Showing posts with label Caitlan Coleman. Show all posts
Showing posts with label Caitlan Coleman. Show all posts

Sunday, July 2, 2017

TRANSLATION: Life in captivity - a tale of couple!

Life in captivity
مغوئیوں کی کہانی!
عسکریت پسند اکثر ایسی شخصیات کو اغوأ کرتے ہیں جن کی اہمیت ہوتی ہے اور پھر اُن مغوئیوں کی ویڈیو جاری کرکے حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کروانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اغوأ ہوتے ہیں ایک نہایت ہی مشکل زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ اِس بارے میں زیادہ کچھ بیان نہیں کر سکتے۔ اُن کے چہروں کو ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے اور اُن پر مسلح افراد پہرہ دے رہے ہوتے ہیں جب اُن کے پیغامات ریکارڈ کئے جا رہے ہوتے ہیں۔ ظاہری سی بات ہے کہ ایسے پیغامات کا مقصد مغوئیوں کے اہل خانہ اور متعلقہ حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تاکہ وہ اغوأکاروں کے مطالبات من و عن تسلیم کر لیں۔ عسکریت پسندی میں اضافے کے ساتھ پاکستان اور افغانستان میں اغوأ کا کاروبار بڑھا۔ جن علاقوں میں قانون کی حاکمیت کمزور ہوتی ہے وہاں یہ آسان و نفع بخش کاروبار خوب چمکتا ہے۔ پیشہ ور اغوأ کار عموماً عسکریت پسندوں سے مل جاتے ہیں اور بھاری معاوضے کے عوض اپنی مہارت کی بنیاد پر وارداتیں کرتے ہیں۔ مغوئیوں کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان یا پھر زیرحراست ساتھیوں کی رہائی جیسے مطالبات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر واقعات میں مغوئیوں کی رہائی بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی عمل میں آتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی یہ آئی ہے کہ مغوئیوں کے اہل خانہ بھی ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہیں جن میں اغوأ کاروں سے انسانیت کے نام پر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بے گناہ افراد کو رہا کردیں لیکن اس کوشش کا خاطرخواہ نتیجہ دیکھنے میں نہیں آتا کہ جس سے اغوأ کاروں کے دل نرم پڑ جائیں اور وہ مغوئیوں کو بناء کسی تاوان کی وصولی یا اپنے ساتھیوں کی رہائی وغیرہ جیسے مطالبات منظور ہوئے بغیر رہا کردیں۔ ایسی ایک ویڈیو کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے پیٹرک بوئل (Patrick Boyle) اُور لینڈا بوئل (Patrick Boyle) کی سامنے آئی ہے جو انگریزی زبان میں ہے تاہم اِس پر اُردو اُور پشتو زبانوں کے ’سب ٹائٹل‘ بھی لگائے گئے ہیں۔ والدین کی جانب سے یہ ویڈیو پیغام اُن کے بیٹے جوشوا بوئل (Joshua Boyle)‘ اُن کی اہلیہ کیٹلان کول مین (Caitlan Coleman) اُور دو بچوں کی غیرمشروط و فوری رہائی کے لئے انسانیت کی بنیاد پر اپیل ہے۔ یہ دونوں بچے اِس عرصے کے دوران پیدا ہوئے ہیں جبکہ اُن کے والدین اغوأ کاروں کے چنگل میں ایک غیریقینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو پیغام رمضان المبارک کے اختتام کے موقع پر جاری کیا گیا جب عیدالفطر قریب تھی اور اس کا مقصد یہی ہوگا کہ مسلمان چونکہ ماہ صیام کے دوران سال کے دیگر ایام کی نسبت زیادہ عبادات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو رحم کی اِس اپیل کا خاطرخواہ مثبت جواب سامنے آئے گا۔

33 سالہ جوشوا کینیڈا کا باشندہ ہے جبکہ اُس کی 31 سالہ اہلیہ کیٹلان امریکن ہیں جنہیں اکتوبر 2012ء میں اُس وقت اغوأ کیا گیا جبکہ وہ ’وردک کابل شاہراہ‘ پر سفر کر رہے تھے۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیروتفریح کر رہے تھے۔ افغانستان جیسے ملک کا سیروتفریح کے لئے انتخاب پرخطر ثابت ہونا تعجب خیز نہیں۔ اغوأ کے ایک عرصہ بعد معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی ’حقانی نیٹ ورک‘ کے قبضے میں ہیں۔ یہ گروہ افغان تحریک طالبان کا حصہ ہے جس کی بانی سراج الدین حقانی ہیں۔ حالیہ چند برس میں حقانی افغان طالبان تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک (اغوأ کاروں) کی جانب سے اب تک چند ویڈیوز جاری ہوئی ہیں جن میں میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کو دکھایا گیا ہے اور اِس کا مقصد کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے قیدیوں کی رہائیوں ممکن بنائیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ عام نہیں ہوا لیکن مغوئیوں کے اہل خانہ اور کینیڈا و امریکہ کی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری کرنے والوں کی جانب سے یہی کہا گیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے پہلے 10 قیدیوں کی رہائی مطالبہ کیا جو تمام کے تمام افغانستان میں قید ہیں۔ بعدازاں اِس فہرست کو کم کرکے آٹھ کر دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ اِن آٹھ زیرحراست افراد میں سے تین نہایت ہی اہم ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اُس وقت تک مغوئیوں کو رہا نہیں کرے گا جب تک اِن تینوں کو بھی رہا نہیں کردیا جاتا۔ اِن تینوں میں شامل انس حقانی بھی ہیں جو سراج الدین حقانی کے بھای اور افغان مجاہدین رہنما مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں جنہیں امریکی حکام نے بحرین سے گرفتار کیا جبکہ وہ قطر کا دورہ کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔ اُنہیں بعدازاں افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا جہاں ایک عدالتی سماعت کے بعد اُنہیں سزائے موت سنائی گئی۔ صدر اشرف غنی کی حکومت نے تاحال اُنہیں پھانسی تو نہیں دی حالانکہ اُن پر کچھ سیاسی گروہوں کا دباؤ بھی ہے۔ اگر افغان حکومت مولوی جلال الدین حقانی کو عدالت کے حکم پر پھانسی دے دیتی ہے تو اِس کا ردعمل منطقی ہے اور اس میں کئی مغوئیوں کی رہائی کے امکانات اور مستقبل بھی تاریک ہو جائیں گے جن میں جوشوا اور کیٹلان شامل ہیں۔ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے جس دوسرے اہم قیدی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ قاری رشید ہیں جن انس حقانی کے ساتھ قطر گئے تھے اور انہیں بھی بحرین سے امریکیوں نے گرفتار کیا۔ تیسرے اہم قیدی حاجی ملی خان ہیں جو سراج الدین کے قریبی عزیز ہیں اور گذشتہ کئی برس سے افغان حکومت کی زیرحراست ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کی قید میں کینیڈین اور امریکن میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کی رہائی کے لئے والدین نے اپنی اپیل میں اگرچہ انس حقانی کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے اپنے تیءں اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُن کا خاندان ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے اور وہ افغان حکومت پر اثرورسوخ سے دباؤ بھی ڈالے گا کہ وہ اُن کے بھائی کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہ کریں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اُن کی جانب سے افغانستان کینیڈا اور امریکہ کے سینئر حکام سے تحریری درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد نہ کریں۔

عیدالفطر کے قریب جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں تحریک طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور سراج الدین حقانی سے انسانیت کے نام پر اپیل کرتے ہوئے افغانستان کے حالات پر بھی محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ماضی و حال کی غلطیوں کا خاتمہ اور ازالہ مغوئیوں کو نقصان پہنچانے سے ممکن نہیں۔ اگرچہ اِس اپیل کا تاحال حقانی نیٹ ورک یا افغان طالبان کی جانب سے کوئی جواب (ردعمل) سامنے نہیں آیا لیکن حقانی نیٹ ورک ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک انس حقانی‘ حاجی ملی خان‘ قاری رشید و دیگر کو رہا نہیں کردیا جاتا اُس وقت اِن میاں بیوی اور اُن کے بچوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)