Showing posts with label Afghan Refugees. Show all posts
Showing posts with label Afghan Refugees. Show all posts

Saturday, October 2, 2021

Afghan Refugees: Road to Hazara

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

سیکورٹی خطرات و خدشات

افغان مہاجرین کی ہزارہ ڈویژن آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں آنے والے یہ مہاجرین مانسہرہ پہنچ رہے ہیں جہاں ایک لاکھ سے زائد مہاجرین شنکیاری‘ خاکی‘ اچھڑیاں‘ گڑھی حبیب اللہ‘ اُوگی‘ مانسہرہ شہر‘ بٹ دریاں اُور شیخ آباد کیمپ پہنچ رہے ہیں لیکن اِن کی رجسٹریشن نہیں ہو رہی۔ پولیس حکام اپنی جگہ حیران اُور تشویش میں مبتلا ہیں اُور ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کے بقول مہاجرین کی آڑ میں جرائم پیشہ یا دہشت گرد عناصر کے ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ پولیس کے پاس نہ تو افرادی و تکنیکی وسائل اُور نہ ہی احکامات موجود ہیں کہ نئے آنے والے مہاجرین کی رجسٹریشن کرے۔ اصولاً سرحد میں داخل ہونے کے وقت مہاجرین کے کوائف رجسٹر کرنے کے بعد اُنہیں رجسٹریشن دستاویزات جاری ہونی چاہیئں‘ جنہیں اِس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنی نقل و حرکت سے متعلقہ تھانے کو آگاہ کریں گے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی افغان مہاجر خاندان مانسہرہ میں پہلے سے موجود عزیزواقارب کے پاس یا مقررہ مقامات (مہاجر خیمہ بستیوں) میں قیام کرنا چاہتا ہے تو اپنی رجسٹریشن کی سند کا متعلقہ (قریبی) تھانے میں اندراج کرے جہاں مہاجرین کے کوائف سے متعلق ایک الگ رجسٹر ہونا چاہئے۔ حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ مہاجرین کو پاکستان میں موبائل فون کنکشن خریدنے کی سہولت دی گئی ہے لیکن اِس کے کوائف متعلقہ پولیس تھانے کو فراہم نہیں کئے جاتے۔ رجسٹریشن کے بعد اُور بنا رجسٹریشن مہاجرین کو نقل و حرکت کی آزادی ہوتی ہے اُور چونکہ سرکاری اِدارے آپس میں مربوط نہیں‘ اِس لئے مہاجرین انتظامی خامیوں کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔

ہزارہ ڈویژن میں جرائم کی صورتحال پہلے ہی غیرمعمولی ہے۔ گاڑیاں اُور موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں جو ماضی میں نہ ہونے کے برابر تھیں لیکن اب اِن کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے۔ سٹریٹ کرائمز بھی تواتر سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ رواں ہفتے ایبٹ آباد سے چوری شدہ 31 موٹرسائیکل برآمد کئے گئے اُور اِس کارہائے نمایاں کو مزید نمایاں کرنے کے لئے ’تھانہ سٹی‘ میں تیس ستمبر کے روز اعلیٰ پولیس حکام (ایڈیشنل ایس پی‘ ایس پی انوسٹی گیشن‘ اے ایس پی‘ ڈی ایس پیز اُور ایس ایچ اُو) نے پریس کانفرنس کی۔ مذکورہ موٹرسائیکل ضلع ایبٹ آباد کے مختلف تھانہ جات سے چوری کئے گئے تھے اُور بیشتر وارداتوں میں ’کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں (CCTV)‘ کی مدد سے موٹرسائیکل چوروں کا سراغ لگایا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ ضلعی ولیس سربراہ ظہور بابر آفریدی نے چوری شدہ موٹرسائیکل برآمد کرنے کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں ڈی ایس پی کینٹ راجہ محبوب اُور ایس ایچ اُو سٹی سردار واجد شامل تھے اُور اِس اقدام کے نتیجے میں ایبٹ آباد سے موٹرسائیکل چوری کرنے والا 4 رکنی گروہ گرفتار کیا جن کے قبضے سے 31 موٹرسائیکل برآمد ہوئے اُور اِن میں سے 9 موٹرسائیکلوں کو اُن کے مالکان کے حوالے کر دیا گیا۔ بنیادی ضرورت آبادی کے تناسب سے تھانہ جات اُور پولیس کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے کی ہے‘ جس کی جانب بہت کم توجہ دی جا رہی ہے۔ 1969 مربع کلومیٹر پر پھیلا ’ایبٹ آباد‘ ہزارہ ڈویژن کا صدر مقام ہے۔ اِدارہ¿ شماریات (pbs.gov.pk) کی ویب سائٹ پر دستیاب چھٹی مردم شماری (2017ئ) کے نتائج کے مطابق ایبٹ آباد تحصیل کی کل آبادی 9 لاکھ 81 ہزار 590 افراد (7 لاکھ مرد اُور قریب ڈھائی لاکھ خواتین) پر مشتمل ہے جن میں شہری علاقے میں 2 لاکھ 44 ہزار اُور دیہی علاقوں میں 7 لاکھ 36 ہزار سے زیادہ لوگ رہتے ہیں اُور یہ ایک ٹاو¿ن اُور پینتیس یونین کونسلوں کا مجموعہ ہے۔ عجیب و غریب صورتحال یہ ہے کہ ایبٹ آباد شہر چاروں اَطراف میں پھیل رہا ہے۔ نئی بستیاں آباد ہو رہی ہیں اُور دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی جانب نقل مکانی کا رجحان اپنی جگہ موجود ہے۔ مزید مہاجرین کی آمد کا ایک منفی اثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مکانوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ مہاجر خاندان کسی ایک گھر کو مل بانٹ کر استعمال کرتے ہیں اُور یوں دو یا تین خاندان کرایہ تقسیم کر لیتے ہیں جبکہ مقامی افراد کی اکثریت ایک گھر یا گھر کے ایک حصے (پورشن) میں رہتی ہے۔

مہاجرین کی آمد کے ساتھ کرائے کے مکانات کی مانگ بڑھ گئی ہے جن سے متعلق اگرچہ قانون موجود ہے کہ کوئی بھی مالک مکان اپنے ہاں ٹھہرنے والے کرایہ داروں کے کوائف سے متعلقہ تھانے کو مطلع کرتا ہے لیکن ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک سے زیادہ خاندانوں کے بارے میں تھانے کو آگاہ نہیں کیا جاتا اُور یوں بنا کوائف معلوم ہوئے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد شہری علاقوں میں روپوش رہتی ہے‘ جن کی کھوج کا عمل اگرچہ جاری رہتا ہے لیکن یہ ایک مستقل خطرہ ہے۔

طالبان کے اَفغان دارالحکومت میں داخل ہونے (پندرہ اگست دوہزاراکیس) سے پہلے پاکستان کی جانب افغانوں کے سفر کا سلسلہ جاری تھا جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا تاہم طالبان نے طورخم اُور چمن پر جمع پہلے سے موجود ہزاروں خاندانوں میں مزید اضافہ نہیں ہونے دیا۔ افغانستان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق طالبان پاکستان اُور ایران کی جانب صرف اُنہی افراد کو سفر کی اجازت دیتے ہیں‘ جن کے پاس سفری دستاویزات (پاسپورٹ اُور ویزا) ہوں چونکہ افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے فعال ہیں جہاں سے علاج معالجے یا تجارت جیسے مقاصد کے لئے زیادہ ویزے جاری کئے جاتے ہیں‘ اِس لئے افغان بطور مہمان داخل ہوتے ہیں‘ جس کے بعد وہ اپنی حیثیت مہاجرت میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

عالمی قوانین کے مطابق ایسے افراد کی سہولت کاری کے لئے اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یو این ایچ سی کے دفاتر اُور گشتی مراکز موجود ہیں‘ جہاں افغانوں سے بات چیت کر کے اُور اُن کی بیان کردہ مجبوری یا درپیش خطرے سے متعلق مو¿قف کو درست تسلیم ہونے کی صورت مہاجر ہونے کی سند (رجسٹریشن کارڈ) جاری کیا جاتا ہے لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ایران کی طرح مہاجرین کے لئے خیمہ بستیوں تک محدود رہنے کی پابندی نہیں اُور وہ رجسٹرڈ ہونے کے بعد پاکستان کے کسی بھی حصے میں بودوباش اختیار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی داخلی سیکورٹی (امن و امان کی صورتحال) کو درپیش مسائل و مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ مہاجرین کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے اُور مزید افغان مہاجرین کی آمد کے جاری سلسلے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی ادارے مربوط حکمت عملی تشکیل دیں کیونکہ خطرہ بڑا ہے اُور انسانی ہمدردی کی آڑ میں ملک دشمن عناصر یا جرائم پیشہ گروہوں کے پاکستان میں داخل ہونا خارج از امکان نہیں ہے۔

....


Sunday, August 29, 2021

Base camp Peshawar!

 ژرف ِ نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: ہوائی مہمان

افغانستان کی قسمت کب بدلے گی‘ اِس کے وسائل اُور افراد کے استحصال کا دور کب ختم ہوگا؟

تازہ ترین پیشرفت یہ ہے کہ غیرملکی فوجی و غیرفوجی اُور اِن کی مدد و معاونت کرنے والے افغانوں کے انخلاکا عمل ’کابل ائرپورٹ دھماکے (چھبیس اگست)‘ کے بعد زیادہ تیزی سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ طالبان کے کابل میں داخل ہونے (پندرہ اگست) سے قبل افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا¿ کے لئے 31 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جو ’گیارہ ستمبر حملوں (نائن الیون)‘ کا ایک اُور سال مکمل ہونے سے قبل خاص علامتی و نفسیاتی حد تھی لیکن پندرہ اگست واقعات کے تناظر میں جبکہ طالبان جنگجوو¿ں نے غیرمعمولی اُور غیرمتوقع تیزی سے پیشرفت کرتے ہوئے دارالحکومت کابل کا انتظام سنبھال لیا ہے اُور اِن کی آمد کو بنیاد بنا کر پھیلائے جانے والے خوف و ہراس کا خمیازہ اب امریکہ اُور اِس کے اتحادیوں کو خود ہی بھگتنا پڑ رہا ہے!

افغانستان سے امریکہ اُور اِس کے اتحادی فوجی و غیرفوجیوں کا انخلامکمل کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ وہاں حساس تنصیبات بالخصوص غیرملکیوں پر مزید حملوں کے امکانات ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ہوائی اُڑانوں کی حکمت ِعملی وضع کی گئی ہے اُور اِس مرتبہ بھی پہلا انتخاب (نزدیک ترین و محفوظ ترین مقام) ”پشاور“ ہی ٹھہرا ہے جہاں کابل ائرپورٹ سے لائے جانے والے غیرملکیوں اُور افغان مہاجرین کو عارضی طور پر ٹھہرانے کے انتظامات کئے گئے ہیں اُور مبینہ طور پر اِن ’ہوائی مہمانوں‘ کو بعدازاں اپنی اپنی منزل پر پہنچا دیا جائے گا لیکن یہ کہانی کا ایک رخ ہے‘ جو امریکی بیان کر رہے ہیں اُور چاہتے ہیں کہ پاکستان من و عن تسلیم کر لے۔ کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کابل ائرپورٹ پر افراتفری کے باعث یہ بات ممکن نہیں رہی کہ وہاں سے فوجی طیاروں میں سینکڑوں کی تعداد میں انسانوں کی بھیڑ بکریوں کی صورت سوار کرتے وقت ہر مسافر کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اگرچہ خاموشی ہے لیکن بہرحال افغانستان سے انسانی اسمگلنگ ہونے کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اُور چند ایک ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ جن میں دہشت گرد بھیس بدل کر امریکہ اُور برطانیہ جا پہنچے‘ جنہیں بعدازاں واپس بھیجنا ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہنگامی انخلا¿ کے عمل میں امریکہ پہنچنے والے افغانوں کو نہ صرف ہوائی اڈوں پر ہی رکھ کر اُن کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ کئی ایک ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن میں امریکہ پہنچنے والوں افغانوں کو جہازوں سے اُس وقت تک اُترنے بھی نہیں دیا گیا جب تک اُن کی شناخت دستاویزی طور پر ثابت نہیں ہو پائی۔ اُن امریکہ ہوائی اڈوں پر جہاں افغان پہنچ رہے ہیں وہاں اُنہیں عوام سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اُور نہ ہی اُن تک عوام کی جانب سے عطیہ کیا جانے والا سازوسامان پہنچایا جا رہا ہے‘ جو الگ موضوع ہے اُور مغربی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے عرب‘ روس اُور چین کا میڈیا اِسے خوب اچھال رہا ہے۔ فی الوقت اَمریکی و اِتحادی ممالک نے یہ حکمت ِعملی اختیار کر رکھی ہے کہ وہ کابل سے اُٹھائے جانے والے مسافروں کو اپنی سرزمین پر قدم رکھنے سے قبل کسی دوسرے ملک میں مقیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک تو اُن کے شناختی کوائف کی جانچ پڑتال ہو سکے اُور دوسرا اُنہیں کورونا وبا لاحق ہونے کی صورت میں مرض کی علامات ظاہر ہو سکیں۔ یہ حفظ ماتقدم کے طور کیا جانے والا اقدام امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس اُور دیگر یورپی ممالک کی ایک مجبوری کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایک مرتبہ وہاں پہنچنے والے بعدازاں وہاں کے قوانین کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سیاسی پناہ کی درخواست کر بیٹھتے ہیں اُور جنہیں بعدازاں بیدخل کرنا ممکن نہیں ہوتا اُور یوں حکومت ایک نئی مشکل میں پھنس جاتی ہے۔ امریکہ اُور مغربی ممالک کی دوسری مشکل یہ ہے کہ افغانستان میں کورونا وبا کی شرح بلند ہے لیکن وہاں جانچ (ٹیسٹنگ) کا نظام خاطرخواہ وسیع (موجود) نہیں۔ لوگوں کو دوسروں سے الگ تھلگ (قرنطین) رکھنا بھی ممکن نہیں کیونکہ ہر طرف (غیرضروری) افراتفری کا ماحول ہے اُور اِس ماحول کو بنانے میں بھی امریکہ اُور اِس کے اتحادی مغربی ممالک ہی کی کارستانیاں شامل ہیں جنہوں نے خاص ضرورت کے تحت دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ افغانوں کی اکثریت طالبان کے دور حکومت کو اپنے لئے موت سمجھتے ہیں اُور اِس طرح دباو¿ ڈال کر امریکہ اُور اِس کے اتحادی ممالک طالبان سے اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں جو مستقبل کی افغان حکومت میں شامل کرداروں سے متعلق ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اُس کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں کو نئی افغان حکومت میں شامل ہونا چاہئے لیکن وہ ایسے نام فی الوقت (فوری) ظاہر نہیں کر رہا اُور نہ ہی کسی کی حمایت کر رہا ہے لیکن وہ سبھی افغان کردار معلوم ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی اُور امریکی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رکھی ہے اُور طالبان کے اب تک کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت ایسی ’مشکوک وفاداریاں‘ رکھنے والے کرداروں کو حکمرانی میں شریک ِسفر نہیں کریں گے۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے افغانستان سے آنے والے قریب 10ہزار ’ہوائی مہمانوں‘ کو عارضی طور پر ٹھہرانے کے لئے 10مختلف ہوٹلوں کا انتخاب کیا ہے۔ اِس ’عارضی سکونت (ٹرانزٹ اسٹے)‘ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کورونا وبا کی حالت میں اِن مسافروں کو کچھ دن قرنطین (الگ تھلگ) رکھا جائے اُور یہ کورونا وبا کے کسی نئے جرثومے کے ساتھ امریکہ یا یورپ نہ پہنچ جائیں جو پہلے ہی پابندیوں سے گزر رہا ہے بلکہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے ایک خاص عرصے تک یہ پشاور ہی میں رہیں اُور اِس کے بعد بھی صحت مند رہنے کی صورت اُنہیں اگلی منزل کے لئے روانہ کر دیا جائے۔ ایسے عارضی (ہوائی) مسافر پشاور کے لئے کتنا خطرہ ہیں اُور اِن کی آمد و قیام پشاور کے لئے کتنی مفید ہوگی‘ اِس بارے میں فی الوقت صوبائی فیصلہ ساز زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے اُور نہ ہی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ قومی سطح پر اِس قسم کی فیصلہ سازی کا اختیار عوام کے سیاسی نمائندوں کو نہ ہونے کے برابر حاصل ہوتا ہے۔ اب تک ہوئے فیصلوں کے مطابق عام افغانوں کو دوران پور میں قائم کورونا سنٹر لیجایا جائے گا جبکہ سفارتی و دیگر غیرملکیوں کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا جائے گا۔ گھنٹوں کے نوٹس پر دی جانے والی اِس اطلاع پر کیا جانے والا بندوبست اپنی جگہ لیکن جن 10ہزار ہوائی مسافروں کی آمد کی بات کی جا رہی ہے‘ اُن کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اُور یہ بھی ممکن ہے کہ عام افغانوں کو دوران پور پہنچا کر اُنہیں وہاں سے نکالا ہی نہ جائے اُور اُنہیں امداد کے وعدوں کے ساتھ پاکستان کے سپرد کر دیا جائے جو پہلے ہی دس سے پندرہ لاکھ رجسٹرڈ اُور اِس سے دوگنا زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے ہوئے عاجز آ چکا ہے۔ افغان مسئلے کے لئے پاکستان ذمہ دار نہیں بلکہ جن ممالک نے گزشتہ بیس برس کے دوران افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی اُنہیں چاہئے کہ وہ جلدبازی میں اکتیس اگست تک انخلا مکمل کرنے کی بجائے اِسے طول آئندہ چند ماہ یا کم سے کم چند ہفتوں تک طول دیں اُور پورے اطمینان سے یہ عمل مکمل کریں کیونکہ دوسری کسی بھی صورت میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اندیشہ یہ بھی ہے کہ پشاور میں ٹھہرائے جانے والے افغان مہمانوں میں مقامی افغان شامل ہونے کی کوشش کریں اُور اِس طرح یہ پورا عمل مشکوک قرار د ے کر کابل ائرپورٹ سے پشاور ائرپورٹ اُور دوران پور پہنچنے والے افغان ہمیشہ کے لئے پاکستان ہی کی ذمہ داری ٹھہرائی جائے‘ لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ خیبرپختونخوا کے وسائل پر نیا (مالی) بوجھ ہونے کے علاؤہ داخلی حفاظتی انتظامات کے لئے بھی سنجیدہ نوعیت کا خطرہ ہو گا۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 29 August 2021 Sunday 20th Muharram ul Harram 1443 Hijri




Tuesday, January 2, 2018

Jan 2018: Yet another extension of Afghan Refugees, making issue more complex!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ادراک حال: بے حال!
پاکستان میں اَفغان مہاجرین کے ’قانونی قیام‘ میں توسیع کا فیصلہ اِس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے فیصلہ سازوں کو نہ تو وسائل پر بوجھ کی فکر ہے اُور نہ ہی اَمن و اَمان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ہی اُن کی ترجیحات کا حصہ ہے‘ بصورت دیگر خود قانون نافذ کرنے والے حکومتی اِداروں نے بارہا افغان مہاجرین کی آڑ میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی موجودگی کی اطلاعات دی ہیں۔ 

دہشت گردی میں صرف حملہ آور ہی ملوث نہیں ہوتے بلکہ اُن کے لئے مخبری‘ رابطہ کاری‘ قیام و طعام اور آمدورفت کی سہولیات فراہم کرنے والے درپردہ رہتے ہوئے کام کر رہے ہوتے ہیں‘ جو بظاہر ہتھ ریڑی لگائے ہوں گے یا کسی چائے خانہ یا چوراہے میں چھوٹا موٹا کاروبار یا مساجد و مدارس کی خدمت میں مصروف ہوں گے لیکن عین ممکن ہے کہ اِنہی بظاہر معمولی دکھائی دینے والوں کی دلی ہمدردیاں اور وابستگیاں دہشت گردوں یا منظم جرائم پیشہ عناصر سے ہوں‘ جن کے مختلف گروہ آج بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی اگر صلاحیت رکھتے ہیں تو اِس کے پیچھے یہی ’افرادی قوت (سہولت کار)‘ ہیں جنہوں نے بھیس بدل رکھا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے موبائل فون کنکشنوں کے اجرأ کے لئے ازسرنو تصدیق کا عمل مکمل نہ ہونے اور افغان فون کنکشنوں کی رومنگ (roaming) یا افغان سرحدی علاقوں میں دستیابی سے عمومی و خصوصی جرائم پیشہ عناصر فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ 

پاکستان حالت جنگ سے دوچار ہے اور اِن حالات میں داخلی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے ہنگامی حالت کا نفاذ ہونا چاہئے۔ دہشت گرد اور منظم جرائم پیشہ گروہ نہ صرف موبائل نیٹ ورکس بلکہ انٹرنیٹ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے منصوبہ بندی یا دہشت گرد کاروائیاں کرتے ہیں‘ جن کے ثبوت کئی دہشت گرد کاروائیوں سے ملے ہیں کہ حملہ آور افغانستان میں موجود اپنے مراکز سے ہدایات لیتے رہے لیکن اِس ساری حقیقت کے معلوم ہونے کے باوجود بھی موبائل فون اور انٹرنیٹ نیٹ ورکس سے استفادہ ہر گزرتے دن پہلے سے زیادہ آسان اور سستا کیا جا رہا ہے۔ موبائل فون کمپنیاں اپنے منافع کے لئے جس انداز سے قومی سلامتی کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں‘ اُس کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ایسے ملک میں ملے‘ جو اپنی سلامتی کے نہایت ہی پرخطر (حساس) دور سے گزر رہا ہو۔ بہتر تو یہی تھا کہ موبائل فون کنکشن پری پیڈ کی بجائے پوسٹ پیڈ کر دیئے جاتے اور فون کی سم ہر صارف کے گھر پر ارسال کی جاتی جبکہ اُس کا فون بل بھی گھر ہی کے پتے پر ارسال کیا جاتا لیکن کروڑوں کی تعداد میں غیرتصدیق شدہ اور فعال فون کنکشن ہماری قومی حکمت عملیوں میں موجودہ خامیوں کا نشاندہی کر رہے ہیں۔

وفاقی وزارت برائے فرنٹیئر ریجنز (سیفران) کے فیصلہ سازوں نے تجویز دی ہے کہ پاکستان میں قانونی طور پر مقیم ’چودہ لاکھ‘ افغان مہاجرین کے قیام میں ایک سال کی توسیع کر دی جائے۔ اِس سلسلے میں وزیراعظم کو سمری ارسال کر دی گئی ہے جس کی ممکنہ منظوری سے مہاجرین کو ’دسمبر دوہزار اٹھارہ‘ تک قیام کی اجازت (جواز) مل جائے گا۔ درحقیقت پاکستان حکومت ’افغان مہاجرین‘ کے معاملے پر خود کو جس قدر بے بس سمجھ رہی ہے حالات اتنے دگرگوں نہیں۔ مہاجرین کی واپسی میں مزید توسیع نہ کر کے افغانستان اور امریکہ پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے خلاف اَفغان سرزمین کے استعمال کو رُوکا جائے اُور پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں سے یا تو اَفغان حکومت خود معاملہ کرے یا پاکستان کو سرحد پار کاروائیوں کی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب امریکہ کے لئے پاکستانی قبائلی علاقوں میں اہداف کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کے واقعات تو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں لیکن افغانستان میں پاکستان دشمنوں کے خلاف ڈرون طیاروں کی کاروائیاں اُنگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہیں۔ 

پاکستان سے ’ڈومور کا تقاضا‘ کرنے والوں پر دباؤ بنایا جا سکتا ہے‘ جنہیں نہ تو پاکستان کی چار دہائیوں سے زائد عرصے پر پھیلی میزبانی اُور ایثار دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی افغان جنگ میں پاکستان کی قربانیاں ہی قابل ستائش (قابل شمار) نظر آتی ہیں! حقیقت یہ ہے کہ اَفغان حکومت اُور اَمریکہ کی قیادت میں جملہ ’غیرملکی اِمدادی اِدارے‘ چودہ لاکھ قانونی اُور قریب اِتنے ہی غیرقانونی مہاجرین کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور اُن کے ہاں مقامی نقل مکانی کرنے والے (آئی ڈی پیز) کا بحران ہی حل نہیں ہورہا۔

پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام میں اب تک 5 مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔ سال دوہزارنو میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’یو این ایچ سی آر‘ نے مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے میں معاونت فراہم کی تھی‘ جس سے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے لیکن شناختی کارڈز کی معیاد مکمل ہونے پر بھی مہاجرین کی وطن واپس یقینی نہیں ہوگی۔ ابتدأ میں اقوام متحدہ کی جانب سے ’رضاکارانہ واپسی‘ کرنے والے مہاجرین کو 200ڈالر امداد دی گئی جو سال دوہزار سولہ میں بڑھا کر 400ڈالر کر دی گئی لیکن رضاکارانہ وطن واپسی کا عمل تیز نہ ہو سکا اور دوہزارسترہ کے دوران بمشکل 48ہزار مہاجرین رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس گئے جبکہ دوہزار سولہ میں قریب چار لاکھ واپس گئے تھے۔ دوہزار سولہ کے مقابلے دوہزارسترہ میں افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل سست ہوا۔ اکتوبر دوہزارسترہ میں رضاکارانہ واپسی پروگرام افغانستان میں سردیوں کی وجہ سے معطل کردیا گیا اور اُمید ہے کہ اِسے حسب پروگرام مارچ دوہزار اٹھارہ میں دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ 

افغانستان میں امن و امان اور اقتصادی صورتحال کی وجہ سے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو دسمبردوہزاراٹھارہ کے بعد مزید دو مرتبہ توسیع دی جا سکتی ہے۔ افغان مہاجرین کا سب سے زیادہ بوجھ ’خیبرپختونخوا‘ کے وسائل پر ہے۔ اگست دوہزارسترہ سے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک گیر مہم شروع کر رکھی ہے‘ جو رواں ماہ (جنوری دوہزار اَٹھارہ) میں مکمل ہو جائے گی‘ اُور اِس دوران مجموعی طور پر ’6 لاکھ 70 ہزار‘ مہاجرین رجسٹر کئے گئے‘ جن میں سے 3 لاکھ 50 ہزار کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ 

وفاقی حکومت کے سامنے یہ معاملہ بھی زیرغور ہے کہ چھ ماہ سے اَفغان مہاجرین کے رجسٹریشن کے جاری عمل میں دو ماہ کی توسیع کر دی جائے۔ ظاہری امر ہے کہ مہاجرین کے قیام اور رجسٹریشن میں توسیع کا براہ راست اثر خیبرپختونخوا پر مرتب ہوگا‘ اور وفاقی حکومت کی ایسی کسی بھی فیصلہ سازی سے قبل صوبائی حکومت کی رائے (مشاورت) شامل ہونی چاہئے اور بالخصوص صوبائی وسائل میں بھی اضافہ کیا جائے‘ جو پہلے ہی ناقابل برداشت دباؤ میں ہے۔
۔