Showing posts with label Tehreek e Taliban Afghanistan. Show all posts
Showing posts with label Tehreek e Taliban Afghanistan. Show all posts

Wednesday, February 8, 2023

Economic crisis, worries & unsafe border!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

معاشی بوجھ : غیرمحفوظ سرحد

امریکہ اور یورپ کی جانب سے طالبان حکومت کو اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی دینے سے انکار کے بعد پاکستان سے روزانہ لاکھوں ڈالر افغانستان اسمگل کئے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کو درپیش معاشی بحران کے اسباب و محرکات کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان سمگل ہونے والے امریکی ڈالرز کا حوالہ دیتے ہوئے تحقیق کا یہ نتیجہ پیش کیا گیا ہے پاکستان سے ڈالروں کی افغانستان منتقلی ملک کے معاشی بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق روزانہ چھبیس لاکھ ڈالر سرحد پار جا رہے ہیں۔ افغانستان کا مرکزی بینک ہر ہفتے اپنی کرنسی مارکیٹ کے لئے سترہ ملین (ایک کروڑ ستر لاکھ) ڈالر جاری کرتا ہے۔ پاکستان سے ڈالروں کے غیر قانونی بہاو¿ کی وجہ سے ’اگست دوہزاراکیس‘ میں برسراقتدار آئی افغان حکومت عالمی تنہائی کے باوجود اگر قائم ہے تو اِس کی بڑی وجہ پاکستان کا سہارا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے لئے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اُور اِس کی وجہ سے پاکستانی روپے پر دباو¿ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے لیکن ذاتی منافع کے لئے کرنسی کی غیرقانونی کا منافع بخش کاروبار پورے جوبن پر ہے۔ ذہن نشین رہے کہ پاکستان کی مغرب سرحد 2640 کلومیٹر (سولہ سو چالیس میل) طویل اُور افغانستان سے جڑی ہوئی ہے۔ اِس پاک افغان ’غیرمحفوظ سرحد‘ میں افراد کی آمدورفت اُور اشیا و اجناس کی نقل و حمل کے لئے پانچ فعال مقامات (کراسنگ پوائنٹس) میں چمن‘ طورختم‘ خرلاچی‘ غلام خان اُور انگور اڈا شامل ہیں۔ جن کے ذریعے ہر ماہ قریب تین لاکھ پچاسی ہزار سے زائد افغانوں کی آمدورفت ہوتی ہے اُور اِس مقصد کے لئے 100 سہولیاتی مراکز قائم ہیں جن میں سب سے زیادہ چمن میں 79 ہیں۔ افغانوں کی اکثریت کو سفری دستاویزات یعنی افغان پاسپورٹ پر لگے پاکستان کا ویزہ ہونے کی صورت پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ’بنا سفری دستاویزات (افغان شہریت کے کاغذات جسے تذکرہ کہا جاتا ہے)‘ بھی مریضوں‘ خواتین‘ صحافیوں اُور تاجروں کو پاکستان آمدورفت کی اجازت دی جاتی ہے اُور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بنا سفری دستاویزات پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہری (مرد و خواتین) اگر چاہیں تو وہ پاکستان میں اپنے قیام کا دورانیہ بڑھا بھی سکتے ہیں جس کے لئے ایک الگ بندوبست کے تحت شعبے قائم کئے گئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی دوسرا ملک اپنے کسی ہمسائے ملک کو اِس قدر بڑے پیمانے پر سہولیات فراہم نہیں کرتا۔ افغانستان نے گزشتہ دو دہائیوں کی طویل جنگ کے بعد اقتدار حاصل کرنے حکومت کو دنیا تسلیم نہیں کر رہی اُور اِسے افغان عوام کی ترجمان (منتخب) حکومت نہ ہونے کا طعنہ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ نے افغان مرکزی بینک کے ”9 ارب ڈالر“ سے زائد کے ذخائر (اثاثے) روک (منجمند کر) رکھے ہیں تاکہ یہ رقم عسکریت پسندی کے فروغ یا کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہوں۔ بعدازاں اقوام متحدہ کے دباو¿ پر امریکہ نے افغانستان کے خراب معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے اِس 9 ارب ڈالر کا آدھا حصہ جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہی تھی کہ افغان حکومت کی جانب سے افغان خواتین پر تعلیم اُور کام کاج پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد اِس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ افغانستان میں نئی حکومت کو قریب ’سترہ ماہ‘ مکمل ہو چکے ہیں اُور اِس عرصے کے دوران افغانستان کی معاشی حالت اُور انسانی حقوق کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ آدھی سے زیادہ افغان آبادی کو سخت سردی میں شدید بھوک کا سامنا ہے اُور اِس مشکل میں افغانستان کی معیشت کا کچھ بوجھ پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ معروف مالیاتی مشاورتی ادارے ”الفا بیٹا کور سلوشنز پرائیویٹ لمٹیڈ“ کے مطابق ”افغانستان کو روزانہ کی بنیاد پر تقریبا دس سے پندرہ ملین (ایک سے ڈیڑھ کروڑ) ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا نصف حصہ پاکستان (غیرقانونی طور پر) جا رہا ہے۔“ افغان حکومت کے زیر انتظام مرکزی بینک (دا افغانستان بینک) کے پاس معیشت کو سہارا دینے کے لئے ڈالر موجود ہیں جو اقوام متحدہ کی طرف سے ہر ہفتے 4 کروڑ (چالیس ملین) ڈالر دیئے جاتے ہیں تاکہ انسانی امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں چونکہ افغانستان عالمی بینکاری نظام سے کٹ چکا ہے‘ اس لئے یہ رقم نقدی کی صورت افغان حکومت کو دی جاتی ہے اور اس کے آنے کے بعد اسے مقامی کرنسی مارکیٹ‘ افغانی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اگرچہ اس امداد سے طالبان کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچتا لیکن ڈالر آخر کار مرکزی بینک کے خزانے میں چلے جاتے ہیں۔ اِس کے علاو¿ہ افغان حکومت کو کسٹم ٹیرف سے بھی ڈالروں میں آمدنی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق ”اقوام متحدہ دراصل مارکیٹوں میں ڈالر کی فراہمی اور بدلے میں افغانیوں کو خرید کر افغانی کرنسی کو مستحکم رکھے ہوئے ہے تاہم اقوام متحدہ تن تنہا افغانستان نہیں چلا رہا بلکہ اِس میں پاکستان سے غیرقانونی ڈالروں کی ترسیل (اسمگلنگ) کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران افغانی میں امریکہ ڈالر (گرین بیک) کے مقابلے میں تقریبا پانچ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا ہے‘ جو دنیا میں کسی بھی کرنسی کی اچھی (مضبوط) کارکردگی کا مظاہرہ ہے۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار میں آنے کے وقت افغان کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی تھی اُور ایک ڈالر کے عوض 121.18 افغانی ملتے تھے لیکن بعدازاں افغانی مستحکم ہوئی اُور امریکی ڈالر کے مقابلے اِس کی موجودہ قدر 90 افغانی ہے جبکہ گزشتہ روز (8 فروری) پاکستانی روپے کی قدر 275 روپے تھی۔ اگر گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کو دیکھا جائے تو یہ 37 فیصد بنتی ہے۔ توجہ طلب ہے کہ ایک سال کے دوران افغان کرنسی کی قدر 5.6 فیصد مضبوط جبکہ پاکستانی روپے کی قدر 37 فیصد کم ہوئی ہے جو بڑی گراوٹ ہے! صرف جنوری دوہزارتیئس کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں 10فیصد کمی ہوئی ہے اُور اِس سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں حکومت ’آئی ایم ایف‘ سے انتہائی ضروری قرض حاصل کرنے کے لئے شرح تبادلہ پر اپنی گرفت نرم کئے ہوئے ہے اُور اِس کے زرمبادلہ کے ذخائر سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔ وقت ہے کہ افغان معیشت کو سہارا دینے کا بوجھ اُتار کر پاکستان کے معاشی مفاد اُور مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے۔ 

افغانستان کی وزارت ِخزانہ کے حکام کا یہ بیان ’آن دی ریکارڈ‘ ہے کہ ”پاکستان سے ڈالروں کی اسمگلنگ گزشتہ سال کے وسط میں اُس وقت شروع ہوئی جب پاکستان نے افغانستان سے کوئلہ درآمد کرنے کا فیصلہ کیا (حالانکہ پاکستان کے پاس افغانستان سے زیادہ کوئلے کے ذخائر موجود ہیں!) چونکہ افغان و پاکستان مقامی کرنسیوں (روپے و افغانی) میں تجارت نہیں کرتے اُور یہ پابندی افغان حکومت کی طرف سے عائد ہے اِس کی وجہ سے کوئلے کے افغان برآمد کنندگان ڈالروں میں تجارت (وصولیاں) کرتے ہیں۔ افغان ڈالروں کی ترسیل کا ذکر 23 جنوری کے روز گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پریس کانفرنس میں بھی سننے میں آیا جب اُنہوں نے کہا کہ ”افغان تاجر مقامی مارکیٹ سے ڈالر خریدتے ہیں تو اِس سے پاکستانی کرنسی مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔“

کوئلہ افغانستان کی برآمدات میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ افغان سرمایہ کار ”تجارتی شراکت داری“ کے تحت افغان کرنسی میں کوئلہ خرید کر اسے اپنے منافع کے ساتھ روپے میں فروخت کرتے ہیں اُور پھر اِس روپے کو ڈالر میں تبدیل کر کے افغانستان کسی بینکنگ چینل سے نہیں بلکہ روائتی ہنڈی حوالہ (غیرقانونی ترسیلات زر) کے ذریعے سے لیجاتے ہیں چونکہ پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالروں کی کمی (قلت) ہے اِس لئے ڈالر پشاور جیسی سرحد سے قریب جگہوں سے خریدے جاتے ہیں جہاں ”گرے مارکیٹوں“ قائم ہیں اُور افغان تاجر سرکاری نرخ سے دس پندرہ فیصد زیادہ ادا کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں اِس لئے پاکستان کے کرنسی ڈیلروں اُور افغان تاجروں کے درمیان گہرے کاروباری مراسم (ہم آہنگی) دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دوسری طرف افغان حکومت کی جانب سے کسی بھی مقدار میں ڈالر لانے پر کوئی پابندی نہیں بلکہ ڈالر لانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن افغانستان سے بیرون ملک ڈالر جانے کی زیادہ سے زیادہ حد کو نصف کرتے ہوئے 5 ہزار مقرر کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر افغان حکومت اپنی کرنسی و معاشی استحکام کے لئے ڈالروں کی خریدوفروخت (نقل و حمل) پر سخت گیر کنٹرول رکھ سکتی ہے تو ایسا پاکستان کے لئے کیوں مشکل ہے جبکہ ہمارے پاس تکنیکی و افرادی وسائل افغانستان کے مقابلے زیادہ ہیں؟ وقت ہے کہ صرف ناقص و کمزور امیگریشن پالیسی ہی نہیں بلکہ تجارت اور سرحدی کنٹرول“ میں اضافہ کیا جائے اُور بہتری لائی جائے۔ ایک ایسی سرحد جہاں روزانہ ہزاروں افراد بغیر ویزے کے سرحد پار کر رہے ہوں اُور سرحدی کراسنگ پر کسی میلے جیسا سماں ہو‘ وہاں (تجاہل عارفانہ کرتے ہوئے) ڈالروں کی غیرقانونی ترسیل پر تعجب یا تشویش کا اظہار نہیں ہونا چاہئے۔

....


Sunday, August 29, 2021

Base camp Peshawar!

 ژرف ِ نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: ہوائی مہمان

افغانستان کی قسمت کب بدلے گی‘ اِس کے وسائل اُور افراد کے استحصال کا دور کب ختم ہوگا؟

تازہ ترین پیشرفت یہ ہے کہ غیرملکی فوجی و غیرفوجی اُور اِن کی مدد و معاونت کرنے والے افغانوں کے انخلاکا عمل ’کابل ائرپورٹ دھماکے (چھبیس اگست)‘ کے بعد زیادہ تیزی سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ طالبان کے کابل میں داخل ہونے (پندرہ اگست) سے قبل افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا¿ کے لئے 31 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جو ’گیارہ ستمبر حملوں (نائن الیون)‘ کا ایک اُور سال مکمل ہونے سے قبل خاص علامتی و نفسیاتی حد تھی لیکن پندرہ اگست واقعات کے تناظر میں جبکہ طالبان جنگجوو¿ں نے غیرمعمولی اُور غیرمتوقع تیزی سے پیشرفت کرتے ہوئے دارالحکومت کابل کا انتظام سنبھال لیا ہے اُور اِن کی آمد کو بنیاد بنا کر پھیلائے جانے والے خوف و ہراس کا خمیازہ اب امریکہ اُور اِس کے اتحادیوں کو خود ہی بھگتنا پڑ رہا ہے!

افغانستان سے امریکہ اُور اِس کے اتحادی فوجی و غیرفوجیوں کا انخلامکمل کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ وہاں حساس تنصیبات بالخصوص غیرملکیوں پر مزید حملوں کے امکانات ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ہوائی اُڑانوں کی حکمت ِعملی وضع کی گئی ہے اُور اِس مرتبہ بھی پہلا انتخاب (نزدیک ترین و محفوظ ترین مقام) ”پشاور“ ہی ٹھہرا ہے جہاں کابل ائرپورٹ سے لائے جانے والے غیرملکیوں اُور افغان مہاجرین کو عارضی طور پر ٹھہرانے کے انتظامات کئے گئے ہیں اُور مبینہ طور پر اِن ’ہوائی مہمانوں‘ کو بعدازاں اپنی اپنی منزل پر پہنچا دیا جائے گا لیکن یہ کہانی کا ایک رخ ہے‘ جو امریکی بیان کر رہے ہیں اُور چاہتے ہیں کہ پاکستان من و عن تسلیم کر لے۔ کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کابل ائرپورٹ پر افراتفری کے باعث یہ بات ممکن نہیں رہی کہ وہاں سے فوجی طیاروں میں سینکڑوں کی تعداد میں انسانوں کی بھیڑ بکریوں کی صورت سوار کرتے وقت ہر مسافر کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اگرچہ خاموشی ہے لیکن بہرحال افغانستان سے انسانی اسمگلنگ ہونے کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اُور چند ایک ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ جن میں دہشت گرد بھیس بدل کر امریکہ اُور برطانیہ جا پہنچے‘ جنہیں بعدازاں واپس بھیجنا ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہنگامی انخلا¿ کے عمل میں امریکہ پہنچنے والے افغانوں کو نہ صرف ہوائی اڈوں پر ہی رکھ کر اُن کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ کئی ایک ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن میں امریکہ پہنچنے والوں افغانوں کو جہازوں سے اُس وقت تک اُترنے بھی نہیں دیا گیا جب تک اُن کی شناخت دستاویزی طور پر ثابت نہیں ہو پائی۔ اُن امریکہ ہوائی اڈوں پر جہاں افغان پہنچ رہے ہیں وہاں اُنہیں عوام سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اُور نہ ہی اُن تک عوام کی جانب سے عطیہ کیا جانے والا سازوسامان پہنچایا جا رہا ہے‘ جو الگ موضوع ہے اُور مغربی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے عرب‘ روس اُور چین کا میڈیا اِسے خوب اچھال رہا ہے۔ فی الوقت اَمریکی و اِتحادی ممالک نے یہ حکمت ِعملی اختیار کر رکھی ہے کہ وہ کابل سے اُٹھائے جانے والے مسافروں کو اپنی سرزمین پر قدم رکھنے سے قبل کسی دوسرے ملک میں مقیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک تو اُن کے شناختی کوائف کی جانچ پڑتال ہو سکے اُور دوسرا اُنہیں کورونا وبا لاحق ہونے کی صورت میں مرض کی علامات ظاہر ہو سکیں۔ یہ حفظ ماتقدم کے طور کیا جانے والا اقدام امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس اُور دیگر یورپی ممالک کی ایک مجبوری کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایک مرتبہ وہاں پہنچنے والے بعدازاں وہاں کے قوانین کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سیاسی پناہ کی درخواست کر بیٹھتے ہیں اُور جنہیں بعدازاں بیدخل کرنا ممکن نہیں ہوتا اُور یوں حکومت ایک نئی مشکل میں پھنس جاتی ہے۔ امریکہ اُور مغربی ممالک کی دوسری مشکل یہ ہے کہ افغانستان میں کورونا وبا کی شرح بلند ہے لیکن وہاں جانچ (ٹیسٹنگ) کا نظام خاطرخواہ وسیع (موجود) نہیں۔ لوگوں کو دوسروں سے الگ تھلگ (قرنطین) رکھنا بھی ممکن نہیں کیونکہ ہر طرف (غیرضروری) افراتفری کا ماحول ہے اُور اِس ماحول کو بنانے میں بھی امریکہ اُور اِس کے اتحادی مغربی ممالک ہی کی کارستانیاں شامل ہیں جنہوں نے خاص ضرورت کے تحت دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ افغانوں کی اکثریت طالبان کے دور حکومت کو اپنے لئے موت سمجھتے ہیں اُور اِس طرح دباو¿ ڈال کر امریکہ اُور اِس کے اتحادی ممالک طالبان سے اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں جو مستقبل کی افغان حکومت میں شامل کرداروں سے متعلق ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اُس کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں کو نئی افغان حکومت میں شامل ہونا چاہئے لیکن وہ ایسے نام فی الوقت (فوری) ظاہر نہیں کر رہا اُور نہ ہی کسی کی حمایت کر رہا ہے لیکن وہ سبھی افغان کردار معلوم ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی اُور امریکی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رکھی ہے اُور طالبان کے اب تک کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت ایسی ’مشکوک وفاداریاں‘ رکھنے والے کرداروں کو حکمرانی میں شریک ِسفر نہیں کریں گے۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے افغانستان سے آنے والے قریب 10ہزار ’ہوائی مہمانوں‘ کو عارضی طور پر ٹھہرانے کے لئے 10مختلف ہوٹلوں کا انتخاب کیا ہے۔ اِس ’عارضی سکونت (ٹرانزٹ اسٹے)‘ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کورونا وبا کی حالت میں اِن مسافروں کو کچھ دن قرنطین (الگ تھلگ) رکھا جائے اُور یہ کورونا وبا کے کسی نئے جرثومے کے ساتھ امریکہ یا یورپ نہ پہنچ جائیں جو پہلے ہی پابندیوں سے گزر رہا ہے بلکہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے ایک خاص عرصے تک یہ پشاور ہی میں رہیں اُور اِس کے بعد بھی صحت مند رہنے کی صورت اُنہیں اگلی منزل کے لئے روانہ کر دیا جائے۔ ایسے عارضی (ہوائی) مسافر پشاور کے لئے کتنا خطرہ ہیں اُور اِن کی آمد و قیام پشاور کے لئے کتنی مفید ہوگی‘ اِس بارے میں فی الوقت صوبائی فیصلہ ساز زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے اُور نہ ہی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ قومی سطح پر اِس قسم کی فیصلہ سازی کا اختیار عوام کے سیاسی نمائندوں کو نہ ہونے کے برابر حاصل ہوتا ہے۔ اب تک ہوئے فیصلوں کے مطابق عام افغانوں کو دوران پور میں قائم کورونا سنٹر لیجایا جائے گا جبکہ سفارتی و دیگر غیرملکیوں کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا جائے گا۔ گھنٹوں کے نوٹس پر دی جانے والی اِس اطلاع پر کیا جانے والا بندوبست اپنی جگہ لیکن جن 10ہزار ہوائی مسافروں کی آمد کی بات کی جا رہی ہے‘ اُن کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اُور یہ بھی ممکن ہے کہ عام افغانوں کو دوران پور پہنچا کر اُنہیں وہاں سے نکالا ہی نہ جائے اُور اُنہیں امداد کے وعدوں کے ساتھ پاکستان کے سپرد کر دیا جائے جو پہلے ہی دس سے پندرہ لاکھ رجسٹرڈ اُور اِس سے دوگنا زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے ہوئے عاجز آ چکا ہے۔ افغان مسئلے کے لئے پاکستان ذمہ دار نہیں بلکہ جن ممالک نے گزشتہ بیس برس کے دوران افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی اُنہیں چاہئے کہ وہ جلدبازی میں اکتیس اگست تک انخلا مکمل کرنے کی بجائے اِسے طول آئندہ چند ماہ یا کم سے کم چند ہفتوں تک طول دیں اُور پورے اطمینان سے یہ عمل مکمل کریں کیونکہ دوسری کسی بھی صورت میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اندیشہ یہ بھی ہے کہ پشاور میں ٹھہرائے جانے والے افغان مہمانوں میں مقامی افغان شامل ہونے کی کوشش کریں اُور اِس طرح یہ پورا عمل مشکوک قرار د ے کر کابل ائرپورٹ سے پشاور ائرپورٹ اُور دوران پور پہنچنے والے افغان ہمیشہ کے لئے پاکستان ہی کی ذمہ داری ٹھہرائی جائے‘ لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ خیبرپختونخوا کے وسائل پر نیا (مالی) بوجھ ہونے کے علاؤہ داخلی حفاظتی انتظامات کے لئے بھی سنجیدہ نوعیت کا خطرہ ہو گا۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 29 August 2021 Sunday 20th Muharram ul Harram 1443 Hijri




Sunday, January 14, 2018

TRANSLATION: The terror concerns by Rahimullah Yusufzai

Terror concerns
اَمریکی تحفظات!
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ ماضی میں بھی جبکہ یہ دونوں ممالک روس کے خلاف سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) جیسے اتحادوں کا حصہ رہے اور اُس سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے اتحادی تھے تب بھی کئی مرتبہ اِن کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافی نکتۂ نظر سامنے آتا رہا۔ ایسا ہی ایک موقع وہ بھی تھا جب امریکہ نے پاکستان کی اقتصادی امداد بند کر دی اور اقتصادی پابندیاں بھی عائد کردیں جس سے پاکستان کی دل شکنی ہوئی کیونکہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ جیسا اتحادی ملک اُس کے ساتھ اِس قسم کا سلوک روا رکھ سکتا ہے تاہم ماضی میں ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات کا ازالہ وقت کے ساتھ ہوتا رہا لیکن حالیہ چند برس میں جس انداز سے پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ دیکھا گیا ہے یہ نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ اُس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے قطع تعلق ہی کرلیں۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں عدم اعتماد کی خلیج کبھی بھی اس قدر گہری نہیں رہی اور اِس کا آغاز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس مطالبے سے ہوا کہ پاکستان اپنے ہاں دہشت گرد گروہوں کے خلاف اُن کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں کرے بصورت دیگر اُسے کڑے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ 

پاکستان نے اِن امریکی الزامات کا فوری جواب دیا اور ماضی میں امریکہ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتا آیا ہے تاہم اِس مرتبہ پاکستان نے امریکہ سے ایسا ہی کرنے کو کہا ہے جو ایک غیرمعمولی جرأت اظہار بھی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ تناؤ کا سبب عسکریت پسند ’حقانی نیٹ ورک‘ ہے۔ امریکہ کو قوی یقین ہے کہ ’حقانی نیٹ ورک‘ کا مرکز پاکستان میں ہے اور اِسے خفیہ اِدارے ’انٹرسروسیز انٹلی جنس (آئی ایس آئی)‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ماضی میں بھی امریکہ کی کئی شخصیات اِسی قسم کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں جن کی پاکستان نے ہمیشہ تردید کی ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اُس کے پاس اپنی اِس بات کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ پیش کرے تاکہ پاکستان میں مبینہ طور پر موجود ’حقانی نیٹ ورک‘ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مختلف فوجی کاروائیوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائیاں کی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک جون دوہزارچودہ تک شمالی وزیرستان میں اپنا وجود رکھتا تھا‘ جس کی طاقت کے مرکز اور افرادی قوت پر وار کیا گیا تو دیگر عسکری گروہوں کی طرح اُنہوں نے بھی اپنا مرکز تبدیل کر لیا ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ پاکستان کے پاس ایسا کرنے کے لئے وسائل نہیں تھے اور فوج اندرون ملک دیگر محاذوں پر ڈٹی ہوئی تھی۔

امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے امریکہ کی تسلی و تشفی کے مطابق کاروائیاں نہ کیں تو سخت اقدامات کئے جائیں گے‘ جس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی پاکستان کی حدود میں گھس کر زمینی کاروائیاں کریں جیسا کہ انہوں نے مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں کیا تھا جہاں مبینہ طور پر القاعدہ تنظیم کا سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ فوجیوں نے تلاش اور قتل کرنے کا دعوی کیا۔ اگر امریکہ کو ایسی معلومات میسر آ جاتی ہیں جن کے مطابق وہ حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی اور افغان طالبان کے سپرئم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوند زادہ پاکستان میں کہاں روپوش ہیں تو وہ اِن کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے۔ اِسی طرح جماعت الدعوۃ سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید بھی امریکہ کا نشانہ ہو سکتے ہیں جس کے سر کی قیمت امریکہ نے نومبر 2008ء کے بمبئی حملوں کے بعد مقرر کر رکھی ہے کیونکہ اُن حملوں میں امریکی باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اَمریکہ کو اِن دنوں بھارت کی قربت حاصل ہے۔

امریکہ پاکستان کی حدود میں ڈرون طیاروں سے حملے کرسکتا ہے۔ پاکستان کی ’نان نیٹو اتحادی‘ حیثیت ختم کرسکتا ہے۔ افغانستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں روپوش پاکستان مخالف عسکریت پسندوں بالخصوص بلوچ علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرسکتا ہے اور افغان و بھارتی خفیہ اداروں کو شہ دے سکتا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بنائے رکھیں تاکہ وہ امریکہ کے ہر جائزوناجائز مطالبے کے آگے سرتسلیم خم کر دے۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے اِسے ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کرچکا ہے جہاں مذہبی آزادی محدود ہے اور مذہبی آزادی کو دنیا میں انسانی حقوق کی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان جواب میں امریکہ کی افغانستان میں موجود 20ہزار غیرملکی افواج کو سامان رسد کی فراہمی کے لئے راہداری معطل کرسکتا ہے جو بلاقیمت (قریب مفت) ہی فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی راہداری افغان فوجوں کے لئے بھی سامان رسد کا سستا اور کم وقت کا ذریعہ ہے۔ پاکستان نیٹو سپلائی (رسد) نومبر 2011ء میں آٹھ ماہ تک معطل کر چکا ہے جب مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر افغانستان کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا اور اُس حملے میں 24 پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور افغانستان میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل سے فاصلہ اختیار کرسکتا ہے‘ جس کے لئے اُس کی سنجیدہ کوششوں کو فراموش کردیا گیا ہے اور اگر پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو امریکہ کے لئے وہاں امن کا قیام زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے سنجیدہ اور بار ہا تحفظات کے اظہار کے باوجود بھی امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں کلیدی کردار دیا ہے جبکہ امریکہ اگر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائیاں کرتا ہے تو اُس سے قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل کو دھچکا لگے گا۔ پاکستان اِس بات کی وکالت کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے وہاں متحارب دھڑے جنگ بندی کریں اور بات چیت کے عمل کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کا یہ مؤقف بھی ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی صرف اُس کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تمام حصہ داروں کا اجتماعی فریضہ ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو 7 ستمبر 2012ء کے روز دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جو قریب دو دہائیوں سے پہلے روسی اور بعدازاں نیٹو افواج کے خلاف عسکری مہمات کا حصہ رہی ہے۔ امریکہ نے اب تک حقانی نیٹ ورک کے کئی اہم رہنماؤں کو قتل کیا ہے اور موجودہ رہنماؤں کے سر کی قیمت بھی مقرر کر رکھی ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خاتمہ کی شاید ایک بھرپور کوشش کرنا چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اِس مقصد کے لئے پاکستان اُس کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان اور امریکہ اِس بات پر متفق بھی ہو جائیں کہ وہ مل کر حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کا خاتمہ کریں گے تب بھی یہ تعاون اِس بات کی ضمانت نہیں ہوگا کہ یہ دونوں ممالک مل کر اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے اور اِس بات کی ضمانت بھی نہیں کہ انہیں بہرصورت اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل ہوگی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Sunday, July 2, 2017

TRANSLATION: Life in captivity - a tale of couple!

Life in captivity
مغوئیوں کی کہانی!
عسکریت پسند اکثر ایسی شخصیات کو اغوأ کرتے ہیں جن کی اہمیت ہوتی ہے اور پھر اُن مغوئیوں کی ویڈیو جاری کرکے حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کروانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اغوأ ہوتے ہیں ایک نہایت ہی مشکل زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ اِس بارے میں زیادہ کچھ بیان نہیں کر سکتے۔ اُن کے چہروں کو ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے اور اُن پر مسلح افراد پہرہ دے رہے ہوتے ہیں جب اُن کے پیغامات ریکارڈ کئے جا رہے ہوتے ہیں۔ ظاہری سی بات ہے کہ ایسے پیغامات کا مقصد مغوئیوں کے اہل خانہ اور متعلقہ حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تاکہ وہ اغوأکاروں کے مطالبات من و عن تسلیم کر لیں۔ عسکریت پسندی میں اضافے کے ساتھ پاکستان اور افغانستان میں اغوأ کا کاروبار بڑھا۔ جن علاقوں میں قانون کی حاکمیت کمزور ہوتی ہے وہاں یہ آسان و نفع بخش کاروبار خوب چمکتا ہے۔ پیشہ ور اغوأ کار عموماً عسکریت پسندوں سے مل جاتے ہیں اور بھاری معاوضے کے عوض اپنی مہارت کی بنیاد پر وارداتیں کرتے ہیں۔ مغوئیوں کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان یا پھر زیرحراست ساتھیوں کی رہائی جیسے مطالبات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر واقعات میں مغوئیوں کی رہائی بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی عمل میں آتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی یہ آئی ہے کہ مغوئیوں کے اہل خانہ بھی ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہیں جن میں اغوأ کاروں سے انسانیت کے نام پر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بے گناہ افراد کو رہا کردیں لیکن اس کوشش کا خاطرخواہ نتیجہ دیکھنے میں نہیں آتا کہ جس سے اغوأ کاروں کے دل نرم پڑ جائیں اور وہ مغوئیوں کو بناء کسی تاوان کی وصولی یا اپنے ساتھیوں کی رہائی وغیرہ جیسے مطالبات منظور ہوئے بغیر رہا کردیں۔ ایسی ایک ویڈیو کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے پیٹرک بوئل (Patrick Boyle) اُور لینڈا بوئل (Patrick Boyle) کی سامنے آئی ہے جو انگریزی زبان میں ہے تاہم اِس پر اُردو اُور پشتو زبانوں کے ’سب ٹائٹل‘ بھی لگائے گئے ہیں۔ والدین کی جانب سے یہ ویڈیو پیغام اُن کے بیٹے جوشوا بوئل (Joshua Boyle)‘ اُن کی اہلیہ کیٹلان کول مین (Caitlan Coleman) اُور دو بچوں کی غیرمشروط و فوری رہائی کے لئے انسانیت کی بنیاد پر اپیل ہے۔ یہ دونوں بچے اِس عرصے کے دوران پیدا ہوئے ہیں جبکہ اُن کے والدین اغوأ کاروں کے چنگل میں ایک غیریقینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو پیغام رمضان المبارک کے اختتام کے موقع پر جاری کیا گیا جب عیدالفطر قریب تھی اور اس کا مقصد یہی ہوگا کہ مسلمان چونکہ ماہ صیام کے دوران سال کے دیگر ایام کی نسبت زیادہ عبادات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو رحم کی اِس اپیل کا خاطرخواہ مثبت جواب سامنے آئے گا۔

33 سالہ جوشوا کینیڈا کا باشندہ ہے جبکہ اُس کی 31 سالہ اہلیہ کیٹلان امریکن ہیں جنہیں اکتوبر 2012ء میں اُس وقت اغوأ کیا گیا جبکہ وہ ’وردک کابل شاہراہ‘ پر سفر کر رہے تھے۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیروتفریح کر رہے تھے۔ افغانستان جیسے ملک کا سیروتفریح کے لئے انتخاب پرخطر ثابت ہونا تعجب خیز نہیں۔ اغوأ کے ایک عرصہ بعد معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی ’حقانی نیٹ ورک‘ کے قبضے میں ہیں۔ یہ گروہ افغان تحریک طالبان کا حصہ ہے جس کی بانی سراج الدین حقانی ہیں۔ حالیہ چند برس میں حقانی افغان طالبان تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک (اغوأ کاروں) کی جانب سے اب تک چند ویڈیوز جاری ہوئی ہیں جن میں میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کو دکھایا گیا ہے اور اِس کا مقصد کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے قیدیوں کی رہائیوں ممکن بنائیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ عام نہیں ہوا لیکن مغوئیوں کے اہل خانہ اور کینیڈا و امریکہ کی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری کرنے والوں کی جانب سے یہی کہا گیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے پہلے 10 قیدیوں کی رہائی مطالبہ کیا جو تمام کے تمام افغانستان میں قید ہیں۔ بعدازاں اِس فہرست کو کم کرکے آٹھ کر دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ اِن آٹھ زیرحراست افراد میں سے تین نہایت ہی اہم ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اُس وقت تک مغوئیوں کو رہا نہیں کرے گا جب تک اِن تینوں کو بھی رہا نہیں کردیا جاتا۔ اِن تینوں میں شامل انس حقانی بھی ہیں جو سراج الدین حقانی کے بھای اور افغان مجاہدین رہنما مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں جنہیں امریکی حکام نے بحرین سے گرفتار کیا جبکہ وہ قطر کا دورہ کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔ اُنہیں بعدازاں افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا جہاں ایک عدالتی سماعت کے بعد اُنہیں سزائے موت سنائی گئی۔ صدر اشرف غنی کی حکومت نے تاحال اُنہیں پھانسی تو نہیں دی حالانکہ اُن پر کچھ سیاسی گروہوں کا دباؤ بھی ہے۔ اگر افغان حکومت مولوی جلال الدین حقانی کو عدالت کے حکم پر پھانسی دے دیتی ہے تو اِس کا ردعمل منطقی ہے اور اس میں کئی مغوئیوں کی رہائی کے امکانات اور مستقبل بھی تاریک ہو جائیں گے جن میں جوشوا اور کیٹلان شامل ہیں۔ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے جس دوسرے اہم قیدی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ قاری رشید ہیں جن انس حقانی کے ساتھ قطر گئے تھے اور انہیں بھی بحرین سے امریکیوں نے گرفتار کیا۔ تیسرے اہم قیدی حاجی ملی خان ہیں جو سراج الدین کے قریبی عزیز ہیں اور گذشتہ کئی برس سے افغان حکومت کی زیرحراست ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کی قید میں کینیڈین اور امریکن میاں بیوی اور اُن کے دو بچوں کی رہائی کے لئے والدین نے اپنی اپیل میں اگرچہ انس حقانی کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے اپنے تیءں اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُن کا خاندان ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے اور وہ افغان حکومت پر اثرورسوخ سے دباؤ بھی ڈالے گا کہ وہ اُن کے بھائی کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہ کریں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اُن کی جانب سے افغانستان کینیڈا اور امریکہ کے سینئر حکام سے تحریری درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد نہ کریں۔

عیدالفطر کے قریب جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں تحریک طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور سراج الدین حقانی سے انسانیت کے نام پر اپیل کرتے ہوئے افغانستان کے حالات پر بھی محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ماضی و حال کی غلطیوں کا خاتمہ اور ازالہ مغوئیوں کو نقصان پہنچانے سے ممکن نہیں۔ اگرچہ اِس اپیل کا تاحال حقانی نیٹ ورک یا افغان طالبان کی جانب سے کوئی جواب (ردعمل) سامنے نہیں آیا لیکن حقانی نیٹ ورک ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک انس حقانی‘ حاجی ملی خان‘ قاری رشید و دیگر کو رہا نہیں کردیا جاتا اُس وقت اِن میاں بیوی اور اُن کے بچوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)