Showing posts with label Eid ul Fitar. Show all posts
Showing posts with label Eid ul Fitar. Show all posts

Sunday, May 8, 2022

Pashto Cinema on Eid ul Fitar.

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

تفریحی صنعت:بڑی آزمائش

خیبرپختونخوا کا ایک ثقافتی تعارف ’پشتو فلمی صنعت‘ بھی ہے جو ایک عرصے سے اپنی شناخت اُور وجود برقرار رکھنے کے لئے ’تگ و دو (جدوجہد)‘ کر رہی ہے تاہم اِس ’تفریحی صنعت‘ کے زوال میں پانچ عوامل کا عمل دخل ہے۔ فلموں کی غیرقانونی ویڈیو نقول‘ عریانی و فحاشی‘ ’کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس‘ اسٹیج ڈراموں اُور موبائل فونز کے ذریعے سوشل میڈیا وسائل متعارف ہونے کی صورت لگا‘ جہاں کسی بھی زبان کی پوری فلم یا اُس کے مختلف حصوں کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے گھر گھر ’سینما ہالز‘ تو متعارف کروا دیئے لیکن اِس سستے ترین تفریحی ذریعے کی وجہ سے ایک بہت بڑی صنعت منافع بخش نہیں رہی اُور اِس بات کا احساس متعلقہ نگران حکومتی اداروں کے فیصلہ سازوں کو رتی بھر بھی نہیں جنہوں نے کیبل نیٹ ورکس پر نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات جاری  کرنے کی ’غیرتحریری اجازت‘ دے رکھی ہے جبکہ کیبل نیٹ ورکس کا واحد کام وسیلے کے طور پر ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)‘ کے منظورشدہ ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات صارفین تک پہنچانا تھا اُور صارفین کی تعداد کے لحاظ سے ٹیکس ادا کرتے ہوئے ایک ایسے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا تھی جس میں آپٹیکل فائبر اُور ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH) جیسی وسعت کے لاتعداد اِمکانات موجود ہیں لیکن اِن میں وقت کے ساتھ (حسب ضرورت) ایک تو سرمایہ کاری نہیں ہوئی اُور دوسرا یہ نتیجہ اپنی جگہ پریشان کن ہے کہ کیبل نیٹ ورکس خودمختار نہیں رہے بلکہ ایک گروہ کی صورت بطور ’آلہئ کار‘ استعمال ہونے لگے‘ کیبل نیٹ ورک صارفین کا استحصال جاری ہے اُور یوں نہ ٹیکس ملا‘ نہ اِس منافع بخش صنعت سے فائدہ اُٹھانے والوں نے سرمایہ کاری کی بلکہ الٹا فلمی صنعت کو اِس حد تک نقصان پہنچایا کہ اِس مرتبہ عید الفطر (سال دوہزاربائیس) کے موقع پر صرف ایک پشتو فلم (کشر خان بہ نہ چھیڑے) پشاور میں نمائش کے لئے پیش کی جا سکی جس سے پشتو فلمی صنعت کی حالت اُور اِس سے وابستہ افراد کی مالی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نئی پشتو فلم کے علاؤہ دیگر سینما ہالز میں پرانی فلموں کی نمائش کی گئی کیونکہ اب سینما ہالز کی کشش کسی بھی زبان کی مقامی فلمیں نہیں رہیں بلکہ غیرملکی فلموں کے حصے (ٹوٹے) کانٹ چھانٹ کر دکھائے جاتے ہیں اُور ائرکنڈیشن سینما ہال بہت سے سربینوں کے لئے چند گھنٹوں کی گرمی سے راحت کا سامان اُور تفریح کا غیرصحت مندانہ ذریعہ بن چکے ہیں‘ جو ایک عرصے سے تعمیر کی بجائے ذہنی تخریب کا ذریعہ بھی ہے!

”کشر خان بہ نہ چھیڑے“ کے ستاروں میں شاہد خان‘ ارباز خان‘ فیروزا علی‘ نیب چوہدری‘ عمران خٹک اور رحیمہ شامل ہیں لیکن شاید ہی کوئی سربین اِن اداکاروں کی وجہ سے فلم دیکھنے اپنے گھر سے چلا ہو! سوشل میڈیا کے دور میں تفریح ’بے نامی‘ ہو چکی ہے کیونکہ پشتو کے معروف و غیرمعروف اداکاروں نے پچاس سے زائد ایسے ”یوٹیوب چینلز“ بنا رکھے ہیں جہاں سے اُنہیں سینما کی نسبت زیادہ آمدنی ہو رہی ہے اُور اب تو ’یوٹیوب چینلز‘ پر انفرادی اداکاری کی بجائے اسٹیج پروگرام بھی جاری کئے جاتے ہیں اُور اِس قسم کی پروڈکشن باقاعدہ صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ جہاں لوک گلوکار بھی ملتے ہیں‘ جن کے گائے ہوئے گانے ’اپ لوڈ‘ کئے جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب سینما کے ذریعے اُور بالخصوص عید کے تہوار پر ریلیز کی جانے والی فلموں کا کوئی نہ کوئی اصلاحی پہلو بھی ہوتا تھا۔ فلم بامقصد سے تفریح اُور تفریح سے اوچھے پن کی سمت سفر کرتے کرتے اُس مقام تک آ پہنچی ہے جہاں اِسے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے مزید ’اوچھے پن‘ کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ 

”کشر خان بہ نہ چھیڑے“ نامی فلم کی خاص بات ”سینماٹوگرافی“ ہے جس کے لئے ’شمالی علاقوں‘ کا انتخاب کیا گیا۔ قدرتی مناظر کی خوبصورتی سے مزین اِس شاہکار کو ’بڑے پردے‘ پر دیکھنے کا اپنا ہی مزا ہے اُور اگر اِسے فلم کی ”واحد کشش“ کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا لیکن فلم کا ایک جز معیاری و مقبول موسیقی بھی ہوتی ہے اُور اِس شعبے میں مذکورہ فلم کے پس پردہ (پلے بیک) گلوکار (وسل کھیل‘ شاہ فاروق اور ستارا یونس) مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پشاور کے ارشد سینما میں عید الفطر کے پہلے دن سے جاری نمائش اگرچہ خاطرخواہ پرہجوم نہیں لیکن ”پشتو سنیما گزشتہ کئی دہائیوں سے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور متعدد وجوہات کی بنا پر سنجیدہ نجی سرمایہ کاری اُور تکینکی ماہرین (پروڈیوسروں اور فلم سازوں) نے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے جس کی وجہ سے فنکاروں کا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر ”دا اَختر گلونہ“ کے نام سے ”پشتو میوزیکل شو عید“ کو یادگار بنانے کی کوشش اپنی جگہ کامیاب رہی‘ جس میں ٹیلی ویژن اور اسٹیج کے مقامی اداکاروں نے حصہ لیا اُور سینما ہالز کی نسبت عید کے دوسرے سے چوتھے روز شائقین کی بڑی تعداد نے نشتر ہال کا رخ کیا‘ جہاں ایک نئے رجحان کا ارتقا ہو رہا ہے اُور وہ یہ ہے کہ پشتو فلمی صنعت کے زوال سے اُبھرنے والے اسٹیج پروگرام (لائیو پرفارمنس) مقبول ہو رہے ہیں جن سے محظوظ ہونے اُور اپنے پسندیدہ اداکاروں کو براہ راست دیکھنے اُور سننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اِس سال کی خاص بات یہ بھی تھی کہ ”پشتو میوزیکل عید شو“ کے ٹکٹ آن لائن بھی خریدے گئے اُور ایسے پروگراموں کے موقع پر روائتی جھگڑے بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ یہ سب کچھ سینما ہالز کے سائے میں اُبھرنے والے سٹیج ڈرامہ کلچر کی بدولت ہے جبکہ اسٹیج (تھیٹر) سینما سے پہلے کی ایجاد ہے اُور سینما اسٹیج ہی کی ترقی یافتہ شکل تھی وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگر اسٹیج ڈرامہ مقبول ہو رہا ہے تو اِس سے سینما ختم نہیں ہوگی بلکہ سینما کسی بھی وقت تقویت حاصل کر لے گی لیکن سینما کی واپسی جلد ہونی چاہئے کیونکہ پشاور سمیت دیگر اضلاع میں سینما ہالز تجارتی مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں اُور نئے سینما ہالز نہیں بن رہے۔ اِس پورے شعبے (فلمی صنعت اُور اسٹیج) کے لئے حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ حکومتی اداروں کی نگرانی عروج پر ہونے کی وجہ سے منافع کا ایک بڑا حصہ ناقابل بیان اُور قابل بیان مدوں میں اخراجات کی نذر ہو رہا ہے جیسا کہ بجلی کی قیمت اِس قدر بڑھ گئی ہے کہ دو سے ڈھائی گھنٹے کسی ہال کو ٹھنڈا رکھنے پر اخراجات معمولی نہیں رہے۔ کورونا وبا (سماجی فاصلوں) کے دور سے گزرنے کے بعد فلمی صنعت بالعموم مہنگائی کی صورت نئی مشکل اُور زیادہ بڑی آزمائش سے گزر رہی ہے!

……

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj May 08, 2022


Saturday, May 7, 2022

Festivals & Celebrations without much care makes no-sense!

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

تہوار: غیرذمہ داریاں 

صبر و تحمل‘ برداشت و رواداری اُور معمولات و معاملات زندگی میں اعتدال کے فروغ کی ضرورت ہے۔ تہوار ہوں یا عمومی اَیام‘ حادثات اِتفاقیہ سے دانستہ غلطیوں تک ’غیرذمہ دارانہ‘ روئیوں کی وجہ سے ہر سال اَفسوسناک شناختہ و ناشناختہ واقعات بطور بدترین مثالیں اُور یادیں باقی رہ جاتی ہیں لیکن اِس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کی اکثریت ماضی کی اِن غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے اُور نہ ہی حکومتی اِداروں کی جانب سے بار بار دہرائی جانے والی غلطیوں کا اَزالہ کرنے کے لئے عید سے قبل آگاہی مہمات کی صورت سنجیدہ‘ منظم و مربوط کوششیں کی جاتی ہیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے‘ شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں کہیں ایسی کوششیں کی بھی جاتی ہیں تو اِن کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے اُور یوں ارادے ہار جاتے ہیں‘ جنہیں ہارنا نہیں چاہئے! صورتحال اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے کہ حکومتی اداروں اُور عوام کے درمیان اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے اُور جب کبھی اُور جہاں کہیں حکومتی اداروں کی جانب سے احتیاط‘ شعور‘ تہذیب کے مظاہرے اُور قوانین و قواعد پر عمل درآمد کی تلقین کی جاتی ہے تو اِس پر خاطرخواہ توجہ نہ دینے کے باعث ناقابل تلافی جانی و غیرمعمولی مالی نقصانات ہوتے ہیں۔ حسب معمول اِس سال ایسا ہی دیکھنے میں آیا اُور عیدالفطر کی مبارک ساعتوں میں جب خوشیاں سمیٹنا اُور بانٹنا تھیں لیکن درجنوں افراد اپنے اہل خانہ اُور دوست احباب کو مغموم چھوڑ گئے اُور بہت سے خاندان سوگوار رہے جن میں ہوائی فائرنگ سے زخمی و ہلاک ہونے والے بھی شامل ہیں! اِن کے علاؤہ ٹریفک و حادثات اتفاقیہ سے لیکر بے احتیاطی کی وجہ سے پیش آنے والے واقعات معاشرے کے اُس بدنما چہرے کو نمایاں کر رہے ہیں جس میں اپنی اُور دوسروں کی جان و مال کا خاطرخواہ خیال نہیں رکھا جاتا۔ اِن واقعات کے رونما ہونے سے زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ حادثات سبق آموز نہیں رہے اُور اِنہیں فراموش کر دیا جاتا ہے جو یکساں بڑی غلطی ہے۔

عیدالفطر کے ایام (2 مئی سے 5 مئی 2022ء) کے دوران خیبرپختونخوا کے 33 اضلاع میں مختلف حادثات کے دوران 46 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مجموعی طور پر 2 ہزار 421 ایسے واقعات میں ’ہنگامی امداد و خدمات‘ فراہم کی گئیں۔ پانچ مئی کے روز ’ریسکیو 1122‘ کی طرف سے جاری کردہ ’اعدادوشمار‘ کے مطابق ”عیدالفطر کے اَیام میں خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر ”456 ٹریفک حادثات“ ہوئے جبکہ 1645 صحت کے حوالے سے ہنگامی حالات‘ 160 آگ لگنے کے واقعات اُور 42 جرائم کی اطلاعات ملنے پر کاروائیاں کی گئیں۔ مذکورہ عرصے کے دوران پانچ افراد نہانے سے ڈوبنے‘ عمارتوں کے انہدام سے پانچ افراد کی ہلاکت‘ گیس لیک ہونے سے ہوئے سلینڈر دھماکوں کے تین واقعات جبکہ 95 دیگر مواقعوں پر ریسکیو اِہلکاروں نے خدمات فراہم کیں۔ قابل ذکر ہے کہ سرکاری علاج گاہوں میں تعینات طبی و معاون طبی عملے کی طرح ’ریسکیو 1122‘ کے اہلکاروں نے بھی عیدالفطر کے ایام میں خدمات کی فراہمی جاری رکھیں۔

 تہوار اجتماعی ہوں یا انفرادی‘ اِن کے منانے والوں کو خوشی مناتے ہوئے ”آپے سے باہر“ نہیں ہونا چاہئے اُور اِس سلسلے میں کتاب و سنت کی طرف سے رہنمائی موجود ہے‘ جس کی تہواروں کے مواقعوں پر یادآوری کا اہتمام و انتظام ہونا چاہئے کہ  ’احتیاط‘ کا دامن کسی بھی صورت ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے اُور لب لباب یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی خوشیاں اُور غم شریعت ِاسلامی (پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت) کے مطابق بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

……

Clipping from Daily Aaj Editorial Page, Peshawar Abbottabad


Monday, May 2, 2022

Have a meaningful Eid, this year!

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

بامقصد تہوار

پشاور کے سرتاج روحانی‘ علمی و ادبی اُور سیاسی گھرانے کے بزگوار پیر طریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ اپنے خطبات اُور محافل میں زندگی کو بامقصد بسر کرنے کی تلقین فرماتے بالخصوص ’عیدالفطر‘ جیسے تہوار یا دیگر خصوصی مواقعوں پر آپؒ کی وعظ و نصیحت کا خلاصہ ”فرائض کا اہتمام‘ سنتوں کی اتباع اُور تقویٰ“ سے متعلق ہوتا۔ آپ چاہتے تھے کہ ہر شخص اپنی زندگی کے ہر ایک لمحے کا احتساب اُور حساب کرے۔ تفکر سے کام لے۔ سوچ سمجھ کر زندگی بسر کرے اُور اگر زندگی بامقصد اُور تعمیری انداز میں منائی جائے تو اِس سے ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی اُور اگر تہواروں کو شعوری طور پر منانے اُور مختلف انداز میں ’یادگار‘ بنانے کی کوشش کی جائے تو اِس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر خیر و اصلاح جیسے ثمرات بھی حاصل ہوں گے۔ امیرالمومنین سیّدنا علی ابن ابیطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ ”مومن کے لئے اُس کی زندگی کا وہ ہر دن عید ہے‘ جس دن اُس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔“ اسلامی تہواروں کے حقیقی تصور اُور مقصد کے حصول کے لئے عہد کیا جا سکتا ہے کہ اِس مرتبہ عیدالفطر پر کم سے کم ”9 امور کی انجام دہی کا بطور خاص خیال رکھا جائے گا۔“

1: صبح جلدی اُٹھ کر مسواک یا ٹوتھ برش کے ذریعے دانت صاف کئے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں میں جس ایک عمل کا کثرت سے ذکر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ عید الفطر کی صبح سویرے مسواک سے دن کا آغاز فرماتے۔ طبی نکتہئ نظر سے بھی دانتوں کی اچھی دیکھ بھال نہ صرف مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ اس سے خوشگوار مسکراہٹ اور تازہ سانس کے ذریعے ایک پراعتماد دن کا آغاز ہوتا ہے۔

2: عیدالفطر کی صبح غسل کرنا‘ صاف اُور بہترین کپڑے پہننا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق (سنت) ہے۔ غسل (نہانے) کا مطلب جسمانی تطہیر ہے۔ یہی غسل جمعۃ المبارک‘ عیدین اُور دیگر خصوصی ایام کے لئے بھی کیا جاتا ہے جو اگرچہ واجب نہیں لیکن سنت کی اتباع اگر مقصود ہے تو اِس کی پابندی مستحبات میں شامل ہے۔ عید کے دن صاف‘ پاک و پاکیزہ لباس اُور خوشبو (پرفیوم) کا استعمال بہترین اعمال و معمولات میں سے ہیں۔ حدیث شریف ہے کہ ”اگر کوئی شخص (مرد یا عورت) عید کے دن نئے کپڑوں کی مالی سکت نہ رکھتے ہوں تو پہلے سے استعمال شدہ کپڑے اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔“ یہ شرعی نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ خواتین کے لئے خوشبو لگانے کی شرائط مرد سے مختلف ہیں اُور خواتین کو ”تیز خوشبو“ لگانے کی اجازت نہیں۔ اِسی طرح مردوں کے لئے ریشمی کپڑے اُور زیورات پہننے کی ممانعت ہے۔ 

3: عید کے دن تکبیرات (اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَا إلَہَ إلَّا اللَّہُ وَاَللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ) پڑھنے کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔ 

4: عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کے لئے پیدل جایا جائے یا مسجد کے کچھ فاصلے تک گاڑی میں سفر کرنے کے بعد سنت ادا کرنے کی نیت سے چند قدم ہی سہی لیکن لازماً پیدل چل کر جایا جائے۔ اِسی طرح نماز عید کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکلنے سے قبل کچھ میٹھا (بہتر ہے کہ کھجوریں) کھائی جائیں۔

5: تسلی کر لیں کہ عید الفطر کی نماز ادا کرنے سے قبل صدقہ فطر اَدا کر دیا گیا ہے اگر نہیں کیا تو ساری زندگی ساکت (ختم) نہیں ہوگا بلکہ واجب الادأ رہے گا۔ فقہ حنفیہ (اہلسنت و الجماعت) کے مطابق رواں برس 2022ء کے لئے گندم کے حساب سے کم سے کم فطرانہ 160 روپے فی کس جبکہ ’فقہئ جعفریہ‘ اُور مسلک ِاہل حدیث کے مطابق 170 روپے فی کس مقرر ہے۔ صدقہئ فطر کی کم سے کم شرح کی بجائے سے زیادہ سے زیادہ شرح سے فطرانہ اَدا کر کے غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں یکساں شریک کریں۔ ذہن نشین رہے کہ اسلام میں کسی بھی خصوصیت یا تہوار کا تصور انفرادی خوشی کا اظہار و اہتمام نہیں بلکہ تہوار بامعنی ہیں اُور یہ خوشی کے اجتماعی اظہار کے مواقع ہیں اُور اِس لحاظ سے عید محض عید نہیں بلکہ اگر اسے سمجھا جائے تو اِس تہوار کی معنویت اُور مقصدیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

 6: نماز عید کی ادائیگی کے لئے کسی ایسے مقام کا انتخاب کیا جائے جہاں عید کھلے آسمان کے نیچے ادا کرنے کا انتظام ہو‘ بہ امر مجبوری الگ بات ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز ہمیشہ کھلے آسمان تلے ادا فرمائی جبکہ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے اندر (چھت تلے) عید کی نماز اَدا کی تھی۔

7: عید کا تہوار تحفے‘ تحائف (عیدی)‘ اِہل و عیال اُور پڑوسیوں سے ملاقات کا موقع ہے۔ عمومی معمولات میں جب عزیزواقارب سے ملنے ملانے کی فرصت نہیں رہتی تو عید کے موقع پر ایسی ملاقاتوں کا بالخصوص اہتمام کیا جانا چاہئے۔

 8: رمضان المبارک کے بعد شروع ہونے والے اسلامی مہینے شوال المعظم کے 6 روزے رکھنے کی نیت ابھی سے کر لیں۔ شوال کے روزے عید الفطر کے دوسرے دن سے ماہئ شوال المکرم کے دوران کبھی بھی رکھے جا سکتے ہیں اُور اِن کا اہتمام لگاتار بھی کیا جا سکتا ہے اُور یہ روزے مسلسل (یکے بعد دیگرے) یا ایام کے وقفے سے بھی رکھے جا سکتے ہیں تاہم چھ روزوں کی گنتی پوری کرنا سنت ہے۔ حدیث شریف ہے کہ ”جس نے پورے رمضان المبارک کے روزے رکھے اُور پھر شوال کے چھ دن بھی روزہ دار رہا‘ تو اِسے پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔“

9: رمضان المبارک کی طرح سال کے دیگر مہینوں میں بھی عبادات بالخصوص قرآن شریف پڑھنے کی ابھی سے نیت کر لیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جس طرح رمضان المبارک میں عبادت گاہیں آباد رہیں بالکل اِسی طرح سال کے دیگر ایام میں بھی عبادات کا ذوق و شوق برقرار (ساری زندگی قائم و دائم) رہے۔ 

……

Clipping from Editorial Page Daily Aaj Peshawar / Abbottabad May 02, 2022



Saturday, May 9, 2020

Fitrana this year?

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
پیشگی صدقہ فطر؟
کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی غیرمعمولی معاشی مشکلات اُور سماجی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے ’پیشگی فطرانہ ادائیگی مہم‘ چلائی جا رہی ہے‘ جس کا خلاصہ یہ ہے 1: سرمایہ دار اِس مرتبہ اپنی زکوة‘فطرانہ اُور صدقات کی شرح میں اضافہ کریں اُور 2: فطرانہ اَدا کرنے کے لئے آخری روزے (ماہ رمضان المبارک) کی تکمیل کا انتظار نہ کیا جائے۔“ اِس سماجی مطالبے کے دونوں پہلووں کے بارے میں مختلف مسالک کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے چونکہ فطرانے کو فطر (یکم شوال یعنی عید کے دن) سے منسوب کیا گیا ہے‘ اِس لئے عید الفطر کا دن ہی فطرانہ کی ادائیگی کا وقت ہے جیساکہ رمضان المبارک کے کسی دن کا روزہ اُس کے افطار پر مکمل ہوتا ہے اِس جواز پر فقہاءکے ایک طبقے کا موقف غیرلچکدار ہے جو ”ماہ رمضان المبارک کے آخری یوم کا سورج غروب ہونے سے قبل فطرانہ ادا کرنے کو جائز قرار نہیں سمجھتے اُور اِس قدر رعایت دیتے ہیں کہ عیدالفطر سے 1یا 2 دن قبل فطرانہ ادا کر دیا ہے کیونکہ فطرانہ کی ادائیگی کا حقیقی وقت رمضان المبارک کے آخری روزے کا سورج غروب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے‘ اِس لئے افضل یہی ہے اُور اگر ممکن ہو تو عیدالفطر کی صبح فطرانہ اَدا کیا جائے۔“

اِس مسئلے کا ایک اِنسانی پہلو بھی ہے اُور وہ یہ کہ فطرانہ وقت سے پہلے ادا کرنے سے فطرانہ وصول کرنے والے (مستحقین) عید کی تیاریوں میں زیادہ بہتر انداز سے شامل ہو سکیں۔ ہر عبادت کی ایک روح (مقصدیت) بھی ہوتی ہے تو 3 پہلووں (انسانی ضرورت‘ مقصدیت اُور خصوصی حالات) کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اِس سال فطرانہ کی دس پندرہ روز قبل ادائیگی جائز قرار دی جائے تو یہ زیادہ مفید عمل ہوگا یقینا اِس سلسلے میں علمائے کرام بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔

اسلام صرف عبادات (حقوق اللہ) کی حد تک محدود نہیں بلکہ اِس میں دنیاوی حقوق کی ادائیگی پر بھی زور دیا گیا ہے اُور اِسی لئے وجوب اُور عدم وجوب کے لحاظ سے 2 قسم کے صدقات (صدقہ واجبہ اُور صدقہ نافلہ) کا حکم ہے۔ واجبہ سے مراد ہر صاحب نصاب بالغ مرد یا عورت پر فرض (لازم) صدقات ہیں‘ اِن میں زکوة‘ صدقہ فطر اُور عشر وغیرہ شامل ہیں۔ بالخصوص صدقہ فطر ہر مسلمان غلام اُور آزاد‘ مرد و عورت‘ بچے اُور بوڑھے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو واجب ٹھہرایا گیا ہے۔ زکوة کی ادائیگی کے لئے سال بھر ایک خاص نصاب کا باقی رہنا شرط ہے لیکن صدقہ فطر میں نصاب پر سال کا گزرنا شرط نہیں بلکہ اگر کسی شخص کے پاس عیدالفطر کے دن کہیں سے اِس قدر رقم آ جائے جو زکوة کے نصاب کے برابر ہو اُور اُس کی حاجات اصلیہ سے زائد بھی ہو تو اُس پر صدقہ فطر کی ادائیگی واجب (لازم) ہو جاتی ہے۔ ”صدقہ نافلہ“ کے تحت کوئی بھی شخص (مرد یا عورت) اپنی ضرورت سے زائد مال غریبوں‘ مسکینوں‘ محتاجوں اُور فقیروں میں تقسیم یا اُن پر خرچ کرتا ہے۔ صدقات واجبہ اُور نافلہ کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے والوں کے روز قیامت درجات اُتنے ہی بلند ہوں گے۔ 

قرآن کریم کی 35ویں سورہ¿ مبارکہ فاطر کی 29ویں آیت میں ”اللہ تعالیٰ سے تجارت“ کرنے کے ایک طریقے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے (ترجمہ): ”جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اُور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اُور جو کچھ اُنہیں عطا کیا گیا اُس میں سے پوشیدہ اُور ظاہراً خرچ کرتے ہیں تو (درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کی جانے والی) ایسی تجارت (لین دین) ہے جس میں خسارہ نہیں۔“ سورہ¿ مبارکہ بقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کی مثال اُس دانے (اناج) جیسی ہے‘ جس میں سات بالیاں نکلیں اُور ہر بالی میں 100 دانے ہوں‘ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر اجر دے‘ وہ کشادگی اُور علم والا ہے۔“

صدقہ فطر مالی انفاق ہے جسے ادا کرنے کا حکم زکوٰة کی فرضیت سے قبل اُس برس دیا گیا جب ماہ¿ رمضان المبارک کے روزہ فرض ہوئے تھے۔ ذہن نشین رہے کہ روزے کی فرضیت کا حکم سن 2 ہجری میں تحویل قبلہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا اُور روزے سے متعلق دوسرے سورہ¿ مبارک البقرہ کی 185ویں آیت شعبان المعظم میں نازل ہوئی تھی۔ صدقہ فطر صاحب نصاب لوگوں کی جانب سے غریبوں کو دیا جاتا ہے اُور اِس صدقے کو عرف عام میں ”فطرانہ“ کہتے ہیں‘ عمومی طور پر ہر زکوة ادا کرنے والے پر فطرانہ فرض ہے اُور بنیادی مقصد یہ ہے کہ عیدالفطر کے تہوار میں معاشرے کے غریب‘ مسکین‘ نادار (مالی طور پر کمزور طبقات) بھی شریک ہو سکیں۔ علاوہ ازیں ماہ رمضان المبارک میں روزے اُور دیگر عبادات کی قبولیت کو ”صدقہ فطر“ سے مشروط کر دیا گیا ہے‘ جس سے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حکمت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ فطر کو اِس لئے فرض قرار دیا تاکہ روزے (فرض عبادت) کے خاطرخواہ احترام میں رہ جانے والی دانستہ و غیردانستہ کمی بیشی (غلطی‘ کوتاہی یا بے ادبی) کا اَزالہ ہو سکے۔

فطرانے کے حوالے سے مختلف مسالک کی جانب سے نصاب کا اعلان کر رکھا ہے۔ جامعة العلوم الاسلامیہ‘ بنوری ٹاون کراچی (دیوبند مسلک) دارالافتاءکے مطابق رواں برس (سال دوہزاربیس) کے لئے فطرانہ کی رقم مختلف اناج کے حساب سے طے کی گئی ہے‘ جس میں گندم کی قیمت کے تناسب سے 100‘ جو کے لئے 250‘ کھجور کے لئے 1100 اُور کشمش کے لئے 1700 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن یہ کم سے کم فطرانہ ہے‘ اگر کوئی صاحب ثروت اِس سے زیادہ‘ اُور جس قدر زیادہ فطرانہ اَدا کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ پشاور کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی (مسجد قاسم علی خان) نے فطرانہ کی رقم 115 روپے مقرر کرتے ہوئے اعلان میں کہا ہے کہ 1: مستحقین زکوة ہی مستحقین صدقہ فطر ہیں۔ 2: فطرانہ نماز عید سے قبل ادا کرنے میں فضیلت اُور زیادہ اجروثواب ہے۔ 3: گندم 115‘ کھجور 880‘ جو 180‘ کشمش 1200 اُور پنیر کے مطابق 2800 روپے فطرانہ مقرر کیا گیا ہے۔ 

مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کے فتوی (بریلوی مسلک) کے مطابق اِس سال کے لئے صدقہ فطر 125 روپے ہے جو گزشتہ برس (2019) کے لئے 100 روپے تھا۔ اِس سلسلے میں صدقہ فطر اور فدیہ مقرر کرنے کے لئے 2کلوگرام چکی کے آٹا پر فی کس صدقہ فطر متعین کیا گیا ہے۔ دیگر اجناس میں جو کے نصاب سے فطرہ 320‘ کھجور کے نصاب سے 1600‘ کشمش (خشک میوہ) کے نصاب سے 1920 اور پنیر کے نصاب 3540 روپے بتایا گیا ہے۔ فتوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اہلِ ثروت اپنی مالی حیثیت کے مطابق فطرہ و فدیہ ادا کریں اُور جو لوگ کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے وہ 30 روزوں کا فدیہ بالترتیب چکی کا آٹا 3750‘ جو 9600‘ کھجور 48 ہزار‘ کشمش 57ہزار 600‘ اور پنیر 1 لاکھ 6200 روپے کے تناسب سے اَدا کریں۔

فقہ جعفریہ (اہل تشیع اثنائے عشریہ) کی جانب سے گذشتہ برس صدقہ فطر 150 روپے جبکہ اِس سال (2020) کے لئے 175 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ احتیاط کے طور پر فی کس کم سے کم فطرانہ 200 روپے ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 

لب لباب یہ ہے کہ تمام مسالک کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ کم سے کم کے چکر پڑنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ فطرانہ ادا کرنے میں حرج نہیں البتہ صدقہ فطر کی ابتدائی حد معلوم ہونی چاہئے کہ اُس سے کم شرح سے دیا گیا صدقہ فطر ادا نہیں ہوگا۔ صدقہ فطر عید (یکم شوال المکرم) سے چند روز قبل بھی ادا کیا جا سکتا ہے اُور اِس سلسلے میں بخاری شریف کے باب صدقہ فطر میں امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اِس معمول کا ذکر محفوظ ہے کہ آپ عید الفطر سے ایک دو روز قبل اپنا فطرانہ ادا کر دیا کرتے تھے۔ فطرانہ کی ادائیگی نماز عید الفطر کے بعد تک موخر کرنا مکروہ جبکہ بعض فقہاءکے نزدیک حرام اُور ایسا کرنے کی صورت میں قضاءواجب (لازم) ہوگی۔
........
Clipping from Daily Aaj May 09 2020  Saturday 


Thursday, June 29, 2017

June2017: Tourism on Eid


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
عید شہید!

موسم گرما کی شدت اُور گرفت سے چند روزہ سکون کی تلاش میں خیبرپختونخوا سمیت ملک کے میدانی علاقوں سے پہاڑوں کا رخ کرنے والے ’’تہوار اُور تعطیلات‘‘ کے ہر ایک پل سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف ’سیاحتی سیزن‘ کا اِنتظار کرنے والے مقامی افراد کے لئے ہر سال ’اپریل سے اگست (چار ماہ عروج)‘ کا عرصہ‘ روزگار کا ذریعہ بھی ہے تاہم ’سیاحتی ترقی‘ منصوبہ بندی اُور سہولیات‘ کا موازنہ اَگر صوبہ پنجاب سے کیا جائے تو خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر قیام و طعام (اِنفراسٹکچر)‘ اِن مقامات تک رسائی کے راستے (روڈ نیٹ ورکس)‘ ذرائع آمدورفت (پبلک ٹرانسپورٹ) اُور رہنمائی کی سہولیات کے معیار میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر صوبوں سے آئے ’مہمان سیاحوں‘ کے نکتۂ نظر سے بالائی خیبرپختونخوا (گلیات‘ کاغان‘ ناران‘ سوات تا کالام اُور چترال کی وادیوں) کا ’قدرتی (فطرتی) حسن اُور آب و ہوا‘ ملک کے دیگر صوبوں حتیٰ کہ یورپی ممالک سے بھی بہتر ہے تاہم ’سیاحت بطور صنعت‘ متعارف کرانے‘ نجی شعبے کے مدد سے بہتری کی گنجائش اُور تعمیروترقی کے لاتعداد اِمکانات کو ترقی دی جاسکتی ہے‘ جس کے لئے مالی وسائل سے زیادہ فیصلہ سازوں کے سنجیدہ روئیوں اُور مربوط ترقی کی جامع حکمت عملی وضع کرنے میں متعلقہ شعبے کے ماہرین سمیت ہر مکتب فکر سے مشاورت ہونی چاہئے۔ 

فوری اِصلاحات کے لئے ’ملکی و غیرملکی سیاحوں کی رائے (فیڈبیک)‘ سب سے زیادہ کارآمد‘ قابل بھروسہ (مؤثر) ذریعہ ہوسکتا ہے‘ جس کے لئے سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا)‘ اِینڈرائرڈ اُور دیگر سسٹمز پر چلنے والی اَیپ (سافٹ وئرز)‘ جی پی ایس نقشے‘ آئی وی آر (Interactive Voice Response) سے جڑے ٹول فری (toll-free) نمبر‘ لمحہ بہ لمحہ ٹریفک صورتحال‘ سیاحتی رہنمائی اُور موسمی معلومات کے لئے ’ایف ایم‘ ریڈیو نشریات متعارف کی جا سکتی ہیں جبکہ سیاحتی مقامات کے بارے میں ایسا ’تعارفی لٹریچر‘ بھی تخلیق کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے کسی خاص علاقے میں جنگلات و جنگی حیات کی خوراک‘ ماحولیاتی تنوع میں اُن کی اہمیت‘ مزاج (حفاظتی اُور بقاء کے نکتۂ نظر سے پسندوناپسند)‘ عمومی کھانے پینے و دیگر عادات و خصوصیات کے بارے تفصیلات (رہنما اَصول) عام کی جا سکتی ہیں جس سے ماحول شناسی اُور ہم زمین جانداروں کے بارے میں معلومات ذہن نشین ہوتی چلی جائیں گی اُور سیاحت کا ’تفریحی عمل‘ زیادہ جامع (بامقصد) بن جائے گا۔ تصور کیجئے کہ سیروتفریح کے آنے والوں کو اگر باتوں باتوں‘ قصے کہانیوں‘ راستوں کی رہنمائی کرتے ہوئے درختوں‘ چرند پرند‘ جڑی بوٹیوں‘ موسمی درجۂ حرارت اور انہیں دیگر معلومات منتقل کی جائیں تو اِس (multi-tasking) میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ 

سیاحوں کی رجسٹریشن‘ ہنگامی حالات میں علاج معالجے کی اِضافی (الگ سے) سہولیات کا بندوبست اُور گاڑیوں کے لئے گشتی ورکشاپیں بھی چند ایسی ضروریات ہیں‘ جن کی کمی اُن سبھی سیاحوں کو زیادہ شدت (بلکہ حیرت) سے محسوس ہوتی ہے‘ جو پہلی مرتبہ یا باقاعدگی سے ’سیاحتی سیزن‘ کے دوران ہر سال خیبرپختونخوا کا رُخ کرتے ہیں‘ جہاں گذشتہ چار سال سے ’تحریک اِنصاف‘ کی حکومت ہے لیکن حسب وعدہ ’نیا پاکستان (تبدیلی)‘ دِکھائی نہیں دے رہا! تو کیا ہم سب اَندھے ہو چکے ہیں یا سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اِس زعم (خودفریبی) میں مبتلا ہیں کہ اِقتدار دائمی ہوتا ہے! ’’کر رہا تھا غم جہاں کا حساب۔۔۔آج تم یاد بے حساب آئے (فیض اَحمد فیضؔ )۔‘‘

Monday, July 20, 2015

Jul2015: Eid with IDPs

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سب کی عید؟
وہ کہ جنہوں نے بھوک پیاس کی شدت کے ساتھ رمضان المبارک کی ساعتوں میں صبر و شکر کا عظیم الشان عملی مظاہرہ کیا اُن کا ضبط بھی برقرار نہ رہے سکا۔ عیدالفطر کے لمحات میں گرم پانی سے افطار کرنے والوں کی آنکھیں بھر آئیں! اگر بچوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اچانک ایسا کیا ہوگیا ہے کہ اُن کے سایہ دار گلی کوچے چھین لئے گئے تو بڑے بڑوں کی یاداشت بھی ان کے آبائی علاقوں ہی کے بارے میں تھی جس کی وجہ سے وہ باوجود کوشش بھی فرط جذبات سے آنسو روک نہیں پا رہے تھے۔

پشاور سے کم و بیش ایک گھنٹے کی مسافت پر نوشہرہ کی حدود میں واقع ’جلوزئی کیمپ‘ قبائلی خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے ڈھائی ہزار جبکہ باجوڑ و مہمند ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار (مجموعی طور پر تین ہزار پانچ سو سے زائد) خاندان آباد ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق عیدالفطر سے قبل اپنے ہی ملک میں ’مہاجرت‘ کی زندگی بسرکرنے والوں کو متعلقہ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے ’عید پیکج‘ کے طور پر نہ تو نئے کپڑے دیئے گئے اور نہ ہی اشیائے خوردونوش دی گئیں۔ مقام حیرت یہ بھی ہے کہ رمضان کے آغاز سے قبل تک غیر ملکی امدادی اداروں کی جانب سے جو امداد مل رہی تھی‘ عید کے آتے آتے وہ بھی کم ہوتی چلی گئی۔ ایک ایسا دشت و بیاباں کہ جس میں درخت نام کی شے کا پتہ پوچھنے والوں کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ چلو کسی بہانے سبزے اُور چھاؤں کا نام تو ذکر ہوا۔ اِس تہوار کے موقع پر قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے قائم متعدد حکومتی اداروں میں کروڑوں روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کرنے والے ملازمین کو بھی ’جلوزئی‘ کیمپ کا خیال نہیں آیا۔ اصولی طور پر اگر ’فاٹا سیکرٹریٹ‘ اور ’امدادی اداروں (ڈونر ایجنسیوں) سے بہبود کے منصوبوں (پراجیکٹس) کے لئے کروڑوں روپے لینے والے غیرسرکاری اداروں کے اعلیٰ و ادنی اہلکاروں نے بھی اپنی اپنی ائرکنڈیشن گاڑیوں میں بیٹھ کر ’جلوزئی کیمپ‘ میں عیدالفطر کی نماز ادا کرتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ الیکٹرانک ذرائع ابلاغ (ٹیلی ویژن چینلوں) کے ذریعے نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات و تکالیف کو پوری دنیا اور بالخصوص ملک کے بڑے و خوشحال شہروں میں رہنے والوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔ اٹھارہ کروڑ میں سے کم از کم پانچ کروڑ بھی اگر صرف اپنے ہی حصے کا فطرانہ اِس مرتبہ نقل مکانی کرنے والوں کے لئے کسی خاص بینک اکاونٹ میں جمع کراتے تو صورتحال زیادہ خوشگوار اور تبدیل ہوتی! آخر ہم کیوں اس قدر حساس نہیں کہ ہماری طرح دوسروں کی بھی عید ہوتی ہے۔ ہماری ہی طرح دوسروں کے بچوں کو بھی عید کے موقع پر نئے کپڑوں‘ جوتوں اور تفریح کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس امن سکون اور خوشحالی کے ہم اپنے اور اپنے اہل خانہ اُور عزیزواقارب کے لئے متمنی ہوتے ہیں آخر وہی دوسروں کے لئے کیوں نہیں چاہتے۔ نجانے ’عید سب کے لئے‘ اور ’سب کی عید‘ کب ہوگی!

جب ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ عام ایام کے مقابلے زیادہ سے زیادہ مالی وسائل عید کے موقع پر خرچ کرے۔ دعوتیں کی جائیں۔ عزیزواقارب کے گھر مبارک باد دینے کے لئے بہ اہتمام جایا جائے۔ مدعو کئے جانے والوں یا حسب سابق مسکراتے ہوئے مہمانوں کو بانہیں کھول کھول کر ملنے والے مہمان نوازی میں کسر بہ چھوڑیں۔ مہندی‘ چوڑیاں‘ خوشبو‘ نئے فیشن کے مطابق سلے ہوئے ملبوسات‘ زیورات‘ جوتے‘ الغرض اُجلے مہکتے تن بدن کے ساتھ عید کی ساعتوں میں جو جس قدر خرچ کرتا ہے اُسے اُتنا ہی کم لگ رہا ہوتا ہے‘ لیکن کیا یہی سخاوت ہے؟ کیا یہی فیاضی ہے؟ کیا یہی وہ تبدیلی تھی جس کے اثرات رمضان المبارک کے روزے و دیگر عبادات مکمل کرنے کے بعد ہماری عملی زندگیوں میں نظر آنا تھے؟ کیا عیدالفطر کا فلسفہ یہی تھا کہ ہم اپنی خوشیوں میں صرف اپنوں اور جاننے والوں ہی کو شریک کرتے؟!
یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ عیدالفطر کی نماز سے قبل وعظ و تلقین پر مبنی بیانات (خطبات) کی اکثریت میں ’نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کا ذکر‘ نہیں کیا گیا کیونکہ ہمارے ہاں ایسا محکمہ تو موجود ہے جو مساجد میں قیام و طعام اور خدمت دین کرنے والوں خدمت گزاروں کو ماہانہ تنخواہیں اُور مراعات (معاوضہ) ادا کرتا ہے لیکن سرکاری طور پر نماز جمعہ یا عیدین کے موقع پر حکومت ایسے موضوعات یا ان کے مندراجات (ایڈوائزری) جاری نہیں کرتی جن کا تعلق ہمارے روزمرہ حالات یا اُن خصوصی و ہنگامی حالات سے ہو۔ عبادات اُور منبر و محراب کا تعلق ہماری عملی زندگیوں سے کٹ سا گیا ہے‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو حقوق العباد کے بارے تذکرہ و تلقین نہ ہونے کے باوجود ہم میں سے ہر ایک ’مہاجر و انصار‘ جیسا کردار اَدا کر رہا ہوتا۔ دل چھوٹے اور مکانات وسیع وعریض اور ایک وقت تھا کہ رہائشگاہیں چھوٹی اور دل بڑے ہوتے تھے! اگر ایسا نہ ہوتا تو عید کے موقع پر ہمارے اپنے ہی (قبائلی) لوگ دشت و بیاباں میں کھلے آسمان تلے یوں کسمپرسی و بے سروسامانی کی حالت میں رمضان اُور عیدالفطر کی ساعتوں میں غمزدہ‘ فکرمند اور اپنے اپنے مستقبل کے بارے میں غیریقینی و مایوسی کا شکار نہ ہوتے! ہم نے قبائلیوں کو کیا دیا۔ ایک امتیازی قانون‘ ایک تعصب بھرا رویہ‘ ایک خوف اور اندیشوں میں گھرا ہوا مستقبل!

جلوزئی کیمپ سمیت پشاور‘ ایبٹ آباد‘ کوہاٹ‘ ڈیرہ اِسماعیل خان‘ بنوں اُور دیگر علاقوں میں جہاں کہیں بھی نقل مکانی کرنے والوں سے بات چیت کا اِتفاق ہوا‘ اُن کے نوجونواں کی اکثریت کو سب سے زیادہ فکر مستقبل کے بارے میں لاحق تھی کیونکہ جس انداز میں حکومتی اداروں کی جانب سے اب تک دردمندی کا اظہار کیا گیا ہے‘ اس سے کہیں گنا زیادہ بہتر یہی تھا کہ وہ شورش زدہ علاقوں میں اپنے مٹی کے مکانوں میں دب کر مر جاتے۔ اتنی بھوک‘ اتنی افلاس‘ اتنی بے سروسامانی اور اتنی بے بسی تو اِن لوگوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ ہی یہ رویہ اُن کی توقعات کے عین مطابق تھا کہ ایسا ماجرا اُور اُن سے غیروں جیسا ہتک آمیز سلوک روا رکھا جائے گا! کیا ہم خیمہ بستی کی ایک ایسی زندگی کا تصور کرسکتے ہیں جہاں تین ماہ سے بجلی نہ ہو۔

 گرمی کی شدت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خیموں میں چھاؤں تو میسر تھی لیکن چند منٹ خیمے کے اندر بیٹھنے سے ’گرین ہاؤس افیکٹ‘ کے سبب دماغ اُبلتا ہوا محسوس ہونے لگے۔ اچھے دنوں کی یادیں بیان کرنے والوں نے سال دوہزار چودہ میں حکومت اور فوج کی جانب سے ملنے والے عید کے تحائف کا ذکر کیا‘ جن کا اِس مرتبہ دور دور تک نام و نشان نہیں تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اب تک امداد کی مالیت سے زیادہ تشہیری مہمات پر خرچ کیا جاچکا ہوتا!

پاک فوج کے سربراہ نے (مرکزی) عیدالفطر کے پہلا دن جو لمحات بنوں میں نقل مکانی کرنے والوں کے ساتھ بسر کئے‘ وہ نہایت ہی قیمتی تھے کیونکہ اگر ہم سیاسی حکام کی نااہلی کے سبب نقل مکانی کرنے والوں کی خاطرخواہ مدد نہیں کر سکے تو کم از کم اُنہیں اِس بات کا یقین تو دلایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقوں واپسی‘ معیشت و معاشرت کی بحالی اور تباہی و بربادی کی تصویر بنے علاقوں کی ’تعمیر نو‘ کے حوالے سے مستقبل کے بارے میں نااُمید نہ ہوں۔

Friday, July 17, 2015

Jul2015: Eid and entertainment

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عید: تفریحی امکانات
امن وامان کی صورتحال میں غیرمعمولی بہتری (تبدیلی)کے سبب اِس سال ’عیدالفطر‘ کے لمحات میں تفریحی مقامات کی رونقیں گذشتہ کئی برس کے مقابلے زیادہ ہیں تاہم گنجائش سے زیادہ پرجوش ہجوم کے لئے خاطرخواہ سہولیات کا بندوبست کی روایت تبدیل ہونی چاہئے۔ حکومت کا کام صرف تعطیلات دینا ہی نہیں ہوتا بلکہ اِن تعطیلات کے دوران معیاری و صحت مند تفریح کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوتے ہیں‘ کاش کہ یہ ایک باریک نکتہ‘ جو متعدد مرتبہ اِنہی سطور کے ذریعے بیان کیا گیا قابل غور و توجہ سمجھا جائے۔

یوں تو بازاروں کی بحال ہوئی رونقیں اور چہروں پر خوف کی بجائے مسرت بھرے جذبات حاوی دیکھ کر مسرت ہوتی ہے لیکن تفریح کی تلاش میں یہاں وہاں گھومتے گھومتے تھکاوٹ سے بے حال نوجوانوں کو دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے کہ انہیں کچھ وقت آرام سے بیٹھ کر گزارنے کی سہولت میسر نہیں۔ اگر یہ حال پشاور جیسے مرکزی شہر کا ہے تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ دور دراز اضلاع میں تفریحی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔ عیدالفطر کے موقع پر نوجوانوں کی بڑی تعداد سینما گھروں کا رخ کرتی ہے اور پشاور کے سینماگھر تو پورے پاکستان میں اپنی خاص شہرت رکھتے ہیں لیکن اِس مرتبہ سبھی کے ہاں نئی پشتو فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں ہیں۔ صدآفرین کہ 35 برس بعد پہلی مرتبہ 7 پشتو فلمیں اس عیدالفطر پر ریلیز کی گئیں ہیں جن کی نمائش پشاور کے علاؤہ دیگر شہروں کے سینما گھروں میں جاری ہے۔ یقینی امر ہے کہ اِس سے نہ صرف پشتو زبان و ثقافت بلکہ فلمی صنعت کو نت نئے تصورات اور جدت کے ساتھ آگے بڑھنے کا اعتماد ملے گا۔ سینما گھروں کے ساتھ وابستہ روزگار بھی پھر سے آباد ہو گئے ہیں‘ بالخصوص چائے خانوں سے اٹھنے والی مہک اور خاص ماحول اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ توجہ طلب ہے کہ پشاور کے یکے بعد دیگرے کئی سینما ہال ’کمرشل ازم‘ کی وجہ سے ختم کر دیئے گئے اور یہ کام چونکہ قواعد کی رو سے ممکن نہیں اِس لئے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے سرمایہ دار پہلے سستے داموں سینما ہال خریدتے ہیں کیونکہ اُس کے اصل مالکان کے لئے مختلف خطرات و وجوہات کی بناء پر فلموں کی نمائش جاری رکھنا ممکن نہیں ہوتی اور پھر ملکیت حاصل کرنے کے بعد سینما کی جگہ کثیر المنزلہ عمارت (پلازہ) کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ تعمیراتی نقشے کے لحاظ سے آسمان سے باتیں کرنے والے اِن درجن بھر عمارتوں میں ’کار پارکنگ‘ کے لئے جگہ مختص کی جاتی ہے لیکن جب عمارت کا دورہ کیا جائے تو وہاں نہ تو پارکنگ ملتی ہے اور نہ ہی آتشزدگی کی صورت ہنگامی راستوں سے نکلنے کا بندوبست حسب نقشہ جات دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ’بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ کے ایک سے زیادہ دفاتر ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں اہلکار ہیں لیکن سب کے سب کی غربت دور ہوتی چلی جا رہی ہے جبکہ پشاور ہر دن بظاہر امیر اور درحقیقت غیرمحفوظ ہوتا چلا جارہا ہے۔

سینما ہال اجڑنے کی ایک وجہ ’کیبل نیٹ ورکس‘ ہیں جن کے ذریعے گھر گھر اُردو پشتو اور انگریزی زبان کی نئی آنے والی فلمیں بھی دیکھی جا رہی ہیں لیکن بڑی سکرین کا مزا ہی کچھ اُور ہے اور پھر پشتو فلم سینما ہال میں دیکھنے کے ساتھ ایک پوری ثقافت جڑی ہے‘ جس کا عشرعشیر لطف بھی گھر میں فلم بینی کا حاصل نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں ’سینما گھر‘ کی اپنی ہی خاص اہمیت رہی ہے اور یہی وہ ضرورت ہے جس کے بارے میں صوبائی حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ ’سینما اور تھیٹر‘ کی سرکاری سرپرستی کی جائے کیونکہ فلم کے ذریعے بنیادی طور پر ’تفریحی عمل کے دوران‘ سماجی برائیوں اور انتہاء پسندی کے خلاف پیغام منتقل کیا جاسکتا ہے۔ فنون لطیفہ انسان دوستی کے جذبات کو ابھارتے اُور تخلیقی سوچ کے پروان چڑھنے سمیت زبان و ثقافت کے رشتوں کی تقویت کا باعث بنتے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں تفریحی مقامات کی شدید کمی الگ سے محسوس کی جاتی ہے بالخصوص جبکہ گرمی اور حبس اپنے عروج پر ہو تو ’اِن ڈور ائرکنڈیشن‘ تفریح کے مواقع دستیاب نہیں۔ لے دے کر سینما ہال ہیں جہاں چند گھنٹے موسم کی شدت سے محفوظ رہنے والے بھی بھلا ایک فلم کتنی مرتبہ دیکھیں اُور ہر بار لطف اندوز بھی ہوں! آخر یہ دور خاموش فلموں کا بھی نہیں کہ ٹکٹ خرید کر ائرکنڈیشن ہال میں نیند کی جائے۔ سینما گھر کی تفریح کو معیاری بنانے اور ٹکٹوں کی مقرر کردہ نرخوں کے مطابق فروخت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے حرکت میں آنے کی اُمید تھی لیکن افسوس لگتا ہے کہ سب کے سب تعطیلات پر ہیں اور پشاور سمیت عید منانے والوں کو ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کچھ توجہ بچوں کے لئے ’کھیل کود و تفریح کی اِن ڈور سہولیات‘ کی فراہمی پر بھی ہونی چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل ہر یونین کونسل کی سطح پر کھیل کے میدان و سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو تیسرے مالی سال کے آغاز پر بھی ہنوز پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

پشاور کو باغات کا شہر کہا جاتا تھا لیکن قیام پاکستان سے قبل تعمیر کئے گئے یہاں کے باغات جس ’تہس نہس حالت‘ میں دکھائی دیتے ہیں‘ اُن سے حکمرانوں کی ترجیحات صاف عیاں ہیں۔ عجب ہے کہ پشاور پر حکومت کرنے والوں میں ایک سے بڑھ کر ایک خوش قسمت کردار ہے۔ پشاور جادو کی ایسی چھڑی کا نام ہے کہ جس کے ہاتھ آئے وہ دیکھتے ہی دیکھتے کھرب پتی بن جاتا ہے لیکن جنوب مشرق ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہر کی بدقسمتی کا دور کسی صورت ختم نہیں ہورہا بلکہ وہ تکلیف دہ دورانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ طویل تر ہوتاچلا جا رہا ہے‘ جس میں ’پشاور کے غصب شدہ حقوق‘ کی نہ تو کماحقہ ادائیگی ہو رہی ہے اور نہ ہی اِس ضرورت کے بارے سوچ بچار‘ بحث و مباحثے یا مشاورت کا عمل‘ اب تک شروع کیا جاسکا ہے!