Showing posts with label NA17. Show all posts
Showing posts with label NA17. Show all posts

Wednesday, October 4, 2017

Oct 2017: Development & shabby roads in Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاسی کارکردگی: مَظہر و مُظہر!
’ایبٹ آباد‘ کے شہری و دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ ’’تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی کارکردگی (اُور دلچسپی) دیکھ کر نہیں لگتا کہ اِس جماعت سے تعلق رکھنے والے منتخب اراکین ’آئندہ عام انتخابات‘ میں بطور اُمیدوار حصہ لیں گے۔‘‘ یہ کوئی اَچھوتا نتیجۂ خیال نہیں اور نہ ہی پہلی مرتبہ اِس قسم کی ’تشویش کا اظہار‘ کیا جا رہا ہے لیکن سیاسی عدم توجہی کے باعث تحریک انصاف کو صرف صوبائی دارالحکومت پشاور ہی میں غیرمعمولی انتخابی خسارہ برداشت کرنا نہیں پڑے گا بلکہ دیگر اضلاع میں تحریک کے کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے جس کے مَظہر اور مُظہر الگ الگ ہیں۔ کارکنوں کو گلہ ہے کہ مرکزی قیادت تنظیم سازی پر خاطرخواہ توجہ نہیں دے رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا کوئی ایک ضلع بھی ایسا نہیں جہاں تحریک داخلی دھڑے بندیوں کا شکار نہ ہو لیکن اِس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ قیادت کو اِس کا رتی بھر احساس بھی نہیں! تحریک انصاف کے ذمے واجب الادأ ذمہ داریوں میں ترقیاتی کام ہیں جن کی چار سالہ دور میں سست رفتار الگ سے تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ دو سال ہونے کو ہیں لیکن ایبٹ آباد کے ’مری روڈ‘ کی توسیع پر مبنی تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوسکا۔ یہ شاہراہ قراقرم کی طرح اہم و مصروف شاہراہ ایبٹ آباد کو بالائی علاقوں سے ملاتی ہے اور اِسی کے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں سیاح بالائی گلیات (نتھیاگلی‘ ٹھنڈیانی و ملحقہ سیاحتی مقامات) کی سیر کے لئے سارا سال آتے ہیں۔ علاؤہ ازیں بالائی ایبٹ آباد کی جنت نظیر وادیوں میں رہنے والوں کے لئے اشیائے خوردونوش (مال برداری) کے لئے بھی یہی شاہراہ استعمال ہوتی ہے اور مقامی افراد جن میں بڑی تعداد سکولوں کے طلباء و طالبات کی ہے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ تصور کیجئے کہ جس شاہراہ سے صرف تین ماہ میں استفادہ کرنے والی ’ہیوی اور لائٹ‘ گاڑیوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے زیادہ ہو‘ اُس کی توسیع کس قدر ضروری اور کس قدر تیزرفتاری سے مکمل ہونا چاہئے تھی۔ عجب ہے کہ ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی (پی کے پینتالیس) کی رہائشگاہ اور اُن کا نجی سکول بھی اِسی ’مری روڈ‘ کے کنارے پر واقع ہے اور اپنے آبائی حلقے سے ہفتہ وار دوروں کے موقع پر وہ خود بھی اِسی مری روڈ سے گزرتے ہیں جو کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے لیکن موٹے ٹائروں والی لینڈکروزر ائرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کو نہ تو چیچک زدہ سڑکیں دکھائی دیتی ہیں اور نہ ہی تعمیراتی ملبے سے اَٹی ہوئی سڑکیں اور گردوغبار کے بادل اُن کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں! 

اگر کوئی صوبائی حکومت چند کلومیٹر شاہراہ ہی چار سال میں مکمل نہ کر پائی تو اُس سے کس طرح اُمید کی جا سکتی ہے کہ اپنی آئینی مدت کے باقی ماندہ آٹھ ماہ سے کم عرصہ میں سارے ترقیاتی کام مکمل کر سکے گی؟ 

’مری روڈ‘ کی طرح ’نواں شہر روڈ‘ جو کہ کڑی پنہ چوک سے ’پی ایم اے‘ کاکول (بائی پاس) زیرتعمیر ہے اور بیک وقت جابجا جاری تعمیراتی کاموں کی وجہ سے اِن علاقوں پر بھی گردوغبار کے بادل مستقل چھائے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ایبٹ آباد سے بارشیں روٹھ گئیں ہوں۔ خشک سالی کی رواں اور گرم موسمی لہر کی وجہ سے اِس ’صحت افزأ مقام‘ کی سرسبزی و ہریالی متاثر ہو رہی ہے۔ تحفظ ماحول کے لئے کوششوں میں ’شجرکاری مہم‘ تحریک انصاف کا طرۂ امتیاز ہے لیکن اِس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونے میں کئی برس لگیں گے تو کیا اُس وقت تک ایسی کوئی صورت نہیں کہ جس سے ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تپش کو کم کیا جا سکے؟ تجویز ہے کہ زیرتعمیرشاہراؤں پر پانی کے چھڑکاؤ کو مستقل بنیادوں پر دن میں متعدد مرتبہ دہرایا جائے تاکہ کم سے کم ’گردوغبار‘ کے بادل چھٹ جائیں۔ المیہ ہے کہ مری روڈ اور ملحقہ نواں شہر کی رابطہ شاہراہ گنجان آباد علاقوں سے گزرتی ہے اور اِسی کے کنارے تجارتی مراکز بھی ہیں جہاں کے دکاندار چہروں کو ڈھانپنے کے باوجود بھی مٹی کی تہہ سے اٹے رہتے ہیں۔

ایبٹ آباد کا شہری و دیہی علاقہ قومی اسمبلی کی نشست ’این اے سترہ‘ اور صوبائی اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ پر مشتمل ہے‘ جس پر کامیاب ہونے والے دونوں عوامی نمائندوں کا تعلق ’تحریک انصاف‘ سے ہے اسی طرح حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں ضلع ایبٹ کی اکثریتی نشستوں پر ’تحریک انصاف‘ کے نامزد بلدیاتی نمائندے منتخب ہوئے لیکن داخلی انتشار اور پارٹی کی مضبوط گرفت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف ضلعی حکومت تشکیل دینے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی۔ 

سازشوں کا شکار وہی ہوتے ہیں جو معلوم کمزوریوں اور ظاہری حالات (برسرزمین حقائق) کو جانتے ہوئے بھی اُن پر قابو پانے کی تدبیر نہیں کرتے۔ ہر کوئی عمران خان کی نظروں میں رہنا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پس پردہ تحریک انصاف کی مضبوطی و نظم و ضبط کے لئے درمے درہمے سخنے سرمایہ کاری کرنے والا کوئی نہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط (بیجا) نہیں ہوگا کہ آئندہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کو کسی مخالف سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ پارٹی کے داخلی نظم وضبط کے فقدان اور کمزور جماعتی ڈھانچے سے خطرات لاحق ہوں گے۔ ضلع ایبٹ آباد میں تحریک انصاف کے نظریاتی‘ نوجوان‘ خواتین اور رضاکار کارکنوں میں پائی جانے والی مایوسی کو سمجھنا قطعی دشوار نہیں جن کے لئے اُن کی اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت (پشاور) اُور بنی گالہ (پارٹی چیئرمین عمران خان) سے فاصلے (اور مسافت) ایک جیسی ہے۔ عمران خان اپنی مصروفیات سے بہت سا وقت نکال کر نتھیاگلی تشریف لاتے ہیں لیکن محض تیس کلومیٹر (آدھ گھنٹے کے فاصلے پر) ملحقہ ایبٹ آباد قدم رنجہ نہیں فرماتے‘ جہاں سے تعلق رکھنے والے اُن سے بہ نفس نفیس ملاقات و دیدار کے متمنی ہیں۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں تو اِن کی طاقت اور حمایت کا جواب محبت ہی سے دینا ہی ایک ایسی منطق ہے‘ جس کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا!
۔

Saturday, September 23, 2017

Sept 2017: Corruption based development in KP: Story of Street No 8

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
گلی نمبر آٹھ!
بیان کرنے کو ’کارنامے‘ تو بہت ہیں لیکن ’کارہائے نمایاں‘ نہیں۔ خیبرپختونخوا میں ’تبدیلی کے ثمرات‘ یقینی طور پر ظاہر ہوتے اگر (اوّل) قانون ساز اراکین صوبائی اسمبلی سے یہ اِختیار واپس لے لیا جاتا کہ وہ اپنے اپنے انتخابی حلقے میں ترقیاتی عمل کی نگرانی اور اِس کے اِنتخاب سے متعلق ترجیحات کا تعین کریں۔ ماضی کے تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج متقاضی تھے کہ اَراکین اسمبلی کے پیش نظر رہنے والے ذاتی‘ سیاسی اُور جماعتی مقاصد (مجبوریاں اُور مصلحتوں) کے باعث اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی نہ تو ترقی کا معیار پائیدار ثابت ہوا ہے اُور نہ ہی اِس سے کسی علاقے میں اجتماعی بہبود کی ضروریات پوری ہوئی ہیں۔ (دوئم) خیبرپختونخوا میں ’تین سطحی ضلعی حکومتوں کا نظام‘ متعارف کرنا ہی کافی نہیں تھا بلکہ اِسے اختیارات کی منتقلی اور سوفیصد ترقیاتی کاموں کی ذمہ داری سونپ دینی چاہئے تھی۔ 

المیہ ہے کہ دنیا کا بہترین اور اصلاح شدہ مثالی ’بلدیاتی نظام‘ وضع اور لاگو تو کر دیا گیا لیکن اِسے ملک کے کسی بھی دوسرے صوبے کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی خاطرخواہ فعال نہیں کیا گیا۔ اعدادوشمار عیاں ہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت نے کسی ایک بھی مالی سال (عوام کے منتخب) ضلعی نمائندوں کو حسب دستور ’تیس فیصد‘ ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے! علاؤہ ازیں ضلعی حکومتوں کی موجودگی میں کمشنر‘ ڈپٹی کمشنرز اُور اسسٹنٹ کمشنروں اور اِن کے شاہانہ دفاتر‘ سرکاری رہائشگاہوں‘ گاڑیوں اور ماتحت عملے کی ’فوج ظفرموج‘ کو گود لینے کی ضرورت (منطق) ماسوائے مالی وسائل کے ضیاع اُور کیا ہو سکتی ہے لیکن چونکہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے ’مالی وسائل‘ استعمال ہو رہے ہیں‘ اِس لئے روائت پسند سیاسی فیصلہ سازوں کو سادگی‘ بچت اور کم خرچ بالانشین طرزحکمرانی کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت (حاجت) نہیں۔ اِس موافق ماحول میں ’’وی آئی پی‘‘ کلچر کے دلدادہ ’انقلابیوں‘ کی کمزوریوں سے افسرشاہی (بیوروکریٹس) خوب فائدہ اُٹھا رہی ہے اور اپنے صوابدیدی اختیارات کی بقاء و مراعات برقرار رکھے ہوئے ہے! 

سیاسی فیصلہ ساز بظاہر ’فرمان تابع‘ افسرشاہی کی تعریف و توصیف سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ (سوئم) تبدیلی اُس وقت تک ممکن ہی نہیں ہو سکتی جب تک سرکاری محکموں میں سزاوجزأ کا نظام متعارف نہ ہو جائے۔ سالہا سال سے ایک ہی ضلع میں تعینات اور انتظامی عہدوں پر صوابدیدی اختیارات رکھنے والوں کے اثاثہ جات کی خفیہ ذرائع سے چھان بین (بلاامتیاز و رعائت احتساب) ضروری ہے۔ مئی دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کے بعد جب تحریک انصاف کو صوبائی حکومت ملی تو سرکاری دفاتر میں پہلا ایک سال خوف کی وجہ سے بدعنوانی (خردبرد) کی شرح کم رہی لیکن رفتہ رفتہ یہ خوف زائل ہو چکا ہے اور متعلقہ عزت مآب سیکرٹریوں سے لیکر عوامی نمائندوں‘ وزراء اور مشیروں کی اکثریت بہتی گنگا میں صرف ہاتھ نہیں دھو رہی بلکہ غسل فرما رہی ہے۔ آج کامل ’’چار سال چار ماہ‘‘ بعد خیبرپختونخوا میں حکمرانی کا حال یہ ہے کہ کسی ایک بھی سرکاری محکمے کی کارکردگی مثالی نہیں اور بالخصوص تعمیروترقی کے (فنی و تکنیکی) نگران ’کیمونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو)‘ اُور سول ورک کے ٹھیکیداروں میں ’باہمی احترام و تعاون‘ اور ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھنے کا سلسلہ ماضی کے سیاسی ادوار ہی کی طرح بناء خوف و خطر جاری ہے! کیا یہی وہ جنون‘ تبدیلی اور احتساب ہے‘ جس کا خواب دکھاتے ہوئے ’تحریک انصاف‘ نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل بلندبانگ وعدے کئے گئے تھے؟

تمہید طویل ہو گئی لیکن ’تین اَمور‘ (ترقیاتی فنڈز پر اراکین اسمبلی کی اجارہ داری‘ ضلعی حکومتوں کی عدم فعالیت سے اَفسرشاہی کی حکمرانی اُور سرکاری ملازمین کی خراب کارکردگی سے نشوونما پانے والے مضمرات) کی نشاندہی اِس لئے بھی ضروری تھی کہ تحریر کے مرکزی خیال کی اہمیت واضح ہو جائے جس میں بظاہر ذکر تو ضلع ایبٹ آباد کی یونین کونسل ’میرپور‘ کا ہے جس کی رہائشی بستی ’سول آفیسرز کالونی‘ کی ’گلی نمبر آٹھ‘ کی ’اَدھوری فرش بندی‘ منتخب نمائندوں کی دلچسپی اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تصویر کے بڑا رخ پر نظر کیجئے۔ یہ معاملہ (قضیہ) صرف کسی ایک گلی (سٹریٹ) کا نہیں بلکہ ترقی کے نام پر جاری مالی و اِنتظامی بدعنوانیوں کی وجہ سے دن دیہاڑے‘ کھلم کھلا اُور علی الاعلان ترقیاتی وسائل کی خردبرد کا ہے اور ترقی کے لئے مختص وسائل کا بڑا حصہ ذاتی اثاثوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ ’گلی نمبر آٹھ‘ صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’PK-44‘ اور قومی اسمبلی کے حلقہ ’NA-17‘ کا حصہ ہے جس کی ’پختہ فرش بندی‘ کے لئے رکن قومی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز سے ’دس لاکھ روپے‘ فراہم کئے گئے۔ یہ فنڈز ’سی اینڈ ڈبلیو‘ کو منتقل ہوئے تو اخبارات میں ٹینڈر شائع ہوا۔ 

سول کام کا ٹھیکہ ’10فیصد‘ کم قیمت پر ایک ایسے ٹھیکیدار کو سپرد کر دیا گیا جس کے وسیع تجربے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ ’سی اینڈ ڈبلیو‘ کے ’قواعدوضوابط‘ کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو خوش کرنا جانتا ہے۔ مذکورہ گلی کی تعمیر مکمل کرنے کی حامی بھرنے والے سے محکمے استفسار اور تحقیق ہونی چاہئے تھی کہ کس طرح قریب ’’300 میٹر لمبی اور چودہ فٹ چوڑائی‘‘ گلی کی فرش بندی ’نو لاکھ روپے‘ میں مکمل کی جائے گی جس سے قبل پوری گلی کا لیول (level) ہونا چاہئے۔ ٹھیکیدار نے کل 6 دن (اوسطاً پانچ گھنٹے روزانہ) کام کرنے کے بعد دو تہائی گلی میں (بناء پانی کی نکاسی کی سطح (لیول)کئے) اڑھی ترچھی ریت‘ بجری اور سیمنٹ بچھائی اور چلتا بنا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ محکمے سے منظوری کس طرح لینی ہے! وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ غیرضروری ملنساری اور خندہ پیشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرض شناس’سی اینڈ ڈبلیو‘ کا ایک اہلکار سرکاری تعطیل (یکم محرم الحرام: بائیس ستمبر) کے روز گلی کی پیمائش کرنے تشریف لایا۔ ’سب اچھا‘ کی رپورٹ لکھی‘ جس میں نہ تو معیار دیکھا گیا اور نہ ہی باقی ماندہ کام‘ جسے مکمل کرنا ٹھیکیدار کی ذمہ داری تھی‘ اُس پر تشویش کا اظہار کیا۔ یوں بمشکل پانچ لاکھ روپے خرچ ہوئے‘ جس میں پچاس ہزار سے کم مزدوروں کی اُجرت اور باقی ماندہ ریت‘ بجری‘ سیمنٹ‘ سازوسامان اور مشینری کے کرایہ میں ادا کرنے کے بعد ’ٹھیکیدار بھی خوش اور ’سی اینڈ ڈبلیو‘ اہلکاروں کے بھی دفتروں میں بیٹھے بٹھائے ’وارے نیارے‘ ہو گئے لیکن اگر قسمت نہیں بدلی تو صرف ’گلی نمبر آٹھ کی!‘ تصور کیجئے کہ ’این اے سترہ‘ میں رکن قومی اسمبلی کے سالانہ ترقیاتی فنڈز سے ہر سال ایک کروڑ جبکہ رکن صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز سے سالانہ کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام ہوتے ہیں‘ جن کا مجموعی حجم پچاس کروڑ روپے سے زیادہ ہوتا ہے تو جب ’’گلی نمبر آٹھ‘‘ کی فرش بندی میں چالیس سے پینتالیس فیصد فنڈز خردبرد کر لئے گئے ہوں وہاں قریب نصب ارب روپے کا کیا حشر ہوتا ہوگا؟ 

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک‘ متعلقہ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون اور رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی سے درخواست ہے کہ وہ ’گلی نمبر آٹھ‘ کو بنیاد بنا کر نہ صرف مجموعی ترقیاتی فنڈز میں ہونے والی بڑے پیمانے پر خردبرد کا نوٹس لیں‘ جملہ ترقیاتی کاموں کا محکمۂ انسداد بدعنوانی کے ذریعے تکنیکی اور مالی امور کی تحقیقات (آڈٹ) ہوں‘ سی اینڈ ڈبلیو اہلکاروں کے اثاثہ جات کی فہرستیں بھی مرتب ہوں اور سب سے بڑھ کر ازرائے کرم ’’گلی نمبرآٹھ‘‘ کی فرش بندی کا باقی ماندہ کام مکمل کروایا جائے۔ کیا تحریک انصاف اِس ’ادھوری ترقی‘ کے ساتھ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی جیسی خوش فہمی کا شکار ہے؟

Thursday, July 13, 2017

July 2017: Roundup: Political Situation of NA17

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
این اے سترہ: دانشمندانہ فیصلے!
منظرنامہ تبدیل ہے۔ قیام پاکستان کی جدوجہد سے لیکر ’مئی دوہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات تک کے سفر میں ’اہل ہزارہ‘ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے نسل در نسل منتقل ہونے والی ’حب الوطنی‘ کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں کے چہروں سے نقاب اُلٹا‘ اور ہزارہ سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی کے ساتھ ’سیاسی تبدیلی‘ کے پہلے مرحلے کو خوش اسلوبی سے طے کیا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے موقع پر ’این اے سترہ‘ ایبٹ آباد ون‘ کی نشست بطور خاص مرکز نگاہ تھی‘ جہاں سے تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی کے جملہ محرکات میں نامزد اُمیدوار ’ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون‘ کی بے لوث سماجی و طبی خدمات‘ ہزارہ کے حقوق کے لئے ایک دہائی پر محیط سیاسی جدوجہد اُور جدون خاندان کا ’اَثرورسوخ‘ بھی شامل تھا‘ جس کی بدولت مسلم لیگ (نواز) کے 69 ہزار 568 ووٹوں کے مقابلے ڈاکٹر اظہر نے 96 ہزار 185 ووٹ حاصل کرکے ایک ایسی تاریخی کامیابی حاصل کی‘ جس کی پورے ہزارہ ڈویژن میں مثال نہیں تھی اُور یہ فتح صرف انتخابی کامیابی کی حد تک ہی محدود نہ سمجھی جائے بلکہ اُس وقت مسلم لیگ (نواز) کی ہزارہ سیاست سے پاؤں اکھاڑ دیئے گئے تھے۔ اے کاش کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت چار سالہ دور میں ’این اے سترہ‘ پر حاصل انتخابی کامیابی کی اہمیت کا ادراک کر سکتی اور اِس نشست سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پر اگر مقامی کارکنوں کو خاطرخواہ اہمیت دیتی‘ تنظیم سازی اور ترقیاتی حکمت عملی میں ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے تحریک کے ’سیاسی مستقبل‘ کو مدنظر رکھا جاتا تو آج صورتحال زیادہ موافق ہوتی! جون دوہزار چودہ میں ہوئے صوبائی اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخابی مرحلے میں اگر کسی مقامی اُمیدوار کو تحریک نامزد کرتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ مسلم لیگ (نواز) کو آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل سرکل بکوٹ کے اِس اہم حلقے پھر سے پاؤں جمانے کا موقع مل سکتا!

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے مشتاق احمد غنی (پی کے چوالیس)‘ قلندر خان لودھی (پی کے چھیالیس)‘ سردار ادریس (پی کے اڑتالیس) اُور ڈاکٹر اظہر جدون (این اے سترہ) نے نہایت ہی رازداری سے ایسی حکمت عملی اختیار کی‘ جس کی وجہ سے ’تحریک انصاف‘ کی مخالفت کے آگے بند باندھنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور اِسی ’’حکمت عملی کا ثمر‘‘ تھا کہ مئی دوہزار پندرہ میں ہوئے یہاں سے ’بلدیاتی انتخابات‘ کے نتائج تحریک انصاف کے حق میں رہے لیکن واضح برتری کے باوجود اگر تحریک انصاف تاحال اپنی ضلعی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو اِس کے درپردہ سازشوں میں ’بدنیتی‘ سیاسی مخالفت (غیرجمہوری روئیوں)‘ کے سوأ کوئی دوسرا محرک کارفرما نہیں۔ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ’ایبٹ آباد‘ کو بھی اِس ’’جرم‘‘ کے لئے سزا دی گئی کہ اِس نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات اور بعدازاں مئی دوہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ کیوں دیا!

تحریک انصاف کے خلاف ضلع ایبٹ آباد میں سازشوں کی کمی نہیں اور اِس بات کا کماحقہ ادراک مرکزی و صوبائی قیادت کو کرنا ہوگا کہ اگر اُنہوں نے آئندہ عام انتخابات میں ایبٹ آباد کے کسی ایک بھی حلقے سے غیرمقامی اُمیدوار نامزد کیا تو انتخابی معرکے میں شکست ملے گی۔ عیدالفطر کے فوراً بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے منسوب یہ بیان تحریک انصاف کے کارکنوں میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کہ ’’وہ بذات خود ’این اے سترہ‘ کے لئے اُمیدوار ہیں!‘‘ ماضی میں ایسے ہی یک طرفہ اور غلط فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف ہزارہ بلکہ دیگر اضلاع میں تحریک انصاف کو انتخابی شکست ہوئی جیسا کہ ’این اے ون‘ اور ’پی کے پینتالیس‘ کی مثالوں (حاصل نتائج) سے عیاں ہے!

تحریک انصاف کی مخالف سیاسی قوتیں پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور بالخصوص جوں جوں ’پانامہ کیس‘ اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ رہا ہے‘ تحریک مخالف ’اِنتخابی اتحاد‘ بن رہے ہیں! سیاسی بصیرت‘ دانشمندی اور موجودہ نازک گھڑی میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور خوب تول کر بولنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت آئندہ عام انتخابات سے متعلق قبل ازوقت بیانات نہ دے کیونکہ بیانات سے مخالفین کو منصوبہ بندی اور پیش بندی کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ غیرضروری بیانات داغنے سے مقامی کارکنوں اور قیادت پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ تحریک کے قائد سے منسوب بیان کا سیاق و سباق مقامی قیادت کو معلوم نہیں ہوتا اور بیانات کا دفاع یا وضاحت کرتے ہوئے غلطی کا اندیشہ رہتا ہے۔ دوئم انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کئے بناء کوئی بھی ایسا فیصلہ صادر نہ کیا جائے‘ جس سے بعدازاں رجوع کرنا پڑے۔ سوئم کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اثاثہ اُس کے کارکن ہوتے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں تحریک انصاف کی تنظیم سازی مکمل کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے۔ خواتین نوجوانوں اُور رضاکاروں کی منظم و فعال تنظیمیں ہی آئندہ عام انتخابات میں کارآمد و کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر تحریک انصاف اب انتخابی تیاریاں شروع نہیں کرتی تو یہ کب کرے گی؟ چوتھی ضرورت یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد کی سطح پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور نمائندہ اداروں (پریس کلبس اور یونین) کے درمیان دھڑے بندیاں ختم کرنے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کردار ادا کرے‘ کیونکہ اِس دھڑے بندیوں کا بھرپور فائدہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین اُٹھا رہے ہیں اور بالخصوص مقامی اخبارات کو ’منفی پراپگنڈے‘ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

خیبرپختونخوا حکومت کے پاس مالی وسائل بھی ہیں اور ایسے آئینی اختیارات بھی جن کے ذریعے ’پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا‘ کی پیشہ ورانہ اِستعداد میں اضافہ اور وقتی مفادات پر مبنی سوچ کی اصلاح ممکن ہے۔ پریس کلبوں اور یونین سے غیرمتعلقہ افراد کا اخراج‘ صحافت کی اہمیت اور شعور اُجاگر کرنے سے باآسانی ممکن ہے۔ افراد کی بجائے اگر اداروں کو مضبوط کیا جائے تو اس سے نہ صرف تحریک انصاف کو وقتی فائدہ ہوگا بلکہ جمہوریت کے لئے بھی یہی نیک شگون ہے کہ ’’جرائم‘ سیاست اور صحافت‘‘ کے درمیان گٹھ جوڑ ختم کیا جائے۔ غیرجانبدار اُور غیرسیاسی میڈیا کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ سبھی کے مفاد میں ہے۔ سوشل میڈیا پر اِنحصار کرنے والی ’تحریک اِنصاف‘ دیگر ہم عصروں سے پہل کرتے ہوئے جماعتی سرگرمیوں پر مبنی اخبار اور ٹیلی ویژن چینل بھی متعارف کرا سکتی ہے جس سے غیرمصدقہ بیانات اور اِن کی آڑ میں سازشیں کرنے والوں کا مقابلہ اور توڑ کیا جاسکتا ہے۔ وقت ہے کہ انتخابات کی بجائے سیاست میں سرمایہ کاری کی جائے۔ 

ایبٹ آباد کے مقامی سیاسی حالات‘ خاندانوں کے اثرورسوخ اور تحریک انصاف کے موجودہ منتخب نمائندوں (مشتاق غنی‘ قلندر لودھی‘ سردار ادریس اُور ڈاکٹر اظہر) کی دامے درہمے سخنے کوششوں کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے پاس ’غلطی کی گنجائش‘ نہیں رہی اور اگر ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی ’جذباتی اُور مزید غلط فیصلے‘ کئے گئے تو تحریک انصاف کم سے کم ایبٹ آباد کی سطح پر آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کا ’نادر موقع‘ ہمیشہ کے گنوا دے گی۔
Reasons why Imran Khan should not context election from NA-17 Abbottabad I in upcoming Geenral Elections

Sunday, January 1, 2017

Jan2017: Politics & Tolerance

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ سب کچھ داؤ پر!
ایک دفعہ کا ذکر ہے جب خیبرپختونخوا کا ’ایبٹ آباد‘ صحت مند آب و ہوا کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا لیکن آج سطح سمندر سے ’چارہزار ایک سو بیس فٹ‘ بلند بیس لاکھ سے زائد دیہی وشہری علاقوں پر مشتمل یہاں کی آبادی کو جہاں ماحولیاتی عدم توازن کی وجہ سے موسمی تغیرات کا سامنا ہے وہیں قبائلی شناخت‘ لسانی تشخص‘ روایات اور ثقافت کو درپیش چیلنجز یہاں کے فہم و فراست رکھنے والے دانشور طبقات کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ 

مختلف وجوہات کی بناء پر اَیبٹ آباد کے میدانی و پہاڑی علاقوں کی جانب نقل مکانی کے رجحان کی وجہ سے دستیاب وسائل اور شہری و دیہی علاقوں میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ بھی یکساں متاثر دکھائی دیتا ہے۔ اگر درست وقت پر درست ترجیحات کا متعلقہ شعبوں کے تکنیکی ماہرین سے مشاورت کے ذریعے تعین کر لیا جاتا تو آج ایبٹ آباد کے ہر رہنے والے کے لئے ’’کم سے کم‘‘ پینے کا صاف پانی ہی دستیاب ہوتا۔ ماضی میں ایبٹ آباد کو محروم اور یہاں کے رہنے والوں کی سوچ کو اگر محکوم رکھا گیا تو اِس کے درپردہ محرکات سیاسی بھی تھے اور فیصلہ سازوں کے پیش نظر ذاتی مفادات بھی یکساں کارفرما رہے جنہیں دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں شکست دینے کے باوجود ’سیاست برائے ذاتی منفعت‘ کرنے والوں نے تاحال ’’ہار نہیں مانی۔‘‘ سازشی ذہنیت آج بھی وجود رکھتی ہے اُور یہی وجہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد میں طرز حکمرانی کی اصلاح اُور بلدیاتی نظام کی فعالیت کے خلاف جاری سازشیں کسی سے ڈھکا چھپا موضوع نہیں! اَیبٹ آباد کے لئے ’سال دوہزار سولہ‘ کسی سے بھی طرح ماضی سے مختلف نہیں رہا اُور اِس دوران ضلع بھر میں اِنتظامی اِصلاحات اُور ترقیاتی اَمور کی راہ میں رکاوٹیں ’بدستور‘ حائل رہیں لیکن ہجری سال کا میزانیہ جاتے جاتے ایک ایسی بدمزگی چھوڑ گیا‘ جس کی ایبٹ آباد کی تاریخ و ثقافت اور ادب و احترام سے جڑی سیاسی روایات سے مطابقت نہیں رکھتی۔



اُنتیس دسمبر کی صبح ’صحت انصاف کارڈ‘ کی تقسیم کے موقع پر ’جلال بابا آڈیٹوریم‘ مدعو کئے گئے خاص مہمانوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج پر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیرصحت‘ صوبائی وزیر خوراک‘ وزیراعلیٰ کے خصوصی مشیر اُور ایک رکن صوبائی اسمبلی کے شانہ بشانہ رکن قومی اسمبلی (این اے سترہ) ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کے علاؤہ محکمۂ صحت و انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار تشریف فرما تھے‘ جن کی حفاظت کے لئے سفید کپڑوں میں ملبوس اسٹیج کے اطراف میں یقیناًموجود ہوں گے۔ 

تقریب کی باقاعدہ کاروائی شروع ہوئے ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ ایک نوجوان خراما خراما اسٹیج پر بیٹھے رکن قومی اسمبلی کے پاس پہنچتا ہے اور پشت سے حملہ کرکے اُنہیں زدوکوب کرنے کی کوشش میں بدتہذیبی کی انتہاء کرتے ہوئے باآواز بلند ایسے الفاظ سے اُنہیں مخاطب کرتا ہے جو بھری تقریب تو کیا تنہائی میں بھی بات چیت کے دوران کسی معزز و بزرگ شخص کے لئے استعمال نہیں کئے جا سکتے۔ 

یہ منظر نہایت ہی اَفسوسناک تھا‘ جسے تقریب میں موجود خواتین اُور بچوں سمیت چھ سو سے زائد افراد نے دیکھا اُور سر جھکا لئے! 

اَیبٹ آباد کی سیاست میں اِس قدر ’عدم برداشت کا عنصر‘ اُور ’خاندانی جھگڑوں‘ کی بنیاد پر سرعام لعن طعن کے پے در پے واقعات اَگر جاری رہتے ہیں تو پھر کوئی بھی سر اُور کوئی بھی پگڑی محفوظ نہیں رہے گی! ڈاکٹر اظہر پر ہوئے حملے کی تفتیش کئی پہلوؤں سے ہونی چاہئے تھی۔ 1: تقریب کے لئے حفاظتی انتظامات ناکافی کیوں تھے اور غفلت کے ذمے داروں کا تعین ہونا چاہئے۔ 2: حملہ آور اگر مسلح یا خودکش ہوتا تو بیک وقت خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پانچ اراکین اسمبلی کو جانی نقصان پہنچا سکتا تھا‘ اِس لئے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے پس پردہ کرداروں کو منظرعام پر لایا جائے۔ 3: رکن قومی اسمبلی پر حملہ جس خاندانی جھگڑے کو بظاہر بنیاد بنا کر کیا گیا‘ اُس کا تصفیہ اور صلح صفائی علاقائی روایات کے مطابق بذریعہ جرگہ (بات چیت) ہونا ضروری ہے کیونکہ کوئی تیسرا فریق خاندانی جھگڑے کی آڑ میں فائدہ اُٹھانے کی باردیگر کوشش کر سکتا ہے۔ 4: خیبرپختونخوا میں محکمۂ پولیس کو ’غیرسیاسی‘ کرنے کے عمل کو ’تحریک انصاف‘ کی کمزوری نہیں بلکہ اِس کی طاقت سمجھا جانا چاہئے۔ ماضی میں اگر کسی ’رکن قومی اسمبلی‘ پر حملہ صوبائی وزراء کی موجودگی میں ہوتا تو حملہ آور اُور اُس کے سہولت کاروں کا نام و نشان صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہوتا اُور ساتھ ہی ضلعی پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے ہو چکے ہوتے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر‘ ڈی آئی جی‘ ڈی ایس پی‘ ایس ایچ اُوز لائن حاضر اور ضلع بدر ہو چکے ہوتے لیکن یہاں اگر ایسا نہیں ہوا تو پولیس حکام کو اپنے اختیارات‘ حاصل آزادی اور کارکردگی کا ازخود احتساب کرنا چاہئے۔ پشاور میں بیٹھے پولیس کے اعلیٰ حکام کو ڈاکٹر اظہر جدون پر حملے میں نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کے ’منفی کردار‘ پر غور کرنا چاہئے‘ جو صرف قابل افسوس و مذمت ہی نہیں بلکہ لمحۂ فکریہ بھی ہے کیونکہ ’پولیس کے اختیارات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہر خاص و عام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اُور دوئم پولیس بناء دباؤ قانون کی بالادستی عملاً ممکن بنائے۔ کیا ایسا ہی ہو رہا ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی کو اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت کے دور میں اِنصاف مل پاتا ہے یا نہیں!؟ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اِن دنوں بیرون ملک دورے پر ہیں‘ جن کی واپسی پر توقع ہے کہ وہ پہلی فرصت سے بھی پہلے ’ڈاکٹر اظہر جدون‘ پر ہوئے حملے اور اِس سلسلے میں پولیس کی ’جانبدار تفتیشی کارکردگی‘ کا نوٹس لیں گے کیونکہ اِس سے نہ صرف پارٹی کارکنوں میں ’بے چینی و تشویش‘ پائی جاتی ہے بلکہ ضلع ایبٹ آباد میں تحریک اِنصاف کی سیاسی ساکھ‘ سماجی اَدب و اِحترام پر مبنی ثقافت‘ جدون اُور غیرجدون قبائل (جنبوں) کا باہمی تعلق و سلوک اُور سیاسی برداشت جیسے اثاثے بھی داؤ پر لگے ہوئے ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, May 27, 2016

May2016: Special Olympics Pakistan 2 Days Camp in WMC, Abbottabad.

ایبٹ آباد ۔۔۔ پریس ریلیز ۔۔۔ 27مئی 2016ء

خصوصی بچوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا سماجی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ فرض عین بھی ہے: ڈاکٹر اظہر جدون
جسمانی کمزوری سے متاثرہ بچے بوجھ نہیں‘ جنہیں قدرت کی جانب سے اضافی خصوصیات اُور مضبوط اعصابی طاقت ملتی ہے
’اسپیشل اولمپکس پاکستان‘ کی جانب سے ’ویمن میڈیکل کالج‘ میں 2 روزہ کیمپ کا انعقاد‘ ایبٹ آباد سے خصوصی بچوں کی شرکت
کم بینائی رکھنے والے بچوں کو عینکوں کی فراہمی اور مفت سرجری کی جائے گی‘ ڈاکٹر اظہر‘ رونق لاکھانی اُور عاصمہ حسن کی بات چیت

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما‘ رکن قومی اسمبلی (این اے سترہ) ڈاکٹر محمد اَظہر خان جدون نے خصوصی بچوں کی سرپرستی کو اجتماعی معاشرتی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بصارت سے محروم یا کم بینائی رکھنے والے بچوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے نجی اداروں اور مخیر حضرات پر زور دیاکہ وہ اپنی آمدنی کا ایک خاص حصہ لازماً سماجی خدمات کے لئے وقف کریں کیونکہ خصوصی افراد معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ فرض عین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عملی و فعال سیاست کی مصروفیت کے ساتھ میری ترجیح آج بھی سماجی خدمت ہی ہے۔ جمعۃ المبارک کے روز ’ویمن میڈیکل کالج‘ میں اسپیشل اُولمپکس پاکستان (ایس اُو پی) کے وفد سے بات چیت کرتے ڈاکٹر اظہر نے ’اَفراد باہم معذوران‘ کے لئے منعقدہ ’2 روزہ کیمپ‘ کے اِنعقاد کو سراہا۔ اِس موقع پر ’اسپیشل اولمپکس پاکستان (ایس اُو پی) کی چیئرپرسن محترمہ رونق لاکھانی اُور نیشنل کوآرڈینیٹر برائے ’ہیلتھی اتھلیٹکس پروگرام‘ محترمہ عاصمہ حسّن کی جانب سے تنظیم کی سرگرمیوں کے حوالے سے ڈاکٹر اظہر جدون کو بریفنگ دی گئی۔ کیمونٹی میڈیسن کے نگران ڈاکٹر جاوید اختر چاولہ نے ’اسپیشل اولمپکس پاکستان‘ کو ویمن میڈیکل کالج کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

کیمپ کے پہلے روز ڈاکٹر عمر اُور مس ڈینیس (Ms Denise) نے ہنگامی طبی امداد اُور ڈینگی بخار سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر سے متعلق خصوصی بچوں کے والدین کو لیکچرز دیئے۔ تقریب میں ایبٹ آباد میں خصوصی بچوں کے تعلیمی اداروں رائز‘ سیم‘ کنگسٹن اور سیّد احمد شہید میں زیرتعلیم طلباء و طالبات اور اُن کے والدین نے شرکت کی۔ کیمپ کے پہلے دن میں 37 بچوں کی بینائی کی جانچ بھی کی گئی جنہیں مفت عینکیں فراہم کی جائیں گی جبکہ دو بچوں کے آپریشن بھی بلاقیمت کئے جائیں گے۔ کیمپ کے دوسرے دن 37 بچوں کی بینائی کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 28 بچوں کو عینکیں فراہم کی جائیں گی۔ لیٹن رحمت اللہ بنولینٹ ٹرسٹ ہسپتال (ایل آر بی ٹی) کی ڈاکٹر مہوش خان نے بچوں کا معائنہ کیا۔ یاد رہے کہ ’ایل آر بی ٹی‘ کے ملک بھر میں 19 ہسپتال ہیں جہاں بینائی سے محروم یا متاثرہ بچوں کے مفت آپریشن اور اَدویات فراہم کی جاتی ہیں۔

Tuesday, January 12, 2016

Jan2016: Leadership response & responsibilities

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قیادت: فکری و عملی تقاضے!
پاکستان تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ اِس کے کلیدی فیصلے اُور ترجیحات کا تعین کسی ایک مقام پر نہیں ہوتا اُور جس قدر زمینی فاصلہ پشاور (خیبرپختونخوا) اُور بنی گالہ (اِسلام آباد) کے درمیان ہے اُتنی ہی تاخیر حکمت عملیوں کے نفاذ یا اُن کے ثمرات حاصل کرنے کے لئے خاطرخواہ فعالیت و نگرانی میں بصورت رکاوٹ پیش آتی ہیں اُور یہ قطعی طور پر کسی ایسی جماعت کے لئے تو کم از کم خوش آئند قرار نہیں دیا جاسکتا جو انقلابی تبدیلیوں (اِصلاحات) کا عزم رکھتی ہو اُور چاہتی ہو کہ بذریعہ ووٹ پارلیمانی طرز حکمرانی کو زیادہ بامقصد‘ عوام کے سامنے بہرصورت جوابدہ بنایا جائے لیکن محض خواہشات اُور بیانات ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ عملی طورپر ایسے اقدامات آئندہ چند سطور میں روایت کئے جارہے ہیں جو کارکنوں کے ’فیڈبیک‘ سے اخذ کئے گئے ہیں اور اگر تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت کارکنوں کے دلی جذبات کو سمجھ لیتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں بلاشراکت غیرے ’خیبرپختونخوا‘ اُنہی کے نام رہے!

قومی مسائل کے حوالے سے ’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کے سیاسی نظریات اُور پارلیمانی سطح پر جدوجہد اپنی جگہ لیکن برسرزمین حقائق زیادہ بڑے اَہداف کے ساتھ اُن چھوٹی چھوٹی باتوں پر برابر دھیان مرکوز رکھنے کے متقاضی ہیں‘ جس کا تعلق عام کارکن کی ’’اِقتصادی حالت (زار)‘‘ سے ہے۔ گذشتہ دو برس میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے صوبائی سطح پر اِقدامات کا جائزہ لینے سے مایوسی ہوتی ہے تو دوسری طرف ترقیاتی عمل کے تعطل یا سست روی کے باعث روزگار کے مواقع نہیں بڑھ پائے۔ تعلیمی اِداروں میں ماضی کی طرح گنجائش کم رہی۔ سکول کے بعد کالج اُور کالج کے بعد کسی سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہشمند کس ذہنی و جسمانی کرب اور مہنگے ترین تجربے سے گزرتے ہیں‘ کسی کو اِحساس تک نہیں۔ نجی تعلیمی اِداروں کی من مانیاں‘ فیسوں میں اِضافہ اور صورتحال کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سرکاری سرپرستی (حوصلہ اَفزائی) تاحال (ہنوز) جاری ہے۔ بنیادی سہولیات و خدمات کی توسیع کے ساتھ سرکاری ملازمین کا قبلہ درست کرنے اُور انہیں عہدوں سے جڑی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی تشنگی بھی الگ سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ماضی میں اگر تعمیروترقی کا عمل سیاسی و انتخابی ترجیحات کے تابع ہوتا تھا تو اِس عمل میں تعطل کے محرکات بھی یہی بنے‘ جن کے لئے جواز کتنا ہی منطقی ہو‘ کارکنوں کی نظر میں قیادت کو محرومیوں کے اَزالے کے لئے عملی کوششیں کرنی چاہیءں۔ تحریک انصاف کے ایک کارکن کے دکھ بھرے لہجے کی ترجمانی الفاظ میں ممکن نہیں جو کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔’’کیا میں اپنی نوکری کی درخواست لیکر اُن سیاسی جماعتوں کے پاس جاؤں جن سے خاندان‘ محلے اور پولنگ اسٹیشن کی سطح پر مخالفت مول لی؟‘‘ یقیناً’معلومات تک رسائی‘ اور اہلیت کے لئے ’این ٹی ایس‘ کے ذریعے ملازمتیں دینے کا شفاف طریقۂ کار اختیار کرنا معمولی بات نہیں لیکن کیا ’این ٹی ایس‘ امتحان کی فیس‘ طریقۂ کار اور وہ نفسیاتی دباؤ سہنے کی ملازمتوں کے متلاشیوں میں قوت و مہارت موجود بھی ہے۔ کسی امتحان میں منفی نمبروں کا طریقۂ کار اگر پرائمری مڈل یا ہائر کلاسیز میں متعارف کرایا جاتا تو منطق سمجھ میں آ سکتی تھی لیکن بیک وقت امتحانی بورڈز کے ذریعے اِمتحانات اُور بعدازاں ’این ٹی ایس‘ کے ذریعے اہلیت کی جانچ دو متضاد باتیں ہیں۔ فیصلہ سازوں کو عام آدمی (ہم عوام) کی اِس مشکل کا ادراک کرنا چاہئے کہ باقاعدہ و باضابطہ اور مرحلہ وار اِمتحانی نظام کی موجودگی میں کسی اضافی اور انوکھے قسم کے امتحان کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟اگر ’این ٹی ایس‘ ضروری ہے تو پھر امتحانی بورڈز کی ضرورت نہیں رہتی۔ ویسے بھی سرکاری نوکری کے لئے تعلیمی قابلیت ہی اہم ہوتی ہے جس کے لئے اسناد کے جعل سازی کا رجحان مدنظر رکھتے ہوئے اگر تعلیمی قابلیت کو ’نادرا‘ ریکارڈ (شناختی کوائف) کا حصہ بنا دیا جائے تو نہ صرف اِس منفی رجحان کی روک تھام ممکن ہو جائے گی بلکہ فیصلہ سازوں کے سامنے برسر روزگار اور بے روزگار افراد کی تعداد اور جن شعبوں میں وہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں اُن کی معلومات بناء کسی ’اِضافی محنت‘ دستیاب ہوں گی جس سے اقتصادی و معاشی بہتری کے لئے حکمت عملیاں بنانے میں سہولت رہے گی۔

ملک کی داخلی سلامتی اُور خارجہ اَمور سے متعلق قومی حکمت عملی کے خدوخال‘ عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان کے مفادات کا دفاع اور اِس بارے قوم کی رہنمائی بھی یقیناًسیاسی جماعتوں ہی کے منجملہ فرائض کا حصہ ہوتی ہے لیکن کارکنوں کی تسلی و تشفی اُور اُن کے اطمینان قلبی کی ذمہ داری بھی اُن ناخداؤں کے رحم و کرم پر ہی ہوتی ہے‘ جنہیں کوئی بھی فیصلہ یا سیاسی و انتخابی اتحاد کرنے سے قبل کارکنوں کے بارے میں کم سے کم ایک مرتبہ ضرور سوچنا چاہئے جو ’بھیڑ بکریاں‘ نہیں کہ اُن کی تعداد (ووٹ بینک) کی بنیاد پر سودا بازی کے لئے استعمال کی جائے۔ سیاسی قیادت اُور بالخصوص تحریک انصاف کے قائدین کو فکری و عملی تقاضوں کا بھی اِدراک کرنا ہے‘ جس میں کارکنوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے اگر ’تنظیم سازی‘ اُور ’تنظیم نو‘ نہیں کی جائے گی اُور ترقیاتی حکمت عملیوں میں عوام کے منتخب نمائندوں کی بصیرت‘ تجربے اُور وابستہ پارٹی کارکنوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا جائے گا‘ تو تحریک انصاف کے لئے اِس سے پیدا ہونے والے ’’احساس محرومی‘‘ کی تلافی عام انتخابات میں ناکامی جیسے نقصان کی صورت ظاہر ہو سکتی ہے یقیناًاُس وقت سے ڈرنا چاہئے جب انتخابی ناکامی‘ خسارہ اُور نقصانات ناقابل تلافی بن جائیں۔

Monday, January 26, 2015

Jan2015: PK45 Forgotten Promises

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انتخابی وعدے: توجہ دلاؤ مطالبہ!
خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ کے لئے ضمنی عام انتخابات کے موقع پر صوبائی حکومت اور حکمراں اِتحاد کی قیادت کرنے والی جماعت ’تحریک انصاف‘ کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے جو وعدے کئے گئے تھے‘ اُن کی تعمیل ’حسب وعدہ‘ نہیں ہو سکی۔ اِس سلسلے میں سرکل بکوٹ کی آٹھ یونین کونسلوں (بکوٹ‘ بیروٹ‘ بوئی‘ پٹن کلاں‘ دلولہ‘ ککمنگ‘ نمبل اور پلک) سے تحریک انصاف کے کارکنوں نے رکن قومی اسمبلی (این اے سترہ) ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کی وساطت سے ایک درخواست صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے چیئرمین کو ارسال کی ہے‘ جس میں اُنہیں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کئے گئے وعدے یاد دلائے گئے ہیں۔

یادش بخیر ’ہزارہ ڈویژن‘ جنت نظیر وادیوں اور سیاحت کے امکانات سے مالامال خطہ ہے جس کے ’سرکل بکوٹ‘ کا کچھ حصہ مقبول عام ’گلیات‘ کا حصہ ہے لیکن بہت کم پاکستانی جانتے ہوں گے کہ ’گلیات سے زیادہ سرسبزوشاداب اور قدرتی حسن رکھنے والی دیگر کئی ایک وادیاں بھی ہیں‘ جہاں تک رسائی آسان اور سہولیات نہ ہونے کے سبب‘ اِن علاقوں میں صحت و تعلیم جیسی بنیادی ضروریات جبکہ سیاحت جیسا اہم شعبے خاطرخواہ ترقی سے محروم ہے۔ امن و امان اور خوشگوار موسم و صحت افزأ مقام ہونے کے باوجود اِن علاقوں سے کماحقہ فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکا۔ یہ بات ’سرکل بکوٹ‘ کی بدقسمتی نہیں تو اُور کیا ہے کہ اِس کی یونین کونسلیں آپس میں منسلک نہیں اور اس کی وجہ وہ اُنیس کلومیٹر کی شاہراہ ہے‘ جس پر تعمیراتی کام اگر انتہائی سست روی سے بھی جاری رہتا تو تیس برس میں مکمل ہو جانا چاہئے تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے اور اہل علاقہ یہ بات پورے یقین و ذمہ داری سے بیان کرتے ہیں کہ ’’اُنہیں جان بوجھ کر پسماندہ اور ترقی سے محروم رکھا گیا ہے‘ جس کے سیاسی محرکات ہیں۔‘‘ افسوس ایسی تعصب والی سوچ اور سیاست پر‘ کہ جس میں عوام کو محکوم رکھا جائے لیکن کیا گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے لئے ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ دینے والوں کی جملہ توقعات پوری ہوئی ہیں؟ یہ ایک ایسا چھبتا ہوا سوال ہے جس کا تحریک انصاف کی مرکزی قیادت جواب دینے سے کتراتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد سے کئے گئے جملہ ترقیاتی وعدے ہنوز پورے نہیں کئے گئے۔

پی کے پینتالیس کے ضمنی انتخابات سے قبل چیئرمین عمران خان نے سرکل بکوٹ میں چار جلسۂ عام جبکہ متعدد مقامات پر غیراعلانیہ درجن بھر چھوٹے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا اور کارکنوں سے وعدہ کیا کہ وہ سرکل بکوٹ کو تحصیل کا درجہ دیں گے جو کہ اہل علاقہ کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا لیکن اِس وعدے کی تکمیل سے قبل ’بوئی سوار گلی روڈ‘ کا 19 کلومیٹر حصہ تعمیر ہونا ضروری ہے۔ اُن کا دوسرا وعدہ ضلع ایبٹ آباد کو چھ کالج دینے کا تھا۔ اگر اِس سلسلے میں سرکل بکوٹ کو دو عدد کالج بھی دے دیئے جاتے ہیں تو یہ فی الوقت آبادی کے تناسب سے ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ گذشتہ برس پی کے پینتالیس کے ضمنی عام انتخابات کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی ترقیاتی کاموں کے چند ایک ’ضمنی وعدے‘ کئے تھے جن میں گلیات و سرکل بکوٹ کے لئے ’ایک ارب روپے‘ مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبے یعنی مالی وسائل دینے کا اعلان کیاگیاتھا۔یہ سبھی وعدے ’آن دی ریکارڈ‘ ہیں۔ اِسی طرح وزیراعلیٰ نے ایبٹ آباد میں جلسۂ عام سے خطاب کے دوران یونیورسٹی کے قیام اور شاہراہوں کی توسیع کے لئے جس خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کر رکھا ہے اُس حوالے سے بھی رکن قومی اسمبلی نے اُن کی توجہ چاہی ہے کیونکہ سب سے زیادہ مشکل تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے مقامی منتخب نمائندوں کو پیش آ رہی ہے جنہیں کارکنوں کی جانب سے نرمی و گرم گلے شکوے جبکہ سیاسی مخالفین کی جانب سے چھبتے ہوئے طنز و کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں این اے سترہ (ایبٹ آباد) کے لئے ’تین لاکھ تیرہ ہزار آٹھ سواٹھارہ‘ رجسٹرڈ ووٹوں میں سے تحریک انصاف کے حصے میں ’چھیانوے ہزار ایک سو پچاسی‘ ووٹ آئے جس میں بڑا حصہ ’سرکل بکوٹ‘ سے ملنے والی فیصلہ کن و فاتح تائید تھی۔ یہ وہی علاقہ ہے جو تین عشروں تک پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا گڑھ رہا اور اِس بارے میں تصور بھی نہیں جاسکتا تھا کہ نواز لیگ کو یہاں سے شکست دی جاسکے گی لیکن ’سماجی خدمت جیت گئی‘ اور تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ اگر تحریک آگے چل کر بھی دانشمندانہ فیصلے کرتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے ضمنی انتخاب بھی تحریک انصاف ہی کے نام ہوتا۔

غلطیوں کی اصلاح غلطیوں سے نہیں کی جاتی۔ ضرورت تو اِس بات کی تھی کہ ڈاکٹر اظہر جدون کو خود طلب کرکے تمام انتخابی وعدے پورے کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی اور مرکزی و صوبائی قائدین ضلع ایبٹ آباد بشمول سرکل بکوٹ جیسے دیہی و پہاڑی علاقے کی اہمیت کو سمجھتے جہاں محرومیوں اور مایوسیوں نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا تاحال نہیں ہو سکا۔ اس سلسلے میں منتخب نمائندے نے ’حق نمائندگی‘ پورا کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور تحریک انصاف کے چیئرمین کو تحریری طورپر آگاہ کر دیا ہے کہ ’’سرکل بکوٹ کی قسمت بدلنے کے لئے جس کسی نے‘ جو بھی وعدے کر رکھے ہیں‘ برائے مہربانی انہیں اگر بیک وقت نہ سہی لیکن مرحلہ وار انداز میں پورا کیا جائے۔‘‘ قوئ اُمید ہے کہ یہ ایک توجہ دلاؤ مطالبہ ’نقار خانے میں طوطی کی آواز‘ ثابت نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan2015: Promises with PK45

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قابل تقلید ترقیاتی عمل
خیبرپختونخوا میں ترقی کا عمل سیاسی و غیرسیاسی وجوہات کی بناء پر سست روی کا شکار ہے اور یہ تعطل خود حکمراں اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے‘ جنہیں اپنے اپنے حلقۂ انتخاب میں ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے ’کڑی تنقید‘ کا سامنا ہے۔ خوشی ہو یا غم کی کوئی تقریب منتخب نمائندوں سے ملنے والے موقع جان کر باتوں باتوں میں ’ترقیاتی عمل کے حوالے سے ضرور ایک نہ ایک سوال داغ ہی دیتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ مالی سال 2014-15ء کے دوران ترقیاتی کاموں کے لئے صوبائی حکومت نے مجموعی طور پر 140.23 ارب روپے مختص کئے تھے جن میں سے دو جنوری دوہزار پندرہ تک 64 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں!

پاکستان کی کوئی بھی دوسری جماعت ’تحریک انصاف‘ جیسی بصیرت‘ شعور اور اجتماعی مسائل کے حل سے متعلق واضح سوچ نہیں رکھتی۔ عام انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے اصلاحات کی تجویز ہو یا مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے خاتمے اور قومی وسائل لوٹنے والوں کا بلااِمتیاز اِحتساب یا پھر عالمی سطح پر پاکستان کے حقیقی تشخص‘ وقار اور ساکھ بحال کرنے جیسی ضرورت‘ تحریک انصاف کے پاس ’حیران کن اِعدادوشمار‘ پر مبنی ’تبدیلی‘ کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک منطقی جواز موجود ہیں تاہم ’نئے پاکستان‘ کی تشکیل بناء ترقیاتی عمل ممکن نہیں اور اِس سلسلے میں ’خیبرپختونخوا حکومت‘ جیسے ’نادر موقع‘ کا استعمال سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے ’تعمیر و ترقی کی ایسی مثالیں‘ قائم کی جاسکتی ہیں‘ جو دوسروں کے لئے بھی قابل تقلید ہوں۔چودہ اگست سے اٹھارہ دسمبر (126 دن) تک جاری رہنے والے ’آزادی مارچ و دھرنے‘ نے تحریک کی مرکزی و صوبائی قیادت کو مصروف رکھا‘ جس کی وجہ سے اُنہیں ہزارہ ڈویژن میں ’ترقیاتی کاموں‘ کے حوالے کئے ہوئے وہ انتخابی وعدے بھی یاد نہ رہے‘ جن کی تعمیل خود ’تحریک انصاف‘ کے مستقبل کے لئے ازحد ضروری ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ’ہزارہ ڈویژن بالخصوص ایبٹ آباد اور سرکل بکوٹ سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بالخصوص تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عوام کے منتخب نمائندوں شدید دباؤ میں ہیں۔ پانچ جون دو ہزار چودہ کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ پر ’ضمنی انتخابات‘ کا انعقاد ہوا‘ جس سے قبل چیئرمین تحریک انصاف نے ہزارہ ڈویژن کے سرکل بکوٹ میں چار مقامات پر اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے جن ترقیاتی کاموں کے اعلانات کئے اُن میں بڑے اور بنیادی کام چھ کالجوں کا قیام‘ بکوٹ کو تحصیل کا درجہ دینا شامل تھا جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الگ سے ’گلیات‘ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر ’ایک ارب روپے‘ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جنت نظیر وادیوں کی وجہ سے ’سرکل بکوٹ‘ میں سیاحت اور پن بجلی کی پیداوار کے وسیع امکانات موجود ہیں‘ جن سے استفادہ کرکے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں بلکہ جاری توانائی بحران کا پائیدار حل بھی اِس خطے میں ترقیاتی عمل کی توسیع سے باآسانی ممکن ہے۔

سرکل بکوٹ سے وعدے کرنے والوں کی کمی نہیں۔ کم و بیش تین عشروں سے سرکل بکوٹ پر حکمرانی کرنے والی مسلم لیگ (نواز) کے مقابلے اگر قومی اسمبلی کے لئے ووٹ تحریک انصاف کو ملے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ اہل علاقہ تعمیروترقی چاہتے ہیں۔ اگر ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخاب کے لئے تحریک انصاف سرکل بکوٹ ہی سے تعلق رکھنے والے کسی مقامی رہنما (عبدالرحمن عباسی‘ راجہ مبین‘ نذیر عباسی‘ پیر اَظہر بکوٹی) کو پارٹی ٹکٹ دیتی تو تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخاب میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست کا بدلہ لے لیتی‘ بلکہ ایبٹ آباد سے کشمیر تک کی وادیوں پر پھیلے اِس وسیع انتخابی حلقے میں تحریک انصاف کے قدم زیادہ مستحکم ہوتے۔ بہرکیف ’سنجیدہ عملی کوششوں‘ کا وقت ابھی بھی ہاتھ سے نہیں گیا اور اگر سرکل بکوٹ میں حسب وعدہ ’تین بنیادی ترقیاتی کام‘ یعنی ’’چھ کالجوں کا قیام‘ تحصیل کا درجہ اور ایک ارب روپے کے تعمیراتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل فراہم کر دیئے جاتے ہیں تو اِس سے تحریک انصاف سے سیاسی و دلی وابستگی رکھنے والے عوامی حلقے اطمینان محسوس کریں گے۔

تحریک انصاف سے زیادہ اِس حقیقت سے کون آشنا ہے کہ رہنما وہ کہلاتا ہے جسے نہ صرف منزل کا پتہ ہو بلکہ وہ جانب منزل درست سمت میں سفر بھی کر رہا ہو اور منزل تک رسائی کے لئے دوسروں کی رہنمائی کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔ تحریک انصاف قیادت سے جڑی اِن تینوں ذمہ داریوں سے آگاہ اور انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اُمیدوں کا مرکز ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے وہ سبھی اضلاع بشمول ایبٹ آباد خاطرخواہ تعمیروترقی چاہتا ہے‘ جنہیں سیاسی بغض و عناد اور تعصبات و امتیازات جیسے محرکات کے سبب دانستہ طور پر پسماندہ رکھا گیا تاکہ ایک خاص طبقہ اور استحصالی سوچ حکمراں رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ماضی میں وزیراعلیٰ کا تعلق جس ضلع سے ہوتا‘ اُس کی قسمت بدل جاتی۔ مثال کے طور بنوں اور مردان میں ہوئی تیزرفتار تعمیر و ترقی کے عمل کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن اِس رجحان و ترجیح کے ثمرات 1969 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ’ضلع ایبٹ آباد‘ تک نہیں پہنچ سکے‘ جس میں 51 یونین کونسلیں اور دو تحصلیں ہیں اُور تحریک انصاف سے اُمیدیں وابستہ کرنے والوں کی نظریں پشاور پر لگی ہوئی ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔