Showing posts with label Entertainment. Show all posts
Showing posts with label Entertainment. Show all posts

Monday, February 7, 2022

Fading entertainment: Film, Cinema, Culture and Censorship

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

فلم و ڈرامہ : تفریح و ثقافت

اگست دوہزارتیرہ: محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا نے پشتو میں بنائی گئی 5 فلموں کی صوبے کے کسی بھی حصے میں نمائش نہ کرنے سے متعلق ایک ناقابل فہم پابندی کا اعلان کیا‘جبکہ پشتو کی سبھی فلموں میں کم و بیش ایک جیسا مواد ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ فلم کی کہانی (روداد) جو بھی ہو لیکن اِس میں ایک خاص تناسب سے تشدد‘ اسلحے کا استعمال‘ موسیقی‘ رقص‘ ذو معنی مزاحیہ جملے (ڈائیلاگ) اُور کردار چست کپڑوں کا استعمال فلم شائقین کے ذوق و شوق کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بہرحال پابندی کا شکار ہونے والی پانچ مجموعات میں زما اَرمان (میری خواہشات)‘ بھنگی لیلی (نشے کی لت)‘ لوفر (لااُبالی‘ کسول کردار)‘ شرط اُور قربانی نامی فلمیں شامل تھیں‘ جن میں ’زما ارمان‘ عیدالفطر کے موقع پر نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی اُور اِس فلم نے آمدنی و مقبولیت کے لحاظ سے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ مذکورہ پابندی ’موشن پکچرز ایکٹ 1979ئ‘ کی چوتھی شق کے مطابق عائد کی گئی لیکن مضحکہ خیز امر یہ تھا کہ دو سینما ہالوں میں ’زما اَرمان‘ نامی فلم کی کئی ہفتوں سے جاری نمائش کے بعد عائد کی گئی پابندی کے بعد فلم سینما ہال کے علاؤہ دیگر تشہیری ذرائع سے نمائش ہو رہی ہے جس میں ’یو ٹیوب (YouTube)‘ بھی شامل ہے جہاں اِس فلم کو 10 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ یہاں دو نکات لائق توجہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگرچہ سینما ہالز ختم ہو رہے اُور صوبائی دارالحکومت پشاور کے کئی سینما ہالوں کا ذکر اب تاریخ کی کتب میں ملتا ہے جیسا کہ جون 2019ءمیں صدر بازار کے معروف ’کپیٹل سینما‘ کی بلڈنگ مسمار کر دی گئی کیونکہ بیس برس تک کاروبار نہیں تھا۔ ذہن نشین رہے کہ صدر (چھاؤنی) کی حدود میں 3 سینما گھر ہوا کرتے تھے اُور اِن تینوں (کپیٹل سینما‘ فلک سیر سینما اُور پی اے ایف سینما) کو مختلف وجوہات کی بنا پر ایک ایک کر کے ختم کر دیا گیا۔ فلک سیر سینما جون 2006ءمیں ختم کی گئی جہاں اب کثیرالمنزلہ شاپنگ پلازہ کھڑا ہے۔ اِس سینما ہال کو منہدم کرنے کے لئے عدالت سے رجوع بھی کیا گیا اُور عدالت نے فوری کاروائی کرتے ہوئے حکم امتناعی (سٹے آڈر) بھی جاری کیا تھا لیکن اُس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ 

سینما ہالوں کے مالکان کا شمار مالی و سیاسی طور پر بااثر افراد میں ہوتا ہے جن کے خلاف حکومتی اہلکار خاطرخواہ شدت کے ساتھ قوانین و قواعد کے مطابق کاروائی نہیں کرتے۔ حسب قانون کسی سینما ہال کی عمارت کو منہدم نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک ایک کر کے پشاور کے معروف سینما ہال ختم کئے گئے اُور جو سینما ہال موجود ہیں اُن میں فلموں کی نمائش پر پابندیاں عائد کی گئیں تو اندیشہ ہے کہ اُن کی بھی راتوں رات ’اینٹ اینٹ‘ الگ کر دی جائے گی۔ کپیٹل سینما کو منہدم کرنے سے پانچ چھ ماہ قبل فلموں کی نمائش کے لئے بند کر دیا گیا تھا اُور اِس عمارت کی تعمیرومرمت سالہا سال سے روک دی گئی تھی جس کی وجہ سے عمارت مخدوش ہوتی چلی گئی اُور بالآخر اِسے خطرناک قرار دیدیا گیا۔

 پشاور میں کبھی پندرہ سینما ہالز ہوا کرتے تھے جن میں سے صرف سات (ناز‘ ارشد‘ آئینہ‘ تصویر محل‘ پکچر ہاؤس اُور شمع) باقی ہیں جبکہ فردوش (شبستان)‘ فلک سیر‘ پلوشہ‘ ناولٹی‘ میٹرو‘ عشرت‘ صابرینہ‘ پی اے ایف اُور کپیٹل سینما کی عمارتیں تک باقی نہیں رہیں۔ فلم کی صورت پشاور تفریح کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہوا ہے تو اِس کی بنیادی وجوہات میں دہشت گردی‘ کاروباری مفادات‘ کورونا وبا اُور محکمہ ثقافت (حکومتی ادارے) کی عدم دلچسپی ہے۔ فلمیں کسی بھی زبان میں ہوں‘ اُن میں سرمایہ کاری کون کرے گا جبکہ سینما ہال ختم ہو رہے ہوں اُور فلموں کی تیاری اُور سنسربورڈ سے منظوری جیسے مراحل پر نہیں بلکہ اُن کی نمائش پر پابندیاں عائد کی جاتی ہوں!؟

یکم فروری دوہزاربائیس: خیبرپختونخوا کابینہ کے 64ویں اجلاس میں ’موشن پکچرز رولز 2021ئ‘ نامی قانون کی منظوری دی گئی جس کا اطلاق صوبائی سطح پر سینما ہالز یا دیگر میڈیا (سی ڈی یا ڈی وی ڈیز) کے علاؤہ سٹیج ڈراموں اُور شوز پر بھی یکساں ہوگا۔ مذکورہ غیرمعمولی کابینہ اجلاس میں اراکین اسمبلی کے علاؤہ صوبائی چیف سیکرٹری‘ ایڈیشنل چیف سیکرٹری‘ سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اُور مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹریز بھی شریک تھے اُور اجلاس میں اِس بات پر اتفاق پایا گیا کہ ”پختون ثقافت کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اِسے نقصان پہنچانے والی فلموں‘ سی ڈی ڈراموں اُور سٹیج شوز میں دکھائے جانے والے صرف زبان و ثقافت کے برخلاف ہی نہیں بلکہ اسلام اُور پاکستان کے دوست ممالک کے خلاف موضوعات یا اِس بارے مواد کی سختی سے جانچ پڑتال (سنسرشپ) کرنے کے بعد اِنہیں نمائش کی اجازت دی جائے۔ کابینہ اجلاس میں صرف یہی نہیں بلکہ درجن سے زائد دیگر فیصلے بھی کئے گئے جن میں حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم ماہانہ تنخواہوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے احکامات بھی شامل تھے۔ 

فیصلہ ساز جن پہلوؤں کو نظرانداز کر رہے ہیں اُس کا تعلق تین نوعیت کے ’زمینی حقائق‘ سے ہے۔

 پہلی حقیقت یہ ہے کہ پشتو فلمیں جس زبان و ثقافت کی ترجمانی یا عکاسی کرتی ہیں‘ وہ یقینا پختونوں کی اکثریت کی بودوباش (طرز زندگی) کا آئینہ دار (عکاس) نہیں لیکن نمائش سے قبل اِن فلموں کی سنسربورڈ سے منظوری لی جاتی ہے اُور چونکہ زیادہ تر فلمیں لاہور (صوبہ پنجاب) میں بنتی ہیں اِس لئے وہاں کے (غیرپختون) سنسر بورڈ سے اجازت نامہ لے لیا جاتا ہے۔ نئے قانون سے لازم ہوگا کہ خیبرپختونخوا میں نمائش کے لئے صوبائی مقامی سنسربورڈ سے منظوری لی جائے۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ پشتو فلموں کے تماش بین اُور اِن میں دکھائے جانے والے مناظر سے محظوظ ہونے والے بھی ایک خاص طبقے اُور سوچ سے تعلق رکھتے ہیں‘ جن کا پشتو زبان و ثقافت جیسے ثقیل و گہرے موضوع سے تعلق نہیں اُور اُن کے فلم صرف اُور صرف تفریح کا ذریعہ ہے جس کی گود میں وہ چند گھنٹے اپنی مشکلات و مسائل سے چھپ کر گزارتے ہیں اُور

یہ حقیقت اپنی جگہ لائق توجہ ہے‘ تفریح طبع کے لئے سینما ہال واحد ذریعہ نہیں رہے بلکہ کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس اُور موبائل فونز کے ذریعے ’ویڈیو مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹس‘ جن میں ’یوٹیوب‘ سرفہرست ہے سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔

 فلموں یا سی ڈی ڈراموں میں سرمایہ کاری کرنے والے سینما ہالز اُور کیبل نیٹ ورکس کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے تھے لیکن اب آمدنی کا ذریعہ ’آن لائن‘ وسائل بھی ہیں‘ جن میں ’یو ٹیوب‘ کی مونیٹائزیشن کے ذریعے آمدنی حاصل کرنا نہایت ہی سادہ و آسان اُور منافع بخش عمل ہے۔

 ضرورت اِس امر کی ہے کہ

 1: فلموں اُور ڈراموں کو زبان و ثقافت کی ترجمانی کرنے کی بجائے ”تفریحی مواد“ کی نظر سے دیکھا جائے۔

2: فلموں ڈراموں سے متعلق سنسرشپ کے قوانین و قواعد ہر صوبے کے لئے الگ الگ بنانے کی بجائے قومی سطح پر وضع اُور لاگو کئے جائیں اُور

3: فلموں ڈراموں کے ذریعے اصلاحی کوششوں کے فروغ کے لئے اِس صنعت میں حکومتی مداخلت بصورت منصوبہ بندی اُور سرمایہ کاری ہونی چاہئے۔

ذہن نشین رہے کہ جمہوری اسلامی ایران کی فلمی صنعت کی مثال برائے مطالعہ و دلیل موجود ہے‘ جسے 1990ءکی دہائی (انقلاب اسلامی ایران کے بعد) چین کی مدد سے جدید تکنیکی وسائل سے لیس کیا گیا اُور آج ایران میں بنائی گئی فلمیں‘ ہر سال معروف عالمی اعزازات کے لئے منتخب کی جاتی ہیں اُور ایرانی سینما کئی ایسے اعزازات حاصل بھی کر چکا ہے۔سال 2012ءمیں اصغر فرہادی نامی پروڈیوسر کی عالمی فلم کا معتبر ’آسکر ایوارڈ‘ جیتا تھا جو کسی بھی ’میڈ اِن ایران‘ فلم کا یہ پہلا ’آسکر اعزاز‘ تھا۔

....

 

Clipping from Daily Aaj Peshawar Dated 7 Feb 2022 Monday

Sunday, June 21, 2020

Internet for entertainment alone!

حقیقت حال .... جو میں نے دیکھا!
پہلی حقیقت: 
کسی فلم یا ڈرامے کی کامیابی کا ’عالمی پیمانہ‘ باکس آفس (Box Office) کارکردگی یعنی کمائی (حاصل وصول) بارے جاری ہونے والے اعدادوشمار ہوتے ہیں کہ مذکورہ فلم یا ڈرامے نے خاص عرصے کے دوران کتنا ’بزنس‘ کیا۔ رواں ماہ (جون دوہزاربیس) کے دوران پاکستان میں ’نیٹ فلیکس (Netflix)‘ کے ذریعے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے دس (top-10) فلموں ڈراموں میں پہلے نمبر پر براجمان پولش (Polish) زبان میں بنایا گیا 114 منٹ دورانئے کا کھیل ہے‘ جس کی کہانی جرائم‘ منشیات‘ بے راہ روی‘ تشدد اُور جنسی تعلقات جیسے تخریبی موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ مذکورہ کھیل (ٹیلی فلم) کو پولش (پولینڈ کی سرکاری زبان) میں وہاں کے خاص حالات اُور ثقافت کی نمائندگی تو کرتا ہے اُور اُس معاشرے میں پائی جانے والی سوچ کو نئے زوایئے تو دیتا ہے لیکن اُسے انگریزی میں ترجمہ کر کے پاکستان جیسے ملک میں پیش کرنے کی ضرورت و منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک طرف حکومت کے ادارے (سنسربورڈ اُور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) موجود ہیں لیکن اُن کی اجازت کے بغیر غیرملکی مواد پاکستان میں صرف نشر ہی نہیں بلکہ فروخت بھی ہو رہا ہے لیکن کسی کی توجہ نہیں۔ افسوس کے ساتھ شرم کا بھی مقام ہے کہ ایک مسلمان اکثریتی معاشرے میں انگریزی ڈرامہ ’356 دن‘ جس کا اصل (پولش) نام 365 Dni ہے سرفہرست اُور مقبول ترین ہے! سات فروری (دوہزاربیس) کے روز پولینڈ میں پہلی مرتبہ نشر اُور انٹرنیٹ پر منحصر ’نیٹ فلیکس‘ کی وساطت سے دنیا بھر میں جاری (ریلیز) ہونے والے مذکورہ ڈرامے نے چار ماہ کے عرصے (بارہ جون دوہزاربیس تک) ’باکس آفس‘ پر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کمائے ہیں جو اِس پر اُٹھنے والی لاگت سے ہزاروں گنا زیادہ منافع ہے! ذہن نشین رہے کہ پانچ لاکھ سال پر محیط انسانی آبادی کی تاریخ رکھنے والا ملک ’پولینڈ‘ وسط یورپی میں واقع ہے اُور اِس کی سرحدیں شمال میں روس‘ مشرق میں بیلاروس اُور یوکرین‘ جنوب میں چیک ری پبلک جبکہ مغرب میں جرمنی سے ملتی ہیں اُور 27 یورپی ممالک میں معاشی ترقی و قومی پیداوار کے لحاظ سے پولینڈ چھٹے نمبر پر ہے‘ جہاں دیگر صنعتوں کی طرح ٹیلی ویژن اُور فلم کی صنعت قومی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے۔

دوسری حقیقت: 
ٹیلی ویژن کے ذریعے تفریح (اِنٹرٹینمنٹ) کیبل نیٹ ورک یا روائتی چھت پر لگے انٹینا کے ذریعے موصول ہونے والے چینلز کی حد تک محدود نہیں رہی بلکہ ثقافتی یلغار سیٹلائٹ (ڈش) اُور انٹرنیٹ کی مدد سے ترقی یافتہ اشکال میں سامنے آ چکی ہیں جن میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH)‘ آئی پی ٹیلی ویژن (IPTV) اُور مختلف قسم کے سی لائن (سرورز) شامل ہیں۔ پاکستان میں اِن سبھی وسائل سے مختلف ضرورتوں (فلمیں‘ ڈرامے‘ ناچ گانے‘ کھیل‘ معلومات اُور عالمی خبروں و تجزئیات) کے لئے استفادہ کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں ہزاروں یا لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے لیکن اِس سے حکومت نہ تو مالی طور پر خاطرخواہ فائدہ اُٹھا رہی ہے اُور نہ ہی غیرروائتی نت نئے طریقوں سے تفریح بذریعہ ٹیلی ویژن جیسے شعبے کو نظم و ضبط کا پابند (ریگولیٹ) کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی اپنی تاریخ و ثقافت اُور بالخصوص اِسلام کے بتائے ہوئے اَصولوں کے مطابق نظر‘ زبان‘ سماعت اُور خیالات کو آلودہ کرنے کی کھلم کھلا اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ لمحہ  فکریہ ہے کہ تفریح کے نام پر اُن اخلاقی اَقدار کو شکار کیا جا رہا ہے‘ جو کبھی اسلام اُور مشرقی روایات کے عنوان سے پاک و پاکیزہ معاشرت و سماجیات کا خاصہ سمجھا جاتی تھیں۔ اِس بات پر جس قدر بھی اَفسوس کا اظہار کیا جائے کم ہوگا کہ ہمارے فیصلہ سازوں کو تفریح کے نام پر سازش پر برائے نام جیسی تشویش بھی نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جدید رہائشی بستیوں میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں کے رہنے والوں ڈی ٹی ایچ‘ نیٹ فلیکس‘ آئی پی ٹی وی یا لائن سرور کے صارف نہ ہوں۔ ”وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا .... کارواں کے دل سے اِحساس زیاں جاتا رہا!“

تیسری حقیقت: 
انٹرنیٹ کے ذریعے تفریحی مواد تک رسائی مختلف طریقوں سے ہو رہی ہے‘ جس میں سب سے پہلا براہ راست تعلق ہے جس میں کوئی بھی صارف ویڈیو بلاگنگ کی لاکھوں ویب سائٹس میں سے اپنے ذوق و پسندیدگی اُور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے چند ایک کا انتخاب کرتا ہے اُور جہاں کچھ نشریاتی مواد بلاقیمت (مفت) فراہم کیا جاتا ہے تاکہ صارفین عادی ہو جائیں اُور پھر اُن کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید مواد دیکھنے کی ’رعائتی پیشکش‘ کی جاتی ہے اُور اِس کی مقررہ قیمت اَدا کرنے کے لئے جن ممکنہ ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے اُن میں موبائل فون کمپنیاں بھی حصہ دار (برابر کی شریک) ہیں جو صارفین کو گھر بیٹھے بیرون ملک ادائیگیاں کرنے جیسی سہولت فراہم کر رہی ہیں اُور یوں ماہانہ اربوں روپے تفریح برائے تفریح (گناہ ¿ بے لذت) کی نذر ہو رہے ہیں!

چوتھی حقیقت:
دنیا جاگ اُٹھی ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے صرف سماجی سرگرمیاں ہی محدود کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر تعلیمی اداروں کی بندش اُور اِس سے ہونے والے تعلیمی حرج کو کم سے کم کرنے کے لئے اِنٹرنیٹ (آن لائن) وسائل (فاصلاتی درس و تدریس) سے اِستفادہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کی صورتحال یکسر مختلف (اُلٹ) ہے کہ غربت زیادہ ہونے کی وجہ سے طلبا و طالبات کی اکثریت کے پاس کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ‘ موبائل فون یا ٹیبلٹ نہیں اُور جن کے پاس یہ وسائل اُور سہولیات ہیں تو وہ بھی اِس سے اصل ضرورت یعنی تعلیم کے لئے استفادہ نہیں کر رہے کیونکہ ایک طرف رہنمائی اُور تربیت کا فقدان ہے تو دوسری طرف سینئر اساتذہ کی بڑی تعداد بشمول نجی تعلیمی اداروں کی اِنتظامیہ (مالکان) ’اِنفارمیشن ٹیکنالوجی‘ کے بنیادی استعمال سے متعلق خاطرخواہ ہنرمند نہیں! لمحہ ¿ فکریہ ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے پیدا ہونے والی فرصت کے باعث پاکستان میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں کئی ہزار گنا اضافہ ہوا ہے اُور یہ اضافہ دنیا بھر میں دیکھنے کو ملا ہے تاہم پاکستانی انٹرنیٹ سے خاص استفادہ مختلف انداز سے کرتے ہوئے اکثریت کے لئے انٹرنیٹ تفریح کا ذریعہ جبکہ دنیا بھر میں جوابدہ اُور شفاف طرزحکمرانی کے علاو ¿ہ یہی انٹرنیٹ عوامی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا رہا ہے! تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث تعلیم اُور تربیت کی ذمہ داری والدین کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ کیا کوئی شخص اپنے بچوں کو کسی ایسے پانی کے تالاب میں دھکا دینا پسند کرے گا جس کی گہرائی کے بارے میں اُسے صرف اتنا معلوم ہو کہ وہ معلوم نہیں؟

اِنٹرنیٹ کی دنیا گہرائی‘ وسعت اُور اِمکانات کے لحاظ سے عمودی اُور افقی لحاظ سے لامحدود ہے۔
قابل افسوس بات یہ ہے کہ اِس حقیقت کا ادراک رکھنے والوں میں شامل والدین‘ اساتذہ‘ ماہرین تعلیم‘ ذرائع ابلاغ‘ مذہبی و سیاسی رہنماو ں اُور قومی سطح پر سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے تجاہل عارفانہ اختیار کر رکھا ہے جبکہ خودکشی پر آمادہ نئی نسل کو غیرتحریری اُور غیرشعوری طور پر ایک ایسے دریا میں دھکیل دیا گیا ہے‘ جس کا کوئی کنارہ نہیں!
اِک اُور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا‘ تو میں نے دیکھا! (منیر نیازی)
........
Clipping from Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday 
Editorial Page Daily Aaj - June 21, 2020 Sunday

Friday, July 17, 2015

Jul2015: Eid and entertainment

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عید: تفریحی امکانات
امن وامان کی صورتحال میں غیرمعمولی بہتری (تبدیلی)کے سبب اِس سال ’عیدالفطر‘ کے لمحات میں تفریحی مقامات کی رونقیں گذشتہ کئی برس کے مقابلے زیادہ ہیں تاہم گنجائش سے زیادہ پرجوش ہجوم کے لئے خاطرخواہ سہولیات کا بندوبست کی روایت تبدیل ہونی چاہئے۔ حکومت کا کام صرف تعطیلات دینا ہی نہیں ہوتا بلکہ اِن تعطیلات کے دوران معیاری و صحت مند تفریح کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوتے ہیں‘ کاش کہ یہ ایک باریک نکتہ‘ جو متعدد مرتبہ اِنہی سطور کے ذریعے بیان کیا گیا قابل غور و توجہ سمجھا جائے۔

یوں تو بازاروں کی بحال ہوئی رونقیں اور چہروں پر خوف کی بجائے مسرت بھرے جذبات حاوی دیکھ کر مسرت ہوتی ہے لیکن تفریح کی تلاش میں یہاں وہاں گھومتے گھومتے تھکاوٹ سے بے حال نوجوانوں کو دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے کہ انہیں کچھ وقت آرام سے بیٹھ کر گزارنے کی سہولت میسر نہیں۔ اگر یہ حال پشاور جیسے مرکزی شہر کا ہے تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ دور دراز اضلاع میں تفریحی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔ عیدالفطر کے موقع پر نوجوانوں کی بڑی تعداد سینما گھروں کا رخ کرتی ہے اور پشاور کے سینماگھر تو پورے پاکستان میں اپنی خاص شہرت رکھتے ہیں لیکن اِس مرتبہ سبھی کے ہاں نئی پشتو فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں ہیں۔ صدآفرین کہ 35 برس بعد پہلی مرتبہ 7 پشتو فلمیں اس عیدالفطر پر ریلیز کی گئیں ہیں جن کی نمائش پشاور کے علاؤہ دیگر شہروں کے سینما گھروں میں جاری ہے۔ یقینی امر ہے کہ اِس سے نہ صرف پشتو زبان و ثقافت بلکہ فلمی صنعت کو نت نئے تصورات اور جدت کے ساتھ آگے بڑھنے کا اعتماد ملے گا۔ سینما گھروں کے ساتھ وابستہ روزگار بھی پھر سے آباد ہو گئے ہیں‘ بالخصوص چائے خانوں سے اٹھنے والی مہک اور خاص ماحول اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ توجہ طلب ہے کہ پشاور کے یکے بعد دیگرے کئی سینما ہال ’کمرشل ازم‘ کی وجہ سے ختم کر دیئے گئے اور یہ کام چونکہ قواعد کی رو سے ممکن نہیں اِس لئے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے سرمایہ دار پہلے سستے داموں سینما ہال خریدتے ہیں کیونکہ اُس کے اصل مالکان کے لئے مختلف خطرات و وجوہات کی بناء پر فلموں کی نمائش جاری رکھنا ممکن نہیں ہوتی اور پھر ملکیت حاصل کرنے کے بعد سینما کی جگہ کثیر المنزلہ عمارت (پلازہ) کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ تعمیراتی نقشے کے لحاظ سے آسمان سے باتیں کرنے والے اِن درجن بھر عمارتوں میں ’کار پارکنگ‘ کے لئے جگہ مختص کی جاتی ہے لیکن جب عمارت کا دورہ کیا جائے تو وہاں نہ تو پارکنگ ملتی ہے اور نہ ہی آتشزدگی کی صورت ہنگامی راستوں سے نکلنے کا بندوبست حسب نقشہ جات دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ’بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ کے ایک سے زیادہ دفاتر ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں اہلکار ہیں لیکن سب کے سب کی غربت دور ہوتی چلی جا رہی ہے جبکہ پشاور ہر دن بظاہر امیر اور درحقیقت غیرمحفوظ ہوتا چلا جارہا ہے۔

سینما ہال اجڑنے کی ایک وجہ ’کیبل نیٹ ورکس‘ ہیں جن کے ذریعے گھر گھر اُردو پشتو اور انگریزی زبان کی نئی آنے والی فلمیں بھی دیکھی جا رہی ہیں لیکن بڑی سکرین کا مزا ہی کچھ اُور ہے اور پھر پشتو فلم سینما ہال میں دیکھنے کے ساتھ ایک پوری ثقافت جڑی ہے‘ جس کا عشرعشیر لطف بھی گھر میں فلم بینی کا حاصل نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں ’سینما گھر‘ کی اپنی ہی خاص اہمیت رہی ہے اور یہی وہ ضرورت ہے جس کے بارے میں صوبائی حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ ’سینما اور تھیٹر‘ کی سرکاری سرپرستی کی جائے کیونکہ فلم کے ذریعے بنیادی طور پر ’تفریحی عمل کے دوران‘ سماجی برائیوں اور انتہاء پسندی کے خلاف پیغام منتقل کیا جاسکتا ہے۔ فنون لطیفہ انسان دوستی کے جذبات کو ابھارتے اُور تخلیقی سوچ کے پروان چڑھنے سمیت زبان و ثقافت کے رشتوں کی تقویت کا باعث بنتے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں تفریحی مقامات کی شدید کمی الگ سے محسوس کی جاتی ہے بالخصوص جبکہ گرمی اور حبس اپنے عروج پر ہو تو ’اِن ڈور ائرکنڈیشن‘ تفریح کے مواقع دستیاب نہیں۔ لے دے کر سینما ہال ہیں جہاں چند گھنٹے موسم کی شدت سے محفوظ رہنے والے بھی بھلا ایک فلم کتنی مرتبہ دیکھیں اُور ہر بار لطف اندوز بھی ہوں! آخر یہ دور خاموش فلموں کا بھی نہیں کہ ٹکٹ خرید کر ائرکنڈیشن ہال میں نیند کی جائے۔ سینما گھر کی تفریح کو معیاری بنانے اور ٹکٹوں کی مقرر کردہ نرخوں کے مطابق فروخت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے حرکت میں آنے کی اُمید تھی لیکن افسوس لگتا ہے کہ سب کے سب تعطیلات پر ہیں اور پشاور سمیت عید منانے والوں کو ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کچھ توجہ بچوں کے لئے ’کھیل کود و تفریح کی اِن ڈور سہولیات‘ کی فراہمی پر بھی ہونی چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل ہر یونین کونسل کی سطح پر کھیل کے میدان و سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو تیسرے مالی سال کے آغاز پر بھی ہنوز پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

پشاور کو باغات کا شہر کہا جاتا تھا لیکن قیام پاکستان سے قبل تعمیر کئے گئے یہاں کے باغات جس ’تہس نہس حالت‘ میں دکھائی دیتے ہیں‘ اُن سے حکمرانوں کی ترجیحات صاف عیاں ہیں۔ عجب ہے کہ پشاور پر حکومت کرنے والوں میں ایک سے بڑھ کر ایک خوش قسمت کردار ہے۔ پشاور جادو کی ایسی چھڑی کا نام ہے کہ جس کے ہاتھ آئے وہ دیکھتے ہی دیکھتے کھرب پتی بن جاتا ہے لیکن جنوب مشرق ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہر کی بدقسمتی کا دور کسی صورت ختم نہیں ہورہا بلکہ وہ تکلیف دہ دورانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ طویل تر ہوتاچلا جا رہا ہے‘ جس میں ’پشاور کے غصب شدہ حقوق‘ کی نہ تو کماحقہ ادائیگی ہو رہی ہے اور نہ ہی اِس ضرورت کے بارے سوچ بچار‘ بحث و مباحثے یا مشاورت کا عمل‘ اب تک شروع کیا جاسکا ہے!