Showing posts with label PK45. Show all posts
Showing posts with label PK45. Show all posts

Thursday, July 13, 2017

July 2017: Roundup: Political Situation of NA17

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
این اے سترہ: دانشمندانہ فیصلے!
منظرنامہ تبدیل ہے۔ قیام پاکستان کی جدوجہد سے لیکر ’مئی دوہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات تک کے سفر میں ’اہل ہزارہ‘ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے نسل در نسل منتقل ہونے والی ’حب الوطنی‘ کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں کے چہروں سے نقاب اُلٹا‘ اور ہزارہ سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی کے ساتھ ’سیاسی تبدیلی‘ کے پہلے مرحلے کو خوش اسلوبی سے طے کیا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے موقع پر ’این اے سترہ‘ ایبٹ آباد ون‘ کی نشست بطور خاص مرکز نگاہ تھی‘ جہاں سے تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی کے جملہ محرکات میں نامزد اُمیدوار ’ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون‘ کی بے لوث سماجی و طبی خدمات‘ ہزارہ کے حقوق کے لئے ایک دہائی پر محیط سیاسی جدوجہد اُور جدون خاندان کا ’اَثرورسوخ‘ بھی شامل تھا‘ جس کی بدولت مسلم لیگ (نواز) کے 69 ہزار 568 ووٹوں کے مقابلے ڈاکٹر اظہر نے 96 ہزار 185 ووٹ حاصل کرکے ایک ایسی تاریخی کامیابی حاصل کی‘ جس کی پورے ہزارہ ڈویژن میں مثال نہیں تھی اُور یہ فتح صرف انتخابی کامیابی کی حد تک ہی محدود نہ سمجھی جائے بلکہ اُس وقت مسلم لیگ (نواز) کی ہزارہ سیاست سے پاؤں اکھاڑ دیئے گئے تھے۔ اے کاش کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت چار سالہ دور میں ’این اے سترہ‘ پر حاصل انتخابی کامیابی کی اہمیت کا ادراک کر سکتی اور اِس نشست سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پر اگر مقامی کارکنوں کو خاطرخواہ اہمیت دیتی‘ تنظیم سازی اور ترقیاتی حکمت عملی میں ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے تحریک کے ’سیاسی مستقبل‘ کو مدنظر رکھا جاتا تو آج صورتحال زیادہ موافق ہوتی! جون دوہزار چودہ میں ہوئے صوبائی اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخابی مرحلے میں اگر کسی مقامی اُمیدوار کو تحریک نامزد کرتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ مسلم لیگ (نواز) کو آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل سرکل بکوٹ کے اِس اہم حلقے پھر سے پاؤں جمانے کا موقع مل سکتا!

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے مشتاق احمد غنی (پی کے چوالیس)‘ قلندر خان لودھی (پی کے چھیالیس)‘ سردار ادریس (پی کے اڑتالیس) اُور ڈاکٹر اظہر جدون (این اے سترہ) نے نہایت ہی رازداری سے ایسی حکمت عملی اختیار کی‘ جس کی وجہ سے ’تحریک انصاف‘ کی مخالفت کے آگے بند باندھنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور اِسی ’’حکمت عملی کا ثمر‘‘ تھا کہ مئی دوہزار پندرہ میں ہوئے یہاں سے ’بلدیاتی انتخابات‘ کے نتائج تحریک انصاف کے حق میں رہے لیکن واضح برتری کے باوجود اگر تحریک انصاف تاحال اپنی ضلعی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو اِس کے درپردہ سازشوں میں ’بدنیتی‘ سیاسی مخالفت (غیرجمہوری روئیوں)‘ کے سوأ کوئی دوسرا محرک کارفرما نہیں۔ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ’ایبٹ آباد‘ کو بھی اِس ’’جرم‘‘ کے لئے سزا دی گئی کہ اِس نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات اور بعدازاں مئی دوہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ کیوں دیا!

تحریک انصاف کے خلاف ضلع ایبٹ آباد میں سازشوں کی کمی نہیں اور اِس بات کا کماحقہ ادراک مرکزی و صوبائی قیادت کو کرنا ہوگا کہ اگر اُنہوں نے آئندہ عام انتخابات میں ایبٹ آباد کے کسی ایک بھی حلقے سے غیرمقامی اُمیدوار نامزد کیا تو انتخابی معرکے میں شکست ملے گی۔ عیدالفطر کے فوراً بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے منسوب یہ بیان تحریک انصاف کے کارکنوں میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کہ ’’وہ بذات خود ’این اے سترہ‘ کے لئے اُمیدوار ہیں!‘‘ ماضی میں ایسے ہی یک طرفہ اور غلط فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف ہزارہ بلکہ دیگر اضلاع میں تحریک انصاف کو انتخابی شکست ہوئی جیسا کہ ’این اے ون‘ اور ’پی کے پینتالیس‘ کی مثالوں (حاصل نتائج) سے عیاں ہے!

تحریک انصاف کی مخالف سیاسی قوتیں پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور بالخصوص جوں جوں ’پانامہ کیس‘ اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ رہا ہے‘ تحریک مخالف ’اِنتخابی اتحاد‘ بن رہے ہیں! سیاسی بصیرت‘ دانشمندی اور موجودہ نازک گھڑی میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور خوب تول کر بولنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت آئندہ عام انتخابات سے متعلق قبل ازوقت بیانات نہ دے کیونکہ بیانات سے مخالفین کو منصوبہ بندی اور پیش بندی کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ غیرضروری بیانات داغنے سے مقامی کارکنوں اور قیادت پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ تحریک کے قائد سے منسوب بیان کا سیاق و سباق مقامی قیادت کو معلوم نہیں ہوتا اور بیانات کا دفاع یا وضاحت کرتے ہوئے غلطی کا اندیشہ رہتا ہے۔ دوئم انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کئے بناء کوئی بھی ایسا فیصلہ صادر نہ کیا جائے‘ جس سے بعدازاں رجوع کرنا پڑے۔ سوئم کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اثاثہ اُس کے کارکن ہوتے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں تحریک انصاف کی تنظیم سازی مکمل کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے۔ خواتین نوجوانوں اُور رضاکاروں کی منظم و فعال تنظیمیں ہی آئندہ عام انتخابات میں کارآمد و کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر تحریک انصاف اب انتخابی تیاریاں شروع نہیں کرتی تو یہ کب کرے گی؟ چوتھی ضرورت یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد کی سطح پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور نمائندہ اداروں (پریس کلبس اور یونین) کے درمیان دھڑے بندیاں ختم کرنے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کردار ادا کرے‘ کیونکہ اِس دھڑے بندیوں کا بھرپور فائدہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین اُٹھا رہے ہیں اور بالخصوص مقامی اخبارات کو ’منفی پراپگنڈے‘ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

خیبرپختونخوا حکومت کے پاس مالی وسائل بھی ہیں اور ایسے آئینی اختیارات بھی جن کے ذریعے ’پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا‘ کی پیشہ ورانہ اِستعداد میں اضافہ اور وقتی مفادات پر مبنی سوچ کی اصلاح ممکن ہے۔ پریس کلبوں اور یونین سے غیرمتعلقہ افراد کا اخراج‘ صحافت کی اہمیت اور شعور اُجاگر کرنے سے باآسانی ممکن ہے۔ افراد کی بجائے اگر اداروں کو مضبوط کیا جائے تو اس سے نہ صرف تحریک انصاف کو وقتی فائدہ ہوگا بلکہ جمہوریت کے لئے بھی یہی نیک شگون ہے کہ ’’جرائم‘ سیاست اور صحافت‘‘ کے درمیان گٹھ جوڑ ختم کیا جائے۔ غیرجانبدار اُور غیرسیاسی میڈیا کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ سبھی کے مفاد میں ہے۔ سوشل میڈیا پر اِنحصار کرنے والی ’تحریک اِنصاف‘ دیگر ہم عصروں سے پہل کرتے ہوئے جماعتی سرگرمیوں پر مبنی اخبار اور ٹیلی ویژن چینل بھی متعارف کرا سکتی ہے جس سے غیرمصدقہ بیانات اور اِن کی آڑ میں سازشیں کرنے والوں کا مقابلہ اور توڑ کیا جاسکتا ہے۔ وقت ہے کہ انتخابات کی بجائے سیاست میں سرمایہ کاری کی جائے۔ 

ایبٹ آباد کے مقامی سیاسی حالات‘ خاندانوں کے اثرورسوخ اور تحریک انصاف کے موجودہ منتخب نمائندوں (مشتاق غنی‘ قلندر لودھی‘ سردار ادریس اُور ڈاکٹر اظہر) کی دامے درہمے سخنے کوششوں کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے پاس ’غلطی کی گنجائش‘ نہیں رہی اور اگر ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی ’جذباتی اُور مزید غلط فیصلے‘ کئے گئے تو تحریک انصاف کم سے کم ایبٹ آباد کی سطح پر آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کا ’نادر موقع‘ ہمیشہ کے گنوا دے گی۔
Reasons why Imran Khan should not context election from NA-17 Abbottabad I in upcoming Geenral Elections

Saturday, May 27, 2017

May2017: Downfall of PIA CAA, feeling the guilt!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
احساس جرم!
سیدھی سادی بات یہ ہے کہ اپنی حد (حق) سے تجاوز کرنے کی ابتدأ سے انتہاء تک کا عمل ’جرم‘ کہلاتا ہے جس کے منفی نفسیاتی اثرات کے بارے میں مشرق و مغرب اور ماضی و حال کے ماہرین کا جس ایک پہلو پر حیرت انگیز طور سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ’’جرم کا ارتکاب کرنے والا سب سے پہلے اپنے آپ سے کٹ کر رہ جاتا ہے‘ اُسے اپنے لہجے کی کرختگی اور چہرے پر معصومیت برقرار رکھنے کے اداکاری سیکھنا پڑتی ہے لیکن اُس کے قول و فعل میں تضاد رہتا ہے۔ اُسے اطمینان و یقین نصیب نہیں ہوتا۔ اچھے عمل سے بھی اُسے ’اخلاقی جرأت (دلی مسرت)‘ نہیں ملتی اور اُس پر انسانوں کے مرتب کردہ قوانین کے تحت بھلے ہی دفعات کا اطلاق نہ بھی ہو سکے لیکن وہ اپنے ضمیر کے سامنے (مسلسل ایک جیسی حالت میں) شرمسار رہنے کے باعث اندر ہی اندر کمزور ہوتا چلا جاتا ہے اُور حتمی طور پر جرائم کی پاداش سے ملنے والا ’اِحساس جرم‘ اُسے دیمک کی طرح چاٹ کھاتا ہے۔‘‘ لیکن جب ہم اپنے معاشرے‘ اردگرد کے ماحول کو دیکھتے ہیں تو ’ہر خوش قسمتی کے پیچھے نہ تو جرم ثابت ہو رہا ہے‘ اور نہ ہی راتوں رات سرمایہ دار بننے والوں کو درپیش ندامت اُس انتہاء پر دکھائی دیتی ہے جہاں اُس کے بوجھ سے مجرموں کی آنکھیں اُور سر جھک جائیں!

لوٹ مار اور چیخ و پکار جاری ہے لیکن کوئی نہیں سن رہا‘ نہ سوچ رہا ہے کہ آخر دہائیوں سے خسارے کا شکار قومی جہاز راں ادارہ ’پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (پی آئی اے)‘ کے زوال میں اچانک (یک بہ یک) تیزی کیسے آ گئی ہے اور طویل عرصے سے جاری بحران (کرائسیز) کا ذمہ دار جو بھی ہو لیکن اِسے حل نہ کرنے اور موجودہ حالات کو ’جوں کا توں‘ برقرار رکھنے کے ذمہ دار (غفلت کے مرتکب) کون ہیں؟ ایک ایسا وقت بھی تھا جب ’پی آئی اے‘ کا موجودہ ادارہ جسے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی موجودہ وفاقی حکومت ختم یعنی نجکاری کو ’بچت‘ کی واحد صورت قرار دے رہی ہے‘ دنیا کی بہترین ’ائرلائن‘ ہوا کرتی تھی۔ اِس میں تھائی لینڈ کا شاہی خاندان سفر کرتا تھا۔ اِس میں ہالی وڈ کے فنکار سوار ہونا اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔ یہ ایسی شاندار ائرلائن ہوا کرتی تھی کہ امریکہ کی خاتون اوّل جیکولین جب پاکستان کے دورے پر آئیں تو برطانیہ جانے کے لئے انہوں نے دنیا بھر کی ائرلائنز میں سے ’پی آئی اے‘ کا انتخاب کیا۔ پی آئی اے ہی ’ایشیاء کی ایسی پہلی ’ائرلائن‘ تھی‘ جس نے جدید مسافر طیارے (بوئنگ 707‘ 737 اور 771) خریدے اور اِسے امریکن و یورپی شہری ہوا بازی (سول ایوی ایشنز) کے اِداروں نے اجازت نامے (کلیئرنس سرٹیفیکٹس) دیئے اور پی آئی اے دنیا کی پانچ بڑی ائرلائنز کا بانی ادارہ بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ’ایمریٹس ائرلائن‘ کا پہلا جہاز 1985ء میں پاکستانی پائلٹ کیپٹن فضل غنی نے اُڑایا تھا اور اُس جہاز کا تمام عملہ پاکستانی تھا۔ ’پی آئی اے‘ بطور مضمون ’مالٹا (تین سو سولہ مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل وسط بحیرہ روم کے کنارے جنوبی یورپی ملک)‘ کے تدریسی نصاب میں شامل ہے لیکن آج ماضی کا وہ عظیم اِدارہ کہاں ہے؟ افسوس کہ آج ہماری فضائی میزبان (ائرہوسٹسیز) بیرون ملک چوری کرتے ہوئے پکڑی جاتی ہیں! اِن کے دستی سامان (بیگز) سے ممنوعہ منشیات برآمد ہوتی ہیں! پائلٹ جہاز اُڑتا چھوڑ کر سو جاتے ہیں! اِس کا عملہ شراب نوشی کا مرتکب پایا جاتا ہے۔ اِس کے پائلٹ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کاک پٹ میں خوبصورت‘ جوانسال غیرملکی خواتین کو جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ اِسی ’پی آئی اے‘ کے پائلٹ من پسند ائرہوسٹس کے ہمراہ نہ ہونے پر جہاز اُڑانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پائلٹ سمیت عملے کی تعلیمی اسناد جعلی ثابت ہوتی ہیں اور یہ نشے کے عالم میں بیرون ملک کے ائرپورٹس پر لڑکھڑاتے (ڈگمگاتے) نظر آتے ہیں! پھر چشم فلک نے وہ دن بھی دیکھا کہ جب ’پی آئی اے‘ کی ایک عالمی پرواز کے عملے کے ’پاسپورٹس‘ ضبط کر لئے گئے‘ عملے کی انگلیوں کے نشانات لینے کے بعد انہیں کئی گھنٹوں تک تفتیش کے لئے زیرحراست رکھا گیا کیونکہ طیارے سے ’ہیروئن‘ برآمد ہوئی! ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے! پستی کا یہ سفر کہیں تو رُکنا چاہئے۔ کوئی تو ہو جو اُس ادارے کو مزید تباہی سے بچائے جس پر ’پاکستان کا قومی جھنڈا‘ لگا ہوا ہے!

مبارک بادوں کا تبادلہ ہوا جب رواں برس فروری (دوہزارسترہ) کی چودہ تاریخ وفاقی حکومت کے ’کیبنٹ ڈویژن‘ نے اعلامیہ (نوٹیفکیشن) جاری کیا‘ جس میں کہا گیا تھا کہ کسی وفاقی وزیر کے مساوی مراعات و حیثیت کے ساتھ وزیراعظم کے لئے ایک عدد ’’مشیر‘‘ کی تقرری کی گئی ہے جو ’شہری ہوابازی (سول ایوی ایشن)‘ کے محکمے کی کچھ اِس انداز میں اصلاح کریں گے کہ وہ خسارے سے منافع بخش ادارے میں تبدیل ہو جائے۔ تالیاں بجائی گئیں جب مذکورہ ’’مشیر‘‘ نے اٹھارہ مئی کو ایوان بالا (سینیٹ) کی 18 رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر تجویز دی کہ ’پی آئی اے کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے اِسے بند (ختم) کردینا چاہئے۔‘ سیاسی فیصلہ سازوں کو داد دینے کا مقام ہے کہ جن کے ذاتی کاروبار‘ اُن کے اہل وعیال کی مالی حیثیت میں دن دگنی اور رات چوگنی (progressing by leaps and bounds) ترقی ہو رہی ہے لیکن ’پی آئی اے‘ سے متعلق اُن کی تدابیر کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے اور اِن کا خسارہ 100 ارب روپے کی نفسیاتی حد عبور کر چکا ہے! پی آئی اے کی کارکردگی سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا غیرمعمولی اجلاس پندرہ مئی کے روز ہوا‘ جس میں ہیتھرو ائرپورٹ (لندن) پر پیش آنے والے واقعے کے محرکات اور حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کرنا تھا کہ برطانیہ میں ’پی آئی اے‘ کی پرواز ’PK-785‘ کے تمام مسافروں کے اُترنے کے بعد جہاز اُور عملے کی تلاشی لینے پر ہیروئن برآمد ہونا‘ عملے کے اراکین کو قریب ڈھائی گھنٹے حراست میں رکھنے سے پاکستان نے کیا سبق سیکھا کیونکہ یہ آخری واقعہ (سانحہ) ثابت نہیں ہوا‘ اُور بعدازاں اِسلام آباد ائرپورٹ پر ’پی آئی اے‘ کے برطانیہ جانے والے طیارے سے ہیروئن برآمد ہوئی! 

تصور محال ہے کہ اگر برطانیہ میں دوسری مرتبہ بھی ’پی آئی اے‘ سے منشیات برآمد ہوتیں‘ تب یہ اَمر پاکستان کے لئے کس قدر شرمندگی کا باعث بنتا؟ تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر دیکھنا یہ باقی ہے کہ دنیا ہمارے لئے کیا سزا تجویز کرتی ہے۔ ہمیں یقیناًایسی قوم کا لقب دیا جائے گا‘ جس پر اُس کے غلط ’انتخابی فیصلوں‘ کی وجہ سے ایسے نااہل افراد بطور حکمران مسلط ہوئے ہیں‘ جن کے ضمیر مردہ ہیں‘ جنہیں نہ تو قومی اِداروں کو تباہی سے دوچار کرنے جیسے قومی جرائم کی سنگینی کا اندازہ ہے اور نہ ہی اِن کے دل ’اِحساس جرم‘ کی وجہ سے بوجھل ہیں!

Friday, June 3, 2016

Jun2016: The real Hero! (Shan Abbasi)

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حقیقی قومی ہیرو!
ضلع ایبٹ آباد کے بالائی علاقوں میں آٹھ یونین کونسلوں (بکوٹ‘ بیروٹ‘ بوئی‘ پٹن کلاں‘ دلولہ‘ ککمنگ‘ نمبل اُور پلک) پر مشتمل ’سرکل بکوٹ‘ کی جنت نظیر وادیوں کا اصل حسن وہاں پایا جانے والا سماجی خدمت کا جذبہ ہے‘ جسے سیاسی بنیادوں پر امتیازات اور نسلی و لسانی بنیادوں پر تعصبات سے پاک (موافق) ماحول میسر آیا تو پھلنے پھولنے کا ایسا موقع ملا کہ سماجی ترقی اور معاشرے کے ذمہ دار روئیوں کے شگوفے کھل اُٹھے۔ یونین کونسل بیروٹ کی ویلیج کونسل کہو غربی‘ لہور کس گاؤں کے رہنے والے پچاس سالہ ’محمد شان عباسی‘ سعودی عرب محنت مشقت کے لئے گئے اور برسہا برس کی انتھک محنت سے جمع پونجی کا استعمال اپنا ذاتی مکان یا کاروبار بڑھانے کے لئے نہیں کیا بلکہ تمام کی تمام رقم یعنی 20 لاکھ روپے گاؤں کی سڑک تعمیر کرنے پر خرچ کر دی! اپنی مدد آپ کے تحت کسی فرد واحد کے ہاں پائے جانے والی اجتماعی فلاح و بہبود کی یہ منفرد سوچ کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی! یاد رہے کہ یہ وہی سرکل بکوٹ ہے جہاں غربت و پسماندگی اِس انتہاء کی ہے کہ سیاحتی امکانات اورپن بجلی کے چھوٹے منصوبوں کے لئے موزوں علاقے کے لوگوں کو محنت مزدوری کے لئے ملک کے دیگر حصوں یا بیرون ملک نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں!

 صدقۂ جاریہ پر اعتقاد ہونا اُور صدقۂ جاریہ کے لئے اپنی پوری جمع پونچی خرچ کرنا یقین و عمل کا حسین امتزاج ہے جس کے لئے شان عباسی کی مثال پورے پاکستان کے سامنے پیش ہونی چاہئے کہ کس طرح ایک شخص نے حکومت کی جانب سے ترقیاتی عمل کے منتظر اہل علاقہ کی مشکلیں آسان کر دیں۔ اگرچہ ’این اے سترہ‘ سے منتخب ہونے والے رُکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اَظہر جدون نے مذکورہ شاہراہ کی تعمیر کے لئے دس لاکھ روپے پہلے ہی مختص کر رکھے ہیں‘ جن کی وفاقی حکومت سے منظوری کے مراحل میں غیرضروری تاخیر کی وجہ وہ ’سیاسی عناد‘ ہے جس کی بناء پر حزب اختلاف اور بالخصوص تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی سے امتیاز برتا جاتا ہے۔

کاش ہم حسن انتخاب سے کام لیتے ہوئے جمہوری طرز حکمرانی کے اسلوب کا ادراک کر سکتے! شان کی شان یہ بھی ہے کہ اگر وہ چاہتے تو کم و بیش ڈیڑھ کلومیٹر شاہراہ عام کو اپنے نام سے منسوب کر سکتے تھے جیسا کہ سیاسی لوگ کرتے ہیں لیکن اُنہوں نے باوجود اصرار بھی اِسے ’خلفائے راشدین‘ کا نام نامی دے کر اپنے روحانی درجات و فیض کو دنیاوی نمود و نمائش پر ترجیح دی ہے۔

شان عباسی نے بیرون ملک کمائی کی ساری رقم گاؤں کی سڑک بنانے پر خرچ ہونا کسی بھی صورت معمولی بات نہیں۔ درحقیقت اُس ایک شخص نے اُس سوچ سے بھی بغاوت کی ہے‘ جو سرکل بکوٹ کو محکوم و غلام بنائے رکھنے کی ہے یقیناًماضی کے اُن تمام حکمرانوں کی آنکھیں شرم و ندامت سے جھک جانی چاہئیں! جن کے پاس ایک غریب محنت کش جتنا ظرف‘ حوصلہ اُور دریا دلی نہیں! ماضی میں رنگوٹ اور حال میں ’’خلفائے راشدین روڈ‘‘ کہلانے والی شاہراہ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اہل علاقہ کی جانب سے شان عباسی کے اعزاز میں استقبالیہ کا انعقاد کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی سمیت عمائدین علاقہ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شان عباسی کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ ہر بار کسی مقرر کی زبان پر اُن کا نام آنے پر پنڈال تالیوں سے گونج اُٹھتا جس سے شان عباسی کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھ جاتی یقیناًبلاامتیاز سماجی خدمت پر یقین رکھنے والے ’روشن ضمیر‘ ہی اَصل قومی ہیرو ہیں‘ جن کی خدمات کو سراہا جانا چاہئے اور یہی وہ شخص ہے جسے قومی اعزاز بھی ملناچاہئے۔ کیا الیکٹرانک ذرائع ابلاغ ایک ایسے شخص کی خدمات کو قوم کے سامنے پیش کریں گے‘ جس نے گمنامی میں رہنے کو ترجیحی دی!

شان عباسی کی خدمات تاقیامت مثال رہیں گی کیونکہ ایک تو انہوں نے ذاتی رقم سے گاؤں کی شاہراہ کی تعمیر مکمل کروائی اور ساتھ ہی جب حکومت کی جانب سے دس لاکھ روپے دینے کی بات کی گئی تو انہوں نے کمال فراخدلی سے کہا کہ وہ ملنے والی رقم بھی اِسی شاہراہ کی توسیع پر خرچ کریں گے‘ جس سے اسے خانسپور ایویبہ سے ملا دیا جائے گا۔ یقین نہیں آتا کہ آج کی مادہ پرست دنیا میں کوئی شخص رضائے الٰہی کے لئے بناء کسی قسم کے سیاسی عزائم عوام کی خدمت پر اِس قدر یقین بھی رکھ سکتا ہے۔

خلفائے راشدین روڈ کو مرکزی آبادی ایویبہ سے ملانے کے لئے ’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے)‘ کے حکام کو توجہ دینی چاہئے جبکہ تحریک انصاف پر اعتراض کرنے والوں کو دعوت عام ہے کہ وہ مذکورہ شاہراہ کا معیار اور اِس پر آنے والی لاگت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد فیصلہ کریں کہ ماضی کی کسی بھی حکومت کے مقابلے آج سرکل بکوٹ میں نہ صرف زیادہ تعداد میں ترقیاتی کام مکمل ہوئے ہیں بلکہ نئی تعمیرات اور توسیع و ترقی کا معیار بھی ماضی کے مقابلے اگر زیادہ پائیدار و مضبوط ہے تو کہیں اِس کی وجہ طرزحکمرانی کی اصلاح اور خیبرپختونخوا میں کرپشن کا خاتمہ تو نہیں!؟ اگر سرکل بکوٹ اِسی سیاسی بصیرت‘ اِتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت میں ترقی کے جاری عمل کو آگے بڑھائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ شعور اُور اِس کے فیوض و برکات (ثمرات بصورت نتائج) اجتماعی مفاد اور تعصبات سے پاک سیاست کے فروغ کے لئے بصورت انقلاب تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

Monday, August 17, 2015

Aug2015: No more room for mistakes

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
غلطی کی گنجائش
ضمنی انتخابات میں ’سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور‘ نہیں بلکہ اُن کرداروں کو ووٹ ملتے ہیں جن کے پاس مقامی مسائل کی بابت نیک خواہشات‘ خیالات و الفاظ پر مبنی وعدے نہیں بلکہ کارکردگی کی عملی مثالیں اور وسائل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ رہی کہ سولہ اگست کے روز آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 19‘ ہری پور میں وفاق اور خیبرپختونخوا کی حکومتی جماعتوں کے درمیان ’انتخابی مقابلہ‘ قطعی یک طرفہ ثابت ہوا۔ سترہ اگست کے روز پانچسوتیرہ پولنگ اسٹیشنوں کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق ’وفاقی حکومت‘ جیت گئی‘ جس نے ضمنی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد کئی ایک تعمیراتی کام شروع کروائے جس میں حویلیاں کو موٹروے سے منسلک کرنے والی شاہراہ کو چار سے چھ رویہ کرنے کا اِعلان بھی شامل ہے‘ یہ وہ چند عملی اِقدامات تھے‘جن پر جاری عمل درآمد کا مشاہدہ ’ہری پور‘ کے رہنے والے ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اُور سڑکوں کی تعمیر و دیگر ترقیاتی کاموں کی اہمیت سے بھی واقف تھے کہ یہ اُن کے علاقے کی ترقی کے لئے کتنی ضروری اُور کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ اِسی طرح خیبرپختونخوا حکومت کی حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے اُمیدوار کی شکست کا سبب بھی یہی محرک بنا کہ گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد حکومت ملنے کے بعد ترقیاتی عمل میں تیزی کی بجائے سستی دیکھنے میں آئی‘ جس سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ہری پور بھی بُری طرح متاثر ہوا۔

لب لباب یہ ہے کہ بالائی خیبرپختونخوا پر مشتمل ’ہزارہ ڈویژن‘ کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کرنے میں بڑی کوتاہی کی گئی۔ یہ گیٹ وے خطہ حسن ابدال‘ ہری پور‘ حویلیاں‘ ایبٹ آباد سے ہوتا ہوا گلگت بلتستان کے راستے ہمسایہ ملک عوامی جمہوریہ چین سے جا ملتا ہے‘ اُور اِسی راستے ’اقتصادی راہداری‘ کے قیام کے لئے چین کی جانب سے مالی و تکنیکی امداد دینے کا اعلان بھی ہو چکا ہے لیکن ’حسن ابدال‘ سے ’ایبٹ آباد‘ کے درمیان سڑک کے دونوں کنارے تعمیرات اور راہداری کے علاؤہ مقامی ٹریفک کا دباؤ اِس شاہراہ پر سفر کرنے والوں کے لئے انتہائی ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ بالخصوص موسم گرما میں ہر ہفتہ وار تعطیل (جمعہ سے اتوار) کے موقع پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور اعصاب شکن ٹریفک جام ایک ایسا معمول بن چکا ہے‘ جس کا کوئی فوری حل نہیں۔ اُمید ہے کہ رواں برس کے اختتام (آئندہ چار یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ) کے دوران حویلیاں اُور موٹروے کے راستے براہ راست آمدورفت رواں ہوگی‘ جس کے بعد حسن ابدال و ہری پور کی شاہراؤں پر ٹریفک کے رش میں غیرمعمولی کمی آئے گی۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ’ہزارہ مسلم لیگ کا گڑھ رہا ہے جس کی مقبولیت کو تحریک انصاف نے چیلنج کیا اُور اگر خیبرپختونخوا سیاحتی ترقی کے امکانات و قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال ہزارہ ڈویژن کی اہمیت کا ادراک اب بھی کر لے تو کوئی وجہ نہیں کہ دو ہزار تیرہ میں بننے والا ’’ووٹ بینک‘‘ نہ صرف محفوظ و برقرار رہے بلکہ اِس میں اضافہ بھی ہو۔ اِس سلسلے میں سب سے زیادہ توجہ ضلع ایبٹ آباد کے بالائی حصوں پر مشتمل وہ 8 یونین کونسلیں ہیں‘ جنہیں ’سرکل بکوٹ‘ کہا جاتا ہے اُور ممکنہ عالمی اِعزاز کی حامل یہاں ایک ایسی سڑک بھی ہے جس پر کام کا آغاز کم وبیش 30برس قبل ہوا تھا اور آج بھی اِس سڑک کا باقی ماندہ 19کلومیٹر سڑک کا حصہ مکمل نہیں کیا جاسکا۔

خیبرپختونخوا حکومت نے سرکل بکوٹ کی 8 یونین کونسلوں کو آپس میں ملانے کے لئے ’بوئی سوار گلی روڈ‘ کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ جس کے لئے 2 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کے تحت مذکورہ شاہراہ کے علاؤہ سرکل بکوٹ و گلیات میں دیگر چھوٹے بڑے تعمیراتی کام مکمل کئے جا رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 45‘ پر ضمنی انتخابات کے موقع پر صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کی جانب سے سرکل بکوٹ کے رہنے والوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اُن کے علاقے کو ’تحصیل‘ کا درجہ دیا جائے گا‘ جس کے بعد اُنہیں بہت سے چھوٹے دفتری کاموں کے لئے ضلعی صدر مقام ایبٹ آباد نہیں جانا پڑے گا لیکن بعدازاں معلوم ہوا کہ اِس وعدے کی تکمیل سرکل بکوٹ کی یونین کونسلوں کو آپس میں بذریعہ شاہراہ منسلک کئے بناء ممکن نہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یکم اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما‘ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز (اخباری بیان) میں کہا گیا کہ ’’بوئی سوار گلی کا کم و بیش 19کلومیٹر روڈ کا باقی ماندہ حصہ تعمیر کرنے کے لئے صوبائی حکومت خصوصی ترجیح رکھتی ہے اور اس سلسلے میں سوار گلی سے کوہالہ تک کی شاہراہ تقریباً مکمل کر لی گئی ہے جبکہ کوہالہ (بکوٹ) سے بوئی تک 11 کلومیٹر کا باقی ماندہ کام آئندہ مالی سال کے دوران شروع کیا جائے گا۔ منصوبے میں کل 5 پل بھی تعمیرکئے جائیں گے اور اس منصوبے پر مجموعی طور پر ’’ایک ارب روپے‘‘ لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے لئے مالی وسائل آئندہ مالی سال (2016-17ء) میں مختص کرنے کی تجویز ہے۔‘‘

ترقیاتی کاموں سے متعلق اِنتخابی وعدوں کا ایفاء ہو یا اِہل علاقہ کے دیرینہ مطالبات کی روشنی میں تعمیراتی ترجیحات‘ کا تعین‘ ہر لفظ تول تول کر بولنا اُور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔ صوبائی سطح پر بہتر طرز حکمرانی کی عملی مثالیں قائم کرنے کے لئے حکمراں جماعت سے وابستہ ہر فیصلہ ساز اُور ہر رکن قومی و صوبائی اسمبلی کو سمجھنا ہو گا کہ اُنہیں جو کچھ بھی کرنا ہے‘ اِس میں مزید تاخیر و کوتاہی کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔
Why no room left for mistake for PTI as the NA19 Haripur ByElection result disappoint many not the leadership

Monday, January 26, 2015

Jan2015: PK45 Forgotten Promises

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انتخابی وعدے: توجہ دلاؤ مطالبہ!
خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ کے لئے ضمنی عام انتخابات کے موقع پر صوبائی حکومت اور حکمراں اِتحاد کی قیادت کرنے والی جماعت ’تحریک انصاف‘ کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے جو وعدے کئے گئے تھے‘ اُن کی تعمیل ’حسب وعدہ‘ نہیں ہو سکی۔ اِس سلسلے میں سرکل بکوٹ کی آٹھ یونین کونسلوں (بکوٹ‘ بیروٹ‘ بوئی‘ پٹن کلاں‘ دلولہ‘ ککمنگ‘ نمبل اور پلک) سے تحریک انصاف کے کارکنوں نے رکن قومی اسمبلی (این اے سترہ) ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کی وساطت سے ایک درخواست صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے چیئرمین کو ارسال کی ہے‘ جس میں اُنہیں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کئے گئے وعدے یاد دلائے گئے ہیں۔

یادش بخیر ’ہزارہ ڈویژن‘ جنت نظیر وادیوں اور سیاحت کے امکانات سے مالامال خطہ ہے جس کے ’سرکل بکوٹ‘ کا کچھ حصہ مقبول عام ’گلیات‘ کا حصہ ہے لیکن بہت کم پاکستانی جانتے ہوں گے کہ ’گلیات سے زیادہ سرسبزوشاداب اور قدرتی حسن رکھنے والی دیگر کئی ایک وادیاں بھی ہیں‘ جہاں تک رسائی آسان اور سہولیات نہ ہونے کے سبب‘ اِن علاقوں میں صحت و تعلیم جیسی بنیادی ضروریات جبکہ سیاحت جیسا اہم شعبے خاطرخواہ ترقی سے محروم ہے۔ امن و امان اور خوشگوار موسم و صحت افزأ مقام ہونے کے باوجود اِن علاقوں سے کماحقہ فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکا۔ یہ بات ’سرکل بکوٹ‘ کی بدقسمتی نہیں تو اُور کیا ہے کہ اِس کی یونین کونسلیں آپس میں منسلک نہیں اور اس کی وجہ وہ اُنیس کلومیٹر کی شاہراہ ہے‘ جس پر تعمیراتی کام اگر انتہائی سست روی سے بھی جاری رہتا تو تیس برس میں مکمل ہو جانا چاہئے تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے اور اہل علاقہ یہ بات پورے یقین و ذمہ داری سے بیان کرتے ہیں کہ ’’اُنہیں جان بوجھ کر پسماندہ اور ترقی سے محروم رکھا گیا ہے‘ جس کے سیاسی محرکات ہیں۔‘‘ افسوس ایسی تعصب والی سوچ اور سیاست پر‘ کہ جس میں عوام کو محکوم رکھا جائے لیکن کیا گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے لئے ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ دینے والوں کی جملہ توقعات پوری ہوئی ہیں؟ یہ ایک ایسا چھبتا ہوا سوال ہے جس کا تحریک انصاف کی مرکزی قیادت جواب دینے سے کتراتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد سے کئے گئے جملہ ترقیاتی وعدے ہنوز پورے نہیں کئے گئے۔

پی کے پینتالیس کے ضمنی انتخابات سے قبل چیئرمین عمران خان نے سرکل بکوٹ میں چار جلسۂ عام جبکہ متعدد مقامات پر غیراعلانیہ درجن بھر چھوٹے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا اور کارکنوں سے وعدہ کیا کہ وہ سرکل بکوٹ کو تحصیل کا درجہ دیں گے جو کہ اہل علاقہ کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا لیکن اِس وعدے کی تکمیل سے قبل ’بوئی سوار گلی روڈ‘ کا 19 کلومیٹر حصہ تعمیر ہونا ضروری ہے۔ اُن کا دوسرا وعدہ ضلع ایبٹ آباد کو چھ کالج دینے کا تھا۔ اگر اِس سلسلے میں سرکل بکوٹ کو دو عدد کالج بھی دے دیئے جاتے ہیں تو یہ فی الوقت آبادی کے تناسب سے ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ گذشتہ برس پی کے پینتالیس کے ضمنی عام انتخابات کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی ترقیاتی کاموں کے چند ایک ’ضمنی وعدے‘ کئے تھے جن میں گلیات و سرکل بکوٹ کے لئے ’ایک ارب روپے‘ مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبے یعنی مالی وسائل دینے کا اعلان کیاگیاتھا۔یہ سبھی وعدے ’آن دی ریکارڈ‘ ہیں۔ اِسی طرح وزیراعلیٰ نے ایبٹ آباد میں جلسۂ عام سے خطاب کے دوران یونیورسٹی کے قیام اور شاہراہوں کی توسیع کے لئے جس خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کر رکھا ہے اُس حوالے سے بھی رکن قومی اسمبلی نے اُن کی توجہ چاہی ہے کیونکہ سب سے زیادہ مشکل تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے مقامی منتخب نمائندوں کو پیش آ رہی ہے جنہیں کارکنوں کی جانب سے نرمی و گرم گلے شکوے جبکہ سیاسی مخالفین کی جانب سے چھبتے ہوئے طنز و کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں این اے سترہ (ایبٹ آباد) کے لئے ’تین لاکھ تیرہ ہزار آٹھ سواٹھارہ‘ رجسٹرڈ ووٹوں میں سے تحریک انصاف کے حصے میں ’چھیانوے ہزار ایک سو پچاسی‘ ووٹ آئے جس میں بڑا حصہ ’سرکل بکوٹ‘ سے ملنے والی فیصلہ کن و فاتح تائید تھی۔ یہ وہی علاقہ ہے جو تین عشروں تک پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا گڑھ رہا اور اِس بارے میں تصور بھی نہیں جاسکتا تھا کہ نواز لیگ کو یہاں سے شکست دی جاسکے گی لیکن ’سماجی خدمت جیت گئی‘ اور تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ اگر تحریک آگے چل کر بھی دانشمندانہ فیصلے کرتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے ضمنی انتخاب بھی تحریک انصاف ہی کے نام ہوتا۔

غلطیوں کی اصلاح غلطیوں سے نہیں کی جاتی۔ ضرورت تو اِس بات کی تھی کہ ڈاکٹر اظہر جدون کو خود طلب کرکے تمام انتخابی وعدے پورے کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی اور مرکزی و صوبائی قائدین ضلع ایبٹ آباد بشمول سرکل بکوٹ جیسے دیہی و پہاڑی علاقے کی اہمیت کو سمجھتے جہاں محرومیوں اور مایوسیوں نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا تاحال نہیں ہو سکا۔ اس سلسلے میں منتخب نمائندے نے ’حق نمائندگی‘ پورا کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور تحریک انصاف کے چیئرمین کو تحریری طورپر آگاہ کر دیا ہے کہ ’’سرکل بکوٹ کی قسمت بدلنے کے لئے جس کسی نے‘ جو بھی وعدے کر رکھے ہیں‘ برائے مہربانی انہیں اگر بیک وقت نہ سہی لیکن مرحلہ وار انداز میں پورا کیا جائے۔‘‘ قوئ اُمید ہے کہ یہ ایک توجہ دلاؤ مطالبہ ’نقار خانے میں طوطی کی آواز‘ ثابت نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015: Promises with PK45

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قابل تقلید ترقیاتی عمل
خیبرپختونخوا میں ترقی کا عمل سیاسی و غیرسیاسی وجوہات کی بناء پر سست روی کا شکار ہے اور یہ تعطل خود حکمراں اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے‘ جنہیں اپنے اپنے حلقۂ انتخاب میں ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے ’کڑی تنقید‘ کا سامنا ہے۔ خوشی ہو یا غم کی کوئی تقریب منتخب نمائندوں سے ملنے والے موقع جان کر باتوں باتوں میں ’ترقیاتی عمل کے حوالے سے ضرور ایک نہ ایک سوال داغ ہی دیتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ مالی سال 2014-15ء کے دوران ترقیاتی کاموں کے لئے صوبائی حکومت نے مجموعی طور پر 140.23 ارب روپے مختص کئے تھے جن میں سے دو جنوری دوہزار پندرہ تک 64 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں!

پاکستان کی کوئی بھی دوسری جماعت ’تحریک انصاف‘ جیسی بصیرت‘ شعور اور اجتماعی مسائل کے حل سے متعلق واضح سوچ نہیں رکھتی۔ عام انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے اصلاحات کی تجویز ہو یا مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے خاتمے اور قومی وسائل لوٹنے والوں کا بلااِمتیاز اِحتساب یا پھر عالمی سطح پر پاکستان کے حقیقی تشخص‘ وقار اور ساکھ بحال کرنے جیسی ضرورت‘ تحریک انصاف کے پاس ’حیران کن اِعدادوشمار‘ پر مبنی ’تبدیلی‘ کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک منطقی جواز موجود ہیں تاہم ’نئے پاکستان‘ کی تشکیل بناء ترقیاتی عمل ممکن نہیں اور اِس سلسلے میں ’خیبرپختونخوا حکومت‘ جیسے ’نادر موقع‘ کا استعمال سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے ’تعمیر و ترقی کی ایسی مثالیں‘ قائم کی جاسکتی ہیں‘ جو دوسروں کے لئے بھی قابل تقلید ہوں۔چودہ اگست سے اٹھارہ دسمبر (126 دن) تک جاری رہنے والے ’آزادی مارچ و دھرنے‘ نے تحریک کی مرکزی و صوبائی قیادت کو مصروف رکھا‘ جس کی وجہ سے اُنہیں ہزارہ ڈویژن میں ’ترقیاتی کاموں‘ کے حوالے کئے ہوئے وہ انتخابی وعدے بھی یاد نہ رہے‘ جن کی تعمیل خود ’تحریک انصاف‘ کے مستقبل کے لئے ازحد ضروری ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ’ہزارہ ڈویژن بالخصوص ایبٹ آباد اور سرکل بکوٹ سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بالخصوص تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عوام کے منتخب نمائندوں شدید دباؤ میں ہیں۔ پانچ جون دو ہزار چودہ کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ پر ’ضمنی انتخابات‘ کا انعقاد ہوا‘ جس سے قبل چیئرمین تحریک انصاف نے ہزارہ ڈویژن کے سرکل بکوٹ میں چار مقامات پر اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے جن ترقیاتی کاموں کے اعلانات کئے اُن میں بڑے اور بنیادی کام چھ کالجوں کا قیام‘ بکوٹ کو تحصیل کا درجہ دینا شامل تھا جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الگ سے ’گلیات‘ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر ’ایک ارب روپے‘ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جنت نظیر وادیوں کی وجہ سے ’سرکل بکوٹ‘ میں سیاحت اور پن بجلی کی پیداوار کے وسیع امکانات موجود ہیں‘ جن سے استفادہ کرکے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں بلکہ جاری توانائی بحران کا پائیدار حل بھی اِس خطے میں ترقیاتی عمل کی توسیع سے باآسانی ممکن ہے۔

سرکل بکوٹ سے وعدے کرنے والوں کی کمی نہیں۔ کم و بیش تین عشروں سے سرکل بکوٹ پر حکمرانی کرنے والی مسلم لیگ (نواز) کے مقابلے اگر قومی اسمبلی کے لئے ووٹ تحریک انصاف کو ملے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ اہل علاقہ تعمیروترقی چاہتے ہیں۔ اگر ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخاب کے لئے تحریک انصاف سرکل بکوٹ ہی سے تعلق رکھنے والے کسی مقامی رہنما (عبدالرحمن عباسی‘ راجہ مبین‘ نذیر عباسی‘ پیر اَظہر بکوٹی) کو پارٹی ٹکٹ دیتی تو تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخاب میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست کا بدلہ لے لیتی‘ بلکہ ایبٹ آباد سے کشمیر تک کی وادیوں پر پھیلے اِس وسیع انتخابی حلقے میں تحریک انصاف کے قدم زیادہ مستحکم ہوتے۔ بہرکیف ’سنجیدہ عملی کوششوں‘ کا وقت ابھی بھی ہاتھ سے نہیں گیا اور اگر سرکل بکوٹ میں حسب وعدہ ’تین بنیادی ترقیاتی کام‘ یعنی ’’چھ کالجوں کا قیام‘ تحصیل کا درجہ اور ایک ارب روپے کے تعمیراتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل فراہم کر دیئے جاتے ہیں تو اِس سے تحریک انصاف سے سیاسی و دلی وابستگی رکھنے والے عوامی حلقے اطمینان محسوس کریں گے۔

تحریک انصاف سے زیادہ اِس حقیقت سے کون آشنا ہے کہ رہنما وہ کہلاتا ہے جسے نہ صرف منزل کا پتہ ہو بلکہ وہ جانب منزل درست سمت میں سفر بھی کر رہا ہو اور منزل تک رسائی کے لئے دوسروں کی رہنمائی کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔ تحریک انصاف قیادت سے جڑی اِن تینوں ذمہ داریوں سے آگاہ اور انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اُمیدوں کا مرکز ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے وہ سبھی اضلاع بشمول ایبٹ آباد خاطرخواہ تعمیروترقی چاہتا ہے‘ جنہیں سیاسی بغض و عناد اور تعصبات و امتیازات جیسے محرکات کے سبب دانستہ طور پر پسماندہ رکھا گیا تاکہ ایک خاص طبقہ اور استحصالی سوچ حکمراں رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ماضی میں وزیراعلیٰ کا تعلق جس ضلع سے ہوتا‘ اُس کی قسمت بدل جاتی۔ مثال کے طور بنوں اور مردان میں ہوئی تیزرفتار تعمیر و ترقی کے عمل کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن اِس رجحان و ترجیح کے ثمرات 1969 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ’ضلع ایبٹ آباد‘ تک نہیں پہنچ سکے‘ جس میں 51 یونین کونسلیں اور دو تحصلیں ہیں اُور تحریک انصاف سے اُمیدیں وابستہ کرنے والوں کی نظریں پشاور پر لگی ہوئی ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔