Showing posts with label Eid. Show all posts
Showing posts with label Eid. Show all posts

Sunday, May 8, 2022

Pashto Cinema on Eid ul Fitar.

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

تفریحی صنعت:بڑی آزمائش

خیبرپختونخوا کا ایک ثقافتی تعارف ’پشتو فلمی صنعت‘ بھی ہے جو ایک عرصے سے اپنی شناخت اُور وجود برقرار رکھنے کے لئے ’تگ و دو (جدوجہد)‘ کر رہی ہے تاہم اِس ’تفریحی صنعت‘ کے زوال میں پانچ عوامل کا عمل دخل ہے۔ فلموں کی غیرقانونی ویڈیو نقول‘ عریانی و فحاشی‘ ’کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس‘ اسٹیج ڈراموں اُور موبائل فونز کے ذریعے سوشل میڈیا وسائل متعارف ہونے کی صورت لگا‘ جہاں کسی بھی زبان کی پوری فلم یا اُس کے مختلف حصوں کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے گھر گھر ’سینما ہالز‘ تو متعارف کروا دیئے لیکن اِس سستے ترین تفریحی ذریعے کی وجہ سے ایک بہت بڑی صنعت منافع بخش نہیں رہی اُور اِس بات کا احساس متعلقہ نگران حکومتی اداروں کے فیصلہ سازوں کو رتی بھر بھی نہیں جنہوں نے کیبل نیٹ ورکس پر نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات جاری  کرنے کی ’غیرتحریری اجازت‘ دے رکھی ہے جبکہ کیبل نیٹ ورکس کا واحد کام وسیلے کے طور پر ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)‘ کے منظورشدہ ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات صارفین تک پہنچانا تھا اُور صارفین کی تعداد کے لحاظ سے ٹیکس ادا کرتے ہوئے ایک ایسے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا تھی جس میں آپٹیکل فائبر اُور ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH) جیسی وسعت کے لاتعداد اِمکانات موجود ہیں لیکن اِن میں وقت کے ساتھ (حسب ضرورت) ایک تو سرمایہ کاری نہیں ہوئی اُور دوسرا یہ نتیجہ اپنی جگہ پریشان کن ہے کہ کیبل نیٹ ورکس خودمختار نہیں رہے بلکہ ایک گروہ کی صورت بطور ’آلہئ کار‘ استعمال ہونے لگے‘ کیبل نیٹ ورک صارفین کا استحصال جاری ہے اُور یوں نہ ٹیکس ملا‘ نہ اِس منافع بخش صنعت سے فائدہ اُٹھانے والوں نے سرمایہ کاری کی بلکہ الٹا فلمی صنعت کو اِس حد تک نقصان پہنچایا کہ اِس مرتبہ عید الفطر (سال دوہزاربائیس) کے موقع پر صرف ایک پشتو فلم (کشر خان بہ نہ چھیڑے) پشاور میں نمائش کے لئے پیش کی جا سکی جس سے پشتو فلمی صنعت کی حالت اُور اِس سے وابستہ افراد کی مالی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نئی پشتو فلم کے علاؤہ دیگر سینما ہالز میں پرانی فلموں کی نمائش کی گئی کیونکہ اب سینما ہالز کی کشش کسی بھی زبان کی مقامی فلمیں نہیں رہیں بلکہ غیرملکی فلموں کے حصے (ٹوٹے) کانٹ چھانٹ کر دکھائے جاتے ہیں اُور ائرکنڈیشن سینما ہال بہت سے سربینوں کے لئے چند گھنٹوں کی گرمی سے راحت کا سامان اُور تفریح کا غیرصحت مندانہ ذریعہ بن چکے ہیں‘ جو ایک عرصے سے تعمیر کی بجائے ذہنی تخریب کا ذریعہ بھی ہے!

”کشر خان بہ نہ چھیڑے“ کے ستاروں میں شاہد خان‘ ارباز خان‘ فیروزا علی‘ نیب چوہدری‘ عمران خٹک اور رحیمہ شامل ہیں لیکن شاید ہی کوئی سربین اِن اداکاروں کی وجہ سے فلم دیکھنے اپنے گھر سے چلا ہو! سوشل میڈیا کے دور میں تفریح ’بے نامی‘ ہو چکی ہے کیونکہ پشتو کے معروف و غیرمعروف اداکاروں نے پچاس سے زائد ایسے ”یوٹیوب چینلز“ بنا رکھے ہیں جہاں سے اُنہیں سینما کی نسبت زیادہ آمدنی ہو رہی ہے اُور اب تو ’یوٹیوب چینلز‘ پر انفرادی اداکاری کی بجائے اسٹیج پروگرام بھی جاری کئے جاتے ہیں اُور اِس قسم کی پروڈکشن باقاعدہ صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ جہاں لوک گلوکار بھی ملتے ہیں‘ جن کے گائے ہوئے گانے ’اپ لوڈ‘ کئے جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب سینما کے ذریعے اُور بالخصوص عید کے تہوار پر ریلیز کی جانے والی فلموں کا کوئی نہ کوئی اصلاحی پہلو بھی ہوتا تھا۔ فلم بامقصد سے تفریح اُور تفریح سے اوچھے پن کی سمت سفر کرتے کرتے اُس مقام تک آ پہنچی ہے جہاں اِسے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے مزید ’اوچھے پن‘ کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ 

”کشر خان بہ نہ چھیڑے“ نامی فلم کی خاص بات ”سینماٹوگرافی“ ہے جس کے لئے ’شمالی علاقوں‘ کا انتخاب کیا گیا۔ قدرتی مناظر کی خوبصورتی سے مزین اِس شاہکار کو ’بڑے پردے‘ پر دیکھنے کا اپنا ہی مزا ہے اُور اگر اِسے فلم کی ”واحد کشش“ کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا لیکن فلم کا ایک جز معیاری و مقبول موسیقی بھی ہوتی ہے اُور اِس شعبے میں مذکورہ فلم کے پس پردہ (پلے بیک) گلوکار (وسل کھیل‘ شاہ فاروق اور ستارا یونس) مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پشاور کے ارشد سینما میں عید الفطر کے پہلے دن سے جاری نمائش اگرچہ خاطرخواہ پرہجوم نہیں لیکن ”پشتو سنیما گزشتہ کئی دہائیوں سے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور متعدد وجوہات کی بنا پر سنجیدہ نجی سرمایہ کاری اُور تکینکی ماہرین (پروڈیوسروں اور فلم سازوں) نے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے جس کی وجہ سے فنکاروں کا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر ”دا اَختر گلونہ“ کے نام سے ”پشتو میوزیکل شو عید“ کو یادگار بنانے کی کوشش اپنی جگہ کامیاب رہی‘ جس میں ٹیلی ویژن اور اسٹیج کے مقامی اداکاروں نے حصہ لیا اُور سینما ہالز کی نسبت عید کے دوسرے سے چوتھے روز شائقین کی بڑی تعداد نے نشتر ہال کا رخ کیا‘ جہاں ایک نئے رجحان کا ارتقا ہو رہا ہے اُور وہ یہ ہے کہ پشتو فلمی صنعت کے زوال سے اُبھرنے والے اسٹیج پروگرام (لائیو پرفارمنس) مقبول ہو رہے ہیں جن سے محظوظ ہونے اُور اپنے پسندیدہ اداکاروں کو براہ راست دیکھنے اُور سننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اِس سال کی خاص بات یہ بھی تھی کہ ”پشتو میوزیکل عید شو“ کے ٹکٹ آن لائن بھی خریدے گئے اُور ایسے پروگراموں کے موقع پر روائتی جھگڑے بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ یہ سب کچھ سینما ہالز کے سائے میں اُبھرنے والے سٹیج ڈرامہ کلچر کی بدولت ہے جبکہ اسٹیج (تھیٹر) سینما سے پہلے کی ایجاد ہے اُور سینما اسٹیج ہی کی ترقی یافتہ شکل تھی وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگر اسٹیج ڈرامہ مقبول ہو رہا ہے تو اِس سے سینما ختم نہیں ہوگی بلکہ سینما کسی بھی وقت تقویت حاصل کر لے گی لیکن سینما کی واپسی جلد ہونی چاہئے کیونکہ پشاور سمیت دیگر اضلاع میں سینما ہالز تجارتی مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں اُور نئے سینما ہالز نہیں بن رہے۔ اِس پورے شعبے (فلمی صنعت اُور اسٹیج) کے لئے حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ حکومتی اداروں کی نگرانی عروج پر ہونے کی وجہ سے منافع کا ایک بڑا حصہ ناقابل بیان اُور قابل بیان مدوں میں اخراجات کی نذر ہو رہا ہے جیسا کہ بجلی کی قیمت اِس قدر بڑھ گئی ہے کہ دو سے ڈھائی گھنٹے کسی ہال کو ٹھنڈا رکھنے پر اخراجات معمولی نہیں رہے۔ کورونا وبا (سماجی فاصلوں) کے دور سے گزرنے کے بعد فلمی صنعت بالعموم مہنگائی کی صورت نئی مشکل اُور زیادہ بڑی آزمائش سے گزر رہی ہے!

……

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj May 08, 2022


Saturday, May 7, 2022

Festivals & Celebrations without much care makes no-sense!

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

تہوار: غیرذمہ داریاں 

صبر و تحمل‘ برداشت و رواداری اُور معمولات و معاملات زندگی میں اعتدال کے فروغ کی ضرورت ہے۔ تہوار ہوں یا عمومی اَیام‘ حادثات اِتفاقیہ سے دانستہ غلطیوں تک ’غیرذمہ دارانہ‘ روئیوں کی وجہ سے ہر سال اَفسوسناک شناختہ و ناشناختہ واقعات بطور بدترین مثالیں اُور یادیں باقی رہ جاتی ہیں لیکن اِس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کی اکثریت ماضی کی اِن غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے اُور نہ ہی حکومتی اِداروں کی جانب سے بار بار دہرائی جانے والی غلطیوں کا اَزالہ کرنے کے لئے عید سے قبل آگاہی مہمات کی صورت سنجیدہ‘ منظم و مربوط کوششیں کی جاتی ہیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے‘ شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں کہیں ایسی کوششیں کی بھی جاتی ہیں تو اِن کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے اُور یوں ارادے ہار جاتے ہیں‘ جنہیں ہارنا نہیں چاہئے! صورتحال اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے کہ حکومتی اداروں اُور عوام کے درمیان اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے اُور جب کبھی اُور جہاں کہیں حکومتی اداروں کی جانب سے احتیاط‘ شعور‘ تہذیب کے مظاہرے اُور قوانین و قواعد پر عمل درآمد کی تلقین کی جاتی ہے تو اِس پر خاطرخواہ توجہ نہ دینے کے باعث ناقابل تلافی جانی و غیرمعمولی مالی نقصانات ہوتے ہیں۔ حسب معمول اِس سال ایسا ہی دیکھنے میں آیا اُور عیدالفطر کی مبارک ساعتوں میں جب خوشیاں سمیٹنا اُور بانٹنا تھیں لیکن درجنوں افراد اپنے اہل خانہ اُور دوست احباب کو مغموم چھوڑ گئے اُور بہت سے خاندان سوگوار رہے جن میں ہوائی فائرنگ سے زخمی و ہلاک ہونے والے بھی شامل ہیں! اِن کے علاؤہ ٹریفک و حادثات اتفاقیہ سے لیکر بے احتیاطی کی وجہ سے پیش آنے والے واقعات معاشرے کے اُس بدنما چہرے کو نمایاں کر رہے ہیں جس میں اپنی اُور دوسروں کی جان و مال کا خاطرخواہ خیال نہیں رکھا جاتا۔ اِن واقعات کے رونما ہونے سے زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ حادثات سبق آموز نہیں رہے اُور اِنہیں فراموش کر دیا جاتا ہے جو یکساں بڑی غلطی ہے۔

عیدالفطر کے ایام (2 مئی سے 5 مئی 2022ء) کے دوران خیبرپختونخوا کے 33 اضلاع میں مختلف حادثات کے دوران 46 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مجموعی طور پر 2 ہزار 421 ایسے واقعات میں ’ہنگامی امداد و خدمات‘ فراہم کی گئیں۔ پانچ مئی کے روز ’ریسکیو 1122‘ کی طرف سے جاری کردہ ’اعدادوشمار‘ کے مطابق ”عیدالفطر کے اَیام میں خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر ”456 ٹریفک حادثات“ ہوئے جبکہ 1645 صحت کے حوالے سے ہنگامی حالات‘ 160 آگ لگنے کے واقعات اُور 42 جرائم کی اطلاعات ملنے پر کاروائیاں کی گئیں۔ مذکورہ عرصے کے دوران پانچ افراد نہانے سے ڈوبنے‘ عمارتوں کے انہدام سے پانچ افراد کی ہلاکت‘ گیس لیک ہونے سے ہوئے سلینڈر دھماکوں کے تین واقعات جبکہ 95 دیگر مواقعوں پر ریسکیو اِہلکاروں نے خدمات فراہم کیں۔ قابل ذکر ہے کہ سرکاری علاج گاہوں میں تعینات طبی و معاون طبی عملے کی طرح ’ریسکیو 1122‘ کے اہلکاروں نے بھی عیدالفطر کے ایام میں خدمات کی فراہمی جاری رکھیں۔

 تہوار اجتماعی ہوں یا انفرادی‘ اِن کے منانے والوں کو خوشی مناتے ہوئے ”آپے سے باہر“ نہیں ہونا چاہئے اُور اِس سلسلے میں کتاب و سنت کی طرف سے رہنمائی موجود ہے‘ جس کی تہواروں کے مواقعوں پر یادآوری کا اہتمام و انتظام ہونا چاہئے کہ  ’احتیاط‘ کا دامن کسی بھی صورت ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے اُور لب لباب یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی خوشیاں اُور غم شریعت ِاسلامی (پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت) کے مطابق بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

……

Clipping from Daily Aaj Editorial Page, Peshawar Abbottabad


Thursday, June 29, 2017

June2017: Tourism on Eid


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
عید شہید!

موسم گرما کی شدت اُور گرفت سے چند روزہ سکون کی تلاش میں خیبرپختونخوا سمیت ملک کے میدانی علاقوں سے پہاڑوں کا رخ کرنے والے ’’تہوار اُور تعطیلات‘‘ کے ہر ایک پل سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف ’سیاحتی سیزن‘ کا اِنتظار کرنے والے مقامی افراد کے لئے ہر سال ’اپریل سے اگست (چار ماہ عروج)‘ کا عرصہ‘ روزگار کا ذریعہ بھی ہے تاہم ’سیاحتی ترقی‘ منصوبہ بندی اُور سہولیات‘ کا موازنہ اَگر صوبہ پنجاب سے کیا جائے تو خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر قیام و طعام (اِنفراسٹکچر)‘ اِن مقامات تک رسائی کے راستے (روڈ نیٹ ورکس)‘ ذرائع آمدورفت (پبلک ٹرانسپورٹ) اُور رہنمائی کی سہولیات کے معیار میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر صوبوں سے آئے ’مہمان سیاحوں‘ کے نکتۂ نظر سے بالائی خیبرپختونخوا (گلیات‘ کاغان‘ ناران‘ سوات تا کالام اُور چترال کی وادیوں) کا ’قدرتی (فطرتی) حسن اُور آب و ہوا‘ ملک کے دیگر صوبوں حتیٰ کہ یورپی ممالک سے بھی بہتر ہے تاہم ’سیاحت بطور صنعت‘ متعارف کرانے‘ نجی شعبے کے مدد سے بہتری کی گنجائش اُور تعمیروترقی کے لاتعداد اِمکانات کو ترقی دی جاسکتی ہے‘ جس کے لئے مالی وسائل سے زیادہ فیصلہ سازوں کے سنجیدہ روئیوں اُور مربوط ترقی کی جامع حکمت عملی وضع کرنے میں متعلقہ شعبے کے ماہرین سمیت ہر مکتب فکر سے مشاورت ہونی چاہئے۔ 

فوری اِصلاحات کے لئے ’ملکی و غیرملکی سیاحوں کی رائے (فیڈبیک)‘ سب سے زیادہ کارآمد‘ قابل بھروسہ (مؤثر) ذریعہ ہوسکتا ہے‘ جس کے لئے سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا)‘ اِینڈرائرڈ اُور دیگر سسٹمز پر چلنے والی اَیپ (سافٹ وئرز)‘ جی پی ایس نقشے‘ آئی وی آر (Interactive Voice Response) سے جڑے ٹول فری (toll-free) نمبر‘ لمحہ بہ لمحہ ٹریفک صورتحال‘ سیاحتی رہنمائی اُور موسمی معلومات کے لئے ’ایف ایم‘ ریڈیو نشریات متعارف کی جا سکتی ہیں جبکہ سیاحتی مقامات کے بارے میں ایسا ’تعارفی لٹریچر‘ بھی تخلیق کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے کسی خاص علاقے میں جنگلات و جنگی حیات کی خوراک‘ ماحولیاتی تنوع میں اُن کی اہمیت‘ مزاج (حفاظتی اُور بقاء کے نکتۂ نظر سے پسندوناپسند)‘ عمومی کھانے پینے و دیگر عادات و خصوصیات کے بارے تفصیلات (رہنما اَصول) عام کی جا سکتی ہیں جس سے ماحول شناسی اُور ہم زمین جانداروں کے بارے میں معلومات ذہن نشین ہوتی چلی جائیں گی اُور سیاحت کا ’تفریحی عمل‘ زیادہ جامع (بامقصد) بن جائے گا۔ تصور کیجئے کہ سیروتفریح کے آنے والوں کو اگر باتوں باتوں‘ قصے کہانیوں‘ راستوں کی رہنمائی کرتے ہوئے درختوں‘ چرند پرند‘ جڑی بوٹیوں‘ موسمی درجۂ حرارت اور انہیں دیگر معلومات منتقل کی جائیں تو اِس (multi-tasking) میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ 

سیاحوں کی رجسٹریشن‘ ہنگامی حالات میں علاج معالجے کی اِضافی (الگ سے) سہولیات کا بندوبست اُور گاڑیوں کے لئے گشتی ورکشاپیں بھی چند ایسی ضروریات ہیں‘ جن کی کمی اُن سبھی سیاحوں کو زیادہ شدت (بلکہ حیرت) سے محسوس ہوتی ہے‘ جو پہلی مرتبہ یا باقاعدگی سے ’سیاحتی سیزن‘ کے دوران ہر سال خیبرپختونخوا کا رُخ کرتے ہیں‘ جہاں گذشتہ چار سال سے ’تحریک اِنصاف‘ کی حکومت ہے لیکن حسب وعدہ ’نیا پاکستان (تبدیلی)‘ دِکھائی نہیں دے رہا! تو کیا ہم سب اَندھے ہو چکے ہیں یا سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اِس زعم (خودفریبی) میں مبتلا ہیں کہ اِقتدار دائمی ہوتا ہے! ’’کر رہا تھا غم جہاں کا حساب۔۔۔آج تم یاد بے حساب آئے (فیض اَحمد فیضؔ )۔‘‘

Thursday, September 15, 2016

Sept2016: Eid Holiday 2/2

Newspaper Holiday of Eid ul Azha 1437H.
Eid observed on Sept 13 (Tue) & Sept 14, 2016 (Wed) where newspaper were not published on 13th and 14th and not marketed on 14th & 15th September.

Wednesday, September 14, 2016

Spet2016: Eid Holiday - 1/2

Newspaper Holiday of Eid ul Azha 1437H.
Eid observed on Sept 13 (Tue) & Sept 14, 2016 (Wed) where newspaper were not published on 13th and 14th and not marketed on 14th & 15th September.

Tuesday, September 13, 2016

Sept2016: The real Eid Day

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عید: نجانے کب!؟
پولیس کا ایک سینیئر تفتیشی اہلکار ایبٹ آباد سے گرفتار ہوتا ہے۔ الزام ہے کہ سال 2008ء میں جائیداد کی خریدوفروخت کا دھندا کرنے والے (پراپرٹی ڈیلر) کو قانون شکنی پر گرفتار کرنے کی بجائے اُس کی بدعنوانیوں کے ثبوت نظرانداز کئے گئے جس کے عوض بطور رشوت وہ ’غازی کوٹ ٹاؤن شپ مانسہرہ‘ میں ایک عدد ’عالیشان مکان‘ کا مالک بنا جس کی قیمت ڈیرھ کروڑ روپے ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا یہ اُس کا ’پہلا یا آخری کارنامہ‘ تھا اُور کیا خیبرپختونخوا کے پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ اور محکمۂ مال (پٹوار خانے) میں وہ واحد ایسا شخص ہے‘ جو اپنی معلوم مالی حیثیت سے زیادہ بڑے مکان کا مالک ہونے کی وجہ سے نظروں میں آگیا؟ پشاور کی احتساب عدالت کے محترم جج ’عاصم امام‘ نے دس ستمبر کے روز مذکورہ سپرٹنڈنٹ آف پولیس (انویسٹی گیشن) ’ساجد خان‘ کو اُسی ’قومی احتساب بیورو‘ کے حوالے کر دیا‘ جس نے اُنہیں گرفتار کیا اُور صرف ڈیڑھ کروڑ کے ایک گھر کا الزام لگایا جس سے خلاصی پانے کے لئے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ’چور دروازہ‘ موجود ہے۔ قومی خزانے میں چند لاکھ روپے ڈال کر ’پلی بارگین‘ کی جاسکتی ہے اور پھر جہاں قومی حافظہ ہی کمزور ہو‘ وہاں نہ تو وارداتیں کی آڑ میں وارداتیں کرنے والوں کا ’نام و نشان‘ یاد رہتا ہے اُور نہ ہی دوسرے ہم عصر جو عام آدمی (ہم عوام) کو لوٹ رہے ہیں وہ ’اِس قسم کے (واجبی) احتساب سے عبرت حاصل کرتے ہوئے توبہ تائب یا ضمیر کی عدالت میں پیش ہوتے ہیں!‘

گدھ کی طرح عام آدمی (ہم عوام) کی بوٹی بوٹی نوچنے والے عمائدین کہلاتے ہیں۔ غلامی سے بدتر محرومیوں اور استحصال بھری زندگی بسر کرنے والوں کو کس منہ (جواز) سے ’عید مبارک‘ کہا جائے جبکہ گردوپیش میں خوشیوں اُور سُکھ کا نام و نشان (شائبہ) تک نہیں؟ عہدوں سے جڑے اِختیارت کے ذریعے عام آدمی (ہم عوام) کا استحصال ہو یا مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا ارتکاب‘ ہر دن عام آدمی کی کھال اُتارنے والوں کا شمار انگلیوں پر ممکن ہی نہیں رہا۔ قومی یا صوبائی سطح پر ہونے والے احتساب کی اِکا دُکا ’نمائشی کاروائیاں‘ کسی بھی طرح کافی قرار نہیں دی جاسکتیں۔ 

اندھی لوٹ مار کا بازار کل بھی گرم تھا اُور آج بھی جائز کام کروانے سمیت قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے کہیں سرکاری دفاتر تو کہیں احتساب کے مراحل میں وکلأ کی بھاری فیسوں یا ’لین دین (پلی بارگین)‘ کے قواعد (چور دروازے) موجود ہیں جن کے ذریعے معاملات ’رفع دفع‘ ہو رہے ہیں! عجب غضب نہیں تو کیا ہے کہ نہ تو قومی وسائل یا سرکاری اِداروں کو لوٹنے اُور عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی لالچ و حرص ختم ہو رہی ہے اُور نہ ہی قومی اداروں سے مراعات‘ تنخواہیں اُور اعزازات پانے والے سرکاری ملازمین کو ’زندہ درگور‘ اپنے ہی ’ہم وطنوں‘ کی بڑھتی غربت و انتہاء کی بے بسی پر ترس آ رہا ہے! کوشش کی حد تک یقیناًیہ ایک اچھا اقدام ہے کہ ’وارداتوں پر وارداتیں‘ کرنے والوں کا گنا چنا‘ اُور نپا تلا ’نمائشی احتساب‘ کرکے ہم عوام کو ’قانون کی موجودگی و حکمرانی‘ کا یقین دلایا جائے لیکن یہ منظرنامہ اُس کی صبح (جلال) کا نہیں‘ جس کے لئے (مملکت خداداد) ایک الگ ملک کا قیام عمل میں لایا گیا تھا! 

’’پاکستان میں عید کا ظہور‘‘ اُس دن ہوگا‘ جب قانون شکنوں کی پشت پناہی کرنے والے سرپرستوں اُور اُن کے سہولت کاروں کا بھی بیک وقت‘ سرعام‘ بے رحم و بلاامتیاز احتساب ہو۔ جس دن عزیز از جان مفاد کی ’قربانی‘ پر آمادگی پائی جائے‘ وہی دن عید کہلائے۔ وہ گھڑی ’عید‘ ہو‘ جب ’’لازم کہ ہم بھی دیکھیں‘ اور ہم سب دیکھیں‘‘ کہ گھر گھر دستک دے کر مالی حیثیت کے بارے استفسار کیا جائے۔ جب ظاہری مالی حیثیت اُور آمدنی کے دستاویزی ثبوتوں یا اَدا کردہ ٹیکس گوشواروں سے زیادہ تمام اثاثہ جات بحق سرکار ضبط کر لئے جائیں اُور احتساب کا عمل نچلے طبقات سے نہیں بلکہ اوپری منزل پر رہنے والوں سے شروع ہو۔ 

’احتسابی زلزلے‘ کا مرکز ’اسلام آباد‘ ہونا چاہئے‘ جہاں قانون ساز اداروں ایوان بالا‘ ایوان زریں اُور قانون کی تشریح کرنے والی ’سپرئم کورٹ آف پاکستان‘ کی عملاً توہین کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ’رہائش پذیر‘ ہے!! بدعنوانی کے پھیلتے ہوئے ناسور کا علاج دریافت کرنے والے معروف افریقن امریکن سماجی اصلاح کار فریڈرک ڈوگلس کا تجویزکردہ علاج ’پاکستان کے تناظر‘ میں سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو لکھتے ہیں کہ ’’ہمیں روشنی (اُمید) کی نہیں آگ (یقین) کی ضرورت ہے۔ ہمیں (نمائشی اقدامات) پھوار کی نہیں بادوباراں (برق رفتار معالجے) کی ضرورت ہے۔ ہمیں (اِمتیازات پھیلانے والوں کے محاسبے کا) طوفان چاہئے۔ (قانون کے بلاامتیاز اطلاق کی) آندھیاں چاہیءں۔ (احتساب کرنے والوں کو تہس نہس کرنے والے) زلزلوں کی ضرورت ہے!‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, September 12, 2016

Sept2016: Measures for Eid ul Azha

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عیدالاضحی کے تقاضے!
تہوار کوئی بھی ہو‘ سب سے پہلا اندیشہ‘ مطالبہ اُور دھیان ’پشاور میں صفائی کی صورتحال‘ سے متعلق ذہن میں آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر صفائی کی ’’مثالی صورتحال‘‘ متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا عمومی بیان ہوتی تو حسب سابق اِس مرتبہ بھی ’عیدالاضحی‘ کے موقع پر صفائی کے ’نت نئے انتظامات‘ کا اعلان کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر صفائی کا کام سمیٹ کر ذمہ داری کسی ایک محکمے کے کندھوں پر لاد دی گئی ہے تو اِس کے باوجود بھی معاشرہ اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں بَری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا اُور یہی نتیجۂ کلام ہے کہ ۔۔۔ ’’جب تک صفائی برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہر شہری محسوس کرنے کے ساتھ عملی کوششوں کا حصّہ نہیں بنتا‘ جب تک پشاور کو ’’اپنا شہر‘‘ سمجھتے ہوئے خود بھی اُور دوسروں کو بھی صفائی کی کوششوں میں رضاکارانہ طور پر شریک نہیں کر لیا جاتا‘ اُس وقت تک ’’تبدیلی‘‘ آنے کی اُمید تو کی جاسکتی ہے لیکن ایسا عملاً ممکن نہیں ہوگا۔‘‘

اہل پشاور سے ایک مرتبہ پھر تعاون کی اِلتجا کرتے ہوئے ’’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی)‘‘ کے حکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں (خیبریونین آف جرنلسٹس) کی وساطت سے ’تین روزہ خصوصی مہم‘ کے خدوخال مشتہر کئے ہیں جن میں اٹھارہ سو اٹھانوے اہلکار اُور دو سو تیس گاڑیاں عیدالاضحی کے دوران ’آن ڈیوٹی‘ رہیں گی جبکہ اس دوران اضافی طور پر 75 گاڑیاں کرائے پر بھی حاصل کی جائیں گی تاکہ قربانی کے جانوروں کی الائشیں اور گندگی بروقت ٹھکانے لگائی جا سکے۔ ہمیں ایک اُور مہنگی عید کا سامنا ہے جس پر حکومت کے کروڑوں روپے خرچ ہو جائیں گے۔ بالخصوص ’عیدالاضحی‘ کے موقع پر جس بیدردی سے گندگی پھیلائی جاتی ہے اُسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسا کہ یہ حرکت بھی عید کے مذہبی فرائض میں شامل کر لی گئی ہو! جب خاص و عام کی اکثریت اپنی اپنی استطاعت و استعداد کے مطابق گندگی پھیلانے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو اُنہیں اِس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کا نہیں خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے شہر‘ علاقے محلے اُور اپنے ہی گردوپیش کی صفائی کا خیال نہ رکھ کر جن بیماریوں کو دعوت دی جا رہی ہوتی ہے وہ قطعی معمولی نہیں۔ صفائی سے متعلق اسلامی نکتۂ نظر کی تشریح طبی ماہرین بھی ’’فرائض‘‘ کے طور پر ہی کرتے ہیں اور ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِس بارے عمومی شعور میں اضافہ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کی طرح منبر و مساجد سے بھی وعظ و تلقین پر مشتمل ’ذکر کے حلقے‘ ترتیب دیئے جائیں۔

اِس سال قربانی کی مالی استطاعت اُور اِرادہ رکھنے والے سے اِلتجا ہے کہ وہ مال مویشیوں کے لئے چارہ صرف اُتنی ہی مقدار میں خرید کر لائیں جس قدر اُن کی یومیہ ضرورت ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں جانور کی عادات‘ پسند و ناپسند یا خوراک کے بارے معلومات خریدتے وقت باآسانی حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن عمومی روش یہ ہے کہ قیمت طے کرنے کے مراحل میں اِس بات کا دھیان ہی نہیں رکھا جاتا۔ اکثر لوگوں کو مال مویشی رکھنے کا تجربہ نہیں ہوتا‘ جو اُن کی ضرورت اور مزاج کے برعکس کھانے کے انبار لگا دیتے ہیں یا پھر مال مویشیوں کے سامنے خوراک زمین پر پھیلا دی جاتی ہے اور یوں قیمتی سبز خوراک کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ جس کی ایک خاص مقدار نکاسئ آب کے نالے نالیوں میں بہا دی جاتی ہے یا پھر گلی محلے کے کونوں میں ڈھیر کر دی جاتی ہے۔ یاد رکھیں کہ جانوروں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاؤں تلے کچلے ہوئی‘ گیلی‘ بدبودار گھاس نہیں کھاتے۔ اُنہیں ہروقت کھانے یا پانی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی اُن کی بھوک ہم انسانوں کی طرح اَچانک بھڑک اُٹھتی ہے! وہ اوقات کے پابند ہوتے ہیں۔ اِسی طرح جانوروں کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجانا۔ اُن کے گلے میں گھنٹیاں باندھ کر ’رات بھر‘ اندھیرے یا روشن گلی محلوں یا سڑکوں پر لے کر گھومنا پھرنا بھی مال مویشیوں کے مزاج پر بوجھ کا باعث بنتا ہے۔ ہم انسانوں کی طرح جانور بھی ذہنی دباؤ‘ کوفت‘ پریشانی‘ بے خوابی کا شکار ہو سکتے ہیں‘ جس کی وجہ سے وہ بسااُوقات خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس لئے ضروری ہے کہ مغرب سے قبل جانوروں کو کسی ایسے پرسکون مقام پر باندھ دیا جائے جہاں وہ آرام سے اپنی نیند پوری کرسکیں۔ اگر جگہ میسر ہو گلی محلوں میں جانوروں کو کسی ایک مقام پر باندھنا زیادہ بہتر رہتا ہے۔ مال مویشیوں کی منڈیوں میں بھیڑ‘ شور شرابہ اور اَجنبی ماحول سے نمٹنے والے جانور اپنے قیام گاہوں سے بچھڑنے کا صدمہ بھی محسوس کر رہے ہوتے ہیں‘ جن کی ذہنی و جسمانی اذیت میں اضافہ کرنا کسی بھی صورت جائز نہیں۔ 

گلے کے گرد تنگ رسی کا حلقہ‘ بھاری بھرکم سجاوٹ کے زیور اور جانوروں کو کاربونیٹیڈ ڈرنکس (پیپسی کوکا کولا وغیرہ) پلانے سے اجتناب کریں۔ مال مویشیوں کے ساتھ ’سیلفی (تصویر)‘ بنانے کی کوشش میں اُن کے زیادہ قریب جانا بھی خطرے کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ کیمرے کی فلش لائٹ یا شٹر کی آواز سے گھبرا کر وہ پرتشدد یا اچانک مختلف رویئے کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں۔ 

قربانی کے جانوروں کو پختہ اور گیلے فرش پر (جہاں پھسلن کا صاف خطرہ ہو) باندھنے سے قبل یا تو ممکنہ خشک کر لیں یا پھر آٹے کی خالی بوریاں‘ چادریں بچھا دیں تاکہ کھڑے ہونے یا بدکنے کی صورت وہ پھسل کر گر نہ جائیں اور اگر خدانخواستہ کسی وجہ سے ایسا ہوتا ہے تو لنگڑا پن (علامات) ظاہر ہونے کی صورت مذکورہ جانور کی قربانی ’شرعی نکتۂ نظر‘ سے جائز نہیں رہے گی۔ انسانوں کی طرح مال مویشیوں کی صحت کے لئے بھی پینے کا صاف پانی‘ صاف برتن میں رکھا جائے۔ چند دن کے مہمان کی تواضع اور خیال رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی جائے کہ اس سے قربانی کے اجر میں اضافہ ممکن ہے جس کے لئے انفرادی حیثیت سے دانستہ کوشش کے ساتھ اُن تمام افراد کی بھی رہنمائی کی جا سکتی ہے‘ جو کسی وجہ سے مال مویشیوں کی نگہداشت کے بارے خاطرخواہ معلومات نہیں رکھتے۔ 

ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ محکموں کے فیصلہ سازوں سے درخواست ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر صرف اور صرف صفائی برقرار رکھنے میں تعاون کی ضرورت پر تمام توانائیاں خرچ نہ کی جائیں بلکہ موضوع کو جامع بنانے کے لئے اس میں دیگر امور بارے معلومات بھی شامل کرکے پیغام کو زیادہ بامقصد بنائیں۔ مال مویشیوں کی ضروریات بشمول کھانے پینے اور آرام کے اوقات و ضروریات کے بارے عوام و خواص کی رہنمائی کا اہتمام و انتظام کے سلسلے میں یہاں وہاں عملی مشقوں کا انعقاد بھی ہونا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, July 20, 2015

Jul2015: Eid with IDPs

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سب کی عید؟
وہ کہ جنہوں نے بھوک پیاس کی شدت کے ساتھ رمضان المبارک کی ساعتوں میں صبر و شکر کا عظیم الشان عملی مظاہرہ کیا اُن کا ضبط بھی برقرار نہ رہے سکا۔ عیدالفطر کے لمحات میں گرم پانی سے افطار کرنے والوں کی آنکھیں بھر آئیں! اگر بچوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اچانک ایسا کیا ہوگیا ہے کہ اُن کے سایہ دار گلی کوچے چھین لئے گئے تو بڑے بڑوں کی یاداشت بھی ان کے آبائی علاقوں ہی کے بارے میں تھی جس کی وجہ سے وہ باوجود کوشش بھی فرط جذبات سے آنسو روک نہیں پا رہے تھے۔

پشاور سے کم و بیش ایک گھنٹے کی مسافت پر نوشہرہ کی حدود میں واقع ’جلوزئی کیمپ‘ قبائلی خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے ڈھائی ہزار جبکہ باجوڑ و مہمند ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار (مجموعی طور پر تین ہزار پانچ سو سے زائد) خاندان آباد ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق عیدالفطر سے قبل اپنے ہی ملک میں ’مہاجرت‘ کی زندگی بسرکرنے والوں کو متعلقہ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے ’عید پیکج‘ کے طور پر نہ تو نئے کپڑے دیئے گئے اور نہ ہی اشیائے خوردونوش دی گئیں۔ مقام حیرت یہ بھی ہے کہ رمضان کے آغاز سے قبل تک غیر ملکی امدادی اداروں کی جانب سے جو امداد مل رہی تھی‘ عید کے آتے آتے وہ بھی کم ہوتی چلی گئی۔ ایک ایسا دشت و بیاباں کہ جس میں درخت نام کی شے کا پتہ پوچھنے والوں کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ چلو کسی بہانے سبزے اُور چھاؤں کا نام تو ذکر ہوا۔ اِس تہوار کے موقع پر قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے قائم متعدد حکومتی اداروں میں کروڑوں روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کرنے والے ملازمین کو بھی ’جلوزئی‘ کیمپ کا خیال نہیں آیا۔ اصولی طور پر اگر ’فاٹا سیکرٹریٹ‘ اور ’امدادی اداروں (ڈونر ایجنسیوں) سے بہبود کے منصوبوں (پراجیکٹس) کے لئے کروڑوں روپے لینے والے غیرسرکاری اداروں کے اعلیٰ و ادنی اہلکاروں نے بھی اپنی اپنی ائرکنڈیشن گاڑیوں میں بیٹھ کر ’جلوزئی کیمپ‘ میں عیدالفطر کی نماز ادا کرتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ الیکٹرانک ذرائع ابلاغ (ٹیلی ویژن چینلوں) کے ذریعے نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات و تکالیف کو پوری دنیا اور بالخصوص ملک کے بڑے و خوشحال شہروں میں رہنے والوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔ اٹھارہ کروڑ میں سے کم از کم پانچ کروڑ بھی اگر صرف اپنے ہی حصے کا فطرانہ اِس مرتبہ نقل مکانی کرنے والوں کے لئے کسی خاص بینک اکاونٹ میں جمع کراتے تو صورتحال زیادہ خوشگوار اور تبدیل ہوتی! آخر ہم کیوں اس قدر حساس نہیں کہ ہماری طرح دوسروں کی بھی عید ہوتی ہے۔ ہماری ہی طرح دوسروں کے بچوں کو بھی عید کے موقع پر نئے کپڑوں‘ جوتوں اور تفریح کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس امن سکون اور خوشحالی کے ہم اپنے اور اپنے اہل خانہ اُور عزیزواقارب کے لئے متمنی ہوتے ہیں آخر وہی دوسروں کے لئے کیوں نہیں چاہتے۔ نجانے ’عید سب کے لئے‘ اور ’سب کی عید‘ کب ہوگی!

جب ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ عام ایام کے مقابلے زیادہ سے زیادہ مالی وسائل عید کے موقع پر خرچ کرے۔ دعوتیں کی جائیں۔ عزیزواقارب کے گھر مبارک باد دینے کے لئے بہ اہتمام جایا جائے۔ مدعو کئے جانے والوں یا حسب سابق مسکراتے ہوئے مہمانوں کو بانہیں کھول کھول کر ملنے والے مہمان نوازی میں کسر بہ چھوڑیں۔ مہندی‘ چوڑیاں‘ خوشبو‘ نئے فیشن کے مطابق سلے ہوئے ملبوسات‘ زیورات‘ جوتے‘ الغرض اُجلے مہکتے تن بدن کے ساتھ عید کی ساعتوں میں جو جس قدر خرچ کرتا ہے اُسے اُتنا ہی کم لگ رہا ہوتا ہے‘ لیکن کیا یہی سخاوت ہے؟ کیا یہی فیاضی ہے؟ کیا یہی وہ تبدیلی تھی جس کے اثرات رمضان المبارک کے روزے و دیگر عبادات مکمل کرنے کے بعد ہماری عملی زندگیوں میں نظر آنا تھے؟ کیا عیدالفطر کا فلسفہ یہی تھا کہ ہم اپنی خوشیوں میں صرف اپنوں اور جاننے والوں ہی کو شریک کرتے؟!
یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ عیدالفطر کی نماز سے قبل وعظ و تلقین پر مبنی بیانات (خطبات) کی اکثریت میں ’نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کا ذکر‘ نہیں کیا گیا کیونکہ ہمارے ہاں ایسا محکمہ تو موجود ہے جو مساجد میں قیام و طعام اور خدمت دین کرنے والوں خدمت گزاروں کو ماہانہ تنخواہیں اُور مراعات (معاوضہ) ادا کرتا ہے لیکن سرکاری طور پر نماز جمعہ یا عیدین کے موقع پر حکومت ایسے موضوعات یا ان کے مندراجات (ایڈوائزری) جاری نہیں کرتی جن کا تعلق ہمارے روزمرہ حالات یا اُن خصوصی و ہنگامی حالات سے ہو۔ عبادات اُور منبر و محراب کا تعلق ہماری عملی زندگیوں سے کٹ سا گیا ہے‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو حقوق العباد کے بارے تذکرہ و تلقین نہ ہونے کے باوجود ہم میں سے ہر ایک ’مہاجر و انصار‘ جیسا کردار اَدا کر رہا ہوتا۔ دل چھوٹے اور مکانات وسیع وعریض اور ایک وقت تھا کہ رہائشگاہیں چھوٹی اور دل بڑے ہوتے تھے! اگر ایسا نہ ہوتا تو عید کے موقع پر ہمارے اپنے ہی (قبائلی) لوگ دشت و بیاباں میں کھلے آسمان تلے یوں کسمپرسی و بے سروسامانی کی حالت میں رمضان اُور عیدالفطر کی ساعتوں میں غمزدہ‘ فکرمند اور اپنے اپنے مستقبل کے بارے میں غیریقینی و مایوسی کا شکار نہ ہوتے! ہم نے قبائلیوں کو کیا دیا۔ ایک امتیازی قانون‘ ایک تعصب بھرا رویہ‘ ایک خوف اور اندیشوں میں گھرا ہوا مستقبل!

جلوزئی کیمپ سمیت پشاور‘ ایبٹ آباد‘ کوہاٹ‘ ڈیرہ اِسماعیل خان‘ بنوں اُور دیگر علاقوں میں جہاں کہیں بھی نقل مکانی کرنے والوں سے بات چیت کا اِتفاق ہوا‘ اُن کے نوجونواں کی اکثریت کو سب سے زیادہ فکر مستقبل کے بارے میں لاحق تھی کیونکہ جس انداز میں حکومتی اداروں کی جانب سے اب تک دردمندی کا اظہار کیا گیا ہے‘ اس سے کہیں گنا زیادہ بہتر یہی تھا کہ وہ شورش زدہ علاقوں میں اپنے مٹی کے مکانوں میں دب کر مر جاتے۔ اتنی بھوک‘ اتنی افلاس‘ اتنی بے سروسامانی اور اتنی بے بسی تو اِن لوگوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ ہی یہ رویہ اُن کی توقعات کے عین مطابق تھا کہ ایسا ماجرا اُور اُن سے غیروں جیسا ہتک آمیز سلوک روا رکھا جائے گا! کیا ہم خیمہ بستی کی ایک ایسی زندگی کا تصور کرسکتے ہیں جہاں تین ماہ سے بجلی نہ ہو۔

 گرمی کی شدت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خیموں میں چھاؤں تو میسر تھی لیکن چند منٹ خیمے کے اندر بیٹھنے سے ’گرین ہاؤس افیکٹ‘ کے سبب دماغ اُبلتا ہوا محسوس ہونے لگے۔ اچھے دنوں کی یادیں بیان کرنے والوں نے سال دوہزار چودہ میں حکومت اور فوج کی جانب سے ملنے والے عید کے تحائف کا ذکر کیا‘ جن کا اِس مرتبہ دور دور تک نام و نشان نہیں تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اب تک امداد کی مالیت سے زیادہ تشہیری مہمات پر خرچ کیا جاچکا ہوتا!

پاک فوج کے سربراہ نے (مرکزی) عیدالفطر کے پہلا دن جو لمحات بنوں میں نقل مکانی کرنے والوں کے ساتھ بسر کئے‘ وہ نہایت ہی قیمتی تھے کیونکہ اگر ہم سیاسی حکام کی نااہلی کے سبب نقل مکانی کرنے والوں کی خاطرخواہ مدد نہیں کر سکے تو کم از کم اُنہیں اِس بات کا یقین تو دلایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقوں واپسی‘ معیشت و معاشرت کی بحالی اور تباہی و بربادی کی تصویر بنے علاقوں کی ’تعمیر نو‘ کے حوالے سے مستقبل کے بارے میں نااُمید نہ ہوں۔

Friday, July 17, 2015

Jul2015: Eid and entertainment

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عید: تفریحی امکانات
امن وامان کی صورتحال میں غیرمعمولی بہتری (تبدیلی)کے سبب اِس سال ’عیدالفطر‘ کے لمحات میں تفریحی مقامات کی رونقیں گذشتہ کئی برس کے مقابلے زیادہ ہیں تاہم گنجائش سے زیادہ پرجوش ہجوم کے لئے خاطرخواہ سہولیات کا بندوبست کی روایت تبدیل ہونی چاہئے۔ حکومت کا کام صرف تعطیلات دینا ہی نہیں ہوتا بلکہ اِن تعطیلات کے دوران معیاری و صحت مند تفریح کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوتے ہیں‘ کاش کہ یہ ایک باریک نکتہ‘ جو متعدد مرتبہ اِنہی سطور کے ذریعے بیان کیا گیا قابل غور و توجہ سمجھا جائے۔

یوں تو بازاروں کی بحال ہوئی رونقیں اور چہروں پر خوف کی بجائے مسرت بھرے جذبات حاوی دیکھ کر مسرت ہوتی ہے لیکن تفریح کی تلاش میں یہاں وہاں گھومتے گھومتے تھکاوٹ سے بے حال نوجوانوں کو دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے کہ انہیں کچھ وقت آرام سے بیٹھ کر گزارنے کی سہولت میسر نہیں۔ اگر یہ حال پشاور جیسے مرکزی شہر کا ہے تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ دور دراز اضلاع میں تفریحی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔ عیدالفطر کے موقع پر نوجوانوں کی بڑی تعداد سینما گھروں کا رخ کرتی ہے اور پشاور کے سینماگھر تو پورے پاکستان میں اپنی خاص شہرت رکھتے ہیں لیکن اِس مرتبہ سبھی کے ہاں نئی پشتو فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں ہیں۔ صدآفرین کہ 35 برس بعد پہلی مرتبہ 7 پشتو فلمیں اس عیدالفطر پر ریلیز کی گئیں ہیں جن کی نمائش پشاور کے علاؤہ دیگر شہروں کے سینما گھروں میں جاری ہے۔ یقینی امر ہے کہ اِس سے نہ صرف پشتو زبان و ثقافت بلکہ فلمی صنعت کو نت نئے تصورات اور جدت کے ساتھ آگے بڑھنے کا اعتماد ملے گا۔ سینما گھروں کے ساتھ وابستہ روزگار بھی پھر سے آباد ہو گئے ہیں‘ بالخصوص چائے خانوں سے اٹھنے والی مہک اور خاص ماحول اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ توجہ طلب ہے کہ پشاور کے یکے بعد دیگرے کئی سینما ہال ’کمرشل ازم‘ کی وجہ سے ختم کر دیئے گئے اور یہ کام چونکہ قواعد کی رو سے ممکن نہیں اِس لئے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے سرمایہ دار پہلے سستے داموں سینما ہال خریدتے ہیں کیونکہ اُس کے اصل مالکان کے لئے مختلف خطرات و وجوہات کی بناء پر فلموں کی نمائش جاری رکھنا ممکن نہیں ہوتی اور پھر ملکیت حاصل کرنے کے بعد سینما کی جگہ کثیر المنزلہ عمارت (پلازہ) کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ تعمیراتی نقشے کے لحاظ سے آسمان سے باتیں کرنے والے اِن درجن بھر عمارتوں میں ’کار پارکنگ‘ کے لئے جگہ مختص کی جاتی ہے لیکن جب عمارت کا دورہ کیا جائے تو وہاں نہ تو پارکنگ ملتی ہے اور نہ ہی آتشزدگی کی صورت ہنگامی راستوں سے نکلنے کا بندوبست حسب نقشہ جات دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ’بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ کے ایک سے زیادہ دفاتر ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں اہلکار ہیں لیکن سب کے سب کی غربت دور ہوتی چلی جا رہی ہے جبکہ پشاور ہر دن بظاہر امیر اور درحقیقت غیرمحفوظ ہوتا چلا جارہا ہے۔

سینما ہال اجڑنے کی ایک وجہ ’کیبل نیٹ ورکس‘ ہیں جن کے ذریعے گھر گھر اُردو پشتو اور انگریزی زبان کی نئی آنے والی فلمیں بھی دیکھی جا رہی ہیں لیکن بڑی سکرین کا مزا ہی کچھ اُور ہے اور پھر پشتو فلم سینما ہال میں دیکھنے کے ساتھ ایک پوری ثقافت جڑی ہے‘ جس کا عشرعشیر لطف بھی گھر میں فلم بینی کا حاصل نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں ’سینما گھر‘ کی اپنی ہی خاص اہمیت رہی ہے اور یہی وہ ضرورت ہے جس کے بارے میں صوبائی حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ ’سینما اور تھیٹر‘ کی سرکاری سرپرستی کی جائے کیونکہ فلم کے ذریعے بنیادی طور پر ’تفریحی عمل کے دوران‘ سماجی برائیوں اور انتہاء پسندی کے خلاف پیغام منتقل کیا جاسکتا ہے۔ فنون لطیفہ انسان دوستی کے جذبات کو ابھارتے اُور تخلیقی سوچ کے پروان چڑھنے سمیت زبان و ثقافت کے رشتوں کی تقویت کا باعث بنتے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں تفریحی مقامات کی شدید کمی الگ سے محسوس کی جاتی ہے بالخصوص جبکہ گرمی اور حبس اپنے عروج پر ہو تو ’اِن ڈور ائرکنڈیشن‘ تفریح کے مواقع دستیاب نہیں۔ لے دے کر سینما ہال ہیں جہاں چند گھنٹے موسم کی شدت سے محفوظ رہنے والے بھی بھلا ایک فلم کتنی مرتبہ دیکھیں اُور ہر بار لطف اندوز بھی ہوں! آخر یہ دور خاموش فلموں کا بھی نہیں کہ ٹکٹ خرید کر ائرکنڈیشن ہال میں نیند کی جائے۔ سینما گھر کی تفریح کو معیاری بنانے اور ٹکٹوں کی مقرر کردہ نرخوں کے مطابق فروخت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے حرکت میں آنے کی اُمید تھی لیکن افسوس لگتا ہے کہ سب کے سب تعطیلات پر ہیں اور پشاور سمیت عید منانے والوں کو ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کچھ توجہ بچوں کے لئے ’کھیل کود و تفریح کی اِن ڈور سہولیات‘ کی فراہمی پر بھی ہونی چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل ہر یونین کونسل کی سطح پر کھیل کے میدان و سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو تیسرے مالی سال کے آغاز پر بھی ہنوز پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

پشاور کو باغات کا شہر کہا جاتا تھا لیکن قیام پاکستان سے قبل تعمیر کئے گئے یہاں کے باغات جس ’تہس نہس حالت‘ میں دکھائی دیتے ہیں‘ اُن سے حکمرانوں کی ترجیحات صاف عیاں ہیں۔ عجب ہے کہ پشاور پر حکومت کرنے والوں میں ایک سے بڑھ کر ایک خوش قسمت کردار ہے۔ پشاور جادو کی ایسی چھڑی کا نام ہے کہ جس کے ہاتھ آئے وہ دیکھتے ہی دیکھتے کھرب پتی بن جاتا ہے لیکن جنوب مشرق ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہر کی بدقسمتی کا دور کسی صورت ختم نہیں ہورہا بلکہ وہ تکلیف دہ دورانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ طویل تر ہوتاچلا جا رہا ہے‘ جس میں ’پشاور کے غصب شدہ حقوق‘ کی نہ تو کماحقہ ادائیگی ہو رہی ہے اور نہ ہی اِس ضرورت کے بارے سوچ بچار‘ بحث و مباحثے یا مشاورت کا عمل‘ اب تک شروع کیا جاسکا ہے!

Thursday, July 16, 2015

Jul2015: Ahead of Eid, The Performance

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
لب عید: امکانی مسرتیں!
تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے ساتھ ہی پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے پہلی مرتبہ ناجائز منافع خوروں اور غیرمعیاری اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف ’پرمعنی عملی اقدامات‘ کئے ہیں اُور اِس دوران سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تین معروف اور بڑے کاروباری مراکز کو سربمہر کیا ہے۔ یاد رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے رمضان کے دوران (چودہ جولائی تک) 9 ہزار 40 دکانوں کا معائنہ کیا جن سے کل 51لاکھ 60 ہزار روپے سے زائد جرمانے وصول کئے گئے اُور 1 ہزار 852 تاجروں دکانداروں کو منافع خوری یا ناقص المعیار اشیاء کی فروخت کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔ چودہ جولائی تک پبلک ٹرانسپورٹ میں اضافی کرائے وصول کرنے والوں سے 7 لاکھ 33ہزار روپے وصول کرکے مسافروں کو واپس کئے گئے۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے جس انداز میں رمضان کا آخری عشرہ گرم کر رکھا ہے‘ اُس کے بارے میں عوامی حلقے اور بالخصوص سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر تعریف و توصیف سے بھرے پیغامات ارسال کئے جا رہے ہیں تاہم خدشات و تحفظات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ ٹوئٹر پر بابر جمیل (@babrjamil) نے لکھا ہے کہ ’’جس انداز میں ریسٹورنٹس کے خلاف مہم جاری ہے تو لگتا ہے کہ پشاور کے سبھی ہوٹل بند ہو جائیں گے۔‘‘ حقیقت یہی ہے کہ اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والوں کو ایک لمبے عرصے سے ’کھلی چھوٹ‘ اور اِس بات کی ’آزادی‘ حاصل رہی کہ وہ من مانی قیمتوں کے ساتھ جس قدر ناقص المعیار اشیاء فروخت کرنا چاہیءں‘ وہ کر سکتے ہیں۔ پشاور کی تین بڑی سرکاری علاج گاہوں‘ ڈبگری گارڈن میں نجی کلینکس اُور جنرل بس اسٹینڈ کے آس پاس ایسے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں قیام و طعام کے مراکز ہیں جہاں صاف ستھری سہولیات‘ قیمتوں اور معیار کے کم سے کم میزان کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء فٹ پاتھوں‘ نالے نالیوں اور گندگی و غلاظت کے انباروں پر بیٹھ کر فروخت کی جاتی ہیں اُور چونکہ ایسے مقامات پر سستا کھانے والوں کا تعلق صرف عام آدمی سے ہے‘ اِس لئے خواص کی صحت پر کچھ فرق نہیں پڑتا تھا۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی جن ’بڑی مچھلیوں‘ وک شکار کیا گیا ہے اُن میں صرف وہی مراکز شامل ہیں جہاں کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگوں کی اکثریت ’شاپنگ‘ کے لئے جاتی ہے۔ غریب بیچارے کے پاس تو اتنے وسائل ہی نہیں ہوتے کہ وہ مہینوں کی ضروریات ذخیرہ کرے اور نہ ہی وہ محض منہ کے ذائقے کے لئے دیر رات گئے تک ہزاروں روپے کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں خرچ کرنے کے بارے سوچ سکتا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جس کے بدن پر ’تہہ در تہہ‘ چربی کی پرتیں شمار کی جاسکتی ہیں اور دوسری طرف دھنسی ہوئی آنکھیں اور گال رکھنے والوں کے زردی مائل چہروں پر پھیلی مایوسی کم سے کم فطرانے‘ ہلکی پھلکی امکانی مسرت اور مسکراہٹ کے وقتی سبب سے دور نہیں کی جا سکتی! بلاشبہ عام آدمی کو درپیش گھمبیر و دیرینہ مسائل بھی توجہ چاہتے ہیں اور صوبائی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اُن کی بابت صرف پشاور ہی نہیں بلکہ دیگر اضلاع کی ضلعی انتظامیہ سے بھی استفسار کرے۔

اگر ضلعی انتظامیہ کو علم ہی نہیں تو تحقیق کرلیں کہ چنے کی پتیوں کو مذبح خانوں سے جمع کردہ جانوروں کے خون اور کیمیائی مادوں سے رنگ دے کر بطور سیاہ چائے فروخت کرنے کا دھندا کرنے والے کون ہیں۔ ہوٹلوں سے استعمال شدہ چائے کی پتی اور خوردنی تیل جمع کرکے جعل سازی سے دوبارہ فروخت کے قابل بنانے والے کارخانے بھی رنگ روڈ اور دیگر مضافاتی علاقوں میں بطور ’کاٹیج انڈسٹری (چھوٹی صنعتیں)‘ کام کر رہے ہیں۔

بچوں کے لئے انتہائی ناقص تیل کا استعمال کرکے کم قیمت ٹافیاں‘ پاپڑ‘ دال چنا اور کھٹی میٹھی اشیائکی عام کھلے عام فروخت ہو رہی ہے‘ جس کی وجہ سے ہسپتالوں پر رش کم نہیں ہوتا۔گاڑیوں میں استعمال شدہ موبل آئل اُور انجن آئل دھرلے سے اکٹھا کیا جاتا ہے جس کی صفائی اور فروخت کے مراکز بھی جابجا قائم نظر آتے ہیں۔

بوتلوں میں بند پینے کا ناقص المعیار پانی‘ کاربونیٹیڈ مشروبات‘ سوڈا واٹر‘ خشک روٹی اور ڈبل روٹی کے ٹکڑوں کو پیس کر حاصل ہونے والا آٹا‘ رنگوں سے بھرے مصالحہ جات‘ ہوٹلوں کے کوڑا دانوں سے جمع شدہ مضرصحت کھانے کی فٹ پاتھوں پر فروخت‘ راز کی بات نہیں۔ جنرل بس اسٹینڈ سے بین الاضلاعی اور بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ مسافر گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنے‘ سی این جی کے ایک دو نہیں بلکہ تین تین سلنڈر نشستوں کے نیچے نصب کرکے مسافروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے‘ مسافر گاڑیوں کے ذریعے کپڑے اور الیکٹرانک مصنوعات کی اسمگلنگ‘ عیدالفطر یا دیگر تہواروں کے موقع پر مقررہ کرائے کی شرح سے زیادہ وصولیاں ایسی چند ’مشہور زمانہ بے قاعدگیاں‘ ہیں‘ جن کا گویا پورا معاشرہ عادی ہو چکا ہے!

 اس سے بڑا المیہ اُور کیا ہوگا کہ عام آدمی نے بطور صارف اس طرح کے ہر ظلم اُور زیادتی پر صبر کر لیا ہے۔ انتظامی عہدوں پر فائز سرکاری اہلکاروں کی اکثریت اپنے منصب کے شایان شان کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہی اور ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی رمضان کے آغاز و اختتام کے موقع پر ’غیرمعمولی شرح سے مہنگائی‘ عام ہے!

یقین کیجئے کہ ’تبدیلی اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ہم میں سے ہر ایک اِس کے لئے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا نہیں کرے گا اُور چونکہ ’خاموش‘ رہنے کے تجربے سے حالات میں بہتری نہیں آئی تو وقت ہے کہ اپنے حقوق کے لئے ’تقاضا‘کیا جائے۔ اگر آپ کا بھی کسی ناجائز منافع خور‘ ملاوٹ کے عادی یا کم تول کرنے والے سے واسطہ پڑتا ہے تو اِس کی براہ راست شکایت ڈپٹی کمشنر دفتر کو 8333 پر بذریعہ موبائل فون (ایس ایم ایس) ارسال کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ اس کے علاؤہ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس ’فیس بک‘ (facebook.com/dcpeshawar) کی وساطت سے بھی ڈپٹی کمشنر دفتر تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ ٹوئٹر (twitter) پر ڈپٹی کمشنر (@DCPeshawar) یا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (@oawarraich) جیسے مصروف اعلیٰ حکام سے بھی تبادلہ خیال ممکن ہے۔ یہ امر بھی لائق توجہ رہے کہ اصلاح احوال کی کوششیں اور معاشرے کو نچوڑ کھانے والے ’حقیقی سماج دشمنوں‘ کے خلاف پرعزم کاروائیاں (پھرتیاں) صرف ضلع پشاور کی حد تک محدود نہ سمجھی جائیں بلکہ کسی بھی ضلع کے رہنے والے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے ٹوئٹر اکاونٹ (@KPKUpdates) کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں یا پھر صوبائی سیکرٹری اِنفارمیشن (@AbidMajeed1969) جیسے فرض شناس دفتری اُوقات کے علاؤہ ’ٹوئٹر‘ پر بھی ’حاضر جناب‘ رہتے ہیں!

پس تحریر: دانشمندی روایت شکنی کی متقاضی ہے۔ ماہ شوال کا چاند نظر آنے یا ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی چاند رات پر ہوائی فائرنگ سے مکمل اجتناب کیا جائے کیونکہ سماعتوں کو بھلی لگنے والی محض ایک چھوٹی سی خوشی (نفسیاتی تسکین) ناقابل تلافی نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے اور کسی قیمتی انسانی جان کا نقصان بھی ہو سکتا ہے! کیا آپ پسند کریں گے کہ ضمیر کی عدالت میں بطور ملزم پیش ہوں اور آپ کو ’قاتل‘ قرار دے کر اپنی ہی ذات میں عمرقید کی سزا سنا دی جائے؟