Showing posts with label Haqqani Network. Show all posts
Showing posts with label Haqqani Network. Show all posts

Sunday, January 14, 2018

TRANSLATION: The terror concerns by Rahimullah Yusufzai

Terror concerns
اَمریکی تحفظات!
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ ماضی میں بھی جبکہ یہ دونوں ممالک روس کے خلاف سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) جیسے اتحادوں کا حصہ رہے اور اُس سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے اتحادی تھے تب بھی کئی مرتبہ اِن کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافی نکتۂ نظر سامنے آتا رہا۔ ایسا ہی ایک موقع وہ بھی تھا جب امریکہ نے پاکستان کی اقتصادی امداد بند کر دی اور اقتصادی پابندیاں بھی عائد کردیں جس سے پاکستان کی دل شکنی ہوئی کیونکہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ جیسا اتحادی ملک اُس کے ساتھ اِس قسم کا سلوک روا رکھ سکتا ہے تاہم ماضی میں ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات کا ازالہ وقت کے ساتھ ہوتا رہا لیکن حالیہ چند برس میں جس انداز سے پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ دیکھا گیا ہے یہ نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ اُس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے قطع تعلق ہی کرلیں۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں عدم اعتماد کی خلیج کبھی بھی اس قدر گہری نہیں رہی اور اِس کا آغاز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس مطالبے سے ہوا کہ پاکستان اپنے ہاں دہشت گرد گروہوں کے خلاف اُن کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں کرے بصورت دیگر اُسے کڑے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ 

پاکستان نے اِن امریکی الزامات کا فوری جواب دیا اور ماضی میں امریکہ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتا آیا ہے تاہم اِس مرتبہ پاکستان نے امریکہ سے ایسا ہی کرنے کو کہا ہے جو ایک غیرمعمولی جرأت اظہار بھی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ تناؤ کا سبب عسکریت پسند ’حقانی نیٹ ورک‘ ہے۔ امریکہ کو قوی یقین ہے کہ ’حقانی نیٹ ورک‘ کا مرکز پاکستان میں ہے اور اِسے خفیہ اِدارے ’انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی)‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ماضی میں بھی امریکہ کی کئی شخصیات اِسی قسم کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں جن کی پاکستان نے ہمیشہ تردید کی ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اُس کے پاس اپنی اِس بات کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ پیش کرے تاکہ پاکستان میں مبینہ طور پر موجود ’حقانی نیٹ ورک‘ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مختلف فوجی کاروائیوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائیاں کی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک جون دوہزارچودہ تک شمالی وزیرستان میں اپنا وجود رکھتا تھا‘ جس کی طاقت کے مرکز اور افرادی قوت پر وار کیا گیا تو دیگر عسکری گروہوں کی طرح اُنہوں نے بھی اپنا مرکز تبدیل کر لیا ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ پاکستان کے پاس ایسا کرنے کے لئے وسائل نہیں تھے اور فوج اندرون ملک دیگر محاذوں پر ڈٹی ہوئی تھی۔

امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے امریکہ کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں نہ کیں تو سخت اقدامات کئے جائیں گے‘ جس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی پاکستان کی حدود میں گھس کر زمینی کاروائیاں کریں جیسا کہ انہوں نے مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں کیا تھا جہاں مبینہ طور پر القاعدہ تنظیم کا سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ فوجیوں نے تلاش اور قتل کرنے کا دعوی کیا۔ اگر امریکہ کو ایسی معلومات میسر آ جاتی ہیں جن کے مطابق وہ حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی اور افغان طالبان کے سپرئم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوند زادہ پاکستان میں کہاں روپوش ہیں تو وہ اِن کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے۔ اِسی طرح جماعت الدعوۃ سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید بھی امریکہ کا نشانہ ہو سکتے ہیں جس کے سر کی قیمت امریکہ نے نومبر 2008ء کے بمبئی حملوں کے بعد مقرر کر رکھی ہے کیونکہ اُن حملوں میں امریکی باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اَمریکہ کو اِن دنوں بھارت کی قربت حاصل ہے۔

امریکہ پاکستان کی حدود میں ڈرون طیاروں سے حملے کرسکتا ہے۔ پاکستان کی ’نان نیٹو اتحادی‘ حیثیت ختم کرسکتا ہے۔ افغانستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں روپوش پاکستان مخالف عسکریت پسندوں بالخصوص بلوچ علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرسکتا ہے اور افغان و بھارتی خفیہ اداروں کو شہ دے سکتا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بنائے رکھیں تاکہ وہ امریکہ کے ہر جائزوناجائز مطالبے کے آگے سرتسلیم خم کر دے۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے اِسے ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کرچکا ہے جہاں مذہبی آزادی محدود ہے اور مذہبی آزادی کو دنیا میں انسانی حقوق کی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان جواب میں امریکہ کی افغانستان میں موجود 20ہزار غیرملکی افواج کو سامان رسد کی فراہمی کے لئے راہداری معطل کرسکتا ہے جو بلاقیمت (قریب مفت) ہی فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی راہداری افغان فوجوں کے لئے بھی سامان رسد کا سستا اور کم وقت کا ذریعہ ہے۔ پاکستان نیٹو سپلائی (رسد) نومبر 2011ء میں آٹھ ماہ تک معطل کر چکا ہے جب مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر افغانستان کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا اور اُس حملے میں 24 پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور افغانستان میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل سے فاصلہ اختیار کرسکتا ہے‘ جس کے لئے اُس کی سنجیدہ کوششوں کو فراموش کردیا گیا ہے اور اگر پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو امریکہ کے لئے وہاں امن کا قیام زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے سنجیدہ اور بار ہا تحفظات کے اظہار کے باوجود بھی امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں کلیدی کردار دیا ہے جبکہ امریکہ اگر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائیاں کرتا ہے تو اُس سے قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل کو دھچکا لگے گا۔ پاکستان اِس بات کی وکالت کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے وہاں متحارب دھڑے جنگ بندی کریں اور بات چیت کے عمل کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کا یہ مؤقف بھی ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی صرف اُس کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تمام حصہ داروں کا اجتماعی فریضہ ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو 7 ستمبر 2012ء کے روز دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جو قریب دو دہائیوں سے پہلے روسی اور بعدازاں نیٹو افواج کے خلاف عسکری مہمات کا حصہ رہی ہے۔ امریکہ نے اب تک حقانی نیٹ ورک کے کئی اہم رہنماؤں کو قتل کیا ہے اور موجودہ رہنماؤں کے سر کی قیمت بھی مقرر کر رکھی ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خاتمہ کی شاید ایک بھرپور کوشش کرنا چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اِس مقصد کے لئے پاکستان اُس کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان اور امریکہ اِس بات پر متفق بھی ہو جائیں کہ وہ مل کر حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کا خاتمہ کریں گے تب بھی یہ تعاون اِس بات کی ضمانت نہیں ہوگا کہ یہ دونوں ممالک مل کر اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے اور اِس بات کی ضمانت بھی نہیں کہ انہیں بہرصورت اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل ہوگی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, July 2, 2017

TRANSLATION: Life in captivity - a tale of couple!

Life in captivity
مغوئیوں کی کہانی!
عسکریت پسند اکثر ایسی شخصیات کو اغوأ کرتے ہیں جن کی اہمیت ہوتی ہے اور پھر اُن مغوئیوں کی ویڈیو جاری کرکے حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کروانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اغوأ ہوتے ہیں ایک نہایت ہی مشکل زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ اِس بارے میں زیادہ کچھ بیان نہیں کر سکتے۔ اُن کے چہروں کو ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے اور اُن پر مسلح افراد پہرہ دے رہے ہوتے ہیں جب اُن کے پیغامات ریکارڈ کئے جا رہے ہوتے ہیں۔ ظاہری سی بات ہے کہ ایسے پیغامات کا مقصد مغوئیوں کے اہل خانہ اور متعلقہ حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تاکہ وہ اغوأکاروں کے مطالبات من و عن تسلیم کر لیں۔ عسکریت پسندی میں اضافے کے ساتھ پاکستان اور افغانستان میں اغوأ کا کاروبار بڑھا۔ جن علاقوں میں قانون کی حاکمیت کمزور ہوتی ہے وہاں یہ آسان و نفع بخش کاروبار خوب چمکتا ہے۔ پیشہ ور اغوأ کار عموماً عسکریت پسندوں سے مل جاتے ہیں اور بھاری معاوضے کے عوض اپنی مہارت کی بنیاد پر وارداتیں کرتے ہیں۔ مغوئیوں کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان یا پھر زیرحراست ساتھیوں کی رہائی جیسے مطالبات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر واقعات میں مغوئیوں کی رہائی بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی عمل میں آتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی یہ آئی ہے کہ مغوئیوں کے اہل خانہ بھی ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہیں جن میں اغوأ کاروں سے انسانیت کے نام پر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بے گناہ افراد کو رہا کردیں لیکن اس کوشش کا خاطرخواہ نتیجہ دیکھنے میں نہیں آتا کہ جس سے اغوأ کاروں کے دل نرم پڑ جائیں اور وہ مغوئیوں کو بناء کسی تاوان کی وصولی یا اپنے ساتھیوں کی رہائی وغیرہ جیسے مطالبات منظور ہوئے بغیر رہا کردیں۔ ایسی ایک ویڈیو کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے پیٹرک بوئل (Patrick Boyle) اُور لینڈا بوئل (Patrick Boyle) کی سامنے آئی ہے جو انگریزی زبان میں ہے تاہم اِس پر اُردو اُور پشتو زبانوں کے ’سب ٹائٹل‘ بھی لگائے گئے ہیں۔ والدین کی جانب سے یہ ویڈیو پیغام اُن کے بیٹے جوشوا بوئل (Joshua Boyle)‘ اُن کی اہلیہ کیٹلان کول مین (Caitlan Coleman) اُور دو بچوں کی غیرمشروط و فوری رہائی کے لئے انسانیت کی بنیاد پر اپیل ہے۔ یہ دونوں بچے اِس عرصے کے دوران پیدا ہوئے ہیں جبکہ اُن کے والدین اغوأ کاروں کے چنگل میں ایک غیریقینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو پیغام رمضان المبارک کے اختتام کے موقع پر جاری کیا گیا جب عیدالفطر قریب تھی اور اس کا مقصد یہی ہوگا کہ مسلمان چونکہ ماہ صیام کے دوران سال کے دیگر ایام کی نسبت زیادہ عبادات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو رحم کی اِس اپیل کا خاطرخواہ مثبت جواب سامنے آئے گا۔

33 سالہ جوشوا کینیڈا کا باشندہ ہے جبکہ اُس کی 31 سالہ اہلیہ کیٹلان امریکن ہیں جنہیں اکتوبر 2012ء میں اُس وقت اغوأ کیا گیا جبکہ وہ ’وردک کابل شاہراہ‘ پر سفر کر رہے تھے۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیروتفریح کر رہے تھے۔ افغانستان جیسے ملک کا سیروتفریح کے لئے انتخاب پرخطر ثابت ہونا تعجب خیز نہیں۔ اغوأ کے ایک عرصہ بعد معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی ’حقانی نیٹ ورک‘ کے قبضے میں ہیں۔ یہ گروہ افغان تحریک طالبان کا حصہ ہے جس کی بانی سراج الدین حقانی ہیں۔ حالیہ چند برس میں حقانی افغان طالبان تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک (اغوأ کاروں) کی جانب سے اب تک چند ویڈیوز جاری ہوئی ہیں جن میں میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کو دکھایا گیا ہے اور اِس کا مقصد کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے قیدیوں کی رہائیوں ممکن بنائیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ عام نہیں ہوا لیکن مغوئیوں کے اہل خانہ اور کینیڈا و امریکہ کی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری کرنے والوں کی جانب سے یہی کہا گیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے پہلے 10 قیدیوں کی رہائی مطالبہ کیا جو تمام کے تمام افغانستان میں قید ہیں۔ بعدازاں اِس فہرست کو کم کرکے آٹھ کر دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ اِن آٹھ زیرحراست افراد میں سے تین نہایت ہی اہم ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اُس وقت تک مغوئیوں کو رہا نہیں کرے گا جب تک اِن تینوں کو بھی رہا نہیں کردیا جاتا۔ اِن تینوں میں شامل انس حقانی بھی ہیں جو سراج الدین حقانی کے بھای اور افغان مجاہدین رہنما مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں جنہیں امریکی حکام نے بحرین سے گرفتار کیا جبکہ وہ قطر کا دورہ کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔ اُنہیں بعدازاں افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا جہاں ایک عدالتی سماعت کے بعد اُنہیں سزائے موت سنائی گئی۔ صدر اشرف غنی کی حکومت نے تاحال اُنہیں پھانسی تو نہیں دی حالانکہ اُن پر کچھ سیاسی گروہوں کا دباؤ بھی ہے۔ اگر افغان حکومت مولوی جلال الدین حقانی کو عدالت کے حکم پر پھانسی دے دیتی ہے تو اِس کا ردعمل منطقی ہے اور اس میں کئی مغوئیوں کی رہائی کے امکانات اور مستقبل بھی تاریک ہو جائیں گے جن میں جوشوا اور کیٹلان شامل ہیں۔ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے جس دوسرے اہم قیدی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ قاری رشید ہیں جن انس حقانی کے ساتھ قطر گئے تھے اور انہیں بھی بحرین سے امریکیوں نے گرفتار کیا۔ تیسرے اہم قیدی حاجی ملی خان ہیں جو سراج الدین کے قریبی عزیز ہیں اور گذشتہ کئی برس سے افغان حکومت کی زیرحراست ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کی قید میں کینیڈین اور امریکن میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کی رہائی کے لئے والدین نے اپنی اپیل میں اگرچہ انس حقانی کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے اپنے تیءں اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُن کا خاندان ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے اور وہ افغان حکومت پر اثرورسوخ سے دباؤ بھی ڈالے گا کہ وہ اُن کے بھائی کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہ کریں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اُن کی جانب سے افغانستان کینیڈا اور امریکہ کے سینئر حکام سے تحریری درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد نہ کریں۔

عیدالفطر کے قریب جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں تحریک طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور سراج الدین حقانی سے انسانیت کے نام پر اپیل کرتے ہوئے افغانستان کے حالات پر بھی محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ماضی و حال کی غلطیوں کا خاتمہ اور ازالہ مغوئیوں کو نقصان پہنچانے سے ممکن نہیں۔ اگرچہ اِس اپیل کا تاحال حقانی نیٹ ورک یا افغان طالبان کی جانب سے کوئی جواب (ردعمل) سامنے نہیں آیا لیکن حقانی نیٹ ورک ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک انس حقانی‘ حاجی ملی خان‘ قاری رشید و دیگر کو رہا نہیں کردیا جاتا اُس وقت اِن میاں بیوی اور اُن کے بچوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)