Showing posts with label Cinema. Show all posts
Showing posts with label Cinema. Show all posts

Sunday, May 8, 2022

Pashto Cinema on Eid ul Fitar.

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

تفریحی صنعت:بڑی آزمائش

خیبرپختونخوا کا ایک ثقافتی تعارف ’پشتو فلمی صنعت‘ بھی ہے جو ایک عرصے سے اپنی شناخت اُور وجود برقرار رکھنے کے لئے ’تگ و دو (جدوجہد)‘ کر رہی ہے تاہم اِس ’تفریحی صنعت‘ کے زوال میں پانچ عوامل کا عمل دخل ہے۔ فلموں کی غیرقانونی ویڈیو نقول‘ عریانی و فحاشی‘ ’کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس‘ اسٹیج ڈراموں اُور موبائل فونز کے ذریعے سوشل میڈیا وسائل متعارف ہونے کی صورت لگا‘ جہاں کسی بھی زبان کی پوری فلم یا اُس کے مختلف حصوں کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے گھر گھر ’سینما ہالز‘ تو متعارف کروا دیئے لیکن اِس سستے ترین تفریحی ذریعے کی وجہ سے ایک بہت بڑی صنعت منافع بخش نہیں رہی اُور اِس بات کا احساس متعلقہ نگران حکومتی اداروں کے فیصلہ سازوں کو رتی بھر بھی نہیں جنہوں نے کیبل نیٹ ورکس پر نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات جاری  کرنے کی ’غیرتحریری اجازت‘ دے رکھی ہے جبکہ کیبل نیٹ ورکس کا واحد کام وسیلے کے طور پر ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)‘ کے منظورشدہ ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات صارفین تک پہنچانا تھا اُور صارفین کی تعداد کے لحاظ سے ٹیکس ادا کرتے ہوئے ایک ایسے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا تھی جس میں آپٹیکل فائبر اُور ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH) جیسی وسعت کے لاتعداد اِمکانات موجود ہیں لیکن اِن میں وقت کے ساتھ (حسب ضرورت) ایک تو سرمایہ کاری نہیں ہوئی اُور دوسرا یہ نتیجہ اپنی جگہ پریشان کن ہے کہ کیبل نیٹ ورکس خودمختار نہیں رہے بلکہ ایک گروہ کی صورت بطور ’آلہئ کار‘ استعمال ہونے لگے‘ کیبل نیٹ ورک صارفین کا استحصال جاری ہے اُور یوں نہ ٹیکس ملا‘ نہ اِس منافع بخش صنعت سے فائدہ اُٹھانے والوں نے سرمایہ کاری کی بلکہ الٹا فلمی صنعت کو اِس حد تک نقصان پہنچایا کہ اِس مرتبہ عید الفطر (سال دوہزاربائیس) کے موقع پر صرف ایک پشتو فلم (کشر خان بہ نہ چھیڑے) پشاور میں نمائش کے لئے پیش کی جا سکی جس سے پشتو فلمی صنعت کی حالت اُور اِس سے وابستہ افراد کی مالی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نئی پشتو فلم کے علاؤہ دیگر سینما ہالز میں پرانی فلموں کی نمائش کی گئی کیونکہ اب سینما ہالز کی کشش کسی بھی زبان کی مقامی فلمیں نہیں رہیں بلکہ غیرملکی فلموں کے حصے (ٹوٹے) کانٹ چھانٹ کر دکھائے جاتے ہیں اُور ائرکنڈیشن سینما ہال بہت سے سربینوں کے لئے چند گھنٹوں کی گرمی سے راحت کا سامان اُور تفریح کا غیرصحت مندانہ ذریعہ بن چکے ہیں‘ جو ایک عرصے سے تعمیر کی بجائے ذہنی تخریب کا ذریعہ بھی ہے!

”کشر خان بہ نہ چھیڑے“ کے ستاروں میں شاہد خان‘ ارباز خان‘ فیروزا علی‘ نیب چوہدری‘ عمران خٹک اور رحیمہ شامل ہیں لیکن شاید ہی کوئی سربین اِن اداکاروں کی وجہ سے فلم دیکھنے اپنے گھر سے چلا ہو! سوشل میڈیا کے دور میں تفریح ’بے نامی‘ ہو چکی ہے کیونکہ پشتو کے معروف و غیرمعروف اداکاروں نے پچاس سے زائد ایسے ”یوٹیوب چینلز“ بنا رکھے ہیں جہاں سے اُنہیں سینما کی نسبت زیادہ آمدنی ہو رہی ہے اُور اب تو ’یوٹیوب چینلز‘ پر انفرادی اداکاری کی بجائے اسٹیج پروگرام بھی جاری کئے جاتے ہیں اُور اِس قسم کی پروڈکشن باقاعدہ صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ جہاں لوک گلوکار بھی ملتے ہیں‘ جن کے گائے ہوئے گانے ’اپ لوڈ‘ کئے جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب سینما کے ذریعے اُور بالخصوص عید کے تہوار پر ریلیز کی جانے والی فلموں کا کوئی نہ کوئی اصلاحی پہلو بھی ہوتا تھا۔ فلم بامقصد سے تفریح اُور تفریح سے اوچھے پن کی سمت سفر کرتے کرتے اُس مقام تک آ پہنچی ہے جہاں اِسے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے مزید ’اوچھے پن‘ کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ 

”کشر خان بہ نہ چھیڑے“ نامی فلم کی خاص بات ”سینماٹوگرافی“ ہے جس کے لئے ’شمالی علاقوں‘ کا انتخاب کیا گیا۔ قدرتی مناظر کی خوبصورتی سے مزین اِس شاہکار کو ’بڑے پردے‘ پر دیکھنے کا اپنا ہی مزا ہے اُور اگر اِسے فلم کی ”واحد کشش“ کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا لیکن فلم کا ایک جز معیاری و مقبول موسیقی بھی ہوتی ہے اُور اِس شعبے میں مذکورہ فلم کے پس پردہ (پلے بیک) گلوکار (وسل کھیل‘ شاہ فاروق اور ستارا یونس) مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پشاور کے ارشد سینما میں عید الفطر کے پہلے دن سے جاری نمائش اگرچہ خاطرخواہ پرہجوم نہیں لیکن ”پشتو سنیما گزشتہ کئی دہائیوں سے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور متعدد وجوہات کی بنا پر سنجیدہ نجی سرمایہ کاری اُور تکینکی ماہرین (پروڈیوسروں اور فلم سازوں) نے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے جس کی وجہ سے فنکاروں کا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر ”دا اَختر گلونہ“ کے نام سے ”پشتو میوزیکل شو عید“ کو یادگار بنانے کی کوشش اپنی جگہ کامیاب رہی‘ جس میں ٹیلی ویژن اور اسٹیج کے مقامی اداکاروں نے حصہ لیا اُور سینما ہالز کی نسبت عید کے دوسرے سے چوتھے روز شائقین کی بڑی تعداد نے نشتر ہال کا رخ کیا‘ جہاں ایک نئے رجحان کا ارتقا ہو رہا ہے اُور وہ یہ ہے کہ پشتو فلمی صنعت کے زوال سے اُبھرنے والے اسٹیج پروگرام (لائیو پرفارمنس) مقبول ہو رہے ہیں جن سے محظوظ ہونے اُور اپنے پسندیدہ اداکاروں کو براہ راست دیکھنے اُور سننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اِس سال کی خاص بات یہ بھی تھی کہ ”پشتو میوزیکل عید شو“ کے ٹکٹ آن لائن بھی خریدے گئے اُور ایسے پروگراموں کے موقع پر روائتی جھگڑے بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ یہ سب کچھ سینما ہالز کے سائے میں اُبھرنے والے سٹیج ڈرامہ کلچر کی بدولت ہے جبکہ اسٹیج (تھیٹر) سینما سے پہلے کی ایجاد ہے اُور سینما اسٹیج ہی کی ترقی یافتہ شکل تھی وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگر اسٹیج ڈرامہ مقبول ہو رہا ہے تو اِس سے سینما ختم نہیں ہوگی بلکہ سینما کسی بھی وقت تقویت حاصل کر لے گی لیکن سینما کی واپسی جلد ہونی چاہئے کیونکہ پشاور سمیت دیگر اضلاع میں سینما ہالز تجارتی مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں اُور نئے سینما ہالز نہیں بن رہے۔ اِس پورے شعبے (فلمی صنعت اُور اسٹیج) کے لئے حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ حکومتی اداروں کی نگرانی عروج پر ہونے کی وجہ سے منافع کا ایک بڑا حصہ ناقابل بیان اُور قابل بیان مدوں میں اخراجات کی نذر ہو رہا ہے جیسا کہ بجلی کی قیمت اِس قدر بڑھ گئی ہے کہ دو سے ڈھائی گھنٹے کسی ہال کو ٹھنڈا رکھنے پر اخراجات معمولی نہیں رہے۔ کورونا وبا (سماجی فاصلوں) کے دور سے گزرنے کے بعد فلمی صنعت بالعموم مہنگائی کی صورت نئی مشکل اُور زیادہ بڑی آزمائش سے گزر رہی ہے!

……

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj May 08, 2022


Monday, February 7, 2022

Fading entertainment: Film, Cinema, Culture and Censorship

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

فلم و ڈرامہ : تفریح و ثقافت

اگست دوہزارتیرہ: محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا نے پشتو میں بنائی گئی 5 فلموں کی صوبے کے کسی بھی حصے میں نمائش نہ کرنے سے متعلق ایک ناقابل فہم پابندی کا اعلان کیا‘جبکہ پشتو کی سبھی فلموں میں کم و بیش ایک جیسا مواد ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ فلم کی کہانی (روداد) جو بھی ہو لیکن اِس میں ایک خاص تناسب سے تشدد‘ اسلحے کا استعمال‘ موسیقی‘ رقص‘ ذو معنی مزاحیہ جملے (ڈائیلاگ) اُور کردار چست کپڑوں کا استعمال فلم شائقین کے ذوق و شوق کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بہرحال پابندی کا شکار ہونے والی پانچ مجموعات میں زما اَرمان (میری خواہشات)‘ بھنگی لیلی (نشے کی لت)‘ لوفر (لااُبالی‘ کسول کردار)‘ شرط اُور قربانی نامی فلمیں شامل تھیں‘ جن میں ’زما ارمان‘ عیدالفطر کے موقع پر نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی اُور اِس فلم نے آمدنی و مقبولیت کے لحاظ سے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ مذکورہ پابندی ’موشن پکچرز ایکٹ 1979ئ‘ کی چوتھی شق کے مطابق عائد کی گئی لیکن مضحکہ خیز امر یہ تھا کہ دو سینما ہالوں میں ’زما اَرمان‘ نامی فلم کی کئی ہفتوں سے جاری نمائش کے بعد عائد کی گئی پابندی کے بعد فلم سینما ہال کے علاؤہ دیگر تشہیری ذرائع سے نمائش ہو رہی ہے جس میں ’یو ٹیوب (YouTube)‘ بھی شامل ہے جہاں اِس فلم کو 10 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ یہاں دو نکات لائق توجہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگرچہ سینما ہالز ختم ہو رہے اُور صوبائی دارالحکومت پشاور کے کئی سینما ہالوں کا ذکر اب تاریخ کی کتب میں ملتا ہے جیسا کہ جون 2019ءمیں صدر بازار کے معروف ’کپیٹل سینما‘ کی بلڈنگ مسمار کر دی گئی کیونکہ بیس برس تک کاروبار نہیں تھا۔ ذہن نشین رہے کہ صدر (چھاؤنی) کی حدود میں 3 سینما گھر ہوا کرتے تھے اُور اِن تینوں (کپیٹل سینما‘ فلک سیر سینما اُور پی اے ایف سینما) کو مختلف وجوہات کی بنا پر ایک ایک کر کے ختم کر دیا گیا۔ فلک سیر سینما جون 2006ءمیں ختم کی گئی جہاں اب کثیرالمنزلہ شاپنگ پلازہ کھڑا ہے۔ اِس سینما ہال کو منہدم کرنے کے لئے عدالت سے رجوع بھی کیا گیا اُور عدالت نے فوری کاروائی کرتے ہوئے حکم امتناعی (سٹے آڈر) بھی جاری کیا تھا لیکن اُس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ 

سینما ہالوں کے مالکان کا شمار مالی و سیاسی طور پر بااثر افراد میں ہوتا ہے جن کے خلاف حکومتی اہلکار خاطرخواہ شدت کے ساتھ قوانین و قواعد کے مطابق کاروائی نہیں کرتے۔ حسب قانون کسی سینما ہال کی عمارت کو منہدم نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک ایک کر کے پشاور کے معروف سینما ہال ختم کئے گئے اُور جو سینما ہال موجود ہیں اُن میں فلموں کی نمائش پر پابندیاں عائد کی گئیں تو اندیشہ ہے کہ اُن کی بھی راتوں رات ’اینٹ اینٹ‘ الگ کر دی جائے گی۔ کپیٹل سینما کو منہدم کرنے سے پانچ چھ ماہ قبل فلموں کی نمائش کے لئے بند کر دیا گیا تھا اُور اِس عمارت کی تعمیرومرمت سالہا سال سے روک دی گئی تھی جس کی وجہ سے عمارت مخدوش ہوتی چلی گئی اُور بالآخر اِسے خطرناک قرار دیدیا گیا۔

 پشاور میں کبھی پندرہ سینما ہالز ہوا کرتے تھے جن میں سے صرف سات (ناز‘ ارشد‘ آئینہ‘ تصویر محل‘ پکچر ہاؤس اُور شمع) باقی ہیں جبکہ فردوش (شبستان)‘ فلک سیر‘ پلوشہ‘ ناولٹی‘ میٹرو‘ عشرت‘ صابرینہ‘ پی اے ایف اُور کپیٹل سینما کی عمارتیں تک باقی نہیں رہیں۔ فلم کی صورت پشاور تفریح کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہوا ہے تو اِس کی بنیادی وجوہات میں دہشت گردی‘ کاروباری مفادات‘ کورونا وبا اُور محکمہ ثقافت (حکومتی ادارے) کی عدم دلچسپی ہے۔ فلمیں کسی بھی زبان میں ہوں‘ اُن میں سرمایہ کاری کون کرے گا جبکہ سینما ہال ختم ہو رہے ہوں اُور فلموں کی تیاری اُور سنسربورڈ سے منظوری جیسے مراحل پر نہیں بلکہ اُن کی نمائش پر پابندیاں عائد کی جاتی ہوں!؟

یکم فروری دوہزاربائیس: خیبرپختونخوا کابینہ کے 64ویں اجلاس میں ’موشن پکچرز رولز 2021ئ‘ نامی قانون کی منظوری دی گئی جس کا اطلاق صوبائی سطح پر سینما ہالز یا دیگر میڈیا (سی ڈی یا ڈی وی ڈیز) کے علاؤہ سٹیج ڈراموں اُور شوز پر بھی یکساں ہوگا۔ مذکورہ غیرمعمولی کابینہ اجلاس میں اراکین اسمبلی کے علاؤہ صوبائی چیف سیکرٹری‘ ایڈیشنل چیف سیکرٹری‘ سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اُور مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹریز بھی شریک تھے اُور اجلاس میں اِس بات پر اتفاق پایا گیا کہ ”پختون ثقافت کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اِسے نقصان پہنچانے والی فلموں‘ سی ڈی ڈراموں اُور سٹیج شوز میں دکھائے جانے والے صرف زبان و ثقافت کے برخلاف ہی نہیں بلکہ اسلام اُور پاکستان کے دوست ممالک کے خلاف موضوعات یا اِس بارے مواد کی سختی سے جانچ پڑتال (سنسرشپ) کرنے کے بعد اِنہیں نمائش کی اجازت دی جائے۔ کابینہ اجلاس میں صرف یہی نہیں بلکہ درجن سے زائد دیگر فیصلے بھی کئے گئے جن میں حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم ماہانہ تنخواہوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے احکامات بھی شامل تھے۔ 

فیصلہ ساز جن پہلوؤں کو نظرانداز کر رہے ہیں اُس کا تعلق تین نوعیت کے ’زمینی حقائق‘ سے ہے۔

 پہلی حقیقت یہ ہے کہ پشتو فلمیں جس زبان و ثقافت کی ترجمانی یا عکاسی کرتی ہیں‘ وہ یقینا پختونوں کی اکثریت کی بودوباش (طرز زندگی) کا آئینہ دار (عکاس) نہیں لیکن نمائش سے قبل اِن فلموں کی سنسربورڈ سے منظوری لی جاتی ہے اُور چونکہ زیادہ تر فلمیں لاہور (صوبہ پنجاب) میں بنتی ہیں اِس لئے وہاں کے (غیرپختون) سنسر بورڈ سے اجازت نامہ لے لیا جاتا ہے۔ نئے قانون سے لازم ہوگا کہ خیبرپختونخوا میں نمائش کے لئے صوبائی مقامی سنسربورڈ سے منظوری لی جائے۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ پشتو فلموں کے تماش بین اُور اِن میں دکھائے جانے والے مناظر سے محظوظ ہونے والے بھی ایک خاص طبقے اُور سوچ سے تعلق رکھتے ہیں‘ جن کا پشتو زبان و ثقافت جیسے ثقیل و گہرے موضوع سے تعلق نہیں اُور اُن کے فلم صرف اُور صرف تفریح کا ذریعہ ہے جس کی گود میں وہ چند گھنٹے اپنی مشکلات و مسائل سے چھپ کر گزارتے ہیں اُور

یہ حقیقت اپنی جگہ لائق توجہ ہے‘ تفریح طبع کے لئے سینما ہال واحد ذریعہ نہیں رہے بلکہ کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس اُور موبائل فونز کے ذریعے ’ویڈیو مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹس‘ جن میں ’یوٹیوب‘ سرفہرست ہے سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔

 فلموں یا سی ڈی ڈراموں میں سرمایہ کاری کرنے والے سینما ہالز اُور کیبل نیٹ ورکس کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے تھے لیکن اب آمدنی کا ذریعہ ’آن لائن‘ وسائل بھی ہیں‘ جن میں ’یو ٹیوب‘ کی مونیٹائزیشن کے ذریعے آمدنی حاصل کرنا نہایت ہی سادہ و آسان اُور منافع بخش عمل ہے۔

 ضرورت اِس امر کی ہے کہ

 1: فلموں اُور ڈراموں کو زبان و ثقافت کی ترجمانی کرنے کی بجائے ”تفریحی مواد“ کی نظر سے دیکھا جائے۔

2: فلموں ڈراموں سے متعلق سنسرشپ کے قوانین و قواعد ہر صوبے کے لئے الگ الگ بنانے کی بجائے قومی سطح پر وضع اُور لاگو کئے جائیں اُور

3: فلموں ڈراموں کے ذریعے اصلاحی کوششوں کے فروغ کے لئے اِس صنعت میں حکومتی مداخلت بصورت منصوبہ بندی اُور سرمایہ کاری ہونی چاہئے۔

ذہن نشین رہے کہ جمہوری اسلامی ایران کی فلمی صنعت کی مثال برائے مطالعہ و دلیل موجود ہے‘ جسے 1990ءکی دہائی (انقلاب اسلامی ایران کے بعد) چین کی مدد سے جدید تکنیکی وسائل سے لیس کیا گیا اُور آج ایران میں بنائی گئی فلمیں‘ ہر سال معروف عالمی اعزازات کے لئے منتخب کی جاتی ہیں اُور ایرانی سینما کئی ایسے اعزازات حاصل بھی کر چکا ہے۔سال 2012ءمیں اصغر فرہادی نامی پروڈیوسر کی عالمی فلم کا معتبر ’آسکر ایوارڈ‘ جیتا تھا جو کسی بھی ’میڈ اِن ایران‘ فلم کا یہ پہلا ’آسکر اعزاز‘ تھا۔

....

 

Clipping from Daily Aaj Peshawar Dated 7 Feb 2022 Monday

Friday, July 17, 2015

Jul2015: Eid and entertainment

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عید: تفریحی امکانات
امن وامان کی صورتحال میں غیرمعمولی بہتری (تبدیلی)کے سبب اِس سال ’عیدالفطر‘ کے لمحات میں تفریحی مقامات کی رونقیں گذشتہ کئی برس کے مقابلے زیادہ ہیں تاہم گنجائش سے زیادہ پرجوش ہجوم کے لئے خاطرخواہ سہولیات کا بندوبست کی روایت تبدیل ہونی چاہئے۔ حکومت کا کام صرف تعطیلات دینا ہی نہیں ہوتا بلکہ اِن تعطیلات کے دوران معیاری و صحت مند تفریح کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوتے ہیں‘ کاش کہ یہ ایک باریک نکتہ‘ جو متعدد مرتبہ اِنہی سطور کے ذریعے بیان کیا گیا قابل غور و توجہ سمجھا جائے۔

یوں تو بازاروں کی بحال ہوئی رونقیں اور چہروں پر خوف کی بجائے مسرت بھرے جذبات حاوی دیکھ کر مسرت ہوتی ہے لیکن تفریح کی تلاش میں یہاں وہاں گھومتے گھومتے تھکاوٹ سے بے حال نوجوانوں کو دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے کہ انہیں کچھ وقت آرام سے بیٹھ کر گزارنے کی سہولت میسر نہیں۔ اگر یہ حال پشاور جیسے مرکزی شہر کا ہے تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ دور دراز اضلاع میں تفریحی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔ عیدالفطر کے موقع پر نوجوانوں کی بڑی تعداد سینما گھروں کا رخ کرتی ہے اور پشاور کے سینماگھر تو پورے پاکستان میں اپنی خاص شہرت رکھتے ہیں لیکن اِس مرتبہ سبھی کے ہاں نئی پشتو فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں ہیں۔ صدآفرین کہ 35 برس بعد پہلی مرتبہ 7 پشتو فلمیں اس عیدالفطر پر ریلیز کی گئیں ہیں جن کی نمائش پشاور کے علاؤہ دیگر شہروں کے سینما گھروں میں جاری ہے۔ یقینی امر ہے کہ اِس سے نہ صرف پشتو زبان و ثقافت بلکہ فلمی صنعت کو نت نئے تصورات اور جدت کے ساتھ آگے بڑھنے کا اعتماد ملے گا۔ سینما گھروں کے ساتھ وابستہ روزگار بھی پھر سے آباد ہو گئے ہیں‘ بالخصوص چائے خانوں سے اٹھنے والی مہک اور خاص ماحول اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ توجہ طلب ہے کہ پشاور کے یکے بعد دیگرے کئی سینما ہال ’کمرشل ازم‘ کی وجہ سے ختم کر دیئے گئے اور یہ کام چونکہ قواعد کی رو سے ممکن نہیں اِس لئے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے سرمایہ دار پہلے سستے داموں سینما ہال خریدتے ہیں کیونکہ اُس کے اصل مالکان کے لئے مختلف خطرات و وجوہات کی بناء پر فلموں کی نمائش جاری رکھنا ممکن نہیں ہوتی اور پھر ملکیت حاصل کرنے کے بعد سینما کی جگہ کثیر المنزلہ عمارت (پلازہ) کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ تعمیراتی نقشے کے لحاظ سے آسمان سے باتیں کرنے والے اِن درجن بھر عمارتوں میں ’کار پارکنگ‘ کے لئے جگہ مختص کی جاتی ہے لیکن جب عمارت کا دورہ کیا جائے تو وہاں نہ تو پارکنگ ملتی ہے اور نہ ہی آتشزدگی کی صورت ہنگامی راستوں سے نکلنے کا بندوبست حسب نقشہ جات دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ’بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ کے ایک سے زیادہ دفاتر ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں اہلکار ہیں لیکن سب کے سب کی غربت دور ہوتی چلی جا رہی ہے جبکہ پشاور ہر دن بظاہر امیر اور درحقیقت غیرمحفوظ ہوتا چلا جارہا ہے۔

سینما ہال اجڑنے کی ایک وجہ ’کیبل نیٹ ورکس‘ ہیں جن کے ذریعے گھر گھر اُردو پشتو اور انگریزی زبان کی نئی آنے والی فلمیں بھی دیکھی جا رہی ہیں لیکن بڑی سکرین کا مزا ہی کچھ اُور ہے اور پھر پشتو فلم سینما ہال میں دیکھنے کے ساتھ ایک پوری ثقافت جڑی ہے‘ جس کا عشرعشیر لطف بھی گھر میں فلم بینی کا حاصل نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں ’سینما گھر‘ کی اپنی ہی خاص اہمیت رہی ہے اور یہی وہ ضرورت ہے جس کے بارے میں صوبائی حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ ’سینما اور تھیٹر‘ کی سرکاری سرپرستی کی جائے کیونکہ فلم کے ذریعے بنیادی طور پر ’تفریحی عمل کے دوران‘ سماجی برائیوں اور انتہاء پسندی کے خلاف پیغام منتقل کیا جاسکتا ہے۔ فنون لطیفہ انسان دوستی کے جذبات کو ابھارتے اُور تخلیقی سوچ کے پروان چڑھنے سمیت زبان و ثقافت کے رشتوں کی تقویت کا باعث بنتے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں تفریحی مقامات کی شدید کمی الگ سے محسوس کی جاتی ہے بالخصوص جبکہ گرمی اور حبس اپنے عروج پر ہو تو ’اِن ڈور ائرکنڈیشن‘ تفریح کے مواقع دستیاب نہیں۔ لے دے کر سینما ہال ہیں جہاں چند گھنٹے موسم کی شدت سے محفوظ رہنے والے بھی بھلا ایک فلم کتنی مرتبہ دیکھیں اُور ہر بار لطف اندوز بھی ہوں! آخر یہ دور خاموش فلموں کا بھی نہیں کہ ٹکٹ خرید کر ائرکنڈیشن ہال میں نیند کی جائے۔ سینما گھر کی تفریح کو معیاری بنانے اور ٹکٹوں کی مقرر کردہ نرخوں کے مطابق فروخت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے حرکت میں آنے کی اُمید تھی لیکن افسوس لگتا ہے کہ سب کے سب تعطیلات پر ہیں اور پشاور سمیت عید منانے والوں کو ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کچھ توجہ بچوں کے لئے ’کھیل کود و تفریح کی اِن ڈور سہولیات‘ کی فراہمی پر بھی ہونی چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل ہر یونین کونسل کی سطح پر کھیل کے میدان و سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو تیسرے مالی سال کے آغاز پر بھی ہنوز پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

پشاور کو باغات کا شہر کہا جاتا تھا لیکن قیام پاکستان سے قبل تعمیر کئے گئے یہاں کے باغات جس ’تہس نہس حالت‘ میں دکھائی دیتے ہیں‘ اُن سے حکمرانوں کی ترجیحات صاف عیاں ہیں۔ عجب ہے کہ پشاور پر حکومت کرنے والوں میں ایک سے بڑھ کر ایک خوش قسمت کردار ہے۔ پشاور جادو کی ایسی چھڑی کا نام ہے کہ جس کے ہاتھ آئے وہ دیکھتے ہی دیکھتے کھرب پتی بن جاتا ہے لیکن جنوب مشرق ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہر کی بدقسمتی کا دور کسی صورت ختم نہیں ہورہا بلکہ وہ تکلیف دہ دورانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ طویل تر ہوتاچلا جا رہا ہے‘ جس میں ’پشاور کے غصب شدہ حقوق‘ کی نہ تو کماحقہ ادائیگی ہو رہی ہے اور نہ ہی اِس ضرورت کے بارے سوچ بچار‘ بحث و مباحثے یا مشاورت کا عمل‘ اب تک شروع کیا جاسکا ہے!

Thursday, February 12, 2015

Feb2015: Advantage of Cricket

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ناقابل علاج: سردرد و بخار
پشاور کے سینما گھر کرکٹ ورلڈ کپ کے مقابلے دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں اور اِس سلسلے میں سب سے زیادہ توجہ ’پاک بھارت‘ مقابلے پر ہے جو پندرہ فروری کے روز براہ راست دکھائے جانے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں کم و بیش سات گھنٹے دورانیئے کی نشریات بڑی سکرین پر دیکھنے کے شائقین کرکٹ کی حفاظت اور خدانخواستہ پاکستان ٹیم کی ناقص کارکردگی کی صورت غم و غصے کا اظہار کے ممکنہ اندیشے بھی اپنی جگہ موجود ہیں‘ جن کے بارے بہت کم بات کرنا پسند کی جارہی ہے اور اِس سلسلے میں جب پشاور پولیس کے ایک اعلیٰ انتظامی اہلکار سے بات کی گئی تو اُنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کے ساتھ ’حالات کی سنگینی‘ کا ادراک کرنے اور ایسے اجتماعات سے اجتناب کا مشورہ دیا‘ جسے نشانہ بنا کر دہشت گرد عالمی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ’’پشاور پولیس اپنے محدود افرادی وسائل کے ساتھ سماج دشمن عناصر کی تلاش اور انہیں انجام تک پہنچانے کے لئے متعدد کارروائیاں کر رہی ہے لیکن یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ پشاور میں کسی دہشت گرد کارروائی کا امکان نہیں۔ پولیس بیک وقت دو محاذوں پر ڈٹی ہوئی ہے ایک تو نقص امن سے متعلق خطرات ختم کئے جا رہے ہیں اُور دوسرا قانون کا نفاذ و حفاظت فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کی جا رہی ہے تو اگر عوام و خواص اِن دو بنیادوں امور کی انجام دہی میں ہماری مدد نہیں کرسکتے تو کم از کم ایسے اقدامات سے گریز تو کر ہی سکتے ہیں‘ جس سے پولیس کے دردسر میں اضافہ ہو۔

پشاور کے سینما ہال عرصہ دراز سے اُجاڑ ہیں‘ جس کی تین بنیادی وجوہات (خطرات‘ کیبل نیٹ ورک اور پاکستانی فلمیں) ہیں۔ پہلی وجہ تو پے در پے دہشت گرد حملے ہیں جس کی وجہ سے جان کے خطرے کے باعث فلم شائقین کی اِنتہائی کم تعداد سینما گھروں کا رُخ کرتی ہے۔ پھر کیبل نیٹ ورکس کی وجہ سے گھر گھر سینما کھل گئے ہیں اور ایک نہیں انگریزی‘ بھارتی و پاکستانی فلموں کی بیک وقت نمائش ہو رہی ہوتی ہے۔ تو جب گھر جیسے آرام و حفاظت کے ماحول میں فلم دیکھنا ممکن ہو‘ تو بھلا سینما گھروں کا رُخ کون کرے گا۔ تیسرا سبب فلموں کا معیار بالخصوص پشتو فلموں کی یکسانیت بھری کہانیاں ہیں‘ جن میں لڑائی جھگڑے اور دھماکے دار موسیقی کے سوا نہ تو کچھ دیکھنے کو ملتا ہے اور نہ سننے کو۔ حال ہی میں پاکستانی فلم سازوں نے چند اچھی فلمیں بھی بنائیں لیکن بقول ایک سینما مالک‘ پشاور کی مارکیٹ میں صرف اور صرف پشتو فلم ہی چلتی ہے یا پھر ’خاص انگریزی فلموں‘ کی نمائش کرنے میں جو سینما شہرت رکھتے ہیں‘ اُن کا بزنس بھی پہلے جیسا نہیں رہا لیکن اگر پشاور کے سینما گھروں کی رونقیں واپس لوٹ آنے کی خوشخبری ملی ہے تو وہ کرکٹ سے ہے‘ جس کے لئے صابرینہ سینما میں نمائش کے انتظامات کر لئے گئے ہیں اور انتظامیہ کے مطابق تمام ٹکٹ فروخت بھی ہو چکے ہیں!

سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے ’سانحۂ پشاور‘ کے بعد سوگ میں سینما ہال بند ہوئے تو اُنہیں دوبارہ کھولنے کا کسی کو خیال نہ آیا اُور نہ ضرورت پیش آئی کہ شائقین فلم نے مطالبہ کیا ہو۔ پشتو فلمیں کیبل‘ سی ڈی‘ ڈی وی ڈی اور یو ایس بی کے ذریعے گھر گھر اور گاڑی گاڑی دیکھی جا رہی ہیں‘ رہی سہی کسر پشتو زبان کے نام پر چلنے والے سیٹلائٹ چینلوں نے نکال دی ہے‘ جو نت نئی فلمیں اور معروف گلوکاروں کو مدعو کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں محافل موسیقی کا انعقاد کیا جاتا ہے اور بیرون ملک خصوصاً عرب ممالک میں مقیم ’مسافروں‘ کے حال احوال سے خبرگیری اور وہاں کے شب وروز تک ہر بات من و عن پہنچ رہی ہو تو فلم دیکھنے کی زحمت کون گوارہ کرے گا۔ گذشتہ برس پشاور کے دو سینما گھروں (پکچر ہاؤس اور شمع) پر دستی بموں سے حملے ہوئے تھے‘ جس سے درجنوں ہلاکتیں ہوئیں اور شمع سینما پر ہوئے حملے نے تو اُسے گویا ہمیشہ ہی کے لئے خاموش کر دیا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ جن جگہوں پر یہ سینما گھر تعمیر تھے اُن کی قیمت آس پاس کے تجارتی ماحول کے سبب اِس قدر بڑھ گئی کہ مالکان نے حیلوں بہانوں سے سینما گھروں کی جگہ کثیر المنزلہ پلازے کھڑے کر دیئے۔ ایک وقت تک تھا جب پشاور کے عشرت سینما (گل بہار) کی رونقیں دیدنی ہوا کرتی تھیں۔ اب وہاں زمین کا ایک ٹکڑا باقی ہے یا پھر ملبے کی چند اینٹیں۔ ناولٹی سینما (صدر روڈ) نہیں بھولتی جبکہ پلوشہ (امان سینما)‘ میٹرو سینما اور پشاور کا پہلا سینما گھر ’فلک سیر‘ میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی اور آج کرکٹ کا میچ دیکھنے کے لئے سو سے تین سو روپے کا ٹکٹ مقرر کیا گیا ہے‘ جسے خریدنے والے بیتاب بھی ہیں اور ایک اچھے مقابلے کی اُمید بھی رکھتے ہیں۔ صابرینہ سینما میں اگرچہ پاک بھارت کرکٹ میچ کے تمام ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں اور ٹکٹ گھر کی کھڑکیاں بند ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے فون نمبر آویزاں کر دیئے گئے ہیں تاکہ ٹکٹ نہ ملنے کی صورت اُن سے رابطہ کیا جاسکے۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ ’ٹکٹوں‘ کی بلیک نہیں ہوگی اور کرکٹ شائقین کے جذبات سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے‘ جنہوں نے ہر یونین کونسل کی سطح پر کھیل کا ایک میدان بنانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر پشاور میں 92 کھیل کے میدان نہ بنائے جا سکتے ہوں تو کم از کم شاہی باغ‘ وزیرباغ‘ چاچا یونس پارک اور جناح پارک میں کمرشل سرگرمیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔ پشاور کو نئے نہیں تو پرانے باغات ہی واپس کئے جا سکتے ہیں۔ تجویز ہے کہ پشاور کے پانچ مقامات گورگٹھڑی پارک‘ شیخ جنید آباد پارک‘ گلبہار پارک‘ آسیہ پارک اور باغ ناران میں ’پاک بھارت کرکٹ میچ‘ بڑی سکرین پر دکھانے کے انتظامات کئے جائیں تاکہ ’کرکٹ ڈپلومیسی‘ کی طرح عالمی مقابلوں کے موقع سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے۔ ’کرکٹ کے بخار‘ ہی کی برکت سے سہی‘ اگر پشاور کے رہنے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے تو اِس میں مضائقہ اُور حرج ہی کیا ہے؟