Terror concerns
اَمریکی تحفظات!
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ ماضی میں بھی جبکہ یہ دونوں ممالک روس کے خلاف سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) جیسے اتحادوں کا حصہ رہے اور اُس سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے اتحادی تھے تب بھی کئی مرتبہ اِن کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافی نکتۂ نظر سامنے آتا رہا۔ ایسا ہی ایک موقع وہ بھی تھا جب امریکہ نے پاکستان کی اقتصادی امداد بند کر دی اور اقتصادی پابندیاں بھی عائد کردیں جس سے پاکستان کی دل شکنی ہوئی کیونکہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ جیسا اتحادی ملک اُس کے ساتھ اِس قسم کا سلوک روا رکھ سکتا ہے تاہم ماضی میں ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات کا ازالہ وقت کے ساتھ ہوتا رہا لیکن حالیہ چند برس میں جس انداز سے پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ دیکھا گیا ہے یہ نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ اُس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے قطع تعلق ہی کرلیں۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں عدم اعتماد کی خلیج کبھی بھی اس قدر گہری نہیں رہی اور اِس کا آغاز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس مطالبے سے ہوا کہ پاکستان اپنے ہاں دہشت گرد گروہوں کے خلاف اُن کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں کرے بصورت دیگر اُسے کڑے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
پاکستان نے اِن امریکی الزامات کا فوری جواب دیا اور ماضی میں امریکہ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتا آیا ہے تاہم اِس مرتبہ پاکستان نے امریکہ سے ایسا ہی کرنے کو کہا ہے جو ایک غیرمعمولی جرأت اظہار بھی ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ تناؤ کا سبب عسکریت پسند ’حقانی نیٹ ورک‘ ہے۔ امریکہ کو قوی یقین ہے کہ ’حقانی نیٹ ورک‘ کا مرکز پاکستان میں ہے اور اِسے خفیہ اِدارے ’انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی)‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ماضی میں بھی امریکہ کی کئی شخصیات اِسی قسم کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں جن کی پاکستان نے ہمیشہ تردید کی ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اُس کے پاس اپنی اِس بات کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ پیش کرے تاکہ پاکستان میں مبینہ طور پر موجود ’حقانی نیٹ ورک‘ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مختلف فوجی کاروائیوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائیاں کی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک جون دوہزارچودہ تک شمالی وزیرستان میں اپنا وجود رکھتا تھا‘ جس کی طاقت کے مرکز اور افرادی قوت پر وار کیا گیا تو دیگر عسکری گروہوں کی طرح اُنہوں نے بھی اپنا مرکز تبدیل کر لیا ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ پاکستان کے پاس ایسا کرنے کے لئے وسائل نہیں تھے اور فوج اندرون ملک دیگر محاذوں پر ڈٹی ہوئی تھی۔
امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے امریکہ کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں نہ کیں تو سخت اقدامات کئے جائیں گے‘ جس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی پاکستان کی حدود میں گھس کر زمینی کاروائیاں کریں جیسا کہ انہوں نے مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں کیا تھا جہاں مبینہ طور پر القاعدہ تنظیم کا سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ فوجیوں نے تلاش اور قتل کرنے کا دعوی کیا۔ اگر امریکہ کو ایسی معلومات میسر آ جاتی ہیں جن کے مطابق وہ حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی اور افغان طالبان کے سپرئم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوند زادہ پاکستان میں کہاں روپوش ہیں تو وہ اِن کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے۔ اِسی طرح جماعت الدعوۃ سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید بھی امریکہ کا نشانہ ہو سکتے ہیں جس کے سر کی قیمت امریکہ نے نومبر 2008ء کے بمبئی حملوں کے بعد مقرر کر رکھی ہے کیونکہ اُن حملوں میں امریکی باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اَمریکہ کو اِن دنوں بھارت کی قربت حاصل ہے۔
امریکہ پاکستان کی حدود میں ڈرون طیاروں سے حملے کرسکتا ہے۔ پاکستان کی ’نان نیٹو اتحادی‘ حیثیت ختم کرسکتا ہے۔ افغانستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں روپوش پاکستان مخالف عسکریت پسندوں بالخصوص بلوچ علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرسکتا ہے اور افغان و بھارتی خفیہ اداروں کو شہ دے سکتا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بنائے رکھیں تاکہ وہ امریکہ کے ہر جائزوناجائز مطالبے کے آگے سرتسلیم خم کر دے۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے اِسے ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کرچکا ہے جہاں مذہبی آزادی محدود ہے اور مذہبی آزادی کو دنیا میں انسانی حقوق کی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان جواب میں امریکہ کی افغانستان میں موجود 20ہزار غیرملکی افواج کو سامان رسد کی فراہمی کے لئے راہداری معطل کرسکتا ہے جو بلاقیمت (قریب مفت) ہی فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی راہداری افغان فوجوں کے لئے بھی سامان رسد کا سستا اور کم وقت کا ذریعہ ہے۔ پاکستان نیٹو سپلائی (رسد) نومبر 2011ء میں آٹھ ماہ تک معطل کر چکا ہے جب مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر افغانستان کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا اور اُس حملے میں 24 پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور افغانستان میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل سے فاصلہ اختیار کرسکتا ہے‘ جس کے لئے اُس کی سنجیدہ کوششوں کو فراموش کردیا گیا ہے اور اگر پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو امریکہ کے لئے وہاں امن کا قیام زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
پاکستان کی جانب سے سنجیدہ اور بار ہا تحفظات کے اظہار کے باوجود بھی امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں کلیدی کردار دیا ہے جبکہ امریکہ اگر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائیاں کرتا ہے تو اُس سے قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل کو دھچکا لگے گا۔ پاکستان اِس بات کی وکالت کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے وہاں متحارب دھڑے جنگ بندی کریں اور بات چیت کے عمل کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کا یہ مؤقف بھی ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی صرف اُس کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تمام حصہ داروں کا اجتماعی فریضہ ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔
امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو 7 ستمبر 2012ء کے روز دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جو قریب دو دہائیوں سے پہلے روسی اور بعدازاں نیٹو افواج کے خلاف عسکری مہمات کا حصہ رہی ہے۔ امریکہ نے اب تک حقانی نیٹ ورک کے کئی اہم رہنماؤں کو قتل کیا ہے اور موجودہ رہنماؤں کے سر کی قیمت بھی مقرر کر رکھی ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خاتمہ کی شاید ایک بھرپور کوشش کرنا چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اِس مقصد کے لئے پاکستان اُس کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان اور امریکہ اِس بات پر متفق بھی ہو جائیں کہ وہ مل کر حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کا خاتمہ کریں گے تب بھی یہ تعاون اِس بات کی ضمانت نہیں ہوگا کہ یہ دونوں ممالک مل کر اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے اور اِس بات کی ضمانت بھی نہیں کہ انہیں بہرصورت اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل ہوگی۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)