Showing posts with label USA. Show all posts
Showing posts with label USA. Show all posts

Monday, May 1, 2023

Mahsa Act

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

ایران: سروری بمقابلہ خودی کی موت

جمہوری اسلامی ایران کے دارالحکومت تہران میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے ’22 سالہ‘ خاتون ’مہسا ایمنی (Mahsa Amini)‘ کو حجاب (پردہ) درست انداز میں نہ اُوڑھنے پر گرفتار کیا اُور گرفتاری کے تین دن بعد (16 ستمبر 2022ء) کے روز ’مہسا ایمینی‘ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ ورثا کے مطابق اُس پر شدید تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے وہ ’قوما‘ میں چلی گئی اُور تشدد کے باعث زخموں کی وجہ سے اُس کی موت ہو گئی۔ ’مہسا ایمینی‘ کی موت کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی اکا دکا رپورٹ ہو رہا ہے اُور اِس ایک واقعے سے ایران میں خواتین کے خلاف قوانین پر ’سخت گیر‘ عمل درآمد عالمی سطح پر بھی اِس شدت سے زیرغور آیا کہ ایران حکومت کو حجاب پر پابندی کے حوالے سے عوامی حمایت کے مظاہرے کرنا پڑے اُور حجاب کی اہمیت کے حوالے سے قرآنی و شرعی احکامات و ہدایات کو بیان کرنے کے لئے باقاعدہ مہمات چلائی جا رہی ہیں لیکن یہ معاملہ کسی بھی صورت ’ٹھنڈا (رفع دفع)‘ نہیں ہو رہا۔ بیرون ملک بالخصوص امریکہ میں مقیم ایرانیوں اُور ایرانی نژاد امریکیوں کی جانب سے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایران کے خلاف عائد مزید عالمی پابندیاں عائد کرے تاکہ ایران کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے اُور وہ اپنے خواتین کو امریکہ کی مرضی اُور تسلی و تشفی کے مطابق ”آزادی“ دے۔ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا ایک مسودہ قانون تیار کر کے امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) کی ذیلی کمیٹی کو ارسال کیا گیا جس کے کسی بھی رکن کو اِس کی کسی بھی شق پر اختلاف نہیں ہوا اُور یوں یہ مسودہئ قانون متفقہ طور پر درست تسلیم کر لیا گیا جس کا لب لباب یہ ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کے سربراہ (سپریم لیڈر) سیّد علی خامنہ ای اور انقلاب اسلامی ایران کے حامی اعلیٰ حکومتی شخصیات پر پابندیاں عائد ہونی چاہئے۔ بل کو ”انسانی حقوق“ کے زمرے میں شمار کرتے ہوئے ”مہسا ایکٹ (Mahsa Act)“ کا نام دیا گیا جس کی رواں ہفتے (چھبیس اپریل) خارجہ امور سے متعلق کانگریس کی ذیلی کمیٹی نے منظوری دی اُور اب یہ قانون کانگریس ایوان (فل ہاؤس) میں پیش کیا جائے گا جہاں سے اِس کی ممکنہ طور پر باآسانی منظوری ہو جائے گی کیونکہ کانگریس میں موجود ’یہودی یا اسرائیل کی حمایت کرنے والے اراکین‘ پہلے ہی اِس بل کی تیاری اُور منظوری کے لئے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اِس نئے قانون کی منظوری سے ایران حکومت کے سربراہ اُور دیگر اہم شخصیات (بشمول صدر رئیسی‘ اُن کے کابینہ اراکین اُور سپرئم لیڈر کے ساتھ کام کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں) پر پہلے سے موجود عالمی پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی تاہم اِس سے ایران کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جنوری 1978ء سے فروری 1979ء کے درمیان برپا ہونے والے ’انقلاب ِاسلامی ایران‘ کا مرکزی نکتہ ہی امریکہ اُور مغرب کی ثقافت و سیاست اُور غلامی سے آزادی اُور ’اسلامی تشخص‘ کو اپنانا تھا اُور ایران کی قیادت اُور عوام کی اکثریت آج بھی اپنے اِس مقصد سے جڑے ہوئے ہیں۔ 

مہسا ایمینی کی زیرحراست موت کے بارے میں ایرانی حکومت نے ایک وضاحتی بیان ہمراہ شواہد (کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے سے حاصل کردہ ویڈیو) کے ہمراہ جاری کیا جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ’مہسا ایمینی‘ حراست میں لینے سے پہلے گرتی ہے اُور اُسے طبی امداد کے لئے اسٹریچر پر ڈال کر ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے جہاں اُس کی موت ہوئی تھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایران میں خواتین کے لئے لازمی ملبوسات کا حصہ ’حجاب‘ ہے جس کی عموماً خلاف ورزی دیکھنے میں آتی ہے لیکن اِسے اتفاقی و غیردانستہ غلطی سمجھا جاتا ہے اُور حجاب درست طریقے سے نہ لینے والی خواتین جو اپنا سر اُور بال مکمل طور پر نہیں ڈھانپتیں اُنہیں ’متنبہ (وارننگ)‘ دی جاتی ہے تشدد نہیں کیا جاتا لیکن امریکہ ایران پر پہلے سے موجود پابندیوں کو ”مشترکہ جامع ایکشن پلان“ کے تحت دوبارہ نافذ کرنا چاہتا ہے جس کا ایک تعلق دہشت گردی سے بھی جڑا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اُور یورپ کی نظروں میں اِیران صرف اِس لئے کھٹک رہا ہے کیونکہ وہ قابض اِسرائیل کے ناجائز اُور غیرقانونی قبضے اُور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اِسرائیلی مظالم کی مذمت سے لیکر ’اِنہدم ِجنت البقیع‘ تک کے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے اُور اِس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔

مہسا (ایمینی) ایکٹ جس کا اصطلاحی نام ”ایچ آر 589“ ہے جن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اُور مبینہ دہشت گردی کا احاطہ کرتا ہے اُس کا مرتکب صرف ایران ہی نہیں بلکہ امریکہ اِس سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اُور جنگی جرائم کا مرتکب ہے لیکن چونکہ مسلمان ممالک (مسلم اُمہ) اپنے مفادات کے لئے متحد نہیں اِس لئے امریکہ یک طرفہ طور پر اسلامی ممالک پر جنگیں مسلط کرنے اُور اسرائیل کے فلسطین جبکہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکہ ’عالمی تھانیدار‘ بن کر من چاہی قانون سازی کے ذریعے دنیا پر اپنا تسلط دھونس‘ جنگ اُور معاشی و اِقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے جو ایک حقیقت فراموش کر رہا ہے وہ اسلام پر عملاً استقامت کے مظاہرے سے حاصل ہونے والی طاقت اُور یقین ہے جو ہر دور میں آمریت و ملوکیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ہمیشہ فاتح و سرخرو رہی ہے۔ ایران کی قیادت اُور عوام کی سوچ میں اشتراک یہ ہے کہ یہ اپنی خودی اُور خود داری کے ساتھ جینا اُور مرنا چاہتے ہیں۔ اِنہیں معاشی آسانیوں کے لئے عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی تمنا تو ہے لیکن بقول علامہ اقبالؒ یہ اِس سروری کے لئے اپنی خودی کی موت ہونے نہیں دیں گے۔ ”کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن …… خودی کی موت ہو جس میں وہ ’سروری‘ کیا ہے (علامہ اقبالؒ)۔“

……

Women Rights are Human Rights


Sunday, January 7, 2018

TRANSLATION: Toxic marriage by Dr Farrukh Saleem

Toxic marriage
مہلک تعلقات!
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ادوار 70 سال پر محیط ہیں دونوں ممالک کے درمیان قربت اور تعلقات عدم توازن کا شکار رہے اور اگرچہ یہ تعلقات ’ایک دوسرے پر ’انحصار‘ جیسی دوطرفہ ضرورت کے تحت استوار ہیں لیکن پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کسی نہ کسی درجے باہمی اعتماد کا فقدان رہا ہے۔ امریکہ کے نکتہ نظر سے پاکستان کی اہمیت اُس کے خطے میں اپنی حاکمیت اور وجود برقرار رکھنے کے لئے ایک ضروری ہے جبکہ پاکستان کے لئے امریکہ مالی و اقتصادی معاون سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ دونوں ممالک کے درمیان اگرچہ کبھی بھی مثالی نہیں رہے لیکن اِنہیں منقطع کرنے کا بھی کبھی مرحلہ نہیں آیا۔

امریکہ کی جانب سے مالی سال دوہزار دو سے دوہزار اٹھارہ کے عرصے میں مجموعی طور پر ’33.927 ارب ڈالر‘ بطور ’دفاعی اخراجات‘ ادائیگیاں کی گئیں۔ اِن میں سیکورٹی سے جڑی مدوں میں 8.259 ارب ڈالر‘ اقتصادیات کے لئے 11.095 ارب ڈالر اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اتحادی کے طور پر کردار ادا کرنے اور اِس عرصے میں ہوئے نقصانات کی تلافی کے لئے 14.573ارب ڈالر دیئے گئے۔ یہ تمام ادائیگیاں 28 نومبر 2017ء تک وصول ہوئیں۔ قابل ذکر ہے کہ بطور اتحادی پاکستان کو دی جانے والی ادائیگیاں اُن اخراجات کی مد میں ہوتی ہیں جو پاکستان اتحادی افواج کو سہولیات بہم پہنچانے یا اُن کے مقرر کردہ اہداف کے مطابق (امریکی منظوری سے) عسکری مہمات پر اپنے وسائل سے کرتا ہے اور بعدازاں یہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ درحقیقت بطور اتحادی ملنے والی 75فیصد امداد ’اتحادی سپورٹ فنڈ‘ کا حصہ ہوتی ہے جبکہ پچیس فیصد باقی ماندہ امداد اقتصادی امور کے دی جاتی ہے۔

امریکہ اب تک افغانستان میں 714ارب ڈالر خرچ کر چکاہے۔ افغانستان میں امریکہ کی جنگ اُس کی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین مہم ہے۔ لانگ وار جرنل نامی ایک تحقیقاتی اشاعتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ’’طالبان افغانستان کے 45فیصد اضلاع پر یا تو قابض یا وہاں قابض ہونے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان میں ’’راہ نجات‘‘ نامی فوجی کاروائی کے ذریعے جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے کا) 6ہزار 619 مربع کلومیٹر حصے پر حکومتی عمل داری قائم کی گئی۔ ’’ضرب عضب‘‘ کے نام سے شمالی وزیرستان کا 4 ہزار 707 مربع کلومیٹر حصہ جبکہ بونیر‘ لوئر دیر‘ سوات اور شانگہ میں فوجی کاروائیوں سے بھی اِن علاقوں کو عسکریت پسندوں کی دسترس سے آزاد کرایا گیا جو پھیل چکے تھے۔ پاکستان کا بیانیہ (کہنا) یہ ہے کہ ہمارے ملک کا کوئی ایک بھی ایسا حصہ نہیں جہاں حکومت کی عمل داری قائم نہ ہو اور نہ ہی پاکستان میں ایسا کوئی بھی منظم عسکری گروہ ہے جو کسی ایک جگہ اپنا مرکز رکھتا ہو لیکن بدقسمتی سے پاکستان اپنے اِس بیانئے (مؤقف) کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا‘ جس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں یہ گمراہ کن شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ یہ دہشت گردوں کا مرکز ہے۔

خطرے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے ایک عالمی سازش پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کا ادارہ منظم و فعال ہے لیکن پاکستان کی اقتصادی صورتحال دگرگوں ہے۔ آئندہ بارہ کے دوران پاکستان کو کم سے کم چھ ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہیں یہ وہ ادائیگیاں ہیں جو بیرون ملک قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے دینی ہیں۔ توقع ہے کہ رواں برس (دوہزاراٹھارہ) ماہ جنوری سے جون کے عرصے میں پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ قریب 8 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ بائیس دسمبر دوہزار سترہ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 14.1 ارب ڈالر کے ذخائر تھے اور آئندہ چھ ماہ کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس اِس رقم کا بھی نہایت ہی معمولی سا حصہ باقی رہ جائے گا‘ جو خطرناک اقتصادی صورتحال کی جانب بطور اشارہ عرض ہے۔

تصور کیجئے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 35 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ تصور کیجئے کہ پاکستان کے بجٹ کا خسارہ 2.2 کھرب روپے ہو جائے گا اور یہ حقائق امریکہ کے صدر ٹرمپ کے سامنے یقیناًہوں گے۔ مجھے کئی تجزیہ کاروں کو یہ کہتے ہوئے سننے کا اتفاق ہوا کہ پاکستان روس اور چین کے درمیان اقتصادی و دفاعی شعبوں میں اتحاد ہونا چاہئے لیکن کیا ایسا کوئی ممکنہ اتحاد پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کر پائے گا؟ کیا ماضی میں اس قسم کے سہ ملکی اتحاد کی کوششیں نہیں کی گئیں اور ان کا کیا نتیجہ برآمد ہوا۔

تصور کیجئے کہ امریکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک برائے تعمیرو ترقی کی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے اور اِن مالیاتی اداروں میں امریکہ نے بڑی سرمایہ کاری کے عوض کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنی تجارت ’ڈالر‘ کی بجائے ’یوآن (چینی کرنسی)‘ میں کرنے کا خواہاں ہے لیکن کیا ایسا کرنے سے پاکستان کو قومی سطح پر درپیش آمدن و اخراجات میں (بجٹ) خسارے پر قابو پالیا جائے گا؟

18 دسمبر 2017ء کے روز ٹرمپ نے بطور صدرِ امریکہ اپنی پہلی قومی سلامتی حکمت عملی پیش کی‘ جس میں اُس نے چین کی اقتصادی و تجارتی ترقی کو بھی نشانہ بنایا۔ میرے خیال صدر ٹرمپ پاکستان و افغانستان کی بجائے پاکستان اور چین کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ صورتحال محتاط ردعمل اور حالات پر نگاہ رکھنے کا ہے کیونکہ جب ہاتھیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو اُس میں گھاس کچلی جاتی ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Friday, December 8, 2017

Dec 2017: Unity is the answer to the problems facing Ummah!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ مقصود کیا ہے!؟
چھ دسمبر کی یخ بستہ رات جب ہر طرف ’ہو کا عالم‘ تھا‘ تو پاکستان سمیت دنیا کی نظریں ’وائٹ ہاؤس‘ سے براہ راست نشریات پر ٹکی تھیں۔ قریب گیارہ منٹ جاری رہنے والی یہ نشریات پاکستانی وقت کے مطابق گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر اختتام پذیر ہوئیں جس کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ پر ہنگامہ برپا ہو گیا کیونکہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی تعریف میں کہتے اور جذبات کی رو میں بہتے چلے گئے! 

ٹرمپ نے کہا کہ ’’ماضی کے امریکی صدور میں ہمت نہیں تھی کہ وہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرتے لیکن بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘ ٹرمپ جس چیز کو ’’وقت آگیا ہے‘‘ کہہ رہے تھے‘ اُس سے صاف ظاہر تھا کہ اِس اعلان سے قبل انہوں نے مسلمان ممالک کی جانب سے ممکنہ مزاحمت (ردعمل) کا حساب کتاب لگا رکھا تھا اور تعجب خیز نہیں ہوگا اگر بعدازاں ثابت ہوا‘ کہ امریکہ امہ کی قیادت کرنے والے مسلمان حکمرانوں کو اعتماد میں لے چکے تھے کیونکہ بصورت دیگر کسی امریکہ صدر کی بھلا یہ جرأت ہو سکتی تھی کہ اسرائیلی مؤقف کی یوں حمایت کرتے ہوئے حکم صادر فرماتے! 

امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو تسلی بھی دی اور کہا کہ ’’یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لئے کاوشیں جاری رہیں گی۔‘‘ حالانکہ جب تک اسرائیل کا ’’ناجائز وجود‘‘ برقرار ہے‘ اُس وقت عرب خطے میں ’امن و سلامتی‘ کے قیام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لئے مسلمانوں‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔‘‘ امریکہ کو ’مشرق وسطی‘ سے زیادہ اپنے اور اسرائیل کے مستقبل کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ قابض اسرائیل کی موجودگی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ’مڈل ایسٹ‘ کا ’مستقبل‘ روشن ہو‘ یقیناًامریکہ کے صدر نے وہی کچھ کیا جو اُن کے بہترین مفاد میں ہے لیکن کیا یہی بات مسلمان ممالک کے سربراہان کے سامنے بھی زیرغور ہے کہ اُن کا ’بہترین مفاد‘ کس امر میں ہے؟ اِس پورے معاملے پر اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیم حماس کا فوری ردعمل لائق توجہ ہے کہ ’’امریکہ کے صدر نے جہنم کے دروازے کھول دیئے ہیں!‘‘ 

کیا یہ امریکی صدر کا بیان اور حماس کا ردعمل مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرے گا؟ ’’ہماری تہذیب کے مظاہر جمیل بھی تھے‘ جلیل بھی تھے: اگر تھے ابربہار اپنے قلم تو تیغ اصیل بھی تھے ۔۔۔ مگر بتدریج اپنی عظمت کے ان منازل سے ہٹ گئے ہم: بہت سے اوہام اور اباطیل کے گروہوں میں بٹ گئے ہم!‘‘

محاورہ ہے کہ ’وہ مکا جو لڑائی کے بعد یاد آئے تو اُسے اپنے منہ پر مارنا چاہئے۔‘ مسلمان ممالک کو پوری قوت کے ساتھ ردعمل کا مظاہرہ اُس وقت کرنا چاہئے تھا جب ’’8نومبر 1995ء‘‘ کو امریکہ کے قانون سازوں نے ’’یروشلیم ایمبیسی ایکٹ‘‘ نامی قانون منظور کیا تاہم اِس پر عمل درآمد کرنے کی کسی بھی امریکی صدر کو جرأت نہ ہوسکی اُور وہ اِسے ٹالتے رہے۔ ٹرمپ کے اعلان کے خلاف مسلم دنیا کا ردعمل ’’قابل دید‘‘ اُور ’’حاصل دید‘‘ ہے! 

پاکستان کی جانب سے امریکی صدر کے اعلان کے فوراً بعد فلسطین سے ’’اظہار یک جہتی‘‘کا بیان جاری کرنے پر اکتفا کافی نہیں۔ فلسطینی جماعت حماس نے ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف تین روزہ احتجاجی مہم کا اعلان کیا ہے جبکہ غزہ سمیت کئی شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ رات ہی سے شروع ہو چکا تھا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کیا۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرن امریکی فیصلے کو ’’افسوس ناک‘‘ کہا اور اعلان کیا کہ فرانس اس کی توثیق نہیں کرے گا۔‘‘ فلسطینی حکام کے علاؤہ ترکی‘ پاکستان‘ ایران سمیت مسلم دنیا کی جانب سے امریکہ کے ممکنہ متنازع فیصلے کا اعلان سامنے آنے سے قبل بھی اِس کی مخالفت میں بیانات جاری کر چکے ہیں۔ 

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کی حمایت کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اس معاملے پر ’او آئی سی‘ فیصلے کی توثیق کی جبکہ ترک صدر رجب طیب اژدگان نے ’او آئی سی‘ کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے معاملے پر سنجیدگی سے گفت وشنید کا مطالبہ کیا اور امریکی فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’یروشلم‘ یا بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کاروائی یا دباؤ اور طاقت کے استعمال کو غیر قانونی قرار دینے اور اس سے گریز کرنے کے حوالے سے اسرائیل مخالف قرارداد منظور ہو چکی ہے‘ جو اُن میڈیا رپورٹس کے بعد پیش کی گئی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس قرار داد کے حق میں سب سے زیادہ 151ممالک نے ووٹ دیا جبکہ چھ ممالک امریکہ‘ کینیڈا‘ مائیکرونیزیا کی وفاقی ریاستوں‘ اسرائیل‘ جزائر مارشل اور ناورو نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے علاوہ نو ممالک آسٹریلیا‘ کیمرون‘ وسطی جمہوری افریقہ‘ ہونڈراس‘ پاناما‘ پاپوا نیو گنی‘ پیراگوائے‘ جنوبی سوڈان اور ٹوگو نے قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ صورتحال واضح ہے لیکن امریکہ ایک بڑا انتشار چاہتا ہے۔ 

مسلم و غیرمسلم ممالک کی اکثریت یروشلیم سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف ہے لیکن طاقت کے نشے میں امریکہ کی سیاسی قیادت پر ’’کلام نرم و نازک‘‘ کا اثر نہیں ہو رہا تو ایسی صورتحال میں مسلم دنیا کو ’اقوام متحدہ‘ کے غیرمؤثر ’پلیٹ فارم‘ سے علیحدہ ہو کر فلسطینی مسئلے کے بارے میں ایک ایسی متفقہ حکمت عملی وضع کرنا ہوگی‘ جس سے نہ صرف مسلم ممالک کی بلکہ ’دنیا کی تقدیر بدل جائے۔‘ یہ امر بھی زیرغور لانا ضروری ہے کہ ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب و اثرات‘‘ کیا ہیں اور نیند سے بیداری (لاشرقیہ لاغربیہ‘ اسلامیہ اسلامیہ) ضروری ہے کیونکہ مزید غفلت کی گنجائش باقی نہیں رہی! 
مسلمانوں کو اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی کیونکہ اُمہ کی زندگی کسی معجزے سے نہیں بلکہ صرف اُور صرف ’عمل‘ سے تبدیل ہوگی۔ 

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
مکے نے دیا خاک جنیوا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام کہ جمعیت آدم؟ (علامہ اِقبالؒ )
۔

Monday, January 30, 2017

Jan2017: Khudi & Allama Iqbal

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام


خودی



’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘ کا محاورہ صادق آتا ہے۔ جمہوری اسلامی ایران کی قیادت نے ’ڈونلڈ جان ٹرمپ‘ کو ’’کرارا جواب‘‘ دیتے ہوئے ایران سمیت چھ دیگر مسلم ممالک (عراق‘ لیبیا‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ شام اُور یمن) کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے جواب میں کہا ہے کہ ’’تہران نے بھی امریکی شہریوں پر اسی قسم کی پابندی عائد کر دی ہے۔‘‘ ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ’’ایران کی شہریت رکھنے والوں سے کسی بھی صورت ہتک آمیز سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جب تک امریکہ مذکورہ پابندی واپس نہیں لے لیتا‘ امریکی شہریوں کی بھی ایران میں داخلے پر پابندی عائد رہے گی!‘‘ 


کیا دنیا کا کوئی دوسرا اسلامی ملک ایسا ہے جس کی قیادت نے امریکی صدر کے فیصلے کو غیر قانونی‘ غیر منطقی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے یوں عملاً چیلنج کیا ہو؟ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اگرچہ پاکستان‘ افغانستان اور سعودی عرب کی شہریت رکھنے والوں کے خلاف ایسی واضح پابندی عائد نہیں کی تاہم پاکستان سمیت افغانستان و سعودی عرب سے آنے والی ویزا درخواستوں کی کڑی سکروٹنی (جانچ پڑتال) کا حکم دیا ہے اُور ’’کڑی‘‘ کا مطلب یہی ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے کے لئے اجازت نامہ (ویزا) حاصل کرنے والوں کے کوائف کو آئندہ جانچ پڑتال کے اضافی مراحل سے گزرنا پڑے گا! 

مسلم ممالک اور بالخصوص پاکستان جیسے اِتحادی ملک کے خلاف امریکہ کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے ذہن میں پائے جانے والے شکوک و شبہات (تحفظات) ہتک آمیز اور حیران کن ہیں۔ پاکستان کہ جس نے روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے امریکی عزائم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کہ جس نے نائن الیون کے بعد نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اوّل کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات‘ سلامتی اور معاشی و اقتصادی مستقبل تک کو داؤ پر لگا دیا۔ پاکستان کہ جس نے امریکہ کی محبت میں ایسے ایسے زخم سہے ہیں کہ اِس کا تن بدن اور روح تک آج تک لہولہان ہیں لیکن امریکی قیادت کا تلخ مزاج اور ماتھے پر شکنیں گواہ ہیں کہ وہ پاکستان کی دوستی اور ہرممکنہ حد سے زیادہ تعاون پر شکرگزار (احسان مند) نہیں! تو اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بالخصوص اور مسلم دنیا کی قیادت نے بالعموم ملت اسلامیہ کے اصل اثاثہ‘ اسلاف کی عملی تعلیمات اور پیغامات فراموش کر دیئے۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ’فلسفۂ حیات‘ اُور ’تصور خودی‘ کی موجودگی میں مسلمانوں کی پستی و زبوں حالی اور کسی عالمی طاقت کا یہ رویہ اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جذبۂ خود داری‘ غیرت مندی اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لئے کائنات کی قوتوں کے ساتھ برسرپیکار رہنے کا جو درس ’فلسفۂ عجم (1908ء)‘ اسرار خودی (1915ء) اُور رموز خودی (1918ء) میں دیا گیا تھا وہ سب کے سب بالائے طاق رکھ (فراموش کر) دیئے گئے ہیں!

اِقبال شناسی بھی بہت بڑی نعمت ہے! تفکر کو عمل سے مربوط کرنے کا مرحلہ ہے کہ علامہ اقبالؒ شعور و تفکر کی کس منزل پر‘ کس طرح کا عمل اور ردعمل چاہتے تھے۔ انہوں نے قوائے عملی کو مفلوج کر دینے والے ’افلاطونی نظریات‘ کو رد کیا تو کیوں؟ 

ہندوؤں کے فلسفۂ وحدت الوجود کا جواب دیا تو کیوں؟ اور ایرانی شاعروں کی رومانی شاعری کے مقابلے انسان اور انسانیت کو نئے مراتب اُور منزلوں (رفعتوں) سے آشنا کیا تو کیوں؟ ’’اگر خواہی خدا را فاش دیدن۔۔۔ خودی را فاش تر دیدن بیاموز۔‘‘ 

امریکہ عالمی طاقت ہونے کے بل بوتے پر آج پوری دنیا کو للکار رہا ہے تو یہ بات علامہ اقبالؒ کے ہاں بہت پہلے بیان ہو چکی ہے۔ اپنے سوا اور اپنے مفادات کے مقابلے امریکہ اگر آج کسی دوسرے ملک اور قوم کی عزت کو ضروری نہیں سمجھ رہا تو اِس کا حل بھی علامہ اقبالؒ کے ہاں ہی ملتا ہے جنہوں نے ’’خودی کو اِس انتہاء تک مضبوط‘‘ کرنے کا درس دیا کہ وہ گردوپیش کی گردشیں اور عالمی سیاسی حالات‘ واقعات اور معاملات تو کیا ’انسان‘ کی ذات میں چھپی مخفی طاقتوں میں اِس حد تک اضافے کا باعث بن سکتی ہے کہ ہر فرد اپنی تقدیر کے دھارے کا رُخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے۔ ’’ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے: خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے۔۔۔ عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں: تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے!؟‘‘

امریکہ کے نئے صدر نے گذشتہ دس روز میں جو کچھ بھی کیا اور وہ آئندہ چار برس تک جو کچھ بھی کرنے کی دھمکیاں (اشارے) دے رہے ہیں‘ اُس پر تنقید کرنے کی بجائے یہ محل مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ انہوں نے قرآن اور خطیب قرآن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے دلی‘ روحانی‘ اُور زمانی رشتے کتنے الگ کر رکھے ہیں۔ دنیا جان چکی ہے کہ کعبے سے منہ پھیڑ لینے سے سوائے ذلت کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی‘ سمجھ لیجئے کہ خودی کی تربیت میں اطاعت‘ ضبط نفس اور نیابت الٰہی کو پس پشت ڈالنے سے عروج نہیں ملے گا اور مسلمان انفرادی یا مسلم اقوام اجتماعی طور پر اُس وقت تک اپنی حیثیت نہیں منوا سکیں گے یعنی اُس وقت تک درجۂ کمال تک نہیں پہنچ سکیں گے جب تک ’ملت‘ نہیں بنیں گے اُور ملت کے تصور میں کسی ’’فرد کی انفرادیت‘‘ ختم نہیں ہوتی بلکہ اِس کی حیثیت پہلے سے نسبتاً زیادہ مضبوط‘ نمایاں اُور بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ 

پیغام یہ ہے کہ اَمریکہ یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک (عالمی طاقت) کا اتحادی بننے میں بقاء نہیں اور نہ ہی کسی ملک سے تصادم (آ بیل مجھے مار) کی پالیسی ’دور اندیشی‘ کے زمرے میں شمار ہوگی بلکہ مسلمان ممالک کو علوم و فنون اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اپنی فہم و فراست اور دانش میں اضافہ کرتے ہوئے یہ ’’باریک نکتہ‘‘ سمجھنا ہوگا کہ توحید و رسالت کی تقلید‘ اجتہاد اُور ملت اسلامیہ کی بنیاد و بقاء صرف اُور صرف ’’قرآنی تعلیمات‘‘ پر عمل درآمد میں پنہاں (پوشیدہ) ہیں۔ لاالہ الا اللہ (توحید) اُور محمد رسول اللہ (رسالت) کی گواہی کے بعد اِس کسوٹی پر عمل اعمال اور افکار سے پورا اُترے (کوششیں کئے) بناء دنیا و آخرت میں سرخروئی تو بہت دُور کی بات‘ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا وجود اور بقاء بھی خطرات سے دوچار دکھائی دے رہے ہیں۔ ’’در جماعت فرد را بینم ما: اَز چمن را چوں گل چینم ما۔۔۔ فرد تا اَندر جماعت گم شود: قطرۂ وسعت طلب قلزم شود۔‘‘

Wednesday, July 15, 2015

July2015: Logical comparision USA vs Pakistan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کام سے کام!
اَمریکہ سے چند ماہ کے لئے اپنے ملک کی سیر کے لئے آئے ایک جگری دوست سے ملاقات‘ حال احوال دریافت کرنے سے لیکر خطے کے حالات‘ یہاں وہاں کے مذہبی رحجانات میں آئی تبدیلیوں اُور مقامی سیاست جیسے موضوعات کا سرسری احاطہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کرتے کرتے ’آذان فجر‘ کے ساتھ ختم ہوئی جس کا حاصل وہ ایک بات رہی کہ ’’جو ایک بار امریکہ جاتا ہے‘ اُس کے لئے اگرچہ واپسی کے راستے ختم نہیں ہوتے لیکن وہ ایک ایسی ثقافت اور ماحول کا حصہ بن جاتا ہے جہاں سے اُس کی ذہنی وابستگی اور جسمانی تعلق باوجود خواہش بھی ختم ہونا ممکن نہیں رہتا۔‘‘ کیا یہ کشش معاشی و اقتصادی فوائد‘ روزگار کے بہتر مواقع‘ انسانی حقوق و احترام انسانیت پر مبنی بلاامتیاز قانون کی بالادستی‘ صحت و تعلیم کا معیاری نظام‘ ترقی کا پائیدار تصور‘ تعصبات سے پاک لین دین‘ مذہب‘ رنگ و نسل اور لسان جیسی ترجیحات کی بجائے بناء تفریق یکساں برتاؤ ہے یا پھر امن و امان کی صورتحال اُور تحفظ کا ایک ایسا لطیف احساس‘ کہ جس کی وجہ سے ہر کسی کو اپنی اپنی ذات میں چھپی ہوئی خداداد صلاحیتوں یا کسبی علوم و مہارت کے اظہار کے بھرپور مواقع میسر آ رہے ہیں؟ جو علوم و فنون حاصل کرنے کے ساتھ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں جس قدر ترقی کرنا چاہے‘ اُسے تو بس امریکہ ہی جانا چاہئے۔ جہاں ’اخلاق و اقدار‘ کا سخت گیر تصور نہیں پایا جاتا‘ ہر کوئی خود کو مادر پدر آزاد سمجھتے ہوئے بھی آزاد نہیں‘ جہاں زیادہ آمدنی والے طبقات زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں! جہاں جھوٹ بولنا‘ ملاوٹ اُور ذخیرہ اندوزی کرنا ایسے ناقابل معافی اور عبرتناک سزاؤں والے جرائم ہیں کہ اِن مکروہ افعال کے بارے میں سوچتے ہی اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ جہاں ذرائع ابلاغ کی آزادی اور ذمہ داریوں میں ایک توازن دکھائی دیتا ہے۔ جی ہاں یہ یہ بات اُسی امریکی معاشرے کی ہو رہی ہے جو کسی ایک قوم یا ملت کا نام نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام‘ مادہ پرست سوچ اُور ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف طرز حکمرانی کا راج ہے اور اسی پر یقین رکھنے والے پوری دنیا سے ایک تاروں بھرے جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں۔

امریکہ کی حقیقت یہ ہے کہ رشتے‘ تعلقات اور ایک دوسرے کا احساس کرنے والے عمومی جذبات جن کی وجہ سے مصلحتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے‘ اُن سے عاری ’ہجوم‘ نے یہ حقیقت سمجھ لی ہے کہ انواع و اقسام کی اقوام‘ عقائد اور معاشرتی نظریاتی رکھنے کے باوجود بقاء و ترقی کے دارومدار صرف اور صرف اِس بات سے ہے کہ بس ’اپنے کام سے کام رکھا جائے اُور یہی امریکہ کی ترقی کا ’خلاصہ (لب لباب‘ نچوڑ‘ اُور پورا بیان)‘ ہے!

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بیرون ملک صلاحیتوں کے جوہر دکھانے والے اپنے آبائی ملک کو معاشرے کو سنوارنے کے لئے خاطرخواہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار نہیں اور اس کی وجہ سیاسی و انتظامی قیادت کی خودغرضی ہے جنہوں نے اپنی نسلوں کا مستقبل بیرون ملک سرمایہ کاری کے ذریعے محفوظ بنا رکھا ہے اور قوم کے ہر بچے کو ’حب الوطنی کی گھٹی‘ صبح دوپہر شام پلائے جا رہے ہیں۔ قدرت کی عطاکردہ سبھی عنایات جو 98 لاکھ 26 ہزار 675 مربع کلومیٹر پر پھیلی پچاس ریاستوں اور ایک دارالحکومت پر مشتمل‘ آبادی کے لحاظ سے تیسرے بڑے ملک میں ترقی یافتہ شکل میں دیکھنے کو ملتی ہیں وہ پاکستان کے محض 8 لاکھ 3 ہزار 940 کلومیٹر رقبے میں موجود ہیں لیکن ان سے کماحقہ استفادہ نہیں کیا جارہا۔ پن بجلی کے پیداواری امکانات ہیں لیکن بڑے منصوبے سیاست اور چھوٹے منصوبے فیصلہ سازوں کی لالچ کی نذر ہیں! کوئلے کے ذخائر‘ تیز ہواؤں والی ساحلی پٹی‘ زرخیز مٹی‘ چلچلاتی دھوپ والا ریگستانی رقبہ‘ دریا‘ چشمے‘ برفانی تودوں سے ڈھکے ہوئے بلندوبالا برفیلے پہاڑ‘ معدنیات سے روشنی منعکس کرنے والے سنگلاخ پہاڑی سلسلے‘ تیل و گیس اور شیل گیس کے ذخائر‘ سرسبزوشاداب وادیاں‘ اُجاڑ گھاٹیاں‘ بیک وقت چار موسم‘ میٹھے‘ ہلکے اور بھاری پانی سمیت وہ سب کچھ موجود ہے‘ جسے ترقی دے کر قابل استفادہ بنایا جاسکتا ہے لیکن ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ حل کرنے کی بجائے فیصلہ سازوں نے قوم کو اُس ڈھلوان کے نزدیک لاکھڑا کیا ہے جس کی ’بحرانی پھسلن‘ پر قدم جمانا صرف مشکل ہی نہیں رہا بلکہ ناممکن حد تک دشوار ہوگیا ہے۔

فرقہ واریت‘ سیاسی و سماجی امتیازات و تعصب‘ رنگ و نسل پر مبنی سیاسی‘ غیرسیاسی اُور انتخابی ترجیحات‘ مالی و انتظامی بدعنوانیاں‘ غیرپائیدار ترقی اور تعمیر و ترقی کی حکمت عملیاں طے کرتے ہوئے ’زیادہ سے زیادہ نیک نامی‘ کمانے کے لئے جزوقتی فیصلوں نے ملک کو مقروض اور قوم کو ایک ایسے نفسیاتی مرض میں مبتلا کر دیا ہے جس میں ہر کوئی دوسرے سے کسی نہ کسی سبب الجھ رہا ہے۔ وہاں ہر کسی کو اپنے کام سے کام اور ہمارے ہاں ہر کوئی دوسرے کے معاملات‘ نجی زندگی اُور مصروفیات کے بارے میں مزید سے مزید کچھ جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ فیصلہ سازوں کو سمجھنا چاہئے کہ تعمیراتی منصوبوں پر ہر سال (بجٹ در بجٹ) اربوں روپے خرچ کرنے سے ’قوم کی تقدیر‘ سوچ‘ رویئے اُور عمل‘ تبدیل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے بہترطرز حکمرانی (گڈ گورننس) کا ہدف مقرر کرکے اسے حاصل کرنے کے لئے اپنی ذات قربانی کے لئے پیش کرنا ہوگی۔ جب تک قیادت اپنا مستقبل داؤ پر لگا کر مربوط شعوری طور کوشش کرنے پر رضامند ہونے اور قوم کو یہ باور و ترغیب نہیں دیتی کہ ہر ایک بس ’اپنے کام سے کام رکھے!‘ اُس وقت تک ہماری باصلاحیت‘ صحتمند و تندرست افرادی قوت‘ عزیزواقارب‘ ہمارے بہترین دوست یونہی غیر ممالک کی ترقی و خوشحالی میں حصہ دار بنتے رہیں گے۔

شعور کی منزل پر کیا ہم ایسے کسی ’دیار غیر‘ میں ’خاک‘ ہونا پسند کریں گے جہاں سب کی ایک جیسی قومی شناخت ہے‘ لیکن درحقیقت کسی کی بھی کوئی امتیازی اُور خصوصی شناخت نہیں! ’’اُس کی ہر بات پہ لبیک بھلا کیوں نہ کہیں۔۔۔ جیسے دیوار میں چنوائے گئے لوگ ہیں ہم: جس کا جی چاہے وہ اُنگلی پہ نچا لیتا ہے۔۔۔جیسے بازار سے منگوائے ہوئے لوگ ہیں ہم! (قتیل شفائی)‘‘
Secret of greatness behind the US society and why we are fail to have such peace around

Thursday, August 14, 2014

Aug2014: Iraq & International standards

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آتش فشانیاں
امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’’شمالی عراق کے پہاڑ میں پناہ لئے افراد کی تعداد اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ’’زیادہ امکان ہے‘‘ کہ ان لوگوں کو وہاں سے نکالا جائے۔ داعش نامی تنظیم کے خلاف امریکہ کی فضائی کارروائیوں اور جبل سنجار میں صورتحال بہتر کرنے کے لئے امدادی سامان کی فراہمی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا! ’’وہاں نا صرف کچھ ہی افراد ہیں بلکہ وہ قدرے بہتر حالت میں ہیں اور خوراک و پانی کی فراہمی سے متعلق ہماری کوششوں کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ وہ داعش کے خلاف ہونے والی فضائی کارروائیوں سے بھی محفوظ بیٹھے ہیں تو یہ اچھی خبر ہے۔ عراقی کرد اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے عسکریت پسندوں کے حملوں سے پہلے ہی شام کی سرحد کے قریب سنجار کی پہاڑی میں پناہ کے رکھی تھی۔ امریکی صدر کے فوجی مشیر ہیگل کا کہنا ہے کہ ’’مثبت جائزہ رپورٹ آنے کے باوجود امریکہ کی عراق میں کوششیں ’’مکمل نہیں‘‘ ہوئیں۔ صدر باراک اوباما نے عراق میں لڑائی کے لئے دوبارہ فوج بھیجنے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی اپنے عہدے سے ہٹنے کے لئے بین الاقوامی دباؤ کی مزاحمت کررہے ہیں۔ المالکی کے بقول وہ اقتدار نہیں چھوڑیں گے جب تک عدالت صدر فواد معصوم کی طرف سے وزیراعظم نامزد کرنے پر فیصلہ نہیں سناتی۔

اس تناؤ بھرے سیاسی ماحول اور قتل و غارت گری کا ماحول شمال عراق میں داعش کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کاروائیوں کے پیش نظر ملکوں اور بین الاقوامی اداروں نے اعلان کیا ہے وہ تکفیری گروہ سے مقابلہ اور جنگ زدہ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے دس جون دوہزار چودہ کو عراق شمالی علاقے پر حملہ کرکے بعض شہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ داعش عراق میں خاص طورپر عیسائی اور ایزدی مذہبی اقلیتوں کے خلاف بہت زیادہ جرائم کا مرتکب ہوا ہے جس کے نیتیجے میں عراقیوں کی ایک بڑی تعداد اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر علاقوں میں نقل مکانی کر چکی ہے۔ اس بارے میں یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں مذہبی اقلیت کے ایزدی پناہ گزینوں کی امداد کے ساتھ پچاس لاکھ یورو کی مزید مدد کرے گا‘کیونکہ اس وقت عراق شدید بحران سے دوچار ہے۔ یورپی کمیشن یہ رقم پناہ گزینوں اور بے گھر ہونے والے عراقیوں کے لئے حکومت عراق کے حوالے کرے گا اس رپورٹ کے مطابق عراق کے لئے یورپی کمیشن کی اس امداد کے ساتھ دوہزار چودہ میں یورپ کی طرف سے عراق کو دی جانے والی مدد کی رقم ایک کروڑ ستر لاکھ یورو ہوجائے گی ۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق شمال عراق میں برطانوی جنگی طیاروں نے آپریشن کے مقصد سے برطانیہ کو ترک کردیا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کے ٹورناڈو نامی تین جنگی طیاروں نے شمال عراق میں انسان دوستانہ مدد پہنچائی۔ اس بات کا امکان ہے کہ شمال عراق کے فوجی آپریشن میں برطانیہ کے چھ سے آٹھ تک ٹورناڈو جنگی طیارے حصہ لیں گے۔ برطانوی اعلی حکام نے عراق بحران سے متعلق کبری کے نام سے اپنی دوسری ہنگامی نشست میں شمال عراق میں کرد فوجیوں کو مسلح کرنے اور ٹورناڈو جنگی طیاروں کے بھیجنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

جمہوریہ چیک کے وزیر خارجہ نے بھی عراق کے کرد فوجیوں کو مسلح کرنے کے منصوبے کی خبر دی ہے۔ جمہوریہ جیک کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ یہ امداد عراق اورجمہوریہ چیک کے مابین دوجانبہ مدد کے سمجھوتے کے تحت ارسال کی جائے گی۔ جرمنی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بھی عراق کو داعش کے خلاف مدد کے طورپر بکتر بند گاڑیاں بھیجنے کے لئے تیار ہے۔ اس بارے میں جرمن وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق کے لئے انسان دوستانہ مدد بھیجنے کے علاؤہ عراقی فوجیوں کے لئے جنگی ساز وسامان بھی بھیج سکتاہے۔ جرمن وزیر دفاع نے برلن میں اپنے ہم منصب برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالون سے ملاقات میں جنگی علاقوں میں ہتھیار نہ بھیجنے کے حکومت برلن کے مؤقف کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ اگر عراق میں نسل کشی کا واقعہ پیش آتاہے تو اس بارے میں بحث کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے دفاع نے عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف امریکہ کے حملے کی حمایت کی۔ امریکی وزیر جنگ چک ہیگل نے عراق میں ایک سو تیس امریکی فوجیوں کے بھیجے جانے کی خبر دی ہے اطلاعات کے مطابق امریکہ کے یہ فوجی آج کردستان کے مرکزی شہر اربیل پہنچ گئے ہیں۔

عراق کی سنگین صورتحال کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر نے عراق میں درپیش مشکل صورت حال کا ذمہ دار عراقی سیاسی رہنماؤں کی ناکامی کو قرار دیا ہے حالانکہ عراق میں جو کچھ بھی کیا دھرا ہے‘ اس کے لئے صرف اور صرف امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کا جنگی جنون ہے‘ جو تیل جیسی دولت سے مالا مال اِس پورے خطے کے وسائل پر لالچی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے والوں کے ہاتھ راکھ کے سوا کیا کچھ آئے گا‘ اس بارے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں البتہ اِس راکھ میں اُن کے اپنے مفادات اور اثاثے بھی خاکستر ہو سکتے ہیں۔ عراق کی آتش فشاں صورتحال اور انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں خطے میں ہونے والی اُن تبدیلیوں کی ایک جھلک ہے جس کے تسلسل اور کہانی کو مکمل کرنے کے لئے پاکستان میں بھی ’آزادی‘ اور ’انقلاب مارچ‘ کے نام سے منظم احتجاج کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Monday, August 4, 2014

Aug2014: Human rights violation, international prospective

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انسانی حقوق کی پائمالی: عالمی تناظر
طاقت کے نشے میں جہاں سماعت اور بصارت ساتھ دینا چھوڑ دیتی ہے‘ وہیں فہم و فراست‘ دانش یا مستقبل کے حوالے سے بصیرت بھی باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے عراق اور فلسطین سے لیبیا و شام میں جنگ کے آلاؤ بھڑک رہے ہیں اور اگر اِن سبھی تنازعات کے محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو واقعات کا تسلسل واحد عالمی طاقت امریکہ تک جا پہنچتا ہے‘ جسے صرف اور صرف اپنے مفادات سے غرض ہے لیکن یہ غرض دوسروں کے لئے کس قدر اذیت اور تکلیف کا باعث بنا ہوا ہے‘ اس پر امریکہ کی سیاسی و فوجی قیادت زیادہ غور نہیں کر رہی۔ مسلم ممالک کے سربراہوں کو مٹھی میں رکھنے اور مسلم دنیا کے وسائل پر کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد امریکہ کی راہ میں کوئی ایسی رکاوٹ نہیں رہی‘ جو اُسے للکار سکے۔ براعظم ایشیاء میں پاؤں جمانے کے بعد امریکیوں کی نظریں افریقہ پر بھی ہیں جہاں ایک طرف توانائی جیسے وسائل کی کمی نہیں اور دوسرا وہاں سونے اور ہیرے جیسی معدنیات بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔

تین سے چھ اگست واشنگٹن میں امریکہ اور افریقی قائدین کا سہ روزہ سربراہ اجلاس میں پچاس سے زائد افریقی ممالک کے سربراہان کی شرکت کئی لحاظ سے غیرمعمولی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ براعظم افریقہ کے چار ممالک اریٹریا‘ زمبابوے‘ سوڈان اور جمہوریۂ وسطی افریقہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر اِس اجلاس میں شرکت کے لئے دعوت نہیں دی گئی ۔اجلاس میں معاشی فروغ پاتے ہوئے افریقہ میں مواقع اور مستقبل زیرِ غور آئے گا‘ جبکہ کلیدی سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کس طرح افریقی ممالک سے اپنے تعلقات بہتر بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس کا عنوان ’اگلی نسل کے لئے سرمایہ کاری‘ رکھا گیا ہے۔ سربراہ ملاقاتوں کا مقصد مشترکہ مفادات کی نشاندہی کرنا بھی ہے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب یقینی طور پر افریقی نوجوانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قدم بڑھایا جائے‘ جن میں صحتِ عامہ‘ تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر کرنا شامل ہوں گے۔ ایسے وقت جب جمہوریۂ وسطی افریقہ‘ سوڈان اور مشرقی و مغربی افریقی ممالک عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے نبردآما ہیں‘ پہلا ہدف یہ ہوگا کہ ترقی کے حصول کے لئے درکار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔ سربراہ اجلاس کے شرکاء تشدد کے خاتمے اور علاقائی اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے معاملے کو زیر بحث لائیں گے۔

براعظم افریقہ کا امن چیلنج کا درجہ رکھتا ہے جس کا عمومی طور پر ایک حصہ افریقہ کی پولیس اور فوج کا معاملہ ہے جو انتہائی پیشہ ور نہیں اور جس کے باعث‘ نامناسب اور تلخ حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ خصوصی طور پر جب داخلی سلامتی کے خطرات پر بات چیت ہو گی تو اس میں بے گناہ تماشائیوں کی ہلاکتیں ہونے جیسے واقعات پر بھی بات کی جائے گی۔ المیہ ہے کہ جہاں کہیں مقامی آبادی نظرانداز ہوگی‘ وہاں مزید شکایات جنم لیں گی۔ صدر اوباما اور دیگر سربراہان مملکت کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ مقامی مسائل کو کس طرح علیحدہ کرکے زیر غور لایا جائے‘ پھر کہیں اِن خطرات کے بین الاقومی عناصر پر بات ہوسکتی ہے؟

اجلاس کے دوسرے روز طے ہے کہ افریقی رہنما امریکی حکومت کے عہدے داروں سے ملاقات کریں گے‘ جس میں معاشی سلامتی کا معاملہ زیر غور آئے گا۔ اِس اجلاس میں دو سو سے زائد امریکی اور افریقی کاروباری حضرات بھی شریک ہیں‘ جو تجارت اور مالی نوعیت کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے حوالے سے معاملات زیرِ غور لائیں گے۔ افریقہ کے ساتھ امریکی تجارت کے ایک اہم حصے کا دارومدار افریقی افزائش اور مواقع کے سلسلے میں وضع کردہ قانون ہے۔ اِس امریکی قانون سازی کا مقصد ’’سب سہارا افریقہ‘‘ کی معیشتوں کی اعانت کرنا اور معاشی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس قانون کے تحت وہ افریقی ممالک جن کے معاشی انتظام اور انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا ہے‘ اُنہیں بغیر محصول ادا کیے امریکی منڈیوں تک رسائی فراہم ہوگی۔ براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے ممالک تقریباً سات ہزار مصنوعات امریکہ برآمد کرتے ہیں جن کی مالیت 27 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہے۔

ضمنی طورپر عرض ہے کہ امریکہ پر بھروسہ کرنے کے علاؤہ اگرچہ کسی دوسرے ذریعے کی کھوج نہیں لگائی گئی لیکن پاکستان کو درپیش مسائل کا حل اِسی میں ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے اور محض امریکہ کی دوستی پر اکتفا کرنے کی بجائے اپنے مفادات جس میں تجارت میں اضافہ جیسا ہدف پیش نظر رکھا جائے۔ سردست صورتحال مایوس کن ہے اور امریکہ مسلم دنیا میں پاکستان کے اثرورسوخ کو استعمال تو کرتا ہے لیکن جمہوری قدروں اور اداروں کی مضبوطی کی بجائے ایسے حکمرانوں کو مسلط رکھتا ہے‘ جن کے سامنے امانت و دیانت کے تصورات ابہام جیسے ہوں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے (embassyofpakistanusa.org) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہے جس کے حجم میں سال دوہزار دس سے تبدیلی نہیں آ رہی۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ معاشی و اقتصادی مسائل ہیں‘ جن کی شدت توانائی بحران کے سبب ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر واویلا کرنے والوں کو ارض فلسطین کے مسلمان کیوں دکھائی نہیں دے رہے‘ اسرائیلی جارحیت اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کے اصل عزائم کیا ہیں؟ جب تک مسلم امہ محکوم ومغلوب رہے گی اور غلامی کا طوق اُتار نہیں دیتی‘ اس پر دباؤ برقرار رہے گا۔