Showing posts with label Circle Bakot. Show all posts
Showing posts with label Circle Bakot. Show all posts

Tuesday, December 19, 2017

Dec 2017: Snowfall and lack of facilities in Galliyat

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برفباری اور سرد مہری!
’’سر میں سموم سروری‘ رُخ پہ رقوم دلبری‘ دل میں ہجوم قاہری‘ لب پہ نجوم ابتسام‘‘ جیسا رنگارنگ منظر پیش کرنے والے ’خیبرپختونخوا کے بالائی علاقے‘ بالخصوص ہزارہ ڈویژن کے معروف سیاحتی مقامات ’گلیات‘ نے موسم سرما کی ’پہلی برف باری‘ کے بعد سفید چادر اُوڑھ لی ہے‘ جنہیں دیکھنے اور برف پوش وادیوں میں پھیلی خوبصورتی اور موسم سے محظوظ ہونے کے لئے ملکی و غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اُمڈ آئی ہے‘ جو خلاف توقع نہیں۔ 

گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے مطابق ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے ہوئی برفباری دیکھنے کے لئے تین لاکھ سے زائد سیاح آ چکے ہیں یہ بھی خلاف توقع نہیں جبکہ اکیس مارچ تک جاری رہنے والے برفباری کے متوقع ’سیزن‘ کے دوران یہ تعداد مجموعی طور پر دس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی لیکن یہ تعداد بڑھنے کی توقع ہے۔ موسم سرما ہو یا گرما‘ گلیات کی کشش لاکھوں سیاحوں کو کھینچ لاتی ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کے بلندبانگ دعوؤں کے باوجود گلیات (ضلع ایبٹ آباد کے بالائی بیشتر دیہیعلاقوں) میں بنیادی سہولیات کی سارا سال ہی فقدان رہتا ہے۔ قیام و طعام جیسی نجی خدمات فراہم کرنے والے سیاحوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور گراں فروشی کی انتہاء کر دیتے ہیں‘ جبکہ برف ہٹانے‘ بہتر و معیاری سہولیات اور سیاحوں کی رہنمائی اور شکایات کے لئے مربوط نظام کا مطالبہ ایک عرصے سے اِنہی سطور کے ذریعے بار ہا دہرایا جا رہا ہے‘ لیکن مجال ہے جو فیصلہ سازوں میں سے کسی ایک کے کان پر بھی جوں رینگے۔ ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی برفباری اور نظاروں سے محظوظ ہونے کے لئے آنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گلیات (آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل ’سرکل بکوٹ‘) میں رہنے والے مقامی اَفراد کی زندگیاں بھی آسان نہیں ہوئی‘ جنہیں عمومی و اجتماعی طور پر برفباری سے راستوں اور بجلی کی بندش سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کا گویا تجربہ ہو چکا ہے۔

حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن گلیات کی قسمت وہی کی وہی ہے۔ رواں ماہ ہوئی چند روزہ برفباری کے بعد سے ایبٹ آباد مری روڈ (مرکزی شاہراہ) کئی مقامات پر بند رہنے سے سیاح پھنسے رہے۔ نتھیاگلی‘ ڈونگا گلی اور ایویبہ کی سیر کے لئے آنے والوں پاس گاڑیوں کا ایندھن نہ رہا حتیٰ کہ موبائل فون کی بیٹریوں نے بھی کام چھوڑ دیا‘ جو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بذریعہ سماجی رابطہ کاری اکاونٹس صورتحال سے مطلع کرتے رہے لیکن اس دوران متعلقہ حکام کی سردمہری و بے حسی کا سورج سوا نیزے پر چمکتا رہا۔ ’جی ڈی اے‘ حکام نے ’خیبرپختونخوا ہائی وے اتھارٹی‘ کی درخواست پر باڑہ گلی سے نتھیاگلی اور ایویبہ تک کے راستوں کی صفائی کی تو اِس کا خوب چرچا کیا گیا لیکن محدود پیمانے پر ہونے والی اِن کوششوں اور جاری برفباری زیادہ بڑے پیمانے پر انتظامات کی متقاضی تھی۔ کیا متعلقہ حکام کو علم نہیں ہوتا کہ ہر سال گلیات میں برف پڑنے کے بعد‘ ذرائع ابلاغ پر برفباری کی خبریں نشر ہونے کے ساتھ ہی سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے لیکن نہ تو صوبائی حکومت کے ادارے اور نہ ہی ضلعی حکومتیں سیاحوں کی رہنمائی اور اُن کی شکایات کے ازالے کے لئے صف بستہ ہوتے ہیں۔ 

ایک عرصے سے گلیات کے لئے ’ٹورازم ایف ایم ریڈیو‘ اور سیاحوں کی گلیات میں داخلے کے موقع پر رجسٹریشن کی تجاویز دی جا رہی ہیں جو متعلقہ حکام کے سامنے زیرغور بھی ہیں لیکن چونکہ سہولیات کی فراہمی سے متعلق ایک جیسی ذمہ داری کے لئے ایک سے زیادہ ادارے فعال ہیں اِس لئے کوئی ایک حکومتی ادارہ اِسے اپنی ذمہ داری قرار نہیں دیتا۔ سیاحت کے فروغ کا ادارہ‘ گلیات کی ترقی کا ادارہ‘ شاہراؤں کی تعمیر و مرمت‘ توسیع اور اُنہیں سارا سال قابل استعمال رکھنے والا ادارہ اُور ضلعی حکومتیں اپنی اپنی جگہ موجود تو ہیں‘ ملازمین کی فوج ظفرموج بھی ہے اور ’’مراعات کی تقسیم‘‘ کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے لیکن اِس افرادی قوت اور وسائل کا عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات کم سے تعلق نہیں! پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نتھیاگلی سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور موسم گرما میں اُن کے لئے گوشۂ سکون یہی مقامات رہے حتی کہ اپنے صاحبزادوں کو سیروتفریح کروانے کے لئے بھی وہ گلیات اور شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں جبکہ اِن علاقوں میں سیاحوں کے لئے فراہم کردہ سہولیات (مقدار و معیار کے لحاظ سے) اُنہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان باریک بین نہیں وہ سرسری طور پر بڑے بڑے فیصلے اور حکم صادر کرنے میں اپنا ایک خاص مزاج کی بدولت جس کسی چیز کے بارے میں ایک مرتبہ رائے قائم کر لیں تو اُس سے رجوع نہیں کرتے اور نہ ہی مڑ کر دیکھتے ہیں! اُن کی سماعتوں کو بھلے لگنے والے اعدادوشمار بھی ’ذہنی تفریح و تسکین‘ کا ذریعہ ہیں اور ساڑھے چار سال کی حکومت میں افسرشاہی جان چکی ہے کہ ’خان صاحب‘ کو کس طرح مطمئن کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ برفباری کے دوران‘ خوش قسمتی رہی کہ گلیات میں کوئی بڑا ٹریفک حادثہ نہیں ہوا۔ چند ایک مقامات پر درجنوں گاڑیاں پھسلن کے باعث آپس میں ٹکرائیں جس سے مالی نقصانات ہوئے اور اگر شاہراہیں صاف کرنے کے بڑے پیمانے پر اور بروقت انتظامات کئے جاتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ برفباری دیکھنے کے لئے آنے والوں کو زیادہ لطف آتا اور اُن کے ساتھ اچھی یادیں واپس جاتیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی اُو) ایبٹ آباد ’اشفاق انور‘ کے مطابق پولیس کی اضافی نفری اور ٹریفک پولیس کے حکام تعینات کر دیئے گئے تھے‘‘ جس کا فائدہ یقیناًہوا لیکن سیاحوں کے ساتھ مقامی افراد اور گلیات سے جڑی رابطہ شاہراؤں (لنک روڈز) کئی مقامات پر تاحال بند ہیں‘ جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ صوبائی حکومت نے انقلابی اقدام کرتے ہوئے سرکل بکوٹ کی آٹھ یونین کونسلوں کو ’گلیات‘ میں شامل کر دیا ہے تاہم رابطہ شاہراؤں میں توسیع اور انہیں قابل استعمال رکھنے سے متعلق اعلانات (انتخابی وعدے) ہنوز پورے نہیں کئے جاسکے اور اگر تحریک انصاف سرکل بکوٹ پر مشتمل علاقوں کو الگ تحصیل کا درجہ دینے کا وعدہ پورا نہیں کرتی تو اِس کے نامزد انتخابی اُمیدواروں کو آئندہ عام انتخابات میں عوام کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جو گلیات کے چند علاقوں پر نظرکرم سے نالاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسی بنیادی ضرورت ہی کم سے کم فراہم کر دی جائے۔ 

عجب ہے کہ برطانوی راج کے ایک معاہدے کے تحت گلیات (خیبرپختونخوا) سے پینے کا پانی مری (پنجاب) کو فراہم (سپلائی) ہوتا ہے لیکن مقامی افراد اِس آب زلال سے محروم تھے‘ آج بھی محروم ہیں!
۔

Thursday, July 13, 2017

July 2017: Roundup: Political Situation of NA17

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
این اے سترہ: دانشمندانہ فیصلے!
منظرنامہ تبدیل ہے۔ قیام پاکستان کی جدوجہد سے لیکر ’مئی دوہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات تک کے سفر میں ’اہل ہزارہ‘ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے نسل در نسل منتقل ہونے والی ’حب الوطنی‘ کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں کے چہروں سے نقاب اُلٹا‘ اور ہزارہ سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی کے ساتھ ’سیاسی تبدیلی‘ کے پہلے مرحلے کو خوش اسلوبی سے طے کیا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے موقع پر ’این اے سترہ‘ ایبٹ آباد ون‘ کی نشست بطور خاص مرکز نگاہ تھی‘ جہاں سے تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی کے جملہ محرکات میں نامزد اُمیدوار ’ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون‘ کی بے لوث سماجی و طبی خدمات‘ ہزارہ کے حقوق کے لئے ایک دہائی پر محیط سیاسی جدوجہد اُور جدون خاندان کا ’اَثرورسوخ‘ بھی شامل تھا‘ جس کی بدولت مسلم لیگ (نواز) کے 69 ہزار 568 ووٹوں کے مقابلے ڈاکٹر اظہر نے 96 ہزار 185 ووٹ حاصل کرکے ایک ایسی تاریخی کامیابی حاصل کی‘ جس کی پورے ہزارہ ڈویژن میں مثال نہیں تھی اُور یہ فتح صرف انتخابی کامیابی کی حد تک ہی محدود نہ سمجھی جائے بلکہ اُس وقت مسلم لیگ (نواز) کی ہزارہ سیاست سے پاؤں اکھاڑ دیئے گئے تھے۔ اے کاش کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت چار سالہ دور میں ’این اے سترہ‘ پر حاصل انتخابی کامیابی کی اہمیت کا ادراک کر سکتی اور اِس نشست سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پر اگر مقامی کارکنوں کو خاطرخواہ اہمیت دیتی‘ تنظیم سازی اور ترقیاتی حکمت عملی میں ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے تحریک کے ’سیاسی مستقبل‘ کو مدنظر رکھا جاتا تو آج صورتحال زیادہ موافق ہوتی! جون دوہزار چودہ میں ہوئے صوبائی اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخابی مرحلے میں اگر کسی مقامی اُمیدوار کو تحریک نامزد کرتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ مسلم لیگ (نواز) کو آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل سرکل بکوٹ کے اِس اہم حلقے پھر سے پاؤں جمانے کا موقع مل سکتا!

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے مشتاق احمد غنی (پی کے چوالیس)‘ قلندر خان لودھی (پی کے چھیالیس)‘ سردار ادریس (پی کے اڑتالیس) اُور ڈاکٹر اظہر جدون (این اے سترہ) نے نہایت ہی رازداری سے ایسی حکمت عملی اختیار کی‘ جس کی وجہ سے ’تحریک انصاف‘ کی مخالفت کے آگے بند باندھنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور اِسی ’’حکمت عملی کا ثمر‘‘ تھا کہ مئی دوہزار پندرہ میں ہوئے یہاں سے ’بلدیاتی انتخابات‘ کے نتائج تحریک انصاف کے حق میں رہے لیکن واضح برتری کے باوجود اگر تحریک انصاف تاحال اپنی ضلعی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو اِس کے درپردہ سازشوں میں ’بدنیتی‘ سیاسی مخالفت (غیرجمہوری روئیوں)‘ کے سوأ کوئی دوسرا محرک کارفرما نہیں۔ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ’ایبٹ آباد‘ کو بھی اِس ’’جرم‘‘ کے لئے سزا دی گئی کہ اِس نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات اور بعدازاں مئی دوہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ کیوں دیا!

تحریک انصاف کے خلاف ضلع ایبٹ آباد میں سازشوں کی کمی نہیں اور اِس بات کا کماحقہ ادراک مرکزی و صوبائی قیادت کو کرنا ہوگا کہ اگر اُنہوں نے آئندہ عام انتخابات میں ایبٹ آباد کے کسی ایک بھی حلقے سے غیرمقامی اُمیدوار نامزد کیا تو انتخابی معرکے میں شکست ملے گی۔ عیدالفطر کے فوراً بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے منسوب یہ بیان تحریک انصاف کے کارکنوں میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کہ ’’وہ بذات خود ’این اے سترہ‘ کے لئے اُمیدوار ہیں!‘‘ ماضی میں ایسے ہی یک طرفہ اور غلط فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف ہزارہ بلکہ دیگر اضلاع میں تحریک انصاف کو انتخابی شکست ہوئی جیسا کہ ’این اے ون‘ اور ’پی کے پینتالیس‘ کی مثالوں (حاصل نتائج) سے عیاں ہے!

تحریک انصاف کی مخالف سیاسی قوتیں پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور بالخصوص جوں جوں ’پانامہ کیس‘ اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ رہا ہے‘ تحریک مخالف ’اِنتخابی اتحاد‘ بن رہے ہیں! سیاسی بصیرت‘ دانشمندی اور موجودہ نازک گھڑی میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور خوب تول کر بولنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت آئندہ عام انتخابات سے متعلق قبل ازوقت بیانات نہ دے کیونکہ بیانات سے مخالفین کو منصوبہ بندی اور پیش بندی کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ غیرضروری بیانات داغنے سے مقامی کارکنوں اور قیادت پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ تحریک کے قائد سے منسوب بیان کا سیاق و سباق مقامی قیادت کو معلوم نہیں ہوتا اور بیانات کا دفاع یا وضاحت کرتے ہوئے غلطی کا اندیشہ رہتا ہے۔ دوئم انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کئے بناء کوئی بھی ایسا فیصلہ صادر نہ کیا جائے‘ جس سے بعدازاں رجوع کرنا پڑے۔ سوئم کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اثاثہ اُس کے کارکن ہوتے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں تحریک انصاف کی تنظیم سازی مکمل کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے۔ خواتین نوجوانوں اُور رضاکاروں کی منظم و فعال تنظیمیں ہی آئندہ عام انتخابات میں کارآمد و کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر تحریک انصاف اب انتخابی تیاریاں شروع نہیں کرتی تو یہ کب کرے گی؟ چوتھی ضرورت یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد کی سطح پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور نمائندہ اداروں (پریس کلبس اور یونین) کے درمیان دھڑے بندیاں ختم کرنے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کردار ادا کرے‘ کیونکہ اِس دھڑے بندیوں کا بھرپور فائدہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین اُٹھا رہے ہیں اور بالخصوص مقامی اخبارات کو ’منفی پراپگنڈے‘ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

خیبرپختونخوا حکومت کے پاس مالی وسائل بھی ہیں اور ایسے آئینی اختیارات بھی جن کے ذریعے ’پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا‘ کی پیشہ ورانہ اِستعداد میں اضافہ اور وقتی مفادات پر مبنی سوچ کی اصلاح ممکن ہے۔ پریس کلبوں اور یونین سے غیرمتعلقہ افراد کا اخراج‘ صحافت کی اہمیت اور شعور اُجاگر کرنے سے باآسانی ممکن ہے۔ افراد کی بجائے اگر اداروں کو مضبوط کیا جائے تو اس سے نہ صرف تحریک انصاف کو وقتی فائدہ ہوگا بلکہ جمہوریت کے لئے بھی یہی نیک شگون ہے کہ ’’جرائم‘ سیاست اور صحافت‘‘ کے درمیان گٹھ جوڑ ختم کیا جائے۔ غیرجانبدار اُور غیرسیاسی میڈیا کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ سبھی کے مفاد میں ہے۔ سوشل میڈیا پر اِنحصار کرنے والی ’تحریک اِنصاف‘ دیگر ہم عصروں سے پہل کرتے ہوئے جماعتی سرگرمیوں پر مبنی اخبار اور ٹیلی ویژن چینل بھی متعارف کرا سکتی ہے جس سے غیرمصدقہ بیانات اور اِن کی آڑ میں سازشیں کرنے والوں کا مقابلہ اور توڑ کیا جاسکتا ہے۔ وقت ہے کہ انتخابات کی بجائے سیاست میں سرمایہ کاری کی جائے۔ 

ایبٹ آباد کے مقامی سیاسی حالات‘ خاندانوں کے اثرورسوخ اور تحریک انصاف کے موجودہ منتخب نمائندوں (مشتاق غنی‘ قلندر لودھی‘ سردار ادریس اُور ڈاکٹر اظہر) کی دامے درہمے سخنے کوششوں کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے پاس ’غلطی کی گنجائش‘ نہیں رہی اور اگر ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی ’جذباتی اُور مزید غلط فیصلے‘ کئے گئے تو تحریک انصاف کم سے کم ایبٹ آباد کی سطح پر آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کا ’نادر موقع‘ ہمیشہ کے گنوا دے گی۔
Reasons why Imran Khan should not context election from NA-17 Abbottabad I in upcoming Geenral Elections

Friday, June 3, 2016

Jun2016: The real Hero! (Shan Abbasi)

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حقیقی قومی ہیرو!
ضلع ایبٹ آباد کے بالائی علاقوں میں آٹھ یونین کونسلوں (بکوٹ‘ بیروٹ‘ بوئی‘ پٹن کلاں‘ دلولہ‘ ککمنگ‘ نمبل اُور پلک) پر مشتمل ’سرکل بکوٹ‘ کی جنت نظیر وادیوں کا اصل حسن وہاں پایا جانے والا سماجی خدمت کا جذبہ ہے‘ جسے سیاسی بنیادوں پر امتیازات اور نسلی و لسانی بنیادوں پر تعصبات سے پاک (موافق) ماحول میسر آیا تو پھلنے پھولنے کا ایسا موقع ملا کہ سماجی ترقی اور معاشرے کے ذمہ دار روئیوں کے شگوفے کھل اُٹھے۔ یونین کونسل بیروٹ کی ویلیج کونسل کہو غربی‘ لہور کس گاؤں کے رہنے والے پچاس سالہ ’محمد شان عباسی‘ سعودی عرب محنت مشقت کے لئے گئے اور برسہا برس کی انتھک محنت سے جمع پونجی کا استعمال اپنا ذاتی مکان یا کاروبار بڑھانے کے لئے نہیں کیا بلکہ تمام کی تمام رقم یعنی 20 لاکھ روپے گاؤں کی سڑک تعمیر کرنے پر خرچ کر دی! اپنی مدد آپ کے تحت کسی فرد واحد کے ہاں پائے جانے والی اجتماعی فلاح و بہبود کی یہ منفرد سوچ کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی! یاد رہے کہ یہ وہی سرکل بکوٹ ہے جہاں غربت و پسماندگی اِس انتہاء کی ہے کہ سیاحتی امکانات اورپن بجلی کے چھوٹے منصوبوں کے لئے موزوں علاقے کے لوگوں کو محنت مزدوری کے لئے ملک کے دیگر حصوں یا بیرون ملک نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں!

 صدقۂ جاریہ پر اعتقاد ہونا اُور صدقۂ جاریہ کے لئے اپنی پوری جمع پونچی خرچ کرنا یقین و عمل کا حسین امتزاج ہے جس کے لئے شان عباسی کی مثال پورے پاکستان کے سامنے پیش ہونی چاہئے کہ کس طرح ایک شخص نے حکومت کی جانب سے ترقیاتی عمل کے منتظر اہل علاقہ کی مشکلیں آسان کر دیں۔ اگرچہ ’این اے سترہ‘ سے منتخب ہونے والے رُکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اَظہر جدون نے مذکورہ شاہراہ کی تعمیر کے لئے دس لاکھ روپے پہلے ہی مختص کر رکھے ہیں‘ جن کی وفاقی حکومت سے منظوری کے مراحل میں غیرضروری تاخیر کی وجہ وہ ’سیاسی عناد‘ ہے جس کی بناء پر حزب اختلاف اور بالخصوص تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی سے امتیاز برتا جاتا ہے۔

کاش ہم حسن انتخاب سے کام لیتے ہوئے جمہوری طرز حکمرانی کے اسلوب کا ادراک کر سکتے! شان کی شان یہ بھی ہے کہ اگر وہ چاہتے تو کم و بیش ڈیڑھ کلومیٹر شاہراہ عام کو اپنے نام سے منسوب کر سکتے تھے جیسا کہ سیاسی لوگ کرتے ہیں لیکن اُنہوں نے باوجود اصرار بھی اِسے ’خلفائے راشدین‘ کا نام نامی دے کر اپنے روحانی درجات و فیض کو دنیاوی نمود و نمائش پر ترجیح دی ہے۔

شان عباسی نے بیرون ملک کمائی کی ساری رقم گاؤں کی سڑک بنانے پر خرچ ہونا کسی بھی صورت معمولی بات نہیں۔ درحقیقت اُس ایک شخص نے اُس سوچ سے بھی بغاوت کی ہے‘ جو سرکل بکوٹ کو محکوم و غلام بنائے رکھنے کی ہے یقیناًماضی کے اُن تمام حکمرانوں کی آنکھیں شرم و ندامت سے جھک جانی چاہئیں! جن کے پاس ایک غریب محنت کش جتنا ظرف‘ حوصلہ اُور دریا دلی نہیں! ماضی میں رنگوٹ اور حال میں ’’خلفائے راشدین روڈ‘‘ کہلانے والی شاہراہ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اہل علاقہ کی جانب سے شان عباسی کے اعزاز میں استقبالیہ کا انعقاد کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی سمیت عمائدین علاقہ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شان عباسی کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ ہر بار کسی مقرر کی زبان پر اُن کا نام آنے پر پنڈال تالیوں سے گونج اُٹھتا جس سے شان عباسی کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھ جاتی یقیناًبلاامتیاز سماجی خدمت پر یقین رکھنے والے ’روشن ضمیر‘ ہی اَصل قومی ہیرو ہیں‘ جن کی خدمات کو سراہا جانا چاہئے اور یہی وہ شخص ہے جسے قومی اعزاز بھی ملناچاہئے۔ کیا الیکٹرانک ذرائع ابلاغ ایک ایسے شخص کی خدمات کو قوم کے سامنے پیش کریں گے‘ جس نے گمنامی میں رہنے کو ترجیحی دی!

شان عباسی کی خدمات تاقیامت مثال رہیں گی کیونکہ ایک تو انہوں نے ذاتی رقم سے گاؤں کی شاہراہ کی تعمیر مکمل کروائی اور ساتھ ہی جب حکومت کی جانب سے دس لاکھ روپے دینے کی بات کی گئی تو انہوں نے کمال فراخدلی سے کہا کہ وہ ملنے والی رقم بھی اِسی شاہراہ کی توسیع پر خرچ کریں گے‘ جس سے اسے خانسپور ایویبہ سے ملا دیا جائے گا۔ یقین نہیں آتا کہ آج کی مادہ پرست دنیا میں کوئی شخص رضائے الٰہی کے لئے بناء کسی قسم کے سیاسی عزائم عوام کی خدمت پر اِس قدر یقین بھی رکھ سکتا ہے۔

خلفائے راشدین روڈ کو مرکزی آبادی ایویبہ سے ملانے کے لئے ’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے)‘ کے حکام کو توجہ دینی چاہئے جبکہ تحریک انصاف پر اعتراض کرنے والوں کو دعوت عام ہے کہ وہ مذکورہ شاہراہ کا معیار اور اِس پر آنے والی لاگت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد فیصلہ کریں کہ ماضی کی کسی بھی حکومت کے مقابلے آج سرکل بکوٹ میں نہ صرف زیادہ تعداد میں ترقیاتی کام مکمل ہوئے ہیں بلکہ نئی تعمیرات اور توسیع و ترقی کا معیار بھی ماضی کے مقابلے اگر زیادہ پائیدار و مضبوط ہے تو کہیں اِس کی وجہ طرزحکمرانی کی اصلاح اور خیبرپختونخوا میں کرپشن کا خاتمہ تو نہیں!؟ اگر سرکل بکوٹ اِسی سیاسی بصیرت‘ اِتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت میں ترقی کے جاری عمل کو آگے بڑھائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ شعور اُور اِس کے فیوض و برکات (ثمرات بصورت نتائج) اجتماعی مفاد اور تعصبات سے پاک سیاست کے فروغ کے لئے بصورت انقلاب تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

Saturday, January 9, 2016

Jan2016: Patrind Hydropower Project, the hurdles

ژرف نگاہ  ۔۔۔شبیر حسین اِمام
پیترینڈ ہائیڈرو پراجیکٹ: خونی موڑ!
جنت نظیر وادیوں اُور سیاحتی اِمکانات کے علاؤہ قدرتی وسائل سے مالامال ضلع ایبٹ آباد کے بالائی علاقوں کی ’’تین یونین کونسلیں (بوئی‘ دلولہ اُور ککمنگ)‘‘ آزاد کشمیر سے متصل ہیں‘ جہاں ’’147 میگاواٹ‘‘ پیداواری صلاحیت کا ’پن بجلی منصوبہ‘ زیرتعمیر ہے‘ جس کے لئے تکنیکی و فنی نگرانی اُور امداد ’کوریا (Korea)‘ حکومت کا ذیلی اِدارہ ’سٹار ہیڈرو‘ فراہم کر رہا ہے اُور اَگر جاری تعمیراتی کام میں کسی وجہ سے خلل نہیں آتا تو اُمید یہی ہے کہ اپنی نوعیت کا یہ منفرد اُور تعمیراتی کام کے لحاظ سے ملک کا جدید ترین و پائیدار پن بجلی کا منصوبہ رواں برس (دسمبر دوہزار سولہ) یا زیادہ سے زیادہ ’جنوری دو ہزار سترہ‘ کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا لیکن خیبرپختونخوا کی تین یونین کونسلوں (بوئی‘ دلولہ اُور ککمنگ) کے رہنے والوں کو شدید نوعیت کے تحفظ ہیں کہ مذکورہ پن بجلی کے منصوبے کی تعمیرات کے لئے مقامی افراد سے کئے گئے تحریری وعدے (بصورت معاہدہ) پورا نہیں کئے گئے۔ یاد رہے کہ ’پیترینڈ ہائیڈرو پراجیکٹ‘ کا تعمیراتی کام ’دو ہزار بارہ‘ میں شروع ہوا جبکہ منصوبے سے متاثرین یونین کونسلوں کے رہنے والوں نے دوہزار تیرہ میں ’ایکشن کمیٹی‘ کے نام سے اپنے مفادات کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا اور اِس سلسلے میں ایک اہم پیشرفت 8 جنوری کے روز ’کمشنر ہزارہ محمد اَکبر خان‘ اُور اَسسٹنٹ کمشنر میر رضا اوزگن‘ سے ملاقات کی صورت سامنے آئی‘ جس میں مذکورہ منصوبے کا تعمیراتی کام مکمل کرنے والی کمپنی ’سٹار ہائیڈرو کے کورین نمائندے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر ’چئی لی (Kh Lee)‘ چیف فنانشیل آفیسر یاک کیم (Yk Kim) اُور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی اِی اُو) وقار اَحمد خان شریک ہوئے۔ ایبٹ آباد میں ہوئے اِس غیرمعمولی اِجلاس میں متاثرین کی ایکشن کمیٹی کے تین نمائندے مبارک عباسی‘ اشتیاق عباسی اُور سجاد کھوکھر بھی موجود تھے اور اِس ملاقات کو ممکن بنانے کے لئے کوششوں کا سہرا‘ متعلقہ حلقے (این اے سترہ) سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کے سر ہے جنہوں نے متاثرین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بذریعہ مذاکرات بھی تحفظات دور ہو سکتے ہیں اور احتجاج کرنے یا مذکورہ منصوبے پر تعمیراتی کام کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے نگران کمپنی کو پابند کیا جائے گا تاکہ وہ حسب وعدہ تعمیراتی و ترقیاتی کام پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ کسی سیاست دان کا اصل کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے یا طبقات میں اختلافات ختم کرے۔ ایک دوسرے کے تحفظات دور کرے۔ محروم طبقات کو احساس دلائے کہ اُنہیں سماجی و آئینی اور معاشرتی انصاف کے ساتھ مساوی مقام دیا حاصل ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں سیاستدانوں کی اکثریت لفظ ’سیاست‘ کے لغوی معنی تک نہیں جانتی اور اُن کا کردار مثبت و تعمیری ہونے کی بجائے اختلافات کو ہوا دینا ہے!


’پیترینڈ ہائیڈرو پراجیکٹ‘ سے متاثرین کے تین بنیادی تحفظات ہیں‘ جنہیں ایک ہی نشست میں حل کرنے کی سبیل و امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ 1: اہلیت کی بنیاد پر سرکل بکوٹ کی ’آٹھ یونین کونسلوں‘ سے تعلق رکھنے والے کسی ایک طالب علم یا طالبہ کو ہر سال انجنیئرنگ کی تعلیم کے لئے وظیفہ دیا جائے کیونکہ یہ بات تحریری طور پر عمائدین علاقہ سے کئے گئے معاہدے کا حصہ ہے۔ آٹھ جنوری کو ہوئی سہ فریقی میٹنگ میں ضلعی انتظامیہ‘ سٹار ہائیڈرو اور رکن قومی اسمبلی کی قیادت میں اہل علاقہ کے نمائندہ وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ برس سکالرشپ دینے کے لئے اشتہارات دیئے جائیں گے جبکہ فی الوقت جو طالب علم کسی سرکاری ادارے میں انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اُور وہ اپنی اہلیت پر داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اُنہیں باقی ماندہ تعلیم مکمل کرنے کے لئے سکالرشپ (وظیفہ) دیا جائے گا۔ 2: پیترینڈ ہائیڈرو پراجیکٹ سے ملحقہ کسی یونین کونسل میں ایک فنی تعلیم کا اِدارہ (وکیشنل ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ) بنایا جائے گا جس کے لئے اراضی زمین فراہم کرنا‘ خیبرپختونخوا حکومت جبکہ تعمیراتی اَخراجات کوریا کی کمپنی ’سٹار ہائیڈرو‘ فراہم کرے گی۔

 اہل علاقہ نے مثالی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین مفت دینے کا وعدہ کر لیا ہے تاہم اِس سلسلے میں کچھ تکنیکی مراحل عبور کرنے ہیں جیسا کہ اِس قسم کے تکنیکی ادارے کے قیام کے لئے مجموعی طورپر کتنی اَراضی درکار ہوگی؟ اِس سلسلے میں اَسسٹنٹ کمشنر میر رضا اوزگن‘ سٹار ہائیڈرو کے چیف اَیگزیکٹو آفیسر وقار اَحمد خان اُور متاثرین کی اَیکشن کمیٹی کے چیئرمین مبارک عباسی پر مشتمل (سہ فریقی) تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو خیبرپختونخوا کے متعلقہ ادارے سے مشاورت کے بعد زمین کا انتخاب اور اُسے حکومت کے نام منتقل کرنے جیسے امور کی خوش اسلوبی و تیزرفتاری سے انجام دہی کو ممکن بنائے گی۔ 3: پیترینڈ پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے لئے گڑھی حبیب اللہ (بوئی) سے منصوبے کے مقام (ورکنگ اَیریا) تک جو سڑک آمدورفت اُور تعمیراتی ضروریات کی نقل و حمل کے لئے استعمال ہوئی اُس کی کل لمبائی دس سے سولہ کلومیٹر بنتی ہے اور یہ شاہراہ انتہائی خستہ حال ہے۔ منصوبے کے ماحولیاتی منفی اثرات کا جائزہ لینا ایک الگ مرحلۂ فکر ہے‘ جس کے بارے فی الوقت غور نہیں ہورہا۔

 تعمیراتی کمپنی نے تحریری معاہدے میں ’ورکنگ ایریا‘ کے اندر تک سڑکوں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا لیکن اہل علاقہ کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ نے کورین حکومت کے نمائندوں کو ’واضح الفاظ‘ میں خبردار کیا ہے کہ اَگر مذکورہ سڑک کی ضروری تعمیرومرمت کرکے اِسے قابل استعمال و قابل قبول حالت میں ’’بحال‘‘ نہ کیا گیا تو اِس سے ’امن و امان‘ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اُور منصوبے پر جاری کام کی رفتار بھی متاثر ہوسکتی ہے تاہم رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر اظہر جدون ایک ایسے طوفانی ردعمل کو روکے ہوئے ہیں‘ جو کسی بھی صورت نہ تو خیبرپختونخوا اور نہ ہی آزاد کشمیر کے مفاد میں ہے۔ اِس سلسلے میں کمشنر ہزارہ نے ’سہ فریقی کمیٹی‘ کو ذمہ داری سونپی ہے کہ مذکورہ سڑک کے خستہ حال حصوں کا معائنہ (سروے) کرکے رپورٹ بنائی جائے اور کورین کمپنی کے نمائندوں نے اِس اصولی مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ مذکورہ سڑک کی بحالی کے لئے درکار مالی و تکنیکی وسائل فراہم کریں گے۔ قوئ اُمید ہے کہ مشاورت سے ’نالہ سہالی‘ پر 50میٹر رابطہ پل‘ نالہ سہالی کے پاس گھمن (دلولہ نمبر ایک) کے ’خونی موڑ‘ اُور پٹوار خانے کا شیلٹر تعمیر کرنے جیسے دیرینہ مطالبات پورے جبکہ غلط فہمیوں کو جنم دینے والے معاملات بھی یکے بعد دیگرے طے ہوتے چلے جائیں گے۔

’پیترینڈ ہائیڈرو پراجیکٹ‘ کئی لحاظ سے ایک ’ٹیسٹ کیس‘ ہے جس کا مطالعہ مستقبل میں اِس قسم کے دیگر منصوبوں کی تیاری میں مددگار و معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اگرچہ ایگریمنٹ کرتے ہوئے مقامی افراد کے مفادات کا زیادہ خیال نہیں رکھا گیا لیکن جو کچھ بھی معاہدے میں تحریر ہو چکا ہے کم سے کم اُس پر عمل درآمد کرانے میں اگر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹراظہر ذاتی طورپر دلچسپی نہ لیتے تو ضلعی انتظامیہ کو تین یونین کونسلوں کے تین لاکھ سے زیادہ متاثرین کے مسائل و مشکلات سے کوئی دلچسپی یا سروکار نہیں تھا۔ آرام دہ کمروں میں گرمی و سردی کی شدت سے بے نیاز‘ چمکتی دمکتی میزوں پر بیٹھے حکمرانوں کی کمی نہیں لیکن فیصلہ سازی کے تقاضے اُور عام آدمی (ہم عوام) کے حقوق کا کون کتنا خیال رکھتا ہے‘ اِس بارے میں زیادہ تفصیلات لکھنے کی ضرورت نہیں۔ قومی اسمبلی کے منتخب نمائندے کی پوری کوشش ہے کہ سیاسی و انتخابی مفادات سے بالاتر ہو کر سرکل بکوٹ کے رہنے والوں کے ’’اجتماعی مفادات‘‘ کا بہرصورت و بہرکیف تحفظ ہو اُور تحریک انصاف کے اِس انصاف پر مبنی ’سیاسی رویئے‘ کی صرف سرکل بکوٹ ہی کیا‘ پورے ہزارہ کی سیاسی تاریخ میں کوئی ایک بھی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی!

Monday, August 17, 2015

Aug2015: No more room for mistakes

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
غلطی کی گنجائش
ضمنی انتخابات میں ’سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور‘ نہیں بلکہ اُن کرداروں کو ووٹ ملتے ہیں جن کے پاس مقامی مسائل کی بابت نیک خواہشات‘ خیالات و الفاظ پر مبنی وعدے نہیں بلکہ کارکردگی کی عملی مثالیں اور وسائل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ رہی کہ سولہ اگست کے روز آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 19‘ ہری پور میں وفاق اور خیبرپختونخوا کی حکومتی جماعتوں کے درمیان ’انتخابی مقابلہ‘ قطعی یک طرفہ ثابت ہوا۔ سترہ اگست کے روز پانچسوتیرہ پولنگ اسٹیشنوں کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق ’وفاقی حکومت‘ جیت گئی‘ جس نے ضمنی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد کئی ایک تعمیراتی کام شروع کروائے جس میں حویلیاں کو موٹروے سے منسلک کرنے والی شاہراہ کو چار سے چھ رویہ کرنے کا اِعلان بھی شامل ہے‘ یہ وہ چند عملی اِقدامات تھے‘جن پر جاری عمل درآمد کا مشاہدہ ’ہری پور‘ کے رہنے والے ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اُور سڑکوں کی تعمیر و دیگر ترقیاتی کاموں کی اہمیت سے بھی واقف تھے کہ یہ اُن کے علاقے کی ترقی کے لئے کتنی ضروری اُور کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ اِسی طرح خیبرپختونخوا حکومت کی حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے اُمیدوار کی شکست کا سبب بھی یہی محرک بنا کہ گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد حکومت ملنے کے بعد ترقیاتی عمل میں تیزی کی بجائے سستی دیکھنے میں آئی‘ جس سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ہری پور بھی بُری طرح متاثر ہوا۔

لب لباب یہ ہے کہ بالائی خیبرپختونخوا پر مشتمل ’ہزارہ ڈویژن‘ کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کرنے میں بڑی کوتاہی کی گئی۔ یہ گیٹ وے خطہ حسن ابدال‘ ہری پور‘ حویلیاں‘ ایبٹ آباد سے ہوتا ہوا گلگت بلتستان کے راستے ہمسایہ ملک عوامی جمہوریہ چین سے جا ملتا ہے‘ اُور اِسی راستے ’اقتصادی راہداری‘ کے قیام کے لئے چین کی جانب سے مالی و تکنیکی امداد دینے کا اعلان بھی ہو چکا ہے لیکن ’حسن ابدال‘ سے ’ایبٹ آباد‘ کے درمیان سڑک کے دونوں کنارے تعمیرات اور راہداری کے علاؤہ مقامی ٹریفک کا دباؤ اِس شاہراہ پر سفر کرنے والوں کے لئے انتہائی ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ بالخصوص موسم گرما میں ہر ہفتہ وار تعطیل (جمعہ سے اتوار) کے موقع پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور اعصاب شکن ٹریفک جام ایک ایسا معمول بن چکا ہے‘ جس کا کوئی فوری حل نہیں۔ اُمید ہے کہ رواں برس کے اختتام (آئندہ چار یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ) کے دوران حویلیاں اُور موٹروے کے راستے براہ راست آمدورفت رواں ہوگی‘ جس کے بعد حسن ابدال و ہری پور کی شاہراؤں پر ٹریفک کے رش میں غیرمعمولی کمی آئے گی۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ’ہزارہ مسلم لیگ کا گڑھ رہا ہے جس کی مقبولیت کو تحریک انصاف نے چیلنج کیا اُور اگر خیبرپختونخوا سیاحتی ترقی کے امکانات و قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال ہزارہ ڈویژن کی اہمیت کا ادراک اب بھی کر لے تو کوئی وجہ نہیں کہ دو ہزار تیرہ میں بننے والا ’’ووٹ بینک‘‘ نہ صرف محفوظ و برقرار رہے بلکہ اِس میں اضافہ بھی ہو۔ اِس سلسلے میں سب سے زیادہ توجہ ضلع ایبٹ آباد کے بالائی حصوں پر مشتمل وہ 8 یونین کونسلیں ہیں‘ جنہیں ’سرکل بکوٹ‘ کہا جاتا ہے اُور ممکنہ عالمی اِعزاز کی حامل یہاں ایک ایسی سڑک بھی ہے جس پر کام کا آغاز کم وبیش 30برس قبل ہوا تھا اور آج بھی اِس سڑک کا باقی ماندہ 19کلومیٹر سڑک کا حصہ مکمل نہیں کیا جاسکا۔

خیبرپختونخوا حکومت نے سرکل بکوٹ کی 8 یونین کونسلوں کو آپس میں ملانے کے لئے ’بوئی سوار گلی روڈ‘ کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ جس کے لئے 2 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کے تحت مذکورہ شاہراہ کے علاؤہ سرکل بکوٹ و گلیات میں دیگر چھوٹے بڑے تعمیراتی کام مکمل کئے جا رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 45‘ پر ضمنی انتخابات کے موقع پر صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کی جانب سے سرکل بکوٹ کے رہنے والوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اُن کے علاقے کو ’تحصیل‘ کا درجہ دیا جائے گا‘ جس کے بعد اُنہیں بہت سے چھوٹے دفتری کاموں کے لئے ضلعی صدر مقام ایبٹ آباد نہیں جانا پڑے گا لیکن بعدازاں معلوم ہوا کہ اِس وعدے کی تکمیل سرکل بکوٹ کی یونین کونسلوں کو آپس میں بذریعہ شاہراہ منسلک کئے بناء ممکن نہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یکم اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما‘ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز (اخباری بیان) میں کہا گیا کہ ’’بوئی سوار گلی کا کم و بیش 19کلومیٹر روڈ کا باقی ماندہ حصہ تعمیر کرنے کے لئے صوبائی حکومت خصوصی ترجیح رکھتی ہے اور اس سلسلے میں سوار گلی سے کوہالہ تک کی شاہراہ تقریباً مکمل کر لی گئی ہے جبکہ کوہالہ (بکوٹ) سے بوئی تک 11 کلومیٹر کا باقی ماندہ کام آئندہ مالی سال کے دوران شروع کیا جائے گا۔ منصوبے میں کل 5 پل بھی تعمیرکئے جائیں گے اور اس منصوبے پر مجموعی طور پر ’’ایک ارب روپے‘‘ لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے لئے مالی وسائل آئندہ مالی سال (2016-17ء) میں مختص کرنے کی تجویز ہے۔‘‘

ترقیاتی کاموں سے متعلق اِنتخابی وعدوں کا ایفاء ہو یا اِہل علاقہ کے دیرینہ مطالبات کی روشنی میں تعمیراتی ترجیحات‘ کا تعین‘ ہر لفظ تول تول کر بولنا اُور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔ صوبائی سطح پر بہتر طرز حکمرانی کی عملی مثالیں قائم کرنے کے لئے حکمراں جماعت سے وابستہ ہر فیصلہ ساز اُور ہر رکن قومی و صوبائی اسمبلی کو سمجھنا ہو گا کہ اُنہیں جو کچھ بھی کرنا ہے‘ اِس میں مزید تاخیر و کوتاہی کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔
Why no room left for mistake for PTI as the NA19 Haripur ByElection result disappoint many not the leadership