل سنجار میں صورتحال بہتر کرنے کے لئے امدادی سامان کی فراہمی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا! ’’وہاں نا صرف کچھ ہی افراد ہیں بلکہ وہ قدرے بہتر حالت میں ہیں اور خوراک و پانی کی فراہمی سے متعلق ہماری کوششوں کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ وہ داعش کے خلاف ہونے والی فضائی کارروائیوں سے بھی محفوظ بیٹھے ہیں تو یہ اچھی خبر ہے۔ عراقی کرد اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے عسکریت پسندوں کے حملوں سے پہلے ہی شام کی سرحد کے قریب سنجار کی پہاڑی میں پناہ کے رکھی تھی۔ امریکی صدر کے فوجی مشیر ہیگل کا کہنا ہے کہ ’’مثبت جائزہ رپورٹ آنے کے باوجود امریکہ کی عراق میں کوششیں ’’مکمل نہیں‘‘ ہوئیں۔ صدر باراک اوباما نے عراق میں لڑائی کے لئے دوبارہ فوج بھیجنے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی اپنے عہدے سے ہٹنے کے لئے بین الاقوامی دباؤ کی مزاحمت کررہے ہیں۔ المالکی کے بقول وہ اقتدار نہیں چھوڑیں گے جب تک عدالت صدر فواد معصوم کی طرف سے وزیراعظم نامزد کرنے پر فیصلہ نہیں سناتی۔

اس تناؤ بھرے سیاسی ماحول اور قتل و غارت گری کا ماحول شمال عراق میں داعش کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کاروائیوں کے پیش نظر ملکوں اور بین الاقوامی اداروں نے اعلان کیا ہے وہ تکفیری گروہ سے مقابلہ اور جنگ زدہ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے دس جون دوہزار چودہ کو عراق شمالی علاقے پر حملہ کرکے بعض شہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ داعش عراق میں خاص طورپر عیسائی اور ایزدی مذہبی اقلیتوں کے خلاف بہت زیادہ جرائم کا مرتکب ہوا ہے جس کے نیتیجے میں عراقیوں کی ایک بڑی تعداد اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر علاقوں میں نقل مکانی کر چکی ہے۔ اس بارے میں یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں مذہبی اقلیت کے ایزدی پناہ گزینوں کی امداد کے ساتھ پچاس لاکھ یورو کی مزید مدد کرے گا‘کیونکہ اس وقت عراق شدید بحران سے دوچار ہے۔ یورپی کمیشن یہ رقم پناہ گزینوں اور بے گھر ہونے والے عراقیوں کے لئے حکومت عراق کے حوالے کرے گا اس رپورٹ کے مطابق عراق کے لئے یورپی کمیشن کی اس امداد کے ساتھ دوہزار چودہ میں یورپ کی طرف سے عراق کو دی جانے والی مدد کی رقم ایک کروڑ ستر لاکھ یورو ہوجائے گی ۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق شمال عراق میں برطانوی جنگی طیاروں نے آپریشن کے مقصد سے برطانیہ کو ترک کردیا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کے ٹورناڈو نامی تین جنگی طیاروں نے شمال عراق میں انسان دوستانہ مدد پہنچائی۔ اس بات کا امکان ہے کہ شمال عراق کے فوجی آپریشن میں برطانیہ کے چھ سے آٹھ تک ٹورناڈو جنگی طیارے حصہ لیں گے۔ برطانوی اعلی حکام نے عراق بحران سے متعلق کبری کے نام سے اپنی دوسری ہنگامی نشست میں شمال عراق میں کرد فوجیوں کو مسلح کرنے اور ٹورناڈو جنگی طیاروں کے بھیجنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

جمہوریہ چیک کے وزیر خارجہ نے بھی عراق کے کرد فوجیوں کو مسلح کرنے کے منصوبے کی خبر دی ہے۔ جمہوریہ جیک کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ یہ امداد عراق اورجمہوریہ چیک کے مابین دوجانبہ مدد کے سمجھوتے کے تحت ارسال کی جائے گی۔ جرمنی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بھی عراق کو داعش کے خلاف مدد کے طورپر بکتر بند گاڑیاں بھیجنے کے لئے تیار ہے۔ اس بارے میں جرمن وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق کے لئے انسان دوستانہ مدد بھیجنے کے علاؤہ عراقی فوجیوں کے لئے جنگی ساز وسامان بھی بھیج سکتاہے۔ جرمن وزیر دفاع نے برلن میں اپنے ہم منصب برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالون سے ملاقات میں جنگی علاقوں میں ہتھیار نہ بھیجنے کے حکومت برلن کے مؤقف کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ اگر عراق میں نسل کشی کا واقعہ پیش آتاہے تو اس بارے میں بحث کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے دفاع نے عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف امریکہ کے حملے کی حمایت کی۔ امریکی وزیر جنگ چک ہیگل نے عراق میں ایک سو تیس امریکی فوجیوں کے بھیجے جانے کی خبر دی ہے اطلاعات کے مطابق امریکہ کے یہ فوجی آج کردستان کے مرکزی شہر اربیل پہنچ گئے ہیں۔

عراق کی سنگین صورتحال کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر نے عراق میں درپیش مشکل صورت حال کا ذمہ دار عراقی سیاسی رہنماؤں کی ناکامی کو قرار دیا ہے حالانکہ عراق میں جو کچھ بھی کیا دھرا ہے‘ اس کے لئے صرف اور صرف امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کا جنگی جنون ہے‘ جو تیل جیسی دولت سے مالا مال اِس پورے خطے کے وسائل پر لالچی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے والوں کے ہاتھ راکھ کے سوا کیا کچھ آئے گا‘ اس بارے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں البتہ اِس راکھ میں اُن کے اپنے مفادات اور اثاثے بھی خاکستر ہو سکتے ہیں۔ عراق کی آتش فشاں صورتحال اور انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں خطے میں ہونے والی اُن تبدیلیوں کی ایک جھلک ہے جس کے تسلسل اور کہانی کو مکمل کرنے کے لئے پاکستان میں بھی ’آزادی‘ اور ’انقلاب مارچ‘ کے نام سے منظم احتجاج کا آغاز کر دیا گیا ہے۔