Showing posts with label TTP. Show all posts
Showing posts with label TTP. Show all posts

Sunday, August 29, 2021

Base camp Peshawar!

 ژرف ِ نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: ہوائی مہمان

افغانستان کی قسمت کب بدلے گی‘ اِس کے وسائل اُور افراد کے استحصال کا دور کب ختم ہوگا؟

تازہ ترین پیشرفت یہ ہے کہ غیرملکی فوجی و غیرفوجی اُور اِن کی مدد و معاونت کرنے والے افغانوں کے انخلاکا عمل ’کابل ائرپورٹ دھماکے (چھبیس اگست)‘ کے بعد زیادہ تیزی سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ طالبان کے کابل میں داخل ہونے (پندرہ اگست) سے قبل افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا¿ کے لئے 31 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جو ’گیارہ ستمبر حملوں (نائن الیون)‘ کا ایک اُور سال مکمل ہونے سے قبل خاص علامتی و نفسیاتی حد تھی لیکن پندرہ اگست واقعات کے تناظر میں جبکہ طالبان جنگجوو¿ں نے غیرمعمولی اُور غیرمتوقع تیزی سے پیشرفت کرتے ہوئے دارالحکومت کابل کا انتظام سنبھال لیا ہے اُور اِن کی آمد کو بنیاد بنا کر پھیلائے جانے والے خوف و ہراس کا خمیازہ اب امریکہ اُور اِس کے اتحادیوں کو خود ہی بھگتنا پڑ رہا ہے!

افغانستان سے امریکہ اُور اِس کے اتحادی فوجی و غیرفوجیوں کا انخلامکمل کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ وہاں حساس تنصیبات بالخصوص غیرملکیوں پر مزید حملوں کے امکانات ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ہوائی اُڑانوں کی حکمت ِعملی وضع کی گئی ہے اُور اِس مرتبہ بھی پہلا انتخاب (نزدیک ترین و محفوظ ترین مقام) ”پشاور“ ہی ٹھہرا ہے جہاں کابل ائرپورٹ سے لائے جانے والے غیرملکیوں اُور افغان مہاجرین کو عارضی طور پر ٹھہرانے کے انتظامات کئے گئے ہیں اُور مبینہ طور پر اِن ’ہوائی مہمانوں‘ کو بعدازاں اپنی اپنی منزل پر پہنچا دیا جائے گا لیکن یہ کہانی کا ایک رخ ہے‘ جو امریکی بیان کر رہے ہیں اُور چاہتے ہیں کہ پاکستان من و عن تسلیم کر لے۔ کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کابل ائرپورٹ پر افراتفری کے باعث یہ بات ممکن نہیں رہی کہ وہاں سے فوجی طیاروں میں سینکڑوں کی تعداد میں انسانوں کی بھیڑ بکریوں کی صورت سوار کرتے وقت ہر مسافر کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اگرچہ خاموشی ہے لیکن بہرحال افغانستان سے انسانی اسمگلنگ ہونے کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اُور چند ایک ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ جن میں دہشت گرد بھیس بدل کر امریکہ اُور برطانیہ جا پہنچے‘ جنہیں بعدازاں واپس بھیجنا ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہنگامی انخلا¿ کے عمل میں امریکہ پہنچنے والے افغانوں کو نہ صرف ہوائی اڈوں پر ہی رکھ کر اُن کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ کئی ایک ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن میں امریکہ پہنچنے والوں افغانوں کو جہازوں سے اُس وقت تک اُترنے بھی نہیں دیا گیا جب تک اُن کی شناخت دستاویزی طور پر ثابت نہیں ہو پائی۔ اُن امریکہ ہوائی اڈوں پر جہاں افغان پہنچ رہے ہیں وہاں اُنہیں عوام سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اُور نہ ہی اُن تک عوام کی جانب سے عطیہ کیا جانے والا سازوسامان پہنچایا جا رہا ہے‘ جو الگ موضوع ہے اُور مغربی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے عرب‘ روس اُور چین کا میڈیا اِسے خوب اچھال رہا ہے۔ فی الوقت اَمریکی و اِتحادی ممالک نے یہ حکمت ِعملی اختیار کر رکھی ہے کہ وہ کابل سے اُٹھائے جانے والے مسافروں کو اپنی سرزمین پر قدم رکھنے سے قبل کسی دوسرے ملک میں مقیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک تو اُن کے شناختی کوائف کی جانچ پڑتال ہو سکے اُور دوسرا اُنہیں کورونا وبا لاحق ہونے کی صورت میں مرض کی علامات ظاہر ہو سکیں۔ یہ حفظ ماتقدم کے طور کیا جانے والا اقدام امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس اُور دیگر یورپی ممالک کی ایک مجبوری کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایک مرتبہ وہاں پہنچنے والے بعدازاں وہاں کے قوانین کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سیاسی پناہ کی درخواست کر بیٹھتے ہیں اُور جنہیں بعدازاں بیدخل کرنا ممکن نہیں ہوتا اُور یوں حکومت ایک نئی مشکل میں پھنس جاتی ہے۔ امریکہ اُور مغربی ممالک کی دوسری مشکل یہ ہے کہ افغانستان میں کورونا وبا کی شرح بلند ہے لیکن وہاں جانچ (ٹیسٹنگ) کا نظام خاطرخواہ وسیع (موجود) نہیں۔ لوگوں کو دوسروں سے الگ تھلگ (قرنطین) رکھنا بھی ممکن نہیں کیونکہ ہر طرف (غیرضروری) افراتفری کا ماحول ہے اُور اِس ماحول کو بنانے میں بھی امریکہ اُور اِس کے اتحادی مغربی ممالک ہی کی کارستانیاں شامل ہیں جنہوں نے خاص ضرورت کے تحت دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ افغانوں کی اکثریت طالبان کے دور حکومت کو اپنے لئے موت سمجھتے ہیں اُور اِس طرح دباو¿ ڈال کر امریکہ اُور اِس کے اتحادی ممالک طالبان سے اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں جو مستقبل کی افغان حکومت میں شامل کرداروں سے متعلق ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اُس کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں کو نئی افغان حکومت میں شامل ہونا چاہئے لیکن وہ ایسے نام فی الوقت (فوری) ظاہر نہیں کر رہا اُور نہ ہی کسی کی حمایت کر رہا ہے لیکن وہ سبھی افغان کردار معلوم ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی اُور امریکی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رکھی ہے اُور طالبان کے اب تک کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت ایسی ’مشکوک وفاداریاں‘ رکھنے والے کرداروں کو حکمرانی میں شریک ِسفر نہیں کریں گے۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے افغانستان سے آنے والے قریب 10ہزار ’ہوائی مہمانوں‘ کو عارضی طور پر ٹھہرانے کے لئے 10مختلف ہوٹلوں کا انتخاب کیا ہے۔ اِس ’عارضی سکونت (ٹرانزٹ اسٹے)‘ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کورونا وبا کی حالت میں اِن مسافروں کو کچھ دن قرنطین (الگ تھلگ) رکھا جائے اُور یہ کورونا وبا کے کسی نئے جرثومے کے ساتھ امریکہ یا یورپ نہ پہنچ جائیں جو پہلے ہی پابندیوں سے گزر رہا ہے بلکہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے ایک خاص عرصے تک یہ پشاور ہی میں رہیں اُور اِس کے بعد بھی صحت مند رہنے کی صورت اُنہیں اگلی منزل کے لئے روانہ کر دیا جائے۔ ایسے عارضی (ہوائی) مسافر پشاور کے لئے کتنا خطرہ ہیں اُور اِن کی آمد و قیام پشاور کے لئے کتنی مفید ہوگی‘ اِس بارے میں فی الوقت صوبائی فیصلہ ساز زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے اُور نہ ہی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ قومی سطح پر اِس قسم کی فیصلہ سازی کا اختیار عوام کے سیاسی نمائندوں کو نہ ہونے کے برابر حاصل ہوتا ہے۔ اب تک ہوئے فیصلوں کے مطابق عام افغانوں کو دوران پور میں قائم کورونا سنٹر لیجایا جائے گا جبکہ سفارتی و دیگر غیرملکیوں کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا جائے گا۔ گھنٹوں کے نوٹس پر دی جانے والی اِس اطلاع پر کیا جانے والا بندوبست اپنی جگہ لیکن جن 10ہزار ہوائی مسافروں کی آمد کی بات کی جا رہی ہے‘ اُن کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اُور یہ بھی ممکن ہے کہ عام افغانوں کو دوران پور پہنچا کر اُنہیں وہاں سے نکالا ہی نہ جائے اُور اُنہیں امداد کے وعدوں کے ساتھ پاکستان کے سپرد کر دیا جائے جو پہلے ہی دس سے پندرہ لاکھ رجسٹرڈ اُور اِس سے دوگنا زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے ہوئے عاجز آ چکا ہے۔ افغان مسئلے کے لئے پاکستان ذمہ دار نہیں بلکہ جن ممالک نے گزشتہ بیس برس کے دوران افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی اُنہیں چاہئے کہ وہ جلدبازی میں اکتیس اگست تک انخلا مکمل کرنے کی بجائے اِسے طول آئندہ چند ماہ یا کم سے کم چند ہفتوں تک طول دیں اُور پورے اطمینان سے یہ عمل مکمل کریں کیونکہ دوسری کسی بھی صورت میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اندیشہ یہ بھی ہے کہ پشاور میں ٹھہرائے جانے والے افغان مہمانوں میں مقامی افغان شامل ہونے کی کوشش کریں اُور اِس طرح یہ پورا عمل مشکوک قرار د ے کر کابل ائرپورٹ سے پشاور ائرپورٹ اُور دوران پور پہنچنے والے افغان ہمیشہ کے لئے پاکستان ہی کی ذمہ داری ٹھہرائی جائے‘ لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ خیبرپختونخوا کے وسائل پر نیا (مالی) بوجھ ہونے کے علاؤہ داخلی حفاظتی انتظامات کے لئے بھی سنجیدہ نوعیت کا خطرہ ہو گا۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 29 August 2021 Sunday 20th Muharram ul Harram 1443 Hijri




Saturday, September 10, 2016

Sept2016: EDITED: Terrorism & Communication Threats

EDITED VERSION

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
نگہبانی کے تقاضے!
فریب نظر ہے کہ ’سائبر کرائمز بل‘ کے نام سے عجلت میں کی گئی قانون سازی ’اطمینان قلب‘ کے لئے تو کافی قرار دی جاسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیکورٹی انتظامات کی طرح اِس نئی قانون سازی سے بھی منظم جرائم اور دہشت گردی پر یقین رکھنے والے حلقے خوفزدہ نہیں۔ دردسر ہے تو ’انٹرنیٹ‘ کے اُس عام صارف کا ہے جس کی اکثریت معلومات اور تفریح سے جڑے خطرات سے آگاہ (خاطرخواہ تعلیم یافتہ) نہیں۔ اِس منظرنامے میں ٹیکنالوجی کی طرف مائل عام صارف پریشان ضرور ہے‘ کیونکہ ’ورچوئل وسائل‘ کی اِخلاقیات اور آداب کی خلاف ورزی اگر ’واجب سزا‘ قرار دے دی گئی ہے تو ’خوف و دہشت کی علامت بننے والے منظم جرائم پیشہ عناصر‘ ٹیکنالوجی ہی کے ذریعے خود کو ’روپوش‘ کئے ہوئے ہیں‘ جنہیں دشوار گزار قبائلی علاقوں‘ غاروں یا افغانستان کے میدانی علاقوں میں تلاش کرنے سے زیادہ کھٹن ایسے عناصر کا ’آن لائن سراغ‘ لگانا اُور اُن کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ 

دہشت گردی کے خلاف جاری ’ضرب عضب‘ میں کامیابیوں کا شمار کرنے والوں کو اِنٹرنیٹ وسائل کا آزادانہ اور بناء خوف و خطر استعمال کرنے والوں کی ’آن لائن سرگرمیاں‘ پر بھی ہاتھ ڈالنا ہوگا‘ جس کے بغیر بات (مقصدیت) ادھوری رہے گی۔ ایک طرف پورا ملک اور اُس کے لامحدود وسائل ہونے کے باوجود ’اب تک‘ دہشت گردوں کے زیراستعمال ’اکاونٹس‘ اُور ’کیمونیکشن ونگ (رابطہ کار افرادی قوت)‘ کی صلاحیت (دیدہ دلیری) ختم نہیں کی جاسکی‘ جو قومی زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں؟ ہمارے خفیہ ادارے بشمول جدید آلات اور ماہرین سے لیس ’سائبر ونگ‘ آخر کب اپنی قابلیت کی بنیاد پر داد وصول کریں گے؟ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں تک اگر اُن کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ کے ذریعے نہیں پہنچا جا سکتا اُور ہمارے سیکورٹی اداروں کے ’سائبر ونگز‘ نے نفسیاتی طور پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں تو کم سے کم اُن تمام ’اِی میل‘ ٹوئٹر اُور ’فیس بک‘ اکاونٹس کو بلاک (block) تو ضرور کیا جاسکتا ہے‘ جن کے ذریعے پاکستان دشمنی یا دہشت گرد ’کارناموں‘ کو مشتہر کیا جاتا ہے؟ بیس نکاتی ’نیشنل ایکشن پلان‘ اِس سلسلے میں رہنمائی کے لئے کافی ہے۔ ملک کی جغرافیائی اور سائبر سرحدوں کی نگہبانی کے الگ الگ تقاضے اور ذمہ داریاں ہیں‘ جنہیں شعوری توجہ کی ضرورت ہے۔

پہلی ذمہ داری: سیکورٹی حکام یہ کہہ کر اپنے فرائض سے ’گلوخلاصی‘ نہیں کرسکتے کہ افغانستان کی سرزمین اور مواصلاتی سہولیات (انٹرنیٹ) کا استعمال ہو رہا ہے۔ اگر طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر سے آمدورفت کو کنٹرول (باقاعدہ و باضابطہ) بنایا جاسکتا ہے تو انٹرنیٹ کے چینلز سے پاکستان درآمد و برآمد ہونے والی ٹریفک (ڈیٹا) پر نظر کیوں نہیں رکھی جا سکتی؟ ’آن لائن ٹریفک‘ کی ’باریک بیں نظر اور مؤثر نگرانی‘ انٹرنیٹ کی واجبی سی معلومات رکھنے والے بھی اگر کرسکتے ہیں‘ تو مقامی جامعات کے طلباء و طالبات کو تحقیقی پراجیکٹس دیئے جاسکتے ہیں یا فوری نتائج کے لئے ٹیکنالوجی درآمد بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ قومی سلامتی سے زیادہ کوئی دوسری شے قیمتی نہیں۔

دوسری ذمہ داری: ہر خاص و عام ہوشیار رہے کہ وہ اپنے گھروں میں لگائے ہوئے ’ہاٹ سپاٹس (وائی فائی انٹرنیٹ)‘ کسی بھی صورت نہ تو ’بناء پاس ورڈز‘ رہنے دیں اور نہ ہی اہل خانہ کے علاؤہ کسی بھی دوسرے شخص سے ایسی معلولات کا تبادلہ کریں جو ’حساس‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر گھر میں مہمان آئیں اور وائی فائی پاس ورڈ مانگیں تو یقین کرلیں کے اُن کی رخصتی کے فوراً بعد یا پہلی فرصت میں ’وائی فائی پاس ورڈ‘ تبدیل کردیا جائے۔ وائی فائی پاس ورڈ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے چھ ہدایات ذہن نشین کر لیں۔ 1: اپنی ڈیوائیس ’ڈبلیو پی اے انسکپرشن (WPA2)‘ پر سیٹ کریں۔ 2: پاس ورڈ کسی بھی صورت 10ہندسوں سے کم نہ ہو۔ 3: پاس ورڈ میں الفاظ ہندسے اور خصوصی کریکٹرز کو شامل کریں۔ 4: سٹینڈرڈ ’ایس ایس آئی ڈی SSID‘ کا استعمال نہ کریں۔ 5: اپنی ذاتی معلومات SSID پر نہ رکھیں۔ 6: وائی فائی ڈیوائس کی لہریں (ایکسیس) کم سے کم یعنی اپنے گھر تک محدود رکھنے کے لئے اینٹینا ایڈجسٹمنٹ کی جاسکتی ہے جو جدید آلات میں باآسانی ممکن ہے۔ کھلے عام ’وائی فائی ہاٹ سپاٹ‘ رکھنے کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین نہ صرف جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ نادانستہ طور پر ایک ایسے مستقل خطرے سے بھی دوچار ہیں‘ جس کی سنگینی کا انہیں ادراک نہیں۔ عموماً ہوٹلوں‘ کیفے اور دیگر پبلک مقامات پر ’اوپن وائی فائی‘ رکھا جاتا ہے‘ دہشت گردوں کے زیراستعمال انٹرنیٹ کو دیکھتے ہوئے اِس سہولت پر اُس وقت تک پابندی عائد ہونی چاہئے جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ جعلی یا بناء شناخت موبائل فون کنکشنز آج بھی موجود ہیں۔ 

ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے مالی فائدے کے لئے پورے ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ موجودہ ہنگامی حالات کا تقاضا ہے کہ ’پری پیڈ‘ اضافی خدمات کی بجائے پاکستان میں صرف اور صرف ’پوسٹ پیڈ موبائل کنکشنز‘ دیئے جائیں‘ تاکہ بلنگ کے ذریعے صارف کی رہائش کے مقام کا تعین ہوسکے۔ افغانستان یا دیگر ممالک کے موبائل فون کنکشنز کی ’رومنگ (Roaming)‘ معاہدے بھی اُس وقت تک معطل رکھے جائیں‘ جب تک سیکورٹی حالات اِس کی اجازت نہیں دیتے۔ پاکستان حالت جنگ سے گزر رہا ہے‘ جس میں عسکریت پسندوں کے مواصلاتی رابطے نہ صرف دہشت گردی کی منظم و مربوط کاروائیوں کو ممکن بنا رہے ہیں بلکہ اِنہی کے ذریعے وہ جس کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں درحقیقت وہ ہمارے سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا بیان ہیں۔ کیا ہم نے دل سے شکست تسلیم کر لی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sept2016: Terrorism & Communication as threat!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شکست و ریخت!

تحریک طالبان پاکستان نے اگست 2016ء میں بنائے گئے اپنے نئے ’ٹوئٹر اکاونٹ (@umarmediattp016)‘ سے پیغام رسانی شروع کر دی ہے۔ 9 ستمبر کی صبح نماز فجر اور یقیناًوظائف سے فارغ ہونے کے بعد umar.media.ttp@gmail.comسے اِی میل پیغام (فرمان) جاری ہوتا ہے۔ آسان اور جامع الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے انگریزی زبان میں دہشت گرد وارداتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فخریہ لہجے میں کوئی کہہ رہا ہے کہ ’’تحریک طالبان کے خصوصی دستے‘ نے پشاور اُور کراچی میں پولیس پر ’کامیابی سے حملے‘ کئے ہیں!‘‘ سوال یہ ہے کہ اگر عسکریت پسند شہروں اور دیہی علاقوں میں بھیس بدل کر روپوش ہیں اور گوریلا حملوں کے ذریعے دنیا کی 13ویں بڑی‘ منظم اُور پیشہ ور فوج کو مستقل چیلنج کئے ہوئے ہیں‘ تو آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کا زمینی مقابلہ تو ممکن نہیں لیکن اُن کی فنڈنگ‘ افرادی قوت اور اُن کے سہولت کار ’نیٹ ورکس‘ کو ختم نہیں کیا جا سکتا؟ 

انٹرنیٹ وسائل کا آزادانہ اور بناء خوف و خطر استعمال کرنے والوں کی ’آن لائن سرگرمیاں‘ نہ روکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف پورا ملک اور اُس کے لامحدود وسائل ہونے کے باوجود ’اب تک‘ اُن ’اکاونٹس‘ اُور ’کیمونیکشن ونگ (رابطہ کار افرادی قوت)‘ کی صلاحیت (دیدہ دلیری) پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا جو زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں؟ 

ہمارے خفیہ ادارے بشمول جدید آلات اور ماہرین سے لیس ’سائبر ونگ‘ آخر کب اپنی موجودگی کا ثبوت دیں گے؟ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں تک اگر اُن کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ کے ذریعے نہیں پہنچا جا سکتا اُور ہمارے سیکورٹی اداروں کے ’سائبر ونگز‘ نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں تو کم سے کم اُن ’اِی میل‘ ٹوئٹر اُور ’فیس بک‘ اکاونٹس کو بلاک (block) تو کیا جاسکتا ہے‘ جو پاکستان دشمن پراپگنڈا یا دہشت گردوں کے ’کارناموں‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں؟

پہلی ذمہ داری: سیکورٹی حکام یہ کہہ کر اپنے فرائض سے ’گلوخلاصی‘ نہیں کرسکتے کہ افغانستان کی سرزمین اور مواصلاتی سہولیات (انٹرنیٹ) کا استعمال ہو رہا ہے۔ اگر طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر سے آمدورفت کو کنٹرول (باقاعدہ و باضابطہ) بنایا جاسکتا ہے تو ’آن لائن ٹریفک‘ کی ’باریک بیں نظر اور مؤثر نگرانی‘ انٹرنیٹ کی واجبی سی معلومات رکھنے والے بھی کرسکتے ہیں۔ 

دوسری ذمہ داری: ہر خاص و عام ہوشیار رہے کہ وہ اپنے گھروں میں لگائے ہوئے ’ہاٹ سپاٹس (وائی فائی انٹرنیٹ)‘ کسی بھی صورت نہ تو ’بناء پاس ورڈز‘ رہنے دیں اور نہ ہی اہل خانہ کے علاؤہ کسی بھی دوسرے شخص سے ایسی معلولات کا تبادلہ کریں جو ’حساس‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر گھر میں مہمان آئیں اور وائی فائی پاس ورڈ مانگیں تو یقین کرلیں کے اُن کی رخصتی کے فوراً بعد یا پہلی فرصت میں ’وائی فائی پاس ورڈ‘ تبدیل کردیا جائے۔ وائی فائی پاس ورڈ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے چھ ہدایات ذہن نشین کر لیں۔ 1: اپنی ڈیوائیس ’ڈبلیو پی اے انسکپرشن (WPA2)‘ پر سیٹ کریں۔ 2: پاس ورڈ کسی بھی صورت 10ہندسوں سے کم نہ ہو۔ 3: پاس ورڈ میں الفاظ ہندسے اور خصوصی کریکٹرز کو شامل کریں۔ 4: سٹینڈرڈ ’ایس ایس آئی ڈی SSID‘ کا استعمال نہ کریں۔ 5: اپنی ذاتی معلومات SSID پر نہ رکھیں۔ 6: وائی فائی ڈیوائس کی لہریں (ایکسیس) کم سے کم یعنی اپنے گھر تک محدود رکھنے کے لئے اینٹینا ایڈجسٹمنٹ کی جاسکتی ہے جو جدید آلات میں باآسانی ممکن ہے۔ کھلے عام ’وائی فائی ہاٹ سپاٹ‘ رکھنے کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین نہ صرف جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ نادانستہ طور پر ایک ایسے مستقل خطرے سے بھی دوچار ہیں‘ جس کی سنگینی کا انہیں ادراک نہیں۔ عموماً ہوٹلوں‘ کیفے اور دیگر پبلک مقامات پر ’اوپن وائی فائی‘ رکھا جاتا ہے‘ دہشت گردوں کے زیراستعمال انٹرنیٹ کو دیکھتے ہوئے اِس سہولت پر اُس وقت تک پابندی عائد ہونی چاہئے جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ جعلی یا بناء شناخت موبائل فون کنکشنز آج بھی موجود ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے مالی فائدے کے لئے پورے ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ 

موجودہ ہنگامی حالات کا تقاضا ہے کہ ’پری پیڈ‘ اضافی خدمات کی بجائے پاکستان میں صرف اور صرف ’پوسٹ پیڈ موبائل کنکشنز‘ دیئے جائیں‘ تاکہ بلنگ کے ذریعے صارف کی رہائش کے مقام کا تعین ہوسکے۔ 

افغانستان یا دیگر ممالک کے موبائل فون کنکشنز کی ’رومنگ (Roaming)‘ معاہدے بھی اُس وقت تک معطل رکھے جائیں‘ جب تک سیکورٹی حالات اِس کی اجازت نہیں دیتے۔ 

پاکستان حالت جنگ سے گزر رہا ہے‘ جس میں عسکریت پسندوں کے مواصلاتی رابطے نہ صرف دہشت گردی کی منظم و مربوط کاروائیوں کو ممکن بنا رہے ہیں بلکہ اِنہی کے ذریعے وہ جس کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں درحقیقت وہ ہمارے سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا بیان ہیں۔ کیا ہم نے دل سے شکست تسلیم کر لی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, April 24, 2016

TRANSLATION: Who are Punjabi Taliban?

Who are Punjabi Taliban
پنجابی طالبان کون ہیں؟
صوبہ پنجاب میں جہاں کہیں دہشت گردی رونما ہوتی ہے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے تو ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا عموماً استعمال ہوتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے ضلع راجن پور میں ’چھوٹو گینگ‘ نامی ایک جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کاروائی کی گئی جس میں ’پنجابی طالبان‘ کا نام آیا۔ اگرچہ ’چھوٹو گینگ‘ ایک جرائم پیشہ گروہ ہے لیکن اِس قسم کی افواہیں امکانات پر بیان کی جاتی ہیں کہ عسکریت پسندوں نے ممکنہ طور پر جرائم پیشہ عناصر سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہو یا پھر انہوں نے دریا کنارے ’کچا جمال‘ کی پٹی میں پناہ لے رکھی ہو جو راجن پور کی تحصیل روجھان کا علاقہ ہے۔ ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ غلام رسول المعروف چھوٹو کے عسکریت پسندوں کے کسی ’نیٹ ورک‘ کے ساتھ روابط تھے یا پھر اُس نے بلوچی‘ سندھی یا دیگر عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی یا انہیں اسلحے کی فراہمی میں ملوث رہا ہو۔ درحقیقت چھوٹو نے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کرنے سے قبل مبینہ طور پر اُن رابطہ کار پولیس حکام بارہا کہا کہ اُسے طالبان کے طور پر ظاہر کرنا غلط ہے۔ اُس سے منسوب یہ بیان بھی ہے کہ میں مسلمان ہوں نہ کہ طالبان۔

پنجابی طالبان کی زیراستعمال اصطلاح کا کافی دلچسپ پس منظر ہے۔ سال 2001ء کے آخری دنوں میں جب پنجابی بولنے والے عسکریت پسند افغانستان پر غیرملکی جارحیت کے خلاف لڑنے کے لئے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں پہنچے تو اُن کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ یہ پنجابی طالبان باجوڈ‘ مہمند‘ خیبر‘ کم اور اورکزئی کے قبائلی علاقں میں مقیم ہوئے یا پھر شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں روپوش ہوئے اور یہیں انہوں نے عسکری تربیت حاصل کی تاکہ وہ افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ جاری مزاحمت میں حصہ لے سکیں۔ مقامی پختون عسکریت پسندوں نے بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنے اِن ساتھیوں کو ’پنجابی طالبان‘ پکارنا شروع کر دیا۔ پنجابی طالبان کی پختون اکثریتی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق سے لسانی رنگینیاں بھی پیدا ہوئیں جیسا کہ خان سید نامی اہم عسکریت پسند رہنما کو ’سجنا‘ کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا۔ چونکہ خان سید کا پنجابی طالبان کے ساتھ رویہ دوستانہ تھا اِس لئے اُسے ’سجنا‘ کا لقب دیا گیا جو اصل نام کے مقابلے زیادہ معروف ہوگیا۔ خان سید نے خود کو سجنا کہلانے پر کبھی بھی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اُس کا اپنا اختیار کردہ لقب ’خالد محسود‘ تھا۔ طالبان کی بہت سی قسمیں ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کے طور پر مختلف نام دینا بھی ایک ضرورت ہی تھی۔ لفظ ’طالب‘ جس سے ’طالبان‘ بنا کا لغوی معنی ایک ایسے شخص کے ہیں جو طالب علم ہے اور یہ اصطلاح اصلاً 1994ء میں اُس وقت سے زیراستعمال ہے جب افغانستان کے سابق دارالحکومت شہر قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما ’ملا محمد عمر‘ نے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ پھر جب دسمبر 2007ء میں جنوبی وزیرستان (قبائلی علاقے) میں بیت اللہ محسود نے ’تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)‘ کی بنیاد رکھی جو کہ افغانستان کے طالبان ہی کی طرز پر پاکستانی شاخ تھی تو اُس وقت افغان طالبان کی اصطلاح متعارف ہوئی تاکہ طالبان کے اِن دونوں گروہوں کے درمیان تمیز کی جاسکے۔ دریں اثناء پاکستانی طالبان جن کے ایک دھڑے کی شناخت کے لئے پنجابی طالبان استعمال ہونے لگا ’پختون عسکریت پسندوں‘ کی اکثریت والی تنظیم کا حصہ بنتے چلے گئے۔ یہ بات دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پختون عسکریت پسندوں کو کبھی بھی ’پختون طالبان‘ نہیں کہا گیا جیسا کہ بعد میں شامل ہونے والوں کے لئے ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ عسکریت پسندوں میں کوئی ایسا خاص دھڑا یا دستہ نہیں کہ جسے ’پنجابی طالبان‘ کہا جاتا ہے بلکہ صرف لسانی بنیادوں پر یعنی پنجابی زبان بولنے کی وجہ سے ایسے عسکریت پسند پنجابی طالبان کہلائے۔ جہادی تنظیمیں نظریاتی وجوہات یا قیادت کرنے والی شخصیات کی ذاتی حیثیت و مقام سے اختلاف یا ٹکراؤ کی بناء پر گروہوں میں تقسیم ہوئیں اور ان میں سے بہت سی تحریک طالبان پاکستان سے اتحادی ہوئیں کیونکیہ یہ سب سے طاقتور ایک ایسا گروہ تھا جو قبائلی علاقوں پر بھی کنٹرول رکھتا تھا اور اس میں یہ صلاحیت بھی تھی کہ حسب ضرورت اُن مقامی یا غیرملکی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور تحفظ فراہم کرسکتا تھا‘ جنہیں مدد کی ضرورت ہوتی تھی۔ عسکریت پسندوں کی اکثریت مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کو شخصی طورپر جانتی تھی کیونکہ وہ افغانستان و پاکستان میں اکٹھے کاروائیاں کرتے رہے تھے یا پھر اکٹھے تربیت حاصل کرچکے تھے اور جب وہ نے تحریک طالبان پاکستان میں شامل یا اس کے اتحادی بنے تو اُن کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط ہوگئے۔ پنجابی طالبان کے کچھ دھرے ایسے تھے جنہوں نے اِس اصطلاح کا اپنے لئے عمومی استعمال کیا یا پھر ایسے مواقعوں پر اِس اصطلاح کا استعمال کیا گیا جبکہ کاروائی کو شناخت کرنے کی ضرورت پیش رہی۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال میں بھی ’پنجابی طالبان‘ کی اصطلاح کا استعمال ہو چکا ہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت بنی تو اُس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک کی جانب سے ’پنجابی طالبان‘ کی اِصطلاح اِستعمال کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے باقاعدہ اِحتجاج کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ ’پنجابی طالبان‘ نامی کسی ایسے مبینہ دھڑے کا وجود نہیں۔ تکنیکی طور پر اگر دیکھا جائے تو شہباز شریف اپنے اِس دعوے میں سچے تھے کیونکہ اُس وقت تحریک طالبان پاکستان میں ایسے کسی دستے کا وجود نہیں تھا جو ’پنجابی طالبان‘ ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاہے جس نام سے بھی پکارا جائے لیکن ’پنجابی طالبان‘ کا وجود تحریک طالبان پاکستان میں اَہم و فعال ہے۔

پاکستان کے حکمراں طبقے کی اکثریت جس کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے پنجابی طالبان کے وجود کا انکار کرتے رہے اُس وقت تک جبکہ گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش حملہ ہوا‘ جس سے بھاری جانی نقصانات ہوئے۔ مذکورہ دہشت گرد حملے کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت جس کی قیادت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کر رہی ہے نے پنجاب بالخصوص جنوبی اضلاع میں موجود عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کی مطالبہ کیا۔ قبل ازیں بڑے عسکریت پسند رہنما ملک اسحاق اور اُن کے ساتھی مارے گئے یا پولیس مقابلے میں قتل ہوئے لیکن یہ کاروائی اُسی مطالبے کا عملی نمونہ تھی۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاسی مخالفت کرنے والی جماعتیں جن میں خیبرپختونخوا‘سندھ و بلوچستان کی حکمراں جماعتیں اور اِن صوبوں کی قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں پنجاب کے عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش تھے۔ ’چھوٹو گینگ‘ کی مزاحمت‘ کئی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس و بعدازاں فوج کی کاروائی جیسے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں یا پھر جس قدر بہتر بیان کی جاتی ہے حقیقت میں ویسی نہیں۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح معرض وجود میں آئی اور یہ باقی رہے گی لیکن برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ عسکریت پسند کسی بھی نام یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں کمزور ہوئے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کی طاقت کے مراکز ماضی کے مقابلے منتشر دکھائی دیتے ہیں۔ پاک فوج کی کاروائی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں اُن کے قدم قبائلی علاقوں سے بھی اکھڑنے کے بعد اُن کی اکثریت یا تو افغانستان چلی گئی ہے یا پھر پاکستان کے طول و عرض میں روپوش ہو گئی ہے۔ پنجابی طالبان کے نام سے شہرت رکھنے والے باقی ماندہ عسکریت پسند ایک خطرہ تو ہیں لیکن اُن کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت و استعداد بڑی حد تک کم (تقلیل) ہو گئی ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)