Showing posts with label Internet. Show all posts
Showing posts with label Internet. Show all posts

Sunday, January 1, 2023

Yearender Internet in 2022

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
سالنامہ: انٹرنیٹ و سوشل میڈیا
سال 2022ءکے دوران انٹرنیٹ اُور سماجی رابطہ کاری (سوشل میڈیا) کی دنیا میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سال دوہزاراکیس کی طرح دوہزاربائیس میں بھی سب سے زیادہ استفادہ ’گوگل (Google)‘ سے کیا گیا جبکہ سوشل میڈیا کی دنیا پر حکمرانی کرنے والی ٹوئیٹر (Twitter) کا زوال دیکھا گیا اُور ٹوئیٹر کی جگہ ’انسٹاگرام (Instagram)‘ نے لی۔ سال 2022ءکے دوران دنیا کی آبادی 8 ارب کے عندسے کو عبور کر گئی اُور اِس ایک سال کے عرصے میں دنیا بھر میں ’5 ارب‘ صارفین نے انٹرنیٹ سے استفادہ کیا۔ کلاو¿ڈ فلیئر (CloudFlare) نامی ادارے کی مرتب کردہ رپورٹ کے دیگر اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ سال 2022ءکے دوران انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافہ ہوا اُور یہ اعزاز عالمی تاریخ میں کسی بھی دوسری ایجاد کو حاصل نہیں کہ وہ سالانہ اِس قدر تیزی سے پذیرائی حاصل کرے۔
 اِنٹرنیٹ پر دنیا کے بڑھتے ہوئے انحصار کو دیکھتے ہوئے پیشنگوئی کی گئی ہے کہ آئندہ چند برس کے دوران انٹرنیٹ امور مملکت سے لیکر نجی زندگی کے معمولات تک ہر ضرورت پر حاوی ہوگا تاہم ٹیکنالوجی کے اِس اندھا دھند طوفان میں اخلاقی و ثقافتی اقدار کا مستقبل کیا ہو گا یہ بات اہل مغرب (ترقی یافتہ دنیا) کے لئے اہمیت نہیں رکھتی لیکن ایشیائی خطے بالخصوص جنوب مغربی ایشیائی ممالک اُور خلیجی (عرب) ممالک کے علاو¿ہ چین‘ جاپان اُور جنوبی و شمالی کوریا جیسے ممالک اپنی تاریخ و ثقافت اُور زبان کو بہت اہمیت دیتے ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ جہاں انٹرنیٹ صارفین مقامی و علاقائی زبانوں میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں وہیں انٹرنیٹ خواندگی کے سلسلے بھی پہلے سے کئی زیادہ دراز دکھائی دیتے ہیں۔ اِس پوری صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو چاہئے کہ وہ نئے عیسوی سال (دوہزارتیئس) کے دوران انٹرنیٹ سے متعلق خواندگی کو نصاب تعلیم کا حصہ بنائیں تاکہ انٹرنیٹ کے عمومی استعمال سے ”مصنوعی ذہانت“ اُور ’ڈیٹا سائنس“ جیسی وسعت پا لینے کے بعد اِس ٹیکنالوجی سے خاطرخواہ فائدہ اُٹھایا جا سکے۔

سال دوہزار بائیس کے دوران دنیا کی 10 مقبول ترین ویب سائٹس میں پہلے نمبر پر گوگل‘ دوسرے نمبر پر فیس بک جبکہ تیسرے اُور چوتھے نمبر پر 2 ویب سائٹس (ٹک ٹاک اُور ایپل) فائز ہیں۔ پانچویں سے نویں نمبر تک بالترتیب یوٹیوب‘ مائیکروسافٹ‘ ایمازون ویب‘ انسٹاگرام‘ ایماوزن جبکہ دسویں نمبر پر 4 ویب سائٹس (آئی کلاؤڈ‘ نیٹ فلیکس‘ ٹوئیٹر اُور یاہو) ایک ہی درجے پر مساوی فائز ہیں لیکن انٹرنیٹ کی مقبولیت اُور فعالیت سے متعلق اِن اعدادوشمار پر اندھا دھند یقین کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ عالمی سطح پر پہلے 10 نمبروں پر آنے والی ویب سائٹس میں اکثریت امریکی سرمایہ کاروں کی ہیں جبکہ اِن کی مقبولیت کے بارے میں سالانہ اعدادوشمار مرتب کرنے والی کمپنیاں بھی امریکی ہی ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا پر امریکہ جس حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے اُس کے صرف چین اُور روس ہی نہیں بلکہ جمہوری اسلامی ایران بھی شدید خطرے کے طور پر دیکھا اُور ذکر کیا جاتا ہے۔

ایران نے سال 2022ءکے دوران روس کو ڈرون طیارے فراہم کئے جو ایک کمزور انٹرنیٹ سیکورٹی رکھتے تھے لیکن وہ اِس لحاظ سے کامیاب رہے کہ دنیا نے پہلی مرتبہ ’خودکش ڈرون طیاروں‘ کو دیکھا۔ اِس سے قبل اسرائیل اُور امریکہ کے تحقیق کاروں نے اربوں ڈالر خرچ کر کے ایسے ڈرون طیارے بنائے جو ایک اُڑان میں کئی روز تک فضا میں رہ سکتے ہیں۔ جو زیادہ بم یعنی وزن اُٹھا کر لیجا سکتے ہیں اُور جن میں یہ پوشیدہ رہنے کی صلاحیت بھی ہے تاکہ دشمن کے ریڈار اُنہیں نہ دیکھ سکیں۔ ایران نے نہایت ہی کم وسائل سے ایسے ڈرون طیارے بنائے جو نچلی پرواز کرنے کی وجہ سے ریڈار کی شعاؤں کو دھوکہ دیتے ہیں اُور جنہیں کسی ایک مشن (حملے) پر صرف ایک ہی مرتبہ بھیجا جا سکتا ہے۔ روس یوکرائن جنگ نے صرف ایرانی ڈرونز ہی نہیں بلکہ روس‘ امریکہ اُور نیٹو تنظیم کے رکن ممالک کی بنائی ہوئی تباہ کن جنگی ٹیکنالوجی بھی ظاہر کی جس سے کرۂ ارض پر عالمی جوہری جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں! حقیقت یہی ہے کہ ٹیکنالوجی نے انسانوں کی زندگیوں میں سہولیات سے زیادہ مشکلات پیدا کی ہیں اُور سال 2023ءکے دوران اُمید کی جا سکتی ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسان دوست اُور ماحول دوست بنانے پر زیادہ سوچ بچار (تحقیق) اُور کام کیا جائے گا۔

اگر سال 2022ءکے دوران ’کرپٹوکرنسی‘ کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو قواعد و ضوابط (ریگولیشنز) کی کمی اور غیر مرکزیت کی وجہ سے کرپٹو کرنسیز کی دنیا خطرات سے دوچار رہی لیکن ہیکس (دھوکہ دہی اُور فریب) کے درمیان کرپٹو کرنسیز کا کاروبار چلتا رہا۔ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں دھوکہ دہی کے حوالے سے دنیا دو واضح حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک حصہ ہر دھوکے کے لئے چین کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے جبکہ دوسرا گروہ امریکی Hackers کی جانب اُنگلیاں اُٹھاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کی کھوج‘ بندوبست اُور تخلیق کے بارے معلومات (پروٹوکولز) سے آشنا اِس کی خامیوں کا فائدہ اُٹھانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سال 2022ءکے پہلے تین مہینوں میں کرپٹو کرنسی کی چوری کے واقعات زیادہ پیش آئے جن کا مجموعی حجم 1.3 ارب ڈالر کے مساوی تھا جبکہ سال دوہزاربائیس کے اختتام پر ’سائبر کرائمز‘ کے عادی مجرموں نے مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی پر اعتماد کرنے والوں کے 3 ارب ڈالر چوری کئے ہیں اُور ظاہر ہے کہ سال 2023ءکے دوران کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کے رجحان میں کمی دیکھنے میں آئے گی کیونکہ جہاں اِس قدر چوری اُور دھوکہ دہی کا خطرہ ہو‘ وہاں کوئی بھی ذی شعور سرمایہ کاری کرنا پسند نہیں کرے گا۔

سال دوہزاربائیس کے دوران انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں 23 فیصد اضافے پر خوش ہونے کی بجائے اِس بات کو بھی دیکھنا چاہئے کہ انٹرنیٹ‘ سوشل میڈیا اُور بالخصوص کرپٹوکرنسی کے صارفین کیا خود کو زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں؟ اگر نہیں تو دنیا کو ’عالمی انٹرنیٹ‘ کی بجائے ’ملکی سطح پر محدود انٹرنیٹ‘ کی ضرورت ہے جو آن لائن سرگرمیوں کے لئے زیادہ محفوظ‘ قابل بھروسہ اُور زیادہ کارآمد ثابت ہو‘ یہی وہ ضروریات تھیں جن کے لئے انٹرنیٹ کو ترقی دیتے ہوئے ’ویب تھری پوائنٹ زیرو‘ متعارف کرایا گیا لیکن شاید ابھی انٹرنیٹ کے وسائل اِی گورننس اُور اِی لائف سٹائل جیسی پُرکشش مراعات کی شکل میں مشکلات کا ’یقینی حل‘ پیش کرنے سے بہت دور ہیں۔ ....

Sunday, June 21, 2020

Internet for entertainment alone!

حقیقت حال .... جو میں نے دیکھا!
پہلی حقیقت: 
کسی فلم یا ڈرامے کی کامیابی کا ’عالمی پیمانہ‘ باکس آفس (Box Office) کارکردگی یعنی کمائی (حاصل وصول) بارے جاری ہونے والے اعدادوشمار ہوتے ہیں کہ مذکورہ فلم یا ڈرامے نے خاص عرصے کے دوران کتنا ’بزنس‘ کیا۔ رواں ماہ (جون دوہزاربیس) کے دوران پاکستان میں ’نیٹ فلیکس (Netflix)‘ کے ذریعے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے دس (top-10) فلموں ڈراموں میں پہلے نمبر پر براجمان پولش (Polish) زبان میں بنایا گیا 114 منٹ دورانئے کا کھیل ہے‘ جس کی کہانی جرائم‘ منشیات‘ بے راہ روی‘ تشدد اُور جنسی تعلقات جیسے تخریبی موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ مذکورہ کھیل (ٹیلی فلم) کو پولش (پولینڈ کی سرکاری زبان) میں وہاں کے خاص حالات اُور ثقافت کی نمائندگی تو کرتا ہے اُور اُس معاشرے میں پائی جانے والی سوچ کو نئے زوایئے تو دیتا ہے لیکن اُسے انگریزی میں ترجمہ کر کے پاکستان جیسے ملک میں پیش کرنے کی ضرورت و منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک طرف حکومت کے ادارے (سنسربورڈ اُور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) موجود ہیں لیکن اُن کی اجازت کے بغیر غیرملکی مواد پاکستان میں صرف نشر ہی نہیں بلکہ فروخت بھی ہو رہا ہے لیکن کسی کی توجہ نہیں۔ افسوس کے ساتھ شرم کا بھی مقام ہے کہ ایک مسلمان اکثریتی معاشرے میں انگریزی ڈرامہ ’356 دن‘ جس کا اصل (پولش) نام 365 Dni ہے سرفہرست اُور مقبول ترین ہے! سات فروری (دوہزاربیس) کے روز پولینڈ میں پہلی مرتبہ نشر اُور انٹرنیٹ پر منحصر ’نیٹ فلیکس‘ کی وساطت سے دنیا بھر میں جاری (ریلیز) ہونے والے مذکورہ ڈرامے نے چار ماہ کے عرصے (بارہ جون دوہزاربیس تک) ’باکس آفس‘ پر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کمائے ہیں جو اِس پر اُٹھنے والی لاگت سے ہزاروں گنا زیادہ منافع ہے! ذہن نشین رہے کہ پانچ لاکھ سال پر محیط انسانی آبادی کی تاریخ رکھنے والا ملک ’پولینڈ‘ وسط یورپی میں واقع ہے اُور اِس کی سرحدیں شمال میں روس‘ مشرق میں بیلاروس اُور یوکرین‘ جنوب میں چیک ری پبلک جبکہ مغرب میں جرمنی سے ملتی ہیں اُور 27 یورپی ممالک میں معاشی ترقی و قومی پیداوار کے لحاظ سے پولینڈ چھٹے نمبر پر ہے‘ جہاں دیگر صنعتوں کی طرح ٹیلی ویژن اُور فلم کی صنعت قومی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے۔

دوسری حقیقت: 
ٹیلی ویژن کے ذریعے تفریح (اِنٹرٹینمنٹ) کیبل نیٹ ورک یا روائتی چھت پر لگے انٹینا کے ذریعے موصول ہونے والے چینلز کی حد تک محدود نہیں رہی بلکہ ثقافتی یلغار سیٹلائٹ (ڈش) اُور انٹرنیٹ کی مدد سے ترقی یافتہ اشکال میں سامنے آ چکی ہیں جن میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH)‘ آئی پی ٹیلی ویژن (IPTV) اُور مختلف قسم کے سی لائن (سرورز) شامل ہیں۔ پاکستان میں اِن سبھی وسائل سے مختلف ضرورتوں (فلمیں‘ ڈرامے‘ ناچ گانے‘ کھیل‘ معلومات اُور عالمی خبروں و تجزئیات) کے لئے استفادہ کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں ہزاروں یا لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے لیکن اِس سے حکومت نہ تو مالی طور پر خاطرخواہ فائدہ اُٹھا رہی ہے اُور نہ ہی غیرروائتی نت نئے طریقوں سے تفریح بذریعہ ٹیلی ویژن جیسے شعبے کو نظم و ضبط کا پابند (ریگولیٹ) کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی اپنی تاریخ و ثقافت اُور بالخصوص اِسلام کے بتائے ہوئے اَصولوں کے مطابق نظر‘ زبان‘ سماعت اُور خیالات کو آلودہ کرنے کی کھلم کھلا اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ لمحہ  فکریہ ہے کہ تفریح کے نام پر اُن اخلاقی اَقدار کو شکار کیا جا رہا ہے‘ جو کبھی اسلام اُور مشرقی روایات کے عنوان سے پاک و پاکیزہ معاشرت و سماجیات کا خاصہ سمجھا جاتی تھیں۔ اِس بات پر جس قدر بھی اَفسوس کا اظہار کیا جائے کم ہوگا کہ ہمارے فیصلہ سازوں کو تفریح کے نام پر سازش پر برائے نام جیسی تشویش بھی نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جدید رہائشی بستیوں میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں کے رہنے والوں ڈی ٹی ایچ‘ نیٹ فلیکس‘ آئی پی ٹی وی یا لائن سرور کے صارف نہ ہوں۔ ”وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا .... کارواں کے دل سے اِحساس زیاں جاتا رہا!“

تیسری حقیقت: 
انٹرنیٹ کے ذریعے تفریحی مواد تک رسائی مختلف طریقوں سے ہو رہی ہے‘ جس میں سب سے پہلا براہ راست تعلق ہے جس میں کوئی بھی صارف ویڈیو بلاگنگ کی لاکھوں ویب سائٹس میں سے اپنے ذوق و پسندیدگی اُور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے چند ایک کا انتخاب کرتا ہے اُور جہاں کچھ نشریاتی مواد بلاقیمت (مفت) فراہم کیا جاتا ہے تاکہ صارفین عادی ہو جائیں اُور پھر اُن کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید مواد دیکھنے کی ’رعائتی پیشکش‘ کی جاتی ہے اُور اِس کی مقررہ قیمت اَدا کرنے کے لئے جن ممکنہ ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے اُن میں موبائل فون کمپنیاں بھی حصہ دار (برابر کی شریک) ہیں جو صارفین کو گھر بیٹھے بیرون ملک ادائیگیاں کرنے جیسی سہولت فراہم کر رہی ہیں اُور یوں ماہانہ اربوں روپے تفریح برائے تفریح (گناہ ¿ بے لذت) کی نذر ہو رہے ہیں!

چوتھی حقیقت:
دنیا جاگ اُٹھی ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے صرف سماجی سرگرمیاں ہی محدود کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر تعلیمی اداروں کی بندش اُور اِس سے ہونے والے تعلیمی حرج کو کم سے کم کرنے کے لئے اِنٹرنیٹ (آن لائن) وسائل (فاصلاتی درس و تدریس) سے اِستفادہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کی صورتحال یکسر مختلف (اُلٹ) ہے کہ غربت زیادہ ہونے کی وجہ سے طلبا و طالبات کی اکثریت کے پاس کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ‘ موبائل فون یا ٹیبلٹ نہیں اُور جن کے پاس یہ وسائل اُور سہولیات ہیں تو وہ بھی اِس سے اصل ضرورت یعنی تعلیم کے لئے استفادہ نہیں کر رہے کیونکہ ایک طرف رہنمائی اُور تربیت کا فقدان ہے تو دوسری طرف سینئر اساتذہ کی بڑی تعداد بشمول نجی تعلیمی اداروں کی اِنتظامیہ (مالکان) ’اِنفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے بنیادی استعمال سے متعلق خاطرخواہ ہنرمند نہیں! لمحہ ¿ فکریہ ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے پیدا ہونے والی فرصت کے باعث پاکستان میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں کئی ہزار گنا اضافہ ہوا ہے اُور یہ اضافہ دنیا بھر میں دیکھنے کو ملا ہے تاہم پاکستانی انٹرنیٹ سے خاص استفادہ مختلف انداز سے کرتے ہوئے اکثریت کے لئے انٹرنیٹ تفریح کا ذریعہ جبکہ دنیا بھر میں جوابدہ اُور شفاف طرزحکمرانی کے علاو ¿ہ یہی انٹرنیٹ عوامی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا رہا ہے! تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث تعلیم اُور تربیت کی ذمہ داری والدین کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ کیا کوئی شخص اپنے بچوں کو کسی ایسے پانی کے تالاب میں دھکا دینا پسند کرے گا جس کی گہرائی کے بارے میں اُسے صرف اتنا معلوم ہو کہ وہ معلوم نہیں؟

اِنٹرنیٹ کی دنیا گہرائی‘ وسعت اُور اِمکانات کے لحاظ سے عمودی اُور افقی لحاظ سے لامحدود ہے۔
قابل افسوس بات یہ ہے کہ اِس حقیقت کا ادراک رکھنے والوں میں شامل والدین‘ اساتذہ‘ ماہرین تعلیم‘ ذرائع ابلاغ‘ مذہبی و سیاسی رہنماو ں اُور قومی سطح پر سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے تجاہل عارفانہ اختیار کر رکھا ہے جبکہ خودکشی پر آمادہ نئی نسل کو غیرتحریری اُور غیرشعوری طور پر ایک ایسے دریا میں دھکیل دیا گیا ہے‘ جس کا کوئی کنارہ نہیں!
اِک اُور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا‘ تو میں نے دیکھا! (منیر نیازی)
........
Clipping from Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday 
Editorial Page Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday

Saturday, September 10, 2016

Sept2016: Terrorism & Communication as threat!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شکست و ریخت!

تحریک طالبان پاکستان نے اگست 2016ء میں بنائے گئے اپنے نئے ’ٹوئٹر اکاونٹ (@umarmediattp016)‘ سے پیغام رسانی شروع کر دی ہے۔ 9 ستمبر کی صبح نماز فجر اور یقیناًوظائف سے فارغ ہونے کے بعد umar.media.ttp@gmail.comسے اِی میل پیغام (فرمان) جاری ہوتا ہے۔ آسان اور جامع الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے انگریزی زبان میں دہشت گرد وارداتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فخریہ لہجے میں کوئی کہہ رہا ہے کہ ’’تحریک طالبان کے خصوصی دستے‘ نے پشاور اُور کراچی میں پولیس پر ’کامیابی سے حملے‘ کئے ہیں!‘‘ سوال یہ ہے کہ اگر عسکریت پسند شہروں اور دیہی علاقوں میں بھیس بدل کر روپوش ہیں اور گوریلا حملوں کے ذریعے دنیا کی 13ویں بڑی‘ منظم اُور پیشہ ور فوج کو مستقل چیلنج کئے ہوئے ہیں‘ تو آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کا زمینی مقابلہ تو ممکن نہیں لیکن اُن کی فنڈنگ‘ افرادی قوت اور اُن کے سہولت کار ’نیٹ ورکس‘ کو ختم نہیں کیا جا سکتا؟ 

انٹرنیٹ وسائل کا آزادانہ اور بناء خوف و خطر استعمال کرنے والوں کی ’آن لائن سرگرمیاں‘ نہ روکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف پورا ملک اور اُس کے لامحدود وسائل ہونے کے باوجود ’اب تک‘ اُن ’اکاونٹس‘ اُور ’کیمونیکشن ونگ (رابطہ کار افرادی قوت)‘ کی صلاحیت (دیدہ دلیری) پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا جو زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں؟ 

ہمارے خفیہ ادارے بشمول جدید آلات اور ماہرین سے لیس ’سائبر ونگ‘ آخر کب اپنی موجودگی کا ثبوت دیں گے؟ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں تک اگر اُن کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ کے ذریعے نہیں پہنچا جا سکتا اُور ہمارے سیکورٹی اداروں کے ’سائبر ونگز‘ نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں تو کم سے کم اُن ’اِی میل‘ ٹوئٹر اُور ’فیس بک‘ اکاونٹس کو بلاک (block) تو کیا جاسکتا ہے‘ جو پاکستان دشمن پراپگنڈا یا دہشت گردوں کے ’کارناموں‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں؟

پہلی ذمہ داری: سیکورٹی حکام یہ کہہ کر اپنے فرائض سے ’گلوخلاصی‘ نہیں کرسکتے کہ افغانستان کی سرزمین اور مواصلاتی سہولیات (انٹرنیٹ) کا استعمال ہو رہا ہے۔ اگر طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر سے آمدورفت کو کنٹرول (باقاعدہ و باضابطہ) بنایا جاسکتا ہے تو ’آن لائن ٹریفک‘ کی ’باریک بیں نظر اور مؤثر نگرانی‘ انٹرنیٹ کی واجبی سی معلومات رکھنے والے بھی کرسکتے ہیں۔ 

دوسری ذمہ داری: ہر خاص و عام ہوشیار رہے کہ وہ اپنے گھروں میں لگائے ہوئے ’ہاٹ سپاٹس (وائی فائی انٹرنیٹ)‘ کسی بھی صورت نہ تو ’بناء پاس ورڈز‘ رہنے دیں اور نہ ہی اہل خانہ کے علاؤہ کسی بھی دوسرے شخص سے ایسی معلولات کا تبادلہ کریں جو ’حساس‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر گھر میں مہمان آئیں اور وائی فائی پاس ورڈ مانگیں تو یقین کرلیں کے اُن کی رخصتی کے فوراً بعد یا پہلی فرصت میں ’وائی فائی پاس ورڈ‘ تبدیل کردیا جائے۔ وائی فائی پاس ورڈ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے چھ ہدایات ذہن نشین کر لیں۔ 1: اپنی ڈیوائیس ’ڈبلیو پی اے انسکپرشن (WPA2)‘ پر سیٹ کریں۔ 2: پاس ورڈ کسی بھی صورت 10ہندسوں سے کم نہ ہو۔ 3: پاس ورڈ میں الفاظ ہندسے اور خصوصی کریکٹرز کو شامل کریں۔ 4: سٹینڈرڈ ’ایس ایس آئی ڈی SSID‘ کا استعمال نہ کریں۔ 5: اپنی ذاتی معلومات SSID پر نہ رکھیں۔ 6: وائی فائی ڈیوائس کی لہریں (ایکسیس) کم سے کم یعنی اپنے گھر تک محدود رکھنے کے لئے اینٹینا ایڈجسٹمنٹ کی جاسکتی ہے جو جدید آلات میں باآسانی ممکن ہے۔ کھلے عام ’وائی فائی ہاٹ سپاٹ‘ رکھنے کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین نہ صرف جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ نادانستہ طور پر ایک ایسے مستقل خطرے سے بھی دوچار ہیں‘ جس کی سنگینی کا انہیں ادراک نہیں۔ عموماً ہوٹلوں‘ کیفے اور دیگر پبلک مقامات پر ’اوپن وائی فائی‘ رکھا جاتا ہے‘ دہشت گردوں کے زیراستعمال انٹرنیٹ کو دیکھتے ہوئے اِس سہولت پر اُس وقت تک پابندی عائد ہونی چاہئے جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ جعلی یا بناء شناخت موبائل فون کنکشنز آج بھی موجود ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے مالی فائدے کے لئے پورے ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ 

موجودہ ہنگامی حالات کا تقاضا ہے کہ ’پری پیڈ‘ اضافی خدمات کی بجائے پاکستان میں صرف اور صرف ’پوسٹ پیڈ موبائل کنکشنز‘ دیئے جائیں‘ تاکہ بلنگ کے ذریعے صارف کی رہائش کے مقام کا تعین ہوسکے۔ 

افغانستان یا دیگر ممالک کے موبائل فون کنکشنز کی ’رومنگ (Roaming)‘ معاہدے بھی اُس وقت تک معطل رکھے جائیں‘ جب تک سیکورٹی حالات اِس کی اجازت نہیں دیتے۔ 

پاکستان حالت جنگ سے گزر رہا ہے‘ جس میں عسکریت پسندوں کے مواصلاتی رابطے نہ صرف دہشت گردی کی منظم و مربوط کاروائیوں کو ممکن بنا رہے ہیں بلکہ اِنہی کے ذریعے وہ جس کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں درحقیقت وہ ہمارے سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا بیان ہیں۔ کیا ہم نے دل سے شکست تسلیم کر لی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, August 14, 2015

Aug2015: Electronic Crimes Bill - A dilemma

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اَندھا دُھند جہالت!
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک اجلاس کا مشاہدہ وقت کا ضیاع ثابت نہیں ہوا۔ یخ بستہ ایوان میں اِن دنوں ’’الیکٹرانکس کرائمز بل 2015ء‘‘ کو حتمی شکل دینے کے لئے تجاویز پر غور کا عمل جاری ہے اُور اجلاس کے دوران ایک موقع پر حکمراں نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی طاہر اقبال نے انکشاف کیا کہ ’’دہشت گرد تنظیمیں اپنے نفرت انگیز خیالات (ایجنڈے) کو فروغ دینے کے لئے کم و بیش تین ہزار ویب سائٹس چلارہی ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ دہشت گردی کے خلاف ’قومی ایکشن پلان‘ میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وفاقی حکومت ایسی معاون قانون سازی کرے گی‘ جس میں دیگر جرائم کی طرح ’الیکٹرانک جرائم‘ کرنے والوں پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکے لیکن رکاوٹ اراکین قومی اسمبلی کی سمجھ بوجھ تھی‘ جو ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے اَمور سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے اور یہی وجہ رہی کہ قانون سازی کے اس مرحلے میں سب سے مشکل کام قائمہ کمیٹی کے اراکین کی اُس رائے کو تبدیل کرنا ہے جو ٹیکنالوجی سے متعلق وہ رکھتے ہیں۔ اس طرح کی قانون سازی متعلقہ محکمے پہلے ہی کرلیتے ہیں‘ جس میں ہمسایہ ممالک کے قوانین سے نقل کی گئی شقیں الفاظ بدل کر شامل کر لی جاتی ہیں۔ کمیٹی ماہرین کو بھی طلب کرتی ہے اور پھر جب ماہرین بولتے ہیں تو اُن کا منہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھا جاتا ہے کہ یہ کیا ارشاد فرما رہے ہیں! جب افغان موبائل فون کنکشنوں کے پاکستان میں استعمال (رومنگ) پر پابندی عائد کرنے کا معاملہ زیرغور تھا تب بھی ایسی ہی ایک ایوان بالا کی کمیٹی کے اجلاس میں آخری وقت تک ’رومنگ‘ سمجھنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ حالانکہ وہ ایک سیدھا سادا مسئلہ تھا اور محض چند کمپیوٹر کمانڈز کی مدد سے ایسے تمام موبائل فون کنکشن بند کئے جا سکتے تھے جو پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کے ذریعے تصدیق نہیں رکھتے لیکن موبائل فون کمپنیوں کی لابنگ زیادہ مؤثر ثابت ہوئی!

’الیکٹرانک کرائمز بل‘ پر غوروخوض کے مرحلے پر جب یہ بات سامنے آئی کہ گمنام دہشت گرد کم و بیش تین ہزار ویب سائٹس کا اِستعمال کر رہے ہیں تو شرکاء نے اِس بیان اور تعداد پر یقین کرتے ہوئے آنکھیں پھیلا کر حیرت کا اظہار کیا‘ حالانکہ یہ دعویٰ سائنسی طورپر مصدقہ نہیں۔ اگر ہم سماجی رابطہ کاری کے وسائل ہی کو دیکھیں تو ایسے چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں اکاونٹ (کھاتے) ملیں گے جو عسکریت پسندوں‘ انتہاء پسندوں‘ دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے پیغامات کی تشہیر کر رہے ہیں۔ صحافیوں کو لاتعداد کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسندوں کی جانب سے بیانات بذریعہ ای میل وصول ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہر ایک کی طرح عسکریت پسند بھی انٹرنیٹ کا پوری آزادی و حسب سہولت استعمال کر رہے ہیں‘ حتیٰ کہ موبائل فون کنکشنوں کی بجائے انٹرنیٹ ٹیلی فون (آئی پی) کالز کی جاتی ہیں۔ پیغامات کا تبادلہ بھی فیس بک‘ واٹس ایپ‘ وائبر‘ سکائپ اُور دیگر کئی ایسی ایپلیکیشنز (Apps) کے ذریعے ہوتا ہے‘ جو نسبتاً غیرمعروف ہیں۔ ایسے موبائل سافٹ وئر بھی دستیاب ہیں جن کی واجبی سی قیمت ہے اور اِن کے ذریعے کئی افراد رازداری سے تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں! افسوس کہ جس تیزی سے سماج دشمن عناصر نے ’انٹرنیٹ‘ رابطہ کاری سے فائدہ اُٹھایا‘ اتنی مستعدی کا مظاہرہ حکومت کی جانب سے نہیں ہو سکا۔ موبائل فون کمپنیوں کو اپنے منافع سے غرض ہے اور وہ کسی بھی ایسی تحریک یا ضرورت کی اہمیت کو محسوس نہیں کر رہیں جس کا تعلق پاکستان کی سالمیت یا امن و امان کے حوالے سے درپیش خطرات سے ہو!

قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کے اراکین متعدد جرائم اور سزاؤں کا ایک‘ ایک کرکے جائزہ لے رہے ہیں‘ جن پر کمیٹی میں شامل حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین‘ وکلأ‘ غیرسرکاری تنظیمیں (این جی اوز) اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے متعدد اداروں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بات ’قومی سلامتی‘ کی ہو رہی ہوتی ہے تو ہمارے اراکین اسمبلی کی تقسیم ’حکومت اُور حزب اختلاف‘ کے طور پر کیوں ہوتی ہے؟ قانون سازی کے مرحلے قانون سازوں کی ترجیحات سازی اور بحث و مباحثہ میں سیاسی وابستگیوں کا رنگ کیوں غالب دکھائی دیتا ہے۔ ’’تعمیر وطن کے لئے سرجوڑ کر نکلو۔۔۔تخریب کے ہر پہلو سے منہ موڑ کے نکلو۔‘‘ الغرض جرائم چاہے الیکٹرانک ہوں یا روائتی‘ اِن کے بارے میں ’قانون سازوں کی رائے الگ الگ (منقسم) نہیں ہونی چاہئے‘ اُور یہ ہدف حاصل کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) کلیدی کردار اَدا کر سکتا ہے۔ اخبارات بلاناغہ ٹیکنالوجی کے خصوصی ضمیمے شائع کریں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کو روزمرہ زندگی کے مسائل اور اُن کے حل سے متعلق غوروفکر اُور تحقیق پر مبنی مضامین تحریر کرنے کے لئے ’اُکسایا‘ جائے۔ مضمون
نویسی سمیت ٹیکنالوجی کے موضوعات اِدارتی پالیسی کا مستقل حصہ ہونے چاہیئں۔

نوجوان نسل جس ’اَندھا دھند انداز میں جہالت کی پیروکار‘ بنی ہوئی ہے‘ اس کی مذمت نہیں بلکہ رہنمائی کا انتظام ہونا چاہئے۔ ’فیس بک‘ کا مفید استعمال بھی تو ممکن ہے۔ اِس کے ذریعے معاشرے کی اصلاح اور نوجوانوں کو تعمیری قول و فعل کی تربیت بھی تو دی جا سکتی ہے۔ درس و تدریس کا عمل سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کے ذریعے بھی تو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے شرکاء کی جانب سے ’الیکٹرانکس کرائمز‘ کے مسودۂ قانون میں درج جرائم اور سزاؤں پر جاری تبادلۂ خیال میں نفرت انگیز تقاریر‘ شناخت کا غلط استعمال‘ غیر قانونی مداخلت اور دیگر امور شامل تھے۔ سب جانتے ہیں کسی بھی فرضی (جعلی) نام و شناخت سے ایک دو نہیں بلکہ درجنوں اور سینکڑوں ’اِی میل کھاتے (اکاونٹ)‘ کھولنا کس قدر آسان و ممکن ہے۔ اسی طرح کسی فرد کے وقار کے خلاف جرائم‘ سائبر اسٹاکنگ‘ اسپامنگ‘ سپوفنگ‘ ڈیٹا ٹریفک میں رکاوٹ اور انفارمیشن سسٹم میں خفیہ اِداروں کی رسائی‘ کسی ایک یا زیادہ اِی میل اَکاؤنٹس کی نگرانی یا اُن تک رسائی ختم (بلاک) کرنا وغیرہ پر بھی تفصیلی بات چیت ہونی چاہئے۔اُمید ہے کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس یعنی اٹھارہ اگست کو یہ مسودۂ قانون کسی حتمی شکل کی صورت سامنے آ جائے گا۔ طریقۂ کار کے مطابق جب کوئی مسودہ قانون ذیلی کمیٹی میں ترتیب پا جائے تو اُسے ’قومی اسمبلی‘ میں منظوری کے لئے پیش کیا جاتا ہے تاہم ضرورت اِس امر کی ہے کہ (قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کرنے سے قبل) اِس مجوزہ قانون کو بذریعہ ویب سائٹ مشتہر کیا جائے تاکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اپنے اپنے نکتۂ نظر سے اِس کا جائزہ لے سکیں۔ الیکٹرانک جرائم سے متعلق نیا قانون اگر موجودہ شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو اس سے انٹرنیٹ صارفین کے حقوق محدود جبکہ چند ریاستی اداروں کے اختیارات لامحدود ہو جائیں گے۔ یہ بل (موجودہ شکل میں) تفتیشی انتظامیہ کو لامحدود اختیارات دیتا ہے اور اس سے شہری حقوق سے محروم ہوسکتے ہیں۔ دوران بحث ایک مرحلے پر یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اِس بل کو چالیس سے 13 صفحات تک محدود کیا گیا ہے اُور اِس سے ’اِنسانی حقوق‘ سے متعلق نکات نکال دیئے گئے ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین ہی کی نہیں بلکہ دیگر تمام ’ایم این ایز‘کی بھی ہے کہ وہ قانون سازی کے جملہ مراحل میں دلچسپی لیں۔ کسی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی سمیت بطور مبصر کوئی بھی شخص شریک ہو سکتا ہے اور اجازت ملنے پر اظہار خیال بھی کرسکتا ہے۔ خود کو متعلقہ یا غیرمتعلقہ سمجھنے والے جملہ اراکین قومی اسمبلی کو اپنی حیثیت سے جڑے فرائض کا ادراک کرنا ہوگا کہ بھلا ایسے کسی قانون کی اہمیت کس قدر ہوسکتی ہے‘ اُسے کتنا سراہا اور واجب الاحترام سمجھا جا سکتا ہے‘ جو انسانوں پر لاگو ہو‘ لیکن اس کی ساخت میں انسانی حقوق کو کم ترین ترجیح دی گئی ہو!؟

Wednesday, June 3, 2015

Free Internet

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مفت انٹرنیٹ
سماجی رابطہ کاری کے ذریعے خبروں پر تبصرے ہوں یا گردوپیش کے حالات و واقعات کا ایک دوسرے سے تبادلہ‘ انٹرنیٹ کی بدولت تفریح سے لیکر اظہار کے وسیلوں تک ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔ یہاں تک کہ طرز حکمرانی میں اصلاحات‘ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عام انتخابات میں قابل یقین و بھروسہ شفافیت متعارف کرانے کے لئے بھی انٹرنیٹ سے کہیں استفادہ تو کہیں اِس کے بارے غوروخوض جاری ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی مقررہ قیمت ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ایسے افراد میں بڑی تعداد طلباء و طالبات کی ہے جو عموماً ایک انٹرنیٹ کنکشن کے بل کو آپس میں تقسیم کرکے سست رفتار انٹرنیٹ سے اپنا شوق یا تحقیق کی ضرورت پورا کرتے ہیں۔

 عالمی سطح پر ’انٹرنیٹ‘ کو پانی‘ ہوا اُور خوراک کی طرح کرہ ارض پر رہنے والے باشعوروں کے لئے ایک بنیادی ضرورت قرار دیا جاتاہے اور یہی وجہ ہے کہ دو طرح کی تحاریک چل رہی ہیں۔ ایک تحریک انٹرنیٹ کو مفت فراہم کرنے کی وکالت کرتی ہے اور دوسری تحریک انٹرنیٹ پر حکومتوں کے کنٹرول اور کسی بھی وجہ سے سے سنسر (پابندیوں) کی مخالف ہے۔ اِن دونوں تحاریک کی وجہ سے کئی ایک تبدیلیاں آئی ہیں‘ جن میں سرفہرست انٹرنیٹ صارفین کے حقوق ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ موضوعات ’تعارف‘ سے بھی محروم ہیں کیونکہ ایک تو نصاب تعلیم میں نئے موضوعات داخل کرنا ممکن نہیں۔ دوسرا ٹیکنالوجی کے ساتھ اخبارات و جرائد کا رویہ بھی ظالمانہ ہے اور اگر ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ لکھا جاتا بھی ہے تو وہ نت نئے ایجادات کی خبریں ہوتی ہیں کہ فلاں کمپنی نے نیا موبائل ایجاد کر دیا‘ جس کی ان گنت خوبیاں گنوا دی جاتی ہیں!

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو جن مشکلات کا سامنا رہتا ہے‘ ان کی موجودگی میں میں Internet.org کے ذریعے مفت انٹرنیٹ خوشگوار تو ہے لیکن اس کے ساتھ کئی ایک ’لیکن‘ بھی جڑے ہوئے ہیں‘ جنہیں استعمال سے قبل اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ مفت انٹرنیٹ کے حوالے سے پاکستان پہنچنے والا جدید ترین تصور یہ ہے میں ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ کسی بھی صارف کو مختلف ویب سائٹس تک رسائی دے گا لیکن یہ ویب سائٹس اشتہارات سے بھری ہوں گی اور جو صارف اِن کا استعمال کریں گے اُن کے بارے میں معلومات اور رجحانات کی کہیں نہ کہیں نگرانی ہو رہی ہوگی۔ جو صارفین انٹرنیٹ پر بہت زیادہ پیسے خرچ نہیں کر سکتے‘ یہ ان کے لئے تو سہولت ہے لیکن صرف انٹرنیٹ تک رسائی ہی کو کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اہم بات یہ بھی ہے کہ آن لائن ہوتے ہوئے آپ کا ڈیٹا (الفاظ‘ تصاویر‘ ویڈیوز وغیرہ) کس قدر محفوظ ہیں۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کی رہنمائی کی بہت ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کی سطح پر ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ کے بارے میں آگہی مہمات چلائی جائیں۔ اساتذہ خود بھی سمجھیں اور طلباء و طالبات کی رہنمائی بھی کریں تاکہ وہ انجانے میں غلطی نہ کر بیٹھیں۔ مثال کے طور پر ’انٹرنیٹ اُو آر جی‘ کے ذریعے جن ویب سائٹس یا ایپلی کیشنز تک رسائی مفت دی جائے گی وہ سیکورٹی کی بنیادی شرط SSL کے بغیر ہوں گے مطلب یہ ہے کہ آپ کے پیغامات‘ تصاویر اور دیگر تمام ڈیٹا (کوائف‘ امور معلومہ) خفیہ نہیں ہوگا بلکہ آپ اور آپ کے دوستوں یا عزیزواقارب کے علاؤہ غیر متعلقہ بہت سے دیگر لوگ بھی آپ کے ڈیٹا کو دیکھ رہے ہوں گے۔ تصور کریں کہ آپ انٹرنیٹ پر اپنی پسندیدہ ٹی وی سیریز یا میوزک ویڈیو دیکھ رہے ہیں اور جب بھی آپ اس پر کلک کرتے ہیں تو آپ کا انٹرنیٹ کنکشن کافی حد تک سست ہو جاتا ہے۔ آپ اسکائپ‘ گوگل ہینگ آؤٹ کھولتے ہیں اور جیسے ہی ’کال‘ پر کلک کرتے ہی انٹرنیٹ کی کوالٹی اتنی خراب ہوجاتی ہے کہ آپ بمشکل ہی بات کر پاتے ہیں۔ کیا یہ امر پریشان کن ہے؟ یہ وہ چند امور ہیں جن کی حوصلہ افزائی ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ نامی تصور کر رہا ہے۔

مستقبل قریب میں ایسے کئی ایک دیگر پلیٹ فارمز بھی متعارف ہونے والے ہیں اور چونکہ ’مفت‘ کا ’لاحقہ‘ لگا ہوتا ہے اِس لئے ہمارے نوجوان اس کی جانب تیزی سے راغب ہو جاتے ہیں!

ذہن نشین رہے کہ انٹرنیٹ کی موجودہ شکل ترقی یافتہ نہیں بلکہ یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایسے بہت سے صارفین ہیں جنہوں نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کے استعمال سے ’آن لائن عملی زندگی کا آغاز‘ کیا لیکن چند برس بعد ہی اُکتا گئے۔ سبب یہ ہے کہ ہم ’ویب سائٹس‘ کے سطحی و عمومی استعمال سے زیادہ آگے نہیں بڑھتے۔ دوسری اہم بات سمجھنے لائق یہ ہے کہ اگلی ایک دہائی میں جو ایک ارب لوگ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کریں گے‘ انہیں بڑے کاروباری و تجارتی ادارے اور حکومتیں اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہیں گی۔ چاہے کوئی صارف انٹرنیٹ کی قیمت ادا کرنے کی سکت رکھتا ہو یا وہ اسے مفت استعمال کر رہا ہو‘ آنے والے دنوں میں سب کچھ حکومتوں کے کنٹرول میں ہوگا‘ اور یہی دنیا کا مستقبل ہے‘ جس میں طرز غلامی کو آزادی اور آزادی کے ساتھ غلامی رہے گی۔ نہ کوئی کلی طور پر غلام ہوگا اور نہ ہی آزاد! ادارے اور حکومتیں پہلے ہی پوشیدہ طور پر انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا (امورمعلومہ) استعمال کر کے منافع کما رہی ہیں یا مکمل طور پر کنٹرول چاہتی تھیں۔ اب ہم کس طرح آپسی رابطے کرتے ہیں‘ یہ فیصلہ بھی جلد ہی ہمارے بس میں نہیں رہے گا!
Nothing is free in the world

Thursday, April 23, 2015

Apr2015: E-Governance without Internet, impossible!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مستعد طرزِعمل
اصلاح پسند خیبرپختونخوا حکومت جن خباثتوں سے پاک نئے طرز حکمرانی اور عہد کی تشکیل کے لئے پرعزم و پرجوش ہے اُس میں ’انٹرنیٹ‘ کے ذریعے رابطہ کاری کے وسائل سے استفادے کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔ طرزحکمرانی میں جدت(اصلاح)‘ علاج معالجے اور درس تدریس کے شعبوں میں انٹرنیٹ کا استعمال‘ حتیٰ کہ اِسی کی بنیاد پر مستقبل میں شفاف عام انتخابات کے انعقاد پر ماہرین تحقیق اپنی جگہ لیکن پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بالخصوص دور دراز علاقوں میں برق رفتار انٹرنیٹ تک رسائی ممکن بنانا اشد ضروری ہے کیونکہ ارباب اختیار کو اِس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ احتساب ہو یا انٹرنیٹ‘ اگر دونوں کی رفتار سست ہوگی تو وقت گزرنے کے ساتھ اِس سے ادویات کا مرض کے خلاف مزاحمتی کردار کمزور ہوتا چلا جائے گا!

سوال یہ بھی ہے کہ ’انٹرنیٹ کے وسائل سستے کب ہوں گے؟‘ ایک طرف حکومتی ادارے کی ’انٹرنیٹ بینڈوتھ‘ پر اجارہ داری ہے تو دوسری طرف نجی ادارے تھری جی اور فور جی موبائل ٹیکنالوجی کو موبائل فون ہی کی حد تک محدود نہیں رکھنا چاہتے اُور اُنہوں نے ایسے آلات کی فروخت شروع کر دی ہے جن سے بناء موبائل فون بھی انٹرنیٹ کا ’وائی فائی‘ استفادہ ممکن ہوسکتا ہے اور حکومت کے مقرر کردہ نرخ کے مقابلے ایک گھریلو صارف کو 20گیگابائٹ (جی بی) تک کا ماہانہ ڈیٹا پلان پندرہ سو روپے کا ملتا ہے جس کی رفتار حکومتی ادارے کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے! کہیں ایسا تو نہیں کہ سرمایہ پرست طبقہ اِس پورے کھیل کو بنائے ہوئے ہو‘ جس میں حکومت کی بجائے نجی اداروں کے مفاد کا زیادہ خیال رکھا جا رہا ہے؟ حال ہی میں چین کے صدر کی پاکستان آمد اور پھر اربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں میں ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کا ذکر تو ملتا ہے لیکن انٹرنیٹ کے تیزرفتار وسائل کی وسعت کے لئے خاطرخواہ اقدامات یا اعلانات سننے میں نہیں آرہے ہیں۔ یاد رہے کہ عالمی مارکیٹ میں ہر گزرتے سال کے ساتھ ’انٹرنیٹ بینڈوتھ‘ کے دام کم ہوتے جا رہے ہیں جس کا اعدادوشمار میں بیان کیا جائے تو یہ تناسب سالانہ تقریباً پچیس سے پینتیس فیصد بنتا ہے۔ رواں برس عالمی مارکیٹ میں فی گیگابائٹ ڈیٹا ٹرانسفر کی قیمت پاکستانی کرنسی میں 64 روپے بنتی ہے۔ عام صارف کو بارہ سو پچاس روپے ماہانہ میں ملنے والا ایک ایم بی پی ایس کی بجائے آٹھ ایم بی پی ایس (میگا بائٹس فی سیکنڈ) کا انٹرنیٹ کنکشن ملنا چاہئے جبکہ ایک ایم بی پی ایس کی قیمتِ زیادہ سے زیادہ دو سو روپے ہونی چاہئے تھی! پاکستان میں جس قیمت پر ایک ایم بی پی ایس کا کنکشن دستیاب ہے‘ اسی قیمت یا اس سے کچھ زیادہ پر ہمسایہ ملک بھارت میں صفِ اول کی کمپنیاں چار سے سولہ ایم بی پی ایس تک کے کنکشن فراہم کر رہی ہیں! ان پیکجز میں ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ کی ایک حد مقرر ہوتی ہے لیکن کیا پاکستان میں اتنی کم قیمت پر اتنی بہترین رفتار کا انٹرنیٹ میسر ہے؟ پاکستان بھر میں ڈھائی کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں‘ جن میں نصف سے زیادہ تعداد یعنی ڈیڑھ کروڑ افراد انٹرنیٹ کا بذریعہ موبائل فون کے ذریعے ہرجگہ سے آن لائن ہو سکتے ہیں۔ ڈھائی کروڑ انٹرنیٹ صارفین میں سے صرف کم و بیش چھ فیصد پاکستانی تیز اور بلاتعطل انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔ کیا یہ عجب نہیں کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی کل تعداد کا صرف چھ فیصد ہی مطمئن ہو! اگر ہم اٹھارہ یا اُنیس کروڑ کی آبادی کا تناسب نکالیں تو کل 13 فیصد پاکستانی انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں اور اس لحاظ سے پاکستان انٹرنیٹ صارفین کی تعداد کے لحاظ سے 161ویں نمبر پر ہے! خطے کے دو ممالک افغانستان اور بنگلہ دیش ہی ہم سے پیچھے ہیں۔

ہمارا مسئلہ ’بھیڑ چال‘ کا بھی ہے۔ اگر کسی ایک صوبے میں ’طلباء و طالبات کو لیپ ٹاپ‘ دیئے گئے تو بجائے اپنے معروضی حالات کو مدنظر رکھنے کے ہم نے بھی مقبولیت کا وہی انداز اپنایا‘ جس کے خاطرخواہ نتائج اِس لئے برآمد نہیں ہوسکتے کیونکہ بناء کم قیمت‘ مستعد و مستحکم انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن نہیں بنایا جاتا اُس وقت تک انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کسی بھی شعبے میں ’ای گورننس‘ متعارف سے پوری طرح فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکے گا۔ قبل ازیں انہی سطور کے ذریعے خیبرپختونخوا کے مرکزی شہروں کو مکمل یا جزوی طور پر ’وائی فائی ہاٹ سپاٹ‘ بنانے کی تجویز دی گئی ہے جس سے شعبۂ تعلیم میں سب سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جا سکتاہے کیونکہ اگر گھر گھر استاد کو بھیجنے سے بیچارہ معلم تھک کے ٹوٹ جائے گا لیکن اگر گھر گھر وائی فائی کے ذریعے طلباء و طالبات ایک ایسے وسیلے سے جڑے رہیں جہاں چوبیس گھنٹے معلم ’حاضر جناب‘ رہیں تو شرح خواندگی کے ساتھ علوم کی منتقلی‘ رہنمائی اور تحقیق کے شعبوں میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھا جاسکے گا۔

بناء ترجیحات اہداف کسی کام کے نہیں اور نہ ہی اہداف بناء ترجیحات کی تشکیل سے کوئی مقصد حاصل کیا جا سکے گا۔ ہمیں کچھ ایسے ٹرینڈز (مستعد طرزعمل) اختیار کرنے کو پیش نظر رکھنا ہوگا‘ جو نوجوانوں کی دلچسپی‘ اُن کے عمومی و خصوصی رجحانات (ٹیکنالوجی دوست روئیوں) اُور عالمی سطح پر رابطہ کاری کے لئے اختیار کئے جانے والے وسائل پر اعتماد کا کھلا اظہار ہیں۔ ٹیکنالوجی ہی کی برکات سے خلائیں تسخیر اور زمین کی تہہ میں چھپے خزانوں کا حجم معلوم کر لیا جاتا ہے۔ دوراندیشی متقاضی ہے کہ نیند کی حالت میں نقل و حرکت اُور بول چال کی لاحق بیماری کا علاج کروایا جائے‘ جس سے متاثرہ افراد میں نہ تو بصیرت شرط ہے اُور نہ ہی بصارت!

Internet need to be cheaper and speedy for e-revolution