Showing posts with label Trump. Show all posts
Showing posts with label Trump. Show all posts

Sunday, January 14, 2018

TRANSLATION: The terror concerns by Rahimullah Yusufzai

Terror concerns
اَمریکی تحفظات!
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ ماضی میں بھی جبکہ یہ دونوں ممالک روس کے خلاف سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) جیسے اتحادوں کا حصہ رہے اور اُس سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے اتحادی تھے تب بھی کئی مرتبہ اِن کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافی نکتۂ نظر سامنے آتا رہا۔ ایسا ہی ایک موقع وہ بھی تھا جب امریکہ نے پاکستان کی اقتصادی امداد بند کر دی اور اقتصادی پابندیاں بھی عائد کردیں جس سے پاکستان کی دل شکنی ہوئی کیونکہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ جیسا اتحادی ملک اُس کے ساتھ اِس قسم کا سلوک روا رکھ سکتا ہے تاہم ماضی میں ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات کا ازالہ وقت کے ساتھ ہوتا رہا لیکن حالیہ چند برس میں جس انداز سے پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ دیکھا گیا ہے یہ نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ اُس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے قطع تعلق ہی کرلیں۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں عدم اعتماد کی خلیج کبھی بھی اس قدر گہری نہیں رہی اور اِس کا آغاز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس مطالبے سے ہوا کہ پاکستان اپنے ہاں دہشت گرد گروہوں کے خلاف اُن کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں کرے بصورت دیگر اُسے کڑے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ 

پاکستان نے اِن امریکی الزامات کا فوری جواب دیا اور ماضی میں امریکہ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتا آیا ہے تاہم اِس مرتبہ پاکستان نے امریکہ سے ایسا ہی کرنے کو کہا ہے جو ایک غیرمعمولی جرأت اظہار بھی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ تناؤ کا سبب عسکریت پسند ’حقانی نیٹ ورک‘ ہے۔ امریکہ کو قوی یقین ہے کہ ’حقانی نیٹ ورک‘ کا مرکز پاکستان میں ہے اور اِسے خفیہ اِدارے ’انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی)‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ماضی میں بھی امریکہ کی کئی شخصیات اِسی قسم کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں جن کی پاکستان نے ہمیشہ تردید کی ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اُس کے پاس اپنی اِس بات کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ پیش کرے تاکہ پاکستان میں مبینہ طور پر موجود ’حقانی نیٹ ورک‘ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مختلف فوجی کاروائیوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائیاں کی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک جون دوہزارچودہ تک شمالی وزیرستان میں اپنا وجود رکھتا تھا‘ جس کی طاقت کے مرکز اور افرادی قوت پر وار کیا گیا تو دیگر عسکری گروہوں کی طرح اُنہوں نے بھی اپنا مرکز تبدیل کر لیا ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ پاکستان کے پاس ایسا کرنے کے لئے وسائل نہیں تھے اور فوج اندرون ملک دیگر محاذوں پر ڈٹی ہوئی تھی۔

امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے امریکہ کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں نہ کیں تو سخت اقدامات کئے جائیں گے‘ جس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی پاکستان کی حدود میں گھس کر زمینی کاروائیاں کریں جیسا کہ انہوں نے مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں کیا تھا جہاں مبینہ طور پر القاعدہ تنظیم کا سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ فوجیوں نے تلاش اور قتل کرنے کا دعوی کیا۔ اگر امریکہ کو ایسی معلومات میسر آ جاتی ہیں جن کے مطابق وہ حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی اور افغان طالبان کے سپرئم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوند زادہ پاکستان میں کہاں روپوش ہیں تو وہ اِن کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے۔ اِسی طرح جماعت الدعوۃ سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید بھی امریکہ کا نشانہ ہو سکتے ہیں جس کے سر کی قیمت امریکہ نے نومبر 2008ء کے بمبئی حملوں کے بعد مقرر کر رکھی ہے کیونکہ اُن حملوں میں امریکی باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اَمریکہ کو اِن دنوں بھارت کی قربت حاصل ہے۔

امریکہ پاکستان کی حدود میں ڈرون طیاروں سے حملے کرسکتا ہے۔ پاکستان کی ’نان نیٹو اتحادی‘ حیثیت ختم کرسکتا ہے۔ افغانستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں روپوش پاکستان مخالف عسکریت پسندوں بالخصوص بلوچ علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرسکتا ہے اور افغان و بھارتی خفیہ اداروں کو شہ دے سکتا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بنائے رکھیں تاکہ وہ امریکہ کے ہر جائزوناجائز مطالبے کے آگے سرتسلیم خم کر دے۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے اِسے ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کرچکا ہے جہاں مذہبی آزادی محدود ہے اور مذہبی آزادی کو دنیا میں انسانی حقوق کی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان جواب میں امریکہ کی افغانستان میں موجود 20ہزار غیرملکی افواج کو سامان رسد کی فراہمی کے لئے راہداری معطل کرسکتا ہے جو بلاقیمت (قریب مفت) ہی فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی راہداری افغان فوجوں کے لئے بھی سامان رسد کا سستا اور کم وقت کا ذریعہ ہے۔ پاکستان نیٹو سپلائی (رسد) نومبر 2011ء میں آٹھ ماہ تک معطل کر چکا ہے جب مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر افغانستان کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا اور اُس حملے میں 24 پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور افغانستان میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل سے فاصلہ اختیار کرسکتا ہے‘ جس کے لئے اُس کی سنجیدہ کوششوں کو فراموش کردیا گیا ہے اور اگر پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو امریکہ کے لئے وہاں امن کا قیام زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے سنجیدہ اور بار ہا تحفظات کے اظہار کے باوجود بھی امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں کلیدی کردار دیا ہے جبکہ امریکہ اگر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائیاں کرتا ہے تو اُس سے قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل کو دھچکا لگے گا۔ پاکستان اِس بات کی وکالت کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے وہاں متحارب دھڑے جنگ بندی کریں اور بات چیت کے عمل کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کا یہ مؤقف بھی ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی صرف اُس کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تمام حصہ داروں کا اجتماعی فریضہ ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو 7 ستمبر 2012ء کے روز دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جو قریب دو دہائیوں سے پہلے روسی اور بعدازاں نیٹو افواج کے خلاف عسکری مہمات کا حصہ رہی ہے۔ امریکہ نے اب تک حقانی نیٹ ورک کے کئی اہم رہنماؤں کو قتل کیا ہے اور موجودہ رہنماؤں کے سر کی قیمت بھی مقرر کر رکھی ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خاتمہ کی شاید ایک بھرپور کوشش کرنا چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اِس مقصد کے لئے پاکستان اُس کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان اور امریکہ اِس بات پر متفق بھی ہو جائیں کہ وہ مل کر حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کا خاتمہ کریں گے تب بھی یہ تعاون اِس بات کی ضمانت نہیں ہوگا کہ یہ دونوں ممالک مل کر اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے اور اِس بات کی ضمانت بھی نہیں کہ انہیں بہرصورت اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل ہوگی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, January 7, 2018

TRANSLATION: Toxic marriage by Dr Farrukh Saleem

Toxic marriage
مہلک تعلقات!
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ادوار 70 سال پر محیط ہیں دونوں ممالک کے درمیان قربت اور تعلقات عدم توازن کا شکار رہے اور اگرچہ یہ تعلقات ’ایک دوسرے پر ’انحصار‘ جیسی دوطرفہ ضرورت کے تحت استوار ہیں لیکن پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کسی نہ کسی درجے باہمی اعتماد کا فقدان رہا ہے۔ امریکہ کے نکتہ نظر سے پاکستان کی اہمیت اُس کے خطے میں اپنی حاکمیت اور وجود برقرار رکھنے کے لئے ایک ضروری ہے جبکہ پاکستان کے لئے امریکہ مالی و اقتصادی معاون سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ دونوں ممالک کے درمیان اگرچہ کبھی بھی مثالی نہیں رہے لیکن اِنہیں منقطع کرنے کا بھی کبھی مرحلہ نہیں آیا۔

امریکہ کی جانب سے مالی سال دوہزار دو سے دوہزار اٹھارہ کے عرصے میں مجموعی طور پر ’33.927 ارب ڈالر‘ بطور ’دفاعی اخراجات‘ ادائیگیاں کی گئیں۔ اِن میں سیکورٹی سے جڑی مدوں میں 8.259 ارب ڈالر‘ اقتصادیات کے لئے 11.095 ارب ڈالر اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اتحادی کے طور پر کردار ادا کرنے اور اِس عرصے میں ہوئے نقصانات کی تلافی کے لئے 14.573ارب ڈالر دیئے گئے۔ یہ تمام ادائیگیاں 28 نومبر 2017ء تک وصول ہوئیں۔ قابل ذکر ہے کہ بطور اتحادی پاکستان کو دی جانے والی ادائیگیاں اُن اخراجات کی مد میں ہوتی ہیں جو پاکستان اتحادی افواج کو سہولیات بہم پہنچانے یا اُن کے مقرر کردہ اہداف کے مطابق (امریکی منظوری سے) عسکری مہمات پر اپنے وسائل سے کرتا ہے اور بعدازاں یہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ درحقیقت بطور اتحادی ملنے والی 75فیصد امداد ’اتحادی سپورٹ فنڈ‘ کا حصہ ہوتی ہے جبکہ پچیس فیصد باقی ماندہ امداد اقتصادی امور کے دی جاتی ہے۔

امریکہ اب تک افغانستان میں 714ارب ڈالر خرچ کر چکاہے۔ افغانستان میں امریکہ کی جنگ اُس کی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین مہم ہے۔ لانگ وار جرنل نامی ایک تحقیقاتی اشاعتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ’’طالبان افغانستان کے 45فیصد اضلاع پر یا تو قابض یا وہاں قابض ہونے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان میں ’’راہ نجات‘‘ نامی فوجی کاروائی کے ذریعے جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے کا) 6ہزار 619 مربع کلومیٹر حصے پر حکومتی عمل داری قائم کی گئی۔ ’’ضرب عضب‘‘ کے نام سے شمالی وزیرستان کا 4 ہزار 707 مربع کلومیٹر حصہ جبکہ بونیر‘ لوئر دیر‘ سوات اور شانگہ میں فوجی کاروائیوں سے بھی اِن علاقوں کو عسکریت پسندوں کی دسترس سے آزاد کرایا گیا جو پھیل چکے تھے۔ پاکستان کا بیانیہ (کہنا) یہ ہے کہ ہمارے ملک کا کوئی ایک بھی ایسا حصہ نہیں جہاں حکومت کی عمل داری قائم نہ ہو اور نہ ہی پاکستان میں ایسا کوئی بھی منظم عسکری گروہ ہے جو کسی ایک جگہ اپنا مرکز رکھتا ہو لیکن بدقسمتی سے پاکستان اپنے اِس بیانئے (مؤقف) کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا‘ جس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں یہ گمراہ کن شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ یہ دہشت گردوں کا مرکز ہے۔

خطرے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے ایک عالمی سازش پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کا ادارہ منظم و فعال ہے لیکن پاکستان کی اقتصادی صورتحال دگرگوں ہے۔ آئندہ بارہ کے دوران پاکستان کو کم سے کم چھ ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہیں یہ وہ ادائیگیاں ہیں جو بیرون ملک قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے دینی ہیں۔ توقع ہے کہ رواں برس (دوہزاراٹھارہ) ماہ جنوری سے جون کے عرصے میں پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ قریب 8 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ بائیس دسمبر دوہزار سترہ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 14.1 ارب ڈالر کے ذخائر تھے اور آئندہ چھ ماہ کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس اِس رقم کا بھی نہایت ہی معمولی سا حصہ باقی رہ جائے گا‘ جو خطرناک اقتصادی صورتحال کی جانب بطور اشارہ عرض ہے۔

تصور کیجئے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 35 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ تصور کیجئے کہ پاکستان کے بجٹ کا خسارہ 2.2 کھرب روپے ہو جائے گا اور یہ حقائق امریکہ کے صدر ٹرمپ کے سامنے یقیناًہوں گے۔ مجھے کئی تجزیہ کاروں کو یہ کہتے ہوئے سننے کا اتفاق ہوا کہ پاکستان روس اور چین کے درمیان اقتصادی و دفاعی شعبوں میں اتحاد ہونا چاہئے لیکن کیا ایسا کوئی ممکنہ اتحاد پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کر پائے گا؟ کیا ماضی میں اس قسم کے سہ ملکی اتحاد کی کوششیں نہیں کی گئیں اور ان کا کیا نتیجہ برآمد ہوا۔

تصور کیجئے کہ امریکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک برائے تعمیرو ترقی کی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے اور اِن مالیاتی اداروں میں امریکہ نے بڑی سرمایہ کاری کے عوض کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنی تجارت ’ڈالر‘ کی بجائے ’یوآن (چینی کرنسی)‘ میں کرنے کا خواہاں ہے لیکن کیا ایسا کرنے سے پاکستان کو قومی سطح پر درپیش آمدن و اخراجات میں (بجٹ) خسارے پر قابو پالیا جائے گا؟

18 دسمبر 2017ء کے روز ٹرمپ نے بطور صدرِ امریکہ اپنی پہلی قومی سلامتی حکمت عملی پیش کی‘ جس میں اُس نے چین کی اقتصادی و تجارتی ترقی کو بھی نشانہ بنایا۔ میرے خیال صدر ٹرمپ پاکستان و افغانستان کی بجائے پاکستان اور چین کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ صورتحال محتاط ردعمل اور حالات پر نگاہ رکھنے کا ہے کیونکہ جب ہاتھیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو اُس میں گھاس کچلی جاتی ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Friday, December 8, 2017

Dec 2017: Unity is the answer to the problems facing Ummah!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ مقصود کیا ہے!؟
چھ دسمبر کی یخ بستہ رات جب ہر طرف ’ہو کا عالم‘ تھا‘ تو پاکستان سمیت دنیا کی نظریں ’وائٹ ہاؤس‘ سے براہ راست نشریات پر ٹکی تھیں۔ قریب گیارہ منٹ جاری رہنے والی یہ نشریات پاکستانی وقت کے مطابق گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر اختتام پذیر ہوئیں جس کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ پر ہنگامہ برپا ہو گیا کیونکہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی تعریف میں کہتے اور جذبات کی رو میں بہتے چلے گئے! 

ٹرمپ نے کہا کہ ’’ماضی کے امریکی صدور میں ہمت نہیں تھی کہ وہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرتے لیکن بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘ ٹرمپ جس چیز کو ’’وقت آگیا ہے‘‘ کہہ رہے تھے‘ اُس سے صاف ظاہر تھا کہ اِس اعلان سے قبل انہوں نے مسلمان ممالک کی جانب سے ممکنہ مزاحمت (ردعمل) کا حساب کتاب لگا رکھا تھا اور تعجب خیز نہیں ہوگا اگر بعدازاں ثابت ہوا‘ کہ امریکہ امہ کی قیادت کرنے والے مسلمان حکمرانوں کو اعتماد میں لے چکے تھے کیونکہ بصورت دیگر کسی امریکہ صدر کی بھلا یہ جرأت ہو سکتی تھی کہ اسرائیلی مؤقف کی یوں حمایت کرتے ہوئے حکم صادر فرماتے! 

امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو تسلی بھی دی اور کہا کہ ’’یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لئے کاوشیں جاری رہیں گی۔‘‘ حالانکہ جب تک اسرائیل کا ’’ناجائز وجود‘‘ برقرار ہے‘ اُس وقت عرب خطے میں ’امن و سلامتی‘ کے قیام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لئے مسلمانوں‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔‘‘ امریکہ کو ’مشرق وسطی‘ سے زیادہ اپنے اور اسرائیل کے مستقبل کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ قابض اسرائیل کی موجودگی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ’مڈل ایسٹ‘ کا ’مستقبل‘ روشن ہو‘ یقیناًامریکہ کے صدر نے وہی کچھ کیا جو اُن کے بہترین مفاد میں ہے لیکن کیا یہی بات مسلمان ممالک کے سربراہان کے سامنے بھی زیرغور ہے کہ اُن کا ’بہترین مفاد‘ کس امر میں ہے؟ اِس پورے معاملے پر اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیم حماس کا فوری ردعمل لائق توجہ ہے کہ ’’امریکہ کے صدر نے جہنم کے دروازے کھول دیئے ہیں!‘‘ 

کیا یہ امریکی صدر کا بیان اور حماس کا ردعمل مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرے گا؟ ’’ہماری تہذیب کے مظاہر جمیل بھی تھے‘ جلیل بھی تھے: اگر تھے ابربہار اپنے قلم تو تیغ اصیل بھی تھے ۔۔۔ مگر بتدریج اپنی عظمت کے ان منازل سے ہٹ گئے ہم: بہت سے اوہام اور اباطیل کے گروہوں میں بٹ گئے ہم!‘‘

محاورہ ہے کہ ’وہ مکا جو لڑائی کے بعد یاد آئے تو اُسے اپنے منہ پر مارنا چاہئے۔‘ مسلمان ممالک کو پوری قوت کے ساتھ ردعمل کا مظاہرہ اُس وقت کرنا چاہئے تھا جب ’’8نومبر 1995ء‘‘ کو امریکہ کے قانون سازوں نے ’’یروشلیم ایمبیسی ایکٹ‘‘ نامی قانون منظور کیا تاہم اِس پر عمل درآمد کرنے کی کسی بھی امریکی صدر کو جرأت نہ ہوسکی اُور وہ اِسے ٹالتے رہے۔ ٹرمپ کے اعلان کے خلاف مسلم دنیا کا ردعمل ’’قابل دید‘‘ اُور ’’حاصل دید‘‘ ہے! 

پاکستان کی جانب سے امریکی صدر کے اعلان کے فوراً بعد فلسطین سے ’’اظہار یک جہتی‘‘کا بیان جاری کرنے پر اکتفا کافی نہیں۔ فلسطینی جماعت حماس نے ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف تین روزہ احتجاجی مہم کا اعلان کیا ہے جبکہ غزہ سمیت کئی شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ رات ہی سے شروع ہو چکا تھا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کیا۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرن امریکی فیصلے کو ’’افسوس ناک‘‘ کہا اور اعلان کیا کہ فرانس اس کی توثیق نہیں کرے گا۔‘‘ فلسطینی حکام کے علاؤہ ترکی‘ پاکستان‘ ایران سمیت مسلم دنیا کی جانب سے امریکہ کے ممکنہ متنازع فیصلے کا اعلان سامنے آنے سے قبل بھی اِس کی مخالفت میں بیانات جاری کر چکے ہیں۔ 

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کی حمایت کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اس معاملے پر ’او آئی سی‘ فیصلے کی توثیق کی جبکہ ترک صدر رجب طیب اژدگان نے ’او آئی سی‘ کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے معاملے پر سنجیدگی سے گفت وشنید کا مطالبہ کیا اور امریکی فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’یروشلم‘ یا بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کاروائی یا دباؤ اور طاقت کے استعمال کو غیر قانونی قرار دینے اور اس سے گریز کرنے کے حوالے سے اسرائیل مخالف قرارداد منظور ہو چکی ہے‘ جو اُن میڈیا رپورٹس کے بعد پیش کی گئی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس قرار داد کے حق میں سب سے زیادہ 151ممالک نے ووٹ دیا جبکہ چھ ممالک امریکہ‘ کینیڈا‘ مائیکرونیزیا کی وفاقی ریاستوں‘ اسرائیل‘ جزائر مارشل اور ناورو نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے علاوہ نو ممالک آسٹریلیا‘ کیمرون‘ وسطی جمہوری افریقہ‘ ہونڈراس‘ پاناما‘ پاپوا نیو گنی‘ پیراگوائے‘ جنوبی سوڈان اور ٹوگو نے قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ صورتحال واضح ہے لیکن امریکہ ایک بڑا انتشار چاہتا ہے۔ 

مسلم و غیرمسلم ممالک کی اکثریت یروشلیم سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف ہے لیکن طاقت کے نشے میں امریکہ کی سیاسی قیادت پر ’’کلام نرم و نازک‘‘ کا اثر نہیں ہو رہا تو ایسی صورتحال میں مسلم دنیا کو ’اقوام متحدہ‘ کے غیرمؤثر ’پلیٹ فارم‘ سے علیحدہ ہو کر فلسطینی مسئلے کے بارے میں ایک ایسی متفقہ حکمت عملی وضع کرنا ہوگی‘ جس سے نہ صرف مسلم ممالک کی بلکہ ’دنیا کی تقدیر بدل جائے۔‘ یہ امر بھی زیرغور لانا ضروری ہے کہ ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب و اثرات‘‘ کیا ہیں اور نیند سے بیداری (لاشرقیہ لاغربیہ‘ اسلامیہ اسلامیہ) ضروری ہے کیونکہ مزید غفلت کی گنجائش باقی نہیں رہی! 
مسلمانوں کو اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی کیونکہ اُمہ کی زندگی کسی معجزے سے نہیں بلکہ صرف اُور صرف ’عمل‘ سے تبدیل ہوگی۔ 

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
مکے نے دیا خاک جنیوا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام کہ جمعیت آدم؟ (علامہ اِقبالؒ )
۔

Wednesday, February 1, 2017

Feb2017: Why feeling defeated?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سلیقے اُور ناکامیوں سے کام!

اَمریکہ کے نئے صدر کے اقدامات سے پوری دنیا میں ’ہنگامہ‘ برپا ہے جس میں سب سے زیادہ پریشانی اُن مسلمان ممالک بشمول پاکستان کو لاحق ہے‘ جن سے تعلق رکھنے والوں کے اَمریکہ میں داخلے یا اَمریکہ سے تعلق پر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں۔ امریکہ کے نئے صدر مذہب کے نام پر جو اِمتیازات متعارف کروا رہے ہیں‘ اُس کی مخالفت میں خود اہل مغرب کے دانشور طبقات سمیت عوامی حلقے بھی یک زبان ہیں جن میں پوشیدہ ’’شر کے لطیف پہلو‘‘ غور طلب ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ شیطان ’خیرمحض‘ ہے‘ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے ’شر‘ نہیں لیکن اپنے فعل کے اعتبار سے ’شریر‘ ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر میں چاقو‘ چھڑی یا تیزدھار والا کوئی نہ کوئی آلہ ہوتا ہے۔ لذیذ پکوانوں میں جہاں دیگر اجناس کا دخل ہے وہیں چھڑی کا کردار بھی سبھی کو معلوم ہے لیکن اگر یہی چھڑی غلط استعمال ہو جائے تو اِس سے ’شر‘ کا ظہور ہوگا۔ اِسی طرح شیطان کو جو ’اِختیار‘ اِرادہ‘ اُور بالخصوص ’’اِقتدار‘‘ دیا گیا وہ بھی ’شر‘ نہیں لیکن اِس ارادے‘ اختیار اور اقتدار کے ’’غلط استعمال‘‘ سے ’شر‘ پیدا ہوتا ہے۔ شیطان کو ملنے والی آزادی اور مہلت میں تربیت کے پوشیدہ پہلو پر الگ سے غور ہونا چاہئے تاہم اِس محل پر ’مکافات عمل‘ پر توجہ مرکوز رکھنی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رب تعالیٰ وہ ذات ہے جو بگڑے ہوئے کاموں سے اچھے نتائج نکالتی ہے بس اشرف المخلوقات کو یہ ہنر آنا چاہئے کہ جب کام بگڑ جائے تو اُسے سلیقے (حکمت) سے درست کر لیا جائے۔ یہی ’فراست ایمانی‘ اُور ’کمال انسانی‘ ہے جس کا شاعری کی دلآویز زبان میں بیان یہ ہے کہ 
’’مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا! (میر تقی میرؔ )۔‘‘ 

امریکہ کی جانب سے جو کچھ بھی ہو رہا ہے اُس پر حد سے زیادہ پریشانی کے اظہار و احتجاج یا مذمت کی بجائے مسلمانوں کو سلیقے کا مظاہرہ اور اپنی ناکامیوں پر غور کرکے اصلاح (بچت) کے پہلو تلاش کرنا ہوں گے۔

تعجب ہے یہ تعجب خیزی (سنسنی خیزی) بھی امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدے دار (چیف آف سٹاف رابنسن پریبس) کے بیان پر جنہوں نے کہا ہے کہ ’’مستقبل میں پاکستان کو بھی امیگریشن پر پابندی والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے‘‘ جس کی وجہ سے مغربی ممالک میں اپنی سرمایہ کاری‘ کاروباری مفادات اور مستقبل دیکھنے والوں کو پریشانی لاحق ہے! عجب کیا ہے ڈونلڈ ٹرمپ تو بطور صدر امریکہ وہی فیصلے کر رہے ہیں جن کا انہوں نے اپنے انتخابی منشور کے ذریعے اعلان کیا تھا وہ مسلم کمیونٹی اور اس ناطے سے پاکستان میں دہشت گردی کا ملبہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی ڈالتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے اپنی مجوزہ امیگریشن پالیسی کے تحت اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی غیر قانونی تارکین وطن کو صدر کا منصب سنبھالتے ہی ملک سے باہر نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ اب وہ اپنے ان اعلانات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں تو وہ فرد واحد کی حیثیت سے نہیں بلکہ صدر کی حیثیت سے پورے امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسا کر رہے ہیں۔ اور یہ وہی پالیسی ہے جو امریکی نائن الیون کے بعد واشنگٹن انتظامیہ نے طے کی تھی۔ درحقیقت یہ باضابطہ امریکی پالیسی ہے جو خود کو دیگر ممالک اور اقوام سے برتر سمجھتے ہوئے امریکہ نے وضع کی اور گزشتہ پندرہ برس سے تسلسل کے ساتھ نافذ العمل ہے۔

بات صرف یہ ہے کہ اس امریکی پالیسی میں دیگر ممالک اپنے مفادات اور خودمختاری کی بنیاد پر کس نوعیت کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں؟گیارہ ستمبر دوہزار ایک (نائن الیون) کا واقعہ ری پبلیکنز کے دور حکومت میں ہی رونما ہوا تھا جب جارج بش جونیئر امریکہ کے صدر تھے۔ اس واقعہ کی بنیاد پر امریکہ نے نیٹو فورسیز کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا تو مسلم ممالک افغانستان اور عراق ہی اس کی زد میں آئے جبکہ پاکستان کو بش انتظامیہ نے اپنا فرنٹ لائن اتحادی بنا کر اس جنگ میں ملوث کیا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان امریکہ کے نزدیک ناقابل اعتبار ہیں کیونکہ جوہری قوت کے ناطے مسلم دنیا کی مؤثر نمائندگی پاکستان کے پاس ہے اور امریکہ نے دہشت گردی کے حوالے سے پوری مسلم کمیونٹی کو مشکوک قرار دے رکھا ہے۔ اس تناظر میں مسلم ممالک اور معقول مسلم آبادی والے ممالک امریکہ کی نئی وضع کی گئی امیگریشن کی پابندیوں کی زد میں آئے چنانچہ ان ممالک سے امریکہ آنے والے باشندوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے پہلے ائرپورٹوں پر ہی توہین آمیز جامہ تلاشی کے مراحل سے گزارا جانے لگا جسے پاکستان کے عوام اور حکومت نے بھی خوشدلی سے قبول کیا اُور امریکہ جانے والے پاکستانی سرکاری وفود تک اس توہین آمیز جامہ تلاشی کے عمل سے گزرتے رہے۔ اگر اُس وقت خود داری اور اپنے وطن کی خودمختاری‘ عزت و آبرو کا کسی نے ایک ملک نے تحفظ کیا تو وہ بھارت تھا جس کے وزیر خارجہ جارج فرنینڈس ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے جب اُنہیں نیویارک ائرپورٹ پر روک کر جامہ تلاشی کے عمل سے گزرنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے جامہ تلاشی سے انکار کیا اور ائرپورٹ سے ہی وفد کے ہمراہ بھارت واپس آ گئے۔ ان کی یوں واپسی پر بھارتی حکومت نے اعلان کیا کہ آئندہ بھارت آنے والے ہر امریکی باشندے کی بھی اسی طرح جامہ تلاشی ہو گی۔ اس دوٹوک فیصلے پر امریکی انتظامیہ کے ہوش کم از کم بھارت کی حد تک ٹھکانے پر آ گئے اور پھر امریکہ کی بھارت کے ساتھ ایسی راہ و رسم بڑھی کہ آج امریکہ بھارت کو اپنا فطری اتحادی اور بہترین دوست قرار دیتا ہے۔ 

حقیقت میں امریکہ کا اصل چہرہ ظاہر ہو رہا ہے۔ 
سرنامۂ کلام میں جس ’سرکشی‘ اور ’زد‘ کا تعارف کرایا گیا‘ قرآن کی اصطلاحی زبان میں اُسے ’طاغوت‘ کہا جاتا ہے۔ امریکہ طاغوتی طاقت ہے اور ٹرمپ کا اقتدار کم از کم اس حوالے سے تو غنیمت ہے کہ امریکہ کی ڈھکی چھپی ’طاغوتی سوچ (پالیسیاں)‘ ظاہر ہو رہی ہیں۔


Monday, January 30, 2017

Jan2017: Khudi & Allama Iqbal

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام


خودی



’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘ کا محاورہ صادق آتا ہے۔ جمہوری اسلامی ایران کی قیادت نے ’ڈونلڈ جان ٹرمپ‘ کو ’’کرارا جواب‘‘ دیتے ہوئے ایران سمیت چھ دیگر مسلم ممالک (عراق‘ لیبیا‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ شام اُور یمن) کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے جواب میں کہا ہے کہ ’’تہران نے بھی امریکی شہریوں پر اسی قسم کی پابندی عائد کر دی ہے۔‘‘ ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ’’ایران کی شہریت رکھنے والوں سے کسی بھی صورت ہتک آمیز سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جب تک امریکہ مذکورہ پابندی واپس نہیں لے لیتا‘ امریکی شہریوں کی بھی ایران میں داخلے پر پابندی عائد رہے گی!‘‘ 


کیا دنیا کا کوئی دوسرا اسلامی ملک ایسا ہے جس کی قیادت نے امریکی صدر کے فیصلے کو غیر قانونی‘ غیر منطقی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے یوں عملاً چیلنج کیا ہو؟ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اگرچہ پاکستان‘ افغانستان اور سعودی عرب کی شہریت رکھنے والوں کے خلاف ایسی واضح پابندی عائد نہیں کی تاہم پاکستان سمیت افغانستان و سعودی عرب سے آنے والی ویزا درخواستوں کی کڑی سکروٹنی (جانچ پڑتال) کا حکم دیا ہے اُور ’’کڑی‘‘ کا مطلب یہی ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے کے لئے اجازت نامہ (ویزا) حاصل کرنے والوں کے کوائف کو آئندہ جانچ پڑتال کے اضافی مراحل سے گزرنا پڑے گا! 

مسلم ممالک اور بالخصوص پاکستان جیسے اِتحادی ملک کے خلاف امریکہ کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے ذہن میں پائے جانے والے شکوک و شبہات (تحفظات) ہتک آمیز اور حیران کن ہیں۔ پاکستان کہ جس نے روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے امریکی عزائم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کہ جس نے نائن الیون کے بعد نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اوّل کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات‘ سلامتی اور معاشی و اقتصادی مستقبل تک کو داؤ پر لگا دیا۔ پاکستان کہ جس نے امریکہ کی محبت میں ایسے ایسے زخم سہے ہیں کہ اِس کا تن بدن اور روح تک آج تک لہولہان ہیں لیکن امریکی قیادت کا تلخ مزاج اور ماتھے پر شکنیں گواہ ہیں کہ وہ پاکستان کی دوستی اور ہرممکنہ حد سے زیادہ تعاون پر شکرگزار (احسان مند) نہیں! تو اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بالخصوص اور مسلم دنیا کی قیادت نے بالعموم ملت اسلامیہ کے اصل اثاثہ‘ اسلاف کی عملی تعلیمات اور پیغامات فراموش کر دیئے۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ’فلسفۂ حیات‘ اُور ’تصور خودی‘ کی موجودگی میں مسلمانوں کی پستی و زبوں حالی اور کسی عالمی طاقت کا یہ رویہ اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جذبۂ خود داری‘ غیرت مندی اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لئے کائنات کی قوتوں کے ساتھ برسرپیکار رہنے کا جو درس ’فلسفۂ عجم (1908ء)‘ اسرار خودی (1915ء) اُور رموز خودی (1918ء) میں دیا گیا تھا وہ سب کے سب بالائے طاق رکھ (فراموش کر) دیئے گئے ہیں!

اِقبال شناسی بھی بہت بڑی نعمت ہے! تفکر کو عمل سے مربوط کرنے کا مرحلہ ہے کہ علامہ اقبالؒ شعور و تفکر کی کس منزل پر‘ کس طرح کا عمل اور ردعمل چاہتے تھے۔ انہوں نے قوائے عملی کو مفلوج کر دینے والے ’افلاطونی نظریات‘ کو رد کیا تو کیوں؟ 

ہندوؤں کے فلسفۂ وحدت الوجود کا جواب دیا تو کیوں؟ اور ایرانی شاعروں کی رومانی شاعری کے مقابلے انسان اور انسانیت کو نئے مراتب اُور منزلوں (رفعتوں) سے آشنا کیا تو کیوں؟ ’’اگر خواہی خدا را فاش دیدن۔۔۔ خودی را فاش تر دیدن بیاموز۔‘‘ 

امریکہ عالمی طاقت ہونے کے بل بوتے پر آج پوری دنیا کو للکار رہا ہے تو یہ بات علامہ اقبالؒ کے ہاں بہت پہلے بیان ہو چکی ہے۔ اپنے سوا اور اپنے مفادات کے مقابلے امریکہ اگر آج کسی دوسرے ملک اور قوم کی عزت کو ضروری نہیں سمجھ رہا تو اِس کا حل بھی علامہ اقبالؒ کے ہاں ہی ملتا ہے جنہوں نے ’’خودی کو اِس انتہاء تک مضبوط‘‘ کرنے کا درس دیا کہ وہ گردوپیش کی گردشیں اور عالمی سیاسی حالات‘ واقعات اور معاملات تو کیا ’انسان‘ کی ذات میں چھپی مخفی طاقتوں میں اِس حد تک اضافے کا باعث بن سکتی ہے کہ ہر فرد اپنی تقدیر کے دھارے کا رُخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے۔ ’’ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے: خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے۔۔۔ عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں: تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے!؟‘‘

امریکہ کے نئے صدر نے گذشتہ دس روز میں جو کچھ بھی کیا اور وہ آئندہ چار برس تک جو کچھ بھی کرنے کی دھمکیاں (اشارے) دے رہے ہیں‘ اُس پر تنقید کرنے کی بجائے یہ محل مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ انہوں نے قرآن اور خطیب قرآن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے دلی‘ روحانی‘ اُور زمانی رشتے کتنے الگ کر رکھے ہیں۔ دنیا جان چکی ہے کہ کعبے سے منہ پھیڑ لینے سے سوائے ذلت کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی‘ سمجھ لیجئے کہ خودی کی تربیت میں اطاعت‘ ضبط نفس اور نیابت الٰہی کو پس پشت ڈالنے سے عروج نہیں ملے گا اور مسلمان انفرادی یا مسلم اقوام اجتماعی طور پر اُس وقت تک اپنی حیثیت نہیں منوا سکیں گے یعنی اُس وقت تک درجۂ کمال تک نہیں پہنچ سکیں گے جب تک ’ملت‘ نہیں بنیں گے اُور ملت کے تصور میں کسی ’’فرد کی انفرادیت‘‘ ختم نہیں ہوتی بلکہ اِس کی حیثیت پہلے سے نسبتاً زیادہ مضبوط‘ نمایاں اُور بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ 

پیغام یہ ہے کہ اَمریکہ یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک (عالمی طاقت) کا اتحادی بننے میں بقاء نہیں اور نہ ہی کسی ملک سے تصادم (آ بیل مجھے مار) کی پالیسی ’دور اندیشی‘ کے زمرے میں شمار ہوگی بلکہ مسلمان ممالک کو علوم و فنون اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اپنی فہم و فراست اور دانش میں اضافہ کرتے ہوئے یہ ’’باریک نکتہ‘‘ سمجھنا ہوگا کہ توحید و رسالت کی تقلید‘ اجتہاد اُور ملت اسلامیہ کی بنیاد و بقاء صرف اُور صرف ’’قرآنی تعلیمات‘‘ پر عمل درآمد میں پنہاں (پوشیدہ) ہیں۔ لاالہ الا اللہ (توحید) اُور محمد رسول اللہ (رسالت) کی گواہی کے بعد اِس کسوٹی پر عمل اعمال اور افکار سے پورا اُترے (کوششیں کئے) بناء دنیا و آخرت میں سرخروئی تو بہت دُور کی بات‘ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا وجود اور بقاء بھی خطرات سے دوچار دکھائی دے رہے ہیں۔ ’’در جماعت فرد را بینم ما: اَز چمن را چوں گل چینم ما۔۔۔ فرد تا اَندر جماعت گم شود: قطرۂ وسعت طلب قلزم شود۔‘‘