Showing posts with label GDA. Show all posts
Showing posts with label GDA. Show all posts

Tuesday, October 5, 2021

Environmental friendly development needed

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

تذکرۂ سود و زیاں

’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ اپنے انتظامی فیصلوں میں ’خود مختار‘ اِدارہ ہے‘ جس کے سالانہ اخراجات 35 کروڑ (350ملین) روپے میں ملازمین کی تنخواہیں شامل ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ اِس ادارے کو مالی طور پر خودمختار ہونا چاہئے اُور اِس کی آمدنی کے مستقل ذرائع میں اِس حد تک اضافہ کیا جائے کہ اِسے تعمیر و ترقیاتی امور میں دقت پیش نہ آئے۔ اِس سلسلے میں وضع کردہ حکمت عملی پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کی دو برس میں تکمیل سے اُمید ہے کہ سال 2023ءتک گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سالانہ آمدنی ڈھائی ارب روپے تک جا پہنچے گی جبکہ رواں برس 55 کروڑ (550ملین) روپے کا منافع متوقع ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سال 2019ءمیں اتھارٹی کی آمدنی 36 کروڑ روپے تھی جسے مالی سال 2020ءمیں بڑھاتے ہوئے 90 کروڑ روپے تک لیجایا گیا ہے۔ اتھارٹی کی آمدنی میں دو برس کے دوران 200 فیصد سے زائد اضافہ کیسے ہوگا‘ یہ بات سمجھنے کے لئے اُن 2 ترقیاتی منصوبوں کو دیکھنا ہوگا جو سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے نام پر کئے جا رہے ہیں۔ پہلا منصوبہ نتھیاگلی میں عالمی معیار کے مطابق جدید ترین سہولیات و آسائشوں سے مزین قیام و طعام کا بندوبست (فائیو سٹار ہوٹل) ہوگا جبکہ دوسرا منصوبہ ایویبہ کے مقام پر نئی چیئرلفٹ کی تنصیب ہوگی۔ مذکورہ دونوں منصوبے غیرملکی سرمایہ کاری سے مکمل ہوں گے۔ ذہن نشین رہے کہ خیبرپختونخوا کا شاید پہلا ’فائیو سٹار ہوٹل‘ نتھیاگلی میں بننے جا رہا ہے اُور وہ بھی کسی شہر میں نہیں بلکہ جنگل کے بیچوں بیچ اُور ظاہر سی بات (یقینی امر) ہے کہ جب جنگل میں مور ناچے گا تو اُسے دیکھنے کا خاطرخواہ بندوبست بھی کیا جائے گا‘ جس سے گلیات کی جنت نظیر وادیوں کی خاموشی‘ سکون اُور وہاں کے مقامی لوگوں سمیت جنگلی حیات کا آرام و سکون (حقوق) پائمال ہوں گے۔

 ”ازل سے کر رہی ہے زندگانی تجربے لیکن .... زمانہ آج تک سمجھا نہیں سود و زیاں اپنا (قابل اجمیری)۔“

نتھیاگلی میں پنج ستارہ (فائیوسٹار) ہوٹل کے قیام کے لئے بات چیت (مذاکرات) کا عمل 2012ءسے جاری تھا اُور بتایا جا رہا ہے کہ اِس منصوبے کی منظوری 8 سالہ غوروخوض کے بعد دی گئی ہے۔ عجیب و غریب مرحلہ¿ فکر ہے کہ آٹھ سال کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی اُور نہ ہی اُن ماحولیاتی و ارضیاتی ماہرین کے بارے میں علم ہو سکا کہ وہ کون تھے جنہوں نے جنگل کے بیچوں بیچ‘ فائیوسٹار ہوٹل بنانے کو جائز قرار دیا جبکہ کسی سیاحتی مقام پر اگر بنیادی نوعیت کی قیام و طعام کی سہولیات بھی اگر مہیا کر دی جائیں تو یہ بھی کافی ہوتا ہے کیونکہ اِن جنت نظیر وادیوں اُور فطرت کا قریب سے مشاہدہ کرنے والوں کے لئے چند روزہ قیام کے دوران سہولیات معنی نہیں رکھتیں بلکہ وہ قدرت سے لطف ہونے آتے ہیں اُور کسی ایسے سیاحتی مقام پر ’فائیو سٹار آسائشوں‘ کا مطلب قطعی مختلف ہوتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر سال 2012ءسے نتھیاگلی کے ایک حصے میں درخت کاٹ کر عالمی معیار کا ہوٹل بنانے پر غوروخوض ہو رہا تھا تو اِس سے سیاسی و بلدیاتی منتخب نمائندوں کیوں بے خبر رہے!؟

نتھیاگلی میں فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کا معاہدہ جس سرمایہ کار کمپنی (Baron Group) سے کیا گیا ہے وہ اتھارٹی کو زمین کے اجارے (لیز) کی مد میں قریب 85 کروڑ (850 ملین) روپے ادا کریں گے اُور یہ ادائیگی 10 سال کی مدت میں ہوگی جبکہ ہوٹل تعمیر ہونے کے بعد اتھارٹی کو سالانہ 1 ارب روپے کی آمدنی ہونے لگے گی۔ اِسی طرح ایویبہ کے مقام پر نئی (آسٹریلوی ساختہ) چیئرلفٹ لگانے کا ٹھیکہ جس سرمایہ کار کمپنی (Manal Group) کو دیا گیا ہے۔ چیئرلفٹ کی فعالیت کے بعد اتھارٹی کو سالانہ 94 کروڑ روپے آمدنی ہوگی جبکہ چیئرلفٹ کا موجودہ ٹھیکیدار 5 کروڑ روپے سالانہ ادا کر رہا ہے اُور اُس نے 58 سال قبل نصب ہونے والی چیئرلفٹ بند کرنے کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے جس کی سماعت (4 اکتوبر 2021ئ) کے روز سول جج شاہد زمان نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ’توہین ِعدالت‘ کا نوٹس جاری کیا کیونکہ چیئر لفٹ کے ٹھیکیدار (ایاز خان) نے لفٹ کو بند کرنے سے فیصلے کے خلاف مذکورہ ایبٹ آباد سول جج ون کی عدالت سے رجوع کیا تھا اُور عدالت نے اتھارٹی کو اِس بارے تفصیلی رپورٹ جاری کرنے تک چیئرلفٹ کو جاری رکھنے کے احکامات صادر کئے تھے۔ مقدمے کی اگلی سماعت کے لئے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ دریں اثنا اتھارٹی نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے تحریری رابطہ کرتے ہوئے ایوبیہ چیئرلفٹ کے ٹھیکیدار اُور اِس کی حمایت کرنے والے مقامی فلاحی تنظیم ”گلیات تحفظ مو¿ومنٹ“ کے چیئرمین (سردار صابر) اُور وائس چیئرمین (سردار افتخار) کے خلاف ابتدائی تفتیشی رپورٹ (FIR) درج کرنے کا کہا گیا جن کا جرم یہ ہے کہ اُنہوں نے اتھارٹی کی جانب سے بند کی جانے والی چیئرلفٹ کے دروازے زبردستی کھول کر قانون کو ہاتھ میں لیا ہے۔ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فیصلہ سازوں کو سوشل میڈیا صارفین سے بھی شکایات ہیں کہ وہ اتھارٹی کے خلاف بے بنیاد تبصروں کی تشہیر کرتے ہیں۔ گلیات کے رہنے والوں کو ایک تعداد ایسی بھی ہے جسے پینے کا پانی نہیں ملتا۔ خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے آمدورفت باسہولت نہیں اُور گرمی ہو یا سردی موسمی اثرات کی وجہ سے یہاں کے رہنے والوں کو انواع و اقسام کی مشکلات درپیش رہتی ہیں جن میں ماحول دوست ایندھن کی عدم دستیابی بھی شامل ہے۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ آمدن میں اِضافے‘ سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ اُور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضے مربوط نہیں۔ زیادہ سے زیادہ آمدنی کے چکر میں اگر ماحولیاتی تنوع (eco system) کا لحاظ نہ رکھا گیا تو اِس سے حاصل ہونے والی بظاہر آمدنی درحقیقت ایک ایسا خسارہ ہوگا‘ جس کی بعدازاں ازالہ اُور غلطی کی تلافی ممکن نہیں رہے گی۔ ”اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو .... پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام (قتیل شفائی)۔“

....


Tuesday, December 19, 2017

Dec 2017: Snowfall and lack of facilities in Galliyat

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برفباری اور سرد مہری!
’’سر میں سموم سروری‘ رُخ پہ رقوم دلبری‘ دل میں ہجوم قاہری‘ لب پہ نجوم ابتسام‘‘ جیسا رنگارنگ منظر پیش کرنے والے ’خیبرپختونخوا کے بالائی علاقے‘ بالخصوص ہزارہ ڈویژن کے معروف سیاحتی مقامات ’گلیات‘ نے موسم سرما کی ’پہلی برف باری‘ کے بعد سفید چادر اُوڑھ لی ہے‘ جنہیں دیکھنے اور برف پوش وادیوں میں پھیلی خوبصورتی اور موسم سے محظوظ ہونے کے لئے ملکی و غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اُمڈ آئی ہے‘ جو خلاف توقع نہیں۔ 

گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے مطابق ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے ہوئی برفباری دیکھنے کے لئے تین لاکھ سے زائد سیاح آ چکے ہیں یہ بھی خلاف توقع نہیں جبکہ اکیس مارچ تک جاری رہنے والے برفباری کے متوقع ’سیزن‘ کے دوران یہ تعداد مجموعی طور پر دس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی لیکن یہ تعداد بڑھنے کی توقع ہے۔ موسم سرما ہو یا گرما‘ گلیات کی کشش لاکھوں سیاحوں کو کھینچ لاتی ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کے بلندبانگ دعوؤں کے باوجود گلیات (ضلع ایبٹ آباد کے بالائی بیشتر دیہیعلاقوں) میں بنیادی سہولیات کی سارا سال ہی فقدان رہتا ہے۔ قیام و طعام جیسی نجی خدمات فراہم کرنے والے سیاحوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور گراں فروشی کی انتہاء کر دیتے ہیں‘ جبکہ برف ہٹانے‘ بہتر و معیاری سہولیات اور سیاحوں کی رہنمائی اور شکایات کے لئے مربوط نظام کا مطالبہ ایک عرصے سے اِنہی سطور کے ذریعے بار ہا دہرایا جا رہا ہے‘ لیکن مجال ہے جو فیصلہ سازوں میں سے کسی ایک کے کان پر بھی جوں رینگے۔ ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی برفباری اور نظاروں سے محظوظ ہونے کے لئے آنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گلیات (آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل ’سرکل بکوٹ‘) میں رہنے والے مقامی اَفراد کی زندگیاں بھی آسان نہیں ہوئی‘ جنہیں عمومی و اجتماعی طور پر برفباری سے راستوں اور بجلی کی بندش سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کا گویا تجربہ ہو چکا ہے۔

حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن گلیات کی قسمت وہی کی وہی ہے۔ رواں ماہ ہوئی چند روزہ برفباری کے بعد سے ایبٹ آباد مری روڈ (مرکزی شاہراہ) کئی مقامات پر بند رہنے سے سیاح پھنسے رہے۔ نتھیاگلی‘ ڈونگا گلی اور ایویبہ کی سیر کے لئے آنے والوں پاس گاڑیوں کا ایندھن نہ رہا حتیٰ کہ موبائل فون کی بیٹریوں نے بھی کام چھوڑ دیا‘ جو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بذریعہ سماجی رابطہ کاری اکاونٹس صورتحال سے مطلع کرتے رہے لیکن اس دوران متعلقہ حکام کی سردمہری و بے حسی کا سورج سوا نیزے پر چمکتا رہا۔ ’جی ڈی اے‘ حکام نے ’خیبرپختونخوا ہائی وے اتھارٹی‘ کی درخواست پر باڑہ گلی سے نتھیاگلی اور ایویبہ تک کے راستوں کی صفائی کی تو اِس کا خوب چرچا کیا گیا لیکن محدود پیمانے پر ہونے والی اِن کوششوں اور جاری برفباری زیادہ بڑے پیمانے پر انتظامات کی متقاضی تھی۔ کیا متعلقہ حکام کو علم نہیں ہوتا کہ ہر سال گلیات میں برف پڑنے کے بعد‘ ذرائع ابلاغ پر برفباری کی خبریں نشر ہونے کے ساتھ ہی سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے لیکن نہ تو صوبائی حکومت کے ادارے اور نہ ہی ضلعی حکومتیں سیاحوں کی رہنمائی اور اُن کی شکایات کے ازالے کے لئے صف بستہ ہوتے ہیں۔ 

ایک عرصے سے گلیات کے لئے ’ٹورازم ایف ایم ریڈیو‘ اور سیاحوں کی گلیات میں داخلے کے موقع پر رجسٹریشن کی تجاویز دی جا رہی ہیں جو متعلقہ حکام کے سامنے زیرغور بھی ہیں لیکن چونکہ سہولیات کی فراہمی سے متعلق ایک جیسی ذمہ داری کے لئے ایک سے زیادہ ادارے فعال ہیں اِس لئے کوئی ایک حکومتی ادارہ اِسے اپنی ذمہ داری قرار نہیں دیتا۔ سیاحت کے فروغ کا ادارہ‘ گلیات کی ترقی کا ادارہ‘ شاہراؤں کی تعمیر و مرمت‘ توسیع اور اُنہیں سارا سال قابل استعمال رکھنے والا ادارہ اُور ضلعی حکومتیں اپنی اپنی جگہ موجود تو ہیں‘ ملازمین کی فوج ظفرموج بھی ہے اور ’’مراعات کی تقسیم‘‘ کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے لیکن اِس افرادی قوت اور وسائل کا عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات کم سے تعلق نہیں! پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نتھیاگلی سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور موسم گرما میں اُن کے لئے گوشۂ سکون یہی مقامات رہے حتی کہ اپنے صاحبزادوں کو سیروتفریح کروانے کے لئے بھی وہ گلیات اور شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں جبکہ اِن علاقوں میں سیاحوں کے لئے فراہم کردہ سہولیات (مقدار و معیار کے لحاظ سے) اُنہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان باریک بین نہیں وہ سرسری طور پر بڑے بڑے فیصلے اور حکم صادر کرنے میں اپنا ایک خاص مزاج کی بدولت جس کسی چیز کے بارے میں ایک مرتبہ رائے قائم کر لیں تو اُس سے رجوع نہیں کرتے اور نہ ہی مڑ کر دیکھتے ہیں! اُن کی سماعتوں کو بھلے لگنے والے اعدادوشمار بھی ’ذہنی تفریح و تسکین‘ کا ذریعہ ہیں اور ساڑھے چار سال کی حکومت میں افسرشاہی جان چکی ہے کہ ’خان صاحب‘ کو کس طرح مطمئن کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ برفباری کے دوران‘ خوش قسمتی رہی کہ گلیات میں کوئی بڑا ٹریفک حادثہ نہیں ہوا۔ چند ایک مقامات پر درجنوں گاڑیاں پھسلن کے باعث آپس میں ٹکرائیں جس سے مالی نقصانات ہوئے اور اگر شاہراہیں صاف کرنے کے بڑے پیمانے پر اور بروقت انتظامات کئے جاتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ برفباری دیکھنے کے لئے آنے والوں کو زیادہ لطف آتا اور اُن کے ساتھ اچھی یادیں واپس جاتیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی اُو) ایبٹ آباد ’اشفاق انور‘ کے مطابق پولیس کی اضافی نفری اور ٹریفک پولیس کے حکام تعینات کر دیئے گئے تھے‘‘ جس کا فائدہ یقیناًہوا لیکن سیاحوں کے ساتھ مقامی افراد اور گلیات سے جڑی رابطہ شاہراؤں (لنک روڈز) کئی مقامات پر تاحال بند ہیں‘ جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ صوبائی حکومت نے انقلابی اقدام کرتے ہوئے سرکل بکوٹ کی آٹھ یونین کونسلوں کو ’گلیات‘ میں شامل کر دیا ہے تاہم رابطہ شاہراؤں میں توسیع اور انہیں قابل استعمال رکھنے سے متعلق اعلانات (انتخابی وعدے) ہنوز پورے نہیں کئے جاسکے اور اگر تحریک انصاف سرکل بکوٹ پر مشتمل علاقوں کو الگ تحصیل کا درجہ دینے کا وعدہ پورا نہیں کرتی تو اِس کے نامزد انتخابی اُمیدواروں کو آئندہ عام انتخابات میں عوام کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جو گلیات کے چند علاقوں پر نظرکرم سے نالاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسی بنیادی ضرورت ہی کم سے کم فراہم کر دی جائے۔ 

عجب ہے کہ برطانوی راج کے ایک معاہدے کے تحت گلیات (خیبرپختونخوا) سے پینے کا پانی مری (پنجاب) کو فراہم (سپلائی) ہوتا ہے لیکن مقامی افراد اِس آب زلال سے محروم تھے‘ آج بھی محروم ہیں!
۔

Thursday, July 13, 2017

July 2017: Roundup: Political Situation of NA17

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
این اے سترہ: دانشمندانہ فیصلے!
منظرنامہ تبدیل ہے۔ قیام پاکستان کی جدوجہد سے لیکر ’مئی دوہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات تک کے سفر میں ’اہل ہزارہ‘ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے نسل در نسل منتقل ہونے والی ’حب الوطنی‘ کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں کے چہروں سے نقاب اُلٹا‘ اور ہزارہ سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی کے ساتھ ’سیاسی تبدیلی‘ کے پہلے مرحلے کو خوش اسلوبی سے طے کیا۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے موقع پر ’این اے سترہ‘ ایبٹ آباد ون‘ کی نشست بطور خاص مرکز نگاہ تھی‘ جہاں سے تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی کے جملہ محرکات میں نامزد اُمیدوار ’ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون‘ کی بے لوث سماجی و طبی خدمات‘ ہزارہ کے حقوق کے لئے ایک دہائی پر محیط سیاسی جدوجہد اُور جدون خاندان کا ’اَثرورسوخ‘ بھی شامل تھا‘ جس کی بدولت مسلم لیگ (نواز) کے 69 ہزار 568 ووٹوں کے مقابلے ڈاکٹر اظہر نے 96 ہزار 185 ووٹ حاصل کرکے ایک ایسی تاریخی کامیابی حاصل کی‘ جس کی پورے ہزارہ ڈویژن میں مثال نہیں تھی اُور یہ فتح صرف انتخابی کامیابی کی حد تک ہی محدود نہ سمجھی جائے بلکہ اُس وقت مسلم لیگ (نواز) کی ہزارہ سیاست سے پاؤں اکھاڑ دیئے گئے تھے۔ اے کاش کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت چار سالہ دور میں ’این اے سترہ‘ پر حاصل انتخابی کامیابی کی اہمیت کا ادراک کر سکتی اور اِس نشست سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پر اگر مقامی کارکنوں کو خاطرخواہ اہمیت دیتی‘ تنظیم سازی اور ترقیاتی حکمت عملی میں ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے تحریک کے ’سیاسی مستقبل‘ کو مدنظر رکھا جاتا تو آج صورتحال زیادہ موافق ہوتی! جون دوہزار چودہ میں ہوئے صوبائی اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخابی مرحلے میں اگر کسی مقامی اُمیدوار کو تحریک نامزد کرتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ مسلم لیگ (نواز) کو آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل سرکل بکوٹ کے اِس اہم حلقے پھر سے پاؤں جمانے کا موقع مل سکتا!

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے مشتاق احمد غنی (پی کے چوالیس)‘ قلندر خان لودھی (پی کے چھیالیس)‘ سردار ادریس (پی کے اڑتالیس) اُور ڈاکٹر اظہر جدون (این اے سترہ) نے نہایت ہی رازداری سے ایسی حکمت عملی اختیار کی‘ جس کی وجہ سے ’تحریک انصاف‘ کی مخالفت کے آگے بند باندھنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور اِسی ’’حکمت عملی کا ثمر‘‘ تھا کہ مئی دوہزار پندرہ میں ہوئے یہاں سے ’بلدیاتی انتخابات‘ کے نتائج تحریک انصاف کے حق میں رہے لیکن واضح برتری کے باوجود اگر تحریک انصاف تاحال اپنی ضلعی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو اِس کے درپردہ سازشوں میں ’بدنیتی‘ سیاسی مخالفت (غیرجمہوری روئیوں)‘ کے سوأ کوئی دوسرا محرک کارفرما نہیں۔ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ’ایبٹ آباد‘ کو بھی اِس ’’جرم‘‘ کے لئے سزا دی گئی کہ اِس نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات اور بعدازاں مئی دوہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ کیوں دیا!

تحریک انصاف کے خلاف ضلع ایبٹ آباد میں سازشوں کی کمی نہیں اور اِس بات کا کماحقہ ادراک مرکزی و صوبائی قیادت کو کرنا ہوگا کہ اگر اُنہوں نے آئندہ عام انتخابات میں ایبٹ آباد کے کسی ایک بھی حلقے سے غیرمقامی اُمیدوار نامزد کیا تو انتخابی معرکے میں شکست ملے گی۔ عیدالفطر کے فوراً بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے منسوب یہ بیان تحریک انصاف کے کارکنوں میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کہ ’’وہ بذات خود ’این اے سترہ‘ کے لئے اُمیدوار ہیں!‘‘ ماضی میں ایسے ہی یک طرفہ اور غلط فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف ہزارہ بلکہ دیگر اضلاع میں تحریک انصاف کو انتخابی شکست ہوئی جیسا کہ ’این اے ون‘ اور ’پی کے پینتالیس‘ کی مثالوں (حاصل نتائج) سے عیاں ہے!

تحریک انصاف کی مخالف سیاسی قوتیں پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور بالخصوص جوں جوں ’پانامہ کیس‘ اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ رہا ہے‘ تحریک مخالف ’اِنتخابی اتحاد‘ بن رہے ہیں! سیاسی بصیرت‘ دانشمندی اور موجودہ نازک گھڑی میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور خوب تول کر بولنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت آئندہ عام انتخابات سے متعلق قبل ازوقت بیانات نہ دے کیونکہ بیانات سے مخالفین کو منصوبہ بندی اور پیش بندی کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ غیرضروری بیانات داغنے سے مقامی کارکنوں اور قیادت پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ تحریک کے قائد سے منسوب بیان کا سیاق و سباق مقامی قیادت کو معلوم نہیں ہوتا اور بیانات کا دفاع یا وضاحت کرتے ہوئے غلطی کا اندیشہ رہتا ہے۔ دوئم انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کئے بناء کوئی بھی ایسا فیصلہ صادر نہ کیا جائے‘ جس سے بعدازاں رجوع کرنا پڑے۔ سوئم کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اثاثہ اُس کے کارکن ہوتے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں تحریک انصاف کی تنظیم سازی مکمل کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے۔ خواتین نوجوانوں اُور رضاکاروں کی منظم و فعال تنظیمیں ہی آئندہ عام انتخابات میں کارآمد و کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر تحریک انصاف اب انتخابی تیاریاں شروع نہیں کرتی تو یہ کب کرے گی؟ چوتھی ضرورت یہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد کی سطح پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور نمائندہ اداروں (پریس کلبس اور یونین) کے درمیان دھڑے بندیاں ختم کرنے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کردار ادا کرے‘ کیونکہ اِس دھڑے بندیوں کا بھرپور فائدہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین اُٹھا رہے ہیں اور بالخصوص مقامی اخبارات کو ’منفی پراپگنڈے‘ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

خیبرپختونخوا حکومت کے پاس مالی وسائل بھی ہیں اور ایسے آئینی اختیارات بھی جن کے ذریعے ’پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا‘ کی پیشہ ورانہ اِستعداد میں اضافہ اور وقتی مفادات پر مبنی سوچ کی اصلاح ممکن ہے۔ پریس کلبوں اور یونین سے غیرمتعلقہ افراد کا اخراج‘ صحافت کی اہمیت اور شعور اُجاگر کرنے سے باآسانی ممکن ہے۔ افراد کی بجائے اگر اداروں کو مضبوط کیا جائے تو اس سے نہ صرف تحریک انصاف کو وقتی فائدہ ہوگا بلکہ جمہوریت کے لئے بھی یہی نیک شگون ہے کہ ’’جرائم‘ سیاست اور صحافت‘‘ کے درمیان گٹھ جوڑ ختم کیا جائے۔ غیرجانبدار اُور غیرسیاسی میڈیا کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ سبھی کے مفاد میں ہے۔ سوشل میڈیا پر اِنحصار کرنے والی ’تحریک اِنصاف‘ دیگر ہم عصروں سے پہل کرتے ہوئے جماعتی سرگرمیوں پر مبنی اخبار اور ٹیلی ویژن چینل بھی متعارف کرا سکتی ہے جس سے غیرمصدقہ بیانات اور اِن کی آڑ میں سازشیں کرنے والوں کا مقابلہ اور توڑ کیا جاسکتا ہے۔ وقت ہے کہ انتخابات کی بجائے سیاست میں سرمایہ کاری کی جائے۔ 

ایبٹ آباد کے مقامی سیاسی حالات‘ خاندانوں کے اثرورسوخ اور تحریک انصاف کے موجودہ منتخب نمائندوں (مشتاق غنی‘ قلندر لودھی‘ سردار ادریس اُور ڈاکٹر اظہر) کی دامے درہمے سخنے کوششوں کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے پاس ’غلطی کی گنجائش‘ نہیں رہی اور اگر ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی ’جذباتی اُور مزید غلط فیصلے‘ کئے گئے تو تحریک انصاف کم سے کم ایبٹ آباد کی سطح پر آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کا ’نادر موقع‘ ہمیشہ کے گنوا دے گی۔
Reasons why Imran Khan should not context election from NA-17 Abbottabad I in upcoming Geenral Elections

Thursday, June 29, 2017

June2017: Tourism on Eid


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
عید شہید!

موسم گرما کی شدت اُور گرفت سے چند روزہ سکون کی تلاش میں خیبرپختونخوا سمیت ملک کے میدانی علاقوں سے پہاڑوں کا رخ کرنے والے ’’تہوار اُور تعطیلات‘‘ کے ہر ایک پل سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف ’سیاحتی سیزن‘ کا اِنتظار کرنے والے مقامی افراد کے لئے ہر سال ’اپریل سے اگست (چار ماہ عروج)‘ کا عرصہ‘ روزگار کا ذریعہ بھی ہے تاہم ’سیاحتی ترقی‘ منصوبہ بندی اُور سہولیات‘ کا موازنہ اَگر صوبہ پنجاب سے کیا جائے تو خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر قیام و طعام (اِنفراسٹکچر)‘ اِن مقامات تک رسائی کے راستے (روڈ نیٹ ورکس)‘ ذرائع آمدورفت (پبلک ٹرانسپورٹ) اُور رہنمائی کی سہولیات کے معیار میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر صوبوں سے آئے ’مہمان سیاحوں‘ کے نکتۂ نظر سے بالائی خیبرپختونخوا (گلیات‘ کاغان‘ ناران‘ سوات تا کالام اُور چترال کی وادیوں) کا ’قدرتی (فطرتی) حسن اُور آب و ہوا‘ ملک کے دیگر صوبوں حتیٰ کہ یورپی ممالک سے بھی بہتر ہے تاہم ’سیاحت بطور صنعت‘ متعارف کرانے‘ نجی شعبے کے مدد سے بہتری کی گنجائش اُور تعمیروترقی کے لاتعداد اِمکانات کو ترقی دی جاسکتی ہے‘ جس کے لئے مالی وسائل سے زیادہ فیصلہ سازوں کے سنجیدہ روئیوں اُور مربوط ترقی کی جامع حکمت عملی وضع کرنے میں متعلقہ شعبے کے ماہرین سمیت ہر مکتب فکر سے مشاورت ہونی چاہئے۔ 

فوری اِصلاحات کے لئے ’ملکی و غیرملکی سیاحوں کی رائے (فیڈبیک)‘ سب سے زیادہ کارآمد‘ قابل بھروسہ (مؤثر) ذریعہ ہوسکتا ہے‘ جس کے لئے سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا)‘ اِینڈرائرڈ اُور دیگر سسٹمز پر چلنے والی اَیپ (سافٹ وئرز)‘ جی پی ایس نقشے‘ آئی وی آر (Interactive Voice Response) سے جڑے ٹول فری (toll-free) نمبر‘ لمحہ بہ لمحہ ٹریفک صورتحال‘ سیاحتی رہنمائی اُور موسمی معلومات کے لئے ’ایف ایم‘ ریڈیو نشریات متعارف کی جا سکتی ہیں جبکہ سیاحتی مقامات کے بارے میں ایسا ’تعارفی لٹریچر‘ بھی تخلیق کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے کسی خاص علاقے میں جنگلات و جنگی حیات کی خوراک‘ ماحولیاتی تنوع میں اُن کی اہمیت‘ مزاج (حفاظتی اُور بقاء کے نکتۂ نظر سے پسندوناپسند)‘ عمومی کھانے پینے و دیگر عادات و خصوصیات کے بارے تفصیلات (رہنما اَصول) عام کی جا سکتی ہیں جس سے ماحول شناسی اُور ہم زمین جانداروں کے بارے میں معلومات ذہن نشین ہوتی چلی جائیں گی اُور سیاحت کا ’تفریحی عمل‘ زیادہ جامع (بامقصد) بن جائے گا۔ تصور کیجئے کہ سیروتفریح کے آنے والوں کو اگر باتوں باتوں‘ قصے کہانیوں‘ راستوں کی رہنمائی کرتے ہوئے درختوں‘ چرند پرند‘ جڑی بوٹیوں‘ موسمی درجۂ حرارت اور انہیں دیگر معلومات منتقل کی جائیں تو اِس (multi-tasking) میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ 

سیاحوں کی رجسٹریشن‘ ہنگامی حالات میں علاج معالجے کی اِضافی (الگ سے) سہولیات کا بندوبست اُور گاڑیوں کے لئے گشتی ورکشاپیں بھی چند ایسی ضروریات ہیں‘ جن کی کمی اُن سبھی سیاحوں کو زیادہ شدت (بلکہ حیرت) سے محسوس ہوتی ہے‘ جو پہلی مرتبہ یا باقاعدگی سے ’سیاحتی سیزن‘ کے دوران ہر سال خیبرپختونخوا کا رُخ کرتے ہیں‘ جہاں گذشتہ چار سال سے ’تحریک اِنصاف‘ کی حکومت ہے لیکن حسب وعدہ ’نیا پاکستان (تبدیلی)‘ دِکھائی نہیں دے رہا! تو کیا ہم سب اَندھے ہو چکے ہیں یا سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اِس زعم (خودفریبی) میں مبتلا ہیں کہ اِقتدار دائمی ہوتا ہے! ’’کر رہا تھا غم جہاں کا حساب۔۔۔آج تم یاد بے حساب آئے (فیض اَحمد فیضؔ )۔‘‘

Sunday, June 25, 2017

June2017: Commercialization Policy of KP need a revision!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
گلیات: حسن اِنتخاب!
وقت گویا رُک سا گیا ہے۔ ایک جیسے اقدامات سے متعلق بیانات بطور ’یاد دہانی‘ حرج (مضائقہ) نہیں لیکن برسرزمین حقائق میں تبدیلی کے اہداف حقیقی اُور قابل عمل ہونے چاہیءں۔ یادش بخیر ’’سولہ اکتوبر دوہزار پندرہ‘‘ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک ایسی ویب سائٹ (website) کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہیں‘ جس کے ذریعے کوئی بھی پاکستانی خیبرپختونخوا کی ملکیت ’ریسٹ ہاؤسیز‘ میں قیام و طعام کر سکے گا۔ یہ ایک انقلابی اقدام تھا جس میں ’عوام و خواص‘ کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اُن ’نوگو ایریاز‘ کے دروازے عوام کے لئے کھول دیئے گئے‘ جن پر صرف اور صرف ’صاحبان اقتدار واختیار‘ قابض چلے آ رہے تھے۔ اِس سلسلے میں منعقدہ تقریب حافظے میں محفوظ ہے جب نتھیاگلی کے ’ریٹریٹ ہاؤس‘ میں صوبائی حکومت کے وہ سبھی مرکزی کردار اور تحریک انصاف کے مرکزی قائدین بہ نفس نفیس موجود تھے جو نتھیاگلی آنے (وزٹ) کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے! اِس ماشاء اللہ تقریب میں 15عدد ریسٹ ہاؤسیز کو ’ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا‘ کے حوالے کرنے کا باضابطہ اعلان کیاگیا تھا۔ اِس پیشرفت کو ذہن میں رکھتے ہوئے پھر سے نتھیاگلی کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ رواں ہفتے (تیئس جون دوہزار سترہ) خیبرپختونخوا کی ’کمرشلائزیشن پالیسی‘ کے تحت ’پہلے مرحلے میں‘ ضلع ایبٹ آباد کے پرفضا بالائی علاقوں (گلیات) کے ’پندرہ ریسٹ ہاؤسیز‘ کو ’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے)‘ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ یہ پندرہ ’ریسٹ ہاؤسیز‘ 13 صوبائی محکموں کے رحم و کرم پر رہے‘ جہاں قیام پاکستان سے ’اَفسرشاہی (اَعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین) اُور اُن کے اہل و عیال‘ گرمیوں کا موسم ٹھاٹھ باٹھ سے گزارتے۔ صرف ایک مثال سے اِس پورے منظرنامے کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ نتھیاگلی میں ’16 کنال رقبے‘ پر پولیس ریسٹ ہاؤس میں کل 6کمرے (تین ڈیلکس اور تین ڈبل بیڈ رومز) ہیں۔ برطانوی راج کے دوران تعمیر کئے گئے اِس ریسٹ ہاؤس کا نام ’روکنگھم ہاؤس (Rockingham House)‘ تھا‘ جسے قیام پاکستان (1947ء) کے بعد تبدیل کرکے ’آئی جی پی ہاؤس‘ اُور بعداَزاں ’پولیس ریسٹ ہاؤس‘ کہا جانے لگا۔ یاد رہے کہ نتھیاگلی میں ایک کنال اراضی کی قیمت تین سے چار کروڑ روپے ہے اور تعمیراتی اخراجات الگ سے میدانی علاقوں کے مقابلے ہزار گنا زیادہ آتے ہیں۔

حسن اِنتخاب نے دلچسپ صورتحال کو جنم دیا ہے۔ تحریک اِنصاف کی مرکزی قیادت اُور موجودہ خیبرپختونخوا (صوبائی) حکومت کی ’نظرکرم‘ گویا ’گلیات‘ پر ٹک (رُک) گئی ہے! یہ بات اب تو خبر بھی نہیں رہی کہ چیئرمین عمران خان اُور مرکزی قائدین نے ’نتھیاگلی‘ میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں‘ جہاں پارٹی میں شمولیت کرنے والی سیاسی شخصیات کو بھی مدعو اور دعوتوں کا اہتمام ایک معمول بن چکا ہے لیکن نہ تو حکمرانوں کے معمولات بدلے ہیں اور نہ ہی گلیات کے حالات! جہاں کے مقامی افراد کے لئے ماضی و حال تبدیل نہیں ہوا۔ سرکاری وسائل سے اگر کبھی ’’جنگل میں منگل‘‘ افسرشاہی کے دم کرم سے ہوا کرتا تھا تو اَب خوشگوار موسم میں ’اِنجوائے (enjoy)‘ کرنے والے سیاست دان ہیں۔ گلیات کے رہنے والے اِس خدشے کا برملا اِظہار کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت ’کمرشل ائزیشن‘ کے نام اُن قیمتی اثاثوں کو اُونے پونے داموں فروخت کردے گی اور اِس مرتبہ تحریک انصاف کے مرکزی قائدین دیگر مختلف ناموں سے ’ریسٹ ہاؤسیز‘ کے مالک بن جائیں گے! خاکم بدہن ایسی تبدیلی نہ سنی نہ کہیں دیکھی! نتھیاگلی اُور ملحقہ علاقوں میں تجاوزات کے خلاف مہمات پر مقامی افراد کا اِحتجاج جاری ہے جبکہ صوبائی حکومت نے ایک مرتبہ پھر اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بڑی بڑی گاڑیوں میں سیر کے لئے آنے والوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے گلیات کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا۔ مضحکہ خیز صورتحال یہ ہے کہ ایبٹ آباد سے نتھیاگلی تجاوزات کا شمار ممکن نہیں لیکن نتھیاگلی سے صوبہ پنجاب کی حدود‘ خیرا گلی تک ترقی کا عمل اور حکومتی اداروں کی توجہ دیدنی ہے۔ ایبٹ آباد میں تجاوزات اور سڑکوں کی حالت نتھیاگلی کے سوفیصد برعکس ہے۔ اگر سیاحت کی ترقی ہی مطلوب و مقصود ہوتی تو تعمیروترقی‘ تجاوزات کا خاتمہ اور سیاحوں کے لئے رہنمائی و سہولیات کی فراہمی چار مرحلوں میں پائیدار و مربوط کی جا سکتی تھی۔ رابطہ شاہراہیں اور بائی پاس بنائے جا سکتے تھے۔ پہلا مرحلہ ہری پور سے حویلیاں‘ دوسرے مرحلے میں ایبٹ آباد تیسرے مرحلے میں ایبٹ آباد سے گلیات اور چوتھے مرحلے میں گلیات بشمول سرکل بکوٹ (پی کے پینتالیس) پر توجہ دی جاتی جس سے سیاحت کا فروغ بھی ہوتا اور روزگار کے نئے مواقعوں کی وجہ سے مقامی افراد کی زندگیاں بھی آسان ہوتیں۔ گلیات کی ’جنت نظیر وادیوں‘ میں رہنے والے رابطہ شاہراؤں کی خستہ حالی‘ علاج معالجے‘ تعلیم‘ پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولیات اور پائیدار روزگار سے محروم ہیں۔ قومی اسمبلی کے دو اُور صوبائی اسمبلی کے دو اِنتخابی حلقوں میں تقسیم ’بالائی ضلع ایبٹ آباد‘ پر تیس سال تک ماضی کے حکمرانوں نے یہاں کے رہنے والوں کو محروم اور محکوم بھی رکھا۔ گلیات سے سیاسی تعصبات کا خاتمہ اُور تعمیروترقی کے عمل میں مقامی بلدیاتی نمائندوں کی مشاورت بھی شامل ہونی چاہئے۔

حکومتی ’ریسٹ ہاؤسیز‘ کی نجکاری (کمرشل ائزیشن) ’سونے کے اَنڈے دینے والی مرغی ذبح‘ کرنے کے مترداف عمل ہوگا۔ دنیا میں کہیں بھی سیاحتی مقامات صرف اُور صرف سرمایہ دار‘ بااثر اُور سیاسی شخصیات کی آسائش و سکون کے مراکز نہیں ہوتے بلکہ حکومت متوسط طبقات کے لئے بھی معیاری تفریح کے مواقع اور اِمکانات ذہن میں رکھتی ہے۔ کیا کوئی ایسی مثال موجود ہے جس میں خیبرپختونخوا میں موسم گرم کی شدت والے میدانی علاقوں سے سرکاری سکولوں کے بچوں کو چند ہفتے گلیات کی سیر کرائی جائے؟ پشاور یونیورسٹی کے ’باڑہ گلی کیمپس‘ پر مستقل بنیادوں پر اساتذہ و انتظامیہ ڈیرے ڈالے رہتی ہے‘ جہاں طلباء و طالبات کو چند روز کے لئے مدعو کرنے جیسی ’سخاوت (فراخدالی)‘ کے مظاہرے پر لاکھوں روپے خرچ کرنا ایک ایسا معمول (بدعت حسنہ اور بدعنوانی) ہے‘ (تعجب ہے کہ) اِس جانب صوبائی حکومت تاحال متوجہ نہیں ہوئی۔ گلیات میں ’عیاشی کے اڈے‘ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مقامی اَفراد خاموش تماشائی بنے وہ سب کچھ ’سہتے‘ ہیں جو نہ تو علاقے اُور نہ ہی اسلامی روایات (تعلیمات) کا حصہ ہیں! گلیات کی خوبصورتی اُور موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے تشریف لانے والوں کو تصور بھی نہیں ہوتا کہ اِن علاقوں میں مقامی اَفراد بھی رہتے ہیں‘ جن کے ہاں بیماری‘ ماتم‘ سوگ یا غم کا ماحول بھی ہوسکتا ہے۔ بلند آواز میں موسیقی‘ سرعام رقص و سرور کی محفلیں یا کھانے پینے کی اَشیاء کے خالی ڈبے‘ گندگی (کوڑاکرکٹ) پھیلانے سے گلیات کی مقامی اَفراد اُور جنگی حیات کے ’معمولات زندگی‘ بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ سیاحت کا شوق کرنے والوں کے لئے رہنما اصول‘ شعور‘ رہنمائی‘ پردے اور حدودوقیود کی پابندی و اِحترام کے حوالے سے بھی ضروریات کا اِدراک و اِحساس ہونا چاہئے۔

Sunday, September 11, 2016

Sept2016: Global Warming & Warning ignored!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
موسمیاتی مزاج: تجاہل عارفانہ!


’موسمیاتی تبدیلی‘ سے متاثرہ دنیا کے پہلے دس ممالک کی صف میں شامل ہونا کسی بھی صورت ’’اعزاز‘‘ کی بات نہیں اور نہ ہی یہ اِس قدر معمولی یا عمومی پیشرفت ہے کہ اس پر فکرمندی کا اظہار نہ کیا جائے لیکن کیا ہمارے فیصلہ سازوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں جبکہ اُن کے ماتھے پر شکنیں اور لب و لہجے سے تشویش عیاں نہیں اور وہ معاملے کی سنگینی کا خاطرخواہ احساس و ادراک نہیں کر رہے! پوری قوم کی توجہ سیاسی مخالفت اور بیان بازی پر مرکوز کرنے والوں سے کوئی نہیں پوچھ رہا کہ جس کام کے لئے آپ جناب منتخب ہوئے‘ وزارتوں کے قلمدان‘ اختیارات اور مراعات حاصل کیں‘ آخر ان عہدوں سے جڑی ذمہ داریاں کس کی ذمہ داری ہیں!؟ ایوان بالا (سینیٹ) میں پیش کردہ ماحول سے متعلق ’عالمی رپورٹ‘ پورے پاکستان کی توجہات کا مرکز ہونی چاہئے جس میں برسرزمین حقائق کے بیان پر مبنی پیشنگوئی کی گئی ہے کہ ’’موجودہ صدی کے آخر تک ’عالمی درجہ حرارت‘ کم سے کم چار سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا خدشہ ہے (اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو) اِس سے سیلاب‘ غیرمعمولی شدت کے طوفان‘ خشک سالی اور گرمی میں اضافہ ہو گا۔‘‘ توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے والے پاکستان جیسے ملک کے لئے ’موسمیاتی مزاج‘ میں اِس انتہاء کے ردوبدل کو معمولی یا معمول نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اگر موسمی درجۂ حرارت تبدیل ہونے کی وجہ سے ماہرین جن خدشات کا اظہار کر رہے ہیں اُن کا ظہور ہو جاتا ہے تو (خدانخواستہ) پاکستان کا شمار ماحول سے متاثرہ ممالک کی فہرست کے ابتدائی تین ممالک میں ہونے لگے گا! کیا ہم اُس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب غلطیاں درست کرنے کا موقع (مہلت) بھی ہاتھ سے جاتا رہے؟


وزارت موسمیات کی جاری کردہ رپورٹ کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہمارے سیاسی فیصلہ سازوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں‘ جو سردست موسمیاتی تبدیلیوں سے لاتعلق تجاہل عارفانہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ ہمارے ہاں خطیر سرمائے سے ماحول اُور سیاحت کی ترقی کے نام پر درخت کاٹے جاتے ہیں! اُور پھر اُنہی علاقوں میں نئے درخت لگانے پر اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں! گلیات (ہزارہ ڈویژن کے صدر مقام ایبٹ آباد کے بالائی علاقوں) کی خوبصورتی کے لئے ’خاص منصوبہ (حکمت عملی)‘ فخریہ انداز میں پیش کی گئی ہے حالانکہ ’گلیات‘ کی اپنی خوبصورتی میں کسی ایسے اضافے کی قطعی کوئی ضرورت حاجت یا گنجائش نہیں تھی‘ جس پر ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ کیا جاتا! ایبٹ آباد سے گلیات کے راستے خیبرپختونخوا کے آخری کونے تک جس قدر کشادہ اور ڈیزائن کی خوبیوں سے مزین تعمیراتی شاہکار (شاہراہیں) تخلیق کی گئیں ہیں‘ انہیں عملاً ممکن بنانے کے لئے درختوں کی کٹائی کے عینی شاہد بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں! یہ سب اِس لئے ہوا‘ کیونکہ سرمایہ دار ’فور بائی فور‘ موٹے ٹائروں والی ایسی گاڑیوں کے مالک ہیں جن میں سفر کا لطف ہی تب آتا ہے جب گاڑی پوری رفتار سے پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر فراٹے بھرے! 

سیاحتی مقامات پر عام آدمی کے لئے سستے داموں قیام و طعام کی سہولیات معیار و مقدار کے لحاظ سے ناکافی تھیں اور آج بھی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی! 

سیاحت کی ترقی ایک ہدف لیکن اِسے حاصل کرنے کے لئے ایک سے زیادہ حکومتی ادارے وسائل کا ضیاع ہیں! افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ جس بے دردی سے ہمارے ہاں جنگلات کا صفایا کیا گیا اور اب بھی ہو رہا ہے‘ اُس بارے غوروخوض نہیں کیا جا رہا! آبی وسائل میں کمی اور دستیاب آبی وسائل کا غیرسائنسی یا بے دردی سے استعمال الگ سے توجہ طلب ہے۔ زراعت (آبپاشی) اُور شہری و دیہی علاقوں میں گھریلو و صنعتی ضروریات کے لئے پانی کی قلت دور کرنے کے لئے ’نیشنل ایکشن پلان‘ جیسا ہنگامی لائحہ عمل ترتیب دینا چاہئے‘ جس میں چاروں صوبوں اور ہر سرکاری ادارے کے لئے ایسی ’ٹائم لائن (کارکردگی کے اہداف مقرر اور)‘ مرتب کئے جائیں‘ جو ’’ماحول دوست‘‘ عملی اقدامات سے متعلق ہوں۔ قومی سطح پر ’ماحول دوستی‘ نصاب کا حصہ ہونی چاہئے جسے عام کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ سے استفادہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے عوامل کم کرنے یا اُن سے نمٹنے کی تدابیر (پالیسی) وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ماحول کا خیال رکھنے کے لئے صنعتوں کی حد تک کچھ قانون یا قواعد موجود ہیں تو ان کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر فوری یا کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا کیونکہ اِن کے مالک بااثر ہیں اُور ہمارے ہاں جو جتنا بااثر ہوتا ہے وہ اُتنا ہی قانون شکنی کو اپنا استحقاق سمجھتا ہے! کیا یہ بات ہر خاص و عام نے نوٹ نہیں کی کہ گذشتہ چند برس سے پاکستان میں موسم سرما کا دورانیہ کم اور موسم گرما کے مہینے شدت کے ساتھ بڑھ رہے ہیں؟ برسات (مون سون) کی بارشیں مقررہ اُوقات پر یا تو نہیں ہوتیں یا پھر بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ 

گرمی کی شدت ہی ہے جس سے برفانی تودے (گلیشئرز) کے پگھلنے کا عمل تیز ہو رہا ہے‘ جس کی وجہ سے بارش کے موسم میں سیلابوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماضی میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں برفانی اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما نہیں ہوئے جس قدر رواں سال جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے دریاؤں کا پانی روکنے کے باعث سندھ اور پنجاب میں زرعی اراضی بنجر ہو رہی ہے۔ اِن ناموافق حالات میں حکومت کو جملہ خطرات سے بچنے کے لئے ٹھوس (جامع) ’’قومی ماحولیاتی پالیسی‘‘ تیار کرنا ہو گی‘ تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی دستک اُور اُن کی پوری شدت سے ٹکرانے کا انتظار کرنے کی بجائے ہنگامی حالات (ایمرجنسی) سے نمٹنے کی خاطرخواہ تیاری اور ماحول کا توازن بگاڑنے والی غلطیوں کا ازالہ کیا جاسکے اُور یہی واحد صورت ہے جس میں ماحول دشمن روئیوں اور اقدامات کی اصلاح کے ذریعے موسمیاتی منفی اثرات سے ممکنہ حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, May 22, 2016

May2016: Forest, development, tourism & Galliyat

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
گلیات: ناپائیدار ترقی!
لگتا ہے جیسے وقت ہی ٹھہر گیا ہو۔ زیربحث موضوع ’’سطحی منصوبہ بندی اُور رازدارانہ عملی اقدامات کے سبب پیدا ہونے والی ’لاتعداد مستقل مشکلات‘ ہیں‘ جن سے متعلق چند پہلو ’اکیس مئی‘ کے روز شائع ہونے والے کالم میں بطور ’ابتدائیہ‘ پیش کرنے کا بنیادی مقصد اِس بات پر زور دینا ہے کہ پشاور میں حکومت کی ’ناک کے نیچے‘ بیٹھ کر کاغذوں پر کارکردگی دکھانے والوں سے بازپرس کی جائے کہ وہ حکمرانوں کے ’کان پیچھے‘ کیا گل کھلا رہے ہیں کیونکہ جہاں کہیں سیاحوں یا مقامی آبادی کو مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ متعلقہ حکومتی اداروں (سیکرٹری یا دیگر انتظامی نگرانوں) کو نہیں بلکہ براہ راست ’تحریک انصاف‘ کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں‘ یوں گلیات کی خوبصورتی‘ جنگلات کے تحفظ‘ سیاحوں کے لئے سہولیات‘ شاہراؤں کی توسیع و مرمت اور بہتری و اصلاح پر اب تک اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی اگر صوبائی حکومت کے حصے میں لعن طعن آ رہی ہے تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت صوبائی کابینہ کے لئے یہ مرحلہ سنجیدہ سوچ بچار کے ساتھ آستینوں میں جھانکنے کا ہے!

سیاحتی سیزن شروع ہوئے ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں کہ گلیات کے رہنے والے مقامی افراد نے احتجاج کی دھمکی دی ہے جن کا مطالبہ ہے کہ ’’1904ء میں برطانوی راج کے دوران مقرر کی گئی جنگلات کی حدود پر نظرثانی کی جائے اور جن مقامی افراد کے پاس محکمۂ مال سے تصدیق شدہ جائیداد کی ملکیت کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں اُنہیں حسب رقبہ اراضی فراہم کی جائے کیونکہ اگر ایسا ذاتی ملکیت پر مشتمل اراضی کا رقبہ ’اندھا دھند اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے‘ جنگلات کی حدود سے دھکیل کر باہر کردیا جاتا ہے تو جس شخص کے پاس ملکیت کے کاغذات ہے وہ اپنا رقبہ جنگلات کی حدود کے باہر سے پورا کرنے کی کوشش کرے گا اور اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اراضی کی ملکیت کے تنازعات زیادہ شدت سے سراُٹھانے لگیں۔ گلیات کا علاقہ جو نسبتاً پرامن اور محفوظ ترین تصور ہوتا ہے‘ اگر مقامی افراد کے آپسی جھگڑوں سے یہاں کا سکون غارت ہوتا ہے تو اِس کا لامحالہ منفی اثر ’سیاحت‘ پر بھی پڑے گا۔‘‘

ضلع ایبٹ آباد کی یونین کونسل نتھیاگلی کے تحصیل کونسلر سردار راحیل جنگلات کی حدود بندی سے پیدا ہونے والی صورتحال اور مقامی افراد کے تحفظات و غیض و غضب کی قیادت کر رہے ہیں۔ اِس پینتالیس سالہ بلدیاتی نمائندے کا تعلق سیاسی و نظریاتی طور پر جماعت اسلامی سے ہے لیکن انہوں نے آزاد حیثیت میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیکر تحریک انصاف جیسی مضبوط قوت کے مقابلے اپنی سماجی حیثیت و مقبولیت کا لوہا منوایا۔ منطق اُور دلائل کی بنیاد پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی خداداد صلاحیت کے مالک سردار راحیل کا مؤقف ہے کہ ’’ 1904ء میں کئے گئے سروے پر اکتفا کرنے کی بجائے حکومت ایک نیا سروے کرے جس میں محکمہ مال (ریونیو) کے حکام بھی شریک ہوں تاکہ جہاں کہیں جنگلات کی حدود متنازعہ ہے اُسے مقامی افراد کے پاس ملکیتی دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں حل کیا جاسکے کیونکہ اگر گلیات کے کسی بھی گاؤں سے اہل علاقہ کو بیدخل کیا جاتا ہے تو اِس سے بڑی ناانصافی کوئی دوسری نہیں ہوسکتی۔ضلع اَیبٹ آباد کے بالائی علاقوں (گلیات یا گیلیز) میں تجاوزات کے خلاف کاروائی اُور جنگلات کی حدود کے تعین سے پیدا ہونے والی صورتحال سے جنت نظیر وادیوں کے رہائشی (مقامی آبادی) اگر مشکلات سے دوچار ہے تو اِس مسئلے کا حل افہام و تفہیم سے ممکن ہے۔‘‘ یاد رہے کہ برطانوی راج کے دوران سال 1904ء میں جنگلات کے مذکورہ سروے کے دوران صرف حدود کا تعین ہی نہیں کیا گیا تھا بلکہ مقامی افراد کے حقوق کا تحفظ بھی کیا گیا تھا جس میں جنگلات سے ایندھن کے حصول اور بطور چارہ گاہ استعمال کی اجازت دی گئی تھی لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے کم و بیش چالیس ہزار ایکڑ پر پھیلے وسیع و عریض جنگلات کی حدود کا تعین کرتے ہوئے مقامی افراد سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے کہ وہ موسم گرما کے دوران جنگلات میں اپنی رہائش قائم کر لیا کریں جیسا کہ مقامی روایات کے مطابق ایک عرصے سے یہ رسم جاری رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے جی پی ایس (خلأ سے حاصل کردہ تصاویر اور جی پی ایس کے کورآڈینیٹس) کے ذریعے حدود کا تعین کیا جارہا ہے اور یہ طریقۂ کار مقامی افراد کی سمجھ بوجھ سے بالاتر طریقہ ہے جو متقاضی ہیں کہ اراضی کے رقبے کو مروجہ قواعد یعنی جریب‘ کنال و مرلے کے حساب سے پیمائش ہونا چاہئے۔‘‘ بلاشک و شبہ مقامی افراد جنگلات کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور اِن کی حفاظت بارے اُن کے نظریات کہیں زیادہ ’ماہرانہ‘ اُور معنی و مفہوم کے لحاظ سے ’گہرے بھی ہیں اور دلچسپ بھی۔ جنہوں نے غیرقانونی جنگلات کاٹے وہ ماضی و حال میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے اور ایسے افراد کا حسب حال احتساب نہیں ہوسکا یقیناًجنگل کسی ایک قوم یا ادارے کا نہیں ہوتا بلکہ وہ سب کا ہوتا ہے بالخصوص ایسے قبائل جن کا گزر بسر ہی نہیں بلکہ پوری معیشت و معاشرت کا انحصار جنگلات پر رہا ہو‘ اگر اُن کے سروں سے درختوں کا سایہ چھن جائے تو بے سروسامانی کی حالت میں وہ کہاں جائیں گے!؟ نتھیاگلی کے مرکزی بازار اُور ملحقہ علاقوں میں کم وبیش تین سال قبل تجاوزات کے خلاف آپریشن (کاروائی) سے یہاں تعمیروترقی اور توسیع کے نام پر آج بھی دھول اُڑتی دکھائی دیتی ہے۔ مقامی افراد نے (اپنی مدد آپ کے تحت) بڑی حد تک حالات کو سنبھال لیا ہے اور اُمید ہے کہ اِس سال موسم گرما میں سیاحوں کی آمدورفت سے ’روائتی گہماگہمی‘ دیکھنے میں آئے گی۔

سردار راحیل چاہتے ہیں کہ جمہوریت کی رو کے مطابق فیصلے اور حکمت عملیاں تشکیل دیتے وقت منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’’گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کی منصوبہ بندی (پلاننگ) کیا یہ نہیں تھی کہ پورے گلیات کو ترقی دی جائے گی لیکن باڑیاں سے نتھیاگلی تک شاہراہ کی توسیع تک ترقی کا عمل محدود دکھائی دیتا ہے کیا گلیات صرف ایک سڑک کا نام ہے؟ حسب اعلانات گلیات میں جدید سہولیات سے آراستہ 6 رہائشی علاقے (ٹاؤنز) بنائیں جائیں گے؟ گلیات کی ترقی کے لئے 4 ارب مختص کئے گئے‘ جس میں سے کتنے خرچ ہوئے اور کیا کچھ باقی ہے اِس بارے عام آدمی کی طرح عوام کے منتخب نمائندوں کی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں! آخر کیا وجہ ہے کہ فیصلہ سازی‘ پالیسی سازی اُور اِقدامات کے عملی اطلاق سے قبل یا بعدازاں عام آدمی (ہم عوام) یا متعلقہ علاقوں کے نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا؟
The local communities have reservations about efforts to protect forest  & development in Galliyat