Showing posts with label Galliyat. Show all posts
Showing posts with label Galliyat. Show all posts

Tuesday, October 5, 2021

Environmental friendly development needed

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

تذکرۂ سود و زیاں

’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ اپنے انتظامی فیصلوں میں ’خود مختار‘ اِدارہ ہے‘ جس کے سالانہ اخراجات 35 کروڑ (350ملین) روپے میں ملازمین کی تنخواہیں شامل ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ اِس ادارے کو مالی طور پر خودمختار ہونا چاہئے اُور اِس کی آمدنی کے مستقل ذرائع میں اِس حد تک اضافہ کیا جائے کہ اِسے تعمیر و ترقیاتی امور میں دقت پیش نہ آئے۔ اِس سلسلے میں وضع کردہ حکمت عملی پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کی دو برس میں تکمیل سے اُمید ہے کہ سال 2023ءتک گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سالانہ آمدنی ڈھائی ارب روپے تک جا پہنچے گی جبکہ رواں برس 55 کروڑ (550ملین) روپے کا منافع متوقع ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سال 2019ءمیں اتھارٹی کی آمدنی 36 کروڑ روپے تھی جسے مالی سال 2020ءمیں بڑھاتے ہوئے 90 کروڑ روپے تک لیجایا گیا ہے۔ اتھارٹی کی آمدنی میں دو برس کے دوران 200 فیصد سے زائد اضافہ کیسے ہوگا‘ یہ بات سمجھنے کے لئے اُن 2 ترقیاتی منصوبوں کو دیکھنا ہوگا جو سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے نام پر کئے جا رہے ہیں۔ پہلا منصوبہ نتھیاگلی میں عالمی معیار کے مطابق جدید ترین سہولیات و آسائشوں سے مزین قیام و طعام کا بندوبست (فائیو سٹار ہوٹل) ہوگا جبکہ دوسرا منصوبہ ایویبہ کے مقام پر نئی چیئرلفٹ کی تنصیب ہوگی۔ مذکورہ دونوں منصوبے غیرملکی سرمایہ کاری سے مکمل ہوں گے۔ ذہن نشین رہے کہ خیبرپختونخوا کا شاید پہلا ’فائیو سٹار ہوٹل‘ نتھیاگلی میں بننے جا رہا ہے اُور وہ بھی کسی شہر میں نہیں بلکہ جنگل کے بیچوں بیچ اُور ظاہر سی بات (یقینی امر) ہے کہ جب جنگل میں مور ناچے گا تو اُسے دیکھنے کا خاطرخواہ بندوبست بھی کیا جائے گا‘ جس سے گلیات کی جنت نظیر وادیوں کی خاموشی‘ سکون اُور وہاں کے مقامی لوگوں سمیت جنگلی حیات کا آرام و سکون (حقوق) پائمال ہوں گے۔

 ”ازل سے کر رہی ہے زندگانی تجربے لیکن .... زمانہ آج تک سمجھا نہیں سود و زیاں اپنا (قابل اجمیری)۔“

نتھیاگلی میں پنج ستارہ (فائیوسٹار) ہوٹل کے قیام کے لئے بات چیت (مذاکرات) کا عمل 2012ءسے جاری تھا اُور بتایا جا رہا ہے کہ اِس منصوبے کی منظوری 8 سالہ غوروخوض کے بعد دی گئی ہے۔ عجیب و غریب مرحلہ¿ فکر ہے کہ آٹھ سال کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی اُور نہ ہی اُن ماحولیاتی و ارضیاتی ماہرین کے بارے میں علم ہو سکا کہ وہ کون تھے جنہوں نے جنگل کے بیچوں بیچ‘ فائیوسٹار ہوٹل بنانے کو جائز قرار دیا جبکہ کسی سیاحتی مقام پر اگر بنیادی نوعیت کی قیام و طعام کی سہولیات بھی اگر مہیا کر دی جائیں تو یہ بھی کافی ہوتا ہے کیونکہ اِن جنت نظیر وادیوں اُور فطرت کا قریب سے مشاہدہ کرنے والوں کے لئے چند روزہ قیام کے دوران سہولیات معنی نہیں رکھتیں بلکہ وہ قدرت سے لطف ہونے آتے ہیں اُور کسی ایسے سیاحتی مقام پر ’فائیو سٹار آسائشوں‘ کا مطلب قطعی مختلف ہوتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر سال 2012ءسے نتھیاگلی کے ایک حصے میں درخت کاٹ کر عالمی معیار کا ہوٹل بنانے پر غوروخوض ہو رہا تھا تو اِس سے سیاسی و بلدیاتی منتخب نمائندوں کیوں بے خبر رہے!؟

نتھیاگلی میں فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کا معاہدہ جس سرمایہ کار کمپنی (Baron Group) سے کیا گیا ہے وہ اتھارٹی کو زمین کے اجارے (لیز) کی مد میں قریب 85 کروڑ (850 ملین) روپے ادا کریں گے اُور یہ ادائیگی 10 سال کی مدت میں ہوگی جبکہ ہوٹل تعمیر ہونے کے بعد اتھارٹی کو سالانہ 1 ارب روپے کی آمدنی ہونے لگے گی۔ اِسی طرح ایویبہ کے مقام پر نئی (آسٹریلوی ساختہ) چیئرلفٹ لگانے کا ٹھیکہ جس سرمایہ کار کمپنی (Manal Group) کو دیا گیا ہے۔ چیئرلفٹ کی فعالیت کے بعد اتھارٹی کو سالانہ 94 کروڑ روپے آمدنی ہوگی جبکہ چیئرلفٹ کا موجودہ ٹھیکیدار 5 کروڑ روپے سالانہ ادا کر رہا ہے اُور اُس نے 58 سال قبل نصب ہونے والی چیئرلفٹ بند کرنے کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے جس کی سماعت (4 اکتوبر 2021ئ) کے روز سول جج شاہد زمان نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ’توہین ِعدالت‘ کا نوٹس جاری کیا کیونکہ چیئر لفٹ کے ٹھیکیدار (ایاز خان) نے لفٹ کو بند کرنے سے فیصلے کے خلاف مذکورہ ایبٹ آباد سول جج ون کی عدالت سے رجوع کیا تھا اُور عدالت نے اتھارٹی کو اِس بارے تفصیلی رپورٹ جاری کرنے تک چیئرلفٹ کو جاری رکھنے کے احکامات صادر کئے تھے۔ مقدمے کی اگلی سماعت کے لئے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ دریں اثنا اتھارٹی نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے تحریری رابطہ کرتے ہوئے ایوبیہ چیئرلفٹ کے ٹھیکیدار اُور اِس کی حمایت کرنے والے مقامی فلاحی تنظیم ”گلیات تحفظ مو¿ومنٹ“ کے چیئرمین (سردار صابر) اُور وائس چیئرمین (سردار افتخار) کے خلاف ابتدائی تفتیشی رپورٹ (FIR) درج کرنے کا کہا گیا جن کا جرم یہ ہے کہ اُنہوں نے اتھارٹی کی جانب سے بند کی جانے والی چیئرلفٹ کے دروازے زبردستی کھول کر قانون کو ہاتھ میں لیا ہے۔ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فیصلہ سازوں کو سوشل میڈیا صارفین سے بھی شکایات ہیں کہ وہ اتھارٹی کے خلاف بے بنیاد تبصروں کی تشہیر کرتے ہیں۔ گلیات کے رہنے والوں کو ایک تعداد ایسی بھی ہے جسے پینے کا پانی نہیں ملتا۔ خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے آمدورفت باسہولت نہیں اُور گرمی ہو یا سردی موسمی اثرات کی وجہ سے یہاں کے رہنے والوں کو انواع و اقسام کی مشکلات درپیش رہتی ہیں جن میں ماحول دوست ایندھن کی عدم دستیابی بھی شامل ہے۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ آمدن میں اِضافے‘ سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ اُور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضے مربوط نہیں۔ زیادہ سے زیادہ آمدنی کے چکر میں اگر ماحولیاتی تنوع (eco system) کا لحاظ نہ رکھا گیا تو اِس سے حاصل ہونے والی بظاہر آمدنی درحقیقت ایک ایسا خسارہ ہوگا‘ جس کی بعدازاں ازالہ اُور غلطی کی تلافی ممکن نہیں رہے گی۔ ”اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو .... پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام (قتیل شفائی)۔“

....


Tuesday, December 19, 2017

Dec 2017: Snowfall and lack of facilities in Galliyat

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برفباری اور سرد مہری!
’’سر میں سموم سروری‘ رُخ پہ رقوم دلبری‘ دل میں ہجوم قاہری‘ لب پہ نجوم ابتسام‘‘ جیسا رنگارنگ منظر پیش کرنے والے ’خیبرپختونخوا کے بالائی علاقے‘ بالخصوص ہزارہ ڈویژن کے معروف سیاحتی مقامات ’گلیات‘ نے موسم سرما کی ’پہلی برف باری‘ کے بعد سفید چادر اُوڑھ لی ہے‘ جنہیں دیکھنے اور برف پوش وادیوں میں پھیلی خوبصورتی اور موسم سے محظوظ ہونے کے لئے ملکی و غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اُمڈ آئی ہے‘ جو خلاف توقع نہیں۔ 

گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے مطابق ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے ہوئی برفباری دیکھنے کے لئے تین لاکھ سے زائد سیاح آ چکے ہیں یہ بھی خلاف توقع نہیں جبکہ اکیس مارچ تک جاری رہنے والے برفباری کے متوقع ’سیزن‘ کے دوران یہ تعداد مجموعی طور پر دس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی لیکن یہ تعداد بڑھنے کی توقع ہے۔ موسم سرما ہو یا گرما‘ گلیات کی کشش لاکھوں سیاحوں کو کھینچ لاتی ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کے بلندبانگ دعوؤں کے باوجود گلیات (ضلع ایبٹ آباد کے بالائی بیشتر دیہیعلاقوں) میں بنیادی سہولیات کی سارا سال ہی فقدان رہتا ہے۔ قیام و طعام جیسی نجی خدمات فراہم کرنے والے سیاحوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور گراں فروشی کی انتہاء کر دیتے ہیں‘ جبکہ برف ہٹانے‘ بہتر و معیاری سہولیات اور سیاحوں کی رہنمائی اور شکایات کے لئے مربوط نظام کا مطالبہ ایک عرصے سے اِنہی سطور کے ذریعے بار ہا دہرایا جا رہا ہے‘ لیکن مجال ہے جو فیصلہ سازوں میں سے کسی ایک کے کان پر بھی جوں رینگے۔ ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی برفباری اور نظاروں سے محظوظ ہونے کے لئے آنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گلیات (آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل ’سرکل بکوٹ‘) میں رہنے والے مقامی اَفراد کی زندگیاں بھی آسان نہیں ہوئی‘ جنہیں عمومی و اجتماعی طور پر برفباری سے راستوں اور بجلی کی بندش سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کا گویا تجربہ ہو چکا ہے۔

حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن گلیات کی قسمت وہی کی وہی ہے۔ رواں ماہ ہوئی چند روزہ برفباری کے بعد سے ایبٹ آباد مری روڈ (مرکزی شاہراہ) کئی مقامات پر بند رہنے سے سیاح پھنسے رہے۔ نتھیاگلی‘ ڈونگا گلی اور ایویبہ کی سیر کے لئے آنے والوں پاس گاڑیوں کا ایندھن نہ رہا حتیٰ کہ موبائل فون کی بیٹریوں نے بھی کام چھوڑ دیا‘ جو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بذریعہ سماجی رابطہ کاری اکاونٹس صورتحال سے مطلع کرتے رہے لیکن اس دوران متعلقہ حکام کی سردمہری و بے حسی کا سورج سوا نیزے پر چمکتا رہا۔ ’جی ڈی اے‘ حکام نے ’خیبرپختونخوا ہائی وے اتھارٹی‘ کی درخواست پر باڑہ گلی سے نتھیاگلی اور ایویبہ تک کے راستوں کی صفائی کی تو اِس کا خوب چرچا کیا گیا لیکن محدود پیمانے پر ہونے والی اِن کوششوں اور جاری برفباری زیادہ بڑے پیمانے پر انتظامات کی متقاضی تھی۔ کیا متعلقہ حکام کو علم نہیں ہوتا کہ ہر سال گلیات میں برف پڑنے کے بعد‘ ذرائع ابلاغ پر برفباری کی خبریں نشر ہونے کے ساتھ ہی سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے لیکن نہ تو صوبائی حکومت کے ادارے اور نہ ہی ضلعی حکومتیں سیاحوں کی رہنمائی اور اُن کی شکایات کے ازالے کے لئے صف بستہ ہوتے ہیں۔ 

ایک عرصے سے گلیات کے لئے ’ٹورازم ایف ایم ریڈیو‘ اور سیاحوں کی گلیات میں داخلے کے موقع پر رجسٹریشن کی تجاویز دی جا رہی ہیں جو متعلقہ حکام کے سامنے زیرغور بھی ہیں لیکن چونکہ سہولیات کی فراہمی سے متعلق ایک جیسی ذمہ داری کے لئے ایک سے زیادہ ادارے فعال ہیں اِس لئے کوئی ایک حکومتی ادارہ اِسے اپنی ذمہ داری قرار نہیں دیتا۔ سیاحت کے فروغ کا ادارہ‘ گلیات کی ترقی کا ادارہ‘ شاہراؤں کی تعمیر و مرمت‘ توسیع اور اُنہیں سارا سال قابل استعمال رکھنے والا ادارہ اُور ضلعی حکومتیں اپنی اپنی جگہ موجود تو ہیں‘ ملازمین کی فوج ظفرموج بھی ہے اور ’’مراعات کی تقسیم‘‘ کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے لیکن اِس افرادی قوت اور وسائل کا عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات کم سے تعلق نہیں! پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نتھیاگلی سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور موسم گرما میں اُن کے لئے گوشۂ سکون یہی مقامات رہے حتی کہ اپنے صاحبزادوں کو سیروتفریح کروانے کے لئے بھی وہ گلیات اور شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں جبکہ اِن علاقوں میں سیاحوں کے لئے فراہم کردہ سہولیات (مقدار و معیار کے لحاظ سے) اُنہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان باریک بین نہیں وہ سرسری طور پر بڑے بڑے فیصلے اور حکم صادر کرنے میں اپنا ایک خاص مزاج کی بدولت جس کسی چیز کے بارے میں ایک مرتبہ رائے قائم کر لیں تو اُس سے رجوع نہیں کرتے اور نہ ہی مڑ کر دیکھتے ہیں! اُن کی سماعتوں کو بھلے لگنے والے اعدادوشمار بھی ’ذہنی تفریح و تسکین‘ کا ذریعہ ہیں اور ساڑھے چار سال کی حکومت میں افسرشاہی جان چکی ہے کہ ’خان صاحب‘ کو کس طرح مطمئن کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ برفباری کے دوران‘ خوش قسمتی رہی کہ گلیات میں کوئی بڑا ٹریفک حادثہ نہیں ہوا۔ چند ایک مقامات پر درجنوں گاڑیاں پھسلن کے باعث آپس میں ٹکرائیں جس سے مالی نقصانات ہوئے اور اگر شاہراہیں صاف کرنے کے بڑے پیمانے پر اور بروقت انتظامات کئے جاتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ برفباری دیکھنے کے لئے آنے والوں کو زیادہ لطف آتا اور اُن کے ساتھ اچھی یادیں واپس جاتیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی اُو) ایبٹ آباد ’اشفاق انور‘ کے مطابق پولیس کی اضافی نفری اور ٹریفک پولیس کے حکام تعینات کر دیئے گئے تھے‘‘ جس کا فائدہ یقیناًہوا لیکن سیاحوں کے ساتھ مقامی افراد اور گلیات سے جڑی رابطہ شاہراؤں (لنک روڈز) کئی مقامات پر تاحال بند ہیں‘ جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ صوبائی حکومت نے انقلابی اقدام کرتے ہوئے سرکل بکوٹ کی آٹھ یونین کونسلوں کو ’گلیات‘ میں شامل کر دیا ہے تاہم رابطہ شاہراؤں میں توسیع اور انہیں قابل استعمال رکھنے سے متعلق اعلانات (انتخابی وعدے) ہنوز پورے نہیں کئے جاسکے اور اگر تحریک انصاف سرکل بکوٹ پر مشتمل علاقوں کو الگ تحصیل کا درجہ دینے کا وعدہ پورا نہیں کرتی تو اِس کے نامزد انتخابی اُمیدواروں کو آئندہ عام انتخابات میں عوام کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جو گلیات کے چند علاقوں پر نظرکرم سے نالاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسی بنیادی ضرورت ہی کم سے کم فراہم کر دی جائے۔ 

عجب ہے کہ برطانوی راج کے ایک معاہدے کے تحت گلیات (خیبرپختونخوا) سے پینے کا پانی مری (پنجاب) کو فراہم (سپلائی) ہوتا ہے لیکن مقامی افراد اِس آب زلال سے محروم تھے‘ آج بھی محروم ہیں!
۔

Thursday, June 29, 2017

June2017: Tourism on Eid


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
عید شہید!

موسم گرما کی شدت اُور گرفت سے چند روزہ سکون کی تلاش میں خیبرپختونخوا سمیت ملک کے میدانی علاقوں سے پہاڑوں کا رخ کرنے والے ’’تہوار اُور تعطیلات‘‘ کے ہر ایک پل سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف ’سیاحتی سیزن‘ کا اِنتظار کرنے والے مقامی افراد کے لئے ہر سال ’اپریل سے اگست (چار ماہ عروج)‘ کا عرصہ‘ روزگار کا ذریعہ بھی ہے تاہم ’سیاحتی ترقی‘ منصوبہ بندی اُور سہولیات‘ کا موازنہ اَگر صوبہ پنجاب سے کیا جائے تو خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر قیام و طعام (اِنفراسٹکچر)‘ اِن مقامات تک رسائی کے راستے (روڈ نیٹ ورکس)‘ ذرائع آمدورفت (پبلک ٹرانسپورٹ) اُور رہنمائی کی سہولیات کے معیار میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر صوبوں سے آئے ’مہمان سیاحوں‘ کے نکتۂ نظر سے بالائی خیبرپختونخوا (گلیات‘ کاغان‘ ناران‘ سوات تا کالام اُور چترال کی وادیوں) کا ’قدرتی (فطرتی) حسن اُور آب و ہوا‘ ملک کے دیگر صوبوں حتیٰ کہ یورپی ممالک سے بھی بہتر ہے تاہم ’سیاحت بطور صنعت‘ متعارف کرانے‘ نجی شعبے کے مدد سے بہتری کی گنجائش اُور تعمیروترقی کے لاتعداد اِمکانات کو ترقی دی جاسکتی ہے‘ جس کے لئے مالی وسائل سے زیادہ فیصلہ سازوں کے سنجیدہ روئیوں اُور مربوط ترقی کی جامع حکمت عملی وضع کرنے میں متعلقہ شعبے کے ماہرین سمیت ہر مکتب فکر سے مشاورت ہونی چاہئے۔ 

فوری اِصلاحات کے لئے ’ملکی و غیرملکی سیاحوں کی رائے (فیڈبیک)‘ سب سے زیادہ کارآمد‘ قابل بھروسہ (مؤثر) ذریعہ ہوسکتا ہے‘ جس کے لئے سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا)‘ اِینڈرائرڈ اُور دیگر سسٹمز پر چلنے والی اَیپ (سافٹ وئرز)‘ جی پی ایس نقشے‘ آئی وی آر (Interactive Voice Response) سے جڑے ٹول فری (toll-free) نمبر‘ لمحہ بہ لمحہ ٹریفک صورتحال‘ سیاحتی رہنمائی اُور موسمی معلومات کے لئے ’ایف ایم‘ ریڈیو نشریات متعارف کی جا سکتی ہیں جبکہ سیاحتی مقامات کے بارے میں ایسا ’تعارفی لٹریچر‘ بھی تخلیق کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے کسی خاص علاقے میں جنگلات و جنگی حیات کی خوراک‘ ماحولیاتی تنوع میں اُن کی اہمیت‘ مزاج (حفاظتی اُور بقاء کے نکتۂ نظر سے پسندوناپسند)‘ عمومی کھانے پینے و دیگر عادات و خصوصیات کے بارے تفصیلات (رہنما اَصول) عام کی جا سکتی ہیں جس سے ماحول شناسی اُور ہم زمین جانداروں کے بارے میں معلومات ذہن نشین ہوتی چلی جائیں گی اُور سیاحت کا ’تفریحی عمل‘ زیادہ جامع (بامقصد) بن جائے گا۔ تصور کیجئے کہ سیروتفریح کے آنے والوں کو اگر باتوں باتوں‘ قصے کہانیوں‘ راستوں کی رہنمائی کرتے ہوئے درختوں‘ چرند پرند‘ جڑی بوٹیوں‘ موسمی درجۂ حرارت اور انہیں دیگر معلومات منتقل کی جائیں تو اِس (multi-tasking) میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ 

سیاحوں کی رجسٹریشن‘ ہنگامی حالات میں علاج معالجے کی اِضافی (الگ سے) سہولیات کا بندوبست اُور گاڑیوں کے لئے گشتی ورکشاپیں بھی چند ایسی ضروریات ہیں‘ جن کی کمی اُن سبھی سیاحوں کو زیادہ شدت (بلکہ حیرت) سے محسوس ہوتی ہے‘ جو پہلی مرتبہ یا باقاعدگی سے ’سیاحتی سیزن‘ کے دوران ہر سال خیبرپختونخوا کا رُخ کرتے ہیں‘ جہاں گذشتہ چار سال سے ’تحریک اِنصاف‘ کی حکومت ہے لیکن حسب وعدہ ’نیا پاکستان (تبدیلی)‘ دِکھائی نہیں دے رہا! تو کیا ہم سب اَندھے ہو چکے ہیں یا سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اِس زعم (خودفریبی) میں مبتلا ہیں کہ اِقتدار دائمی ہوتا ہے! ’’کر رہا تھا غم جہاں کا حساب۔۔۔آج تم یاد بے حساب آئے (فیض اَحمد فیضؔ )۔‘‘

Sunday, June 25, 2017

June2017: Commercialization Policy of KP need a revision!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
گلیات: حسن اِنتخاب!
وقت گویا رُک سا گیا ہے۔ ایک جیسے اقدامات سے متعلق بیانات بطور ’یاد دہانی‘ حرج (مضائقہ) نہیں لیکن برسرزمین حقائق میں تبدیلی کے اہداف حقیقی اُور قابل عمل ہونے چاہیءں۔ یادش بخیر ’’سولہ اکتوبر دوہزار پندرہ‘‘ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک ایسی ویب سائٹ (website) کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہیں‘ جس کے ذریعے کوئی بھی پاکستانی خیبرپختونخوا کی ملکیت ’ریسٹ ہاؤسیز‘ میں قیام و طعام کر سکے گا۔ یہ ایک انقلابی اقدام تھا جس میں ’عوام و خواص‘ کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اُن ’نوگو ایریاز‘ کے دروازے عوام کے لئے کھول دیئے گئے‘ جن پر صرف اور صرف ’صاحبان اقتدار واختیار‘ قابض چلے آ رہے تھے۔ اِس سلسلے میں منعقدہ تقریب حافظے میں محفوظ ہے جب نتھیاگلی کے ’ریٹریٹ ہاؤس‘ میں صوبائی حکومت کے وہ سبھی مرکزی کردار اور تحریک انصاف کے مرکزی قائدین بہ نفس نفیس موجود تھے جو نتھیاگلی آنے (وزٹ) کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے! اِس ماشاء اللہ تقریب میں 15عدد ریسٹ ہاؤسیز کو ’ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا‘ کے حوالے کرنے کا باضابطہ اعلان کیاگیا تھا۔ اِس پیشرفت کو ذہن میں رکھتے ہوئے پھر سے نتھیاگلی کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ رواں ہفتے (تیئس جون دوہزار سترہ) خیبرپختونخوا کی ’کمرشلائزیشن پالیسی‘ کے تحت ’پہلے مرحلے میں‘ ضلع ایبٹ آباد کے پرفضا بالائی علاقوں (گلیات) کے ’پندرہ ریسٹ ہاؤسیز‘ کو ’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے)‘ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ یہ پندرہ ’ریسٹ ہاؤسیز‘ 13 صوبائی محکموں کے رحم و کرم پر رہے‘ جہاں قیام پاکستان سے ’اَفسرشاہی (اَعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین) اُور اُن کے اہل و عیال‘ گرمیوں کا موسم ٹھاٹھ باٹھ سے گزارتے۔ صرف ایک مثال سے اِس پورے منظرنامے کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ نتھیاگلی میں ’16 کنال رقبے‘ پر پولیس ریسٹ ہاؤس میں کل 6کمرے (تین ڈیلکس اور تین ڈبل بیڈ رومز) ہیں۔ برطانوی راج کے دوران تعمیر کئے گئے اِس ریسٹ ہاؤس کا نام ’روکنگھم ہاؤس (Rockingham House)‘ تھا‘ جسے قیام پاکستان (1947ء) کے بعد تبدیل کرکے ’آئی جی پی ہاؤس‘ اُور بعداَزاں ’پولیس ریسٹ ہاؤس‘ کہا جانے لگا۔ یاد رہے کہ نتھیاگلی میں ایک کنال اراضی کی قیمت تین سے چار کروڑ روپے ہے اور تعمیراتی اخراجات الگ سے میدانی علاقوں کے مقابلے ہزار گنا زیادہ آتے ہیں۔

حسن اِنتخاب نے دلچسپ صورتحال کو جنم دیا ہے۔ تحریک اِنصاف کی مرکزی قیادت اُور موجودہ خیبرپختونخوا (صوبائی) حکومت کی ’نظرکرم‘ گویا ’گلیات‘ پر ٹک (رُک) گئی ہے! یہ بات اب تو خبر بھی نہیں رہی کہ چیئرمین عمران خان اُور مرکزی قائدین نے ’نتھیاگلی‘ میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں‘ جہاں پارٹی میں شمولیت کرنے والی سیاسی شخصیات کو بھی مدعو اور دعوتوں کا اہتمام ایک معمول بن چکا ہے لیکن نہ تو حکمرانوں کے معمولات بدلے ہیں اور نہ ہی گلیات کے حالات! جہاں کے مقامی افراد کے لئے ماضی و حال تبدیل نہیں ہوا۔ سرکاری وسائل سے اگر کبھی ’’جنگل میں منگل‘‘ افسرشاہی کے دم کرم سے ہوا کرتا تھا تو اَب خوشگوار موسم میں ’اِنجوائے (enjoy)‘ کرنے والے سیاست دان ہیں۔ گلیات کے رہنے والے اِس خدشے کا برملا اِظہار کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت ’کمرشل ائزیشن‘ کے نام اُن قیمتی اثاثوں کو اُونے پونے داموں فروخت کردے گی اور اِس مرتبہ تحریک انصاف کے مرکزی قائدین دیگر مختلف ناموں سے ’ریسٹ ہاؤسیز‘ کے مالک بن جائیں گے! خاکم بدہن ایسی تبدیلی نہ سنی نہ کہیں دیکھی! نتھیاگلی اُور ملحقہ علاقوں میں تجاوزات کے خلاف مہمات پر مقامی افراد کا اِحتجاج جاری ہے جبکہ صوبائی حکومت نے ایک مرتبہ پھر اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بڑی بڑی گاڑیوں میں سیر کے لئے آنے والوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے گلیات کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا۔ مضحکہ خیز صورتحال یہ ہے کہ ایبٹ آباد سے نتھیاگلی تجاوزات کا شمار ممکن نہیں لیکن نتھیاگلی سے صوبہ پنجاب کی حدود‘ خیرا گلی تک ترقی کا عمل اور حکومتی اداروں کی توجہ دیدنی ہے۔ ایبٹ آباد میں تجاوزات اور سڑکوں کی حالت نتھیاگلی کے سوفیصد برعکس ہے۔ اگر سیاحت کی ترقی ہی مطلوب و مقصود ہوتی تو تعمیروترقی‘ تجاوزات کا خاتمہ اور سیاحوں کے لئے رہنمائی و سہولیات کی فراہمی چار مرحلوں میں پائیدار و مربوط کی جا سکتی تھی۔ رابطہ شاہراہیں اور بائی پاس بنائے جا سکتے تھے۔ پہلا مرحلہ ہری پور سے حویلیاں‘ دوسرے مرحلے میں ایبٹ آباد تیسرے مرحلے میں ایبٹ آباد سے گلیات اور چوتھے مرحلے میں گلیات بشمول سرکل بکوٹ (پی کے پینتالیس) پر توجہ دی جاتی جس سے سیاحت کا فروغ بھی ہوتا اور روزگار کے نئے مواقعوں کی وجہ سے مقامی افراد کی زندگیاں بھی آسان ہوتیں۔ گلیات کی ’جنت نظیر وادیوں‘ میں رہنے والے رابطہ شاہراؤں کی خستہ حالی‘ علاج معالجے‘ تعلیم‘ پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولیات اور پائیدار روزگار سے محروم ہیں۔ قومی اسمبلی کے دو اُور صوبائی اسمبلی کے دو اِنتخابی حلقوں میں تقسیم ’بالائی ضلع ایبٹ آباد‘ پر تیس سال تک ماضی کے حکمرانوں نے یہاں کے رہنے والوں کو محروم اور محکوم بھی رکھا۔ گلیات سے سیاسی تعصبات کا خاتمہ اُور تعمیروترقی کے عمل میں مقامی بلدیاتی نمائندوں کی مشاورت بھی شامل ہونی چاہئے۔

حکومتی ’ریسٹ ہاؤسیز‘ کی نجکاری (کمرشل ائزیشن) ’سونے کے اَنڈے دینے والی مرغی ذبح‘ کرنے کے مترداف عمل ہوگا۔ دنیا میں کہیں بھی سیاحتی مقامات صرف اُور صرف سرمایہ دار‘ بااثر اُور سیاسی شخصیات کی آسائش و سکون کے مراکز نہیں ہوتے بلکہ حکومت متوسط طبقات کے لئے بھی معیاری تفریح کے مواقع اور اِمکانات ذہن میں رکھتی ہے۔ کیا کوئی ایسی مثال موجود ہے جس میں خیبرپختونخوا میں موسم گرم کی شدت والے میدانی علاقوں سے سرکاری سکولوں کے بچوں کو چند ہفتے گلیات کی سیر کرائی جائے؟ پشاور یونیورسٹی کے ’باڑہ گلی کیمپس‘ پر مستقل بنیادوں پر اساتذہ و انتظامیہ ڈیرے ڈالے رہتی ہے‘ جہاں طلباء و طالبات کو چند روز کے لئے مدعو کرنے جیسی ’سخاوت (فراخدالی)‘ کے مظاہرے پر لاکھوں روپے خرچ کرنا ایک ایسا معمول (بدعت حسنہ اور بدعنوانی) ہے‘ (تعجب ہے کہ) اِس جانب صوبائی حکومت تاحال متوجہ نہیں ہوئی۔ گلیات میں ’عیاشی کے اڈے‘ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مقامی اَفراد خاموش تماشائی بنے وہ سب کچھ ’سہتے‘ ہیں جو نہ تو علاقے اُور نہ ہی اسلامی روایات (تعلیمات) کا حصہ ہیں! گلیات کی خوبصورتی اُور موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے تشریف لانے والوں کو تصور بھی نہیں ہوتا کہ اِن علاقوں میں مقامی اَفراد بھی رہتے ہیں‘ جن کے ہاں بیماری‘ ماتم‘ سوگ یا غم کا ماحول بھی ہوسکتا ہے۔ بلند آواز میں موسیقی‘ سرعام رقص و سرور کی محفلیں یا کھانے پینے کی اَشیاء کے خالی ڈبے‘ گندگی (کوڑاکرکٹ) پھیلانے سے گلیات کی مقامی اَفراد اُور جنگی حیات کے ’معمولات زندگی‘ بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ سیاحت کا شوق کرنے والوں کے لئے رہنما اصول‘ شعور‘ رہنمائی‘ پردے اور حدودوقیود کی پابندی و اِحترام کے حوالے سے بھی ضروریات کا اِدراک و اِحساس ہونا چاہئے۔